Ayah 9:103خُذْ مِنْ اَمْوَلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَاوَصَلِّ عَلَیْھِمْ ط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (التوبہ : 103)
(آپ ان کے مالوں کا صدقہ قبول کریں اس سے آپ ان کو پاکیزہ بنائیں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے اور ان کے لیے دعا کریں بیشک آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا سبب ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ )
حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی جب توبہ قبول ہوگئی اور ان کو کھول دیا گیا تو جس مال کی محبت نے ان کو نکلنے سے روکا تھا انھوں نے حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں پیشکش کی کہ ہم اپنا یہ سارا مال دولت اور باغات اللہ کے لیے صدقہ کرنے کے لیے تیار ہیں آپ ان کو قبول فرمایئے جس مال نے ہم سے اتنی بڑی کوتاہی کروائی اور ہمارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیا وہ اس قابل نہیں ہے ہم اسے اپنے پاس رکھیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے منافقین کا مال قبول کرنے سے روک دیا گیا ہے اگرچہ تمہاری توبہ قبول ہوچکی ہے لیکن جب تک اللہ کی طرف سے حکم نہیں آتا نہ تو میں تمہارا مال قبول کرسکتا ہو اور نہ میں تمہارے لیے دعا کرسکتا ہوں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کا سارا مال آپ قبول نہ کیجیے البتہ ان کے مال کا کچھ حصہ قبول کرلیجئے کیونکہ آیت میں ( مِن) کا لفظ آیا ہے جو تبعیض پر دلالت کرتا ہے اس حکم کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے ان سے تہائی مال قبول فرمایا۔
بعض لوگوں نے اس آیت کریمہ سے بےجا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ صدقہ سے مراد زکوۃ ہے اور اس کا قبول کرنا نبی کریم ﷺ کی خصوصیت ہے دوسرا کوئی خلیفہ یا اسلامی ریاست کا سربراہ وصول نہیں کرسکتا غالباً یہی عذر حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں مانعین زکوۃ نے پیش کرتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار کردیا تھا لیکن حضرت ابوبکر نے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے بالجبر ان سے زکوۃ وصول کی آپ نے فرمایا کلمہ طیبہ کے بعد اسلام کے چار بنیادی ارکان ہیں اگر ان کے عذر کو تسلیم کرلیا جائے تو آج نماز کا رکن گریگا اور کل زکوۃ کا پھر آہستہ آہستہ اسلام کا پورا محل نا بود ہو کر رہ جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں زکوۃ کا حکم زیر بحث نہیں اگر اس سے مراد زکوٰۃ ہوتی تو آنحضرت ﷺ ان سے تہائی مال قبول نہ فرماتے اور اگر یہ فرض کر بھی لیاجائے تو یہ بات قرآن و سنت اور اجماع ِاُمت سے ثابت ہے کہ ارکان اسلام نہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں اور نہ آپ کے زمانے تک محدود تمام انفرادی اور اجتماعی احکام اسی طرح ارکان اسلام کی بجاآوری قیامت تک کے لیے تمام امت کی ذمہ داری ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زکوۃ کی فرضیت کا ایک سبب اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے غریبوں کی پرورش اور ان کی ضروریات کی ادائیگی کا انتظام ہوجاتا ہے امراء سے زکوۃ لی جاتی ہے اور غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زکوۃ کا صرف یہی فائدہ نہیں بلکہ زکوۃ کا وہ فائدہ جو صاحب مال کو پہنچتا ہے اور جس کی اہمیت متذکرہ بالا فائدہ سے بڑھ کر ہے اسی کا بطور خاص ذکر اس آیت کریمہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ ان سے مال وصول کریں اور اس کے ذریعے ان کی تطہیر کریں کیونکہ جس طرح غلط عقائد فرسودہ خیالات بےہودہ رسم و رواج اور حد سے بڑھی ہوئی خواہشات انسانی کردار کو مسموم کردیتی ہیں اسی طرح حبّ دنیا اور مال سے متعلق افراط وتفریط انسانی دل و دماغ کو متاثر کرتی اور انسانی کردارکو بگاڑ کے راستے پر ڈال دیتی ہے اس لیے یہ بات از بس ضروری ہے کہ مال و دولت کی آلائشوں سے دل و دماغ کو بچایا جائے اور صحیح بنیادوں پر اس کی تربیت کی جائے۔ تطہیر انسان کو ظاہری اور باطنی رذائل سے پاک کرنے کے عمل کو کہتے ہے اور تز کیہ مکارم و فضائل کے ذریعے تربیت کرنے کو کہتے ہے۔ یہ دونوں عمل بیک وقت انفاق فی سبیل اللہ سے وجود میں آتے ہیں مال کے خرچ ہونے سے دل سے مال کی محبت کم ہوتی ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ ہونے سے اللہ سے تعلق بڑھتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے طہارت ِ فکر بھی پیدا ہوتی ہے اور عمل کو قوت بھی ملتی ہے زکوٰۃ اور صدقات سے اصل مطلوب یہی حقیقت صاحب مال میں اتار نا ہے آنحضرت ﷺ کو ان کی تربیت کے لیے اسی بات کا حکم دیا جارہا ہے کیونکہ اسی میں کمزوری کے باعث وہ قباحتین جنم لیتی ہیں جس کا شکار حضرت ابولبابہ اور ان کے ساتھی ہوئے۔
مزید فرمایا آپ ان کے لیے دعا کریں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے۔
ایک مسلمان کے عمل کو وجود میں آنے اور قبولیت کے مراحل طے کرنے میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ عمل کرنیوالے کے دل میں عمل کا احساس پیدا ہو۔ وہ عمل کو حکم سمجھ کر بروئے کار لانے کے لیے ہمہ وقت بےچینی محسوس کرے۔ اس ضرورت کو پیدا کرنے کے لیے تطہیر تزکیہ اور توفیقِ خدا وندی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور پھر اس کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ بلاشبہ عمل کرنے والے کی دعا بھی قبولیت کے لیے ضروری ہے لیکن اس کی خوش نصیبی کا کیا کہنا جسے اللہ کے رسول کی دعا میسر آجائے۔ اس سے ایک طرف رحمت خدا وندی متوجہ ہوگی اور دوسری طرف عمل ﷺ کرنے والے کے دل و دماغ کو تسکین ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ عمل کی قوت میں ایسا اضافہ ہوگا جس سے اعمال کی کمیت اور کیفیت دونوں میں افزائش ہوگی۔ آخر میں فرمایا اللہ سننے والا ہے۔ جاننے والا ہے۔ اس میں تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ تسلی اس بات کی کہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر کے تم سے جس بڑے جرم کا ارتکاب ہوا وہ اگرچہ ناقابل معافی تھا لیکن تم نے جس اخلاص اور جان فشانی سے توبہ کی۔ اس سے اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور تمہاری توبہ قبول ہوگئی اب اگر کوئی کمی باقی ہے۔ تو یقینا آنحضرت ﷺ کی تربیت سے دور ہوجائے گی۔ لیکن یہ یاد رکھو اگر تمہارے دل و دماغ نے پھر ٹھوکر کھائی اور تمہارے عمل کی قو تیں پھر برگشتہ ہوئیں تو تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے اور احساسات تک سے واقف ہے۔
Ayah 9:104اَلَمْ یَعْلَمُْوْآاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ َیقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِھٖ وَیَاْخُذُالصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبہ : 104)
(کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات کی پذیرائی فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ )
سابقہ آیت میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا تھا کہ چونکہ ان لوگوں نے توبہ کرلی ہے اور ان کو اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تو اب آپ انھیں ازسر نو اپنی تربیت میں لے لیں۔ تاکہ آپ کی راہنمائی میں ان کی مکمل اصلاح ہو سکے اس آیت کریمہ میں براہ راست ان مخلص اور خوش نصیب مسلمانوں سے خطاب کیا جا رہا ہے۔ جن کی توبہ قبول ہوچکی ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے اپنے آپ کو یقینا اس امید پر ستونوں سے باندھ لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا اب جبکہ تمہاری توبہ قبول ہوچکی تو تم کو یقین ہوگیا ہوگا کہ تمہاری امید علم کی شکل اختیار کرچکی ہے اور عملی طور پر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ صاحب ایمان شخص چاہے کیسی بھی ٹھوکر کھاجائے توبہ کا دروازہ اس پر بند نہیں ہوتا وہ جب بھی اپنے اللہ کو درد میں ڈوب کر پکارے گا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا پائے گا۔ اگر وہ اس کی بارگاہ میں صدقات پیش کرئے گا۔ تو وہ یقینا پذیرائی بخشے گا۔ کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ان تمام عنایات سے گر اں بار فرما کر اگلی آیت میں ہلکی سی تنبیہ بھی فرمائی۔
Ayah 9:105وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَاْلمُؤْمِنُونَ ط وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (التوبہ : 105)
(اور کہہ دیجیے تم عمل کرتے رہوں عنقریب اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے طرز عمل کو دیکھیں گے پھر تم لو ٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے بس وہ تم کو بتائے گا تم کیا کرتے رہے ہو۔ )
غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر کے ابو لبابہ اور ان کے ساتھی جو ایک بڑی کوتاہی کرچکے تھے اسے تو اللہ نے معاف فرما دیا اور ان کے تطہیرِ عمل اور تزکیہ نفس کے لیے ان سے مال و دولت بھی قبول فرمایا تاکہ حب دنیا میں کمی ہو اور آنحضرت ﷺ نے توفیقِ ایزدی کے لیے ان کے حق میں دعا بھی فرمائی اس طرح سے ان کے دلوں کی تسکین کا سامان کیا لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی تھا کہ اس توبہ سے ان کے آئندہ اعمال پر کیا اثر پڑتا ہے اس لیے حکم دیا کہ امت مسلمہ کے افراد کی حیثیت سے تم اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے بہتر سے بہتر اعمال کی فکر کرو۔ مسلمان تمہارے رویہ سے اندازہ کرینگے کہ تم میں عمل کی تڑپ اور اخلاصِ عمل کہاں تک ہے اور رسول ﷺ بھی تمہاری اطاعت اور اتباع کو دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی حالت پر نظر رکھے گا اگر اس طرح سے تمہارے اعمال درست رہے تو تم اللہ کے یہاں سر خرو ٹھہرو گے مسلمان اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا ردعمل تو تم دنیا ہی میں دیکھ لو گے لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کے احساسات جانتا ہے وہ قیامت کے دن بتائے گا کہ تمہارے اعمال مخلصانہ رہے یا ان میں نفاق کی آمیزش رہی اس میں روئے سخن اگرچہ متذکرہ بالا مسلمانوں کی طرف ہے لیکن حقیقت میں تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔ کیونکہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں جو اطاعتِ رسول مسلمانوں کی ہم رکابی اور اللہ کی نگرانی اور مراقبے سے آزاد ہو۔
Ayah 9:106وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِاللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
(التوبہ : 106)
(اور کچھ دوسرے بھی ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے چاہے وہ انھیں عذاب دے اور چاہے تو توبہ قبول فرمائے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ )
گزشتہ آیات میں جن مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول ہوئی ان کے علاوہ بھی تین افراد ایسے تھے جن کے ایمان و اخلاص میں کوئی شبہ نہ تھا گذشتہ حق و باطل کی کشکش میں وہ کبھی پیچھے نہ رہے تھے لیکن اب کوئی ایسا الجھائو پڑا کہ وہ اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہو کر گھر بیٹھ رہے تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بجائے عذر کرنے کے صاف صاف اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اپنے آپ کو اللہ کے فیصلے کے حوالے کردیا، ان کے نام یہ ہیں کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع۔ رسول ﷺ نے بجائے کوئی فوری فیصلہ کرنے کے اللہ کے حکم کے آنے تک اِ ن کے فیصلے کو ملتوی کردیا اور ان کو انتظار کرنے کا حکم دیا چند آیتوں کے بعد ان کا تفصیلی تذکرہ آرہا ہے۔
Ayah 9:107وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًوَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًالِِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ ط وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآاِلاَّ الْحُسْنٰی ط وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (التوبہ : 107)
(اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی ہے اسلام کو نقصان پہنچانے کفر کو تقویت دینے اہل ایمان کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ان لوگوں کے واسطے ایک اڈا فراہم کرنے کی غرض سے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں وہ ضرور قسمیں کھائینگے کہ ہم نے یہ کام صرف بھلائی کی غرض سے کیا ہے اور اللہ شائد ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ )
اس آیت کریمہ میں منافقین کے سب سے زیادہ شریر گروہ کی سازش کا ذکر کیا جا رہا ہے جسے نہایت مقدس شکل و صورت دے کر اور بہ ظاہر نہایت مقدس ارادوں کے ساتھ وجود دیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان لوگوں کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا بلکہ اس گروہ کی بھی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اس سازش کا پس منظر اور پیش منظر ہم تفہیم القرآن سے نقل کرتے ہیں۔
(نبی ﷺ کے مدینے تشریف لے جانے سے پہلے قبیلہ خزرج میں ایک شخض ابو عامر نامی تھا جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی راہب بن گیا تھا۔ اس کا شمار علمائے اہل کتاب میں ہوتا تھا اور رہبانیت کی وجہ سے اس کے علمی وقار کے ساتھ ساتھ اس کی درویشی کا سکہ بھی مدینے اور اطراف کے جاہل عربوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب نبی ﷺ مدینے پہنچے تو اس کی مشیخت وہاں خوب چل رہی تھی۔ مگر یہ علم اور یہ درویشی اس کے اندر حق شناسی اور حق جوئی پیدا کرنے کے بجائے اُلٹی اس کے لیے ایک زبردست حجاب بن گئی اور اس حجاب کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضور کی تشریف آوری کے بعد وہ نعمت ایمان سے محروم رہا بلکہ آپ کو اپنی مشیخت کا حریف اور اپنے کاروبار درویشی کا دشمن سمجھ کر آپ کی اور آپ کے کام کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا۔ پہلے دو سال تک تو اسے یہ امید رہی کہ کفار ِقریش کی طاقت ہی اسلام کو مٹانے کے لیے کافی ثابت ہوگی۔ لیکن جنگ بدر میں جب قریش نے شکست فاش کھائی تو اسے یارائے ضبط نہ رہا۔
اسی سال وہ مدینہ سے نکل کھڑا ہوا اور اس نے قریش اور دوسرے عرب قبائل میں اسلام کے خلاف تبلیغ شروع کردی جنگ اُحُد جن لوگوں کی سعی سے بر پا ہوئی ان میں یہ بھی شامل تھا اور کہا جاتا ہے کہ احد کے میدان جنگ میں اسی نے وہ گڑھے کھدوائے تھے جن میں سے ایک میں نبی ﷺ گر کر زخمی ہوئے، پھر جنگ احزاب میں جو لشکر ہر طرف سے مدینہ پر چڑھ آئے تھے ان کو چڑھا لانے میں بھی اس کا حصہ نمایاں تھا۔ اس کے بعد جنگ حنین تک جتنی لڑائیاں مشرکین عرب اور مسلمانوں کے درمیان ہوئیں۔ ان سب میں یہ عیسائی درویش اسلام کے خلاف شرک کا سر گرم حامی رہا۔ آخر کار اسے اس بات سے مایوسی ہوگئی کہ عرب کی کوئی طاقت اسلام کے سیلاب کو روک سکے گی۔ اس لیے عرب کو چھوڑ کر اس نے روم کا رخ کیا تاکہ قیصر کو اس ” خطرے “ سے آگاہ کرے جو عرب سے اٹھ رہا تھا۔ یہ وہی موقع تھا جب مدینہ میں یہ اطلاعات پہنچیں کہ قیصرعرب پر چڑھائی کی تیاریاں کر رہا ہے اور اسی کی روک تھام کے لیے نبی ﷺ کو تبوک کی مہم پر جانا پڑا
ابو عامر راہب کی ان تمام سر گرمیوں میں مدینہ کے منافقین کا ایک گروہ اس کے ساتھ شریک ِسازش تھا اور اس آخری تجویز میں بھی یہ لوگ اس کے ہمنوا تھے کہ وہ اپنے مذہبی اثر کو استعمال کر کے اسلام کے خلاف قیصر روم اور شمالی عرب کی عیسائی ریاستوں سے فوجی امداد حاصل کرے۔ جب وہ روم کی طرف روانہ ہونے لگا تو اس کے ادران منافقوں کے درمیان یہ قرار داد ہوئی کہ مدینہ میں یہ لوگ اپنی ایک الگ مسجد بنالیں گے تاکہ عام مسلمانوں سے بچ کر منافق مسلمانوں کی علیٰحدہ جتھ بندی اس طرح کی جاسکے کہ اس پر مذہب کا پردہ پڑا رہے اور آسانی سے اس پر کوئی شہبہ نہ کیا جاسکے اور وہاں نہ صرف یہ کہ منافقین منظم ہو سکیں اور آئندہ کاروائیوں کے لیے مشورے کرسکیں بلکہ ابو عامر کے پاس ہے جو ایجنٹ خبریں اور ہدایات لے کر آئیں وہ بھی غیر مشتبہ فقیروں اور مسافروں کی حیثیت سے اس مسجد میں ٹھیر سکیں۔ یہ تھی وہ نا پاک سازش جس کے تحت وہ مسجد تیار کی گئی تھی جس کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔
مدینہ میں اس وقت دو مسجدیں تھیں۔ ایک مسجد قبا جو شہر کے مضافات میں تھی دوسری مسجد نبوی جو شہر کے اندر تھی۔ ان دو مسجدوں کی موجودگی میں ایک تیسری مسجد بنانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اور وہ زمانہ ایسی احمقانہ مذہبیت کا نہ تھا کہ مسجد کے نام سے ایک عمارت بنادینا بجائے خود کار ثواب ہوقطع نظر اس سے کہ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو بلکہ اس کے برعکس ایک نئی مسجد بننے کے معنی یہ تھے کہ مسلمانوں کی جماعت میں خواہ مخواہ تفریق رونما ہو جسے ایک صالح اسلامی نظام کسی طرح گو ارا نہیں کرسکتا۔ اسی لیے یہ لوگ مجبور ہوئے کہ اپنی علیحدہ مسجد بنانے سے پہلے اس کی ضرورت ثابت کریں۔ چناچہ انھوں نے نبی ﷺ کے سامنے اس تعمیر نو کے لیے یہ ضرورت پیش کی کہ بارش میں اور جاڑے کی راتوں میں عام لوگوں کو اور خصوصاً ضعیفوں اور معذوروں کو جو ان دونوں مسجدوں سے دور رہتے ہیں، پانچوں وقت حاضری دینی مشکل ہوتی ہے۔ لہذا ہم محض نمازیوں کی آسانی کے لے یہ ایک نئی مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
ان پاکیزہ ارادوں کی نمائش کے ساتھ جب یہ مسجد ضرار بن کر تیار ہوئی تو یہ اشرار نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ایک مرتبہ خود نماز پڑھا کر ہماری مسجد کا افتتاح فرما دیں۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس وقت میں جنگ کی تیاری میں مشغول ہوں اور ایک بڑی مہم درپیش ہے۔ اس مہم سے واپس آکر دیکھوں گا۔ اس کے بعد آپ تبوک کی طرف روانہ ہوگئے اور آپ کے پیچھے یہ لوگ اس مسجد میں اپنی جتھ بندی اور سازش کرتے رہے۔ حتی کہ انھوں نے یہاں تک طے کرلیا کہ ادھر رومیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قلع قمع ہو اور ادھر یہ فوراً ہی عبد اللہ ابن اتی کے سر پر تاج شاہی رکھ دیں۔ لیکن تبوک میں جو معاملہ پیش آیا اس نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ واپسی پر جب نبی ﷺ مدینہ کے قریب ذی اَدَان کے مقام پر پہنچنے تو یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ نے اسی وقت چند آدمیوں کو مدینہ کی طرف بھیج دیا تاکہ آپ کے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پہلے وہ اس مسجد ضرار کو مسمار کردیں۔ )
تفسیر مظہری میں ذکر کیا گیا ہے کہ جب رسول ﷺ قباء سے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو مسجد ضرار کی جگہ خالی پڑی تھی آپ نے عاصم بن عدی کو اجازت دی کہ وہ اس جگہ اپنا گھر بنا لے۔ انھوں نے عرض کیا یا رسول ﷺ جس جگہ کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوچکی ہیں میں تو اس منحوس جگہ میں گھر بنانا پسند نہیں کرتا البتہ ثابت بن اقرم کے پاس کوئی گھر نہیں ان کو اجازت دے دی جائے کہ وہ یہاں مکان بنالیں ان کے مشورہ کے مطابق آپ نے یہ جگہ ثابت بن اقرم کو دے دی مگر ہوا یہ کہ جب سے ثابت اس مکان میں مقیم ہوئے ان کے کوئی بچہ نہیں ہوا یا زندہ نہیں رہا۔
مؤرخین نے لکھا ہے یہ جگہ ایسی منحوس ثابت ہوئی کہ کوئی انسان تو اس جگہ کیا پھلتا پھولتا کوئی مرغی بھی اس جگہ انڈے بچے دینے کے قابل نہ رہی کوئی کبوتر اور جانور بھی یہاں با آور نہ ہوسکا۔
قرآن کریم نے اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا ہے لفظ ضرر اور ضرار دونوں عربی زبان میں نقصان پہنچانے کے معنی میں استعمال ہوتے ہے۔ بعض حضرات نے یہ فرق بیان کیا ہے کہ ضرر اس نقصان کو کہا جاتا ہے جس میں دوسرے کو نقصان پہنچے لیکن ضرر پہنچانے والے کا اس میں اپنا فائدہ ہو۔ لیکن ضرار اس نقصان کو کہتے ہے جس میں پہنچانے والے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس مسجد کا انجام بھی یہی ہوا کہ مسلمانوں کو تو اللہ نے اس نقصان سے محفوظ رکھا لیکن مسجد بنانے والے بھی اس کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے بلکہ رسوائی ان کا مقدر ٹھہری۔
اس مسجد کی تعمیر کی جو اغراض فاسدہ قرآن کریم نے ذکر فرمائی ہیں۔ ان میں تقویت کفر اور کفر کے لیے کمین گاہ کی حیثیت سے کسی مسجد کا بنانا یقینا کافروں کا ہی کام ہوسکتا ہے کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی البتہ تفریق بین المومنین ضرور ہماری لیے قابل توجہ ہے ہمارے سادہ دل مسلمان بظاہر اسلام کی محبت میں مسجدیں بناتے ہیں لیکن عموماً اس طرف دھیان نہیں دیا جاتا کہ دوسری مساجد کی موجودگی میں اس مسجد کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے ایک فرمان جاری کیا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد نہ بنائی جائے جس سے پہلی مسجد کی جماعت اور رونق متاثر ہو۔ لیکن ہم جوشِ ایمان میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔
Ayah 9:108لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَ بَدًا ط لَمَسجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ط فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا ط وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ (التوبہ : 108)
(آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر پڑی ہے وہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو عزیز رکھتے ہیں اور اللہ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ )
مسجد قبا اور اس کے نمازیوں کی تعریف
منافقین نے مسجد تو بنالی لیکن وہ جانتے تھے کہ جب تک نبی کریم ﷺ اس مسجد میں نماز نہ پڑھائیں یا اس میں تشریف نہ لائیں اس وقت تک نہ اس مسجد کا اعتبار پیدا ہوسکتا ہے اور نہ مسلمانوں کا رجوع ہوسکتا ہے یہ سوچ کر منافقین نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہماری مسجد میں ایک نماز پڑھا دیں تاکہ برکت ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت غزوہ تبوک کی تیاریوں میں مصروف ہوں واپسی پر دیکھا جائے گا۔ واپسی پر راستے میں یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ کو اس مسجد کی اصل حقیقت سے آگاہ کردیا گیا اور حکم دیا گیا آپ اس مسجد میں مت کھڑے ہوں۔ کیونکہ یہ مسجد اللہ کی عبادت اور اس کا تقوی پیدا کرنے کے لیے بنائی نہیں گئی بلکہ اس کے مقاصد تو وہ ہیں جن کا سابقہ آیت میں تذکرہ ہوا ہے۔ آپ کے کھڑے ہونے اور نماز پڑھانے کے لائق وہ مسجد ہوسکتی ہے جو حقیقی معنی میں مسجد ہو یعنی جس مسجد کو تقوی کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہو۔ جس مسجد میں اللہ سے لو لگانے اور اس سے خشیت کی تعلیم دی جاتی ہو اور جس کے بنانے والے اور نماز پڑھنے والے ظاہر اور باطن میں پاکیزگی کو عزیز رکھتے ہوں۔ جس طرح ان کے کپڑے گندگی کے ہر داغ سے محفوظ ہوں اسی طرح ان کا باطن بھی اجلا ہو۔ کیونکہ ظاہر کا اثر باطن پر اور باطن کا اثر ظاہر پر پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
اس میں چند باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
1 سنگ وخشت سے عمارت تو ضرور بن جاتی ہے لیکن وہ عمارت جسے مسجد اور اللہ کا گھر ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا تعلق بنانے والوں کے احساسات اور خیالات سے ہوتا ہے۔ بد کردار لوگوں کی بنائی ہوئی عمارت کلب بن سکتی ہے، مے خانہ کہلا سکتی ہے لیکن مسجد نہیں ہوسکتی۔ مسجد زمین پر بعد میں دلوں میں پہلے تعمیر ہوتی ہے۔ اس لیے جو تعمیر منافقین کے ہاتھوں ہوگی اور جس میں نفاق کی فضل بوئی جائے گی۔ وہ مسلمانوں کے لیے مسجد نہیں بلکہ مسجد ضرار ہے۔
2 منافقین کی یہ مسجد مسجد قباء سے قریب تھی۔ منافقین کی کوشش یہ تھی کہ مسجد قباء کی مرکزیت کو نقصان پہنچایا جائے۔ وہاں کے لوگوں کو اس مسجد میں لا کر آہستہ آہستہ اسلام سے بدگمان کیا جائے۔ پروردگار نے نام لے بغیر اس مسجد اور مسجد والوں کی تعریف فرماء کر اگر ایک طرف مسجد کی عزت میں اضافہ فرمایا تو دوسری طرف اہل قباء کو حیات جاوید عطا کردی اور یہ بات بھی واضح کردی کہ تقوی کا مرکز اور تقوی کی تربیت گاہ یہ مسجد ہے وہ نہیں اور یہ بھی اشارہ کردیا کہ اس مسجد کے بنانے والے اور نماز پڑھنے والے سب پاکیزہ لوگ ہیں اور پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اہل قباء سے پوچھا کہ تمہاری پاکیزگی کیا ہے تو انھوں نے بتایا کہ ہم طہارت کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ طہارت وضو کا مقدمہ اور وضو نماز کا پیش خیمہ ہے اور یہ نماز کے اہتمام پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے بھی نہایت مہذب اور پاکیزہ لوگ تھے اور صفائے نفس کے لیے بھی کوشاں رہنے والے تھے۔ کیونکہ ان کی ظاہری صفائی سج دہج کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی عبادت کے لیے تھی۔ لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ظاہری صفائی اور پاکیزگی اسلام میں کیا مقام رکھتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کی بات ہے جس امت کو اس درجہ صفائی کا حکم دیا گیا تھا وہ دنیا میں سب سے گندی قوم مشہور ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
Ayah 9:109اَفَمَنْ اَ سَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْھَارَبہٖ فِیْ نَارِجَھَنَّمَ ط واللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (التوبہ : 109)
(کیا جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی اللہ کے تقوی اور اس کی خوشنودی پر۔ وہ بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی ایک کھو کھلی گرتی ہوئی کگر پر، پس وہ گرگئی اس کو لے کر جہنم میں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ )
مسجد قبا اور مسجد ضرار کا فرق ایک مثال
اس آیت میں چند مشکل الفاظ ہیں۔ اس لیے میں پہلے اس کی تشریح کیے دیتا ہوں۔ ” شفا “ کسی چیز کے کنارے کو کہتے ہیں۔ ُ ” جرُف “ ندیوں نالوں اور ودایوں میں بعض اوقات پانی کا زور کنارے کے نیچے سے مٹی بہا کرلے جاتا ہے اور وہ کنارہ چھجے کی طرح لٹکا رہ جاتا ہے۔ اس لٹکنے والے کنارے کو عربی میں جُرُف کہتے ہے۔” ہارٍ “ کا معنی ہے گرنے والا۔
گزشتہ آیت کریمہ میں تقابل کیا گیا ہے مسجد قباء اور مسجد ضرار میں اب ان دونوں مسجدوں کی تعمیر کا فرق ایک مثال کے ذریعے سے واضح فرمایا جا رہا ہے۔ ایک عمارت وہ ہے جسے اللہ کے تقوی کی مضبوط بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ اس کی عمارت دوسری عمارتوں کی طرح بظاہر زمین پر اٹھائی گئی ہے لیکن حقیقت میں اس کی بنیاد تقوی پر ہے اس کے بنانے والے اس عمارت کی ایک ایک اینٹ رکھتے ہوئے اپنے دلوں میں اللہ کے خوف اس کے احکام کی اطاعت کا جذبہ اور اسی کے لیے وفا داری اور بندگی کے عہد کو استوا کرنے کے لیے کو شاں ہیں اور اس کی تعمیر کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہوئے صرف اللہ کی رضا کا حصول ان کے پیش نظر ہے وہ اس عمارت کو اللہ کے بندوں کی تربیت اور اللہ کی عبادت کا مرکز بنانے کی فکر میں ہیں اور اس کے مقابل ایک دوسری عمارت اٹھائی جا رہی ہے۔ جس کے اٹھانے والے دل و دماغ کی پختگی اور استواری سے محروم ہیں۔ ان کے دلوں میں ایمان کی بجائے نفاق کی فصل اگتی ہے۔ وقت کا ہر حادثہ ان کے دلوں کی موت ثابت ہوتا ہے۔ وہ مضبوط کردار کی بجائے کھوکھلے اور ہوا کے رخ پر اڑنے والا کردار جنم دے رہے ہیں۔ وہ صاحب ِایمان لوگوں کی مضبوط قوت کے سامنے ایسی کمزور زمین پر کھڑے ہیں جیسے دریا میں کنارے کی زمین کا وہ حصہ جس کے نیچے سے پانی ٹکرانے کے باعث مٹی نکل چکی ہے۔ اب یہ کنارہ چھجے کی طرح فضاء میں معلق ہے۔ جس کے قیام و ثبات کا کوئی سہا را نہیں۔ اگر کوئی شخص اس پر عمارت اٹھانے کی کوشش کرے۔ تو یہ کمزور زمین اس کی عمارت سمیت دریا میں جا گرے گی۔ یہ دریا میں معلق کنارے کی زمین جس طرح ہر طرح کی مضبوطی سے محروم ہے۔ اسی طرح نفاق سے بننے والی زمین اور مفادات کا اسیر عقیدہ اور ہوا کے رخ پر اڑنے والا مزاج اس سے زیادہ کمزور ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہی مثال دے کر دونوں مسجدوں کا فرق واضح کیا گیا ہے۔ ایک مسجد تو تقوی اور خو شنودیِ حق کے مضبوط اور زندگی بخش حقائق پر بنائی جا رہی ہے اور دوسری مسجد نفاق کی کمزور زمین پر جس کے نیچے ایمان کی قوت کو بجائے اندیشہ ہائے دور دراز کے خلاء کے سوا کچھ نہیں۔ حوداث کا معمولی حملہ اس کو گرانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ مسجد چونکہ منافقین کی کمین گاہ ہے۔ اس لیے جب وہ گرے گی تو ان منافقین کو ساتھ لے کر جہنم میں جائے گی۔ اس کے بعد فرمایا اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ظلم کسی بھی چیز کے غلط استعمال کو کہتے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو عقل و شعور سے بہرہ ور فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات پر انسان ہونے کی حیثیت سے عظمت بخشی۔ ان کی تخلیق کا مقصد بطور انسان صرف اللہ کی بندگی کرنا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کی بندگی اور اس کا تقوی اختیار کرنے کی بجائے۔ مفادات کے حصول کو اپنا مقصد ٹھہرایا اور حق کا راستہ روکنے کے لیے ہر آستانے پر سر جھکایا اور بندوں کی بندگی کی اور اس طرح سے انھوں نے اپنے اوپر ظلم تو ڑا۔ تو ایسے ظالم ظاہر ہے اللہ کی ہدایت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayah 9:110لاَ یَزَالُ بُنْیَا نُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْارِیْبَۃً فِیْ قُلُوْ بِہِمْ اِلآَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْ بُہُمْ ط وَاللّٰہُ عَلْیِمٌ حَکِیْمٌ
(التوبہ : 110)
( اور یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بن کر جمی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ )
قرآن پاک کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے کافر اور منافق کو بھی آخر حد تک نصیحت کرتا اور ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ مخاطب کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرے۔ ہاں البتہ کبھی کبھی آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لیے بعض دلوں پر مہر لگائے جانے کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ لیکن یہاں صاف صاف فرمایا گیا ہے کہ ممکن تھا کہ ان کے نفاق کی اصلاح ہوجاتی لیکن انھوں نے مسجد کا مقدس نام لے کر جس طرح اسلام کے خلاف ایک اڈہ اور مرکز بنانے کی حرکت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نفاق بڑھتے بڑھتے حق کے مقابلے میں آکھڑا ہوا ہے۔ اب ان کے دلوں میں قبولیت ِ حق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ان کے دلوں کے ریشے ریشے میں نفاق اتر گیا ہے۔ اَ ب تو ایک ہی صورت ہے کہ ان کے دلوں کو پاش پاش کر کے نفاق کو نکالا جائے اور از سر نو دلوں میں قبولیت ِ حق کا مادہ پیدا کیا جائے۔ یہ ایک ایسا محال امر ہے جس کا اللہ کے تکوینی اور تشریعی قانون میں کوئی امکان نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین ہمیشہ کے لیے ایمان سے محروم کر دئے گئے ہیں۔
Ayah 9:111اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فیِ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْابِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط وَذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ (التوبہ : 111)
(بےشک اللہ نے خرید لیے ہیں مو منوں سے ان کے جان و مال جنت کے بدلے میں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے۔ تورات، انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو۔ بس تم خو شیاں منائو اس سودے پر جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ )
سورة توبہ میں سب سے پہلے ان لوگوں سے براءت کا اظہار کیا گیا ہے۔ جو اللہ کی اصل حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور وہ اپنی حیوانی زندگی پر قانع رہ کر شرفِ انسانی کو پامال کرچکے ہیں۔ نہ انھیں اللہ کی الوہیت سمجھ آتی ہے اور نہ اپنی عبدیت کا ادراک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں پر تنقید کی گئی ہے۔ جو اللہ کی الوہیت کو تسلیم کرتے اور اپنی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایمان سے کوسوں دور ہیں۔ اس تنقید میں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کی گئی ہے اور بصورتِ دیگر انہیں ان کے انجام سے ڈرایا بھی گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان نام نہاد مومنوں یعنی منافقوں پر وہ اصل حقیقت واضح کی جا رہی ہے۔ جس سے تغافل کے باعث یہ لوگ حقیقی ایمان سے محروم ہیں۔ منافق چونکہ ایمان اور اس کے تقاضوں سے متعلق یکسو نہیں ہوتا اس لیے کبھی وہ مال کی محبت میں ڈوب کر کبھی اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اور کبھی راہ حق میں پیش آنے والی قربانیوں سے گھبرا کر نفاق میں پناہ لیتا ہے۔ اس آیت میں اس کے سامنے مومن کی اصل حقیقت واضح کی جارہی ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ بندے اور اس کے خدا کے درمیان وہ رشتہ کیا ہے جس کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے ایمان کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت اور وہ رشتہ یہ ہے کہ آدمی جب کلمہ پڑھ کر اللہ کے نبی کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ تو وہ دراصل اللہ سے معاہدہ کرتا ہے۔ اس کی حیثیت صرف ایک عقیدہ کی نہیں ہوتی بلکہ عہدو پیمان کی ہوتی ہے۔ جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال خدا کے ہاتھ فروخت کردیتا ہے اور اس کے معاوضے میں خدا کی طرف سے اس وعدے کو قبول کرلیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرئے گا۔
شانِ نزول (حسب تصریح اکثر حضرات مفسّرین، یہ آیات بیعت عقبہ کے شرکاء کے معتلق نازل ہوتی ہے جو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں انصار مدینہ سے لی گئی تھی اسی لیے پوری سورت کے مدنی ہونے کے باوجود ان آیات کو مکی کہا گیا ہے، عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے اس جگہ وہ عقبہ مراد ہے جو منی میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا حصہ ہی (آجکل حجاج کی کثرت کے سبب پہاڑ کا یہ حصہ صاف کرکے میدان بنادیا گیا ہے صرف جمرہ رہ گیا ہی اس عقبہ پر مدینہ طیبہ کے حضرات سے تین مرتبہ بیعت لی گئی ہے پہلے بعثت نبوی سے گیارہویں سال میں ہوئی جس میں چھ حضرات مسلمان ہو کر بیعت کر کے مدینہ واپس ہوئے تو مدینہ کے گھر گھر میں رسول ﷺ اور اسلام کا چرچاہونے لگا اگلے سال موسم حج میں بارہ حضرات اسی جگہ جمع ہوئے جن میں پانچ پہلے اور سات نئے تھے سب نے بیعت کی اب مدینہ میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہوگی جو چالیس نفر سے زائد تھی، انھوں نے درخواست کی کہ ہمیں قرآن پڑھانے کے لیے کسی کو بھیج دیا جائے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر ( رض) کو بھیج دیا انھوں نے موجودہ مسلمانوں کو قرآن بھی پڑھایا اور اسلام کی تبلیغ بھی کی جس کے نتیجہ میں مدینہ کی بڑی جماعتیں اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئیں۔ اس کے بعد بعثت نبوی ﷺ کے تیر ہویں سال میں ستر مرد و عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے یہ تیسری بیعت عقبہ جو آخری ہے اور عموماً بیعت عقبہ سے یہی بیعت مراد ہوتی ہے یہ بیعت اسلام کے اصولی عقائد و اعمال کے ساتھ خصوصی طور پر کفار سے جہاد اور جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کی حفاظت و حمایت پر لی گئی، اس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ ( رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت معاہدہ ہورہا ہے۔ آپ جو شرائط اپنے رب کے متعلق یا اپنے متعلق کرنا چاہیں وہ واضح کردی جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے لے توبہ شرط رکھتا ہوں کہ آپ سب اس کی عبادت کریں گ اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور اپنے لیے یہ شرط ہو کہ میری حفاظت اس طرح کریں گے جیسے اپنی جانوں اور اپنے اموال و اولاد کی حفاظت کرتے ہو، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ اگر ہم یہ دونوں شرطیں پوری کردیں تو ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ فرمایا جنت ملے گی، ان سب حضرات نے خوش ہو کر کہا کہ ہم اس سودے پر راضی ہیں اور ایسے راضی ہیں کہ اب اس کو نہ خود فسخ کرنے کی درخواست کریں گے نہ اس کے فسخ کرنیکو پسند کریں گے) ۔
اللہ اور بندوں کے مابین بیع و شراء کی حقیقت اور مقتضیات
بیع و شراء دراصل ایک معاہدہ ہے جس میں آدمی اپنی ایک چیز دیتا ہے اور دوسرے سے ایک چیز لیتا ہے۔ لینے والا مشتری ( خریدار) کہلاتا ہے اور دینے والا با ئع ( بیچنے والا) کہلاتا ہے۔ چناچہ جب یہ سودا مکمل ہوجاتا ہے۔ تو پیچنے والے کو اپنی پیچی ہوئی چیز پر کوئی اختیار نہیں رہتا بلکہ اب اس چیز پر خریدار کے حقوق تسلیم کیئے جاتے اور ثابت ہوجاتے ہیں اور پیچنے والے کو اس کے بدلے میں جو چیز میسر آتی ہے۔ اب اس کے اختیارات اس سے متعلق ہوجاتے ہیں۔
یہاں بیچنے والا انسان ہے۔ وہ اپنی جان اور اپنا مال اور اپنے زیر ملکیت تمام چیزیں اور تمام اختیارات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور یہ وعدہ کرتا ہے کہ آج سے میں ان چیزوں پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتا ہوں اور اللہ کے اختیارات کو تسلیم کرتا ہوں اور یہ بھی مانتا ہوں میں نے یہ سب کچھ جنت کے بدلے میں بیچ دیا ہے۔ میری زندگی اور میرے اختیارات کی آخری حد چونکہ موت ہے۔ اس لیے میں نے جو چیز بیچی ہے۔ اس کی سپردگی اور تفویض زندگی کے آخری سانس تک مکمل ہوگی۔ اس کے بدلے میں مجھے جنت اس وقت ملے گی۔ جب میری طرف سے تفویض کا عمل مکمل ہوجائیے گا۔
اس میں چند باتیں نہایت حیران کن بھی ہیں اور انسان کے لیے باعث شرف بھی۔ پہلی بات یہ کہ انسان ایک معمولی مخلوق ہے۔ مخلوقات میں بھی اس سے بدرجہا عظیم اور جلیل چیزیں موجود ہیں۔ انسان کی حیثیت ان کے مقابلے میں مشت خاک سے زیادہ نہیں۔ لیکن پھر بھی ان کے مقابلے میں ایک اشتراک بھی ہے کہ دونوں مخلوق ہونے کے اعتبار سے برابر ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے کسی اشتراک کا تصور بھی گناہ سے کم نہیں۔ وہ خالق ِ کائنات ہے اور انسان ایک ادنی مخلوق، لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ساتھ ایک معاہدہ کا حق دیتا ہے اور مزید کہ جس طرح وہ اس پر ایک ذمہ داری ڈالتا ہے اسی طرح خود بھی ایک ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ دوسری یہ بات کہ انسان جو کچھ اللہ کے حوالے کر رہا ہے۔ وہ اس کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی عطا اور اس کی دین ہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے انسان سے جو کچھ لے رہا ہے۔ اسے انسان کی ملکیت قرار دے رہا ہے تاکہ یہ معاہدہ ٹھیک ہو سکے کیونکہ جانبین میں سودا طے پانے کے لیے ضروری ہے کہ جن دو چیزوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ وہ دونوں کی ملکیت ہو اور زیر قبضہ ہو اور تیسری چیز جو انسان کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں کہ انسان جو کچھ اس سودے میں دے رہا ہے۔ وہ فانی ہے اور وہ کسی بھی وقت ختم ہوجانے والا ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں جو جنت لے رہا ہے۔ وہ باقی اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ان اعزازت کے ساتھ انسانی شرف کو ایسی سطح تک پہنچا دیا گیا ہے جس سطح تک کسی دوسری مخلوق کی رسائی نہیں۔
آیت کریمہ میں مبیع انسان کے نفس اور مال کو قراردیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں لیکن حقیقت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے جسم و جان اور اپنی زیر تصرف چیزوں میں اختیار عطا فرمایا ہے۔ یعنی اس کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ یہ جسم بھی تمہارا ہے یہ جان بھی تمہاری ہے اور اس سے متعلقات بھی تمہارے ہیں۔ تمہیں ہم نے ان چیزوں میں اختیار عطا فرمایا ہے۔ تم اپنی مرضی کے مالک ہو۔ تم اپنے جسم اور اپنی جان کو جہاں چاہو اور جیسے چاہو استعمال کرو۔ دل و دماغ کی قوتوں کو جہاں چاہو صرف کرو۔ جس کے حق میں چاہو کھپا دو اور جس کے خلاف چاہو لڑا دو اپنے اقتدار اور رسوخ کی قوت سے جو چاہو عطا کردو اور جو چاہو چھین لو۔ اپنے حواس اور اپنی عقل کو جیسے چاہو استعمال کرو۔ اسی طرح تم اپنے مال میں بھی آزادانہ تصرف کا حق رکھتے ہو۔ چاہے اسے انسانیت کی خدمت میں صرف کرو اور چاہے اسے بےدینی کے فروغ میں استعمال کرو اور چاہے اسے سفلی جذبات کی نذر کردو۔ میں یہ تمہارا حق تسلیم کرتا ہوں۔ لیکن میں تم سے ایک سودا کرنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے تمام اختیارات سے میرے حق میں دستبر دار ہوجاؤ۔ تم یہ تسلیم کرلو کہ آج کے بعد تم اپنے دل و دماغ کے مالک نہیں بلکہ امین ہو۔ تمہارا مال تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا ہے اور تمہارے پاس امانت ہے۔ تم اپنے دل و دماغ اپنی قوتوں اور اپنے مال و دولت کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت کے مطابق استعمال میں لائو گے۔ تم ہر وہ کام نہیں کرو گے۔ جس میں تمہاری مرضی اور تمہارے نفس کی رضا ہو۔ بلکہ تم ہر کام میں اللہ کی رضا چاہو گے۔ تم ہر قدم پر اللہ کے احکام کی پابندی کرو گے۔ جب تک تم زندہ ہو۔ تم اللہ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارو گے اور اگر کبھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کی طرف سے یہ مطالبہ ہو کہ زندگی اللہ کے راستے میں قربان کردو۔ تو تمہیں اپنی زندگی بچانے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ بلکہ تم آرزو کرو گے کہ کب وہ وقت آتا ہے۔ جب میں اس بار امانت سے فارغ ہوجاؤں۔ تمہیں اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا۔ اگرچہ قرآن و سنت میں اچھی زندگی اور دنیا کی سرافرازیوں کے بھی وعدے کیے گئے ہیں لیکن حقیقی وعدہ جو اس آیت میں کیا گیا ہے۔ وہ جنت عطا کرنے کا ہے اور یہ جنت آخرت میں دی جائے گی۔ کیونکہ جنت کا دیا جانا انسانی زندگی کے تمام اعمال اللہ کی رضا کے مطابق گزانے پر موقوف ہے۔ زندگی کے اعمال کے خاتمہ کے ساتھ ہی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اب اس کے بدلے کا وصول کرنا چونکہ آخرت ہی میں ممکن ہے۔ اس لیے اسے آخرت پر اٹھا رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کے ذہین میں یہ خیال پیدا ہو کہ مستقبل کے وعدوں پر کون بھروسہ کرے۔ انسان سے جو کچھ لیا جارہا ہے۔ وہ نقد ہے اور جس کا وعدہ ہے وہ اس دنیا میں بھی نہیں آخرت میں ہے۔ جس کا وجود بجائے خود ایمان کا امتحان ہے۔ اس سلسلے میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ پہلی بات یہ کہ یوں تو افراد کی شہادتیں بھی قابل اعتبار ہوتی ہیں۔ لیکن اگر افراد کی بجائے مختلف اقوام اور مختلف مذاہب مختلف زمانوں میں کسی بات کی شہادت دیں۔ تو کوئی ثقہ آدمی اس کی قبولیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرمایا گیا یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے ہزاروں سال پہلے تورات میں کیا۔ پھر اس کا ذکر انجیل میں آیا اور اب اس کو قرآن کریم میں دہرایا جارہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو لوگ اللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ان کا تو ذکر ہی فضول ہے۔ البتہ جو لوگ اللہ کے وجود کو مانتے ہے۔ مذہب کو ایک حقیقت سمجھتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ تورات انجیل اور قرآن کریم میں سے کسی کو بھی تسلیم نہ کرتے ہو۔ اول تو ہر سلیم العقل آدمی ان تمام کتابوں کو منزل من اللہ مانتا ہے۔ ورنہ تینوں میں سے کسی نہ کسی کتاب کو ضرور تسلیم کرتا ہے۔ جب اسے یہ معلوم ہوگا کہ ان تینوں کتابوں میں اللہ نے یہ وعدہ فرمایا ہے۔ تو اس کے لیے یہ باور کرنا کوئی مشکل نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدہ ایفا کرنے والا اور کوئی نہیں۔ اس لیے انسانوں کو اس وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے اور اپنی قسمت پر ناز کرتے ہوئے خوشی سے جھوم اٹھنا چاہیے۔ ہم انسان جو اللہ کے مقابلے میں ایک پتنگے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے انھیں اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے اعزاز سے نواز ہے کہ اگر وہ اپنا سب کچھ اللہ کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے اللہ کی امانت میں دے دیں اور اس کا حق ادا کرتے ہوئے ساری زندگی گزار دیں۔ تو اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں انھیں ایسی جنت عطا کروں گا جس کی نعمتوں کا تصور نہ کبھی ان کے خیال میں گزرا ہوگا نہ کسی آنکھ نے ایسی نعمتیں دیکھی ہوں گی اور نہ کبھی کسی کان نے ایسی نعمتوں کا تذکرہ سنا ہوگا اور یہی سب سے بڑی کا میابی ہے۔
یہ ہے اسلامی زندگی کا وہ کم سے کم خاکہ جس میں اللہ سے وفا کے وہ مختلف رنگ بھرے جاتے ہیں۔ جنھیں تقوی، اطاعت، توکل، خشیت، قناعت، خدا خوفی، صبر، شکر اور شہادت جیسے فضائل کا نام دیا جاتا ہے۔ منافقین کے سامنے یہ خاکہ کھنیچ کر بتایا جارہا ہے کہ اسلامی زندگی کی بنیاد اللہ سے کیا ہوا یہ سودا اور عہدو پیمان ہے۔ جس میں دوئی کا کوئی تصور نہیں۔ جس میں وفا کی کوئی تقسیم نہیں جس میں ایک آستانے کے سوا کوئی آستانہ نہیں۔ جس میں دل و دماغ کی یکسوائی میں کوئی دخل انداز ہونے والا نہیں جس میں کسی اور کی کبریائی اور کسی اور کی بندگی کا کوئی جواز نہیں تم جو ابھی تک نہ عقیدہ میں یکسو ہوسکے ہو نہ اطاعت میں۔ تمہارے دل و دماغ کے رشتے ابھی تک وفا کے مختلف آستانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تم ابھی تک اللہ کے سہارے کے سوا نہ جانے کن کن سہاروں سے ٹیک لگائے ہوئے ہو۔ تم ایمان کی اصل حقیقت کو سمجھو تاکہ تمہیں اپنے نفاق کو سمجھنے میں مدد ملے اور تم یکسوئی سے ایمان کی دولت پا سکو۔