Ayah 9:118وَّعَلَی الثَّلٰـثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ط حَتّٰیٓ اذَاضَاقَتْ عَلَیْھمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلاَّ ٓ اِلَیْہِ ط ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوْبُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ع (التوبہ : 118)
(اور ان تینوں پر بھی (نظرِ رحمت فرمائی) جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب ان پر زمین تنگ ہوگئی باوجود کشادہ ہونے کے اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف۔ پھر اللہ نے ان پر عنایت کی نظر کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے بہت توبہ قبول فرمانے والا اور ہمیشہ رحم کرنے والا۔ )
تین صحابہ کون ہیں
یہ ان تین مخلص صحابہ کا ذکر ہے۔ جن کے نام کعب بن مالک، مرُارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ تینوں مخلص اور سچے مومن تھے۔ بار بار اپنے اخلاص کا ثبوت دے چکے تھے۔ کبھی ان سے ایسی کوئی کوتاہی سر زد نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے آخرالذکر دو اصحاب غزوہ بدر میں بھی شریک ہوچکے تھے جن کی صداقتِ ایمانی ہر شک و شبہ سے بالا تھی کعب بن مالک بھی جنگ بدر کے علاوہ ہر غزوہ میں داد شجاعت دے چکے تھے۔ لیکن غزوہ تبوک کے موقع پر یہ تینوں بزرگ سستی کا شکار ہوئے اور آنحضرت کی ہم رکابی سے محروم ہوگئے۔ یہ ایک ایسی کوتاہی تھی۔ جو قابل در گزر نہ تھی چناچہ ان کی تمام خدمات کے باوجود سخت گرفت ہوئی۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کوئی ان سے سلام کلام نہ کرئے۔ چالیس دن کے بعد ان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ پچاس دن تک ان کا یہ مقاطعہ جاری رہا اس دوران ان پر جو گز ری جس طرح انھوں نے اپنے مخلص ہونے کا ثبوت دیا اور جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اسے انھیں بزرگوں میں سے ایک بزرگ کعب بن مالک نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے صحیح بخاری اور مسلم اور اکثر کتب حدیث نے حضرت کعب کی اس تفصیلی حدیث کو نقل کیا ہے۔ ہم تفسیر مظہری سے اس واقعہ کو نقل کرتے ہیں۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) کا بیان
رسول ﷺ نے جتنے غزوات میں شرکت کی میں ان سب میں بجز غزوہ تبوک کے آپ کے ساتھ شریک رہا، البتہ غزوہ بدر کا واقعہ چونکہ اچانک پیش آیا اور رسول ﷺ نے سب کو اس میں شریک ہونے کا حکم بھی نہیں دیا تھا اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں فرمایا تھا اس میں بھی شریک نہ ہوسکا تھا اور میں لیلۃ العقبہ کی بیعت میں بھی حاضر تھا جس میں ہم نے اسلام کی حمایت و حفاظت کا معاہدہ کیا تھا اور مجھے یہ بیعت عقبہ کی حاضری غزوہ بدر کی حاضری سے بھی زیادہ محبوب ہے اگرچہ غزوہ بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے اور میرا واقعہ غزوہ تبوک میں غیر حاضری کا یہ ہے کہ میں کسی وقت بھی اس وقت سے زیادہ خوش حال اور مال دار نہ تھا .......... بخدا میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں جو اس وقت موجود تھیں اور رسول ﷺ کی عادت شریفہ غزوات کے معاملہ میں یہ تھی کہ مدینہ سے نکلنے کے وقت اپنے ارادے کے اخفاء کے لیے ایسا کرتے تھے کہ جس سمت میں جاکر جہاد کرنا ہوتا مدینہ سے اس کے خلاف سمت کو نکلتے تھے، تاکہ منافقین مخبری کر کے فریقِ مقابل کو آگاہ نہ کردیں اور فرمایا کرتے تھے کہ جنگ میں اس طرح کا دھوکہ جائز ہے،
یہاں تک کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آیا ( یہ جہاد کئی وجہ سے ممتاز تھا) آپ ﷺ نے سخت گرمی اور تنگ دستی کی حالت میں اس جہاد کا قصد فرمایا اور سفر بھی بڑی دور کا تھا، مقابلہ پر دشمن کی قوت اور تعداد بہت زیادہ تھی اس لیے رسول ﷺ نے اس جہاد کا کھل کر اعلان کردیا تاکہ مسلمان اس جہاد کے لیے پوری تیاری کرسکیں۔
اس جہاد میں شریک ہونے والوں کی تعداد صحیح مسلم کی روایت کے مطابق دس ہزار سے زائد تھی اور حاکم کی روایت حضرت معاذ ( رض) سے یہ ہے کہ ہم اس جہاد میں رسول ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہماری تعداد تیس ہزار سے زائد تھی،
اور اس جہاد میں نکلنے والوں کی کوئی فہرست نہیں لکھی گئی تھی اس لیے جو لوگ جہاد میں جانا نہیں چاہتے تھے ان کو یہ موقع مل گیا کہ ہم نہ گئے تو کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔ جس وقت رسول ﷺ اس جہاد کے لیے نکلے تو یہ وہ وقت تھا کہ کھجوریں پک رہی تھیں۔ باغات والے ان میں مشغول تھے۔ اسی حالت میں رسول ﷺ اور عام مسلمانوں نے سفر کی تیاری شروع کردی اور جمعرات کے روز آپ ﷺ نے اس سفر کا آغاز کیا اور سفر کے لیے آنحضرت ﷺ کو جمعرات کا دن پسند تھا خواہ سفرجہاد کا ہو یا کسی دوسرے مقصد کا میرا حال یہ تھا کہ میں روز صبح کو ارادہ کرتا کہ جہاد کی تیاری کروں مگر بغیر کسی تیاری کے واپس آجاتا، میں دل میں کہتا تھا کہ میں جہاد پر قادر ہوں مجھے نکلنا چاہیے۔ مگر یوں ہی امروز وفردا میں میرا ارادہ ٹلتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول ﷺ اور عام مسلمان جہاد کے لیے روانہ ہوگئے پھر بھی میرے دل میں یہ آتا رہا کہ میں بھی روانہ ہوجاؤں اور کہیں راستہ میں مل جاؤں اور کاش ! کہ میں ایسا کرلیتا مگر یہ کام (افسوس کہ) نہ ہوسکا۔
رسول ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں مدینہ میں کہیں جاتا تو یہ بات مجھے غمگین کرتی تھی کہ اس وقت پورے مدینہ میں یا تو وہ لوگ نظر پڑتے تھے جو نفاق میں ڈوبے ہوئے تھے یا پھر ایسے بیمار معذور جو قطعاً سفر کے قابل نہ تھے دوسری طرف پورے راستہ میں رسول ﷺ کو میرا خیال کہیں نہیں آیا یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے اس وقت آپ ﷺ نے ایک مجلس میں ذکر کیا کہ کعب بن مالک ( رض) کو کیا ہوا، وہ کہاں ہیں ؟
بنو سلمہ کے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ رسول ﷺ واپس تشریف لارہے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اور قریب تھا کہ میں اپنی غیر حاضری کا کوئی عذر گھبرا کر تیار کرلیتا اور ایسی باتیں پیش کردیتا جس کے ذریعہ رسول ﷺ کی ناراضگی سے نکل جاتا اور اس کے لیے اپنے اہل اور دوستوں سے بھی مدد لے لیتا۔ میرے دل میں یہ خیالات اور وسوسے گھومتے رہے۔ یہاں تک کہ جب یہ خبر ملی کہ حضور ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو خیالات فاسدہ میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں آپ ﷺ کی ناراضگی سے کسی ایسی بنیاد پر نہیں نکل سکتا جس میں جھوٹ ہو۔ چناچہ میں نے بالکل سچ بولنے کا عزم کرلیا کہ مجھے صرف سچ ہی نجات دلا سکتا ہے۔
رسول ﷺ واپس تشریف لائے تو ( حسب عادت) چاشت کے وقت یعنی صبح کو آفتاب کچھ بلند ہونے کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے اور عادت شریفہ یہی تھی کہ سفر سے واپسی کا عموماً یہی وقت ہوا کرتا تھا اور عادت یہ تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ دو رکعتیں پڑہتے۔ پھر حضرت فاطمہ کے پاس جاتے اس کے بعد ازواج مطہرات سے ملتے تھے۔
اسی عادت کے مطابق آپ ﷺ اول مسجد میں تشریف لے گئے۔ دو رکعت ادا کی پھر مسجد میں بیٹھ گئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو غزوہ تبوک میں نہ جانے والے منافقین جن کی تعداد اسی سے کچھ اوپر تھی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹے غذر پیش کر کے اس پر جھوٹی قسمیں کھانے لگے۔ رسول ﷺ نے ان کے ظاہری قول وقرار اور قسموں کو قبول کرلیا اور ان کو بیعت کرلیا ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کے باطنی حالات کو اللہ کے سپ د کیا۔
اسی حال میں بھی حاضر خدمت ہوگیا اور چلتے چلتے سامنے جاکر بیٹھ گیا جب میں نے سلام کیا تو رسول ﷺ نے ایسا تبسم فرمایا جیسے ناراض آدمی کبھی کیا کرتاے اور بعض روایات میں ہے کہ رسول ﷺ نے اپنا رخ پھیرلیا تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷺ آپ مجھ سے چہرہ مبارک کیوں پھیرتے ہیں خدا کی قسم ! میں نے نفاق نہیں کیا نہ دین کے معاملہ میں کسی شبہ وشک میں مبتلا ہوا۔ نہ اس میں کوئی تبدیلی کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر جہاد میں کیوں نہیں گئے ؟ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟
میں نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ ﷺ اگر میں آپ ﷺ کے سوا دنیا کے کسی دوسرے آدمی کے سامنے بیٹھتا تو مجھے یقین ہے کہ میں کوئی عذز گھڑ کر اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھے جدال اور بات بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ لیکن قسم ہے اللہ کی کہ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر میں نے آپ ﷺ سے کوئی جھوٹی بات کہی جس سے آپ ﷺ وقتی طور پر راضی ہوجائیں تو کچھ دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقتِ حال آپ ﷺ پر کھول کر مجھ سے ناراض کردیں گے اور اگر میں نے سچی بات بتلا دی جس سے بالفعل آپ مجھ پر ناراض ہوں تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دیں گے۔ صحیح بات یہ ہی کہ جہاد سے غائب رہنے میں میرا کوئی غذر نہیں تھا میں کسی وقت بھی مالی اور جسمانی طور پر اتنا قوی اور پیسے والا نہیں ہوا تھا جتنا اس وقت تھا۔
رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے سچ بولا ہے پھر فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ فرمادیں میں یہاں سے اٹھ کرچلا تو بنی سلمہ کے چند آدمی میرے پیچھے لگے اور کہنے لگے کہ اس سے پہلے تو ہمارے علم میں تم نے کوئی گناہ نہیں کیا یہ تم نے کیا بےوقوفی کی اس وقت کوئی عذر پیش کردیتے جیسا دوسرے متخلفین نے پیش کیا اور تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول ﷺ کا استغفار کرنا کافی ہوجاتا۔ بخدا یہ لوگ مجھے بار بار ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آگیا کہ میں لوٹ جاؤں اور پھر جا کر عرض کروں کہ میں نے جو بات پہلے کہی تھی وہ غلط تھی۔ میرا عذر صحیح موجود تھا۔
مگر پھر میں نے دل میں کہا کہ میں ایک گناہ کے دو گناہ نہ بنائوں۔ ایک گناہ تو تخلف کا سرزد ہوچکا ہے دوسرا گناہ جھوٹ بولنے کا کر گذ روں پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ متخلفین میں کوئی اور بھی میرے ساتھ ہے جس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہو ان لوگوں نے بتلایا کہ دو آدمی اور ہیں جنھوں نے تمہاری طرح اقرار جرم کرلیا اور ان کو بھی وہی جواب دیا گیا جو تمہیں کہا گیا ہے ( کہ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو) میں نے پوچھا کہ وہ دو کون ہیں انھوں نے بتلایا کہ ایک مرارہ ابن ربیع العمری دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں۔
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ ان میں سے پہلے ( یعنی مرارہ) کے تخلف کا تو سبب یہ ہوا کہ ان کا ایک باغ تھا جس کا پھل اس وقت پک رہا تھا تو انھوں نے اپنے دل میں کہا کہ تم نے اس سے پہلے بہت سے غزوات میں حصہ لیا ہے اگر اس سال جہاد میں نہ جاؤ تو کیا جرم ہے۔ اس کے بعد جب انھیں اپنے گناہ پر تنبہ ہوا تو انھوں نے اللہ سے عہد کرلیا کہ یہ باغ میں نے اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔
اور دوسرے بزرگ حضرت ہلال بن امیہ کا یہ واقعہ ہوا کہ ان کے اہل و عیال عرصہ سے متفرق تھے اس موقع پر سب جمع ہوگئے تو یہ خیال کیا کہ اس سال جہاد میں نہ جاؤں اپنی اہل و عیال میں بسر کروں۔ ان کو بھی جب اپنے گناہ کا خیال آیا تو انھوں نے یہ عہد کیا کہ اب میں اپنے اہل و عیال سے علیحدگی اختیار کرلوں گا۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے ایسے دو بزرگوں کا ذکر کیا جو غزوہ بدر کے مجاہدین میں سے ہیں تو میں نے کہا کہ بس میرے لیے انہی دونوں بزرگوں کا عمل قابل تقلید ہے۔ یہ کہہ کر میں اپنے گھر چلا گیا۔
ادھر رسول ﷺ نے صحابہ کرام کو ہم تینوں کے ساتھ کلام کرنے سے منع فرمادیا اس وقت ہم تو سب مسلمانوں سے بدستور محبت کرتے تھے مگر ان سب کا رخ ہم سے پھر گیا تھا۔
ابن ابی شیبہ ( رض) کی روایت میں ہے کہ اب ہمارا حال یہ ہوگیا کہ ہم لوگوں کے پاس جاتے تو کوئی ہم سے کلام نہ کرتا نہ سلام کرتا نہ سلام کا جواب دیتا۔
مسند عبد الرزاق میں ہے کہ اس وقت ہماری دنیا بالکل بد ل گئی ایسا معلوم ہونے لگا کہ نہ وہ لوگ ہیں جو پہلے تھے نہ ہمارے باغ اور مکان وہ ہیں جو پہلے تھے سب اجنبی نظر آنے لگے مجھے سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر میں اس حال میں مرگیا تو رسول ﷺ میرے جنا زہ کی نماز نہ پڑہیں گے یاخدانخواستہ اس عرصہ میں حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں عمربھر اسی طرح سب لوگوں میں ذلیل و خوار پھرتا رہوں گا اس کی وجہ سے میرے لیے ساری زمین بیگانہ ویرانہ نظر آنے لگی۔ اسی حال میں ہم پر پچاس راتیں گذر گئیں اس زمانہ میں میرے دونوں ساتھی ( مرارہ اور ہلال) تو شکستہ دل ہو کر گھر میں بیٹھ رہے اور ات دن روتے تھے لیکن میں جوان آدمی تھا باہرنکلتا اور چلتا پھرتا تھا اور نماز میں سب مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور بازار میں پھرتا تھا مگر نہ کوئی مجھ سے کلام کرتا نہ میرے سلام کا جواب دیتا رسول ﷺ کی مجلس میں نماز کے بعد حاضر ہوتا اور سلام کرتا تو یہ دیکھا کرتا تھا کہ رسول ﷺ کے لب مبارک کو جواب سلام کے لیے حرکت ہوئی یا نہیں پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑہتا تو نظر چرا کر آپ کی طرف دیکھتا تو معلوم ہو تاکہ جب میں نماز میں مشغول ہوجاتا ہوں تو آپ ﷺ میری طرف دیکھتے ہیں اور جب میں آپ کی طرف دیکھتا ہوں تو رخ پھیر لیتے ہیں۔
جب لوگوں کی یہ بیوفائی دراز ہوئی تو ایک روز میں اپنے چچازاد بھائی حضرت قتادہ ( رض) کے پاس گیا جو میرے سب سے زیادہ دوست تھے میں ان کے باغ میں دیوار پھاند کر داخل ہوا اور ان کو سلام کیا خدا کی قسم انھوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے پوچھا کہ اے قتادہ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر بھی قتادہ نے سکوت کیا کوئی جواب نہیں دیاجب میں نے بار بار یہ سوال دہرایا تو تیسری یا چوتھی مرتبہ میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ جانتا ہے اور اس کا رسول ﷺ میں رو پڑا اور اسی طرح دیوار پھاند کر باغ سے باہر آگیا اسی زمانہ میں ایک روز میں مدینہ کے بازار میں چل رہا تھا کہ اچانک ملک ِشام کا ایک نبطی شخص جو غلہ فروخت کرنے کے لیے شام سے مدینہ میں آیا تھا اس کو دیکھا کہ لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتاسکتا ہے ؟ لوگوں نے مجھے دیکھ کر میری طرف اشارہ کیا وہ آدمی میرے پاس آگیا اور مجھے شاہ غسان کا ایک خط دیاجو ایک ریشمی رومال پر لکھا ہوا تھا جس کا مضمون یہ تھا :
” اما بعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ کے نبی نے آپ سے بیوفائی کی اور آپ کو دور کر رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذلت اور ہلاکت کی جگہ میں نہیں رکھا ہے۔ تم اگر ہمارے یہاں آنا پسند کرو تو آجاؤ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ “
میں نے جب یہ خط پڑھا تو کہا کہ یہ ایک اور امتحان اور آزمائش آئی کہ اہل کفر کو مجھ سے اس کی طمع اور توقع ہوگئی (کہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں) میں یہ خط لے کر آگے بڑھا ایک دکان پر تنور لگا ہوا تھا اس میں جھونک دیا۔
حضرت کعب ( رض) فرماتے ہیں کہ جب پچاس میں سے چالیس راتیں گذر چکی تھیں تو اچانک دیکھا کہ آپ ﷺ کے ایک قاصد خزیمہ بن ثابت میرے پاس آرہے ہیں آکر یہ کہا کہ آپ ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلو میں نے پوچھا کہ کیا طلاق دیدوں انھوں نے بتلایا کہ نہیں عملاً اس سے الگ رہو قریب نہ جاؤ اسی طرح کا حکم میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی پہنچا میں نے بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے میں چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہ فرما دیں۔
ہلال بن امیہ کی اہلیہ خولہ بنت عاصم یہ حکم سن کر رسول ﷺ کی خدمت حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہلال بن امیہ ایک بوڑھے ضعیف آدمی ہیں اور کوئی ان کا خادم نہیں ابن ابی شیبہ ( رض) کی روایت یہ بھی ہے کہ وہ ضعیف البصر بھی ہیں کیا آپ یہ پسند نہیں فرمائیں گے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں فرمایا کہ خدمت کر نیکی ممانعت نہیں البتہ وہ تمہارے پاس نہ جائیں انھوں نے عرض کیا کہ وہ تو بڑھاپے کی وجہ سے ایسے ہوگئے ہیں کہ ان میں کوئی حرکت ہی نہیں اور واللہ ان پر تو مسلسل گریہ طاری ہے رات دن روتے رہتے ہیں۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) فرماتے ہیں مجھے بھی میرے بعض متعلقین نے مشورہ دیا کہ تم بھی آنحضرت ﷺ سے بیوی کو ساتھ رکھنے کی اجازت لے لو جیسا کہ آپ نے حضرت ہلال ( رض) کو اجازت دیدی ہے میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ معلوم نہیں رسول ﷺ کیا جواب دیں اس کے علاوہ میں جوان آدمی ہوں ( بیوی کو ساتھ رکھنا احتیاط کے خلاف ہے) چناچہ اسی حال پر میں نے دس راتیں گذاریں یہاں تک کہ پچاس راتیں مکمل ہوگئیں۔ مند عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ اس وقت ہماری توبہ رسول ﷺ پر ایک تہائی رات گزر نے کے وقت نازل ہوئی۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ ( رض) جو اس وقت حاضر تھیں انھوں نے عرض کیا اجازت ہو تو حضرت کعب بن مالک ( رض) کو اسی وقت اس کی خبر کردی جائے۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا ہوتوابھی لوگوں کا ہجوم ہوجائے گا، رات کی نیند مشکل ہوجائے گی۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) فرماتے ہیں کہ پچاسویں رات کے بعد صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا اور حالت وہ تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے کہ مجھ پر میری جان اور زمین باوجود وسعت کے تنگ ہوچکی تھی۔ اچانک میں نے سلع پہاڑ کے اوپر سے کسی چلانیوالے آدمی کی آواز سنی جو بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک بشارت ہو۔
محمد بن عمرو کی روایت میں ہے کہ یہ بلند آواز سے کہنے والے ابوبکر تھے جنھوں نے جبل سلع پر چڑھ کر یہ آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کعب بن مالک ( رض) کی توبہ قبول فرمالی بشارت ہو اور عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ یہ خوشخبری کعب کو سنانے کے لیے دو آدمی دوڑے ان میں سے ایک آگے بڑھ گیا تو جو پیچھے رہ گیا تھا اس نے یہ کیا کہ سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دیدی اور کہا جاتا ہے کہ یہ دوڑنے والے دو بزرگ حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق اعظم ( رض) تھے۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) فرماتے ہیں کہ یہ آواز سن کر میں سجدے میں گرگیا اور انتہائی فرحت سے رونے لگا اور مجھے معلوم ہوگیا کہ اب کشادگی آگئی رسول ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرام کو ہماری توبہ قبول ہو نیکی خبر دی تھی۔ اب سب طرف سے لوگ ہم تینوں کو مبارکباد دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ بعض لوگ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے مگر پہاڑ سے آواز دینے والے کی آواز سب سے پہلے پہنچ گئی۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) کہتے ہیں کہ میں رسول ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے نکلا تو لوگ جوق در جوق مجھے مبارکباد دینے کے لیے آرہے تھے کعب فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی ﷺ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں آپ کے گرد صحابہ کرام کا مجمع ہے مجھے دیکھ کر سب سے پہلے طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہو کر میری طرف لپکے اور مجھ سے مصافحہ کر کے قبول توبہ پر مبارکباد دی۔ حضرت طلحہ ( رض) کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولتا جب میں نے رسول ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی کی وجہ سے چمک رہا تھا آپ نے فرمایا کہ اے کعب بشارت ہو تمہیں ایسے مبارک دن کی جو تمہاری عمر میں پیدائش سے لے کر اب تک سب سے زیادہ بہتر دن ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ حکم اللہ تعالیٰ کا ہی ہے۔ تم نے سچ بولا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری سچائی کو ظاہر فرمادیا۔
جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو عرض کیا یارسول ﷺ میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سب مال و متاع سے نکل جاؤں کہ سب کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردوں آپ نے فرمایا نہیں کچھ مال اپنی ضرورت کے لیے رہنے دو یہ بہتر ہے میں نے عرض کیا کہ اچھا آدھا مال صدقہ کردوں آپ نے اس سے بھی انکار فرمایا میں نے پھر ایک تہائی مال کی اجازت مانگی۔ تو آپ نے اس کو قبول فرمالیا میں نے عرض کیا یا رسول ﷺ مجھے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے اس لیے میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کبھی سچ کے سوا کوئی کلمہ نہیں بولوں گا پھر فرمایا کہ جب سے میں نے رسول ﷺ سے یہ سچ بولنے کا عہد کیا تھا الحمد اللہ کہ آج تک کوئی کلمہ جھوٹ کا میری زبان پر نہیں آیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھیں گے۔ کعب ( رض) فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اسلام کے بعد اس سے بڑی نعمت مجھے نہیں ملی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ بولا جھوٹ سے پرہیز کیا کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو اسی طرح ہلاکت میں پڑجاتا جس طرح دوسرے جھوٹی قسمیں کھانیوالے ہلاک ہوئے جن کے بارے میں یہ نازل ہوا۔
سیحلفون با اللہ الکم اذا انفلبتم الیھم سے لے کر فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین تک بعض حضرات نے فرمایا کہ ان تینوں حضرات سے مقاطعہ کا پچاس دن تک جاری رہنا شاید اس حکمت پر مبنی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک میں پچاس دن ہی صرف ہوئے تھے۔
حضرت کعب بن مالک ( رض) کی زبان سے ہم نے تفصیل سے وہ واقعات سنے ہیں۔ جو ان تین بزرگوں کی توبہ کے حوالے سے پیش آئے۔ اس میں ہمارے لیے نصیحت اور عبرت کے متعدد اسباق ہیں۔ جیسے جیسے ان واقعات پر غور کیا جاتا ہے ویسے ویسے نئی نئی باتیں ذہنی افق پر روشن ہونے لگتی ہیں جن میں سے ہم چند ایک کا تذکرہ کریں گئے۔
حصول نصیحت و عبرت کے مواقع
1 غور فرمائے یہ تینوں بزرگ جنھیں پچاس دنوں تک مقاطعہ کی سزا دی گئی اور انھیں اسلامی معاشرہ سے کاٹ کر رکھ دیا گیا اپنے گذشتہ اعمال اور قر بانیوں کی ایک روشن تاریخ رکھتے تھے۔ ان کا نامہ عمل ہر طرح کی اجتماعی کوتاہی سے معرا تھا۔ ان سے صرف یہ غلطی ہوئی کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ اس پر انھیں یہ بتانے کے لیے سخت ترین سزا دی گئی کہ حق و باطل کی کشمکش میں شرکت سے پہلو تہی کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کفر اور اسلام کی آویزش میں مومن کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اسی میں اس کے ذاتی جوہر جلا پاتے ہیں اور اسی کے باعث حق کا قافلہ آگے بڑھتا ہے۔ کوئی شخص اپنی ذات میں کیسا ہی عبادت گزار اور متقی کیوں نہ ہو۔ حق و باطل کی کشمکش میں عدم شرکت کے باعث رانداہ درگاہ قرار پاتا ہے اور اگر وہ اپنی روش تبدیل نہیں کرتا تو اسے اسلامی قافلہ سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ :
ہر کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست
2 اس واقعہ میں تین کردار ہمارے سامنے ہیں۔ نبی کریم ﷺ ، کعب بن ما لک اور ان کے ساتھی اور اسلامی معاشرہ۔ جہاں تک نبی کریم ﷺ کا تعلق ہے آپ باوجود اس کے کہ مہاجرین و انصار سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔ لیکن آپ کی محبت اسلام کی محبت کے زیر اثر تھی۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص آپ کی توجہ کا اہل تھا۔ جو اللہ کی بندگی اور جہاد فی سبیل اللہ میں اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔ چا ہے وہ شخص اپنی ذات میں بےنام و نسب، بےبس اور بےکس ہو اور جو شخص آپ کی نگاہ میں اپنی خدمات جلیلہ کے اعتبار سے نہایت عزت و وجاہت کا مالک ہے۔ لیکن وہ حق و باطل کی کشمکش میں شریک ہونے کی بجائے گھر بیٹھ رہتا ہے۔ تو وہ اپنی گزشہ تمام خدمات کے باوجود سزا و عتاب کا مستحق ہوگا اور اگر اس سزا کے دوران وہ شخص اپنے وفا و اطاعت میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہونے دیتا بلکہ وہ مسلسل معافی قبول کرنے کا خواستگار رہتا ہے تو سزا کے دوران بھی نبی کریم ﷺ کی نگاہیں اس کی بلائیں لیتی ہیں اور اس کی قبولیت توبہ کے لیے آپ دعا مانگتے ہیں۔ آپ کا رویہ اس محبت کرنے والے باپ کی طرح ہے۔ جو اپنے بیٹے کو نافرمانی پر سزا دیتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کا سینہ ہر وقت منتظر رہتا ہے کہ کب اس کا بیٹا معافی مانگ کر سینے سے چمٹ جاتا ہے۔ چناچہ ایسا ہی رویہ آنحضرت ﷺ کا ان تینوں بزرگوں کے ساتھ رہا۔
3 حضرت کعب بن مالک ( رض) اور ان کے ساتھی۔ یہ تینوں بزرگ اپنے معاشرے کے معزز افراد ہیں۔ انھیں اپنے دائرہ کار میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ گزشتہ اسلامی تاریخ میں ان کی خدمات کسی سے کم نہیں۔ بااین ہمہ انھیں مقا طعہ کی سخت سزا دی گئی۔ کوئی ان سے کلام نہیں کرتا اور کوئی سلام کا جواب دینے کا روادار نہیں۔ ایک کوتاہی پر سالوں کی خدمات فراموش کردی گئی ہیں۔ عزت خاک میں ملا دی گئی ہے۔ اس کے رد عمل میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان بزرگوں کے نفس پر چوٹ پڑتی وہ اسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بناتے لوگوں میں دوڑ بھا گ کرتے اپنا ایک گروپ بنانے کی کوشش کرتے۔ قیادت کے بارے میں غلط فہمیوں کا طوفان کھڑا کردیتے۔ لیکن اس کے برعکس تینوں بزرگ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور اپنے آپ کو بڑی سے بڑی سزا کے لیے پیش کردیتے ہیں۔ شبِ روز کے بیشتر حصہ میں اللہ کے سامنے رو رو کر اپنی کوتاہی کی معافی چاہتے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچاسکتا۔ کعب بن مالک کو غسان کا بادشاہ اپنے پاس آنے اور قدر و منزلت کے منصب پر فائز کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ لیکن کعب اس کا ریشم میں لپٹا ہوا مکتوب جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ اپنے قریبی دوستوں کو اللہ کا واسطہ دے کر بات کرنے کی کوشش کرتے ہے۔ لیکن کوئی ان کو منہ لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح سے مدینہ کی سرزمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہو کر رہ گئی۔ حتی کہ کے چالیسوں دن ان کی بیویوں کو بھی علیحدہ ہونے کا حکم دیے دیا گیا اب وہ اپنی ذات میں بالکل یکہ و تنہا ہیں۔ لیکن ان کا غرور نفس بھڑکنے کی بجائے جھکتا اور پگھلتا جارہا ہے۔ انھیں یقین ہوگیا ہے۔
جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے
کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات
یہ ہے ان بزرگوں کا کردار جس سے اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے ان کو اٹھا کر اپنی آغوش میں لے لیا۔
4 اِسلامی معاشرہ۔ کسی بھی معاشرہ کی اصل قوت اس کا نظم و ڈسپلن ہوتا ہے۔ جن صداقتوں پر معاشرہ کی بنیاد اٹھائی جاتی ہے ان صداقتوں پر بےپناہ یقین معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتا ہے۔ قیادت کے ساتھ بےپناہ لگائو اور اطاعت کا جذبہ معاشرہ میں روح کی طرح کارفرما رہ کر زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اِسلامی معاشرہ ان تمام حقائق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ جن بزرگوں کا سزا دی گئی اس معاشرے سے ان کی قرابت داریاں ہیں۔ انھیں سے ان کے وطنی و نسبی رشتے ہیں۔ نہ جانے ان میں سے کتنے لوگوں کی ان کے ساتھ دوستیاں اور کاروباری رشتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی قیادت کی طرف سے حکم آتا ہے کہ ان کا بائیکاٹ کردو۔ تو معاشرے کا ایک ایک فرد ان سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ کعب اپنے چچا ذاد بھائی قتادہ جو ان کے بچپن کے دوست بھی ہیں سے پوچھتے ہیں کہ قتادہ تم میرے بھائی ہو میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ وہ جواب ہی نہیں دیتے تیسری دفعہ قسم دینے پر صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ کعب مسجد میں جاتے ہیں۔ لوگوں کو سلام کرتے ہیں۔ کوئی سلام کا جواب نہیں دیتا۔ بازار میں نکلتے ہیں۔ کوئی منہ نہیں لگاتا۔ مدینے کا پورا معاشرہ ایک حکم کے ساتھ ایک راستے پر چل نکلا ہے۔ اس راستے سے نہ انھیں قرابت روکتی ہے نہ دوستیاں کام دیتی ہیں نہ کوئی اور تعلق انھیں رویہ بدلنے پر مجبور کرتا ہے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا حکم سب کچھ ہے۔ وہ اسی کے مطابق جینا اور مرنا جانتے ہیں۔
ان تینوں کرداروں کو غور سے دیکھے۔ آپ کو ان کے اندر ایک ہی روح کار فرما دکھائی دے گی اور وہ ہے ایمان۔ یعنی اللہ پر ایمان اور اللہ کے رسول پر ایمان۔ آخرت پر ایمان وہ صرف اللہ کو اپنا مالک اور حاکم سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو آئیڈیل اور راہنما جانتے ہیں اور آخرت میں جواب دہی کے لیے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنت ان کے لیے ضابطہ حیات ہے۔ یہی وہ حقائق ہیں۔ جن سے ان کی زندگی عبارت ہے اور اسی نے ان کو دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا مستحق بنایا ہیں۔
Ayah 9:119یٰـٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التوبہ : 119)
(اے ایمان والوں اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ )
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو دو ایسی قیمتی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں۔ جن پر عمل کرنے سے ایک مومن اس حادثے سے دوچار نہیں ہوتا جس حادثے سے وہ بزرگ دو چار ہوئے جن کا ذکر گزشتہ آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔
سب سے پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ تقوی اختیار کرو۔ تقویٰ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے۔ جس میں اللہ کے خواور اس کی محبت کے سوا کسی اور کا خوف اور محبت نہ ہو اور اس خوف کی وجہ سے دل کا میلان ہمیشہ نیکی کی طرف ہو اور برائی سے نفرت محسوس ہو۔ یہ وہ کیفیت ہے جو دل کی پاسبانی کرتی ہے۔ اس میں برے خیالات کو داخل ہونے کا موقع نہیں دیتی۔ حبِّ دنیا دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتی۔
دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ سچوں اور راست بازوں کی صحبت اور معیت اختیار کرو۔ جس طرح تقوی اندر کے بگاڑ کو روکتا ہے۔ اسی طرح راست بازوں کی صحبت باہر سے شیطان کے حملوں کی مدافعت کرتی ہے۔ انسان کی فطرت اللہ نے اس طرح کی بنائی ہے کہ وہ دوسروں پر اثر انداز بھی ہوتا ہے اور دوسروں کا اثر قبول بھی کرتا ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ پاکیزہ صحبت پر بہت زور دیا ہے۔ انسان کا ماحول انسان کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے احباب اور ہر وقت ملنے والے لوگ خواہی نہخواہی اس پر اپنے خیالات کا اثر چھوڑتے ہیں۔ اچھی صحبت اس طرح ہے۔ جیسے خو شبو کی دکان جو آدمی اس دکان میں جاتا ہے وہ چاہے خوشبو نہ خریدے لیکن جب باہر نکلے گا تو اس کے کپڑوں سے خوشبو آرہی ہوگی اور بری صحبت کوئلے کی دکان کی طرح ہے۔ کوئی چاہے کوئلہ نہ خریدے لیکن دکان پر جانے سے کہیں نہ کہیں اس کے کپڑوں کو کالک ضرور لگ جائیگی۔ ایک کمزور دل اور بزدل آدمی بہادروں کی مجلس میں بیٹھتا ہے تو اس کے اندر عزائم انگڑائیاں لینے لگتے ہیں۔ ایک برا آدمی عبادت گزار اور خوش اطوار لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے۔ تو اس کے دل میں نیکی چٹکیاں لینے لگتی ہے۔ یہ دو وہ قیمتی نصیحتیں ہیں جن سے انسان کا ظاہر اور باطن محفوظ رہتا اور جلا پاتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ گزشتہ آیات میں جن مخلص مسلمانوں کی غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے گرفت ہوئی اور جن کو پچاس دنوں تک مسلمان معاشرہ سے مقاطعہ کی ایسی تکلیف دہ لیکن زندگی میں یکسوئی پیدا کرنے والی سزا دی گئی اور پھر ان کی گریہ زاری اور درِ توبہ سے وابستگی اور استقامت کی وجہ سے توبہ قبول کی گئی۔ وہ لوگ اپنی گذشتہ تاریخ میں قربانی و ایثار اور استقامت و قتال کے کئی امتحان پاس کرچکے تھے۔ انھوں نے نا زک ترین دنوں میں بھی کبھی کمزوری نہیں دکھائی تھی۔ بااین ہمہ ان سے اتنی بڑی کوتاہی کا صدور شائد اس وجہ سے ہوا کہ صحبت ِ نبوی علیٰ صاحبہا السلام اور مصاحبت صحابہ میں کہیں کمی آگئی اور کئی ایسے لوگوں کے ساتھ بھی اٹھنا بیٹھنا شروع ہوگیا جن کے اندر نفاق کا مرض پایا جاتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان کے نفاق کی نحوست نے ان کے دلوں پر اثر ڈالا جس سے ان کے ایمان و اخلاص کو تو کوئی نقصان نہ پہچا البتہ کسی مشکل فیصلے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوگئی اور غزوہ تبوک جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی واقع ہوگئی۔ چنا چہ ایسی ہی کمزوریوں کے علاج کے لیے یہ ہدایات ارشاد فرمائی گئیں اور اگلی آیات میں بھی ان گرو ہوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جو صحبت نبوی اور مصاحبت صحابہ کے فقدان کا شکار ہوئے اور نفاق کے جراثیم ان میں داخل ہونے میں کا میاب ہوگئے۔ جو ایمان کی کمزوری کا باعث بنے۔
Ayah 9:120مَاکَانَ لِاَھْلِ الْمَدیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنفُسِھِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ لاَ یُصِیْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلاَ نَصَبٌ وَّلاَ مَخْمَصَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَطَئُوْنَ مَوْطِئًایَّغْیِظُ الْکُفَّارَ وَلاَ یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّنَّیْلاً الِاَّ کُتِبَ لَھُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَ جْرَالْمُحْسِنِیْنَ لا وَلاَ یُنْفِقُوْنَ نَفقَۃً صَغِیَرۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً وَّ لاَ یَقْطَعُوْنَ وَادِیاً الِاَّ کُتِبَ لَھمْ لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (التوبہ : 121)
(اہل مدینہ اور اس کے اردگرد کے اعراب کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کے پیچھے بیٹھ رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جان کو اس کی جان سے عزیز رکھتے یہ اس لیے کہ جو پیاس، تکان اور بھوک بھی اللہ کی راہ میں ان کو لاحق ہوتی ہے اور جو قدم بھی وہ کفارکور نج پہنچانے والا اٹھاتے ہیں اور جو چرکا بھی کسی دشمن کو لگاتے ہیں ان سب کے بدلے میں ان کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ بیشک اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اور جو کوئی چھوٹا یا بڑا خرچ اللہ کی راہ میں کرتے ہیں اور جو وادی بھی وہ طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ )
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں سے خطاب بھی ہے اور ان کا تذکرہ بھی۔ جو صاحب ایمان تھے لیکن صحبت نبوی اور مصاحبتِ صحابہ میں کمی کے باعث ایمان کو برگ و بار لانے اور کمزوریوں پر قابو پانے کی صلاحیت ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ آنحضرت ﷺ سے محبت رکھتے تھے۔ لیکن محبت کے تقاضوں سے بیخبر تھے۔ ان کے نازک جذبات کو انگیخت کر کے تربیت کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔ ان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تم نے غزوہ ٔ تبوک کی شرکت سے پہلو تہی کرتے ہوئے شاید غور کرنے کی زحمت نہیں کی کہ جنگ میں شرکت وہ بھی ایسے سخت موسم میں کیا معنی رکھتی ہے۔ غضب خدا کا تم تو ٹھنڈے باغوں کے گھنے سایوں میں کھجور کے لٹکتے ہوئے خوشوں کے نیچے اور انگور کے لہراتے ہوئے گچھوں کے سائے میں ٹھنڈی زمین کے فرش پر ٹھنڈے اور شیریں پانی کی صراحیاں ہاتھ میں لے کر رس بھرے پھلوں کا مزہ اٹھاؤ اور رسول ﷺ چلچلاتی ہوئی دھوپ اور جھلستے ہوئے موسم میں سینکڑے میل کا سفر اس حال میں کریں کہ پانی کی کم یابی سے حلق میں کانٹے اگ کھڑے ہوں۔ سواریوں کی کمی بار بار پیدل چلنے پر مجبور کرئے۔ دشمن کی افرادی قوت اور رسد و کمک کی فروانی پتہ پانی کیے دے رہی ہو۔ لیکن اللہ کے دین کی سر بلندی اور اللہ کی رضا کی طلب ان تمام مصیبتوں اور تلخیوں کے باوجود اللہ کے رسول کو نکلنے پر تو مجبور کردے اور تم آرام سے گھر میں بیٹھے آرام و راحت کے مزے لوٹتے رہو اور پھر بھی یہ دعوی ہو کہ ہمیں اللہ کے رسول سے محبت ہے اور ہم اللہ کی رضا کے چاہنے والے ہیں غور کرو تمہارے اس رویے کا کیا جواز ہے کیا محبت اسی چیز کا نام ہے۔ اس طرح سے ان کے نازک جذبات کو چھیڑ کر ان کو غیرت دلائی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی حالت پر غور کریں اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کریں۔
(ذلک بانھم الخ) سے ایک دوسرے پہلو سے ان کے قلبی جذبات کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ انسان اپنے قلبی احساسات میں سب سے موثر حیثیت دو ہی طرح کے احساسات کو دیتا ہے۔ ایک ان احساسات کو جو محبت سے پھوٹتے ہیں اور دوسرے ان احساسات کو جن سے اللہ کے یہاں اجر وثواب کے حصول کی امید پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ پہلے محبت کے حوالے سے بات کی گئی اور اب دوسرے حوالے سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے محض راستے کی تلخیوں اور سفر کی صعوبتوں سے ڈر کر غزوہ تبوک میں شر یک ہونے کا حوصلہ نہیں کیا حالانکہ تم کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس راستے میں اگر تم کو پیاس لگی یا تمہیں تکان نے پریشان کیا یا تمہیں بھوک سے دوچار ہونا پڑا یا تمہیں ایسی وادی میں شجاعت کے جوہر دکھانے پڑے۔ جس میں کفر کو برہمی لاحق ہوتی ہو اور یا کسی دشمن سے نبردآزما ہونا پڑا تو ان میں سے کوئی مرحلہ ایسا نہیں جس کے معاوضے میں تمہیں اللہ کی طرف سے انعامات سے نواز انہ جائے۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ اللہ کے راستے میں جو تکلیف اٹھائی جاتی ہے پروردگار اس پر کیا اجر وثواب عطا فرماتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق ( رض) کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب آدمی اللہ کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں کا صلہ اور انعام پائے گا۔ تو اس قدرو منزلت اور بیش ازگمان قیمت کو دیکھ کر اس کا جی چاہے گا کہ کاش اللہ کے راستے میں میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی تاکہ آج مجھ کو اس کا صلہ ملتا دنیا کے معمولی مصائب آنی وفانی حیثیت رکھتے ہیں اور اس پر ملنے والا اجر لافانی حیثیت کا مالک ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں یہ بھی فرمایا گیا کہ تم اللہ کے راستے میں آنے والی ایک ایک تکلیف کو بیشک کمزوری بےدلی یا نا گواری سے برداشت کرو اور چاہے اس کی حیثیت معمولی کیوں نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کو عمل صالح کی حیثیت سے لکھے گا اور عمل ِ صالح کہتے ہی اسے ہیں جو اللہ کی بار گاہ میں مقبول و منظور ہونے کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا میں وہ ہمیشہ ثمر آور ہوتا ہے اور پھر اسی پر اتفاق نہیں فرمایا بلکہ اس پر نوید جانفزا سنائی کہ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں تکلیف اٹھانے والوں کو محسنین کا مقام عطا فرماتا ہے اور محسن اس کی نگاہ میں وہ شخص ہوتا ہے جو حسن عمل کا پیکر ہو اور جنت کے اعلیٰ ترین مقامات کا مستحق ہو۔
اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے راستے میں تکلیفیں برداشت کرنے والوں کو نوازتا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی بھی قدر کرتا ہے جو اس کے راستے میں مال و دولت خرچ کرتے ہیں۔ پھر وہ کمیت کو نہیں دیکھتا یعنی وہ یہ نہیں دیکھتا کہ خرچ کرنے والے نے کتنا خرچ کیا ہے اور کیا خرچ کیا ہے بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس خرچ کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما ہے اور خرچ کرنیوالے کے دل و دماغ کی کیفیت کیا ہے اگر ایک شخص کڑوڑوں روپے خرچ کردیتا ہے لیکن اس کے دل میں اخلاص اور فدائیت کا جذبہ نہیں وہ محض نام و نمود یا شہرت کی ہوس کے لیے خرچ کرتا ہے۔ یا کوئی اور منفی جذبہ کار فرما ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نہ ایسے عطیہ کو قبول فرماتے ہیں اور نہ عطیہ دینے والوں کی قدر افزائی فرماتے ہیں اس کے یہاں صرف وہ شخص بار پاتا اور عزت حاصل کرتا ہے۔ جو اگر ایک طرف اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے۔ تو دوسری طرف اسے دھڑکا لگارہتا ہے کہ نہ جانے میرے آقا نے میرا عطیہ قبول فرمایا ہے یا نہیں۔ اسے عطیہ سے زیادہ اپنے دل کی کیفیت کی فکر ہوتی ہے کہ اس میں اللہ کی رضا کے حصول کے سوا اور کوئی خواہش پوشیدہ تو نہیں اگر ایسے پاکیزہ جذبے سے کھجوروں کی ایک پوٹلی بھی کوئی غریب آدمی اس کے حضور پیش کرتا ہے تو اسے نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ بڑے بڑے سخیوں کے لیے اسے نمونہ بنادیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ غزوہ تبوک میں جب آپ نے مصارف جنگ کے لیے اپیل فرمائی تو لوگوں نے دل کھول کر عطیات پیش کیے اور مسجد کے صحن میں درہم و دینار دیگر اجناس کا ڈھیر لگ گیا۔ شام کو ایک شخص کھجوروں کی ایک پوٹلی لے کر حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر فاقوں کے سوا کچھ نہیں آپ نے اپیل فرمائی میں اپنی تہی دامنی پر روتا رہا بالآخر میں نے دن بھر مزدوری کی۔ اجرت میں جو کچھ مجھے ملا وہ گھر لے جانے کی بجائے میں آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں آپ اسے قبول فرما کر میری غربت کی لاج رکھیں۔ آنحضرت ﷺ نہایت خوش ہوئے۔ نہایت عزت کے ساتھ وہ پوٹلی قبول فرمائی اور حکم دیا کہ اسے عطیات کے ڈھیر پر بکھیر دیا جائے۔ تاکہ اس کی اور اس کے لانیوالے کے اخلاص کی برکت سے اللہ تعالیٰ باقی عطیات کو بھی قبول فرمالیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ تھوڑا خرچ کریں یا زیادہ اور اللہ کے راستے میں کسی وادی کو قطع کرنے کی تکلیف اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ ان اعمال کو وہاں لکھے گا اور ان اعمال میں جگہ دے گا جو اس لیے محفوظ کرلیے جاتے ہیں کہ وقت آنے پر ان کا بہتر سے بہتر بدلہ دیا جائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پروردگار کی شان رحمت نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ ایسے اعمال کا صلہ عام قانون کے مطابق دیا جائے۔ بلکہ ان اعمال میں شامل کیا گیا ہے جن کا صلہ اعمال کی حیثیت کے مطابق نہیں دیا جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عطا فرماتے ہیں اور ایسا صلہ یقینا صرف اچھا نہیں ہوتا بلکہ بہت اچھا ہوتا ہے اور مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی چیز یا کسی صلہ کا بہتر ہونا یا اچھا ہونا ایک تو ہمارے اپنے معیار کے مطابق ہونا ہے اور دوسرا وہ اچھا ہونا ہے جو اللہ کے معیار کے مطابق ہو۔ اب یہ بات جاننے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں کہ انسانوں کے پیمانے مخلوق کی حیثیت کے مطابق اور اللہ کے دادو دہش کے پیمانے خالق کی شان کے لائق ہیں۔ انسانوں میں بھی حیثیتوں کا اختلاف انسانوں کے مراتب کے حوالے سے ہے۔ جس کا مرتبہ بڑا ہے اس کی حیثیت بھی بڑی ہے اور جس کا مرتبہ چھوٹا ہے اس کی حیثیت بھی فرو تر ہے۔ اللہ جب کسی صلہ اور معاوضے کو احسن قرار دیتا ہے تو اس کی قدرو منزلت چونکہ اللہ کی شان اور حیثیت کے مطابق ہے اس لیے اس کی و سعت اور قیمت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔
نواب عبد الرحیم خان خاناں جہانگیر کے دور کا ایک نہایت نیک نام اور فیاض نواب تھا۔ جس کی دادودہش کے قصے حیران کن اور زبان زد عام و خاص تھے۔ بادشاہ کی طرف سے شائد اسی فیاضی کے باعث اسے منعم خان کا خطاب دیا جا چکا تھا ایک دفعہ آگرہ جانے کے ارادے سے وہ دہلی سے نکلا۔ آگرہ دہلی سے 15 منزل کے فاصلے پر ہے۔ اپنے خدم وحشم اور لائو لشکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ پہلا پڑائو پہلی منزل پر ڈالا۔ ایک بستی بس گئی دربار آراستہ ہوا۔ امراء اپنی مسندوں پر بیٹھ گئے۔ نواب عصر کے بعد اپنی کرسی پر بیٹھا دربار کی کاروائی شروع ہوئی کہ اچانک ایک فقیر سامنے دروازے پر نمو دار ہوا اور اس نے ترنم سے ایک شعر پڑھا۔
منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت
نواب نے یہ پھڑکتا ہوا شعر سنا چونکہ حسب حال اور فرحت بخش تھا خوش ہو کر ایک لاکھ روپیہ دینے کا حکم دیا۔ دوسرے دن روانگی ہوئی پندرہ میل چل کر دوسری منزل پر پڑائو ڈالا۔ دربار آراستہ ہوا شام کو نواب اپنی مسند پر فروکش ہوا۔ وہی کل والا فقیر پھر آیا اور اس نے دروازے پر کھڑے ہو کر وہی شعر پڑھا۔ نواب نے پھر خو ش ہو کر ایک لاکھ انعام دینے کا حکم دیا وہ فقیر اسی طرح چند منزلوں تک آتا رہا اور ہر دفعہ شعر سنا کر ایک لاکھ روپیہ حاصل کرتا رہا آخر اس کو خود ہی خیال آیا کہ آج تک کسی نواب نے کسی فقیر کو اتنا بڑا انعام نہیں دیا ایسا نہ ہو کہ میرے روز روز کے جانے سے نواب چڑ جائے اور پہلا عطا کیا ہوا بھی چھین لینے کا حکم دے دے۔ چناچہ یہ سوچ کر آنا موقوف کردیا۔ نواب حسب معمول عصر کے بعد اپنی مسند پر تشریف فرما ہوا۔ معمول سے دیر تک بیٹھا اور فقیر کا انتظار کرتا رہا۔ جب شام گہری ہونے لگی تو کہا آج ہمارا فقیر نہیں آیا۔ کم ظرف نکلا اس نے یہ سمجھا آج تک اتنا بڑا انعام کسی نے نہیں دیا ممکن ہے نواب ناراض ہو کردیا ہوا بھی چھین لے۔ حالانکہ ہم نے پہلے ہی دن اپنے خزانچی کو حکم دے دیا تھا کہ دہلی سے آگرہ پندرہ منزل ہے پندرہ لاکھ روپیہ اس فقیر کے لیے الگ نکال کر رکھ دو ۔
اندازہ کیجیے کہ وہ عطیہ اور انعام جو فقیر کے نزدیک غیر معمولی تھا اور جس کے چھن جانے کا اندیشہ اسے پیدا ہوگیا تھا وہ ہی انعام نواب کی نگاہ میں کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ حالانکہ نواب اور فقیر دو نوں انسان ہیں۔ لیکن دونوں میں حیثیتوں کا اتنا فرق ہے ایک جس چیزکو غیر معمولی سمجھتا ہے دوسرا اس کو معمولی سمجھتا ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان تو خالق اور مخلوق کا فرق ہے۔ چناچہ جس چیزکو خالق احسن اور بہترین قراردیتا ہے۔ مخلوق اپنے علم و عقل کے تمام پیمانوں کے باوجود اس کا کیا اندازہ کرسکتی ہے۔