9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsروح القرآن

Ayahs 9:7–9

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

کیسے رہ سکتا ہے مشرکین سے کوئی معاہدہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ ہاں ! جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی قائم رہو، بیشک اللہ ایفائے عہد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کس طرح مشرکین سے معاہدہ رہ سکتا ہے اس حال میں کہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو نہ لحاظ کریں کسی قرابت کا نہ عہد کا وہ خوش کرتے ہیں تمہیں اپنی باتوں سے اور ان کے دل انکار کررہے ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت بدعہد اور بدقماش ہے۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انھوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کرلی اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے، بیشک بہت برا ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں۔

کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ج فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلاَ ذِمَّۃً ط یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ وَتَاْبٰی قُلُوْبُھُمْ ج وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ ج ( التوبۃ : 7، 8) (کیسے رہ سکتا ہے مشرکین سے کوئی معاہدہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ ہاں ! جن سے تم نے مسجدِحرام کے پاس معاہدہ کیا تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی قائم رہو، بیشک اللہ ایفائے عہد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کس طرح مشرکین سے معاہدہ رہ سکتا ہے اس حال میں کہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو نہ لحاظ کریں کسی قرابت کانہ عہد کا وہ خوش کرتے ہیں تمہیں اپنی باتوں سے اور ان کے دل انکار کررہے ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت بد عہد اور بدقماش ہے۔ ) یہ دونوں آیتیں مضمون کے اعتبار سے ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلی آیت میں جو بات شروع کی گئی ہے اسے دوسری آیت میں مکمل فرمایا گیا ہے اور پہلی آیت میں اِلَّاکے بعد جملہ معترضہ لایا گیا ہے۔ اس کا تعلق اگرچہ دونوں آیتوں میں بیان کردہ بات سے ہے لیکن وہ ایک حد تک الگ بھی ہے۔ اس کو ذکر کیے بغیر چونکہ یہ بات مکمل نہیں ہوسکتی تھی اس لیے بات روک کر اس کو ذکر فرمایا گیا اور پھر اصل بات کو مکمل کیا گیا ہے۔ دفعِ دخلِ مقدر ان دونوں آیتوں میں ایک ایسے اشکال یا سوال کا جواب دیا جارہا ہے جو ممکن ہے زبانوں تک بھی آیا ہو دلوں میں تو بہت سے لوگوں کے مچل رہا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اسلام تو عہد کی پاسداری کی بےحد تاکید کرتا ہے اسی لیے آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ مشرکین سے معاہدوں کی پابندی فرمائی اور مزید یہ کہ اسلام دراصل ایک دعوت فکر ہے وہ بنیادی طور پر دلوں میں انقلاب برپا کرتا ہے، اس کے نتیجے میں خودبخود باہر بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ یکایک کیا تبدیلی آئی ہے کہ تمام معاہدوں کو توڑنے کا اعلان کردیا گیا ہے اور مشرکین کو دعوت دینے کی بجائے ان سے بےزاری کا اظہار کیا جارہا ہے اور قوت اور طاقت سے جو لوگ اسلام کی آغوش میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں، انھیں ختم کیا جارہا ہے۔ اس کے جواب میں ایک بات تو وہ جو دونوں آیتوں میں فرمائی گئی ہے اور دوسری بات وہ ہے جسے جملہ معترضہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جملہ معترضہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو اسلام نے معاہدات کے ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے حالانکہ اسلام نے ان معاہدات کو ختم کرنے اور ان لوگوں سے ترک تعلق کا اعلان کیا ہے جو باربار نقض عہد کا ارتکاب کرتے رہے۔ وہ معاہدہ، ایفائے عہد کے جذبے سے نہیں کرتے تھے بلکہ محض وقت گزاری یا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے۔ اب چونکہ اسلامی انقلاب اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے، تو ان لوگوں سے معاہدات باقی رکھناجو جانتے ہی نہیں وفا کیا ہے، ضیاعِ وقت کے سوا اور کچھ نہیں۔ البتہ ! وہ لوگ جنھوں نے ابھی تک معاہدے نہیں توڑے اور انھوں نے دشمن سے کبھی ساز باز نہیں کی، ان کے بارے میں صاف حکم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں سے تم نے مسجدِحرام کے پاس معاہدہ کیا تھا اور انھوں نے ابھی تک اسے توڑا نہیں تم بھی ان معاہدوں کی پابندی کرو۔ جب تک وہ قائم رہیں تم بھی قائم رہو۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس سے مراد معاہدہ حدیبیہ ہے جو چھ (6) ہجری میں مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان ہوا اور یہ آیت معلوم ہوتی ہے اسی زمانے میں نازل ہوئی تھی اور مضمون کی مناسبت سے اسے ان آیات میں شامل کردیا گیا ہے۔ بعض دوسرے اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ آیات کی ہے اور اس سے مراد وہ معاہدہ ہے جو بنی کنانہ اور بنی خزاعہ اور بنی ضمرہ اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور یہ معاہدہ ابھی تک چل رہا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ ختم ہوجانے کے بعد تو مکہ فتح ہوگیا لیکن ان قبائل کے ساتھ یہ معاہدات باقی رہے۔ یہاں انھیں معاہدات کی پابندی کو باقی رکھنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ حکم کو مؤکد کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نقضِ عہد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور اللہ کے پسند نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انھیں سزا دیتا ہے اور ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ تقویٰ کا لفظ جس طرح حقوق و فرائض کی پاسداری کے لیے بولا جاتا ہے، اسی طرح نقض عہد سے بچنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ مشرکوں سے معاہدے توڑنے کا اعلان کیوں کیا گیا ہے تو اس کی وجہ دو (2) ہیں۔ معاہدہ توڑنے کی دو وجہ پہلی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا کوئی رسول جب بھی انسانوں کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا جاتا ہے تو وہ اس وقت تک تبلیغ و دعوت سے کام لیتا ہے تاآنکہ یا تو لوگ مسلمان ہوجائیں اور یا ان پر اتمامِ حجت ہوجائے۔ ان کے انکار کی صورت میں اور اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور کافروں پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سالہاسال تک تبلیغ و دعوت کا کام کیا۔ تمام ممکن ذرائع بروئے کار لائے۔ اللہ نے برکت عطا فرمائی اور آپ کے لیے کامیابی کے راستے کھلتے گئے۔ بالآخر جزیرہ عرب میں ایک وقت آیا کہ مکمل اسلامی غلبے کا امکان پیدا ہوگیا۔ عرب کی اکثریت پر اتمامِ حجت ہوگیا اور اگر کہیں اس کا امکان باقی رہا کہ شاید ان تک دعوت نہ پہنچی ہو یا اسے وہ سمجھ نہ پائے ہوں تو انھیں چار مہینے کی مہلت دی گئی اور جن سے ابھی معاہدے باقی تھے انھیں مدت معاہدہ تک آسانیاں دی گئیں۔ ایسی صورتحال میں چار مہینے مدت گزرنے کے بعد مزید مہلت دینا یا معاہدات کرنے کی کوشش کرنا بلاوجہ اسلامی انقلاب اور غلبہ دین میں تاخیر کرنے کے مترادف ہوتاجب کہ مقصود غلبہ دین کے سوا کچھ نہیں اور جس سے اس مقصد کی بجاآوری میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو ظاہر ہے کہ اس کے باقی رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرکین کا اپنا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کیا ہے۔ باوجود اس کے کہ مسلمان کوئی باہر سے آئی ہوئی قوم نہیں بلکہ اسی سرزمین پر رہنے والے اور انھیں بستیوں کے باسی ہیں۔ مشرکین سے ان کی خاندانی نسبتیں اور قرابت کے رشتے ہیں۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور مہاجرین کی اکثریت تو قریش کے قبیلے سے وابستہ ہے اور جن کے ساتھ رشتہ قرابت نہیں ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی سیاسی رشتہ ہے جو معاہدات کی صورت میں پیدا ہوا ہے اور یہ بات جانی پہچانی ہے کہ دنیا میں رشتے دو ہی قسم کے ہیں ایک تو وہ رشتہ جو رحمی قرابت سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے ننھیال اور ددھیال وجود میں آتے ہیں اور دوسرا وہ رشتہ جو سیاسی معاہدوں کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مشرکینِ عرب کے دونوں رشتے مسلمانوں سے قائم تھے۔ اس آیت کریمہ میں قرابت کے رشتے کو اِلًّا سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے رشتے کو ذِمَّۃًسے یاد کیا گیا ہے۔ مشرکین نے اسلام دشمنی میں ان دونوں رشتوں کو ہمیشہ پامال کیا۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ مشرکین سے کس طرح معاہدات کیے جاسکتے ہیں یا کس طرح انھیں باقی رکھا جاسکتا ہے ؟ جبکہ انھوں نے ان دونوں رشتوں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ جب بھی ان کو موقع ملا ہے انھوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا دوسرے ہی سال جس طرح اس کے پرزے اڑائے گئے تاریخ کا ہر طالبعلم اسے جانتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے بنوخزاعہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے۔ رات کی تاریکی میں بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور قریش کے نوجوانوں نے نقاب پہن کر ان کا ساتھ دیا اور انھیں اس حملے کے لیے ہتھیار مہیاکیے۔ بنو خزاعہ جان بچانے کے لیے حرم میں گھسے انھیں وہاں بھی زندہ نہ چھوڑا گیا اور جہاں تک قرابت کے رشتوں کا سوال ہے سیرت کا طالبعلم شعب ابی طالب کو کیسے بھول سکتا ہے جس میں مسلمان محض اپنی جان بچانے کے لیے محصور ہوئے۔ تین سال تک حج کے دنوں کے علاوہ کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ باہر سے آئے ہوئے کسی قافلہ تجارت سے اگر مسلمان غلہ خریدنے کی کوشش کرتے توقریش ہر قبیلے پر پابندی لگادیتے کہ آپ مسلمانوں کو کوئی چیز بیچنے کے مجاز نہیں ہیں اور اگر آپ کو یہ خیال ہو کہ یہ چیز بکے بغیر رہ جائے گی تو ہم اسے خریدنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان دنوں درختوں کے پتے اور ٹہنیاں کھائیں۔ کوئی چمڑہ انھیں مل جاتا اسے توے پر بھون کر کھاجاتے۔ بچوں کے رونے کی آوازیں انھیں باہر سنائی دیتیں لیکن ان ظالموں کے دل کبھی نہ پسیجتے۔ ایسے لوگوں سے معاملات کے باقی رکھنے کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔ اسلام اب چونکہ ایک غالب قوت ہے اور اب اسے پہلی فرصت میں جزیرہ عرب کو مکمل طور پر مرکز اسلام میں تبدیل کرنا ہے۔ اس لیے یہ بات از بس ضروری ہے کہ راستے کے ان کانٹوں سے دامن چھڑا کر منزل کی طرف بڑھاجائے اور ان کی سخن سازیوں کی حقیقت سمجھ کر ان کے قلبی ارادوں اور نیتوں کے فسادات کو جان کر اور یکسو ہوکرآخری اقدام کرڈالا جائے اور اس بات کا ادراک کرلیا جائے کہ ان کی قطعی اکثریت وعدہ خلاف اور سیرت و کردار سے تہی دامن لوگوں پر مشتمل ہے۔ فاسق قرآن کریم کی زبان میں ایسے ہی لوگوں کو کہا جاتا ہے جو ہر شرافت کو چھوڑ چکے اور ہر سچائی سے منہ موڑ چکے ہوں۔ اور حدود الہٰی سے تجاوز کرنے میں انھیں کوئی باک نہ ہو۔ اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖطاِنَّھُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (التوبۃ : 9) (انھوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کرلی اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے، بیشک بہت برا ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں۔ ) متذکرہ خرابیوں کا سبب متذکرہ بالا خرابیاں ان کے اندر اس لیے راہ پاگئی ہیں اور اب وہ مستقل طور پر ان کے اخلاق کا حصہ ہیں کیونکہ انھوں نے دین کے بدلے میں دنیا کو اپنا محبوب اور مقصود بنالیا ہے اللہ کے رسول ان کی طرف زندگی بخش پیغام لے کر آئے لیکن یہ اس پر کان دھرنے کی بجائے زندگی کے نفع و نقصان کے خیالات میں کھوئے رہے۔ وہ دنیا اور دنیوی دولت کو ایک حقیقت سمجھتے ہیں اور اس کے مقابلے میں ہر معنوی، روحانی اور اخروی قدروعظمت کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں۔ انھیں چونکہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا یقین نہیں اور کسی جواب دہی کا اندیشہ نہیں اس لیے ان کے نفس کے تقاضے ایسے بےلگام ہوگئے ہیں کہ وہ ان سے دنیا اور دولت دنیا کے حصول کے لیے ہر غلط سے غلط اور ہر برے سے برا کام کرانے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک وحی الہٰی محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ دنیا ان کے نزدیک ایک نیلام گھر ہے جس میں ہر چیز پیسے سے خریدی جاسکتی ہے۔ وہ اللہ کی آیات کو بھی خریدوفروخت کی چیز سمجھتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں ان کے ان تصورات نے ان کی سوچ کو اس نہج پر ڈال دیا ہے کہ ان کا کوئی قدم اللہ کے راستے کی طرف اٹھنے کے لیے تیار نہیں بہت برا ہے وہ رویہ جس کو یہ اختیار کرچکے ہیں۔ اس رویے سے کسی خیر کی امید رکھنا خودفریبی ہے ایسے لوگوں کے ساتھ ہر سوچنے والا آدمی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اللہ اور رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔
Ayahs 9:10–11

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

وہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں کسی قرابت کا اور نہ کسی عہد کا، یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل بیان کررہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔

لَایَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّاوَّلَاذِمَّۃً ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمَ الْمُعْتَدُوْنَ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ( التوبۃ : 10، 11) (وہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں کسی قرابت کا اور نہ کسی عہد کا، یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔ پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل بیان کررہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ ) انفرادی زندگی میں بھی مسلمان دشمنی گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی اجتماعی زندگی کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ ان کی اجتماعی سوچ مسلمانوں کے خلاف ہے اور اجتماعی سوچ میں وہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ انفرادی زندگی میں بھی ان کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو ان سے کیسی ہی قرابت کیوں نہ رکھتاہو اور اس کے ساتھ چاہے کتنے ہی معاہدات ہوں اگر وہ صاحب ایمان ہے تو محض ایمان لانے کے جرم میں یہ نہ تو اس کی قرابت کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ اس سے معاہدے کا پاس کرتے ہیں ان کے نزدیک اگر کوئی جرم ناقابلِ معافی ہے تو وہ ایمان لانا ہے۔ ایمان لانے والاان کا چاہے بیٹا کیوں نہ ہو محبت اور شفقت کے تمام جذبات اس کے لیے ممنوع قرار پاتے ہیں۔ جب حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جارہا تھا اور یہ شق بھی لکھی جاچکی تھی کہ جو شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا مسلمان اسے واپس کافروں میں مکہ معظمہ بھیجنے کے پابند ہوں گے لیکن اگر مدینہ سے کوئی شخص مرتد ہو کر مکہ معظمہ آجائے تو قریش اسے بھیجنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ یہ سراسر یک طرفہ فیصلہ تھا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اسے بھی قبول فرمالیا۔ عین اس وقت قریش کا سفیرسہیل ابن عمرو کا بیٹا ابوجندل بیڑیاں کھنکھناتا ہوا افتاں وخیزاں مسلمانوں کے پاس پہنچ گیا اور مسلمانوں کو اپنے زخم دکھائے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اس پر بہت تشدد کیا گیا ہے۔ سہیل نے کہا کہ ہم فیصلہ کرچکے ہیں کہ آپ کسی مسلمان کو پناہ نہیں دیں گے اس لیے یہ میرا بیٹا اگرچہ مسلمان ہوچکا ہے لیکن آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابھی معاہدہ پورا نہیں ہوا۔ اس لیے ابھی اس کی پابندی لازم نہیں۔ سہیل نے کہا اگر آپ اس کی پابندی قبول نہیں کرتے تو معاہدہ پھاڑدیتا ہوں۔ حضور نے یہاں تک فرمایا کہ میں ذاتی طور پر اس لڑکے کے لیے تم سے درخواست کرتا ہوں۔ وہ کسی طرح نہیں ماناحتی کہ اسے مارتا پیٹتا اپنے ساتھ واپس لے گیا۔ ابوجندل اس کے بیٹے تھے جو ہر طرح سے باپ کی شفقت کے مستحق تھے۔ لیکن وہ ایمان لانے کا جرم کرچکے تھے اس لیے کفر کی نگاہ میں ان کے تمام رشتے کٹ چکے تھے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار یہی بات فرما رہے ہیں کہ انھیں مسلمانوں کے ایک ایک فرد سے ایسی دشمنی ہے کہ جس نے انھیں بالکل اندھا کردیا ہے، باپ کو باپ ہونا یاد نہیں اور بیٹے کو بیٹا ہونا۔ انھوں نے اپنے رویے سے ثابت کردیا ہے کہ وہ انسانیت کی ہر حد کو پھلانگ چکے ہیں۔ اعتراض کرنے والے بتائیں کہ جن لوگوں کا تاریخی پس منظر یہ ہو جن کا ذہنی سانچہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام دشمنی میں ڈھل چکاہو جنھیں انسانیت کی ایک ایک قدر سے دشمنی ہو ان سے معاہدے کرنا چہ معنی دارد ؟ دشمنی کے باوجود اللہ کی رحمت کا فیضان اس کے باوجود اللہ کی رحمت کی آغوش اسقدر وسیع ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے بالآخر اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اگر یہ دین کسی انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو اس میں رحمت و محبت کی یہ برکھا کبھی برستی دکھائی نہ دیتی۔ اس میں جذبات کا یہ توازن کبھی ممکن نہ ہوتا۔ جس کا اظہار اگلی آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ اپنی ساری اسلام دشمنی اور عقربی فطرت کے باوجود اگر یہ لوگ توبہ کرلیں۔ توبہ کا معنی ہوتا ہے لوٹنا یعنی یہ کفر سے اسلام کی طرف لوٹ آئیں اسلام انسان کا اپناگھر ہے اور باقی تمام ازم اور راستے اس کے بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے جب کوئی شخص بگاڑ کے ان راستوں سے پلٹ کر اسلام کی طرف آتا ہے تو یوں سمجھئے کہ وہ اپنے گھر اور اپنی ماں کی آغوش میں آجاتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر وہ لوٹ آئیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ یہاں رک کر ذرا غور فرمائیے دنیا میں اللہ کے اولوالعزم رسولوں کے سوا شاید آپ کو کہیں اور یہ مثال نہ مل سکے کہ کسی نے اپنے خون کے پیاسوں، جان کے دشمنوں، اپنے پیاروں کے قاتلوں اور برسہا برس تک اذیت پہنچانے والوں کو صرف ایک کلمہ بولنے کی وجہ سے اس طرح اپنی آغوش میں لیاہو کہ برسوں سے اس راستے پر چلنے والے قربانیاں دینے والے، زندگیاں کھپانے والے اور ہر طرح کا دکھ اٹھانے والے جس قدرومنزلت اور سلوک کے مستحق ہیں آنیوالے کو بھی اسی سلوک کا مستحق سمجھا جائے۔ جو حقوق ومراعات حضرت ابوبکر اور عمر ( رض) کو اسلامی مملکت میں حاصل ہیں وہی حقوق ومراعات اس کو میسر آجائیں۔ اس کی عبادات اسی طرح قبول کی جائیں۔ معاشرتی زندگی میں اس کو وہی احترام ملے۔ معاشی راستے اس کے لیے بھی ویسے ہی کھلے ہوں یہ بھی اگر شہادت کے خلعت فاخرہ سے نوازا جائے تو جنت کے راستے اس کے لیے بھی کھل جائیں۔ خونی رشتے اس کے سامنے ماند پڑجائیں۔ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) جنگ بدر کے قیدیوں کو دیکھنے کے لیے نکلے تو آپ نے دیکھا کہ ایک گھر میں ایک انصاری جن قیدیوں کو باندھ رہا ہے ان میں ان کا بھائی بھی ہے آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ انصاری بھائی اس کو کس کر باندھنا تاکہ یہ بھاگ نہ جائے۔ بھائی نے یہ بات سنی تو آنکھوں میں آنسو آگئے رو کر کہا کہ مصعب ! مجھے یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ تمہارا خون اس قدر سفید ہوگیا ہے۔ تم بجائے میری سفارش کرنے کے مجھے کس کر باندھنے کی ترغیب دے رہے ہو۔ حضرت مصعب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ تم میرے بھائی نہیں ہو، میرا بھائی وہ ہے جو تمہیں باندھ رہا ہے۔ یہ وہ اسلامی اخوت ہے جو خونی رشتوں پر غالب آجاتی ہے۔ یہی وہ اخوت ہے جس کی یہاں ترغیب دی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے اگرچہ اکیس (21) سال تک تم پر خوفناک مظالم توڑے ہیں دیکھنا انھیں دیکھ کر تمہارے زخم سلگنے نہ لگیں۔ تم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرو، یہ اپنی منزل سے بچھڑے ہوئے لوگ ہیں جو اب پلٹ آئے ہیں تو تمہاری توجہ اور محبت کے مستحق ہیں۔ اللہ کے اسی حکم کا نتیجہ تھا کہ جن کے جرائم بظاہر ناقابلِ معافی تھے انھیں بھی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں نے نہ صرف قبول کیا بلکہ ہر طرح کے حصول مراتب کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے۔ حضرت وحشی ( رض) جو حضرت حمزہ ( رض) کے قاتل ہیں۔ ان کے جرم کی شدت کو کون بھول سکتا تھا۔ لیکن انھیں بھی معاف کردیا گیا۔ ہند جس نے حضرت حمزہ ( رض) کی نعش مبارک کو مثلہ کیا، آپ کا بند بند کاٹا وہ ایمان قبول کرنے کے لیے حاضر ہوئیں آپ نے پوچھنا بھی پسند نہ فرمایا۔ ابوسفیان جو باربار لشکر کشی کرتے رہے ان کا نہ صرف ایمان قبول کیا گیا بلکہ انھیں عزت بھی بخشی گئی۔ اسلامی ریاست میں کبھی کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو یہ طعنہ نہیں دیا تھا کہ تم تو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ کے یہاں مقام و مرتبہ میں بعد میں ایمان لانے والے سابقین کے برابر نہیں ہوسکتے۔ لیکن دنیا میں حقوق ومراعات کے لحاظ سے اسلام نے کسی فرق کی گنجائش نہیں رکھی۔ اسلام سے وفاداری کے لیے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی یہ بھی یاد رہے کہ اخوت دینی میں شامل ہونے کے لیے صرف توبہ کافی نہیں تمام فرائض کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اظہارِ وفاداری کے لیے سب سے پہلے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی ضروری ٹھہرائی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز، نماز کا وقت آتے ہی فرض ہوجاتی ہے۔ آدمی کسی وقت بھی اسلام قبول کرے سب سے پہلے نماز ہی کے فرض سے اس کا واسطہ پڑے گا اور مزید یہ بات بھی کہ اسلام کی بنیاد اللہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کے سامنے جھکنے پر ہے اور اسلامی زندگی کی پہچان اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت میں ہے۔ نماز میں ان دونوں باتوں کی طرف سب سے زیادہ توجہ دلائی جاتی ہے۔ آدمی کا ایک ایک عمل ان دونوں باتوں کا عکاس بن جاتا ہے۔ زکوٰۃ مالی معاملات کی پاکیزگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اسی سے حقوق العباد کے شعور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس میں انسانوں کے درمیان طبقات کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے اور لوگوں کے ساتھ رحم ومروت کے جذبات کو جلا ملتی ہے۔ اس لیے ان دونوں کی پابندی کو اسلام کی قبولیت کے لیے شرط قرار دیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف قتال پر لوگوں کو مطمئن کیا تھا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم اللہ کی آیات کو اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو اور وہ احکامِ خداوندی کو آسانی سے سمجھ سکیں لیکن اس کا فائدہ ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو علم رکھتے ہیں یا علم کا شوق رکھتے ہیں
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اگر یہ توڑ دیں اپنے قول وقرار کو عہد کرچکنے کے بعد اور تمہارے دین کے بارے میں طعن کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے لڑو ان کے کسی قول وقرار کا کوئی وزن نہیں تاکہ یہ اپنی حرکتوں سے رک جائیں۔

وَاِنْ نَّکَثُوْ ٓااَیْمَانَھُمْ مِنْم بَعْدِعَھْدِھِمْ وَطَعَنُوْافِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِلااِنَّھُمْ لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ (التوبۃ : 12) (اگر یہ توڑ دیں اپنے قول وقرار کو عہد کرچکنے کے بعد اور تمہارے دین کے بارے میں طعن کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے لڑو ان کے کسی قول وقرار کا کوئی وزن نہیں تاکہ یہ اپنی حرکتوں سے رک جائیں۔ ) آیت کے دو مصداق اور قتال کا حکم اہلِ علم کی ایک رائے کے مطابق یہ آیت کریمہ پچھلی آیت کا تسلسل ہے۔ جیسا میں عرض کرچکا ہوں ان کے خیال میں مسجد حرام کے پاس جس معاہدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ معاہدہ حدیبیہ ہے اور اس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ جب تک قریش اس پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر وہ اس معاہدے کو توڑ دیں یہ گویا ایک طرح سے پیش گوئی ہے کہ وہ عنقریب معاہدہ توڑ دیں گے کیونکہ ان کے عہد و پیمان اور قسموں کا کوئی اعتبار نہیں اور مسلمانوں کے دین میں نیش زنی کرنے لگیں اور اسلام کا راستہ روکنے کے لیے اپنے معمول کے مطابق کارروائیاں شروع کردیں تو پھر تم بھی ان آئمہ کفر سے لڑو۔ قریش چونکہ پورے عرب کے قائد تھے سیاسی اور مذہبی طور پر پورے عرب میں ان کا احترام تھا اور لوگ ہمیشہ ان کی قیادت کو قبول کرتے تھے۔ اس لیے انھیں آئمہ کفر کہا گیا۔ مقصود یہ ہے کہ تم قریش سے لڑوجنگ ہی ایک ایسی چیز ہے جو انھیں اپنے مذموم ارادوں سے روک سکتی ہے کیونکہ یہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ نصیحت سے انھیں نفرت ہے اور عقل سے دشمنی ہے۔ بھیڑیئے کی طرح شیر کا فولادی پنجہ ہی ان کو اپنے مظالم اور بری حرکتوں سے رکنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ سورت کے آغاز سے مسلسل ایک ہی سلسلہ مضمون چل رہا ہے۔ مکہ فتح ہوچکا ہے، عرب کی بیشتر قوتیں سرنگوں ہوچکی ہیں۔ البتہ ابھی تک جزیرہ عرب میں ایسی مخفی قوتیں باقی ہیں جنھوں نے نفاق کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے یا مرکز اسلام سے دور ہونے کی وجہ سے وہ اسلام دشمن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ عرب کے بیشتر لوگ اگرچہ اسلام کی آغوش میں آچکے ہیں لیکن ان نئے ایمان لانے والوں میں ابھی تک وہ صلابتِ فکر اور ہر طرح کے حالات میں ایمانی استقامت پیدا نہیں ہوئی اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ابھی تک جاہلیتِ قدیمہ کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ انھیں جیسے ہی کسی طرف سے امید کی کوئی کرن دکھائی دی تو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔ اس لیے آئندہ جس طرح کے حالات پیش آسکتے ہیں ان کے خلاف پیشگی تیاری کے طور پر یہ حکم دیا جارہا ہے کہ اگرچہ بیشتر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ہے لیکن اس سے یہ اطمینان نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے۔ یہ کسی وقت بھی اپنے قول وقرار سے پھر سکتے ہیں۔ ان میں ایسے ایسے آئمہ کفر موجود ہیں جو صرف مناسب حالات کے انتظار میں ہیں۔ مدینہ کے منافقین کے ابو عامر راہب کے واسطے سے قیصر سے بھی روابط ہیں۔ ان میں سے بعض سرحدی حکمرانوں سے امیدیں باندھ چکے ہیں۔ مسلمانوں کو صورت حالات کی سنگینی کو سمجھ کر ہر وقت حالات کا مقابلہ کے لیے تیار رہنا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کفر کی طاقتیں جو صدیوں سے عرب میں پائوں جمائے بیٹھی تھیں وہ آسانی سے مسلمانوں کو پائوں جمانے نہیں دیں گی۔ ان کے دماغوں سے اس طرح کے خناس نکالنے کے لیے مسلمانوں کی فوجی تیاری ہی کافی ہوسکتی ہے۔ وہ اس وقت تک اپنے ترکش کا ہر تیر آزمانے کی کوشش کریں گے جب تک انھیں یقین نہیں ہوجاتا کہ اب مسلمانوں سے ٹکرانا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرنے کے لیے کفار عرب بالخصوص قریش مکہ کی قریبی تاریخ سے استشہاد کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنی تیاریوں میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔
Ayahs 9:13–15

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جنھوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

تم ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے انھیں سزا دے گا اور ان کو رسوا کرے گا تم کو ان پر غلبہ دے گا اور اہل ایمان کے ایک گروہ کے سینوں کو شفا دے گا۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور دور کردے گا ان کے دلوں کے غیض و غضب کو اور توبہ کی توفیق دے گا جن کو چاہے گا اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

ارشاد فرمایا : اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓ ااَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَئُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط اَتَخْشَوْنَھُمْ ج فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِیْنَ قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْطوَیَتُوْبُ اللّٰہَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ : 13 تا 15) (کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ چھیڑ نے میں پہل کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو۔ تم ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے انھیں سزا دے گا اور ان کو رسو اکرے گا تم کو ان پر غلبہ دے گا اور اہل ایمان کے ایک گروہ کے سینوں کو شفا دے گا۔ اور دور کردے گا ان کے دلوں کے غیض وغضب کو اور توبہ کی توفیق دے گا جن کو چاہے گا اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ ) مسلمانوں کو براہ راست قتال کا حکم اب براہ راست مسلمانوں سے خطاب کیا جارہا ہے اور حالات کے رخ کا تعین کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے۔ یوں سمجھئے کہ عرب کی مخفی قوتوں نے ایمان قبول کرکے جو عہد و پیمان کا راستہ اختیار کیا تھا اسے چھوڑ دیا ہے۔ منافقین نے اپنے نفاق کا گھونگھٹ الٹ دیا ہے۔ وہ دبے دبے طریقے سے مسلمانوں کے لیے کھائیاں کھود رہے ہیں تاکہ اسلامی انقلاب آگے نہ بڑھنے پائے۔ حالات کی سطح پر اگرچہ سکون نظر آتا تھا لیکن اس کی تہہ میں سازشوں کے جو بھنور اٹھ رہے تھے انھیں خطرناک صورت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ مسلمانوں کو ہر آنے والے خطرے سے ٹکرانے کے لیے پوری طرح تیار کرلیاجائے۔ آندھی چلنے کے بعد شیرازے کو باندھنا بعض دفعہ ممکن نہیں رہتالیکن جن کی نگاہیں شفق کے بدلتے ہوئے رنگوں کو پہچانتی ہیں وہ آندھی اٹھنے سے پہلے شیرازہ بندی کرلیتے ہیں۔ حالات کے تیور سمجھنے کے لیے چند باتوں کا جان لیناشاید کفایت کرے گا۔ 1 سورة توبہ کی ابتدائی آیات کے ذریعے تمام مشرک قبائل کو بیک وقت معاہدات کی منسوخی کا چیلنج دے دیا گیا۔ رسومِ جاہلیت یکسر بند کردیئے گئے مشرکین کو اپنی عقیدتوں کے مرکز خانہ کعبہ کے قریب آنے سے سختی سے منع کردیا گیا۔ اس طرح سے ان کے حج پر پابندی لگادی گئی۔ یہ وہ اقدامات تھے جس نے مشرکینِ عرب کو تو مشتعل کرنا ہی تھا نئے ایمان لانے والے بھی اس کی ضرب کو محسوس کررہے تھے۔ 2 مشرکین کے لیے حج پر پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی مذہبی رسم بجا نہیں لاسکیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ ان کی معاشی حیثیت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا کیونکہ ان کی معاشی استواری کا بہت حد تک انحصار حج کے دنوں میں آمدورفت کی آزادی اور وہاں تجارتی منڈیوں اور بازاروں کا انعقاد تھا جس سے وہ اپنی سال بھر کی ضرورتوں کا سامان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ 3 مشرکینِ عرب سے براءت کے اعلان کا مطلب یہ تھا کہ یا تو وہ اسلام قبول کریں ورنہ قتل کے لیے تیار ہوجائیں یا ملک چھوڑ دیں۔ مشکل یہ تھی کہ جو لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ ان کی قرابت داریاں اور تعلقات مشرکین کے ساتھ قائم تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے مفادات قدیم نظام جاہلی کے مناصب سے وابستہ تھے۔ براءت کے اس اعلان نے انھیں ایک امتحان میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ جزیرہ عرب کو ہر مشرک اور کافر سے خالی کردینا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اگر تصادم کی نوبت آگئی تو نئے مسلمانوں کو بھی اپنے عزیزوں اور قرابتداروں سے لڑائی لڑنا پڑے گی۔ یہ ایک ایسا سخت امتحان تھا جس نے نئے مسلمان ہونے والوں کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان تین نکات پر غور کرکے دیکھ لیجئے حالات کا جو نقشہ ان سے ابھرتا ہے اس میں مسلمانوں کے لیے خطرات ہی خطرات ہیں۔ پروردگار ان خطرات سے ہراساں ہونے کی بجائے مسلمانوں کو ان پر غالب آجانے کی تلقین کررہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح کے حالات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا اس طرح کے حالات پیش نہیں آئے اور مسلمانوں کو پورے جزیرہ عرب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کسی بڑی آویزش سے گزرنا نہیں پڑا۔ لیکن جو بھی حقیقت کی نگاہ رکھتا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ ان حالات کے پیدا نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا امکان نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی بروقت تیاری اور ان کے بےپناہ جذبہ ایثار وسرفروشی نے ہر اٹھنے والی طاقت کا اٹھنے سے پہلے سراسیمہ کردیا اور انھوں نے پہلے سے اپنے انجام کا اندازہ کرلیا اور اگر مسلمان بروقت تیاری نہ کرتے اور اللہ تعالیٰ انھیں آنے والے خطرات سے عہدہ برآ ہونے کا حکم نہ دیتے تو فتنہ ارتداد کا جو طوفان ڈیڑھ سال بعد حضرت صدیق اکبر ص کی خلافت میں اٹھا اور جس نے پوری اسلامی ریاست کو ہلاکر رکھ دیا وہ طوفان اس سے پہلے بھی اٹھ سکتا تھا اور ڈیڑھ سال بعد اٹھنے والے طوفان پر بھی مسلمانوں نے اس لیے قابو پالیا کہ وہ پہلے سے اس کے لیے تیار تھے۔ ان آیات میں مسلمانوں کو جس طرح تمام خطرات سے ٹکرانے کا حکم دیا گیا ہے اس میں ان کے لیے جذبات کی ایسی کمک بھی پہنچائی گئی ہے جس میں بیک وقت عقل اور جذبہ گندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ تم ان لوگوں سے کیسے نہیں لڑو گے جن کے نزدیک ایمان کے عہد و پیمان کی کوئی قیمت نہیں۔ جن کی مجرمانہ تاریخ کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے شہر سے نکلنے پر مجبور کیا اور اس کے لیے تمام اقدامات کیے اور یہ اتنا بڑا جرم تھا جس کے نتیجے میں اس خطے پر عذاب آسکتا تھا کیونکہ رسول کے ہجرت کرجانے کے بعد اس کی امت دعوت غیر محفوظ ہوجاتی ہے اور مستقلاً عذاب کی زد میں رہتی ہے۔ پھر ہجرت کے بعد بھی انھوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا بلکہ لڑائی کی ابتدا ان کی طرف سے ہوئی۔ اب جبکہ اسلامی انقلاب ثمر آور ہونے کو ہے اور اسلامی دعوت برگ وبار پیدا کررہی ہے اور کامیابیاں راہ دیکھ رہی ہیں تو تم کفر کی قوتوں سے ڈروگے۔ معلوم ہوتا ہے یہ خطاب منافقین سے ہے یا نئے نئے مسلمانوں سے ہے کہ تمہیں ڈرنا ہے تو صرف اللہ سے ڈرو۔ مسلمان اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ تم جب اس کے بھروسے پر آگے بڑھو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے ہاتھوں سے کافروں کو سزادے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور مسلمانوں میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو آج تک ان کے زخم سہلا رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے سینوں میں فتح ونصرت اور بشارت کی ٹھنڈک عطا فرمائے گا۔ ان کے دلوں کی آگ کو ٹھنڈا کرے گا ان کی آتش غضب کو سرد کرے گا۔ روشنی کا دریچہ وَیَتُوْبُ اللّٰہَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ فرماکر حالات کے بالکل برعکس روشنی کا ایک دریچہ بھی کھولا کہ حالات جس طرف اشارہ کررہے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تو مسلمانوں کو تیار رہنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اس امکان کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے کہ بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق عطا فرمائے گا۔ لیکن اسے نمایاں طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ ریکارڈ کا حصہ ضرور بنایا گیا لیکن نمایاں کرنے سے اس لیے احتیاط کی گئی تاکہ مسلمانوں کی تیاری پر اس کا اثر نہ پڑے۔ چناچہ مسلمانوں کی تیاری نے ایک طرف تمام خطرات کے سامنے بند باندھ دیئے اور دوسری طرف اللہ کی رحمت اور اس کی توفیق نے لوگوں کے دلوں پر اثر کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نو اور دس ہجری میں ملک کے گوشے گوشے سے اسلام قبول کرنے کے لیے وفد پر وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ ملک کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہ گیا جہاں سے اسلام کی قبولیت کے لیے ایک معتدبہ تعداد مدینہ نہ پہنچی ہو۔ قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا لا (تو لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں)
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیے اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃً ط وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ع ( التوبۃ : 16) (کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیے اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔ ) ایمان کی آزمائش سنت اللہ ہے اس آیت میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن نئے ایمان لانے والوں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ جو لوگ فتح مکہ کے بعد یا جنگ تبوک کے بعد مسلمان ہوئے ہیں انھیں بظاہر اسلام قبول کرنے کے بعد کسی بڑی قربانی سے واسطہ نہیں پڑا۔ یہ صحیح ہے کہ انھوں نے زندگی بھر کے رویے کو بدل کر اسلامی زندگی اختیار کی۔ شرک اور کفر سے تائب ہو کر توحید اور خدا پرستی کو اپنا راہنما بنایا لیکن چونکہ ملک میں لادینی قوتیں سرنگوں ہوچکی تھیں اس لیے انھیں کسی تصادم سے نہیں گزرنا پڑا۔ انھیں کسی ہجرت سے واسطہ نہیں پڑا۔ انھیں اسلام کی کوئی قیمت ادا کرنا نہیں پڑی۔ اس لیے وہ تو ٹھنڈے ٹھنڈے اسلام میں آئے اور اسلام کی جیتی ہوئی بازی سے محظوظ ہونے لگے۔ لیکن پروردگار فرما رہے ہیں کہ تم یہ گمان مت کرو کہ تم بغیر کسی آزمائش کے چھوڑ دیئے جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کوئی اس کا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اس کو آزمائے بغیر نہیں رہتا۔ وہ آزمائش کی کٹھالی میں ڈال کر کھوٹ الگ کردیتا ہے اور خالص سونا الگ ہوجاتا ہے۔ اللہ سے تعلق تو دنیا اور آخرت کا سب سے بڑا رشتہ ہے جس کی قیمت اور عظمت کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ انسانوں کے درمیان وہ رشتہ جسے محبت کا نام دیا جاتا ہے وہ بھی آزمائش سے گزرے بغیر معتبر نہیں ٹھہرتا محبوب کو کبھی یقین نہیں آتا کہ میرا چاہنے والا واقعی میرا ہے کسی اور کا نہیں اس لیے ہر جگہ محبت کو آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے : محبت کے مقدر میں کہاں آرام اے ہمدم ! کہیں شعلہ کہیں بجلی کہیں سیماب ہوتی ہے یہاں بھی اسی سنت الہٰی کا تذکرہ ہورہا ہے کہ نئے نئے مسلمان ہونے والے ابھی تک کسی آزمائش سے نہیں گزرے لیکن ان کا ایمان اس وقت معتبر ٹھہرے گا جب وہ یہ ثابت کردیں گے کہ وہ اللہ کے راستے میں جہدوعمل کی ہر صعوبت اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول اور اس کے دین سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں۔ وہی ایک مومن کی ضرورت اور وہی اس کا ہدف اور منزل ہے۔ اس وقت جو امتحان پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ کفر سے نکل کر دائرہ اسلام میں آئے ہیں ان کا یقینا کسی نہ کسی قبیلے اور برادری سے تعلق ہوگا کوئی نہ کوئی ان کا حلقہ احباب ہوگا۔ ان کے معاشرتی اور سماجی روابط ہوں گے۔ ایک مومن کو اپنے ایمان کے ثبوت کے لیے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ میرے تمام تعلقات اللہ اور اس کے رسول کے تعلقات کے سامنے کالعدم ہیں۔ جو تعلق اور رشتہ بھی اللہ سے تعلق میں حائل ہوگا میں اس تعلق کو ختم کردوں گا۔ میری اصل برادری مسلمان ہیں میں مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی برادری یا کسی دوسرے تعلق کو کبھی اہمیت نہیں دوں گا اگر مسلمانوں کے مفادات اور میری برادری کے مفادات میں تصادم ہوگا تو میں اسلامی مفادات کی پاسداری کروں گا۔ میں کبھی اللہ اور رسول اور مسلمانوں کے مقابلے میں کسی دوسرے کو ہم راز اور دوست نہیں بنائوں گا۔ اس سے پہلے غالباً سورة نساء میں بطانۃً کا لفظ گزر چکا ہے۔ ولیجۃً اور بطانۃً ایک ہی معنی کے حامل ہیں۔ تعلقات کو اسلام یا مسلمانوں کی قیمت پر غیر مسلموں سے قائم رکھنا ایک ایسا شر ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مواقع پر یہ بات کھول کر بیان کی ہے کہ جو شخص غیر مسلموں کو امت مسلمہ کے راز پہنچاتا ہے، ان کے تہذیب و تمدن کو اپنے تہذیب و تمدن پر فوقیت دیتا ہے، اور ان کے مفادات کو مسلمانوں کے مفادات پر ترجیح دیتا ہے وہ مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ انھیں میں سے ہے، اس کا انجام بھی ان کے ساتھ ہوگا۔ نئے مسلمان ہونے والوں کے چونکہ ابھی تک تمام تر مختلف قسم کے تعلقات مشرکوں کے ساتھ قائم تھے، ان سے یکسر لاتعلق ہونا اور دل وجان سے اسلام کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کردینا، اپنی قلبی وابستگیوں کو اللہ اور اس کے رسول کی نذر کردینا، ایک ایسی آزمائش ہے جس میں انھیں مبتلا کیا گیا۔ مخلص مسلمان اس میں سے سرخرو ہو کر نکلے اور جن کے ایمان میں کھوٹ تھا وہ ناکام ہوگئے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔