Ayah 4:60خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (زبان سے تو) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ہم) اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی (یعنی قرآن اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی (یعنی توریت کیونکہ اس میں منافقین کا بیان ہے، اور اکثر منافقین یہود میں سے تھے، مطلب یہ ہے کہ زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جس طرح ہم توریت کو مانتے ہیں اسی طرح قرآن کو بھی مانتے ہیں، یعنی اسلام کے مدعی ہیں، پھر اس پر حالت یہ ہے کہ) اپنے مقدمے شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (کیونکہ غیر شرع کی طرف مقدمہ لے جانے کے لئے شیطان سکھلاتا ہے، پس اس پر عمل کرنا ایسا ہے جیسے شیطان ہی کے پاس مقدمہ لے گئے) حالانکہ (اس سے دو امر مانع موجود ہیں ایک یہ کہ) ان کو (شریعت کی جانب سے) یہ حکم ہوا کہ اس (شیطان) کو نہ مانیں (یعنی اعتقاداً و عملاً اس کی مخالفت کریں) اور (دوسرا مانع یہ کہ) شیطان (ان کا ایسا دشمن امروں کے جن کا مقتضیٰ یہ ہے کہ شیطان کے کہنے پر عمل نہ کریں، پھر بھی اس کی موافقت کرتے ہیں) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور (آؤ) رسول ﷺ کی طرف (کہ آپ اس حکم کے موافق فیصلہ فرما دیں) تو آپ (اس وقت) منافقین کی یہ حالت دیکھیں گے کہ آپ (کے پاس آنے) سے پہلو تہی کرتے ہیں پھر کیسی جان کو بنتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے ان کی اس حرکت کی بدولت جو (اس مصیبت سے) پہلے کرچکے تھے، (مراد اس حرکت سے شرع کو چھوڑ کر دوسری جگہ مقدمہ لے جانا ہے اور مصیبت سے مراد جیسے قتل یا خیانت و نفاق کا کھل جانا اور باز پرس ہونا، یعنی اس وقت سوچ پڑتی ہے کہ اس حرکت کی کیا تاویل کریں جس میں پھر سرخرو رہیں) پھر (تاویل سوچ کر) آپ کے پاس آتے ہیں، خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ (ہم جو دوسری جگہ چلے گئے تھے) ہمارا اور کچھ مقصود نہ تھا سو اس کے کہ (عاملہ کے دونوں فریق کی) کوئی بھلائی (کی صورت) نکل آوے اور (ان میں) باہم موافقت مصالحت) ہوجاوے (مطلب یہ کہ قانون تو شرع ہی کا حق ہے ہم دوسری جگہ شرع کو ناحق سمجھ کر نہیں گئے تھے، لیکن بات یہ ہے کہ قانونی فیصلہ میں تو صاحب حق کو حاکم رعایت کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتا اور باہمی فیصلہ میں اکثر رعایت کرا دی جاتی ہے، یہ وجہ تھی ہمارے دوسری جگہ جانے کی اور قصہ قتل میں تاویل اس مقتول کے فعل کی ہوگی جس سے مقصود اپنی برات یا حضرت عمر پر دعوی قتل بھی ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کی اس تاویل کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو چھ (نفاق و کفر) ان کے دلوں میں ہے (کہ اس کفر و نفاق و عدم رضا بحکم شرعی ہی کی وجہ سے یہ لوگ دوسری جگہ جاتے ہیں اور وقت معین پر اس کی سزا بھی پالیں گے) سو (مصلحت یہی ہے کہ) آپ (علم خداوندی و مواخذہ خداوندی پر اکتفا فرما کر) اسے تغافل کر جایا کیجئے (یعنی کچھ مواخذہ نہ فرمایئے) اور (ویسے اپنے منصب رسالت کے اقتضا سے) ان کو نصیحت فرماتے رہئے (کہ ان حرکتوں کو چھوڑ دو) اور ان سے خاص ان کی ذات (کی اصلاح) کے متعلق کافی مضمون کہہ دیجئے (تاکہ ان پر حجت قائم اور تمام ہوجائے پھر نہ مانیں تو وہ جانیں) اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکم خداوندی (جو کہ اطاعت رسل کے باب میں فرمایا ہے) ان کی اطاعت کی جائے (پس اول تو ان لوگوں کو شروع ہی سے اطاعت کرنا واجب تھی) اور اگر (خیر شامت نفس سے حماقت ہی ہوگئی تھی تو) جس وقت (یہ گناہ کر کے) اپنا نقصان کر بیٹھے تھے اس وقت (ندامت کے ساتھ) آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے پھر (حاضر ہو کر) اللہ تعالیٰ سے (اپنے اس گناہ کی) معافی چاہتے اور رسول ﷺ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ کا قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا پاتے (یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے توبہ قبول فرما لیتے)
معارف و مسائل
ربط آیات۔ پہلی آیت میں تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے احکام کی طرف رجوع کرنے کا حکم تھا، اگلی ان آیات سے خلاف شرع قوانین کی طرف رجوع کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
آیات کا شان نزول۔ ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ بشر نامی ایک منافق تھا، اس کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا، یہودی نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس، ان سے فیصلہ کرائیں، مگر بشر منافق نے اس کو قبول نہ کیا، بلکہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس جانے اور اس سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، کعب بن اشرف یہودی کا ایک سردار اور رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا، یہ عجیب بات تھی کہ یہودی تو اپنے سردار کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کا فیصلہ پسند کرے اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا بشر آپ کی بجائے یہودی سردار کا فیصلہ اختیار کرے، مگر راز اس میں یہ تھا کہ ان دونوں کو اس پر یقین تھا کہ رسول کریم ﷺ حق و انصاف کا فیصلہ کریں گے، اس میں کسی کی رو و رعایت یا غلط فہمی کا اندیشہ نہیں اور چونکہ اس جھگڑے میں یہودی حق پر تھا، اس لئے اس کو اپنے سردار کعب بن اشرف سے زیادہ اعتماد آنحضرت ﷺ پر تھا اور بشر منافق غلطی اور ناحق پر تھا، اس لئے جانتا تھا کہ آپ کا فیصلہ میرے خلاف ہوگا، اگرچہ میں مسلمان کہلاتا ہوں اور یہ یہودی ہے۔
ان دونوں میں باہمی گفتگو کے بعد یہ انجام ہوا کہ دونوں اسی پر راضی ہوگئے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہو کر آپ ہی سے اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرائیں، مقدمہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا، آپ نے معاملہ کی تحقیق فرمائی، تو حق یہودی کا ثابت ہوا، اسی کے حق میں فیصلہ دے دیا اور بشر کو جو بظاہر مسلمان تھا ناکام کردیا، اس لئے وہ اس فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور ایک نئی راہ نکالی کہ کس طرح یہودی کو اس بات پر راضی کرلیا جائے کہ ہم حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے پاس فیصل کرانے چلیں، یہودی نے اس کو قبول کرلیا، راز اس میں یہ تھا کہ بشر نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ حضرت عمر کفار کے معاملہ میں سخت ہیں، وہ یہودی کے حق میں فیصلہ دینے کے بجائے میرے حق میں فیصلہ دیں گے۔
بہرکیف یہ دونوں اب حضرت فاروق اعظم کے پاس پہنچے، یہودی نے حضرت فاروق اعظم کے سامنے پورا واقعہ بیان کردیا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ جناب رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں مگر یہ شخص اس پر مطمئن نہیں اور آپ کے پاس مقدمہ لایا ہے۔
حضرت عمر نے بشر سے پوچھا کہ کیا یہی واقعہ ہے ؟ اس نے اقرار کیا حضرت فارق اعظم نے فرمایا ! اچھا ذرا ٹھہرو ! میں آتا ہوں، گھر میں تشریف لے گئے اور ایک تلوار لے کر آئے اور اس منافق کا کام تمام کردیا اور فرمایا”جو شخص رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اس کا یہی فیصلہ ہے۔“ (یہ واقعہ روح المعانی میں بروایت ثعلبی و ابن ابی حاتم حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے۔)
اور عامہ مفسرین نے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے بعد منافق مقتول کے وارثوں نے حضرت عمر کے خلاف یہ دعوی بھی دائر کردیا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو بغیر دلیل شرعی کے مار ڈالا ہے اور اس کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اس کے کفر قولی و عملی کی تاویلیں پیش کیں، آیت متذکرہ میں اللہ تعالیٰ نے معاملہ کی اصل حقیقت اور اس شخص مقتول کا منافق ہونا ظاہر فرما کر حضرت عمر کو بری کردیا۔
اس سلسلہ میں اور بھی چند واقع منقول ہیں، جن میں کچھ لوگوں نے شرعی فیصلہ چھوڑ کر کسی کاہن یا نجومی کا فیصلہ قبول کرلیا تھا، ہوسکتا ہے کہ آیت متذکرہ ان سب کے متعلق نازل ہوئی ہو۔
اب آیات کی تفسیر دیکھئے، پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اس شخص کو دیکھو جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں پچھلی کتابوں تورات اور انجیل پر بھی ایمان لایا تھا اور جو کتاب (قرآن) آپ پر نازل ہوئی اس پر بھی ایمان لاتا ہوں، یعنی پہلے اہل کتاب میں داخل تھا، پھر مسلمانوں میں داخل ہوگیا، لیکن یہ مسلمانوں میں داخل ہونا محض زبانی ہے، دل میں وہی کفر بھرا ہوا ہے، جس کا ظہور جھگڑے کے وقت اس طرح ہوگیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر یہودی سردار کعب بن اشرف کی طرف رجوع کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے ایک واضح اور حق فیصلہ دے دیاتو اس پر راضی نہ ہوا۔
لفظ طاغوث کے لغوی معنی سرکشی کرنے والے کے ہیں اور عرف میں شیطان کو طاغوت کہا جاتا ہے اس آیت میں کعب بن اشرف کی طرف مقدمہ لے جانے کو شیطان کی طرف لیجانا قرار دیا یا تو اس وجہ سے کہ کعب بن اشرف خود ایک شیطان تھا اور یا اس وجہ سے کہ شرعی فیصلہ کو چھوڑ کر خلاف شرع فیصلہ کی طرف رجوع کرنا شیطان ہی کی تعلیم ہو سکتی ہے، اس کا اتباع کرنے والا گویا شیطان ہی کے پاس اپنا مقدمہ لے گیا ہے، اسی لئے آخر آیت میں ہدایت فرما دی کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا تو شیطان اس کو دور دراز کی گمراہی میں مبتلا کر دے گا۔
Ayah 4:61دوسری آیت میں بتلا دیا کہ باہمی خصوصیت اور جھگڑے کے وقت رسول کریم ﷺ کے شرعی فیصلہ سے اعراض کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا ایسا کام کرنے والا منافق ہی ہوسکتا ہے اور جب اس منافق کا کفر عملاً اس طرح کھل گیا کہ آنحضرت ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا تو فاروق اعظم کا اس کو قتل کرنا صحیح ہوگیا، کیونکہ اب وہ منافق نہ رہا بلکہ کھلا کافر ہوگیا، اس لئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے کہا جائے کہ آجاؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اور اس کے رسول کی طرف، تو یہ منافقیت آپ کی طرف آنے سے رک جاتے ہیں۔
Ayah 4:62تیسری آیت میں ان تاویلات باطلہ کا غلط ہونا واضح کیا ہے جو شرعی فیصلہ کو چھوڑ کر غیر شرعی فیصلہ کی طرف رجوع ہونے والوں کی طرف سے پیش کی جاتی تھیں، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ناحق سمجھ کر نہیں چھوڑا اور دوسروں کے فیصلوں کو اس کے بالمقابل حق سمجھ کر اختیار نہیں کیا بلکہ بعض مصالح کی بناء پر ایسا کیا، مثلاً یہ مصلحت تھی کہ آپ کے پاس تو قانونی فیصلہ ہوتا، جس میں باہمی مصالحت اور رواداری کا کوئی سوال نہیں تھا، ہم مقدمہ کو دوسری جگہ اس لئے لے گئے کہ ان دونوں فریق کے لئے کوئی بھلائی کی صورت نکل آئے اور دونوں میں مصالحت کرا دی جائے۔
یہ تاویلیں ان لوگوں نے اس وقت پیش کیں جب کہ ان کا راز کھل گیا اور خباثت اور نفاق ظاہر ہوگیا ان کا آدمی حضرت عمر کے ہاتھ سے مارا گیا، غرض جب ان کے اعمال بد کے نتیجہ میں ان پر رسوائی یا قتل کی مصیبت پڑگئی، تو قسمیں کھا کر تاویلیں کرنے لگے، حق تعالیٰ نے اس آیت میں واضح فرما دیا کہ یہ اپنی قسموں اور تاویلوں میں جھوٹے ہیں انہوں نے جو کچھ کیا اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے کیا ہے، ارشاد فرمایا کہ جب ان پر اپنے اعمال بد کے نتیجہ میں کوئی مصیبت پڑجاتی ہے، مثلاً خیانت و نفاق ظاہر ہو کر رسوائی ہوگئی، یا اس کے نتیجہ میں قتل کا واقعہ پیش آیا، تو اس وقت یہ لوگ آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے سوا کسی دوسرے کے پاس مقدمہ لے جانے کا سبب کفر یا حضور ﷺ کے فیصلہ کو ناحق سمجھنا نہیں تھا، بلکہ ہمارا مقصد احسان و توفیق تھا، یعنی فریقین کے لئے کوئی بھلائی اور مصالحت کی راہ تلاش کرنا مقصود تھا۔
Ayah 4:63چوتھی آیت میں اس کا جواب آیا کہ ان کے دلوں میں جو کفر و نفاق ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف اور باخبر ہیں، ان کی تاویلیں غلط اور قسمیں جھوٹی ہیں اس لئے آپ ان کے عذر کو قبول نہ فرمائیں اور حضرت عمر کے خلاف دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ رد فرما دیں، کیونکہ اس منافق کا کفر واضح ہوچکا تھا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ان منافقین کو بھی آپ خیر خواہانہ نصیحت فرما دیں جو ان کے دلوں پر اثر انداز ہو، یعنی آخرت کا خوف دلا کر ان کو مخلصانہ اسلام کی طرف دعوت دیں یا دنیوی سزا کا ذکر کردیں کہ اگر تم نفاق سے باز نہ آئے تو کسی وقت نفاق کھل جائے گا، تو تمہارا بھی یہی انجام ہوگا جو بشر منافق کا ہوا۔
Ayah 4:64پانچویں آیت میں اول تو ایک عام ضابطہ بتلایا کہ ہم نے جو رسول بھیجا وہ اسی لئے بھیجا کہ سب لوگ فرمان خداوندی کے موافق اس کے احکام کی اطاعت کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جو شخص رسول کے احکام کی مخالفت کرے اس کے ساتھ کفار جیسا معاملہ کیا جائے گا اس لئے حضرت عمر نے جو عمل کیا وہ صحیح ہوا۔ اس کے بعد ان کو خیر خواہاہ مشورہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ تاویلات باطلہ اور جھوٹی قسموں کے بجائے اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے اور آپ کے پاس حاضر ہو کر خود بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کی مغفرت کی دعاء کرتے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی توبہ قبول فرما لیتے۔
اس جگہ قبول توبہ کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور پھر آنحضرت ﷺ کے دعاء مغفرت کرنے کی شرط غالباً اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے منصب نبوت پر حملہ کیا اور آپ کے فیصلہ کو نظر انداز کر کے آپ کو ایذا پہونچائی، اس لئے ان کے جرم کی توبہ کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری اور حضور ﷺ کے استغفار کو شرط کردیا گیا۔
یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لئے دعا مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانہ میں ہو سکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضر اسی حکم میں ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آ کر گرگیا اور زارو زار روتے ہوئے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کے لئے دعائے مغفرت کردیں تو اس کی مفرت ہوجائے گی، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں اس وقت جو لوگ حاضر تھا ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر رستے آواز آئی قدغفرلک یعنی مغفرت کردی گئی۔ (بحر محیط)
Ayah 4:65خلاصہ تفسیر
پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ (جو صرف زبانی ایمان ظاہر کرتے پھرتے ہیں عند اللہ) ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے (اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے) فیصلہ کرا دیں پھر (جب آپ تصفیہ کردیں تو) اس آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں (انکار کی) تنگی نہ پاویں اور (اس فیصلہ کو) پورا پورا (ظاہری سے باطن سے) تسلیم کرلیں۔
معارف و مسائل
رسول کریم ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا کفر ہے۔
اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی عظمت اور علو مرتبت کے اظہار کے ساتھ آپ کی اطاعت جو بیشمار آیات قرآنیہ سے ثابت ہے اس کی واضح تشریح بیان فرمائی ہے اس آیت میں قسم کھا کر حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن یا مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ آنحضرت ﷺ کو ٹھنڈے دل سے پوری طرح تسلیم نہ کرے کہ اس کے دل میں بھی اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پائی جائے۔
آنحضرت ﷺ بحیثیت رسول خود امت کے حاکم اور ہر پیش آنے والے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے ذمہ دار ہیں، آپ کی حکومت اور آپ کا فیصلہ کسی کے حکم بنانے پر موقوف نہیں پھر اس آیت میں مسلمانوں کو حکم بنانے کی تلقین اس لئے فرمائی گئی ہے کہ حکومت کے مقرر کردہ حاکم اور اس کے فیصلہ پر تو بہت سے لوگوں کو اطمینان نہیں ہوا کرتا، جیسا اپنے مقررہ کردہ ثالث یا حکم پر ہوتا ہے، مگر آنحضرت ﷺ صرف حاکم نہیں بلکہ رسول معصوم بھی ہیں رحمتہ للعالمین بھی ہیں، امت کے شفیق و مہربان باپ بھی ہیں، اس لئے تعلیم یہ دی گئی کہ جب بھی کسی معاملہ میں یا کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو فریقین کا فرض ہے کہ رسول کریم ﷺ کو حکم بنا کر اس کا فیصلہ کرائیں اور پھر آپ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کریں۔
اختلافات میں آپ کو حکم بنانا آپ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں۔
حضرات مفسرین نے فرمایا کہ ارشاد قرآنی پر عمل آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ کے بعد آپ کی شریعت مطہرہ کا فیصلہ خود آپ ہی کا فیصلہ ہے، اس لئے یہ حکم قیامت تک اس طرح جاری ہے کہ آپ کے زمانہ مبارک میں خود بلاواسطہ آپ سے رجوع کیا جائے اور آپ کے بعد آپ کی شریعت کی طرف رجوع کیا جائے جو درحقیقت آپ ہی کی طرف رجوع ہے۔
چند اہم مسائل۔
اول یہ کہ وہ شخص مسلمان نہیں جو اپنے ہر جھگڑے اور ہر مقدمہ میں رسول کریم ﷺ کے فیصلہ پر مطمئن نہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے اس شخص کو قتل کر ڈالا جو آنحضرت ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور پھر اس معاملہ کو حضرت عمر پر دعویٰ کردیا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو بلاوجہ قتل کردیا جب یہ استغاثہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہوا تو بےساختہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا، ماکنت الظن ان عمر یجتوء علی قتل رجل مومن“ (یعنی مجھے یہ گمان نہ تھا کہ عمر کسی مرد مومن کے قتل کی جرأت کریں گے) اس سے ثابت ہوا کہ حاکم اعلی کے پاس اگر کسی ماتحت حاکم کے فیصلہ کی اپیل کی جائے تو اس کو اپنے حاکم ماتحت کی جانب داری کے بجائے انصاف کا فیصلہ کرنا چاہئے، جیسا اس واقعہ میں آیت نازل ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کے فیصلہ پر اظہار ناراضی فرمایا پھر جب یہاں یہ آیت نازل ہوئی تو حقیقت کھل گئ کہ اس آیت کی رو سے وہ شخص مومن ہی نہیں تھا۔
دوسرا مسئلہ اس آیت سے یہ نکلا کہ لفظ فیما شجر صرف معاملات اور حقوق کے ساتھ متعلق نہیں، عقائد اور نظریات اور دوسرے نظری مسائل کو بھی حاوی ہے۔ (بحر محیط) اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو باہم جھگڑتے رہنے کے بجائے دونوں فریق رسول اللہ ﷺ کی طرف اور آپ کے بعد آپ کی شریعت کی طرف رجوع کر کے مسئلہ کا حل تلاش کریں۔
تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جو کام آنحضرت ﷺ سے قولاً یا عملاً ثابت ہو، اس کے کرنے سے دل میں تنگی محسس کرنا بھی ضعف ایمان کی علامت ہے، مثلاً جہاں شریعت نے تمیم کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی وہاں تمیم کرنے پر جس شخص کا دل راضی نہ ہو وہ اس کو تقوی نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کا روگ سمجھے، رسول کریم ﷺ سے زیادہ کوئی متقی نہیں ہوسکتا جس صورت میں آنحضرت ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی اور خود بیٹھ کر ادا فرمائی، اگر کسی شخص کا دل اس پر راضی نہ ہو اور ناقابل براشت محنت و مشقت اٹھا کر کھڑے ہی ہو کر نماز ادا کرے، تو وہ سمجھ لے کہ اس کے دل میں روگ ہے ہاں معمولی ضرورت یا تکلیف کے وقت اگر رخصت کو چھوڑ کر عزیمت پر عمل کرے تو آنحضرت ﷺ ہی کی تعلیم کے مطابق درست ہے، مگر مطلقاً شرعی رخصتوں سے تنگدلی محسوس کرنا کوئی تقوی نہیں، اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا
”یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح عزیمتوں پر عمل کرنے سے خوش ہوتے ہیں اسی طرح رخصتوں پر عمل کرنے کو بھی پسند فرماتے ہیں۔“
عام عبادات و اذکار و اوراد، درود و تسبیح میں سب سے بہتر طریقہ وہی ہے جو خود رسول کریم ﷺ کا اپنا معمول رہا اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کا جس پر عمل رہا، مسلمانوں کا فرض ہے کہ حدیث کی مستند روایات سے اس کو معلوم کر کے اسی کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔
ایک اہم فائدہ۔ گزشتہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول کریم ﷺ امت کے صرف مصلح اور اخلاقی رہبر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک عادل حاکم بھی تھے، پھر حاکم بھی اس شان کے کہ آپ کے فیصلہ کو ایمان و کفر کا معیار قرار دیا گیا، جیسا کہ بشر منافق کے واقعہ سے ظاہر ہے، اس چیز کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسول کریم ﷺ کی اطاعت کو بھی لازمی قرار دیا ہے، ارشاد ہوتا ہےاطیعواللہ واطیعوا الرسول، ”یعنی تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔“
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا، من یطح الرسول فقد اطاع اللہ، یعنی ”جو رسول“ کی اطاعت کرے اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔“
ان آیات میں غور کرنے سے آپ کی شان حاکمیت بھی نکھر کر سامنے آجاتی ہے جس کی عملی صورت ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنا قانون بھیجا، تاکہ آپ مقدمات کے فیصلے اسی کے مطابق کرسکیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہےانا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ، یعنی ”ہم نے آپ پر کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے درمیان میں اس طرح فیصلہ کریں جس طرح اللہ آپ کو دکھلائے اور سمجھائے۔“
Ayahs 4:66–68خلاصہ تفسیر
اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات (بطور احکام مقصودہ کے) فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو یا اپنے وطن سے بےوطن ہوجایا کرو تو بجز معدودے چند لوگوں کے (جو مومن کامل ہوتے) اس حکم کو کوئی بھی نہ بجالاتا (اس سے ثابت ہوا کہ کمال اطاعت کرنے والے کم ہوتے ہیں) اور اگر یہ (منافق) لوگ جو کچھ ان کو (اطاعت رسول بجان دل کی) نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لئے (دنیا میں تو بوجہ استحقاق ثواب کے) بہتر ہوتا اور (نیز با اعتبار تکمیل دین کے ان کے) ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا (کیونکہ تجربہ سے ثابت ہوا کہ دین کا کام کرنے سے خود باطنی کیفیت اعتقاد و یقین کو ترقی ہوتی ہے) اور اس حالت میں جب کہ عمل سے خیریت اور تثبیت دین حاصل ہوجاتی تو آخرت میں) ہم ان کو خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتے، اور ہم ان کو (جنت کا) سیدھا راستہ بتلا دیتے (کہ بےروک ٹوک جنت میں داخل ہوں جو کہ اجر عظیم ملنے کا مقام ہے۔)
معارف و مسائل
شان نزول۔ جس واقعہ کی بناء پر یہ آیت اور اس سے پہلی آیات نازل ہوئیں، وہ بشر منافق کا معاملہ تھا، جس نے اپنے جھگڑے کے فیصلہ کے لئے پہلے کعب بن اشرف یہودی کو تجویز کیا، پھر مجبور ہو کر آنحضرت ﷺ کے پاس گیا اور آپ کا فیصلہ چونکہ اس کے خلاف تھا اس پر راضی نہ ہوا دوبارہ فیصلہ کرانے کے لئے حضرت عمر کے پاس پہنچا اس واقعہ کی جب مدینہ میں شہرت ہوئی تو یہود نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم کیسے لوگ ہو کہ جس کو رسول مانتے ہو اور اس کے اتباع کے دعوے دار ہو، مگر اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، دیکھو یہودیوں کو ان کے گناہ کی توبہ کے سلسلہ میں یہ حکم ملا تھا کہ تم اس میں ایک دوسرے کو قتل کرو ہم نے تو اس شدید حکم کی تعمیل بھی کی، یہاں تک کہ ہمارے ستر ہزار آدمی مارے گئے، اگر تمہیں کوئی ایسا حکم دے دیا جاتا تو تم کیا کرتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ولواناً کتبنا علیھم یعنی ان منافقین کا یا عام لوگوں کا جن میں کافر و مومن سب داخل ہیں یہی حال ہے کہ اگر ان کو بنی اسرائیل کی طرح کوئی سخت حکم خودکشی یا ترک وطن کا دے دیا جاتا تو ان میں سے بہت کم آدمی اس حکم کی تعمیل کرتے۔
اس میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو اپنے جھگڑوں کا فیصلہ رسول اللہ یا شریعت رسول کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف لے جاتے ہیں اور یہودی کے طعن کا جواب بھی ہے کہ یہ حال منافقین کا ہے پکے مسلمانوں کا نہیں اور شاہد اس کا یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں نہیں ڈالا، صحابی کا یہ کلمہ رسول اللہ ﷺ کو پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان کا مضبوط پہاڑوں سے زیادہ جما ہوا ہے، ابن وہب کا بیان ہے کہ یہ کلمہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا تھا۔
اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے یہ آیت سن کر کہا کہ اگر یہ حکم نازل ہوتا تو خدا کی قسم میں سب سے پہلے اپنے آپ اور اپنے اہل بیت کو اس پر قربان کردیتا۔
بعض روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ حکم خودکشی یا ترک وطن کا اللہ کی طرف سے آجاتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ضرر اس پر عمل کرتے اور رہا دوسرا معاملہ ترک وطن کا تو صحابہ کرام نے اس پر تو عمل کر کے دکھلا دیا کہ اپن وطن مکہ اور اپنی تمام جائیدادوں اور تجارتوں کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت اختیار کرلی۔
آخر آیت میں فرمایا کہ یہ کام اگرچہ مشکل ہے، لیکن اگر وہ ہمارے فرمان کے مطابق اس کو مان لیں تو انجام کار یہی ان کے لئے بہتر ہوگا، اور یہ معلوم ان کے ایمان کو اور مضبوط کر دے گا اور ہم اس پر ان کو ثواب عظیم عطا کریں گے اور ان کو سیدھی راہ پر چلائیں گے۔
اس کے بعد آخری آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے درجات عظیمہ کا بیان ہے جس میں ان کو یہ بشارت دے دیگئی ہے کہ یہ لوگ جنت میں انبیاء اور صدیقین اور شہداء و صلحاء کے ساتھ ہوں گے۔
اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے اور اس کی تفصیل انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے چار درجات جن کا اس آیت میں ذکر ہے ان کی تشریح اور جنت میں ان کے ساتھ ہونے کی تفسیر انشاء اللہ آگے آئے گی۔
Ayahs 4:69–70خلاصہ تفسیر
اور جو شخص (ضروری احکام میں بھی) اللہ و رسول کا کہنا مان لے گا (گو تکثیر اطاعات سے کمال حاصل نہ کرسکے) تو ایسے اشخاص بھی (جنت میں) ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے (کامل) انعام (دین و قرب و قبول کا) فرمایا ہے، یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین (جو کہ انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے) اور شہدائ (جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دیدی) اور صلحائ (جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی اور مستحبات میں بھی جن کو نیک بخت دیندار کہا جاتا ہے) اور یہ حضرات (جس کے رفیق ہوں) بہت ثمرہ ہوا کہ اس کو ایسے رفیق ملے) یہ (معیت اور رفاقت ان حضرات کے ساتھ محض) فضل ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے (یعنی عمل کا اجر نہیں ہے، کیونکہ اس کا مقتضاتو یہ تھا کہ جو درجہ اس عمل کو مقتضا تھا وہاں سے آگے نہ جاسکتا، پس یہ بطور انعام کے ہے) اور اللہ تعال کافی جاننے والے ہیں (ہر ایک عمل کو اور اس کے مقتضاکو اور اس مقتضا سے زائد مناسب انعام کی مقدار کو خوب جانتے ہیں، کیونکہ اس انعام میں بھی تفاوت ہوگا، کسی کو ان حضرات سے بار بار قرب ہوگا، کسی کو گاہ بگاہ و علی ہذا واللہ اعلم)
ربط آیات۔ اوپر اللہ و رسول کی اطاعت پر خاص مخاطبین سے اجر عظیم کا وعدہ تھا، اب ان آیات میں بطور قاعدہ کلیہ کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر عام وعدہ کا ذکر ہے۔
معارف و مسائل
جنت کے درجات اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
جو لوگ ان تمام چیزوں پر عمل کریں جن کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے، ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے تو عمل کے اعتبار سے ان کے مختلف درجات ہوں گے اول درجہ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جنت کے مقامات عالیہ میں جگہ عطا فرمائیں گے، اور دوسرے درجہ کے لوگوں کو ان لوگوں کے ساتھ جگہ عطا فرمائیں گے جو انبیاء کے بعد میں جن کو صدیقین کہا جاتا ہے، یعنی وہ اجلہ صحابہ جنہوں نے بغیر کسی جھجک اور مخالفت کے اول ہی ایمان قبول کرلیا، جیسے حضرت ابوبکر صدیق پھر تیسرے درجہ کے حضرات شہداء کے ساتھ ہوں گے شہداء وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال قربان کردیا، پھر چوتھے درجہ کے حضرات صلحاء کے ساتھ ہوں گے اور صلحاء وہ لوگ ہیں جو اپنے ظاہر و باطن میں اعمال صالحہ کے پابند ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کرنے والے ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز اور مقبول ہیں جن کے چار درجے بتلائے گئے ہیں، انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین
شان نزول۔
یہ آیت ایک خاص واقعہ کی بناء پر نازل ہوئی ہے جس کو امام تفسیر حافظ ابن کثیر نے متعدد اسانید سے نقل کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز ایک صحابی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے دل میں آپ کی محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہے، اپنی بیوی سے بھی، اپنی اولاد سے بھی، بعض اوقات میں اپنے گھر میں بےچین رہتا ہوں یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی زیارت کرلوں تب سکون ہوتا ہے، اب مجھے فکر ہے کہ جب اس دنیا سے آپ کی وفات ہوجائے اور مجھے بھی موت آجائے گی تو میں جانتا ہوں کہ آپ جنت میں انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ درجات عالیہ میں ہوں گے اور مجھے اول تو یہ معلوم نہیں کہ میں جنت میں پہنچوں گا بھی یا نہیں، اگر پہنچ بھی گیا تو میرا درجہ آپ سے بہت نیچے ہوگا میں وہاں آپ کی زیارت نہ کرسکوں گا تو مجھے کیسے صبر آئے گا ؟
آنحضرت ﷺ نے ان کا کلام سن کر کچھ جواب نہ دیا، یہاں تک کہ یہ آیت مذکورہ نازل ہوگئی، ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء و الصلحین، اس وقت آنحضرت ﷺ نے ان کو بشارت سنا دی کہ اطاعت گذاروں کو جنت میں انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ ملاقات کا موقع ملتا رہے گا، یعنی درجات میں تفاضل اور اعلی ادنی ہونے کے باوجود باہم ملاقات و مجالست کے مواقع ملیں گے۔
جنت میں ملاقات کی چند صورتیں۔ جس کی ایک صورت یہ بھی ہوگی کہ اپنی اپنی جگہ سے ایک دوسرے کو دیکھیں گے جیسا کہ مؤ طا امام مالک میں براویت ابوسعید خدری منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت اپنی کھڑکیوں میں اپنے سے اوپر کے طبقات والوں کو دیکھیں گے جیسے دنیا میں تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔
اور یہ بھی صورت ہوگی کہ درجات میں ملاقات کے لئے آیا کریں گے، جیسا کہ ابن جریر نے بروایت ربیع نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اونچے درجات والے نیچے درجات کی طرف اتر کر آیا کریں گے اور ان کے ساتھ ملاقات اور مجالست ہوا کرے گی۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے کے درجات والوں کو ملاقات کے لیے اعلی درجات میں جانے کی اجازت ہو، اس آیت کی بناء پر آپ ﷺ نے بہت سے لوگوں کو جنت میں اپنے ساتھ رہنے کی بشارت دی۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت کعب بن اسلمی آنحضرت ﷺ کے ساتھ رات گذارتے تھے، ایک رات تہجد کے وقت کعب اسلمی نے آنحضرت ﷺ کے لئے وضو کا پانی اور مسواک وغیرہ ضروریات لا کر رکھی، تو آپ نے خوش ہو کر فرمایامانگو کیا مانگتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا اور کچھ نہیں، اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ”اعنی علی نفسک بکثرة السجود“ یعنی تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا لیکن اس میں تم بھی میری مدد اس طرح کرو کہ کثرت سے سجدے کیا کرو، یعنی نوافل کی کثرت کرو۔
اسی طرح ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
”یعنی وہ بیوپاری جو سچا اور امانتدار ہو وہ انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔“
قرب کی شرط محبت ہے۔
رسول کریم ﷺ کی صحبت اور رفاقت آپ کے ساتھ محبت کرنے سے حاصل ہوگی، چناچہ صحیح بخاری میں طریق متواترہ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جو کسی جماعت سے محبت اور تعلق رکھتا ہے مگر عمل میں ان کے درجہ کو نہیں پہنچا آپ نے فرمایاالمرامع من احب ”یعنی محشر میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے۔“
حضرت انس فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو دنیا میں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس حدیث سے کیونکہ اس حدیث نے ان کو یہ بشارت دے دی کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ محبت کرنے والے محشر اور جنت میں بھی حضور کے ساتھ ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کسی رنگ نسل پر موقوف نہیں۔ طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص حبشی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم سے حسن صورت اور حسین رنگ میں بھی ممتاز ہیں اور نبوت و رسالت میں بھی، اب اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لے آؤں جس پر آپ ایمان رکھتے ہیں اور وہی عمل کروں جو آپ کرتے ہیں تو کیا میں بھی جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟
آنحضرت ﷺ نے فرمایاہاں ضرور (تم اپنی حبشیانہ بدصورتی سے نہ گھبراؤ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت میں کالے رنگ کے حبشی سفید اور حسین ہوجائیں گے اور ایک ہزار سال کی مسافت سے چمکیں گے اور جو شخص لا الہ الا اللہ کا قائل ہو اس کی فلاح و نجات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوجاتی ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ پڑھتا ہے اس کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
یہ سن کر مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ جب اللہ تعالیٰ کے دربار میں حسنات کی اتنی سخاوت ہے تو ہم پھر کیسے ہلاک ہو سکتے یا عذاب میں کیسے گرفتار ہو سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (یہ بات نہیں) حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں بعض آدمی اتنا عمل اور حسنات لے کر آئیں گے کہ اگر ان کو پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو پہاڑ بھی ان کے بوجھ کا تحمل نہ کرسکے، لیکن اس کے مقابلہ میں جب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں آتی ہیں اور ان سے موازنہ کیا جاتا ہے تو انسان کا عمل ان کے مقابل ہمیں ختم ہوجاتا ہے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کو اپنی رحمت سے نوازیں۔
اس حبشی کے سوال و جواب ہی پر سورة دہر کی یہ آیت نازل ہوئی، ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیاً مذکوراً حبشی نے حیرت سے سوال کیا یا رسول اللہ میری آنکھیں بھی ان نعمتوں کو دیکھیں گی جن کو آپ کی مبارک آنکھیں مشاہدہ کریں ؟
آپ نے فرمایا”ہاں ضرور۔“ یہ سن کر حبشی نو مسلم نے رونا شروع کیا، یہاں تک کہ روتے روتے وہیں جان دے دی اور آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کی تجہیز و تکفین فرمائی۔
درجات کی تفصیل۔
آیت کی تفسیر مع شان نزول اور متعلقہ تشریحات کے بیان ہوچکی، اب ایک بات قابل غور باقی رہ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جن لوگوں پر انعام ہے ان کے چار درجے بیان فرمائے گئے ہیں یہ درجے کس اعتبار سے ہیں، اور ان چار درجوں میں باہمی نسبت اور فرق کیا ہے اور کیا یہ چاروں درجے کسی ایک شخص میں جمع ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟
حضرات مفسرین نے اس بارے میں مختلف اقوال اور طویل تفصیل لکھی ہے، بعض نے فرمایا کہ یہ چاروں درجے ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتے ہیں اور یہ سب صفات متداخلہ کی طرح ہیں، کیونکہ قرآن کریم میں جس کو نبی فرمایا گیا ہے اس کو صدیق وغیرہ کے القاب بھی دیئے گئے ہیں، حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق ارشاد ہے، انہ کان صدیقاً نبیاً اور حضرت یحییٰ ؑ کے بارے میں آیا ہے، ونبیاً من الصلحین اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق وکلا ومن الصلحین آیا ہے۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے یہ چار صفات اور درجات الگ الگ ہیں لیکن یہ سب صفات ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتی ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے مفسر، محدث، فقیہ، مورخ اور متکلم مختلف صفات علماء کی ہیں، لیکن بعض علماء ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو مفسر بھی ہوں محدث بھی، فقیہ بھی اور مورخ و متکلم بھی، یا جس طرح ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ مختلف صفات ہیں، مگر یہ سب کسی ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتی ہیں۔
البتہ عرف عام میں قاعدہ ہے کہ جس شخص پر جس صفت کا غلبہ ہوتا ہے اسی کے نام سے وہ معروف ہوجاتا ہے، طبقات پر کتابیں لکھنے والے اس کو اسی طبقہ میں شمار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے عامہ مفسرین نے فرمایا کہ ”صدیقین“ سے مراد اجلہ صحابہ اور ”شہداء“ سے شہداء احد اور ”صالحین“ سے عام نیک مسلمان مراد ہیں۔
اور امام راغب اصفہانی نے ان چاروں درجات کو مختلف درجات قرار دیا ہے، تفسیر بحر محیط، روح المعانی اور مظہری میں بھی یہی مذکور ہے، یعنی یہ کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو چار قسموں میں تقسیم کر کے ہر ایک کے لئے درجات اعلی و ادنی مقرر فرمائے ہیں اور مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں سے کسی کے درجہ سے پیچھے نہ رہیں علمی اور عملی جدوجہد کے ذریعہ ان درجات تک پہنچنے کی کوشش کریں، ان میں نبوت ایک ایسا مقام ہے جو جدوجہد سے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، لیکن انبیاء کی معیت پھر بھی حاصل ہوجاتی ہے، امام راغب نے فرمایا کہ ان درجات میں سب سے پہلا درجہ انبیاء (علیہم السلام) کا ہے، جن کو قوت الہیہ کی امداد حاصل ہے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو قریب سے دیکھ رہا ہو، اسی لئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا۔”افتمرونہ علی مایری۔“
صدیقین کی تعریف۔
دوسرا درجہ صدیقین کا ہے اور وہ لوگ ہیں جو معرفت میں انبیاء (علیہم السلام) کے قریب ہیں اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو دور سے دیکھ رہا ہو، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں کسی ایسی چیز کی عبادت نہیں کرسکتا جس کو نہ دیکھا ہو، پھر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو لوگوں نے آنکھوں سے تو نہیں دیکھا، لیکن ان کے قلوب نے حقائق ایمان کے ذریعہ دیکھ لیا ہے۔ اس دیکھنے سے حضرت علی کی مراد اس قسم کی رویت ہے کہ ان کی معرفت علمی مثال دیکھنے کے ہے۔
شہداء کی تعریف۔
تیسرا درجہ شہداء کا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مقصود کو دلائل وبراہین کے ذریعہ جانتے ہیں، مشاہدہ نہیں ہے، ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو آئینہ میں قریب سے دیکھ رہا ہو، جیسے حضرت حارثہ نے فرمایا کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے رب کریم کے عرش کو دیکھ رہا ہوں۔
اور حدیث ان تعبداللہ کانک تراہ میں بھی اسی قسم کی رویت مراد ہو سکتی ہے۔
صالحین کی تعریف۔
چوتھا درجہ صالحین کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مقصود کو تقلید و اتباع کے ذریعہ پہچانتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کسی چیز کو آئینہ میں دور سے دیکھے، اور حدیث میں فان لم تکن تراہ فانہ یراک وارد ہوا ہے اس میں بھی رویت کا یہی درجہ مراد ہوسکتا ہے امام راغب اصفہانی کی اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ درجات معرفت رب کے درجات ہیں اور معرفت کے مختلف درجات کی بناء پر مختلف مداح ہیں ........ بہرحال آیت کا مضمون صاف ہے کہ اس میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کرنے والے درجات عالیہ کے رہنے والوں کے ساتھ ہوں گے، اللہ تعالیٰ یہ محبت ہم سب کو نصیب کرے۔ آمین
Ayah 4:71خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (کافروں کے مقابلہ میں) اپنی تو احتیاط رکھو (یعنی ان کے داؤ گھات سے بھی ہوشیار رہو اور مقاتلہ کے وقت سامان، ہتھیار ڈھال اور تلوار سے بھی درست رہو) پھر (ان سے مقاتلہ کے لئے) متفرق طور پر یا مجتمع طور پر (جیسا موقع ہو) نکلو اور تمہارے مجمع میں (جس میں بعض منافقین بھی شامل ہو رہے ہیں) کوئی شخص ایسا ہے (مراد اس سے منافق ہے) جو (جہاد سے) ہٹا ہے (یعنی جہاد میں شریک نہیں ہوتا) پھر اگر تم کو کوئی حادثہ پہنچ گیا (جیسے شکست وغیرہ) تو (اپنے نہ جانے پر خوش ہو کر) کہتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ لڑائی میں حاضر نہیں ہوا نہیں تو مجھ پر بھی مصیبت آتی) اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجاتا ہے (یعنی فتح و غنیمت) تو ایسے طور پر (خود غرضی کے ساتھ) کہ گویا تم میں اور اس میں کچھ تعلق ہی نہیں (مال کے فوت ہونے پر تاسف کر کے) کہتا ہے ہائے کیا خوب ہوتا کہ میں بھی لوگوں کا شریک حال ہوتا (یعنی جہاد میں جاتا) تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی ہوتی (کہ مال و دولت لاتا اور خود غرضی اور بےتعلقی اس کہنے سے ظاہر ہے ورنہ جس سے تعلق ہوتا ہے اس کی کامیابی پر بھی تو خوش ہوتے ہیں، یہ نہیں کہ اپنا افسوس کرنے بیٹھ جائے اور اس کی خوشی کا نام بھی نہ لے، اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں فرماتے ہیں کہ بڑی کامیابی مفت نہیں ملتی اگر اس کا طالب ہے) تو ہاں اس شخص کو چاہئے کہ اللہ کی راہ میں (یعنی اعلاء کلمتہ اللہ کی نیت سے جو کہ موقوف ہے ایمان و اخلاق پر یعنی مسلمان و مخلص بن کر) ان (کافر) لوگوں سے لڑے جو آخرت (چھوڑ کر اس) کے بدلے دنیوی زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہیں (یعنی اس شخص کو اگر فوز عظیم کا شوق ہے تو دل درست کرلے ہاتھ پاؤں ہلائے، مشقت جھیلے، تیغ وسنان کے سامنے سینہ سپر بنے دیکھو فوز عظیم ہاتھ آتا ہے یا نہیں، اور یوں کیا کوئی دل لگی ہے، پھر جو شخص اتنی مصیبت جھیلے سچی کامیابی اس کی ہے، کیونکہ دنیا کی کامیابی اول تو حقیر، پھر کبھی ہے کبھی نہیں، کیونکہ اگر غالب آگئے تو ہے ورنہ نہیں) اور (آخرت کی کامیابی جو کہ ایسے شخص کے لئے موعود ہے ایسی ہے کہ عظیم بھی اور پھر ہر حالت میں ہے کیونکہ اس کا قانون یہ ہے کہ) جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے گا پھر خواہ (مغلوب ہوجائے حتی کہ) جان (ہی) سے مارا جائے یا غالب آجائے ہم (2 ر حالت میں) اس کو (آخرت کا) اجر عظیم دیں گے (جو کہ فوز عظیم کہنے کے لائق ہے۔)
ربط آیات۔ اس سے قبل اللہ اور رسول کی اطاعت کا ذکر تھا، آگے ان آیات سے فرمانبرداروں کو احیاء دین اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ (قرطبی)
معارف و مسائل
فوائد مہمہ۔ یایھا الذین امنواخذوا احذرکم الخ اس آیت کے پہلے حصہ میں جہاد کرنے کے لئے اسلحہ کی فراہمی کا حکم دیا گیا اور دوسرے حصہ میں اقدام جہاد کا اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی جس کو متعدد مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ ظاہری اسباب کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یہاں اسلحہ کی فراہمی کا حکم تو دے دیا گیا، لیکن یہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ اس کی وجہ سے تم یقیناً ضرور محفوظ ہی رہو گے، اس سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا گیا کہ اسباب کا اختیار کرنا صرف اطمینان قلبی کے لئے ہوتا ہے، ورنہ ان میں فی نفسہ نفع و نقصان کی کوئی تاثیر نہیں ہے، جیسے ارشاد ہے
”یعنی اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ ہم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر وہی جو ہمارے لئے مقدر ہوچکی ہے۔“
1۔ اس آیت میں پہلے تو جہاد کی تیاری کا حکم دے دیا گیا، اس کے بعد اس کے لئے نکلنے کا نظم بتلایا گیا، جس کے لئے دو جملے ذکر کئے گئے یعنی فانفروا ثبات اوا نفرواجمعاً ثبات، ثبتہ کی جمع ہے، جس کے معنے چھوٹی سی جماعت کے ہیں، جس کو فوجی دستہ (سریہ) کہتے ہیں، یعنی اگر تم جہاد کے لئے نکلو تو اکیلے اور تنہا نہ نکلو، بلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں نکلو یا ایک کثیر (جمعاً) لشکر کی صورت میں جاؤ کیونکہ اکیلے لڑنے کے لئے جانے میں نقصان کا قوی احتمال ہوتا ہے اور دشمن ایسے موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھا لیتا ہے۔
یہ تعلیم تو جہاد کے موقع کے لئے مسلمانوں کو دی گئی ہے، لیکن عام حالات میں بھی شریعت کی یہی تعلیم ہے کہ اکیلے سفر نہ کیا جائے، چناچہ ایک حدیث میں تنہا مسافر کو ایک شیطان کہا گیا اور دو مسافروں کو دو شیطان اور تین کو جماعت فرمایا گیا۔
”یعنی بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین فوجی دستہ چار سو کا ہے اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے۔“
Ayahs 4:72–742۔ وان منکم الخ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی خطاب مؤمنین سے ہے، حالانکہ آگے جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ مؤمنین کی نہیں ہو سکتیں، اس لئے علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد منافقین ہیں، وہ چونکہ ظاہراً مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اس لئے خطاب میں ان کو مؤمنین کی ایک جماعت کہا گیا ہے۔
Ayah 4:75خلاصہ تفسیر
اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو (باوجودیکہ اس کا قوی داعی موجود ہے، کیونکہ یہ جہاد) اللہ کی راہ میں (ہوتا ہے، یعنی اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ہے جس کا اہتمام ضروری ہے) اور (اس اعلاء دین کے آثار میں سے ایک خاص اثر کی ضرورت بھی درپیش ہے، وہ یہ کہ) کمزور (ایمانداروں) کی خاطر سے (بھی لڑنا ضرور ہے تاکہ کفار کے پنجہ ستم سے رہائی پائیں) جن (بیچاروں) میں کچھ مرد ہیں اور کھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو (کفار سے تنگ و پریشان ہو کر) دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (کسی طرح) اس بستی سے (یعنی مکہ سے جو ہمارے لیے جیل خانہ بنا ہوا ہے) باہر نکال، جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں (کہ ہم پر آفت ڈھا رکھی ہے) اور ہمارے لئے غیب سے کسی دوست کو کھڑا کیجئے اور ہمارے لئے غیب سے کسی حامی کو بھیجئے (کہ ہماری حمایت کر کے ان ظالموں کے پنجہ سے چھڑا دے) جو لوگ پکے ایمان دار ہیں (وہ تو ان احکام کو سن کر) اللہ کی راہ میں (یعنی غلبہ اسلام کے قصد سے) جہاد کرتے ہیں اور جو لوگ (ان کے مقابلہ میں) کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں (یعنی غلبہ کفر کے قصد سے) لڑتے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ان دونوں میں نصرت اللہ کی طرف سے ایمان داروں کو ہوگی، جب ایمان داروں کے ساتھ اللہ کی مدد ہے) تو اے ایماندارو) تم شیطان کے ساتھیوں سے (یعنی کافروں سے جو کہ اللہ کی مدد سے محروم ہیں) جہاد کرو، شیطان ان کفری تدبیروں کا حکم کرتا ہے) شیطانی تدبیر (خود) لچر ہوتی ہے، (کیونکہ اس میں غیبی امداد نہیں ہوتی اور کبھی چند روزہ غلبہ ہوجانا تو ان کو چند روزہ مہلت اور ڈھیل دینا ہے، تو غیبی امداد جو مؤمنین کے ساتھ ہے وہ تدبیر اس کا کیا مقابلہ کرے گی۔
خلاصہ یہ کہ داعی بھی ہے اور وعدہ نصرت بھی ہے، پھر کیا عذر ہے ؟ اس لئے مکرر تاکید کی گئی۔
معارف مسائل
مظلوم کی فریاد رسی اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے۔
مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے جو جسمانی ضعف اور کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے تھے اور بعد میں کافروں نے بھی ان کو جانے سے روک دیا اور طرح طرح کی اذیتیں دینی شروع کردیں، تاکہ یہ لوگ اسلام سے پھرجائیں، ان حضرات میں سے بعضوں کے نام ہی تفاسیر میں مذکور ہیں، مثلاً ابن عباس اور ان کی والدہ سلمہ بن ہشام ولید بن ولید اور ابوجندل بن سہل (قرطبی) یہ حضرات اپنے ایمان کی پختگی کی وجہ سے ان کے ظلم و ستم کو جھیلتے اور سہتے رہے اور اسلام پر بڑی مضبوطی سے جمے رہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے ان مصائب سے نجات کی دعائیں انہوں نے برابر جاری رکھیں، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جہاد کر کے ان کو کفار کے جبر و تشدد سے چھٹکارا دلوائیں۔
اس آیت میں مؤمنین نے اللہ تعالیٰ سے دو چیزوں کی درخواست کی تھی ایک یہ کہ ہم کو اس قریہ سے نکالیں (یہاں قریہ سے مراد مکہ ہے) دوسری یہ کہ ہمارے لئے کوئی ناصر اور مددگار بھیج دیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دونوں باتیں قبول فرمائی ہیں، اس طرح کہ بعض کو وہاں سے نکلنے کے مواقع میسر کئے جن سے ان کی پہلی بات پوری ہوئی، بعض اسی جگہ رہے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو ان کا متولی مقرر کیا، جنہوں نے مظلومین کو ان کے ظالمین سے نجات دلائی، اس طرح سے ان کی دوسری بات بھی پوری ہوگئی، اس آیت میں صاف لفظوں میں حکم قتال دینے کے بجائے قرآن نے یہ الفاظ اختیار کئے، مالکم لاتقاتلون جن میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان حالات میں قتال جہاد ایک طبعی اور فطری فریضہ ہے، جس کا نہ کرنا کسی بھلے آدمی سے بہت بعید ہے۔
Ayah 4:76اللہ تعالیٰ سے دعا تمام مصائب کا بہترین علاج ہے
آیت یقولون ربنا اخرجنا سے یہ بتلایا گیا کہ حکم قتال کا ایک سبب ان کمزور مسلمان مردوں اور عورتوں کی دعاء تھی جس کی قبولیت مسلمان کو حکم جہاد دے کر کی گئی اور ان کی مصائب کا فوری خاتمہ ہوگیا۔
جنگ تو سب کرتے ہیں مگر اس سے مومن اور کافر کے مقاصد الگ الگ ہیں۔
الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ اس آیت میں بتلایا گیا کہ مؤمنین اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومن کی جدوجہد کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو اور اللہ تعالیٰ کا حکم بلند ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا مالک ہے اور اس کا قانون خالص انصاف پر مبنی ہے اور جب انصاف کی حکوتم قائم ہوگی تو امن قائم رہے گا دنیا کے امن کے لئے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں وہ قانون رائج ہو جو خدا کا قانون ہے، لہذا کامل مومن جب جنگ کرتا ہے تو اس کے سامنے یہی مقصد ہوتا ہے۔
لیکن اس کے مقابل ہمیں کفار کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کفر کی ترویج ہو اور کفر کا غلبہ ہو اور طاغوتی قوتیں برسر اقتدار آئیں، تاکہ دنیا میں کفر و شرک خوب چمکے اور چونکہ کفر و شرک شیطان کی راہیں ہیں، اس لئے کافر شیطان کے کام میں اس کی مدد کرتے ہیں۔
شیطان کی تدبیر ضعیف ہے۔
ان کید الشیطن کان ضعیفاً اس آیت میں بتلایا گیا کہ شیطانی تدابیر لچر اور کمزور ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ مومنین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لہٰذا مسلمانوں کو شیطان کے دوستوں یعنی کافروں سے لڑنے میں کوئی تامل نہ ہونا چاہئے، اس لیے کہ ان کا مددگار اللہ تعالیٰ ہے اور کافروں کو شیطان کی تدبیرو کوئی فائدہ نہ دے گی۔
چنانچہ جنگ بدر میں ایسا ہی ہوا کہ پہلے شیطان کافروں کے سامنے لمبی ڈینگیں مارتا رہا اور اس نے کافروں کو مکمل یقین دلایا کہ”لاغالب لکم الیوم“ آج کے دن تم لوگوں کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا اس لئے کہ ”انی جارلکم“ (میں تمہارا مددگار ہوں) میں اپنے تمام لاؤ لشکر کے ساتھ تمہاری مدد کو آؤں گا، جب تک جنگ شروع ہوئی تو وہ اپنے لشکر کے ساتھ اگرچہ آگے بڑھا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کی حمایت میں فرشتے آپہنچے ہیں تو اس نے اپنی تدبیر کو ناکام پا کر الٹے پاؤں بھاگنا شروع کردیا اور اپنے دوستوں یعنی کافروں سے کہا”انی بری منکم، انی اری مالاترون انی اخاف اللہ، واللہ شدید العاقب ”میں تم لوگوں سے بری ہوں، اس لئے کہ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جس کی تم کو خبر نہیں (یعنی فرشتوں کا لشکر) میں اللہ سے ڈرتا ہوں کیونکہ وہ سخت عذاب دینے والا ہے“ (مظہری)
اس آیت میں شیطان کی تدبیر کو جو ضعیف کہا گیا ہے اس کے لئے اسی آیت سے دو شرطیں بھی مفہوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ وہ آدمی جس کے مقابلہ میں شیطان تدبیر کر رہا ہے مسلمان ہو اور دوسری یہ کہ اس کا کام محض اللہ ہی کے لئے ہو، کوئی دینی نفسانی غرض نہ ہو، پہلی شرط الذین امنوا سے اور دوسری یقاتلون فی سبیل اللہ سے معلوم ہوتی ہے، اگر ان دونوں شرطوں میں سے کوئی فوت ہوجائے تو پھر ضروری نہیں کہ شیطان کی تدبیر اس کے مقابل میں کمزور ہو۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ”جب تم شیطان کو دیکھو تو بغیر کسی خوف و خدشہ کے اس پر حملہ کردو۔“ اس کے بعد آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ان کید الشیطن کان ضعیفاً (احکام القرآن للسیوطی)