4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

حکم کرتا ہے تم کو اللہ تمہاری اولاد کے حق میں کہ ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے پھر اگر صرف عورتیں ہی ہوں دو سے زیادہ تو ان کے لئے دو تہائی اس مال سے جو چھوڑا مرا اور اگر ایک ہی ہو تو اس کیلئے آدھا ہے، اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کیلئے دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے اس مال سے جو کہ چھوڑ مرا اگر میت کے اولاد ہے اور اگر اس کے اولاد نہیں اور وارث ہیں اس کے ماں باپ تو اس کی ماں کا ہے تہائی پھر اگر میت کے کئی بھائی ہیں تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ بعد وصیت کے جو کر مرا یا بعد ادائے قرض کے تمہارے باپ اور بیٹے تم کو معلوم نہیں کون نفع پہنچائے تم کو زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا اللہ کا ہے، بیشک اللہ خبردار ہے حکمت والا۔

ربط آیات پچھلے رکوع میں للرجال نصیب مماترک الوالدن الخ میں میراث کا استحقاق رکھنے والے لوگوں کا اجمالاً ذکر تھا، اس رکوع میں انہی مستحقین میراث کی بعض اقسام کی تفصیل مذکور ہے اور ان کے مختلف حالات کے اعتبار سے ان کے حصص بیان کئے گئے ہیں، اس سلسلہ کی کچھ تفصیل سورت کے آخر میں آ رہی ہے اور باقی ماندہ حصوں کو احادیث کے اندر بیان کیا گیا ہے، فقہاء نے نصوص شرعیہ سے اس کی تمام تفصیلات اخذ کر کے مستقل فن ”فرائض“ کی شکل میں مدون کردیئے ہیں۔ مندرجہ آیت میں اولاد اور والدین کے حصص بیان کئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ میراث کے کچھ اور مسائل بھی مذکور ہیں۔ خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے (میراث پانے) کے باب میں (وہ یہ کہ) لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر (یعنی لڑکا لڑکی ایک ایک یا کئی کئی مل جلی ہوں تو ان کے حصوں میں باہم یہ نسبت ہوگی کہ ہر لڑکے کو دوہرا اور ہر لڑکی کو اکہرا) اور اگر (اولاد میں) صرف لڑکیاں ہی ہوں، گو دو سے زیادہ ہوں تو ان لڑکیوں کو دو تہائی ملے گا اس مال کا جو کہ مورث چھوڑ مرا ہے (اور اگر دو لڑکیاں ہوں تب تو دو تہائی ملنا بہت ہی ظاہر ہے، کیونکہ اگر ان میں ایک لڑکی کی جگہ لڑکا ہوتا تو اس لڑکی کا حصہ باوجودیکہ بھائی سے کم ہے ایک تہائی سے نہ گھٹتا، پس جب دوسری بھی لڑکی ہے، تب تو تہائی سے کسی طرح گھٹ نہیں سکتا اور دونوں لڑکیاں یکساں حالت میں ہیں، پس اس کا بھی ایک تہائی ہوگا، دونوں کا مل کردو تہائی ہوا، البتہ تین لڑکیوں میں شبہ تھا کہ شاید ان کو تین تہائی یعنی کل مل جاوے، اس لئے فرمایا کہ گو لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں گی مگر دو تہائی سے نہ بڑھے گا) اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو (کل ترکہ کا) نصف ملے گا (اور پہلی صورت میں ایک ثلث بچا ہوا اور دوسری صورت کا ایک نصف بچا ہوا دوسرے خاص خاص اقارب کا حق ہے، یا اگر کوئی نہ ہو تو پھر اسی کو دے دیاجاوے گا، جیسا کہ کتب فرائض میں مذکور ہے) اور ماں باپ (کو میراث ملنے میں تین صورتیں ہیں، ایک صورت تو ان) کے لئے یعنی دونوں میں سے ہر ایک کے لئے میت کے ترکہ میں سے چھٹا چھٹا حصہ (مقرر) ہے، اگر میت کے کچھ اولاد ہو (خواہ مذکر یا مونث خواہ ایک یا زیادہ اور بقیہ میراث اولاد اور دوسرے خاص خاص ورثہ کو ملے گی اور پھر بھی بچ جاوے تو پھر سب کو دی جاوے گی) اور اگر اس میت کے کچھ اولاد نہ ہو اور (صرف) اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں (یہ دوسری صورت ہے اور ”صرف“ اس لئے کہا کہ بھائی بہن بھی نہ ہو، جیسا آگے آتا ہے) تو (اس صورت میں) اس کی ماں کا ایک تہائی ہے (اور باقی دو تہائی باپ کا اور چونکہ صورت مفروضہ میں یہ ظاہر تھا، اس لئے تصریح کی حاجت نہیں ہوئی) اور اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہن (کسی قسم کے) ہوں (خواہ ماں باپ دونوں میں شریک جس کو عینی کہتے ہیں، خواہ صرف باپ ایک ماں الگ الگ جس کو علاقی کہتے ہیں خواہ صرف ماں ایک باپ الگ الگ جس کو اخیافی کہتے ہیں، غرضیکہ کسی طرح کے بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں اور اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہوں اور یہ تیسری صورت ہے) تو (اس صورت میں) اس کماں کو (ترکہ کا) چھٹا حصہ ملے گا (اور باقی باپ کو ملے گا ........ یہ سب حصے) وصیت (کے قدر مال) نکال لینے کے بعد کہ میت اس کی وصیت کر جاوے یا دین (اگر ہو تو اس کو بھی نکال لینے) کے بعد (تقسیم ہوں گے) تمہارے اصول و فروع جو ہیں تم (ان کے متعلق) پورے طور پر یہ نہیں جان سکتے ہو کہ ان میں کا کونسا شخص تم کو (دنیوی یا اخروی) نفع پہنچانے میں (باعتبار توقع کے) نزدیک تر ہے (یعنی اگر تمہاری رائے پر یہ قصہ رکھا جاتا تو بغالب احوال تم لوگ تقسیم میں مدار ترجیح و تفصیل کا اس شخص کے نفع رسانی پر رکھتے اور اس مدار کے تیقن کا خود کوئی طریقہ کسی کے پاس نہیں ہے تو اس کا مدار تجیز ٹھہرانا ہی صحیح نہ تھا پس جب نفع میں مدار بننے کی قابلیت نہ تھی اس لئے دوسرے مصالح اور اسرار کو گو وہ تمہارے ذہن میں نہ آویں اس حکم کا منبی اور مدار ٹھہرا کر) یہ حکم منجانب اللہ مقرر کردیا گیا (اور یہ امر) بالیقین (مسلم ہے کہ) اللہ تعالیٰ بڑے علم والے اور حکمت والے ہیں (پس جو حکمتیں انہوں نے اپنے علم سے اس میں مرعی رکھی ہیں وہی قابل اعتبار ہیں، اس لئے تمہاری رائے پر نہیں رکھا۔) معارف و مسائل حقوق متقدمہ علی المیراث۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ مرنے والے کے مال سے پہلے شریعت کے مطابق اس کے کفن دفن کے اخراجات پورے کئے جائیں، جن میں نہ فضول خرچی ہو نہ کنجوسی ہو، اس کے بعد اس کے قرضے ادا کئے جائیں، اگر قرضے اتنے ہی ہوں جتنا اس کا مال ہے یا اس سے بھی زیادہ تو نہ کسی کو میراث ملے گی نہ کوئی وصیت نافذ ہوگی اور اگر قرضوں کے بعد مال بچ جائے یا قرضے بالکل ہی نہ ہوں تو اگر اس نے کوئی وصیت کی ہو اور وہ کسی گناہ کی وصیت نہ ہو، تو اب جو مال موجود ہے اس کے ایک تہائی میں سے اس کی وصیت نافذ ہوجائے گی، اگر کوئی شخص پورے مال کی وصیت کر دے تب بھی تہائی مال ہی میں وصیت معتبر ہوگی ........ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا مناسب بھی نہیں ہے اور وارثوں کو محروم کرنے کی نیت سے وصیت کرنا گناہ بھی ہے۔ اداء دین کے بعد ایک تہائی میں وصیت نافذ کر کے شرعی وارثوں میں تقسیم کردیا جائے جس کی تفصیلات فرائض کی کتابوں میں موجود ہیں، اگر وصیت نہ کی ہو تو اداء دین کے بعد پورا مال میراث میں تقسیم ہوگا۔ اولاد کا حصہ۔ جیسا کہ گزشتہ رکوع میں گزر چکا ہے کہ میراث کی تقسیم الاقرب فالاقرب کے اصول پر ہوگی، مرنے والے کی اولاد اور اس کے والدین چونکہ اقرب ترین ہیں، اس لئے ان کو ہر حال میں میراث ملتی ہے، یہ دونوں رشتے انسان کے قریب ترین اور بلاواسطہ رشتے ہیں، دوسرے رشتے بالواسطہ ہوتے ہیں، قرآن شریف میں پہلے انہی کے حصے بیان فرمائے اور اولاد کے حصہ سے شروع فرمایا، چناچہ ارشاد ہے۔ یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثین، یہ ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے جس نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو میراث کا مستحق بھی بنادیا اور ہر ایک کا حصہ بھی مقرر کردیا اور یہ اصول معلوم ہوگیا کہ جب مرنے والے کی اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں تو ان کے حصہ میں جو مال آئے گا اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دوگنا مل جائے، مثلاً کسی نے ایک لڑکا دو لڑکیاں چھوڑے تو مال کے چار حصے کر کے 4/2 لڑکے کو اور 4/1 ہر لڑکی کو دے دیا جائے گا۔ لڑکیوں کو حصہ دینے کی اہمیت۔ قرآن مجید نے لڑکیوں کو حصہ دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتلایا اور بجائے لانثین مثل حظ الذکر (دو لڑکیوں کو ایک لڑکے کے حصہ کے بقدر) فرمانے کے للذکر مثل حظ الانثیین (لڑکے کو دو لڑکیوں کے حصہ کے بقدر) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ........ جو لوگ بہنوں کو حصہ نہیں دیتے، اور وہ یہ سمجھ کر بادل ناخواستہ شرما شرمی معاف کردیتی ہیں کہ ملنے والا تو ہے ہی نہیں تو یوں بھائیوں سے برائی لیں، ایسی معافی شرعاً معافی نہیں ہوتی، ان کا حق بھائیوں کے ذمہ واجب رہتا ہے، یہ میراث دبانے والے سخت گنہگار ہیں، ان میں بعض بچیاں نابالغ بھی ہوتی ہیں، ان کو حصہ نہ دینا دوہرا گناہ ہے ایک گناہ وارث شرعی کے حصہ کو دبانے کا اور دوسرا یتیم کے مال کو کھانے کا۔ اس کے بعد مزید تشریح فرماتے ہوئے لڑکیوں کا حصہ یوں بیان فرمایا فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ماترک یعنی اگر نرینہ اولاد نہ ہوں اور صرف لڑکیاں ہوں اور ایک سے زائد ہوں تو ان کو مال موروث سے دو تہائی مال ملے گا، جس میں سب لڑکیاں برابر کی شریک ہوں گی اور باقی ایک تہائی دوسرے ورثاء مثلاً میت کے والدین، بیوی یا شوہر وغیرہ میراث کے حق داروں کو ملے گا، دو لڑکیاں اور دو سے زائد سب دو تہائی میں شریک ہوں گی۔ دو لڑکیوں سے زائد کا حکم تو قرآن کی آیت میں صراحتہ مذکور ہے، جیسا کہ فوق اثنین کے الفاظ اس پر دلالت کر رہے ہیں، اور لڑکیاں دو ہوں تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو دو سے زیادہ کا حکم ہے، اس کا ثبوت حدیث شریف میں مذکور ہے ترجمہ۔ ”جابر ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آنحضرت ﷺ کے ہمراہ باہر نکلے، اتنے میں ہمارا گذارا سواف میں ایک انصاری عورت پر ہوا، وہ عورت اپنی دو لڑکیوں کو لے کر آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول یہ دونوں لڑکیاں ثابت بن قیس (میرے شوہر) کی ہیں، جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوگئے ہیں، ان لڑکیوں کا چچا ان کے پورے مال اور ان کی پوری میراث پر خود قابض ہوگیا ہے اور ان کے واسطے کچھ باقی نہیں رکھا، اس معاملہ میں آپ کیا فرماتے ہیں، خدا کی قسم اگر ان لڑکیوں کے پاس مال نہ ہوگا تو کوئی شخص ان کو نکاح میں رکھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تیرے حق میں فیصلہ فرما دے گا، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر جب سورة نساء کی یہ آیت ”یوصیکم اللہ فی اولادکم“ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس عورت اور اس کے دیور کو (لڑکیوں کا وہ چچا جس نے سارے مال پر قبضہ کرلیا تھا) بلایا آپ نے لڑکیوں کے چچا سے فرمایا کہ لڑکیوں کو کل مال کا دو تہائی حصہ دو ، ان کی ماں کو آٹھواں حصہ اور جو بچے وہ تم خود رکھ لو۔“ اس حدیث میں جس مسئلہ کا ذکر ہے اس میں آپ نے دو لڑکیوں کو بھی دو تہائی حصہ لے دیا۔ جس طرح دو سے زیادہ کا یہی حکم خود قرآن کریم کی مذکورہ آیت میں منصوص ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایاوان کانت واحدة فلھا النصف ”یعنی اگر مرنے والے نے اپنی اولاد میں صرف ایک لڑکی چھوڑی اور اولاد نرینہ بالکل نہ ہو، تو اس کو اس کے والد یا والدہ کے چھوڑے ہوئے مال موروث کا آدھا حصہ ملے گا، باقی دوسرے ورثاء لے لیں گے۔“ والدین کا حصہ۔ اس کے بعد خداوند قدوس نے مرنے والے کے ماں باپ کا حصہ بتایا اور تین حالتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ والدین دونوں زندہ چھوڑے ہوں اور اولاد بھی چھوڑی، خواہ ایک ہی لڑکا یا لڑکی ہو اس صورت میں ماں باپ کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا، دیگر ورثہ اولاد اور بیوی یا شوہر لے لیں گے اور بعض حالات میں کچھ بچا ہوا پھر والد کو پہنچ جاتا ہے جو اس کے لئے مقرر چھٹے حصہ کے علاوہ ہوتا ہے علم فرائض کی اصطلاح میں اس طرح کے استحقاق کو استحقاق تعصیب کہتے ہیں۔ دوسری حالت یہ بتائی کہ مرنے والے کی اولاد اور بھائی بہن نہ ہوں اور ماں باپ موجود ہوں اس صورت میں مال موروث کا تہائی 3/1 ماں کو اور باقی دو تہائی والد کو مل جائیں گے، یہ اس صورت کا حکم ہے جب کہ مرنے والے کے ورثہ میں اس کا شوہر یا اس کی بیوی بھی موجود نہ ہو، اگر شوہر یا بیوی موجود ہے تو سب سے پہلے ان کا حصہ الگ کیا جاوے گا اور باقی میں 3/1 والدہ کو اور 3/2 والد کو مل جائے گا۔ تیسری حالت یہ ہے کہ مرنے والے کی اولاد تو نہ ہوں لیکن بھائی بہن ہوں جن کی تعداد دو ہو، خواہ دو بھائی ہوں، خواہ دو بہنیں ہوں، یا دو سے زیادہ ہوں، اس صورت میں ماں کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اور کوئی وارث نہیں تو بقیہ 6/5 حصہ باپ کو مل جائیں گے، بھائیوں اور بہنوں کی موجودگی سے ماں کا حصہ کم ہوگیا، لیکن بھائی بہن کو بھی کچھ نہ ملے گا کیونکہ باپ بہ نسبت بھائی بہن کے اقرب ہے، جو بچے گا باپ کو مل جائے گا، اس صورت میں ماں کا حصہ 3/1 کے بجائے 6/1 ہوگیا، ”فرائض“ کی اصطلاح میں اس کو حجب نقصان کہتے ہیں اور یہ بہن بھائی جن کی وجہ سے والدین کا حصہ کٹ رہا ہے، خواہ حقیقی ہوں خواہ باپ شریک ہوں، خواہ ماں شریک ہوں، ہر صورت میں ان کے وجود سے ماں کا حصہ گھٹ جائے گا، بشرطیکہ ایک سے زیادہ ہوں۔ حصص مقررہ بیان کرنے کے بعد فرمایااباؤ کم وابنآؤ کم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیماً ”یعنی اولاد اور ماں باپ کے یہ حصے خداوند عالم نے اپنے طور پر مقرر کردیئے ہیں اور اللہ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہ حکیم ہے جو حصے مقرر کئے گئے ہیں ان میں بڑی حکمتیں ہیں، اگر تمہاری رائے پر تقسیم میراث کا قصہ رکھا جاتا تو مدار تقسیم تم لوگ نفع رساں ہونے کو بناتے، لیکن نفع رساں کون ہوگا ؟ اور سب سے زیادہ نفع کس سے پہنچ سکتا ہے ؟ اس کا یقینی علم حاصل کرنا تمہارے لئے مشکل تھا، اس لئے بجائے نافع ہونے کے اقربیت کو مدار حکم بنایا۔“ قرآن کریم کی اس آیت نے بتلا دیا کہ میراث کے جو حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ اس کا طے شدہ حکم ہے، اس میں کسی کو رائے زنی یا کمی بیشی کا کوئی حق نہیں اور تمہیں پورے اطمینان قلب کے ساتھ اسے قبول کرنا چاہئے تمہارے خالق ومالک کا یہ حکم بہترین حکمت و مصلحت پر مبنی ہے، تمہارے نفع کا کوئی پہلو اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے اور جو کچھ حکم وہ کرتا ہے کسی حکمت سے خالی نہیں ہوتا، تمہیں خود اپنے نفع و نقصان کی حقیقی پہچان نہیں ہو سکتی، اگر تقسیم میراث کا مسئلہ خود تمہاری رائے پر چھوڑ دیا جاتا تو تم ضرور اپنی کم فہمی کی وجہ سے صحیح فیصلہ نہ کر پاتے اور میراث کی تقسیم میں بےاعتدالی ہوجاتی، اللہ جل شانہ نے یہ فریضہ اپنے ذمہ لے لیا، تاکہ مال کی تقسیم میں عدل و انصاف کی پوری پوری رعایت ہو اور میت کا سرمایہ منصفانہ طریقہ سے مختلف مستحقین کے ہاتھوں میں گردش کرے۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارا ہے آدھا مال جو کہ چھوڑ مریں تمہاری عورتیں اگر نہ ہو ان کے اولاد اور اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے واسطے چوتھائی ہے اس میں سے جو چھوڑ گئیں بعد وصیت کے جو کر گئیں یا بعد قرض کے اور عورتوں کے لئے چوتھائی مال ہے اس میں سے جو چھوڑو مرو تم اگر نہ ہو تمہارے اولاد اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس میں سے جو کچھ کہ تم نے چھوڑا بعد وصیت کے جو تم کر مرو یا قرض کے۔ اور اگر وہ مرد کہ جس کی میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا یا عورت ہو ایسی ہی اور اس میت کے ایک بھائی ہے یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے، اور اگر زیادہ ہو اس سے تو سب شریک ہیں ایک تہائی میں بعد وصیت کے جو ہوچکی ہے یا قرض کے جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو، یہ حکم ہے اللہ کا اور اللہ ہے سب کچھ جاننے والا تحمل کرنیوالا۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات یہاں تک ان مستحقین میراث کے حصص کا بیان تھا جن کا میت کے ساتھ نسب اور ولادت کا رشتہ تھا، مذکورہ آیت میں بعض دوسرے مستحقین کا ذکر ہے اور میت سے ان کا رشتہ نسب کا نہیں، بلکہ ازدواج کا ہے، جس کا بیان یہ ہے اور تم کو آدھا ملے گا اس ترکہ کا جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جاویں، اگر ان کے کچھ اولاد نہ ہو، (نہ مذکر نہ مونث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو (خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے) تو (اس صورت میں) تم کو ان کے ترکہ سے ایک چوتھائی ملے گا (یہ کل دو صورتیں ہوئیں اور دونوں صورتوں میں بقیہ دوسرے ورثاء کو ملے گا، لیکن ہر صورت میں یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے بعد کہ وہ اس کی وصیت کر جائیں یا دین (اگر ہو تو اس کے نکالنے) کے بعد (ملے گا) اور بیبیوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ (خواہ وہ ایک ہو یا کئی ہوں تو وہ چوتھائی سب میں برابر بٹ جاوے گا) اگر تمہارے کچھ اولاد نہ ہو (نہ مذکر نہ مونث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر تمہاری کچھ اولاد ہو (خواہ ان بیبیوں سے یا اور عورت سے) تو (اس صورت میں) ان کو (خواہ وہ ایک ہو یا کئی) تمہارے ترکہ سے آٹھواں حصہ ملے گا (یہ بھی دو صورتیں ہوئیں اور دونوں صورتوں میں بقیہ دوسرے ورثاء کو ملے گا، لیکن یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین (اگر ہو تو اسکے بھی نکالنے) کے بعد (ملے گی) معارف و مسائل شوہر اور بیوی کا حصہ۔ مندرجہ بالا سطور میں شوہر اور بیوی کے حصوں کی تعیین کی گئی ہے اور پہلے شوہر کا حصہ بتایا، شاید اس کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ اس کی اہمیت ظاہر کرنا مقصود ہے، کیونکہ عورت کی وفات کے بعد شوہر دسرے گھر کا آدمی ہوجاتا ہے، اگر اپنے میکہ میں عورت کا انتقال ہوا ہو اور اس کا مال وہیں ہو تو شہر کا حصہ دینے سے گریز کیا جاتا ہے، گویا اس زیادتی کا سدباب کرنے کے لئے شوہر کا حصہ پہلے بیان فرمایا اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر کوئی بھی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کے بعد اداء دین و انفاذ وصیت کے مرحومہ کے کل کا نصف ملے گا اور باقی نصف میں دوسرے ورثاء مثلاً مرحومہ کے والدین، بھائی بہن، حسب قاعدہ حصہ پائیں گے۔ اور اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو، ایک ہو یا دو ہوں یا اس سے زائد ہوں، لڑکا ہو یا لڑکی ہو، اس شوہر سے ہو جس کو چھوڑ کر وفات پائی ہے، یا اس سے پہلے کسی اور شوہر سے ہو، تو اس صورت میں موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے اداء دین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی ملے گا اور بقیہ تین چوتھائی حصے دوسرے ورثاء کو ملیں گے ........ یہ شوہر کے حصہ کی تفصیل تھی۔ اور اگر میاں بیوی میں سے مرنے والا شوہر ہے اور اس نے کوئی اولاد نہیں چھڑی تو اداء دین و انفاذوصیت کے بعد بیوی کو مرنے والے کے کل مال کا چوتھائی ملے گا اور اگر اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہے، خواہ اس بیوی سے ہو یا کسی دوسری بیوی سے تو اس صورت میں بعد ادا دین و وصیت کے آٹھواں حصہ ملے گا، اگر بیوی ایک سے زائد ہے تو بھی مذکورہ تفصیل کے مطابق ایک بیوی کے حصہ میں جتنی میراث آئے گی، وہ ان سب بیویوں میں تقسیم کی جائے گی، یعنی ہر عورت کو چوتھائی اور آٹھواں حصہ نہیں ملے گا، بلکہ سب بیویاں چوتھائی اور آٹھویں حصہ میں شریک ہوں گی اور ان دونوں حالتوں میں شوہر، بیوی کو ملنے کے بعد جو کچھ ترکہ بچے گا وہ ان کے دوسرے ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔ مسئلہ۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ بی بی کا مہر ادا ہوگیا ہے یا نہیں، اگر بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو دوسرے قرضوں کی طرح اولاً کل مال سے دین مہر ادا ہوگا اس کے بعد ترکہ تقسیم ہوگا اور مہر لینے کے بعد عورت اپنی میراث کا حصہ بھی میراث میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے وصول کرلے گی اور اگر میت کا مال اتنا ہے کہ مہر ادا کرنے کے بعد کچھ نہیں بچتا تو بھی دوسرے دیون کی طرح پورا مال دین مہر میں عورت کو دے دیا جائے گا اور کسی وارث کو کچھ حصہ نہ ملے گا۔ خلاصہ تفسیر ربط آیت نسب اور ازدواج سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں ان کے مختصر حقوق بیان کرنے کے بعد اب ایسے میت کے ترکہ کا حکم بیان کیا جا رہا ہے جس نے اولاد یا والدین نہ چھوڑے ہوں اور اگر کوئی میت جس کی میراث دوسروں کو ملے گی خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت، ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں (یعنی باپ دادا) اور نہ فروع ہوں (یعنی اولاد اور بیٹے کی اولاد) اور اس (میت) کے ایک بھائی یا ایک بہن (اخیافی) ہو، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر یہ لوگ اس سے (یعنی ایک سے) زیادہ ہوں (مثلاً دو ہوں یا اور زیادہ) تو وہ سب تہائی میں (برابر کے) شریک ہوں گے (اور ان میں مذکر و مونث کا برابر حصہ ہے اور بقیہ میراث دوسرے ورثاء کو اور اگر کوئی اور نہ ہو تو پھر انہی کو دی جائے گی یہ دو صورتیں ہوئیں اور دونوں صورتوں میں یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے بعد جس کی وصیت کردی جاوے یا (اگر) دین (ہو تو اس کے بھی نکالنے) کے بعد (ملے گی) بشرطیکہ (وصیت کرنے والا) کسی (وارث) کو ضرر نہ پہنچاوے (نہ ظاہرانہ اردة ظاہراً یہ کہ مثلاً ثلث سے زیادہ وصیت کرے، تو وہ وصیت میراث پر مقدم نہ ہوگی اور ارادۃ یہ کہ رہے ثلث کے اندر، لیکن نیت یہ ہو کہ وارث کو کم ملے، یہ ظاہراً نافذ ہوجاوے گی، لیکن گناہ ہوگا) یہ (جس قدر یہاں تک مذکور ہوا) حکم کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں (کہ کون مانتا ہے کون نہیں مانتا اور نہ ماننے والوں کو جو فوراً سزا نہیں دیتے، تو وجہ یہ کہ) حلیم (بھی ہیں۔) معارف و مسائل کلالہ کی میراث۔ ان سطور میں کلالہ کی میراث بیان کی گئی ہے، کلالہ کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں، جو علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کی ہیں، مشہور تعریف یہی ہے جو خلاصہ تفسیر میں مذکور ہے کہ جس مرنے والے کے اصول اور فروع نہ ہوں وہ کلالہ ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ کلالہ اصل میں مصدر ہے جو کلال کے معنی میں ہے اور کلال کے معنی ہیں تھک جانا جو ضعف پر دلالت کرتا ہے، باپ بیٹے والی قرابت کے وسا قرابت کو کلالہ کہا گیا، اس لئے کہ وہ قرابت باپ بیٹے کی قرابت کی نسبت سے کمزور ہے۔ پھر کلالہ کا اطلاق اس مرنے والے پر بھی کیا گیا جس نے نہ اولاد چھوڑی اور نہ والد اور اس وارث پر بھی اطلاق کیا گیا جو مرنے والے کا ولد اور والد نہ ہو، لغت کے اعتبار سے جو اشتقاق بتلایا اس کا تقاضا ہے کہ لفظ ”ذو“ مقدر ہو اور کلالہ بمعنی ”ذوکلالہ“ ہوگا، یعنی ضعیف رشتہ والا، پھر اس مال موروث پر بھی اس کا اطلاق ہونے لگا، جو ایسے میت نے چھوڑا ہوا جس کا کوئی ولد اور والد نہ ہو۔ حاصل کلام یہ کہ اگر کوئی شخص مرد یا عورت وفات پا جائے اور اس کے نہ باپ ہو نہ دادا اور نہ اولاد ہو اور اس نے ایک بھائی یا بہن ماں شریک چھوڑے ہوں، تو ان میں سے اگر بھائی ہے تو اس کو چھٹا حصہ ملے گا اور نہیں ہے تو بہن کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر ایک سے زیادہ ہوں مثلاً ایک بھائی ایک بہن ہو یا دو بھائی یا دو بہنیں ہوں تو یہ سب مرنے والے کے کل ماں کے تہائی حصے میں شریک ہوں گے اور اس میں مذکر کو مونث سے دوہرا نہیں ملے گا، علامہ قرطبی فرماتے ہیں ولیس فی الفرائض موضع یکون فیہ الذکرو الانثی سوآء الا فی میراث الاخوة للام بہن بھائی کا حصہ۔ واضح رہے کہ اس آیت میں اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی کا حصہ بتلایا گیا ہے، اگرچہ قرآن کریم کی اس آیت میں یہ قید مذکور نہیں ہے لیکن یہ قید بالاجماع معتبر ہے، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی قرات بھی اس آیت میں اس طرح ہےولہ اخ اواخت من امہ جیسا کہ علامہ قرطبی، صاحب المعانی اور ابوبکر حصاص اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے، گو یہ قرات متواتر نہیں ہے، لیکن اجماع امت ہونے کی وجہ سے معمول بہا ہے اور اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورة نساء کے ختم پر بھی کلالہ کی میراث کا ذکر کیا ہے، وہاں بتایا ہے کہ اگر ایک بہن ہو تو اس کو آدھا ملے گا اور اگر ایک بھائی ہو تو اپنی بہن کے پورے مال کا وارث بنے گا اور اگر دو بہنیں ہوں تو دو تہائی مال پائیں گی اور اگر متعدد بھائی بہن ہوں تو مذکر کو مونث سے دوہرا دیا جائے گا سورت کے ختم پر جو یہ حکم ارشاد فرمایا ہے، عینی حقیقی بہن بھائی اور علاتی یعنی باپ شریک بہن بھائی کا ذکر ہے، اگر یہاں علاتی اور عینی بھائی بہن کو شامل کرلیا جائے تو احکام میں تعارض لازم آجائے گا۔ وصیت کے مسائل۔ اس رکوع میں تین مرتبہ میراث کے حصے بیان کر کے یہ فرمایا کہ حصوں کی یہ تقسیم وصیت اور دین کے بعد ہے، جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، کہ میت کی تجہیز و تکفین کے بعد کل مال سے قرضے ادا کرنے کے بعد جو بچے اس میں سے تہائی مال وصیت نافذ ہوگی اگر اس سے زیادہ وصیت ہو تو اس کا شرعاً اعتبار نہیں، ضابطہ میں ادائے دین انفاذ وصیت سے مقدم ہے، اگر تمام مال ادائے دیون میں لگ جائے تو نہ وصیت نافذ ہوگی نہ میراث چلے گی، اس رکوع میں تینوں جگہ جہاں جہاں وصیت کا ذکر آیا ہے وہاں وصیت کا ذکر دین سے پہلے کیا گیا ہے، اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وصیت کا حق دین سے مقدم ہے، حضرت علی ؓ نے اس غلط فہمی کو رفع کرتے ہوئے فرمایا۔ ”یعنی آپ حضرات یہ آیت تلاوت کرتے ہیں۔”من بعد وصیتہ توصون بہاء او دین“ اس میں گو لفظ وصیت مقدم ہے، لیکن عملی طور پر حضور اقدس ﷺ نے اس کو دین کے بعد رکھا ہے۔“ تاہم یہ نکتہ معلوم ہونا ضروی ہے کہ اگر عملاً وصیت موخر ہے، تو لفظاً اس کو دین سے پہلے کیوں بیان کیا گیا، صاحب روح المعانی اس بارے میں لکھتے ہیں وتقدیم الوصیة علی الذین ذکرا مع ان الدین مقدم علیھا حکما لاظھار کمال العنایة بتنفیذ ھالکونھا مظنة للتفریط فی ادائھا الخ۔ ”یعنی آیت میں دین پر وصیت کی تقدیم کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ وہ میراث کی طرح بغیر کسی عوض کے ملتی ہے اور اس میں رشتہ دار ہونا بھی ضروری نہیں، اس لئے وارثین کی جانب سے اس کو نافذ کرنے میں کوتاہی ہونے یا دیر ہوجانے کا قوی اندیشہ تھا اپنے مورث کا مال کسی کے پاس جاتا ہوا دیکھنا اس کو ناگوار ہوسکتا تھا، اس لئے شان وصیت کا اہتمام فرماتے ہوئے دین پر اس کو مقدم کیا گیا پھر یہ بھی بات ہے کہ قرض کا ہر میت پر ہونا ضروری نہیں اور اگر زندگی میں رہا ہو تو موت تک اس کا باقی رہنا بھی ضروری نہیں اور اگر موت کے وقت موجود بھی ہو تب بھی چونکہ اس کا مطالبہ حق دار کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے ورثا بھی انکار نہیں کرسکتے اس وجہ سے اس میں کوتاہی کا احتمال بہت کم ہے، بخلاف وصیت کے کہ جب میت مال چھوڑتا ہے تو اس کا یہ بھی دل چاہتا ہے کہ صدقہ جاریہ کے طور پر اپنے مال کا حصہ کسی کارخیر میں صرف کر جائے، یہاں چونکہ اس مال میں کسی کی طرف سے مطالبہ نہیں ہوتا، اس لئے وارثوں کی طرف سے کوتاہی کا امکان تھا، جس کا سدباب کرنے کے لئے بطور خاص ہر جگہ وصیت کو مقدم کیا گیا ہے۔ مسئلہ۔ اگر دین اور وصیت نہ ہو تو تجہیز و تکفین کے بعد بچا ہوا کل مال وارثوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ مسئلہ۔ وارث کے حق میں وصیت کرنا باطل ہے، اگر کسی نے اپنے لڑکے، لڑکی، شوہر یا بیوی کے لئے یا کسی ایسے شخص کے لئے وصیت کی جس کو میراث میں حصہ ملنے والا ہے تو اس وصیت کا کچھ اعتبار نہیں، وارثوں کو صرف میراث کا حصہ ملے گا، اس سے زیادہ کے وہ مستحق نہیں، حضور اقدس ﷺ نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے پس کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت معتبر نہیں۔“ ہاں اگر دیگر وارث اجازت دیدیں تو جس وارث کے لئے وصیت کی ہے، اس کے حق میں وصیت نافذ کر کے باقی مال شرعی طریقہ پر تقسیم کیا جائے جس میں اس وارث کو بھی اپنے حصہ کی میراث ملے گی، بعض روایات حدیث میں الا ان یشآء الورثة کا استثناء بھی مذکور ہے۔ (کما ذکر صاحب الہدایتہ) غیر مضار کی تفسیر۔ کلالہ کی میراث کے خاتمہ پر یہ بتانے کے بعد کہ یہ میراث وصیت اور دین کے بعد نافذ ہوگی، لفظ غیر مضار فرمایا یہ قید اگرچہ صرف اسی جگہ مذکور ہے، لیکن اس سے پہلے جو دو جگہ وصیت اور دین کا ذکر ہے وہاں پر بھی معتبر اور معمول یہ ہے مطلب اس کا یہ ہے کہ مرنے والے کے لئے وصیت یا دین کے ذریعہ وارثوں کو نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے وصیت کرنے یا اپنے اوپر قرض کا فرضی اقرار کرنے میں وارثوں کو محروم کرنے کا ارادہ ہونا اور اس ارادہ پر عمل کرنا سخت ممنوع ہے، اور گناہ کبیرہ ہے۔ دین یا وصیت کے ذریعہ ضرر پہنچانے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، مثلاً یہ کہ قرض کا جھوٹا اقرار کرلے، کسی دوست وغیرہ کو دلانے کے لئے یا اپنے مخصوص مال کو جو اس کا اپنا ذاتی ہے یہ ظاہر کر دے کہ فلاں شخص کی امانت ہے، تاکہ اس میں میراث نہ چلے، یا ایک تہائی سے زائد ملا کی وصیت کرے، یا کسی شخص پر اپنا قرض ہو اور وہ وصول نہ ہوا ہو، لیکن جھوٹ یہ کہہ دے کہ اس سے قرض وصول ہوگیا، تاکہ وارثوں کو نہ مل سکے، یا مرض الوفات میں ایک تہائی سے زیادہ کسی کو ہبہ کر دے۔ یہ صورتیں ضرر پہنچانے کی ہیں، ہر مورث جو دنیا سے جا رہا ہے اسے زندگی کے آخری لمحات میں اس طرح کے اضرار سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنے کی تاکید۔ میراث کے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ پاک نے ارشاد فرمایا وصیة من اللہ، یعنی جو کچھ حصے مقرر کئے گئے اور دین اور وصیت کے بارے میں جو تاکید کی گئی اس سب پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے اللہ پاک کی طرف سے ایک عظیم وصیت اور مہتمم بالشان حکم ہے، اس کی خلاف ورزی نہ کرنا، پھر مزید تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا واللہ علیم حلیم یعنی اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے اور اس نے اپنے علم سے ہر ایک کا حال جانتے ہوئے حصے مقرر فرمائے جو احکام مذکورہ پر عمل کرے گا اللہ کے علم سے اس کی یہ نیکی باہر نہ ہوگی اور جو خلاف ورزی کرے گا اس کی یہ بدکرداری بھی اللہ کے علم میں آئے گی، جس کی پاداش میں اس سے مواخذہ کیا جائے گا۔ نیزجو کوئی مرنے والا دین یا وصیت کے ذریعہ سے ضرر پہنچائے گا اللہ کو اس کا بھی علم ہے، اس کے مواخذہ سے بےخوف نہ رہو، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلاف ورزی کرنے پر اس دنیا میں سزا نہ دے، اس لئے کہ وہ حلیم ہے، خلاف ورزی کرنے والے کو یہ دھوکا نہ لگنا چاہئے کہ میں بچ گیا۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ حدیں باندھی ہوئی اللہ کی ہیں اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور رسول کے اس کو داخل کرے گا جنتوں میں جن کے نیچے بہتی ہی نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے بڑی مراد ملنی

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور نکل جاوے اس کی حدوں سے ڈالے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات میراث کے مذکورہ احکام بیان کرنے کے بعد ان دو آیتوں میں ان احکام کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی فضیلت اور نافرمانی کرنے کی بری عاقبت کا بیان ہے، جس سے احکام مذکورہ کی اہمیت مقصود ہے۔ یہ سب احکام مذکورہ (متعلقہ میراث یا مع احکام یتامی کے) خداوندی ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ اور رسول کی پوری اطاعت کرے گا (یعنی ان ضابطوں کی پابندی کرے گا) اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بہشتوں میں (فوراً) داخل کردیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا، (یعنی پابندی کو ضرروی بھی نہ سمجھے گا اور یہ حالت کفر کی ہے) اس کو (دوزخ کی) آگ میں داخل کریں گے، اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسی سزا ہوگی جس میں ذلت بھی ہے۔“ معارف و مسائل قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ احکام و عقائد کے بیان کے بعد تتمہ کے طور پر ماننے والوں کے لئے ترغیب اور ان کی فضیلت کا ذکر ہوتا ہے اور نہ ماننے والوں کے لئے ترہیب و سزا اور ان کی مذمت مذکور ہوتی ہے۔ یہاں بھی چونکہ احکام کا ذکر تھا اس لئے آخر کی ان دو آیتوں میں اطاعت کرنیوالوں اور نافرمانوں کے نتائج کا ذکر کردیا گیا۔ تکملہ احکام میراث مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔ اگرچہ میراث کی تقسیم نسبی قرابت پر رکھی گئی ہے، لیکن اس میں سے بعض چیزیں مستثنیٰ ہیں، اول یہ کہ مورث اور وارث دو مختلف دین والے نہ ہوں لہٰذا مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوگا خواہ ان میں آپس میں کوئی بھی نسبی رشتہ ہو، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ”یعنی مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔“ یہ حکم اس صورت سے متعلق ہے جب کہ پیدائش کے بعد ہی سے کوئی شخص مسلم یا کافر ہو، لیکن اگر کوئی شخص پہلے مسلمان تھا، پھر العیاذ باللہ اسلام سے پھر گیا اور مرتد ہوگیا، اگر ایسا شخص مر جائے یا مقتول ہوجائے تو اس کا وہ مال جو اسلام کے زمانہ میں کسب کیا تھا، اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گا اور جو ارتداد کے بعد کمایا ہو وہ بیت المال میں جمع کردیا جائے گا۔ لیکن اگر عورت مرتد ہوگئی تو اس کا کل مال خواہ زمانہ اسلام میں حاصل ہوا ہو یا زمانہ ارتداد میں، اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گا لیکن خود مرتد مرد ہو یا عورت اس کو نہ کسی مسلمان سے میراث ملے گی نہ کسی مرتد سے۔ قاتل کی میراث۔ اگر کوئی شخص ایسے آدمی کو قتل کر دے جس کے مال میں اس کو میراث پہنچتی ہو تو یہ قاتل اس شخص کی میراث سے محروم ہوگا۔ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے القاتل لایرث (مشکوة، ص 362) ”یعنی قاتل وارث نہیں ہوگا۔“ البتہ قتل خطا کی بعض صورتیں اس سے مستثنی ہیں (تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔) پیٹ میں جو بچہ ہے اس کی میراث۔ اگر کسی شخص نے اپنی کچھ اولاد چھوڑی اور بیوی کے پیٹ میں بھی بچہ ہے۔ تو یہ بچہ بھی وارثوں کی فہرست میں آئے گا، لیکن چونکہ یہ پتہ چلانا دشوار ہے کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکیاں یا ایک سے زیادہ بچے ہیں اس لئے بچہ پیدا ہونے تک تقسیم میراث ملتوی رکھنا مناسب ہوگا اور اگر تقسیم کرنا ضروری ہی ہو تو سردست ایک لڑکا یا ایک لڑکی فرض کر کے دونوں کے اعتبار سے دو صورتیں فرض کی جائیں، ان دونوں صورتوں میں سے جس صورت میں ورثاء کو کم ملتا ہو وہ ان میں تقسیم کردیا جائے اور باقی اس حمل کے لئے رکھا جائے۔ معتدہ کی میراث۔ جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی ہے، پھر طلاق سے رجوع اور عدت ختم ہونے سے پہلے وفات پا گیا، تو یہ عورت میراث میں حصہ پاوے گی، اس لئے کہ نکاح باقی ہے۔ اور اگر کسی شخص نے مرض الوفات میں بیوی کو طلاق دی، اگرچہ طلاق بائن یا مغلظہ ہی ہو اور عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے مرے گا، تب بھی وہ عورت اس کی وارث ہوگی اور عورت کو وارث بنانے کی وجہ سے دو عدتوں میں سے جو سب سے زیادہ دراز ہو اسی کو اختیار کیا جائے گا، جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہے اور عدت وفات چار مہینہ دس دن ہے، ان دونوں میں عدت زیادہ دنوں کی ہو اسی کو عدت قرار دیا جائے گا، تاکہ جہاں تک ممکن ہو عورت کا حصہ مل سکے۔ اور اگر کسی شخص نے مرض الوفات سے پہلے بائن یا مغلظہ طلاق دی اور اس کے چند دن بعد عورت کی عدت میں وہ فوت ہوگیا، تو اس صورت میں اس کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا، البتہ اگر طلاق رجعی دی ہے تو وہ وارث ہوگی۔ مسئلہ۔ اگر کسی عورت نے شوہر کے مرض وفات میں خود سے خلع کرلیا تو وارث نہیں ہوگی، اگرچہ اس کا شوہر اس کی عدت کے دوران مر جائے۔ عصبات کی میراث۔ فرائض کے مقررہ حصے بارہ ورثاء کے لئے طے شدہ ہیں اور ان وارثوں کو اصحاب الفروض کہا جاتا ہے، جن کی تفصیل کسی قدر اوپر گذر چکی، اگر اصحاب الفروض میں سے کوئی نہ ہو، یا اصحاب الفروض کے حصے دیدینے کے بعد کچھ مال بچ جائے تو وہ عصبہ کو دے دیا جائے گا، اور بعض مرتبہ ایک ہی شخص کو دونوں حیثیتوں سے مال مل جاتا ہے، بعض صورتوں میں میت کی اولاد اور میت کا والد بھی عصبہ ہوجاتے ہیں، دادا کی اولاد یعنی چچا اور باپ کی اولاد یعنی بھائی بھی عصبہ رہ جاتے ہیں۔ عصبات کی کئی قسمیں ہیں جن کی تفصیلات فرائض کی کتابوں میں موجود ہیں، یہاں ایک مثال لکھی جاتی ہے، مثلاً زید فوت ہوگیا اور اس نے اپنے پیچھے چار وارث چھوڑے، بیوی لڑکی، ماں اور چچا، تو اس کے مال کے کل چوبس حصے کئے جائیں گے، جن میں سے آدھا یعنی بارہ حصے لڑکی کو 8/1 کے حساب سے تین حصے بیوی کو 6/1 کے حساب سے چار حصے ماں کو اور بقیہ پانچ حصے جو بچے وہ عصبہ ہونے کی حیثیت سے چچا کو ملیں گے۔ مسئلہ۔ عصباب اگر نہ ہوں تو اصحاب فرائض سے جو مال بچے وہ ان کے حصوں کے مطابق انہی کو دے دیا جاتا ہے اور وہ اس کو علم فرائض کی اصطلاح میں رد کہتے ہیں۔ البتہ شوہر اور بیوی پر رد نہیں ہوتا، کسی حال میں ان کو مقررہ حصے سے زیادہ نہیں دیا جاتا۔ مسئلہ۔ اگر اصحاب فروض میں سے کوئی نہ ہو اور عصبات میں بھی کوئی نہ ہو تو ذوی الارحام کو میراث پہنچ جاتی ہے، ذوی الارحام کی فہرست طویل ہے، نو اسے، نواسیاں، بہنوں کی اولاد، پھوپھیاں، ماموں، خالہ، یہ لوگ ذوی الارحام کی فہرست طویل ہے، نواسے، نواسیاں، بہنوں کی اولاد، پھوپھیاں، ماموں، خالہ، یہ لوگ ذوی الارحام کی فہرست میں آتے ہیں اور اس مسئلہ میں تفصیل ہے، جس کا یہ محل نہیں، یہاں نہیں، یہاں اسی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ لاؤ ان پر چار مرد اپنوں میں سے پھر اگر وہ گواہی دیویں تو بند رکھو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ اٹھالیوے ان کو موت یا مقرر کردے اللہ ان کے لئے کوئی راہ

خلاصہ تفسیر ربط آیات۔ ماقبل کی آیات میں ان بےاعتدالیوں کی اصلاح کی گئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں یتیموں کے حق میں مواریث کے سلسلہ میں ہوتی تھیں، یہ لوگ عورتوں پر بھی ظلم و ستم ڈھاتے تھے، اور ان کے معاملہ میں رسوم قبیحہ میں مبتلا تھے، جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ہے ان سے نکاح کرلیتے تھے۔ اگلی آیات میں ان معاملات کی اصطلاح فرماتے ہیں اور اگر کسی عورت سے کوئی ایسا قصور سر زد ہوجائے جو شرعاً قصور ہو اس پر تادیب کی اجازت دیتے ہیں اور اصلاح و تادیب کا یہ مضمون بھی اگلے دو تین رکوع تک چلا گیا ہے۔ اور جو عورتیں بےحیائی کا کام (یعنی زنا) کریں تمہاری (منکوحہ) بیبیوں میں سے سو تم لوگ ان عورتوں (کے اس فعل) پر چار آدمی اپنوں میں سے (یعنی مسلمان، آزاد، عاقل، بالغ، مذکر) گواہ کرلو (تاکہ ان کی گواہی پر حکام سزائے آئندہ جاری کریں) سو اگر وہ گواہی دیدیں تو (ان کی سزا یہ ہے کہ) تم ان کو (بحکم حاکم) گھروں کے اندر (سیاستہ) مقید رکھو یہاں تک کہ (یا تو) موت ان کا خاتمہ کر دے (اور) یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راہ (یعنی حکم ثانی) تجویز فرما دیں (بعد میں جو حکم ثانی اس سلسلہ میں تجویز ہوا اس کا ذکر معارف و مسائل میں آ رہا ہے) اور (سزائے زنا میں کھ زن منکوحہ کی تخصیص نہیں، بلکہ) جونسے دو شخص بھی وہ بےحیائی کا کام (یعنی زنا) کریں تم میں سے (یعنی بالغ عاقل مسلمانوں میں سے) تو ان دونوں کو اذیت پہنچاؤ پھر (بعد اذیت پہنچانے کے) اگر وہ دونوں (گزشتہ سے) توبہ کرلیں توبہ کرلیں اور (آئندہ کے لئے اپنی) اصلاح کرلیں، (یعنی پھر ایسا فعل ان سے سرزد نہ ہو) تو ان دونوں سے کچھ تعرض نہ کرو (کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں، رحمت والے ہیں (اس لئے اپنی رحمت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا معاف کردی، پھر تم کو بھی ان کے در پے آزار نہ ہونا چاہئے۔) معارف و مسائل ان آیات میں ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں سزا تجویز کی گئی ہے جن سے فاحشہ یعنی زنا کا صدور ہوجائے، پہلی آیت میں فرمایا کہ جن عورتوں سے ایسی حرکت سر زد ہوجائے تو اس کے ثبوت کے لئے چار گواہ مرد طلب کئے جائیں، یعنی جن حکام کے پاس یہ معاملہ پیش کیا جائے ثبوت زنا کے لئے وہ چار گواہ طلب کریں، جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں اور گواہی بھی مردوں کی ضروری ہے، اس سلسلے میں عورتوں کی گواہی معتبر نہیں۔ زنا کے گواہی میں شریعت نے دو طرح سے سختی کی ہے، چونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے جس سے عزت اور عفت مجروح ہوتی ہے اور خاندانوں کے ننگ و عار کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ اولاً تو یہ شرط لگائی کہ مرد ہی گواہ ہوں، عورتوں کی گواہی کا اعتبار نہیں کیا گیا، ثانیاً چار مردوں کا ہونا ضرری قرار دیا، ظاہر ہے کہ یہ شرط بہت سخت ہے، جس کا وجود میں آنا شا ذو نادر ہی ہوسکتا ہے یہ سختی اس لئے اختیار کی گئی کہ عورت کا شوہر یا اس کی والدہ یا بیوی بہن ذاتی پرخاش کی وجہ سے خواہ مخواہ الزام نہ لگائیں، یا دوسرے بدخواہ لوگ دشمنی کی وجہ سے الزام اور تہمت لگانے کی جرأت نہ کرسکیں، کیونکہ اگر چار افراد سے کم لوگ زنا کی گواہی دیں تو ان کی گواہی نامعتبر ہے، ایسی صورت میں مدعی اور گواہ سب جھوٹے قرار دیئے جاتے ہیں اور ایک مسلمان پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر ”حد قذف“ جاری کردی جاتی ہے۔ سورة نور میں واضح طور پر ارشاد فرمایالولاجآء علیہ باربعة شھدآء فاذ لم یاتوا بالشھدآء فاولئک عنداللہ ھم الکذبون (42: 31) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ چار گواہ نہ لا سکیں وہ جھوٹے ہیں۔ بعض اکابر نے چار گواہوں کی ضرورت کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس معاملہ میں چونکہ دو افراد ملوث ہوتے ہیں، مرد اور عورت، تو گویا کو یہ ایک ہی معاملہ تقدیراً دو معاملوں کے حکم میں ہے اور ہر ایک معاملہ دو گواہوں کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا اس کے لئے چار گواہ ضرری ہوں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اگر وہ دونوں توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے تعرض مت کرو اور، اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا دینے کے بعد اگر انہوں نے توبہ کرلی تو پھر انہیں ملامت مت کرو اور مزید سزا مت دو ، یہ مطلب نہیں کہ تب سے سزا بھی معاف ہوگئی اس لئے کہ یہ توبہ سزا کے بعد مذکور ہے، جیسا کہ فاء کی تفریع سے ظاہر ہے، ہاں اگر توبہ نہ کی ہو تو سزا کے بعد بھی ملامت کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کی ان دو آیتوں میں زنا کے لئے کوئی متعین حد بیان نہیں کی گئی، بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ ان کو تکلیف پہنچاؤ اور زنا کار عورتوں کو گھروں میں بند کردو۔ تکلیف پہنچانے کا بھی کوئی خاص طریقہ نہیں بتلایا گیا اور حکام کے صواب دید پر اس کو چھوڑ دیا گیا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں ایذاء دینے کے معنی یہ ہیں کہ ان کو زبان سے عار دلائی جائے اور شرمندہ کیا جائے اور ہاتھ سے بھی جوتے وغیرہ کے ذریعہ ان کی مرمت کی جائے، حضرت ابن عباس کا یہ قول بھی بطور تمثیل کے معلوم ہوتا ہے، اصل بات وہی ہے کہ یہ معاملہ حکام کی رائے پر چھوڑدیا گیا ہے۔ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کی ان دو آیتوں کی ترتیب یہ ہے شروع میں تو ان کو ایذاء دینے کا حکم نازل ہوا اور اس کے بعد خاص طور سے عورتوں کے لئے یہ حکم بیان کیا گیا کہ ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے یہاں تک کہ وہ عورت مر جائے، اس کی زندگی ہی میں آنیوالا حکم آجائے گا تو بطور حد کے اسی کو نافذ کردیا جائے گا۔ چنانچہ بعد میں ”وہ سبیل“ بیان کردی گئی، جس کا اللہ جل شانہ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا تھا، حضرت ابن عباس ؓ ”سبیل“ کی تفسیر فرماتے ہیں ”یعنی الرجم للثیب والجلد للکبر“ کہ شادی شدہ کے حق میں زنا کی حد اس کو سنگسار کردینا ہے اور غیر شادی شدہ کے لئے اس کو کوڑے مارنا (بخاری، کتاب التفسیر، ص 756) مرفوع احادیث میں بھی اس ”سبیل“ کا بیان رسول کریم ﷺ سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہے اور شادی شدہ، غیر شادی شدہ ہر ایک کے لئے الگ الگ حکم بیان کیا گیا ہے رسول کریم ﷺ نے حضرت ماعزبن مالک ؓ اور قبیلہ ازد کی ایک عورت پر زنا کی حد جاری فرمائی تھی اور یہ دونوں چونکہ شادی شدہ تھے اس لئے ان کو سنگسار کردیا گیا تھا نیز ایک یہودی کو بھی زنا کی وجہ سے رجم کیا گیا تھا اور اس کے حق میں فیصلہ توراة کے حکم پر کیا گیا تھا۔ غیر شادی شدہ کا حکم خود قرآن کریم کی سورة نور میں مذکور ہے ”زنا کار عورت اور زنا کار مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔“ (42: 31) شروع میں رجم کے حکم کے لئے قرآن کریم کی آیت بھی نازل کی گئی تھی، لیکن بعد میں اس کی تلاوت منسوخ کردی گئی، البتہ حکم باقی رکھا گیا۔ حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے ”اللہ تعالیٰ نے محمد ؑ کو نبی برحق بنا کر بھیجا اور ان پر کتاب بھی نازل کردی جو کچھ وحی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی، اس میں رجم کی آیت بھی تھی، رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی ان کے بعد رجم کیا، رجم کا حکم اس شخص کے لئے ثابت ہے جو زنا کرے اور وہ شادی شدہ ہو، خواہ مرد ہو یا عورت“ خلاصہ۔ یہ کہ ان آیات میں جو حبس فی البیوت اور ایذاء کا حکم ہے وہ شرعی حد نازل ہونے پر منسوخ ہوگیا، اور اب حد زنا سو کوڑے یا رجم پر عمل کرنا لازم ہوگا، مزید تفصیل انشاء اللہ سورة نور کی تفسیر میں بیان ہوگی۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد کریں تم میں سے وہی بدکاری تو ان کو ایذا دو پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کا خیال چھوڑ دو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

غیر فطری طریقہ سے قضاء شہوت کا حکم میرے نزدیک ”الذان یاتیانھا“ کا مصداق وہ لوگ ہیں جو غیر فطری طریقہ پر قضاء شہوت کرتے ہیں، یعنی مرد استلذاز بالمثل کے مرتکب ہوتے ہیں۔“ قاضی صاحب کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی اسی قول کو لیا ہے، الفاظ قرآن مجید میں چونکہ لفظ الذان یاتیانھا موصول اور صلہ دونوں مذکر کے الفاظ ہیں، اس لئے ان حضرات کا یہ قول بعید نہیں ہے، گو جن حضرات نے زانی اور زانیہ مراد لیا ہے، انہوں نے بطور تغلیب مذکر کا یہ صیغہ زانیہ کے لئے بھی شامل رکھا ہے، تاہم موقع کی مناسبت سے استلذاذ بالمثل کی حرمت و شدت اور اس کی جزاء و تعزیز کا ذکر اس جگہ بےجا نہ ہوگا۔ احادیث و آثار سے اس سلسلہ میں جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں سے بطور نمونہ کچھ نقل کیا جاتا ہے ”حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت بھیجی ہے اور ان سات میں سے ایک پر تین تین دفعہ لعنت بھیجی ہے اور باقی پر ایک دفعہ، فرمایا ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے، ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے۔“ ”حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی صبح کے وقت اللہ جل شانہ کے غضب میں ہوتے ہیں اور شام کو بھی اللہ جل شانہ، ان سے ناراض ہوتے ہیں، میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ مرد جو عورتوں کی طرح بنتے ہیں اور وہ عورتیں جو مردوں کی طرح بنتی ہیں اور وہ شخص جو چوپایہ کے ساتھ غیر فطری حرکت کرتا ہے اور وہ مرد جو مرد سے قضاء شہوت کرتا ہے۔“ ”حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو تم قوم لوط کی طرح غیر فطری حرکت کرتا ہوا دیکھ لو تو فاعل اور مفعول دونوں کو مار ڈالو۔“ حافظ زکی الدین نے ترغیب ترہیب میں لکھا ہے کہ چار خلفاء حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن الزبیر اور ہشام بن عبدالملک نے اپنے زمانوں میں غیر فطری حرکت والوں کو آگ میں جلا ڈالا تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے محمد بن المنکدر کی روایت سے ایک واقعہ بھی لکھا ہے کہ خالد بن ولید ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خط لکھا کہ یہاں عرب کے علاقہ میں ایک مرد ہے جس کے ساتھ عورت والا کام کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان میں حضرت علی بھی تشریف لائے، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا ارتکاب سوائے ایک قوم کے کسی نے نہیں کیا اور اللہ جل شانہ نے اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ سب کو معلوم ہے میری رائے ہے کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے دوسرے صحابہ کرام نے بھی اس پر اتفاق کرلیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے آگ میں جلا دینے کا حکم دیدیا۔ مذکورہ روایات میں قوم لوط کے عمل کا حوالہ بار بار آیا ہے، حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف مبعوث کئے گئے تھے وہ قوم کفر و شرک کے علاوہ اس بدترین اور غیر فطری حرکت کی بھی عادی تھی اور جب حضرت لوط ؑ کی دعوت و تبلیغ کا ان پر اثر نہ ہوا تو اللہ جل شانہ کے حکم سے فرشتوں نے اس قوم کی بستیوں کو زمین سے اٹھا لیا اور اوندھا کر کے زمین پر پھینک دیا جس کا ذکر سورة اعراف میں آئے گا، انشاء اللہ۔ مندرجہ بالا روایات استلذاد بالجنس سے متعلق تھیں، روایات میں عورتوں کے ساتھ غیر فطری فعل کرنے پر بھی شدید ترین وعیدیں آئی ہیں۔ ”حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل شانہ، اس مرد کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جو مرد یا عورت کے ساتھ غیر فطری فعل کرے۔“ ”خزیمہ بن ثابت ؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہ حق بیان کرنے میں شرم نہیں کرتے، یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائے، (پھر فرمایا) عورتوں کے پاس غیر فطری طریقہ سے مت آیا کرو۔“ ”حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے وہ شخص ملعون ہے جو غیر فطری طریقہ سے بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے۔“ ”حضرت ابوہریرہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مرد حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے یا غیر فطری طریقہ سے اس کے ساتھ جماع کرتا ہے، یا کسی کاہن کے پاس جاتا ہے اور غیب سے متعلق اس کی خبر کی تصدیق کرتا ہے، تو ایسے لوگ اس دین سے منکر ہوگئے جو محمد ﷺ پر نازل ہوا۔“ اس قبیح فعل کے لئے کسی معین حد کے مقرر کرنے میں تو فقہاء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے، تاہم اس کے لئے شدید سے شدید سزائیں منقول ہیں، مثلاً آگ میں جلا دینا، دیوار گرا کر کچل دینا، اونچی جگہ سے پھینک کر سنگسار کردینا، تلوار سے قتل کردینا وغیرہ۔