4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 4:153–154

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

تجھ سے درخواست کرتے ہیں اہل کتاب کہ تو ان پر اتار لائے لکھی ہوئی کتاب آسمان سے سو مانگ چکے ہیں موسیٰ ؑ سے اس سے بھی بڑی چیز اور کہا ہم کو دکھلا دے اللہ کو بالکل سامنے سو آپڑی ان پر بجلی ان کے گناہ کے باعث پھر بنالیا بچھڑے کو بہت کچھ نشانیاں پہنچ چکنے کے بعد پھر ہم نے وہ بھی معاف کیا اور دیا ہم نے موسیٰ ؑ کو غلبہ صریح،

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے اٹھایا ان پر پہاڑ قرار لینے کے واسطے اور ہم نے کہا داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا کہ زیادتی مت کرو ہفتہ کے دن میں اور ہم نے ان سے لیا قول مضبوط۔

ربط آیات۔ مقابل کی آیات میں یہود کی بد اعتقادیوں کا ذکر کر کے ان کی مذمت مذکور تھی، ان آیات میں بھی ان کی کچھ دوسری خراب حرکتوں کی ایک طویل فہرست اور ان قباحتوں کی بناء پر ان کے عذاب و سزا کا ذکر ہے اور یہ سلسلہ دور تک چلا گیا ہے۔ خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ آپ سے اہل کتاب (یہود) یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس ایک خاص نوشتہ آسمان سے منگوا دیں سو (آپ ﷺ ان لوگوں سے اس کو عجیب نہ سمجھئے کیونکہ یہ فرقہ ایسا معاند ہے کہ) انہوں نے (یعنی اس فرقہ کے جو لوگ موسیٰ ؑ کے وقت موجود تھے انہوں نے) موسیٰ ؑ سے اس سے بھی بڑی بات کی درخواست کی تھی اور یوں کہا تھا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا (بلا حجاب) دکھلادو جس پر ان کی گستاخی کے سبب ان پر کڑک بجلی کی آپڑی، پھر (اس سے بڑھ کر ان کی یہ حرکت ہوچکی ہے کہ) انہوں نے گو سالہ کو (پرستش) کے لئے تجویز کیا تھا بعد اس کے بہت سے دلائل (تعیین حق و باطل کے) ان تک پہنچ چکے تھے (مراد ان دلائل سے معجزات ہیں، موسیٰ ؑ کے جن میں سے غرق فرعون تک بہتوں کا مشاہدہ ہوچکا تھا) پھر ہم نے ان سے درگزر کردیا تھا اور موسیٰ ؑ کو ہم نے بڑا رعب دیا تھا (اس رعب پر اور ہماری درگزر اور عنایت پر ان لوگوں کی یہ کیفیت تھی کہ نہ عنایت سے متاثر ہوتے تھے نہ رعب سے) اور ہم نے ان لوگوں سے (توراة پر عمل کرنے کے) قول قرار لینے کے واسطے کوہ طور کو اٹھا کر ان کے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ دروازہ میں عاجزی سے داخل ہونا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ یوم ہفتہ کے بارے میں (جو حکم تم کو ملا ہے کہ اس میں شکار نہ کریں اس میں حد شرع سے) تجاوز مت کرنا اور (اس کے علاوہ اور بھی) ہم نے ان سے قول وقرار نہایت شدید لئے (جس کا بیان واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل میں مذکور ہے لیکن ان لوگوں نے باوجود اس قدر اہتمام کے پھر اپنے عہدوں کو توڑ ڈالا۔) معارف و مسائل یہودیوں کے کچھ سردار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ جس طرح موسیٰ ؑ پر لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل ہوئی تھی، اسی طرح کی ایک کاتب آپ بھی آسمان سے لائیں، تو ہم ایمان لے آئیں گے، ان کا مطالبہ اس لئے نہیں تھا کہ وہ دل سے ایمان لانا چاہتے تھے، اور یہ ان کی ایک شرط تھی، بلکہ وہ ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی عذر کرتے ہی رہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آنحضرت ﷺ کو حقیقت حال سے آگاہ فرمایا اور ان کی تسلی کردی کہ درحقیقت یہ قوم ہی ایسی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو ستاتی ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے بڑی سے بڑی حرکت بھی کر گذرتی ہے، ان کے آباء و اجداد نے موسیٰ ؑ سے اس سے بھی زیادہ بڑی بات کا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کھلم کھلا دکھلایا جائے ان کی اس گستاخی پر آسمان سے بجلی آئی اور ان کو ہلاک کردیا، پھر توحید اور خدائے واحد لاشریک کے براہین بنیات کو اچھی طرح سمجھنے بوجھنے کے بعد بھی خالق حقیقی کے بجائے بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے تھے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہم نے عفو و درگزر سے کام لیا ورنہ تو موقع اس کا تھا کہ ان کا قلع قمع کیا جاتا ........ اور اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ کو ہم نے غلبہ عطاء کیا ........ ایک موقع ایسا بھی آیا تھا کہ ان لوگوں نے تورات کی شریعت کو ماننے سے صاف انکار کردیا تھا تو ہم نے پہاڑ طور اٹھا کر ان پر معلق کردیا کہ شریعت کو ماننا ہی ہوگا، ورنہ پہاڑ کے نیچے کچل دیئے جاؤ گے ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ جب شہرایلیا کے دروازہ میں داخل ہو تو نہایت عاجزی سے اطاعت خداوندی کے جذبہ سے سرشار جھکائے ہوئے داخل ہو، یہ بھی ہم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ ہفتہ کے روز مچھلیوں کا شکار نہ کھیلو، یہ ہمارا حکم ہے اس سے روگردانی نہ کرو اور اس طرح ہم نے ان سے مضبوط عہد لے لیا تھا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے ایک ایک کر کے احکام کی خلاف ورزی کی اور ہمارے عہد کو توڑ ڈالا تو ہم نے دنیا میں بھی ان کو ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی ان کو بدترین سزا بھگتنی ہوگی۔
Ayahs 4:155–156

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں ؑ کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کردی ان کے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لاتے مگر کم،

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر

ربط آیات۔ ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان پر لعن، طعن اور سزا کا بیان ہوا تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل مذکور ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم و ستم سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے، یہ لوگ جو دعوی ہے جس شخص کو انہوں نے قتل کیا تھا وہ عیسیٰ ؑ نہیں تھے، بلکہ ان کے ہمشکل ایک دوسرا شخص تھا جس کو قتل کر کے یہ لوگ یوں سمجھنے لگے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا۔ خلاصہ تفسیر سو ہم نے (ان کی حرکتوں کی وجہ سے) سزائے لعنت و غضب و ذلت و مسخ وغیرہ) میں مبتلا کیا (یعنی) ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور ان کے کفر و (انکار) کی وجہ سے احکام الہیہ کے ساتھ اور ان کے قتل کرنے کی وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) کو (جوان کے نزدیک بھی ناحق (تھا) اور ان کے اس مقولہ کی وجہ سے کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ ان میں مخالف مذہب یعنی اسلام کا اثر نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں، حق تعالیٰ اس پر رد فرماتے ہیں کہ یہ مضبوطی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب ان کے قلوب پر اللہ تعالیٰ نے بند لگا دیا ہے (کہ حق بات کی ان میں تاثیر نہیں ہوتی) سو ان میں ایمان نہیں مگر قدرے قلیل (اور قدرے قلیل ایمان مقبول نہیں پس کافر ہی ٹھہرے) اور (ہم نے ان کو سزائے لعنت وغیرہ میں ان جو وہ سے بھی مبتلا کیا یعنی) ان کے (ایک خاص) کفر کی وجہ سے اور (تفصیل اس کی یہ ہے کہ) حضرت مریم (علیہا السلام) پر ان کے بڑا بھاری بہتان دھرنے کی وجہ سے (جس سے تکذیب عیسیٰ ؑ کی بھی لازم آتی ہے، کیونکہ عیسیٰ ؑ اپنے معجزہ سے ان کی برات ظاہر فرما چکے ہیں) اور (نیز بطور تفاخر کے) ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے قتل کردیا (یہ کہنا خود دلیل ہے عداوت کی اور عداوت انبیاء کے ساتھ کفر ہے، نیز اس میں دعوی ہے قتل کا، اور قتل نبی بھی کفر ہے اور دعویٰ کفر کا بھی کفر ہے) حالانکہ (علاوہ کفر ہونے کے خود ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ) انہوں نے (یعنی یہود نے) نہ ان کو (یعنی (عیسی ؑ کو) قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو (یعنی یہود کو) اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ (اہل کتاب میں سے) ان کے (یعنی عیسیٰ ؑ کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں (مبتلا) ہیں، ان کے پاس اس پر کوئی (صحیح) دلیل (وجود) نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے سے اور انہوں نے (یعنی یہود نے) ان کو (یعنی عیسیٰ ؑ کو) یقینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے (یعنی یہود نے) ان کو (یعنی عیسیٰ ؑ کو) یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا (جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں) بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف (یعنی آسمان پر) اٹھا لیا (اور ایک شخص کو ان کا ہمشکل بنادیا اور وہ مصلوب و مقتول ہوا اور یہی سبب ہوا یہود کے اشتباہ کا اور اس اشتباہ نے اہل کتاب میں اختلاف پیدا کیا) اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست (یعنی قدرت والے) حکمت والے ہیں (کہ اپنی قدرت و حکمت سے حضرت عیسیٰ ؑ کو بچا لیا اور اٹھا لیا اور یہود کو بوجہ تشبیہ کے پتہ بھی نہ لگا) اور (یہود کو اپنا کذب و بطلان انکار نبوت عیسویہ میں بہت جلد دنیا ہی میں ظاہر ہوجائے گا، کیونکہ وقت نزول آیت سے لے کر کسی زمانہ میں) کوئی شخص اہل کتاب (یعنی یہود میں) سے (باقی) نہ رہے گا، مگر وہ عیسیٰ ؑ (کی نبوت) کی اپنے مرنے سے (ذرا) پہلے (جب کہ عالم برزخ نظر آنے لگتا ہے) ضرور تصدیق کرلے گا (گو اس وقت کی تصدیق نافع نہیں، مگر ظہور بطلان کے لئے تو کافی ہے تو اس سے اگر اب ہی ایمان لے آویں تو نافع ہوجاوے) اور (جب عالم دنیا اور عالم برزخ دونوں ختم ہو چکیں گے یعنی) قیامت کے روز وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) ان (منکرین کے انکار) پر گواہی دیں گے۔
Ayahs 4:157–158

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول ؑ تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بیشک

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا

معارف و مسائل سورة آل عمران کی آیت یعیسی انی متوفیک ورافع الی الآیہ (3: 55) میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمن یہود کے عزائم کو ناکام بنانے اور عیسیٰ ؑ کو ان کی دستبرد سے بچانے کے سلسلہ میں پانچ وعدے فرمائے تھے جن کی تفصیل اور مکمل تشریح و تفسیر سورة آل عمران کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے ان وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ یہود کو آپ کے قتل پر قدرت نہیں دی جائے گی، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لیں گے، اس آیت میں یہود کی شرارتوں اور جھوٹے دعوؤں کے بیان میں اس وعدہ الٓہیہ کی تکمیل اور یہود کے مغالطہ کا مفصل بیان اور یہود کے اس قول کی مکمل تردید ہے کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا ہے۔ ان آیات میں واضح کیا گیا کہ وما قتلوہ وما صلبوہ یعنی ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ صورتحال یہ پیش آئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کردیا گیا۔ یہود کو اشتباہ کس طرح پیش آیا ؟:۔ ولکن شبہ لھم کی تفسیر میں امام تفسیر حضرت ضحاک ؒ فرماتے ہیں کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح ؑ کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت مسیح ؑ بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے یہود کے اس دستہ کو جو عیسیٰ ؑ کے قتل کے لئے تیار کھڑا تھا حضرت عیسیٰ ؑ کا پتہ دیا اور چار ہزار آدمیوں نے مکان کا محاصرہ کرلیا حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے حواریین سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس کے لئے آمادہ ہے کہ باہر نکلے اور اس کو قتل کردیا جائے اور پھر جنت میں میرے ساتھ ہو، ان میں سے ایک آدمی نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا، آپ نے اس کو اپنا کرتہ، عمامہ عطا کیا، پھر اس پر آپ کی مشابہت ڈال دی گئی اور جب وہ باہر نکل آیا تو یہود اسے پکڑ کرلے گئے اور سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اٹھا لیا گیا۔ (قرطبی) بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں نے ایک شخص طیطلانوس کو حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کے واسطے بھیجا تھا، حضرت عیسیٰ تو مکان میں نہ ملے، اس لئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا تھا اور یہ شخص جب گھر سے نکلا تو حضرت عیسیٰ ؑ کا ہمشکل بنادیا گیا تھا، یہودیہ سمجھے کہ یہی عیسیٰ ہے اور اسے اپنے ہی آدمی کو لیجا کر قتل کردیا (مظہری) ان میں سے جو بھی صورت حال پیش آئی ہو سب کی گنجائش ہے، قرآن کریم نے کسی خاص صورت کو متعین نہیں فرمایا، اس لئے حقیقت حال کا صحیح علم تو اللہ ہی کو ہے، البتہ قرآن کریم نے اس جملے اور دوسری تفسیری روایات سے یہ قدر مشترک ضرور نکلتی ہے کہ یہود و نصاری کو زبردست مغالطہ ہوگیا تھا، حقیقی واقعہ ان سے پوشیدہ رہا اور اپنے اپنے گمان و قیاس کے مطابق انہوں نے طرح طرح کے دعوے کئے اور ان کے آپس ہی میں اختلافات پیدا ہوگئے، اسی حقیت کی طرف قرآن کریم کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہےوان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً کہ ان کے پاس صحیح علم کی بنیاد پر کوئی یقینی بات نہیں ہے جن جن لوگوں نے حضرت مسیح ؑ کے بارے میں اختلاف کر کے طرح طرح کے دعوے کئے ہیں یہ سب شک اور اٹکل کی باتیں ہیں، صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح ؑ کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں کو تنبیہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے ہی آدمی کو قتل کردیا ہے اس لئے کہ یہ مقتول چہرے میں تو حضرت مسیح ؑ کے مشابہ ہے، لیکن باقی جسم میں ان کی طرح نہیں اور یہ کہ اگر یہ مقتول مسیح ؑ ہیں تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو مسیح ؑ کہاں ہیں ؟ وکان اللہ عزیزاً حکیماً اللہ جل شانہ زبردست قدرت و غلبہ والا ہے، یہود لاکھ دفعہ قتل کے منصوبے بناتے لیکن جب اللہ نے حضرت عیسیٰ کی حفاظت کا ذمہ لیا تو اس کی قدرت و غلبہ کے سامنے ان کے منصوبوں کی حیثیت کیا ہے، وہ قدرت والا ہے، صرف مادہ کے پرستار انسان اگر رفع عیسیٰ ؑ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے تو یہ ان کی اپنی کمزوری ہے، وہ حکمت والا ہے، اس کا ہر فعل حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ ؑ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔

آخر میں اسی مضمون کے تتمہ کے لئے فرمایا کہ وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ یہ لوگ اس وقت اگرچہ بغض و حسد کی وجہ سے حقیقت کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق باطل خیالات رکھتے ہیں، نیز حضرت محمد مصطفے ﷺ کی نبوت کا بھی انکار کر رہے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا آنے والا ہے جبکہ ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اس وقت انہیں یقین ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور محمد ﷺ کے متعلق جو کچھ ہمارا خیال تھا وہ سب باطل تھا۔ اس آیت کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں گذری ہے کہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع کی جائے اور آیت کا مطلب اس صورت میں یہ ہے کہ یہ یہود اپنی موت سے چند لمحے پیشتر جب عالم برزخ کو دیکھیں گے تو عیسیٰ ؑ کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے اگرچہ اس وقت کا ایمان ان کے حق میں نافع نہیں ہوگا، جس طرح کہ فرعون کو اس کے اس ایمان نے فائدہ نہیں دیا تھا جو وہ غرق ہونے کے وقت لایا تھا۔ دوسری تفسیر جس کو صحابہ تابعین کی بڑی جماعت نے اختیار کیا ہے اور حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر حضرت مسیح ؑ کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگرچہ اس وقت عیسیٰ ؑ پر ایمان نہیں لاتے، یہود تو انہیں نبی ہی تسلیم نہیں کرتے، بلکہ انہیں العیاذ باللہ مفتری اور کاذب قرار دیتے ہیں اور نصاری اگرچہ ان پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر بعض تو ان میں اپنی جہالت میں یہاں تک پہنچ گئے کہ یہود ہی کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے مقتول اور مصلوب ہونے کے قائل ہوگئے اور بعض اعتقاد کے غلو میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ انہیں خدا اور خدا کا بیٹا سجھ لیا قرآن کریم کی اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے، لیکن جب وہ قیامت کے قریب اس زمین پر پھر نازل ہوں گے تو یہ سب اہل کتاب ان پر صحیح ایمان لے آئیں گے، نصاری تو سب کے سب صحیح اعتقاد کے ساتھ مسلمان ہوجائیں گے، یہود میں جو مخالفت کریں گے قتل کردیئے جائیں گے، باقی مسلمان ہوجائیں گے، اس قت کفر اپنی تمام قسموں کے ساتھ دنیا سے فنا کردیا جائے گا اور اس زمین پر صرف اسلام ہی کی حکمرانی ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت منقول ہے ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ایک عادل حکمران بن کر ضرور نازل ہوں گے، وہ دجال اور خنزیز کو قتل کردیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور اس وقت عبادت صرف پروردگار عالم کی ہوگی۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت بھی پڑھ لو جس میں اسی حقیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، مگر یہ کہ وہ ان پر ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا آپ نے فرمایا عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے اور تین بار ان الفاظ کو دہرایا۔“ آیت مذکورہ کی یہ تفسیر ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ سے بروایت صحیحہ ثابت ہے جس میں قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ ؑ قرار دیا ہے جس نے آیت کا مفہوم واضح طور پر متعین کردیا کہ یہ آیت قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کے متعلق ہے۔ اس تفسیر کی بنائ پر یہ آیت ناطق ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ابھی نہیں ہوئی، بلکہ قیامت کے قریب جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کے نزول سے اللہ جل شانہ کی جو حکمتیں وابستہ ہیں وہ حکمتیں پوری ہوجائیں گی، تب اس زمین پر ہی ان کی وفات ہوگی۔ اس کی تائید سورة زخرف کی اس آیت سے بھی ہوتی ہےوانہ لعلم للساعة فلاتمترن بھا واتبعون (34: 16) ’ یعنی عیسیٰ ؑ قیامت کی ایک نشانی ہیں، پس تم قیامت کے آنے میں شک مت کرو اور میرا کہا مانو“ مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں پر لکھا ہے کہ انہ، کی ضمیر حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہے، اور معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ ؑ قیامت کی ایک علامت ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں حضرت مسیح ؑ کے نزول کی خبر دی گئی ہے کہ وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور ان کا آنا قیامت کی علامات میں سے ہوگا۔ اس آیت میں ایک دوسری قراءت علم بھی منقول ہے اس سے یہ معنی زیادہ واضح ہوجاتے ہیں کیونکہ علم بفتح اللام کے معنی علامت کے ہیں، حضرت عبداللہ ابن عباس کی تفسیر بھی اسی کی موید ہےعن ابن عباس ؓ فی قولہ تعالیٰ وانہ تعلم للساعة قال خروج عیسیٰ ؑ قبل یوم القیمة ........ حضرت ابن عباس سے وانہ لعلم للساعة کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ ؑ مراد ہیں جو قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے۔ (ابن کثیر) خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ قبل موتہ کے ساتھ جب حضرت ابوہریرہ کی حدیث صحیح کے ساتھ تفسیر کو شامل کیا جائے تو اس سے واضح طور پر حضرت عیسیٰ ؑ کا زندہ ہونا اور پھر قرب قیامت میں نازل ہو کر یہود پر مکمل غلبہ پانا ثابت ہوجاتا ہے، اسی طرح آیت انہ لعلم للساعة سے بھی حسب تفسیر ابن عباس یہ مضمون یقینی ہوجاتا ہے۔ امام تفسیر ابن کثیر نے آیت وانہ لعلم للساعة کی تفسیر میں لکھا ہے ”رسول اللہ ﷺ کی احادیث اس معاملے میں متواتر ہیں، کہ آپ نے قیامت سے پہلے عیسیٰ ؑ کے دنیا میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔“ ان روایات متواترہ کو ہمارے استاذ حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نے جمع فرمایا، جن کی تعداد سو سے زیادہ ہے، حضرت استاذ کے حکم پر احقر نے اس مجموعے کو بزبان عربی مرتب کیا، حضرت نے اس کا نام التصریح بما تواتر فی نزول مسیح تجویز فرمایا، جو اسی زمانے میں شائع ہوچکا تھا، حال میں حلب شام کے ایک بڑے عالم علامہ عبدالفتاح ابوغدہ نے مزید شرح و حواشی کا اضافہ کر کے بیروت میں اعلی کتابت کے ساتھ شائع کرایا ہے۔ آخر زمانے میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کا عقیدہ قطعی اور اجماعی ہے جس کا منکر کافر ہے۔ یہ مضمون آیات مذکورہ سے بھی واضح ہوچکا ہے اور اس کی پوری تفصیل سورة آل عمران میں گذر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے اس میں ان شبہات کا بھی جواب مذکور ہے جو اس زمانے کے بعض ملحدین کی طرف سے اس عقیدہ کو مشکوک بنانے کے لئے پیش کئے گئے ہیں، واللہ ولی الہدایتہ
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پر بہت سی پاک چیزیں جو ان پر حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ روکتے تھے اللہ کی راہ سے بہت

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہوچکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے واسطے جو ان میں ہیں عذاب دردناک۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں یہود کی شرارتوں کا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان کی سزا کا ذکر تھا، ان آیات میں بھی ان کی کچھ اور قباحتوں کا بیان ہے اور سزا کی ایک اور نعمت کا بھی ذکر ہے، وہ یہ کہ قیامت میں تو انہیں عذاب ہوگا ہی، اس دنیا میں بھی ان کی گمراہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ بہت سی پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے حلال تھیں بطور سزا کے ان پر حرام کردی گئی ہیں۔ خلاصہ تفسیر سو یہود کے انہی بڑے بڑے جرائم کے سبب (جن میں سے بہت سے امور سورة بقرہ میں ذکر کئے) ہم نے بہت سی پاکیزہ (یعنی حلال و نافع اور لذیذ) چیزیں جو (پہلے سے) ان کے لئے (بھی) حلال تھیں (جیسا آیت کل الطعام کان حلا لبنی اسرآئیل (3: 39) میں ہے) ان پر (شریعت موسویہ میں) حرام کردیں (جن کا بیان سورة انعام کی آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر الخ (6: 641) میں ہے اور وہاں بھی یہ بتلایا گیا ہے کہ ان حلال پاک چیزوں کو ان پر حرام کرنا ان کے گناہوں اور نافرمانیوں کی بناء پر ہوا تھا ذلک جزینھم ببغیھم الخ) اور (شریعت موسویہ میں بھی وہ سب حرام ہی رہیں کوئی حلال نہ ہوئی) بسبب اس کے کہ (وہ آئندہ بھی ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے) مثلاً یہی کہ) وہ (احکام میں تحریف کر کے یا حکم خدا وندی کو چھپا کر) بہت آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ (یعنی دین حق کے قبول کرنے) سے مانع بن جاتے تھے (کیونکہ ان کی اس کارروائی سے عوام کو خواہ مخواہ التباس ہوجاتا تھا، گو طلب صادق سے وہ التباس دور ہوجانا ممکن تھا) اور بسبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے، حالانکہ ان کو (توریت میں) اس سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقہ (یعنی غیر مشروع ذریعہ) سے کھا جاتے تھے، (پس اس طریق حق میں رکاوٹ بننے، سود لینے اور ناجائز طریقوں سے دوسروں کا مال کھا جانے کی وجہ سے اس شریعت کی بقاء تک تخفیف نہ ہوئی، البتہ شریعت جدیدہ عیسویہ میں کچھ احکام بدلے تھے، جیسا آیت لاحل لکم بعض الذین رم علیکم (3: 5) سے معلوم ہوتا ہے اور شریعت محمدیہ میں بہت تخفیف ہوگئی جیسا یحل لھم الطیبت الخ (7: 751) سے ثابت ہے، یہ تو دنیوی سزا تھی) اور (آخرت میں) ہم نے ان لوگوں کے لئے جو ان میں سے کافر ہیں درد ناک سزا کا سامان کر رکھا ہے (البتہ جو موافق قاعدہ شرعیہ کے ایمان لے آوے اس کی پچھلی جنایتیں سب معاف ہوجائیں گی۔) معارف و مسائل شریعت محمدیہ میں بھی بعض چیزیں حرام ہیں، لیکن وہ کسی جسمانی یا روحانی ضرر کی وجہ سے حرام کردی گئیں، بحلاف یہود کے کہ ان پر جو طیبات حرام کردی گئی تھیں ان میں کوئی جسمانی یا روحانی ضرر نہیں تھا، بلکہ ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر حرام کردی گئی تھیں۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے سو مانتے ہیں اس کو جو نازکل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آفریں ہے نماز پر قائم رہنے والوں کو جو دینے والے ہیں زکوٰة کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب۔

ربط آیات اوپر کی آیات میں ان یہود کا ذکر تھا جو اپنے کفر پر قائم تھے اور مذکورہ بالا منکرات میں مبتلا تھے، آگے ان حضرات کا بیان ہے جو اہل کتاب تھے اور جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور وہ صفات جو ان کی کتابوں میں خاتم النبین ﷺ کے متعلق موجود تھیں آپ میں پوری پوری دیکھیں تو ایمان لے آئے، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام و اسید و ثعلبہ ؓ ، ان آیات میں انہی حضرات کی تعریف و توصیف مذکور ہے۔ خلاصہ تفسیر لیکن ان (یہود) میں جو لوگ علم (دین) میں پختہ (یعنی اس کے موافق عمل کرنے پر مضبوط) ہیں (اور اسی آمادگی نے ان پر حق کو واضح اور قبول حق کو سہل کردیا جو اگٓے اصلاً و فرعاً مذکور ہے) اور جو (ان میں) ایمان لے آنے والے ہیں کہ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس بھیجی گئی اور اس کتاب پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپ سے پہلے (نبیوں کے پاس) بھیجی گئی (جیسے توریت و انجیل) اور جو (ان میں) نماز کی پابندی کرنے والے ہیں اور جو (ان میں) زکوة دینے والے ہیں اور جو (ان میں) اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر اعتقاد رکھنے والے ہیں (سو) ایسے لوگوں کو ہم ضرور (آخرت میں) ثواب عظیم عطا فرما دیں گے۔ معارف و مسائل آیت میں جن حضرات کے لئے اجر کامل کا وعدہ ہے وہ ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ متصف ہونے کی وجہ سے ہے اور جہاں تک نفس نجات کا تعلق ہے وہ عقائد ضروریہ کی تصحیح پر موقوف ہے، بشرطیکہ خاتمہ بالایمان کی سعادت نصیب ہو۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے وحی بھیجی تیری ﷺ طرف جیسے وحی بھیجی نوح ؑ پر اور ان نبیوں ؑ پر جو ان کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ابراہیم ؑ پر اور اسماعیل ؑ پر اور اسحاق ؑ پر اور یعقوب ؑ اور اس کی اولاد پر اور عیسیٰ ؑ پر اور ایوب ؑ پر اور یونس ؑ پر اور ہارون ؑ پر اور سلیمان ؑ پر اور ہم نے دی داؤد ؑ کو زبور

ربط آیات یسئلک اھل الکتب سے یہودیوں کا ایک احمقانہ سوال نقل کر کے تفصیل سے اس کا الزامی جواب دیا، یہاں ایک دوسرے عنوان سے اسی سوال کو باطل کیا جا رہا ہے کہ تم جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لئے یہ شرط لگاتے ہو کہ آپ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب لا کر دکھلائیں، تو بتلاؤ کہ یہ جلیل القدر انبیاء جن کا ذکر ان آیات میں ہے ان کو تم بھی تسلیم کرتے ہو اور ان کے حق میں تم اس طرح کے مطالبات نہیں کرتے، تو جس دلیل سے تم نے ان حضرات کو نبی تسلیم کیا ہے، یعنی معجزات سے، تو محمد ﷺ کے پاس بھی معجزات ہیں، لہٰذا ان پر بھی ایمان لے آؤ، لیکن بات یہ ہے کہ تمہارا یہ مطالبہ طلب حق کے لئے نہیں، بلکہ عناد پر مبنی ہے۔ آگے بعثت انبیاء کی حکمت بھی بیان کردی گئی اور آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے بتلا دیا گیا کہ یہ لوگ اگر آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تو اپنا انجام خراب کرتے ہیں، آپ کی نبوت پرتو خدا بھی گواہ ہے اور خدا کے فرشتے بھی اس کی گواہی دیتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر ہم نے (کچھ آپ کو انوکھا رسول نہیں بنایا جو ایسی واہی تباہی فرمائش کرتے ہیں بلکہ) آپ کے پاس (بھی ایسی ہی) وحی بھیجی ہے جیسی (حضرت) نوح ؑ کے پاس بھیجی تھی، اور ان کے بعد اور پیغمبروں کے پاس (بھیجی تھی) اور (ان میں سے بعضوں کے نام بھی بتلا دیتے ہیں کہ) ہم نے (حضرات) ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب (میں جو نبی گذرے ہیں) اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیہم الصلوة والسلام) کے پاس وحی بھیجی تھی اور (اسی طرح) ہم نے داؤد (علیہ السلام کے پاس بھی وحی بھیجی تھی، چناچہ ان) کو (کتاب) زبور دی تھی اور (ان کے علاوہ) اور (بعضے) ایسے پیغمبروں کو (بھی) صاحب وحی بنایا جن کا حال اس کے قبل (سورة انعام وغیرہ مکی سورتوں میں) ہم آپ سے بیان کرچکے ہیں اور (بعضے) ایسے پیغمبروں کو (صاحب وحی بنایا) جن کا حال (ابھی تک) ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام کو بھی صاحب وحی بنایا، چناچہ ان) سے اللہ تعالیٰ نے خاص خاص طور پر کلام فرمایا (اور) ان سب کو (ایمان پر) خوش خبری (نجات کی) دینے والے اور (کفر پر عذاب کا) خوف سنانے والے پیغمبر بنا کر اس لئے بھیجا تاکہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے ان پیغمبروں کے (آنے کے) بعد کوئی عذر (ظاہراً بھی) باقی نہ رہے (ورنہ قیامت میں یوں کہتے کہ بہت سی اشیاء کا حسن قبح عقل سے معلوم نہ ہوسکتا تھا، پھر ہماری کیا خطا) اور (یوں) اللہ تعالیٰ پورے زور (اور اختیار) والے ہیں، (کہ بلا ارسال رسل بھی سزا دیتے تو بوجہ اس کے کہ مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہیں ظلم نہ ہوتا اور درحقیقت عذر کا حق کسی کو نہ تھا لیکن چونکہ) بڑے حکمت والے (بھی) ہیں (اس لئے حکمت ہی ارسال کو مقتضی ہوئی تاکہ ظاہری عذر بھی نہ رہے، یہ بیان حکمت درمیان میں تبعاً آ گیا تھا، آگے اثبات نبوت محمدیہ کر کے جواب کی تکمیل فرماتے ہیں کہ گو وہ اپنے اس شبہ کے رفع ہونے پر بھی نبوت کو تسلیم نہ کریں) لیکن (واقع میں تو ثابت ہے اور اس کے ثبوت پر دلیل صحیح قائم ہے، چنانچہ) اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جس کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور بھیجا بھی (کس طرح) اپنے علمی کمال کے ساتھ (جس سے وہ کتاب معجزہ عظیمہ ہوگی وہ کہ نبوت کی دلیل قاطع ہے، ایسی کتاب معجز کے ذریعہ سے آپ کی نبوت کی) شہادت دے رہے ہیں (یعنی دلیل قائم کر رہے ہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا کہ کتاب معجز نازل فرمائی اور اعجاز دلیل نبوت ہے، پس دلیل سے تو واقع میں نبوت ثابت ہے، رہا کس کا ماننا نہ ماننا تو اول تو اس کا خیال ہی کیا) اور (اگر طبعاً اس کا جی ہی چاہتا ہو تو ان سے افضل مخلوق یعنی) فرشتے (آپ کی نبوت کی) تصدیق کر رہے ہیں، (اور مؤمنین کی تصدیق مشاہد ہی تھی، پس اگر چند حمقاء نے نہ مانا نہ سہی) اور (اصل بات تو وہی ہے کہ) اللہ تعالیٰ ہی کی شہادت (یعنی اقامت دلیل فی الواقع) کافی ہے (کسی کی تصدیق و تسلیم کی آپ کو حاجت ہی نہیں) جو لوگ (ان جج قاطعہ کے بعد بھی) منکر ہیں اور (طرہ یہ کہ اوروں کو بھی) خدائی دین سے مانع ہوتے ہیں (حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں (یہ تو دنیا میں ان کے مذہب کا حاصل ہے اور اس کا ثمرہ آخرت میں آگے سنو کہ) بلاشبہ جو لوگ (حق کے) منکر ہیں اور (حق سے مانع بن کر) دوسروں کا بھی نقصان کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہ بخشیں گے اور نہ ان کو سوائے جہنم کی راہ کے اور کوئی راہ (یعنی جنت کی راہ) دکھلائیں گے اس طرح پر کہ اس (جہنم) میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہا کریں گے اور اللہ کے نزدیک یہ سزا معمولی بات ہے (کچھ سامان نہیں کرنا پڑتا) معارف مسائل انا اوحینا الیک کما احینا الی نوح والنبین من بعدہ، اس سے معلوم ہوگیا کہ وحی خاص اللہ کا حکم اور اس کا پیام ہے جو پیغمبروں پر بھیجا جاتا ہے اور انبیاء سابقین پر جیسے وحی الٰہی نازل ہوئی ویسے ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی بھیجی، تو جس نے ان کو مانا اس کو بھی ضرور ماننا چاہئے اور جس نے اس کا انکار کیا گویا ان سب کا منکر ہوگیا اور حضرت نوح ؑ اور ان سے پچھلوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ شاید یہ ہے کہ حضرت آدم کے وقت سے جو وحی شروع ہوئی تو اس وقت بالکل ابتدائی حالت تھی، حضرت نوح ؑ پر اس کی تکمیل ہوگئی، گویا اول حالت محض ابتداء تعلیم کی حالت تھی، حضرت نوح ؑ کے زمانہ میں وہ حالت پوری ہو کر اس قابل ہوگئی کہ ان کا امتحان لیا جائے اور فرمانبرداروں کو انعام اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، چناچہ انبیائے اولوالعزم کا سلسلہ بھی حضرت نوح ؑ ہی سے شروع ہوا اور وحی الٰہی سے سرتابی کرنے والوں پر بھی اول عذاب حضرت نوح ؑ کے وقت سے شروع ہوا۔ خلاصہ یہ کہ نوح ؑ سے پہلے حکم الٰہی اور انبیاء کی مخالفت پر عذاب نازل نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کو معذور سمجھ کر ان کو ڈھیل دی جاتی تھی اور سمجھانے ہی کی کوشش کی جاتی تھی، حضرت نوح ؑ کے زمانے میں جب مذہبی تعلیم خوب ظاہر ہوچکی اور لوگوں کو حکم خداوندی کی متابعت کرنے میں کوئی خفا باقی نہ رہا تو اب نافرمانوں پر عذاب نازل ہوا، اول حضرت نوح ؑ کے زمانہ میں طوفان آیا اس کے بعد حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب (علیہم السلام) وغیرہ انبیاء کے زمانہ میں کافروں پر قسم قسم کے عذاب آئے، تو آپ کی وحی کو حضرت نوح اور ان سے پچھلوں کی وحی کے ساتھ تشبیہ دینے میں اہل کتاب اور مشرکین مکہ کو پوری تنبیہ کردی گئی کہ جو آپ کی وحی یعنی قرآن کو نہ مانے گا وہ عذاب عظیم کا مستحق ہوگا۔ (فوائد علامہ عثمانی) حضرت نوح ؑ کی ذات خد ایک معجزہ تھی، ساڑھے نو سو سال کی عمر آپ کو عطا کی گئی تھی، آپ کا کوئی دانت نہیں گرا تھا، نہ آپ کا کوئی بال سفید ہوا، آپ کی جسمانی طاقت میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور پوری عمر قوم کی ایذا رسانی کو صبر کے ساتھ سہتے رہے۔ (مظہری)
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بھیجے ایسے رسول کہ جن کا احوال ہم نے سنایا تجھ کو اس سے پہلے اور ایسے رسول جن کا احوال نہیں سنایا تجھ کو اور باتیں کیں اللہ نے موسیٰ ؑ سے بول کر

ورسلاً قد قصصنھم علیک حضرت نوح ؑ کے بعد جو انبیاء ہوئے ہیں انہیں بالا جمال ذکر کر کے ان میں سے جو اولوالعزم اور جلیل القدر انبیاء ہیں ان کا بطور خاص بھی ذکر کردیا گیا، جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ سب انبیاء ہیں انبیاء کے پاس مختلف طریقوں سے وحی آتی ہے، کبھی فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے کبھی لکھی ہوئی کتاب مل جاتی ہے، کبھی اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے رسولوں سے بات کرتے ہیں، غرض جس طریقہ سے بھی وحی آجائے اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا یہود کا یہ کہنا کہ توراة کی طرح لکھی ہوئی کتاب نازل ہو تب مانیں گے ورنہ نہیں خالص حماقت اور کفر ہے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اللہ تعای نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ہیں جن میں سے تین سو تیرہ اصحاب شریعت رسول تھے۔ (قرطبی)
Ayahs 4:165–169

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

بھیجے پیغمبر خوش خبری اور ڈر سنانے والے تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کو اللہ پر الزام کا موقع رسولوں کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہ ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

اور اللہ کافی ہے حق ظاہر کرنے والا، جو لوگ کافر ہوئے اور روکا اللہ کی راہ سے وہ بہک کر دور جا پڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہرگز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلا دے گا ان کو سیدھی راہ

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر راہ دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

رسلاً مبشرین ومنذرین، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مؤ منوں کو خوش خبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر کی مرضی معلوم نہ تھی، معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے، سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے رائے حق بتلائی، تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا، وحی الہی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی، بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے پاس آگئی، آپ نے ان سے فرمایا، بخدا تم یقیناً جانتے ہو کہ میں خدا کا برحق رسول ہوں۔ انہوں نے اس کا انکار کردیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوگئی، لکن اللہ یشھدبما انزل الیک .... جس میں بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب معجز کے ذریعہ سے جو اس کے علمی کمال کا مظہر ہے آپ کی نبوت پر گواہ ہے، اس نے یہ جان کر کتاب نازل کردی ہے کہ آپ اس کے اہل ہیں اور فرشتے بھی اس پر گواہ ہیں اور علیم وخبیر ذات کی شہادت کے بعد پھر کس دلیل کی حاجت باقی رہ جاتی ہے۔ قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ منکر ہیں اور توریت میں جو آپ کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپاتے ہیں، اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھتے ہیں سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہوگی نہ ہدایت، جس سے خوب معلوم ہوگیا کہ ہدایت آپ کی متابعت میں منحصر ہے، اور گمراہی آپ کی مخالفت کا نام ہے .... اس سے یہودیوں کے سب خیالات کی تغلیط کردی گئی۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس رسول ﷺ آچکا ٹھیک بات لے کر تمہارے رب کی سو امان لو تاکہ بھلا ہو تمہارا اور اگر نہ مانو گے تو اللہ تعالیٰ کا ہے جو کچھ ہے آسمان میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔

ربط آیات یہودیوں کے اعتراضات کا جواب اور نبوت محمدیہ علی صاحبہ السلام کے اثبات کے بعد اب تمام جہان کے انسانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آؤ۔ خلاصہ تفسیر اے تمام (جہان کے) لوگو تمہارے پاس یہ رسول ﷺ سچی بات (یعنی سچا دعویٰ ، سچی دلیل) لے کر تمہارے پروردگار (جل شانہ) کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو (مقتضی اثبات دعوی بالدلیل الصحیح کا یہ ہے کہ) تم (ان پر اور جو توجیہ فرما دیں سب پر) یقین رکھو (جو پہلے سے یقین لائے ہوئے ہیں وہ اس پر قائم رہیں اور جو نہیں لائے اب اختیار کرلیں) یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا، (کیونکہ نجات ہوگی) اور اگر تم منکر ہوگئے تو (تمہارا ہی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی (تو) ملک ہے یہ سب جو کچھ (بھی) آسمانوں میں اور زمین میں (موجود) ہے (تو ایسے بڑے عظیم الشان مالک، قادر کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو، مگر اپنی خیر منالو) اور اللہ تعالیٰ (سب کے ایمان و کفر کی) پوری اطلاع رکھتے ہیں (اور دنیا میں جو پوری سزا نہیں دیتے تو اس لئے کہ) کامل حکمت والے (بھی) ہیں (وہ حکمت اس کو مقنضنی ہے۔)