4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ہاتھ تھامے رکھو اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰة پھر جب حکم ہوا ان پر لڑائی کا اسی وقت ان میں ایک جماعت ڈرنے لگی لوگوں سے جیسا ڈر ہو اللہ کا یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے کیوں فرض کی ہم پر لڑائی کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدث تک کہہ دے کہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے برابر

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (قبل نزول حکم جہاد تو جنگ کرنے کا ایسا تقاضا تھا کہ) ان کو (منع کرنے کے لئے) یہ کہا گیا تھا کہ (ابھی) اپنے ہاتھوں کو (لڑنے سے) روکے رہو اور (جو حکم تم کو ہوچکے ہیں اس میں لگے رہو مثلاً) نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیتے رہو (یا تو یہ حالت تھی اور یا) پھر ان پر جہاد کرنا فرض کردیا گیا تو کیا حال ہوا کہ ان میں سے بعض بعض آدمی (مخالف) لوگوں سے (طبعا) ایسا ڈرنے لگے (کہ ہم کو قتل کردیں گے) جیسا (کوئی) اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنا (زیادہ ڈرنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اکثر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا عقلاً ہوتا ہے اور دشمن کا ڈر طبعی ہے اور قاعدہ ہے کہ طبعی حالت عقلی حالت سے شدید ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ سے جیسا خوف ہے ویسی امید رحمت بھی تو ہے اور کافر دشمن سے تو ضرر کا خوف ہی خوف ہے اور چونکہ یہ خوف طبعی تھا اس لئے گناہ نہیں ہوا) اور (یا حکم قتال کو ملتوی کرنے کی تمنا میں) یوں کہنے لگے (خواہ زبان سے یا دل سے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں قول نفسی قول لسانی کے برابر ہے) کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے (ابھی سے) ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ہم کو (اپنی عنایت سے) اور تھوڑی مدت مہلت دے دیہوتی (ذرا بےفکری سے اپنی ضروریات پوری کرلیتے اور چونکہ یہ عرض کرنا بطور اعتراض یا انکار کے نہیں تھا اس لئے گناہ نہیں ہوا، آگے جواب ارشاد ہے کہ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے کہ دنیا سے فائدہ اٹھانا (جس کے لئے تم مہلت کی تمنا کرتے ہو) محض چند روزہ ہے اور آخرت (جس کے حصول کا اعلی ذریعہ جہاد ہے) ہر طرح سے بہتر ہے (مگر وہ) اس شخص کے لئے (ہے) جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے بچے (کیونکہ اگر کفر کے طور پر مخالفت کی تب تو اس کے لئے سامان آخرت کچھ بھی نہیں اور اگر معصیت کا مرتکب ہوا تو اعلی درجہ سے محروم رہے گا) اور تم پر ذرا بھی ظلم نہ کیا جائے گا (یعنی جتنے اعمال ہوں گے ان کا پورا پورا ثواب ملے گا، پھر جہاد جیسے عمل کے ثواب سے کیونکہ خالی رہتے ہو اور اگر جہاد بھی نہ کیا تو وقت معین پر موت سے بچ جاؤ گے ؟ ہرگز نہیں، کیونکہ موت کی تو یہ حالت ہے کہ) تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں موت آ دبائے گی اگرچہ پختہ مضبوط قلعوں ہی میں (کیوں نہ) ہو (غرض جب موت اپنے وقت پر ضرور آئے گی اور مر کر دنیا کو چھوڑنا ہی پڑے گا تو آخرت میں خالی ہاتھ کیوں جاؤ بلکہ عقل کی بات یہ ہے کہ ”چند روزے جہد کن باقی بخند۔“) اور اگر ان (منافقین) کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے (جیسے فتح و کامیابی) تو کہتے ہی کہ یہ منجانب اللہ (اتفاقاً) ہوگئی (ورنہ مسلمانوں کی بےتدبیری میں تو کوئی کسر تھی ہی نہیں) اور اگر ان کی کوئی بری حالت پیش آتی ہے (جیسے جہاد میں موت و قتل) تو (اے محمد ﷺ نعوذ باللہ آپ کی نسبت) کہتے ہیں کہ یہ آپ (کی اور مسلمانوں کی بےتدبیری) کے سبب سے ہے (ورنہ چین سے گھروں میں بیٹھے رہتے تو کیوں اس مصیبت میں پڑتے) آپ فرما دیجئے کہ (میرا تو اس میں ذرا بھی دخل نہیں بلکہ) سب کچھ (نعمت و نقمت) اللہ ہی کی طرف سے ہے (گو ایک بلاواسطہ اور ایک بواسطہ جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آتی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ نعمت تو محض اللہ کے فضل سے بلاواسطہ اعمال ہے اور نقمت یعنی مصیبت اللہ کے عدل سے بواسطہ اعمال سینہ عباد کے ہے پس تم جو مصیبت میں میرا دخل سمجھتے ہو واقع میں اعمال سیہ کا اس میں دخل ہے، جیسا احد میں شکست کے اسباب گزر چکے ہیں اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے، اگر آدمی ذرا بھی غور کرے تو خوش حالی کے قبل کوئی نیک عمل اس درجہ کا نہ پاوے گا محض فضل ہی ثابت ہوا اور بدحالی کے قبل ضرور کوئی عمل بدپائے گا، جس کی سزا اس سے زیادہ ہوتی جب یہ ایسی ظاہر بات ہے) تو ان (حماقت شعار) لوگوں کو کیا ہوا کہ بات سمجھنے کے پاس کو بھی نہیں نکلتے (اور سمجھیں گے تو کیا اور وہ تفصیل اس اجمالی جواب مذکور کی یہ ہے کہ) اے انسان تجھ کو جو کوئی خوش حالی پیش آتی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے (فضل) ہے، اور جو کوئی بدحالی پیش آوے وہ تیرے ہی (اعمال بد کے) سبب سے ہے (پس اس بدحالی کو شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ کہنا یا شارع کی طرف اس کی نسبت کرنا پوری جہالت ہے، جیسا منافقین جہاد اور امام الجہاد کی طرف اس کی نسبت کرتے تھے) اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اگر کوئی منافق، کافر انکار کرے تو اس کے انکار سے نفی نبوت کی کب ہو سکتی ہے، کیونکہ) اللہ تعالیٰ (آپ کی رسالت کے) گواہ کافی ہیں (جنہوں نے قولی اور فعلی شہادت دی ہے، قولی تو مثلاً یہی کلمہ وارسلنک اور فعلی یہ کہ معجزات جو دلیل اثبات نبوت میں آپ کو عطا فرمائے۔) معارف و مسائل شان نزول۔ الم ترا الی الذین قیل لھم کو فوا ایدیکم الخ مکہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کافر مسلمانوں کو بہت ستایا کرتے تھے، مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں، آپ مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے تھے کہ مجھ کو مقاتلہ کا حکم نہیں، بلکہ صبر اور در گزر کرنے کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوة کا جو حکم تم کو ہوچکا ہے اس کو برابر کئے جاؤ کیونکہ جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اور اپنی جان دینا بہت دشوار ہوتا ہے، اس بات کو مسلمانوں نے قبول کرلیا تھا، پھر ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوا تو ان کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ ہماری درخواست قبول ہوئی، مگر بعضے کچے مسلمان کافروں کے مقاتلہ سے ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے، یا اس سے بھی زیادہ اور آرزو کرنے لگے کہ تھوڑی مدت اور بھی قتال کا حکم نہ آتا اور ہم زندہ رہتے تو خوب ہوتا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ حکم جہاد نازل ہونے پر مسلمانوں کی طرف سے التواء حکم کی تمنا کس وجہ سے ہوئی۔ حکم جہاد پر مسلمانوں کی طرف سے مہلت کی تمنا درحقیقت کوئی اعتراض نہ تھا، بلکہ ایک لطف آمیز شکایت تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ عادة ہوتا یہ ہے کہ جب آدمی کو اتنہائی تنگی و تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، اس لئے ایسے وقت میں انتقام لینا زیادہ آسان ہوتا ہے، لیکن آرام و راحت کے وقت اس کی طبیعت لڑائی کی طرف آمادہ نہیں ہوتی، یہ ایک بشری تقاضا ہے، چناچہ یہ تھے لیکن مدینہ میں آ کر جب ان کو سکون و آرام نصیب ہوا تو ایسی صورت میں جب قتال کا حکم ہوا تو اس وقت ان کا پرانا جذبہ کم ہوچکا تھا اور ان کے دلوں میں وہ جوش و خروش باقی نہیں رہا تھا، اس لئے انہوں نے محض ایک تمنا کی کہ اگر اس وقت جہاد کا حکم نہ ہوتا تو بہتر تھا، اس تمنا کو اعتراض پر محمول کر کے ان مسلمانوں کی طرف معصیت کی نسبت کرنا صحیح نہیں ہے، یہ تقریر اس صورت میں ہے جب کہ انہوں نے شکایت کا اظہار زبان سے بھی کیا ہو، لیکن اگر زبان سے نہیں کیا محض ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہو تو وساوس قلبی کو شریعت نے معصیت ہی شمار نہیں کیا، یہاں یہ دونوں احتمال ہیں اور آیت کے لفظ قالوا سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ انہوں نے زبان سے اظہار کردیا تھا، کیونکہ اس کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دل میں کہا ہو (بیان القرآن ملخصاً) بعض مفسرین کے نزدیک آیات کا تعلق مؤمنین سے نہیں ہے بلکہ منافقین سے ہے، اس صورت میں کسی قسم کا اشکال نہیں (تفسیر کبیر) اصلاح ملک سے اصلاح نفس مقدم ہے۔ اقیموا الصلوة واتوالزکوة، اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز اور زکوة کے احکام کو بیان فرمایا جو اصلاح نفس کا سبب ہیں اور اس کے بعد جہاد کا حکم دیا جو اصلاح ملک کا سبب ہے یعنی اس کے ذریعہ سے ظلم و ستم کا استیصال کیا جاتا ہے اور ملک میں امن وامان قائم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہئے، چناچہ درجہ کے اعتبار سے بھی قسم اول کا حکم فرض عین ہے اور ثانی کا فرض کفایہ ہے جس سے اصلاح نفس کی اہمیت اور اس کا مقدم ہونا ظاہر ہے (مظہری) دنیا اور آخرت کی نعمتوں میں فرق۔ آیت میں دنیا کی نعمتوں کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کو افضل اور بہتر کہا گیا ہے، اس کی مندرجہ ذیل چند وجوہ ہیں۔ 1۔ دنیا کی نعمتیں قلیل ہیں اور آخرت کی نعمتیں کثیر ہیں۔ 2۔ دنیا کی نعمتیں ختم ہونے والی ہیں اور آخرت کی باقی رہنے والی ہیں۔ 3۔ دنیا کی نعمتوں کے ساتھ طرح طرح کی پریشانیاں بھی ہیں اور آخرت کی نعمتیں ان کدورتوں سے پاک ہیں۔ 4۔ دنیا کی نعمتوں کا حصول یقینی نہیں ہے اور آخرت کی نعمتیں ہر متقی کو یقیناً ملیں گی (تفسیر کبیر) من اللہ فی دارالقمام نصیب متاع قلیل و لازوال قریب ”یعنی اس ناپائیدار دنیا میں ایسے شخص کے لئے کچھ بھلائی نہیں ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پائیدار گھر یعنی آخرت میں کوئی جگہ نہ ہو، پھر اگر دنیا کچھ لوگوں کو فریفتہ کرے تو آگاہ رہیں کہ یہ دنیا تو متاع قلیل ہے اور اس کا زوال و ناپید ہونا بہت قریب ہے، یعنی ادھر آنکھ بند ہوئی اور ادھر آخرت سامنے آئی۔“
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

جہاں کہیں تم ہوگے موت تم کو آپکڑے گی اگرچہ تم ہو مضبوط قلعوں میں اور اگر پہنچے لوگوں کو کچھ بھلائی تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انکو پہنچے کچھ برائی تو کہیں یہ تیری طرف سے ہے کہہ دے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے سو کیا حال ہے ان لوگوں کا ہرگز نہیں لگتے کہ سمجھیں کوئی بات

ایک عبرت ناک واقعہ این ماتکونوا یدرککم الموت الخ اللہ تعالیٰ نے اس آیت جہاد سے رکنے والوں کے اس شبہ کا ازالہ کردیا کہ شاید جہاد سے جان بچا کر موت سے بھی بچ سکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ موت ایک دن آ کر رہے گی، خواہ تم جہاں کہیں بھی ہو وہیں موت آئے گی، جب یہ بات ہے تو تمہارا جہاد سے منہ پھیرنا بیکار ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے ذیل میں ایک عبرت ناک واقعہ بروایت ابن جریرو ابن ابی حاتم عن مجاہد لکھا ہے کہ پہلی امتوں میں ایک عورت تھی، اس کو جب وضع حمل کا وقت شروع ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اس نے اپنے ملازم کو آگ لینے کے لئے بھیجا، وہ دروازہ سے نکل ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی ظاہر ہوا اور اس نے پوچھا کہ یہ عورت کیا جنتی ہے ؟ ملازم نے جواب دیا کہ ایک لڑکی ہے، تو اس آدمی نے کہا کہ آپ یاد رکھئے ! یہ لڑکی سو مردوں سے زنا کرے گی اور آخر ایک مکڑی سے مرے گی، ملازم یہ سن کر واپس ہوا اور فوراً ایک چھری لے کر اس لڑکی کا پیٹ چاک کردیا اور سوچا کہ اب یہ مر گئی ہے تو بھاگ گیا، مگر پیچھے لڑکی کی ماں نے ٹانکے لگا کر اس کا پیٹ جوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ لڑکی جوان ہوگئی اور خوب صورت اتنی تھی کہ اس شہر میں وہ بےمثال تھی اور اس ملازم نے بھاگ کر سمندر کی راہ لی، اور کافی عرصہ تک مال و دولت کماتا رہا اور پھر شادی کرنے کے لئے واپس شہر آیا اور یہاں اس کو ایک بڑھیا ملی تو اس سے ذکر کیا کہ میں ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس سے زیادہ خوبصورت اس شہر میں اور کوئی نہ ہو، اس عورت نے کہ کہا کہ فلاں لڑکی سے زیادہ کوئی خوبصورت نہیں ہے، آپ اسی سے شادی کرلیں، آخر کار کوشش کی اور اس سے شادی کرلی، تو اس لڑکی نے مرد سے دریافت کیا کہ تم کون ہو ؟ اور کہاں رہتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں، لیکن ایک لڑکی کا میں پیٹ چاک کر کے بھاگ گیا تھا، پھر اس نے پورا واقعہ سنایا، یہ سن کر وہ بولی کہ وہ لڑکی میں ہی ہوں یہ کہہ کر اس نے اپنا پیٹ دکھایا جس پر نشان موجود تھا، یہ دیکھ کر اس مرد نے کہا کہ اگر تو وہی عورت ہے تو تیرے متعلق دو باتیں بتلاتا ہوں، ایک یہ کہ تو سو مردوں سے زنا کرے گی، اس پر عورت نے اقرار کیا کہ ہاں مجھ سے ایسا ہوا ہے، لیکن تعداد یاد نہیں، مرد نے کہا تعداد سو ہے، دوسری بات یہ کہ تو مکڑی سے مرے گی۔ مرد نے اس کے لئے ایک عالی شان محل تیار کرایا جس میں مکڑی کے جالے کا نام تک نہ تھا ایک دن اسی میں لیٹے ہوئے تھے کہ دیوار پر ایک مکڑی نظر آئی عورت بولی کیا مکڑی یہی ہے جس سے تو مجھے ڈراتا ہے ؟ مرد نے کہا ہاں ! اس پر وہ فوراً اٹھی، اور کہا کہ اس کو تو میں فوراً مار دوں گی، یہ کہہ کر اس کو نیچے گرایا اور پاؤں سے مسل کر ہلاک کردیا۔ مکڑی تو ہلاک ہوگئی لیکن اس کے زہر کی چھینٹیں اس کے پاؤں اور ناخنوں پر پڑگئیں، جو اس کی موت کا پیغام بن گئیں۔ (ابن کثیر) یہ عورت صاف سھترے شاندار محل میں اچانک ایک مکڑی کے ذریعہ ہلاک ہوگئی اسکے بالمقابل کتنے ایسے آدمی ہیں کہ عمر بھر جنگوں اور معرکوں میں گذار دی وہاں موت نہ آئی، حضرت خالد بن ولید جو اسلام کے سپاہی اور جرنیل معروف و مشہور ہیں اور سیف اللہ ان کا لقب ہے پوری عمر شہادت کی تمنا میں جہاد میں مصروف رہے اور ہزاروں کافروں کو تہہ تیغ کیا، ہر خطرے کی وادی کو بےخوف و خطر عبور کیا اور ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے کہ میری موت عورتوں کی طرح چارپائی پر نہ ہو، بلکہ ایک نڈر سپاہی کی طرح میدان جہاد میں ہو، لیکن آخر کار ان کی موت بستر پر ہی ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ زندگی اور موت کا نظام قادر مطلق نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہے، جب وہ چاہے تو آرام کے بستر پر ایک مکڑی کے ذریعہ مار دے اور بچانا چاہے تو تلواروں کی چھاؤں میں بچا لے۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

جو پہنچے تجھ کو کوئی بھلائی سو اللہ کی طرف سے ہے، اور جو تجھ کو برائی پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے اور ہم نے تجھ کو بھیجا پیغام پہنچانے والا لوگوں کو اور اللہ کافی ہے سامنے دیکھنے والا۔

پختہ مضبوط گھر تعمیر کرنا توکل کے خلاف نہیں ولوکنتم فی بروج مشیدة اس آیت میں کہا گیا کہ موت تم کو بہرکیف پہنچ کر رہے گی، اگرچہ تم مضبوط محلوں میں ہی کیوں نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ رہنے سہنے اور مال و اسباب کی حفاظت کے لئے مضبوط و عمدہ گھر تعمیر کرنا نہ خلاف توکل ہے اور نہ خلاف شرع ہے۔ (قرطبی) انسان کو نعمت محض اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ ما اصابک من حسنة فمن اللہ یہاں حسنتہ سے مراد نعمت ہے۔ (مظہری) اس آیت سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ انسان کو جو نعمت ملتی ہے وہ کوئی اس کا حق نہیں ہوتا، بلکہ محض اللہ کا فضل ہوتا ہے، انسان خواہ کتنی ہی عبادت کرے، اس سے وہ نعمت کا مستحق نہیں ہوسکتا اس لئے عبادت کی توفیق بھی تو اللہ ہی کی جانب سے ہوتی ہے پھر اللہ کی نعمتیں تو بےحساب ہیں، ان کو محدود عبادات اور اطاعات سے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ خصوصاً جب کہ ہماری عبادت بھی رب العلمین کی بادشاہت کے شایان شان نہ ہو۔ چنانچہ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ”یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا، راوی نے عرض کیا آپ بھی نہیں جائیں گے ؟ فرمایا ہاں میں بھی نہیں۔“ مصیبت انسان کے شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔ وما اصابک من سیئة فمن نفسک یہاں سیئة سے مراد مصیبت ہے (مظہری) مصیبت کی تخلیق اگرچہ اللہ ہی کرتا ہے، لیکن اس کا سبب خود انسان کے اعمال بد ہوتے ہیں، اب اگر یہ انسان کافر ہے تو اس کے لئے دنیا میں جو مصیبت پیش آتی ہے یہ اس کے لئے اس عذاب کا ایک معمولی سا نمونہ ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ ہے اور اگر وہ مومن ہے تو اس کے لئے مصائب و تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہو کر نجات آخرت کا سبب ہوجاتی ہیں، چناچہ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا ”یعنی کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو کسی مسلمان کو پہنچے، مگر وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ کانٹا جو اس کے پاؤں میں چبھتا ہے۔“ ”حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندے کو جو کوئی ہلکی یا سخت مصیبت پیش آتی ہے تو وہ اس کے گناہ کا نتیجہ ہوتی ہے، اور بہت گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔“ آپ کی رسالت تمام عالم کے لئے عام ہے۔ وارسلنک للناس رسولاً اس سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، آپ محض عربوں کے لئے ہی رسول نہیں تھے، بلکہ آپ کی رسالت پورے عالم کے انسانوں کے لئے عام ہے۔ خواہ اس وقت موجود ہوں یا آئندہ تاقیامت پیدا ہوں (مظہری)
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے حکم مانا رسول ﷺ کا اس نے حکم مانا اللہ کا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا ان پر نگہبان۔

خلاصہ تفسیر جس شخص نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، (اور جس نے آپ کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ کی اطاعت عقلاً بھی واجب ہے، پس آپ کی اطاعت بھی واجب ہوئی) اور جو شخص (آپ کی اطاعت سے) روگردانی کرے سو (آپ کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ ہم نے) آپ کو (بطور ذمہ داری کے) ان کا نگران کر کے نہیں بھیجا (کہ آپ ان کو کفر نہ کرنے دیں، بلکہ آپ کا فرض پیغام پہنچا دینے سے پورا ہوجاتا ہے، اگر اس کے بعد بھی وہ کفر کریں تو آپ پر کسی باز پرس کا اندیشہ نہیں، آپ بےفکر رہیں۔)
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں قبول ہے پھر جب باہر گئے تیرے پاس سے تو مشورہ کرتے ہیں بعضے بعضے ان میں سے رات کو اس کے خلاف جو تجھ سے کہہ چکے تھے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں، سو تو تغافل کر ان سے اور بھروسہ کر اللہ پر اور اللہ کافی ہے کارساز،

خلاصہ تفسیر اور یہ (منافق) لوگ (آپ کے احکام سن کر آپ کے سامنے زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہمارا کام (آپ کی) اطاعت کرنا ہے، پھر جب آپ کے پاس سے (اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو شب کے وقت (پوشیدہ) مشورے کرتے ہیں ان میں ایک جماعت (یعنی ان کے سرداروں کی جماعت) برخلاف اس کے جو کچھ زبان سے کہہ چکے تھے (اور چونکہ وہ سردار ہیں اصل مشورہ وہ کرتے ہیں باقی ان کے تابع رہتے ہیں تو اس خلاف میں سب کی ایک حالت ہے) اور اللہ تعالیٰ (سرکاری روزنامچہ میں) لکھتے جاتے ہیں جو کچھ وہ راتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں (موقع پر سزا دیں گے) سو آپ ان کی (بیہودگی کی) طرف التفات (اور خیال) نہ کیجئے اور (نہ کچھ فکر کیجئے، بلکہ سارا قصہ) اللہ تعالیٰ کے حوالہ کیجئے اور اللہ تعالیٰ کافی کار ساز ہیں، (وہ خود مناسب طور پر اس کا دفعیہ فرمائیں گے، چناچہ کبھی ان کی شرارت سے کوئی ضرر نہیں پہنچا) کیا یہ لوگ (قرآن کا اعجاز فصاحت و بلاغت میں اور غیب کی صحیح صحیح خبریں دینے میں دیکھ رہے ہیں اور پھر) قرآن میں غور نہیں کرتے (تاکہ اس کا کلام الہی ہونا واضح ہوجائے) اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس (کے مضامین) میں (بوجہ ان کے کثیر ہونے کے واقعات سے اور حد اعجاز سے) بکثرت تفاوت پاتے (کیونکہ ہر ہر مضمون میں ایک ایک اختلاف و تفاوت ہوتا تو مضامین کثیرہ میں اختلافات کثیرہ ہوتے، حالانکہ ایک مضمون میں بھی اختلاف نہیں، پس لامحالہ یہ غیر اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا) معارف و مسائل ویقولون اطاعت فاذا برزوا من عندک بیت طآئفة منھم غیر الذین تقول، اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو دو رخی پالیسی رکھتے ہیں، زبان سے کچھ کہتے ہیں دل میں کچھ ہوتا ہے، اس کے بعد ایسے لوگوں کے بارے میں رسول اللہ نافرمانی کے طرز عمل کے متعلق ایک خاص ہدایت ہے۔ پیشوا کے لئے ایک اہم ہدایت۔ فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلاً جب منافقین آپ کے سامنے آتے تو کہتے کہ ہم نے آپ کا حکم قبول کیا اور جب واپس جاتے تو آپ کی نافرمانی کرنے کے لئے مشورے کرتے، اس سے رسول کریم ﷺ کو سخت کوفت ہوئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی کہ ان کی پروانہ کیجئے، آپ اپنا کام اللہ کے بھروسہ پر کرتے رہیں، کیونکہ وہ آپ کے لئے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص لوگوں کا پیشوا اور رہنما ہو اسے طرح طرح کی دشواریوں سے گذرنا پڑتا ہے، لوگ طرح طرح کے الٹے سیدھے الزامات اس کے سر ڈالیں گے دوستی کے روپ میں دشمن بھی ہوں گے، ان سب چیزوں کے باوجود اس رہنما کو عزم و استقلال کے ساتھ اللہ کے بھروسہ پر اپنے کام سے لگن ہونی چاہئے، اگر اس کا رخ اور نصب العین صحیح ہوگا تو انشاء اللہ ضررو کامیاب ہوگا۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر یہ ہوتا کسی اور کا سوائے اللہ کے تو ضرور پاتے اس میں بہت تفاوت۔

تدبر قرآن افلایتدبرون القرآن، اس آیت سے اللہ تعالیٰ قرآن میں غور و فکر کرنے کی دعت دیتے ہیں، اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے افلایتدبرون فرمایا افلایقرؤن نہیں فرمایا اس سے بظاہر ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ وہ اگر گہری نظر سے قرآن کو دیکھیں تو ان کو اس کے معانی و مضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا اور یہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی ادا ہوسکتا ہے، صرف تلاوت اور قرات جس میں تدبر اور غور و فکر نہ ہو اس سے بہت سے اختلافات نظر آنے لگتے ہیں، جو حقیقت کے خلاف ہے۔ دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے لہٰذا یہ سمجھنا کہ قرآن میں تدبر کرنا صرف اماموں اور مجتہدوں ہی کے لئے ہے صحیح نہیں ہے، البتہ تدبر اور تفکر کے درجات علم و فہم کے درجات کی طرح مختلف ہوں گے، ائمہ مجتہدین کا تفکر ایک ایک آیت سے ہزاروں مسائل نکالے گا عام علماء کا تفکر ان مسائل کے سمجھنے تک پہنچے گا، عوام اگر قرآن کا ترجمہ اور تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر تدبر کریں تو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہوگی، جو کلید کامیابی ہے، البتہ عوام کے لئے غلط فہمی اور مغالطوں سے بچنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن کو سبقاً سبقاً پڑھیں، یہ نہ ہو سکے تو کوئی مستند و معتبر تفسیر کا مطالعہ کریں اور جہاں کوئی شبہ پیش آئے اپنی رائے سے فیصلہ نہ کریں اور ہر علماء سے رجوع کریں۔ قرآن و سنت کی تفسیر و تشریح پر کسی جماعت یا فرد کی اجارہ داری نہیں ہے لیکن اس کے لئے شرائط ہیں۔ آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ قرآن میں تدبر و تفکر کرے، لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہی کہ تدبر کے درجات متفاوت اور ہر ایک کا حکم الگ ہے مجتہدانہ تدبر جس کے ذریعہ قرآن حکیم سے دوسرے مسائل کا استخراج کیا جاتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی مبادیات کو حاصل کرے تاکہ وہ نتائج کا استخراج صحیح کرسکے اور اگر اس نے مقدمات کو بالکل حاصل نہ کیا یا اس نے ناقص حاصل کیا، جن اوصاف و شرائط کی ایک مجتہد کو ضرورت ہوتی ہے وہ اس کے پاس نہیں ہیں تو ظاہر ہے وہ نتائج غلط نکالے گا، اب اگر علماء اس پر نکیر کریں تو حق ہے۔ اگر ایک شخص جس نے کبھی کسی میڈیکل کالج کی شکل تک نہ دیکھی ہو یہ اعتراض کرنے لگے کہ ملک میں علاج و معالجہ پر سند یافتہ ڈاکٹروں کی اجارہ داری کیوں قائم کردی گئی ہے ؟ مجھے بھی بحیثیت ایک انسان کے یہ حق ملنا چاہئے۔ یا کوئی عقل سے کو را انسان یہ کہنے لگے کہ ملک میں نہریں، پل اور بند تعمیر کرنے کا ٹھیکہ صرف ماہر انجینئروں ہی کو کیوں دیا جاتا ہے ؟ میں بھی بحیثیت شہری کے یہ خدمت انجام دینے کا حق دار ہوں۔ یا کوئی عقل سے معذور آدمی یہ اعتراض اٹھانے لگے کہ قانون ملک کی تشریح و تعبیر پر صرف ماہرین قانون ہی کی اجارہ داری کیوں قائم کردی گئی ہے ؟ میں بھی عاقل و بالغ ہونے کی حیثیت سے یہ کام کرسکتا ہوں، اس آدمی سے یہی کہا جاتا ہے کہ بلاشبہ بحیثیت شہری کے تمہیں ان تمام کاموں کا حق حاصل ہے، لیکن ان کاموں کی اہلیت پیدا کرنے کے لئے سالہا سال دیدہ ریزی کرنی پڑتی ہے، ماہر اساتذہ سے ان علوم و فنون کو سیکھنا پڑتا ہے، اس کے لئے ڈگریاں حاصل کرنی پڑتی ہیں، پہلے یہ زحمت تو اٹھاؤ، پھر بلاشبہ تم بھی یہ تمام خدمتیں انجام دے سکتے ہو، لیکن یہی بات اگر قرآن و سنت کی تشریح کے دقیق اور نازک کام کے لئے کہی جائے تو اس پر علماء کی اجارہ داری کے آوازے کسے جاتے ہیں ؟ کیا قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کرنے کے لئے کوئی اہلیت اور کوئی قابلیت درکار نہیں ؟ کیا پوری دنیا میں ایک قرآن و سنت ہی کا علم ایسا لاوارث رہ گیا ہے کہ اس کے معاملہ میں ہر شخص کو اپنی تشریح و تعبیر کرنے کا حق حاصل ہے خواہ اس نے قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے کے لئے چند مہینے بھی خرچ نہ کئے ہوں۔ قیاس کا ثبوت۔ اس آیت سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر کسی مسئلہ کی تصریح قرآن و سنت میں نہ ملے تو انہی میں غور فکر کر کے اس کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے اور اسی عمل کو اصطلاح میں قیاس کہتے ہیں۔ (قرطبی) اختلاف کثیر کی تشریح۔ لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً اختلاف کثیرہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مضمون میں اختلاف ہوتا تو مضامین کثیرہ کا اختلاف بھی کثیر ہوجاتا ہے بشر کے کلام میں یہ یکسانیت کہاں، نہ کسی جگہ فصاحت و بلاغت میں کمی، نہ توحید و کفر اور حلال و حرام کے بیان میں تناقص اور تفاوت، پھر غیب کی اطلاعات میں بھی نہ کوئی خبر ایسی ہے جو واقع کے مطابق نہ ہو، نہ نظم قرآن میں کہیں یہ فرق کہ بعض فصیح ہو اور بعض رکیک، ہر بشر کی تقریر و تحریر پر ماحول کا اثر ہوتا ہے، اطمینان کے وقت کلام اور طرح کا ہوتا ہے پریشانی کے وقت دوسری طرح کا ہے، مسرت کے وقت اور رنگ ہوتا ہے اور رنج کے وقت دوسرا، لیکن قرآن ہر قسم کے تفاوت اور تناقض سے پاک ہے، اور بالاتر ہے اور یہی کلام الٰہی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر ان کو پہنچا دیتے رسول ﷺ تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنیوالے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہولیتے شیطان کے مگر تھوڑے۔

خلاصہ تفسیر اور جب ان کو کسی امر (جدید) کی خبر پہنچتی ہے خواہ (وہ امر موجب) امن ہو یا (موجب) خوف (مثلاً کوئی لشکر مسلمانوں کا کسی جگہ جہاد کے لئے گیا، اور ان کے غالب ہونے کی خبر آئی، یہ امن کی خبر ہوئی، یا انکے مغلوب ہونے کی خبر آئی یہ خوف کی خبر ہے) تو اس (خبر) کو فوراً مشہور کردیتے ہیں (حالانکہ بعض اوقات وہ غلطی نکلتی ہے اور اگر صحیح بھی ہوئی تب بھی بعض اوقات اس کا مشہور کرنا مصلحت انتظامیہ کے خلاف ہوتا ہے اور اگر (بجائے خود مشہور کرنے کے) یہ لوگ اس (خبر) کو رسول ﷺ کے اور جو (حضرات اکابر صحابہ) ان میں ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان (کی رائے) کے اوپر حوالہ رکھتے (اور خود کچھ دخل نہ دیتے) تو اس (خبر کی صحت و غلط اور قابل تشہیر ہونے نہ ہونے) کو وہ حضرات تو پہچان ہی لیتے جو ان میں اس کی تحقیق کرلیا کرتے ہیں (جیسا ہمیشہ پہچان ہی لیتے ہیں پھر جیسا یہ حضرات عمل درآمد کرتے ویسا ہی ان خبر اڑانے والوں کو کرنا چاہئے تھا، ان کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہوئی، اور نہ دخل دیتے تو کونسا کام اٹک رہا تھا ؟ آگے احکام مذکورہ سنانے کے بعد جو سر تا سر متضمن مصالح دنیویہ واخرویہ ہیں بطور منت کے مسلمانوں کو ارشاد ہے) اور اگر تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا (یہ خاص) فضل اور رحمت (کہ تم کو قرآن دیا اپنا پیغمبر بھیجا یہ اگر) نہ ہوتا تو تم سب کے سب) ضرر دنیوی و اخروی اختیار کر کے) شیطان کے پیرو ہوجاتے بجز تھوڑے سے آدمیوں کے (جو بدولت عقل سلیم خدا داد کے کہ وہ بھی ایک خاص فضل و رحمت ہے اس سے محفوظ رہتے ورنہ زیادہ تباہی ہی میں پڑتے، پس تم کو ایسے پیغمبر اور ایسے قرآن کو جن کی معرفت ایسے مصالح کے احکام آتے ہیں برخلاف مذکورہ منافقین کے بہت غنیمت سمجھنا چاہئے اور پوری اطاعت کرنا چاہئے۔) معارف و مسائل شان نزول۔ واذا جآءھم امرمن الامن اوالخوف اذاعوابہ، ابن عباس، ضحاک اور ابو معاذ ؓ کے نزدیک یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی اور حضرت حسن اور دوسرے اکثر حضرات کے نزدیک یہ آیت ضعیف اور کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے (روح المعانی) علامہ ابن کثیر نے اس آیت سے متعلق واقعات نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس آیت کے شان نزول میں حضرت عمر بن خطاب کی حدیث کو ذکر کرنا چاہئے، وہ یہ کہ حضرت عمر ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو وہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف آئے جب دروازہ پر پہنچے تو آپ نے سنا کہ مسجد کے اندر لوگوں میں بھی یہی ذکر ہو رہا ہے، یہ دیکھ کر آپ نے کہا کہ اس خبر کی تحقیق کرنی چاہئے، چناچہ آپ رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ تحقیق کرنے کے بعد میں مسجد کی طرف واپس آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی، جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں غلط ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئیواذا جآءھم امر الخ (تفسیر ابن کثیر) بے تحقیق باتوں کا اڑانا گناہ اور بڑا فتنہ ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے بیان نہیں کرنا چاہئے، چناچہ رسول کریم ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایاکفی بالمرء کذباً ان یحدث بکل ماسمع، ”یعنی کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے بیان کر دے۔“ ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایامن حدث بحدیث وھویری انہ کذب فھوا احد الکاذبین۔”یعنی جو آدمی کوئی ایسی بات بیان کرے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹی ہے تو دو جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا وہ بھی ہے۔“ (تفسیر ابن کثیر) ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنھم لعلمہ کہتے ہیں، کنواں کھودنے میں جو پانی پہلی مرتبہ نکلتا ہے اس کو ماء مستنبط کہتے ہیں، مگر یہاں مراد یہ ہے کہ کسی بات کی تہہ تک پہنچ کر اس کی صحیح حقیقت معلوم کرنا (قرطبی) اول الامر کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، حضرت حسن، قتادہ اور ابن ابی لیلی رحمہم اللہ کے نزدیک علماء اور فقہاء مراد ہیں، حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں کہ امراء اور حکام مراد ہیں، ابوبکر حصاص ان دونوں اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ دونوں مراد ہیں، اس لئے کہ اولی الامر کا اطلاق ان سب پر ہوتا ہے، البتہ اس پر بعض لوگ یہ شبہ کرتے ہیں کہ اولی الامر سے مراد فقہاء نہیں ہو سکتے، کیونکہ اولی الامر اپنے لفظی معنی کے اعتبار سے وہ لوگ ہیں جن کا حکم چلتا ہو اور ظاہر ہے کہ فقہاء کا یہ کام نہیں حقیقت یہ ہے کہ حکم چلنے کی دو صورتیں ہیں ایک جبر و تشدد سے وہ تو صرف اہل حکومت ہی کرسکتے ہیں دوسری صورت اعتقاد و اعتماد کی وجہ سے حکم ماننے کی ہے، وہ حضرات فقہاء ہی کو حاصل ہے جس کا مشاہدہ عام مسلمانوں کے حالات سے ہر دور میں ہوتا رہا ہے کہ دین کے معاملات میں ام مسلمان اپنے اختیار سے علماء ہی کے حکم کو واجب العمل قرار دیتے ہیں اور ازروئے شروع ان پر ان کے احکام کی اطاعت واجب بھی ہے، لہٰذا اس وجہ سے ان پر بھی اولی الامر کا اطلاق صحیح ہے (احکام القرآن للحصاص) اس بحث کی مزید تفصیل آیت اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم کے تحت بھی گذر چکی ہے۔ مسائل جدیدہ میں قیاس و اجتہاد عوام کے لئے تقلید ائمہ کا ثبوت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جن مسائل میں کوئی نصف نہ ہو ان کے احکام اجتہاد قیاس کے اصول پر قرآنی حیثیت سے نکالے جائیں، کیونکہ اس آیت میں اس بات کا حکم دیا گیا کہ مسائل جدیدہ کے حل میں اگر رسول کریم ﷺ موجود ہیں تو ان کی جانب رجوع کرو، اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو علماء اور فقہاء کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ احکام کو مستنبط کرنے کی صلاحیت تام رکھتے ہیں۔ اس بیان سے چند امور مستفاد ہوئے ہیں ایک یہ کہ فقہاء اور علماء کی جانب عدم نص کی صورت میں رجوع کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ احکام اللہ کی دو قسمیں ہیں بعض وہ ہیں جو منصوص اور صریح ہیں اور بعض وہ ہیں جو غیر صریح اور مبہم ہیں جن کو آیات کی گہرائیوں میں اللہ تعالیٰ نے ودیعت کر رکھا ہے۔ تیسرے یہ کہ علماء کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ایسے معانی کو اجتہاد اور قیاس کے ذریعے استنباط کریں۔ چھٹے یہ کہ عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان مسائل میں علماء کی تقلید کریں۔ رسول کریم ﷺ بھی استنباط و استدلال کے مکلف تھے۔ لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ بھی دلائل کے ذریعہ احکام کے استنباط کے مکلف تھے، اس لئے کہ پہلی آیت میں دو آدمیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا، ایک رسول کریم ﷺ کی طرف اور دوسرے اولوالامر کی طرف، اس کے بعد فرمایا لعلمہ الذین یستنبطونہ اور یہ حکم عام ہے، جس میں مذکورہ فریقین میں سے کسی کی تخصیص نہیں ہے، لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ آپ کی ذات بھی استنباط احکام کی مکلف تھی۔ (احکام القرآن للخصاص) فوائد مہمہ۔ اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ اس آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن سے امن اور خوف کے بارے میں تم خود بخود خبریں نہ اڑاؤ، بلکہ جو اہل علم اور ذی رائے ہیں ان کی طرف رجوع کرو، پھر و غور و فکر کر کے جو بات بتلائیں اس پر عمل کرو، ظاہر ہے کہ مسائل حوادث سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ آیت واذا جآءھم امرمن الامن اوالخوف میں دشمن کا کوئی ذکر نہیں ہے، لہٰذا امن اور خوف عام ہے، جس طرح ان کا تعلق دشمن سے ہے، اسی طرح مسائل حوادث سے بھی ہے، کیونکہ جب کوئی جدید مسئلہ عامی کے سامنے آتا ہے جس کی حلت اور حرمت کے بارے میں کوئی نص نہیں ہے، تو وہ فکر میں پڑجاتا ہے کہ کونسا پہلو اختیار کرے اور دونوں صورتوں میں نفع، نقصان کا احتمال رہتا ہے تو اس کا بہترین حل شریعت نے یہ نکالا کہ تم اہل استنباط کی طرف رجوع کرو، وہ جو بات بتلائیں اس پر عمل کرو۔ (احکام القرآن للحصاص ملخصاً) اجتہاد و استنباط غلبہ ظن کا فائدہ دیتا ہے علم یقینی کا نہیں۔ 2۔ استنباط سے جو حکم فقہاء نکالیں گے اس کے بارے میں قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ کے نزدیک قطعی طور پر یہی حق ہے، بلکہ اس حکم کے خطاء ہونے کا بھی احتمال باقی رہتا ہے، ہاں اس کے صحیح ہونے کا ظن غالب حاصل ہوجاتا ہے، جو عمل کے لئے کافی ہے۔ (احکام القرآن للحصاص و تفسیر کبیری)
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

سو تو لڑ اللہ کی راہ میں تو ذمہ دار نہیں مگر اپنی جان کا اور تاکید کر مسلمانوں کو قریب ہے کہ اللہ بند کردے لڑائی کافروں کی اور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا دینے والا۔

خلاصہ تفسیر (جب جہاد کی ضرورت معلوم ہوئی) پس آپ (اے محمد ﷺ اللہ کی راہ میں (کفار سے) قتال کیجئے (اور اگر فرضاً کوئی آپ کے ساتھ نہ ہو تو کچھ فکر نہ کیجئے کیونکہ) آپ کو بجز آپ کے ذاتی فعل کے (دوسرے شخص کے فعل کا) کوئی حکم نہیں اور (اس کے ساتھ) مسلمانوں کو (صرف) ترغیب دیدیجئے (پھر اگر کوئی ساتھ نہ دے تو آپ بری الذمہ ہیں نہ تو باز پرس کی فکر کیجئے جس کی وجہ مذکور ہوچکی اور نہ تنہا رہ جانے کا غم کیجئے جس کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ سے امید ہے (اور یہ امید دلانا وعدہ ہے) کہ کافروں کے زور جنگ کو روک دیں گے (اور ان کو مغلوب کردیں گے) اور (گو یہ بڑے زور دار نظر آتے ہیں لیکن) اللہ تعالیٰ اور جنگ میں (ان سے بمداح بےشمار) زیادہ شدید (اور قوی) ہیں اور (مخالف کو) سخت سزا دیتے ہیں۔ معارف و مسائل شان نزول۔ جب غزوہ احد شوال میں ہوچکا تو رسول کریم ﷺ نے ذیقعدہ میں کفار کے وعدہ کے موافق بدر میں مقابلہ کے لئے جانا چاہا (جس کو مورخین بدر صغری کے نام سے تعبیر کرتے ہیں) اس وقت بعض لوگوں نے تازہ زخمی ہونے کی وجہ سے اور بعض نے افواہیں خبروں کی وجہ سے جانے میں کچھ تامل کیا، تو اللہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی کہ اگر یہ کچے مسلمان لڑائی سے ڈرتے ہیں تو اسے رسول تم تنہا اپنی ذات سے جہاد کرنے میں توقف مت کرو اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اس ہدایت کو پاتے ہی آپ ستر ہمراہیوں کے ساتھ بدر صغری کو تشریف لے گئے، جس کا وعدہ ابوسفیان کے ساتھ غزوہ احد کے بعد ہوا تھا، حق تعالیٰ نے ابوسفیان اور کفار قریش کے دل میں رعب اور خوف ڈال دیا اور کوئی مقابلہ میں نہ آیا اور وہ اپنے وعدے سے جھوٹے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کے موافق کافروں کی لڑائی کو بند کردیا اور رسول کریم ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت سلامتی کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ (قرطبی، مظہری) قرآنی احکام کا حسن اسلوب۔ فقاتل فی سبیل اللہ الخ اس آیت کے پہلے جملہ میں تو رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہا آپ تن تنہا جہاد و قتال کے لئے تیار ہوجائیے، کوئی دوسرا آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو یا نہ ہو، مگر ساتھ ہی دوسرے جملہ میں یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ دوسرے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کا کام بھی چھوڑیں نہیں، ترغیب کے بعد بھی وہ تیار نہ ہوں تو آپ اپنا فرض ادا کرچکے، ان کے فعل کی آپ سے بازپرس نہ ہوگی۔ اسی کے ساتھ تن تنہا جنگ کرنے میں جو خطرہ ہوسکتا تھا اس کے ازالہ کے لئے فرمایا کہ اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی جنگ کو روک دے اور ان کو مرعوب و مغلوب کر دے اور آپ کو تنہا ہی کامیاب کر دے، پھر اس کے بعد اس کامیاب ہونے پر دلیل بیان فرمائی کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کے ساتھ ہے جس کی قوت جنگ اور زور جنگ ان کافروں سے بدر جہا زیادہ ہے تو پھر کامیابی بھی یقینا آپ ہی کی ہے، پھر اسی شدت باس کے ساتھ اپنی سزا کی شدت بھی بیان فرمائی، یہ سزا خواہ قیامت میں ہو جیسا کہ ظاہر ہے، یا دنیا میں ہو جیسا کہ بعض نے کہا، بہرحال جس طرح جنگ کرنے میں ہماری قوت و طاقت بڑھی ہوئی ہے اسی طرح سزا دینے میں بھی ہماری سزا بہت سخت ہے۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ اور جو کوئی سفارش کرے بری بات میں اس پر بھی ہے ایک بوجھ اس میں سے اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا،

خلاصہ تفسیر جو شخص اچھی سفارش کرے (یعنی جس کا طریق مقصود دونوں مشروع ہوں) اس کی اس (سفارش) کی وجہ سے (ثواب کا) حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے (یعنی جس کا طریق و غرض غیر مشروع ہو) اس کو اس (سفارش) کی وجہ سے (گناہ کا) حصہ ملے گا، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں (وہ اپنی قدرت سے نیکی پر ثواب اور بدی پر عذاب دے سکتے ہیں) اور جب تم کو کوئی (مشروع طور پر) سلام کرے تو تم اس (سلام) سے اچھے الفاظ میں سلام کرو، (یعنی جواب دو) یا (جواب میں) ایسے ہی الفاظ کہہ دو (تم کو دونوں اختیار دیئے جاتے ہیں) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر (یعنی ہر عمل پر حساب لیں گے (یعنی ان کا قانون یہی ہے اور یوں اپنے فضل سے معاف کردیں وہ اور بات ہے) اللہ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں، وہ ضرور تم سب کو جمع کریں گے قیامت کے دن، اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوگی (جب وہ خبر دے رہے ہیں تو بالکل ٹھیک ہی ہے۔) معارف مسائل سفارش کی حقیقت اس کے احکام اور اقسام۔ من یشفع شفاعة حسنة الخ اس آیت میں شفاعت یعنی سفارش کو اچھی اور بری دو قسموں میں تقسیم فرما کر اس کی حقیقت کو بھی واضح کردیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ نہ ہر سفارش بری ہے اور نہ ہر سفارش اچھی، ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ اچھی سفارش کرنے والے کو ثواب کا حصہ ملے گا اور بری سفارش کرنیوالے کو عذاب کا، آیت میں اچھی سفارش کے ساتھ نصیب کا لفظ آیا ہے، اور بری سفارش کے ساتھ کفل کا اور لغت میں دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی کسی چیز کا ایک حصہ لیکن عرف عام میں لفظ نصیب اچھے حصہ کے لئے بولا جاتا ہے اور لفظ کفل اکثر برے حصہ کے لئے استعمال کرتے ہیں، اگرچہ کہیں کہیں اچھے حصہ کے لئے بھی لفظ کفل استعمال ہوا ہے، جیسے قرآن کریم میں کفلین من رحمتہ ارشاد ہے۔ شفاعت کے لفظی معنے ملنے یا ملانے کے ہیں اسی وجہ سے لفظ شفعہ عربی زبان میں جوڑے کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بالمقابل لفظ وتر بمعنے طاق استعمال کیا جاتا ہے اس لئے شفاعت کے لفظی معنی یہ ہوئے کہ کسی کمزور طالب حق کے ساتھ اپنی قوت ملا کر اس کو قوی کردیا جائے، یا بیکس اکیلے شخص کے ساتھ خو دمل کر اس کو جوڑا بنادیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جائز شفاعت سفارش کے لئے ایک تو یہ شرط ہے کہ جس کی سفارش کی جائے اس کا مطالبہ حق اور جائز ہو، دوسرے یہ کہ وہ اپنے مطالبہ کو بوجہ کمزوری خود بڑے لوگوں تک نہیں پہنچا سکتا، آپ پہنچا دیں، اس سے معلوم ہوا کہ خلاف حق سفارش کرنا یا دوسروں کو اس کے قبول پر مجبور کرنا شفاعت سیہ یعنی بری سفارش ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سفارش میں اپنے تعلق یا وجاہت سے طریقہ دباؤ اور اجبار کا استعمال کیا جائے تو وہ بھی ظلم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اسیلئے وہ بھی شفاعت سیہ میں داخل ہے۔ اب خلاصہ مضمون آیت مذکورہ کا یہ ہوگیا کہ جو شخص کسی شخص کے جائز حق اور جائز کام کے لئے جائز طریقہ پر سفارش کرے تو اس کو ثواب کا حصہ ملے گا اور اسی طرح جو کسی ناجائز کام کے لئے یا ناجائز طریقہ پر سفارش کرے گا اس کو عذاب کا حصہ ملے گا۔ حصہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص سے سفارش کی گئی ہے وہ جب اس مظلوم یا محروم کا کام کر دے تو جس طرح اس کام کرنے والے افسر کو ثواب ملے گا، اسی طرح سفارش کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا۔ اسی طرح کسی ناجائز کام کی سفارش کرنے والا بھی گنہگار ہوگا اور یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ سفارش کرنے والے کا ثواب یا عذاب اس پر موقوف نہیں کہ اس کی سفارش مؤ ثر اور کامیاب بھی ہو بلکہ اس کو بہرحال اپنا حصہ ملے گا۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے الدال علے الخیر کفاعلہ (رواہ البزار عن ابن مسعود والطبرانی عنہ وعن سہل بن سعد بحوالہ مظہری) ”یعنی جو شخص کسی نیکی پر کسی کو آمادہ کر دے اس کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے جیسا اس نیک عمل کرنے والے کو“ اسی طرح ابن ماجہ کی ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”یعنی جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں ایک کلمہ سے بھی مدد کی تو وہ قیامت میں حق تعالیٰ کی پیشی میں اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی پیشانی پر یہ لکھا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم و مایوس ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح نیکی پر کسی کو آمادہ کرنا نیک عمل اور برابر کا ثواب رکھتا ہے اسی طرح بدی اور گناہ پر کسی کو آمادہ کرنا یا سہارا دینا بھی برابر کا گناہ ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایاوکان اللہ علی کلی شی مقیتاً لفظ ”مقیت“ کے معنی لغت کے اعتبار سے قادر مقتدر کے بھی ہیں اور حاضر و نگراں کے بھی اور روزی تقسیم کرنے والے کے بھی اور اس جملہ میں تینوں معنی مراد ہو سکتے ہیں، پہلے معنی کے اعتبار سے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، عمل کرنے والے اور سفارش کرنیوالے کی جزاء یا سزا اس کے لئے دشوار نہیں۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران و حاضر ہے اس کو سب معلوم ہے کہ کون کس نیت سے سفارش کر رہا ہے، محض بوجہ اللہ کسی بھائی کی امداد کرنا مقصود ہے یا کوئی اپنی غرض بطور رشوت کے اس سے حاصل کرنا ہے۔ اور تیسرے معنی کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ رزق و روزی کی تقسیم کا تو اللہ تعالیٰ طور متکفل ہے، جتنا کسی کے لئے لکھ دیا ہے وہ اس کو مل کر رہے گا کسی کی سفارش کرنے سے وہ مجبور نہیں ہوجائے گا بلکہ جس کو جتنی چاہے روزی عطا فرمائے گا، البتہ سفارش کرنے والے کو مفت میں ثواب مل جاتا ہے کہ وہ ایک کمزور کی اعانت ہے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ”یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندہ کی امداد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی امداد میں لگا رہے۔“ اسی بناء پر صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے ’ یعنی تم سفارش کیا کرو تمہیں ثواب ملے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ جو فیصلہ فرمائیں اس پر راضی رہو۔“ اس حدیث میں جہاں سفارش کا موجب ثواب ہونا بیان فرمایا ہے وہیں یہ بھی بتلایا کہ سفارش کی حد یہی ہے کہ کمزور آدمی جو خود اپنی بات کسی بڑے تک پہونچانے اور اپنی حاجت صحیح طور پر بیان کرنے پر قادر نہ ہو تم اس کی بات وہاں تک پہنچا دو ، آگے وہ سفارش مانی جائے یا نہ مانی جائے اور اس شخص کا مطلوبہ کام پورا ہو یا نہ ہو، اس میں آپ کا کوئی دخل نہ ہونا چاہئے اور اس کے خلاف ہونے کی صورت میں آپ پر کوئی ناگواری نہ ہونی چاہئے، حدیث کے آخری جملہ میں ویقضی اللہ علی لسان نبیہ ماشاء کا یہی مطلب ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کہ سفارش کا ثواب یا عذاب اس پر موقوف نہیں کہ وہ سفارش کامیاب ہو، بلکہ اس ثواب و عذاب کا تعلق مطلق سفارش کردینے سے ہے، آپ نے شفاعت حسنہ کردی تو ثواب کے مستحق ہوگئے اور شفاعت سیسہ کردی تو عذاب کے مستوجب بن گئے، خواہ آپ کی سفارش پر عمل ہو یا نہ ہو۔ تفسیر بحر محیط اور بیان القرآن وغیرہ میں من یشفع میں لفظ منھا کو سببیہ قرار دے کر اس کی طرف اشارہ بتلایا ہے اور تفسیر مظہری میں امام تفسیر مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ سفارش کرنے والے کو سفارش کا ثواب ملے گا، اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ کی گئی ہو، اور یہ بات صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں، کسی دوسرے انسان کے پاس جو سفارش کی جائے، اس کا بھی یہی اصول ہونا چاہئے کہ سفارش کر کے آدمی فارغ ہوجائے اس کے قبول کرنے پر مجبور نہ کرے، جیسا کہ خود رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ کی آزاد کردہ کنیز سے یہ سفارش فرمائی کہ اس نے جو اپنے شوہر مغیث سے طلاق حاصل کرلی اور وہ اس کی محبت میں پریشان پھرتے ہیں دوبارہ انہی سے نکاح کرلے۔ بریرہ ؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ اگر یہ آپ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر اور اگر سفارش ہے تو میری طبیعت اس پر بالکل آمادہ نہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حکم نہیں سفارش ہی ہے، بریرہ جانتی تھیں کہ رسالت مآب ﷺ کو خلاف اصول کوئی ناگواری نہ ہوگی، اسلئے صاف عرض کردیا کہ تو پھر میں یہ سفارش قبول نہیں کرتی، آپ نے خوش دلی کے ساتھ ان کو ان کے حال پر رہنے دیا۔ یہ تھی حقیقت سفارش کی جو شرعاً باعث اجر وثواب تھی، آج کل لوگوں نے جو اس کا حلیہ بگاڑا ہے وہ درحقیقت سفارش نہیں ہوتی، بلکہ تعلقات یا وجاہت کا اثر اور دباؤ ڈالنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی سفارش نہ مانی جائے تو ناراض ہوتے ہیں بلکہ دشمنی پر آمادہ ہوجاتے ہیں حالانکہ کسی ایسے شخص پر ایسا دباو ڈالنا کہ وہ ضمیر اور مرضی کے خلاف کرنے پر مجبور ہوجائے اکراہ و اجبار میں داخل اور سخت گناہ ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کے مال یا کسی کے حق پر زبردستی قبضہ کرلے، وہ شخص شرعاً اور قانوناً آزاد خود مختار تھا، آپ نے اس کو مجبور کر کے اس کی آزادی سلب کرلی اس کی مثال تو ایسی ہوگی کہ کسی محتاج کی حاجت پوری کرنے کے لئے کسی دوسرے کا مال چرا کر اس کو دے دیا جائے۔ سفارش پر کچھ معاوضہ لینا رشوت ہے اور حرام ہے۔ جس سفارش پر کوئی معاوضہ لیا جائے وہ رشوت ہے، حدیث میں اس کو سخت حرام فرمایا ہے، اس میں ہر طرح کی رشوت داخل ہے، خواہ وہ مالی ہو یا یہ کہ اس کا کام کرنے کے عوض اپنا کوئی کام اس سے لیا جائے۔ تفسیر کشاف وغیرہ میں ہے کہ شفاعت حسنہ وہ ہے جس کا منشاء کسی مسلمان کے حق کو پورا کرنا ہو، یا اس کو کوئی جائز نفع پہونچانا یا مضرت اور نقصان سے بچانا ہو اور یہ سفارش کا کام بھی کسی دنیی جوڑ توڑ کے لئے نہ ہو، بلکہ محض اللہ کے لئے کمزور کی رعایت مقصود ہو اور اس سفارش پر کوئی رشوت مالی یا جانی نہ لی جائے اور یہ سفارش کسی ناجائز کام میں بھی نہ ہو، نیز یہ سفارش کسی ایسے ثابت شدہ جرم کی معافی کے لئے نہ ہو جن کی سزا قرآن میں معین و مقرر ہے۔ تفسیر بحر محیط اور مظہری میں ہے کہ کسی مسلمان کی حاجت روائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا بھی شفاعت حسنہ میں داخل ہے اور دعا کرنے والے کو بھی اجر ملتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کے لئے کوئی دعاء خیر کرتا ہے، فرشتہ کہتا ہے ”ولک بمثل“ یعنی اللہ تعالیٰ تیری بھی حاجت پوری فرمائیں۔