4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 4:49–50

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

تاگے برابردیکھ ! کیسا باندہتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے یہی گناہ صریح۔

اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونیکا دعویٰ جائز نہیں قولہ تعالیٰ الم ترا الی الذین یزکون انفسھم یہود اپنے آپ کو مقدس بتلاتے تھے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو اپنی پاکی بیان کر رہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے، یہ ممانعت تین وجہ سے ہے (1) اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔ (2) یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقوی و طہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لئے اپنے آپ کو مقدس بتلانا خلاف خوف الٰہی ہے، چناچہ ایک روایت میں حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے ؟ اس وقت چونکہ میرا نام برہ تھا (جس کے معنی ہیں گناہوں سے پاک) میں نے وہی بتلایا، تو آپ نے فرمایالاتزکوا انفسکم، اللہ اعلم باھل البر منکم، سموھا زینب (رواہ مسلم بحوالہ مشکوة) ”یعنی تم اپنے آپ کی گناہوں سے پاکی بیان نہ کرو کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کو کہ تم میں سے کون پاک ہے، پھر برہ کے بجائے آپ نے زینب نام رکھا۔“ (مظہری) (3) ممانعت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس دعوے سے لوگوں کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ آدمی اللہ کے ہاں اس لئے مقبول ہے کہ یہ تمام نقائص اور عیوب سے پاک ہے، حالانکہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ بہت سے عیوب بندہ میں موجود ہوتے ہیں۔ (بیان القرآن) مسئلہ۔ اگر مذکورہ عوارض نہ ہوں تو نعمت کے اظہار کے طور پر اپنی صفت بیان کرنے کی اجازت ہے۔ (بیان القرآن)
Ayah 4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو اور کہتے ہیں کافروں کو کہ یہ لوگ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سے

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الہی یعنی توراة کے علم) کا ایک حصہ ملا ہے (پھر باوجود اس کے) وہ بت اور شیطان کو مانتے ہیں (کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایا تو بت اور شیطان کی تصدیق لازم آئی) اور وہ لوگ (یعنی اہل کتاب) کفار (یعنی مشرکین) کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہ نسبت ان مسلمانوں کے زیادہ راہ راستے پر ہیں (یہ تو انہوں نے صراحتہ ہی کہا تھا) یہ لوگ (جنہوں نے کفر کے طریقہ کو اسلامی طریقہ سے افضل بتلایا) وہ ہیں جن کو خد تعالیٰ نے ملعون بنایا ہے (اسی معلون ہونے کا تو اثر ہے کہ ایسے بےباک ہو کر کفریات بک رہے ہیں) اور اللہ تعالیٰ جس کو ملعون بنا دے اس کا (عذاب کے وقت) کوئی حامی نہ پاؤ گے (مطلب یہ ہے کہ اس پر ان کو آخرت میں یا دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی، چناچہ دنیا میں بعضے قتل، بعضے قید، بعضے ذلیل رعایا ہوئے اور آخرت میں جو ہونے والا ہے وہی ہوگا۔) ربط آیات۔ پچھلی آیت الم ترا الی الذین اوتوا نصیباً من الکتب یشرون الضللة الخ سے یہود کی قبائح اور بری خصلتوں کا ذکر چل رہا ہے، ان آیات کا تعلق بھی انہی کے ذکر قبائح سے ہے۔ معارف مسائل ”الجبت و الطاغوت“ سے کیا مراد ہے ؟:۔ اوپر کی آیت نمبر 15 میں دو لفظ ”الجبت“ اور ”الطاغوت“ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان سے مراد کیا ہے ؟ مفسرین کے اس بارے میں متعدد اقوال ہیں، حضرت ابن عباس، ابن جبیر اور ابوالعالیہ ؓ فرماتے ہیں کہ ”جبت“ حبشی لغت ہیں ساحر کو کہتے ہیں اور ”طاغوت“ سے مراد کاہن ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ”جبت“ سے مراد سحر ہے اور ”طاغوت ‘ سے مراد شیطان ہے، مالک بن انس سے منقول ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کو طاغوت کہا جاتا ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مالک بن انس کا قول زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ اس کا ثبوت قرآن سے بھی ہوتا ہے، ارشاد ہے، ان اعبدواللہ واجنبوا الطاغوت، لیکن ان متعدد اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے، اس لئے سب ہی مراد لئے جاسکتے ہیں، اسطرح کہ اصل میں جبت تو بت ہی کا نام تھا، لیکن بعد میں اس کا استعمال اللہ کے سوا دوسری عبادت کی جانے والی چیزوں پر بھی ہونے لگا (روح المعانی) مذکورہ آیات کا شان نزول۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہود کے سردار حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف اپنی ایک جماعت کو جنگ احد کے بعد لے کر مکہ میں قریش کے ساتھ ملنے آئے، یہود کا سردار کعب بن اشرف، ابوسفیان کے پاس آیا اور اس نے حضور ﷺ کے خلاف ان کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا، اہل مکہ نے کعب بن اشرف سے کہا تم ایک دھوکہ دینے والی قوم ہو اگر تم واقعی اپنے قول میں سچے ہو تو ہمارے ان دو بتوں (جبت اور طاغوت) کے سامنے سجدہ کرو۔ چنانچہ اس نے قریش کو مطمئن کرنے کے لئے ایسا ہی کیا، اس کے بعد کعب نے قریش سے کہا کہ تیس آدمی تم میں سے اور تیس ہم میں سے سامنے آئیں، تاکہ رب کعبہ کے ساتھ اس چیز کا عہد کریں کہ ہم سب مل کر محمد ﷺ کے خلاف جنگ کریں گے۔ کعب کی اس تجویز کو قریش نے پسند کیا اور اس طرح سے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کردیا، اس کے بعد ابوسفیان نے کعب سے کہا کہ تم اہل علم ہو تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے، لیکن ہم بالکل جاہل ہیں، اس لئے آپ ہمارے متعلق بتائیں کہ ہم حق پر چلنے والے ہیں یا محمد ﷺ کعب نے پوچھا کہ تمہارا دین کیا ہے ؟ ابوسفیان نے کہا ہم حج کے لئے اپنے اونٹوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کا دودھ پلاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں، اپنے خویش و اقرباء کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں اور بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کرتے ہیں، اس کے برخلاف محمد ﷺ نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا ہے، وہ اپنوں سے علیحدہ ہوچکا ہے، اور اس نے ہمارے قدیم دین کے خلاف اپنا ایک نیا دین پیش کیا ہے۔ ان باتوں کو سن کر کعب بن اشرف نے کہا کہ تم لوگ حق پر ہو، محمد ﷺ (معاذ اللہ) گمراہ ہوچکا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات نازل فرما کر ان کے دجل و فریب کی مذمت کی۔ روح المعانی) نفسانی خواہشات بعض اوقات آدمی کو دین ایمان سے محروم کردیتی ہیں۔ کعب بن اشرف یہودیوں کا ایک ممتاز عالم تھا جو خدا پر بھی عقیدہ رکھتا تھا اور اسی کی عبادت کرتا تھا، لیکن جب اس کے دل و دماغ پر نفسانی خواہشات کا بھوت سوار ہوا تو اس نے مسلمانوں کے خلاف قریش سے الحاق کرنا چاہا، قریش مکہ نے اس کے ساتھ ملنے کی یہ شرط لگائی کہ وہ ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ کرے، اس نے اس کو بھی گوارا کرلیا، جس کی تفصیل گزر چکی ہے، اس نے اپنے مذہب کے خلاف قریش کی شرط کی تو پورا کیا لیکن اپنے مذہبی عقائد کو قائم رکھنے کے لئے ان سے علیحدگی اختیار کرنا گوارا نہ کیا، قرآن عزیز نے ایک دوسرے مقام پر اسی قسم کا واقعہ بلعم باعورا کے بارے میں بیان کیا ہے، ارشاد ہےواتل علیھم نبا الذین اتینہ ایتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطان فکان من الغوین مفسرین نے لکھا ہے کہ بلعم بن باعورا ایک جلیل القدر عالم اور صاحب تصرف درویش تھا، لیکن جب اس نے اپنی نسفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے موسیٰ ؑ کے خلاف ناپاک تدبیریں کرنی شرع کیں تھیں ان کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا، لیکن خود مردود اور گمراہ ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب کا محض علم کچھ نافع نہیں ہوسکتا کہ صحیح معنی میں اس کا اتباع نہ ہو اور محض دنیوی طمع اور سفلی خواہشات کی پیروی سے مکمل اجتناب نہ ہو، ورنہ آدمی اپنے مذہب جیسی عزیز چیز کو بھی اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانے سے نہیں بچتا آج کل بھی بعض لوگ اس قسم کے ہیں جو مادی اور سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے اپنے حق مسلک کو آسانی سے چھوڑ دیتے ہیں اور لا دینی عقائد و نظریات کو اسلام کا لباس پہنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں نہ ان کو خدا کے عہد و میثاق کی کچھ پرواہ ہوتی ہے اور نہ آخرت کا خوف یہ سب کچھ صحیح اور حق مسلک کو چھوڑ کر شیطان کے اشاروں پر چلنے سے ہوتا ہے۔
Ayah 4:52

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ نے اور جس پر لعنت کرے اللہ نہ پاوے گا تو اس کا کوئی مددگار۔

اللہ کی لعنت دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب ہے۔ لعنت نام ہے اللہ کی رحمت سے دوری کا اور انتہائی رسوائی اور ذلت کا، جس پر اللہ کی لعنت ہو وہ اللہ کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے بارے میں اتنی سخت وعید آئی ہے کہ فرمایاملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا ثقتیلاً ”جن پر اللہ کی لعنت ہے وہ جہاں کہیں بھی ملیں ان کی گردن اڑائی جائے“ یہ تو ان کی دنیاوی رسوائی ہے، اور آخرت کی رسوائی تو اس سے بھی سخت ہوگی۔ اللہ کی لعنت کے مستحق کون لوگ ہیں ؟:۔ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیراً اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس پر اللہ کی لعنت ہو اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا، اب غور طلب یہ بات ہے کہ اللہ کی لعنت کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود دینے والے، سود کھانے والے اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے سب پر لعنت کی ہے اور وہ سب گناہ میں برابر ہیں (رواہ مسلم بحوالہ مشکوة) ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایاملعون من عمل عملا قوم لوط (رواہ رزین بحوالہ مشکوة) ”یعنی جو آدمی لوط ؑ کی قوم کے جیسا عمل کرے وہ لعنتی ہے۔“ (یعنی مرد سے بدفعلی کرنے والا) پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سارق (چور) پر لعنت بھیجتا ہے، جو انڈے اور رسی جیسی حقیر چیز کی چوری تک سے گریز نہیں کرتا، جس کی پاداش میں اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ (متفق علیہ بحوالہ مشکوة) ایک اور حدیث میں ارشاد ہےلعن اللہ اکل الربو و مؤ کلہ والواشمة و المستوشمة والمصور (رواہ البخاری بحوالہ مشکوة) ”اللہ کی لعنت ہے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر اور ان عورتوں پر جو اپنے جسم کو گودنے والی (یعنی سوئی کے ناکہ سے جسم میں سوراخ کر کے سرمہ ڈالتی ہیں تاکہ زینب ہو) یا گدوانے والی ہیں، اور ایسے ہی تصویر کھینچنے والوں پر لعنت کی ہے۔“ ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں شراب پر اور اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے، خریدنے والے، اس کے نچوڑنے والے، اس کے اٹھانے والے اور منگوانے والے سب پر (رواہ ابوداؤد، ابن ماجہ بحالہ مشکوة) ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت بھیجی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر لعنت کی ہے اور ہر نبی مستجاب الدعوات ہوتا ہے وہ چھ آدمی یہ ہیں۔ (1) اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا (2) اور وہ شخص جو جبر و قہر سے اقتدار حاصل کر کے اس آدمی کو عزت دے جس کو اللہ نے ذلیل کیا اور جس کو اللہ نے عزت عطاء کی ہو اس کو ذلیل کرے (3) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا (4) اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا (5) میری اولاد میں وہ آدمی جو محرمات کو حلال کرنے والا ہو (6) اور میری سنت کو چھوڑنے والا (رواہ البیہقی فی المدخل بحوالہ مشکوة) ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایالعن اللہ الناظر و المنظورالیہ۔”یعنی جو کوئی نامحرم پر بری نظر ڈالے اور اس کے اوپر نظر ڈالے (بشرطیکہ جس پر بری نظر پڑی ہے اس کے ارادہ اور اختیار کو اس میں دخل ہو) ان پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے لعن رسول اللہ ﷺ الرجل یلبس لبستة المرة والمرءة تلبس لبستة الرجل، ”یعنی رسول اللہ ﷺ نے ایسے مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا سا لباس پہنے اور ایسی عورت پر لعنت کی جو مرد کا سا لباس پہنے (مشکوة) ”حضرت عائشہ سے کسی نے عرض کیا کہ ایک عورت (مردانہ) جوتا پہنتی ہے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نے ایسی عورت پر لعنت کی ہے جو مردوں کے طور طریق اختیار کرے۔“ ”حضرت ابن عباس سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ان مردوں پر جو عورتوں کی طرح شکل و صورت بنا کر ہیجڑے بنیں اور لعنت کی ان عورتوں پر جو شکل و صورت میں مردانہ پن اختیار کریں اور ارشاد فرمایا ہے ان کو اپنے گھروں سے نکال کردو۔“ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ”یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور جو (ابرو یعنی بھو وں کے بال) چنتی ہیں (تاکہ بھویں باریک ہوجائیں) اور خدا کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو حسن کے لئے دانتوں کے درمیان کشادگی کرتی ہیں جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔“ لعنت کے احکام۔ لعنت جس قدر بری چیز ہے اسی قدر اس کے کرنے پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، کسی مسلمان پر لعنت کرنا حرام ہے اور کافر پر بھی صرف اس صورت میں کی جاسکتی ہے جبکہ اس کا کفر پر مرنا یقینی ہو، رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اس کے متعلق یہ ہیں۔“ حدیث میں ہے ”حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مومن وہ نہیں ہے جو طعنہ باز اور لعنت باز ہو اور نہ ہی بدگو۔“ ”حضرت ابودردا فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، جس پر آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، (یعنی زمین اس لعنت کو قبول نہیں کرتی، پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے جب کہیں اس کو راستہ نہیں ملتا تو جس پر لعنت کی گئی ہے اس کے پاس پہونچتی ہے اگر وہ واقعی لعنت کا مستحق ہے تو اس پر پڑتی ہے، ورنہ پھر اپنے کہنے والے پر پڑجاتی ہے۔“ ”حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ہوا نے ایک آدمی کی چادر اڑالی تو اس نے ہوا پر لعنت کی اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو اس پر لعنت نہ کر اس لئے کہ وہ اللہ کی جانب سے مامور ہے (یاد رکھئے) کہ جو آدمی ایسی چیز پر لعنت کرے جس کی وہ مستحق نہیں ہے تو یہ لعنت اس کو کہنے والے ہی پر لوٹتی ہے۔“ مسئلہ۔ کسی معین شخص کے بارے میں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی موت کفر پر ہوئی ہے اس پر لعنت جائز نہیں اگرچہ وہ فاسق ہی ہو، اسی اصول کی بنائ پر یزید پر لعنت کرنے سے علامہ شامی نے منع کیا ہے، لیکن معین کافر پر جس کی موت کفر پر ہونے کا یقین ہو، مثلاً ابوجہل، ابولہب پر جائز ہے (شامی، ج 2 ص 638) مسئلہ۔ کسی کا نام لئے بغیر اس طرح لعنت کرنا جائز ہے کہ ظالموں پر یا جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ مسئلہ۔ لغتہً لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دور ہونے کے ہوتے ہیں، شرعاً کفار کے حق میں اس کے معنی اللہ کی رحمت سے بعید ہونے کے ہیں اور مؤمنین کے حق میں ابرار (صلحاء) کے درجہ سے نیچے گرنے کے ہیں (نقلہ الشامی عن القہتانی، ج 2 ص 638) اس لئے کسی مسلمان کے لئے اس کے نیک عمل کم ہوجانے کی دعا بھی جائز نہیں۔
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر،

خلاصہ تفسیر ہاں کیا ان کے پاس کوئی حصہ ہے سلطنت کا سو ایسی حالت میں تو اور لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے یا دوسرے آدمیوں سے (جیسے رسول اللہ ﷺ سے) ان چیزوں پر جلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں سو (آپ کو ایسی چیز مل جانا کوئی نئی بات نہیں کیونکہ) ہم نے (پہلے سے) حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان (والوں) کو کتاب (آسمانی) بھی دی ہے اور علم بھی دیا ہے اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سلطنت بھی دی ہے (چنانچہ بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء گذرے ہیں، بعض انبیاء سلاطین بھی ہوئے جیسے حضرت یوسف ؑ و حضرت داؤد ؑ و حضرت سلیمان ؑ اور حضرت داؤد ؑ و حضرت سلیمان ؑ کا کثیر الازدواج ہونا بھی معلوم و مشہور ہے اور یہ سب اولاد ابراہیم میں ہیں، سو جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی اولاد ابراہیم سے ہیں، تو آپ کو اگر یہ نعمتیں و عطیات مل گئے تو تعجب کی کیا بات ہے) سو (ان انبیاء علیہم السام کے زمانہ میں بھی جو کہ خاندان ابراہیم ؑ سے گذر چکے ہیں جو لوگ موجود تھے) ان میں سے بعضے تو اس (کتاب و حکمت) پر ایمان لائے اور بعضے ایسے تھے کہ اس سے روگرداں ہی رہے (پس اگر آپ کی رسالت و قرآن پر بھی آپ کے زمانہ کے بعضے لوگ ایمان نہ لائیں تو کوئی رنج کی بات نہیں) اور (ان کفار و معرضین اگر دنیا میں سزا کم بھی ہو یا نہ ہو تو کیا ہوا ان کے لئے آخرت میں) دوزخ کی آتش سزاں (سزا) کافی ہے،
Ayahs 4:54–55

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے سو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور علم اور ان کو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے ہٹارہا اور کافی ہے دوزخ کی بھڑکتی آگ۔

معاف و مسائل یہودیوں کے حسد کرنے پر شدید مذمت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جو علم و فضل اور جاہ و جلال عطا کیا تھا، اس پر یہودی جلتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 35، 45 میں ان کے اسی حسد و بغض کی شدید مذمت کی ہے اور ان کے حسد کو نامعقول قرار دیتے ہوئے دو وجہیں بیان کی ہیں ایک وجہ آیت نمبر 35 میں بیان کی اور دوسری آیت نمبر 45 میں، لیکن دونوں کا حاصل ایک ہے، یعنی تمہارا حسد کس بات پر ہے اگر اس پر ہے کہ اصل صاحب سلطنت تم ہو تمہاری ہی سلطنت ان کو مل گئی، اس کا غلط ہونا تو کھلا ہوا ہے کہ تم سلطنت سے خود محروم ہو اور تمہیں کچھ حصہ سلطنت کا مل جاتا تو تم ایک کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے اور اگر تمہارا حسد اس پر ہے کہ گو سلطنت ہمارے پاس سے ان کے پاس نہیں گئی پھر بھی ان کو کیوں ملی، ان کو سلطنت سے کیا علاقہ ؟ تو اس کا جواب یہ دیا کہ یہ بھی انبیاء کے خاندان سے ہیں جن میں سلطنت پہلے سے ہوتی آئی ہے اس لئے کسی اجنبی جگہ سلطنت نہیں آئی، لہٰذا تمہارا حسد کرنا نامعقول ہے۔ حسد کی تعریف، حکم اور اس کی مضرتوں کا بیان۔ علامہ نووی شارح مسلم، حسد کی تعریف اس طرح کرتے ہیں۔ الحسد تمنی زوال النعمة (مسلم ج 2) یعنی دوسرے آدمی کی نعمت کے زوال کی خواہش کرنا حسد کہلاتا ہے۔“ اور یہ حرام ہے۔ ”تم آپس میں بغض اور حسد نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے پشت پھیرو بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی بن جاؤ اور جائز نہیں کسی مسلمان کے لئے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ ”تم حسد سے بچو، اس لئے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔“ ”حضرت زبیر نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تمہاری طرف (بھی) پہلی قوموں کا مرض چپکے سے چل پڑا ہے اور وہ حسد ہے اور بغض ایسی خصلت ہے جو مونڈ دینے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتی ہے، بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔“ حسد خواہ دنیاوی کمال پر ہو یا دینی کمال پر دونوں حرام ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ کے قول ”ام لھم نصیب من الملک“ سے امر اول کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے اور ”الکتب والحکمة“ سے امرثانی کی طرف۔
Ayahs 4:56–57

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بیشک جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے ان کو ہم ڈالیں گے آگ میں جس وقت جل جائے گی کھال ان کی تو ہم بدل دیویں گے ان کو اور کھال تاکہ چکھتے رہیں عذاب بیشک اللہ ہے زبردست حکمت والا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک البتہ ان کو ہم داخل کریں گے باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہمیشہ ان کے لئے وہاں عورتیں ہیں ستھری اور ان کو ہم داخل کریں گے گھن کی چھاؤں میں۔

خلاصہ تفسیر بلاشک جو لوگ ہماری آیات (و احکام) کے منکر ہوئے (ہم ان کو) عنقریب ایک سخت آگ میں داخل کریں گے (اور وہاں ان کی برابر یہ حالت رہے گی کہ) جب ایک دفعہ ان کی کھال (آگ سے) جل چکے گی تو ہم اس پہلی کھال کی جگہ فوراً دوسری (تازہ) کھال پیدا کر دینگے تاکہ (ہمیشہ) عذاب ہی بھگتتے رہیں (کیونکہ پہلی کھال میں جلنے کے بعد شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید اس میں ادراک و احساس نہ رہے اس لئے شبہ قطع کرنے کے یہ سنا دیا) بلاشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (کہ وہ ایسی سزا دے سکتے ہیں اور) حکمت والے ہیں (اس لئے باوجود قدرت کے جلی ہوئی کھال کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں، پھر بھی کسی حکمت سے بدل دیا جیسے کہ ایک حکمت کا بیان ابھی ہوا ہے) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کرینگے کہ ان کے (محلات) کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے واسطے ان (باغوں) میں پاک صاف بیبیاں ہوں گی اور ہم ان کو نہایت گنجان سایہ (کی جگہ) میں داخل کریں گے۔ معارف و مسائل حضرت معاذ کلما نضجت جلودھم بدلنھم کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب ان کی کھال جل چکے گی تو اس کو تبدیل کیا جائے گا اور یہ کام اتنی سرعت سے ہوگا کہ ایک ساعت میں سو مرتبہ کھال تبدیل کی جائے گی۔ ”آگ ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ ان کو کھائے گی، جب ان کو کھاچکے گی تو ان لوگوں کو کہا جائے گا کہ تم پھر پہلی حالت پر لوٹ جاؤ، پس وہ لوٹ جائیں گے۔“ ”نبی ؑ نے فرمایا کہ اہل جہنم میں سب سے کم عذاب کے اعتبار سے وہ آدمی ہوگا جس کے تلووں میں آگ کی دو چنگاریاں ہوں گی جن کی وجہ سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولتا ہوگا۔“ (رواہ البخاری و مسلم، بحوالہ الترغیب و الترھیب ج 4 ص 932) ازواج مطھرة کی تفسیر۔ حاکم نے ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی عورتیں پاک ہوں گی، یعنی وہ حیض، بول وبراز اور ناک سے بہنے والی کدورت سے پاک ہوں گی۔ حضرت مجاہد نے مذکوروہ چیزوں پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بچے پیدا کرنے اور ناپاک نطفہ سے بھی پاک ہوں گی۔ (مظہری) ظلا ظلیلاً ظل کے بعد ظلیل کا لفظ ذکر کر کے اشارہ کردیا کہ وہ سایہ ہمیشہ رہنے والا ہوگا اور گھنا سایہ ہوگا جیسا کہ کہا جاتا ہے شمس شامس اور لیل لئیل اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہوں گی۔ ”حضرت ابوہریرہ حضور ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ تحقیق جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سایہ کو ایک سوار سو سال میں بھی طے نہ کرسکے گا اگر آپ چاہیں تو یہاں آیت وظل ممدو پڑھیں۔“ ربیع بن انس نے ظلا ظلیلاً کی تفسیر میں فرمایا ھو ظل العرش الذی لایزول ”یعنی وہ سایہ عرش کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہیں ہوگا۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو بیشک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا

خلاصہ تفسیر (اے اہل حکومت خواہ تھوڑوں پر حکومت ہو خواہ بہتوں پر) بیشک تم کو اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ اہل حقوق کو ان کے حقوق (جو تمہارے ذمہ ہیں) پہنچا دیا کرو اور (تم کو) یہ (بھی حکم دیتے ہیں) کہ جب (محروم) لوگوں کا تصفیہ کیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ جس بات کی تم کو نصیحت کرتے ہیں وہ بات بہت اچھی ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں استحکام حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے) بلاشک اللہ تعالیٰ (تمہارے اقوال کو جو دوبارہ امانت و تصفیہ تم سے صادر ہوتے ہیں) خوب سنتے ہیں (اور تمہارے افعال کو جو اس باب میں تم سے واقع ہوتے ہیں) خواب دیکھتے ہیں (تو اگر کمی و کوتاہی کرو گے مطلع ہو کر تم کو سزا دیں گے، یہ خطاب تو حکام کو ہوا، آگے محکومین کو ارشاد ہے کہ) اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کا کہنا مانو اور رسول ﷺ کا کہنا مانو (ور یہ حکم تو تمہارے اور حکام سب کے لئے عام ہے) اور تم (مسلمانوں) میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی (کہنا مارو اور یہ حکم خاص ہی تم محکومین کے ساتھ) پھر (اگر ان کے احکام کا اللہ اور رسول کے کہنے کے خلاف نہ ہونا محکوم و حاکم دونوں کے اتفاق معتبر سے ثابت ہو تو خیر اس میں تو حکام کی اطاعت کرو گے ہی اور) اگر (ان کے احکام میں سے) کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو (کہ یہ اللہ و رسول کے کہے ہوئے کے خلاف ہے یا نہیں) تو رسول اللہ ﷺ کی حیات میں تو آپ سے پوچھ کر اور بعد آپ کی وفات کے ائمہ مجتہدین و علماء دین سے رجوع کر کے) اس امر کو (کتاب) اللہ اور (سنت) رسول ﷺ کی طرف حوالہ کرلیا کرو (اور ان حضرات سے جیسا فتوی ملے اس پر سب محکوم و حکام عمل کرلیا کرو) اگر تم اللہ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو (کیونکہ اس ایمان کا مقتضی یہی ہے کہ قوم قیامت میں اللہ تعالیٰ کی دارگیر سے جو کہ مخالفت کرنے پر ہونے والی ڈریں) یہ امور (جو مذکور ہوئے، اطاعت اللہ کی، رسول کی، اولی الامر کی، حوالہ کرنا تنازعات کا کتاب و سنت کی طرف) سب (دنیا میں بھی) بہتر ہیں اور (آخرت میں بھی) ان کا انجام خوش تر ہے (کیونکہ دنیا میں امن و راحت اور آخرت میں نجات وسعادت ہیں۔) معارف و مسائل آیات کا شان نزول۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے کہ کعبہ کی خدمت اسلام سے پہلے بھی بڑی عزت سمجھی جاتی تھی اور جو لوگ بیت اللہ کی کسی خاص خدمت کے لئے منتخب ہوتے تھے وہ پوری قوم میں معزز و ممتاز مانے جاتے تھے اسی لئے بیت اللہ کی مختلف خدمتیں مختلف لوگوں میں تقسیم کی جاتی تھیں، زمانہ جاہلیت سے ایام حج میں حجاج کو زمزم کا پانی پلانے کی خدمت آنحضرت ﷺ کے عم محترم حضرت عباس کے سپرد تھی، جس کو سقایہ کہا جاتا تھا، اسی طرح اور بعض خدمتیں آنحضرت ﷺ کے دوسرے چچا ابو طالب کے سپرد تھی، اسی طرح بیت اللہ کی کنجی رکھنا اور مقررہ ایام میں کھولنا بند کرنا عثمان بن طلحہ سے متعلق تھا۔ عثمان بن طلحہ کا اپنا بیان ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ہم پیر اور جمعرات کے روز بیت اللہ کو کھولا کرتے تھے اور لوگ اس میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرتے تھے، ہجرت سے پہلے ایک روز رسول کریم ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہونے کے لئے تشریف لائے (اس وقت تک عثمان بن طلحہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے) انہوں نے آنحضرت ﷺ کو اندر جانے سے روکا اور انتہائی ترشی دکھائی، آپ نے بڑی برد باری کے ساتھ ان کے سخت کلمات کو برداشت کیا، پھر فرمایا، اے عثمان شاید تم ایک روز یہ بیت اللہ کی کنجی میرے ہاتھ میں دیکھو گے، جبکہ مجھے اختیار ہوگا کہ جس کو چاہوں سپرد کر دوں، عثمان بن طلحہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوگیا تو قریش ہلاک اور ذلیل ہوجائیں گے، آپ نے فرمایا کہ نہیں ! اس وقت قریش آباد اور عزت والے ہوجائیں گے آپ یہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے بعد جب میں نے اپنے دل کو ٹٹولا تو مجھے یقین سا ہوگیا کہ آپ نے مجھے کچھ فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا، میں نے اسی وقت مسلمان ہونے کا ارادہ کرلیا لیکن میں نے اپنی قوم کے تیور بدلے ہوئے پائے، وہ سب کے سب مجھے سخت ملامت کرنے لگے، اس لئے میں اپنے ارادہ کو پورا نہ کرسکا، جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر بیت اللہ کی کنجی طلب فرمائی، میں نے پیش کردی۔ بعض روایات میں ہے کہ عثمان بن طلحہ کنجی لے کر بیت اللہ کے اوپر چڑھ گئے تھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے زبردستی کنجی ان کے ہاتھ سے لے کر انٓحضرت ﷺ کو دے دیتھی، بیت اللہ میں داخلہ اور وہاں نماز ادا کرنے کے بعد جب آنحضرت ﷺ باہر تشریف لائے تو پھر کنجی مجھ کو واپس کرتے ہوئے فرمایا، کرلو اب یہ کنجی ہمیشہ تمہارے ہی خاندان کے پاس قیامت تک رہے گی، جو شخص تم سے یہ کنجی لے گا وہ ظالم ہوگا، مقصد یہ تھا کہ کسی دوسرے شخص کو اس کا حق نہیں کہ تم سے یہ کنجی لے لے، اسی کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ بیت اللہ کی اس خدمت کے صلہ میں تمہیں جو مال مل جائے اس کو شرعی قاعدہ کے موافق استعمال کرو۔ عثمان بن طلحہ کہتے ہیں کہ جب میں کنجی لے کر خوشی خوشی چلنے لگا تو آپ نے پھر مجھے آواز دی اور فرمایا ! کیوں عثمان جو بات میں نے کہی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں ؟ اب مجھے وہ بات یاد آگئی جو آنحضرت ﷺ نے ہجرت سے پہلے فرمائی تھی کہ ایک روز تم یہ کنجی میرے ہاتھ میں دیکھو گے، میں نے عرض کیا کہ بیشک آپ کا ارشاد پورا ہوا اور اس وقت میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا (مظہری بروایت ابن سعد) حضرت فاروق اعظم عمر بن الخطاب ؓ فرماتے ہیں کہ اس روز جب آنحضرت ﷺ بیت اللہ سے باہرت شریف لائے تو یہ آیت آپ کی زبان پر تھی ان اللہ یامرکم ان تودو الامنت الی اھلھا۔“ اس سے پہلے میں نے یہ آیت کبھی آپ سے نہ سنی تھی، ظاہر ہے کہ یہ آیت اس وقت جوف کعبہ میں نازل ہوئی تھی، اسی آیت کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ نے دوبارہ عثمان بن طلحہ کو بلا کر کنجی ان کو سپرد کی، کیونکہ عثمان بن طلحہ نے جب یہ کنجی آنحضرت ﷺ کو دی تھی تو یہ کہہ کردی تھی کہ ”میں یہ امانت آپ کے سپرد کرتا ہوں“ اگرچہ ضابطہ سے ان کا یہ کہنا صحیح نہ تھا، بلکہ رسول کریم ﷺ ہی کو ہر طرح کا اختیار تھا کہ جو چاہیں کریں، لیکن قرآن کریم نے صورت امانت کی بھی رعایت فرمائی اور آنحضرت ﷺ کو اس کی ہدایت کی کہ کنجی عثمان ہی کو واپس فرما دیں“ حالانکہ اس وقت حضرت عباس اور حضرت علی ؓ نے بھی آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی خدمت بھی ہمیں عطا فرما دیجئے، مگر آیت مذکورہ کی ہدایت کے موافق آنحضرت ﷺ نے ان کی درخواست رد کر کے کنجی عثمان بن طلحہ کو واپس فرمائی (تفسیر مظہری) یہاں تک آیت کے شان نزول پر کلام تھا اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آیت کا شان نزول اگرچہ کوئی خاص وقوعہ ہوا کرتا ہے لیکن حکم عام ہوتا ہے، جس کی پابندی پوری امت کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اب اس معنی اور مطلب ملاحظہ کیجئے۔ ارشاد ہےان اللہ یامرکم ان تودوالامنت الی اھلھا ”یعنی اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہونچایا کرو۔“ اس حکم کا مخاطب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عام مسلمان ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ خاص امراء و حکام مخاطب ہوں اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو کسی امانت کا امین ہے، اس میں عوام بھی داخل ہیں اور حکام بھی۔ ادائے امانت کی تاکید۔ حاصل اس ارشاد کا یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں کوئی امانت ہے اس پر لازم ہے کہ یہ امانت اس کے اہل و مستحق کو پہونچاوے، رسول کریم ﷺ نے اداء امانت کی بڑی تاکید فرمائی ہے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوگا کہ رسول کریم ﷺ نے کوئی خطبہ دیا ہو اور اس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو ”یعنی جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔“ (یہ روایت بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہے) خیانت نفاق کی علامت ہے۔ بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز نفاق کی علامتیں بتلاتے ہوئے ایک علامت یہ بتلائی کہ جب امانت اس کے پاس رکھی جائے تو خیانت کرے۔ امانت کی قسمیں۔ اس جگہ یہ بات غور طلب ہے کہ قرآن حکیم نے لفظ امانت بصیغہ جمع استعمال فرمایا جس میں اشارہ ہے کہ امانت صرف یہی نہیں کہ کسی کا کوئی مال کسی کے پاس رکھا ہو جس کو عام طور پر امانت کہا اور سمجھا جاتا ہے، بلکہ امانت کی کچھ اور قسمیں بھی ہیں جو واقعہ آیت کے نزول کا ابھی ذکر کیا گیا خود اس میں بھی کوئی مالی امانت نہیں، بیت اللہ کی کنجی کوئی خاص مال نہ تھا، بلکہ یہ کنجی خدمت بیت اللہ کے ایک عہدہ کی نشانی تھی۔ حکومت کے مناصیب اللہ کی امانتیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں جس کے امین وہ حکام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ میں عزل و نصب کے اختیارات ہیں، ان کے لئے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے، بلکہ ان پر لازم ہے کہ ہر کام اور ہر عہدہ کے لئے اپنے دائرہ حکومت میں اس کے مستحق کو تلاش کریں۔ کسی منصب پر غیر اہل کو بٹھانے والا ملعون ہے۔ پوری اہلیت والا سب شرائط کا جامع کوئی نہ ملے تو موجودہ لوگوں میں قابلیت اور امانت داری کے اعتبار سے جو سب سے زیادہ فائق ہو اس کو ترجیح دی جائے۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دے دیا اس پر اللہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے (جمع الفوائد، ص 523) بعض روایات میں ہے کہ جس شخص نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیا حالانکہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہدہ کے لئے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللہ کی خیانت کی اور رسول کی اور سب مسلمانوں کی، آج جہاں نظام حکومت کی ابتری نظر آتی ہے وہ سب اس قرآنی تعلیم کو نظر انداز کردینے کا نتیجہ ہے کہ تعلقات اور سفارشوں اور رشوتوں سے عہدے تقسیم کئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نااہل اور ناقابل لوگ عہدوں پر قابض ہو کر خلق خدا کو پریشان کرتے ہیں اور سارا نظام حکومت برباد ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایااذا وسد الامرالی غیر اھلہ فانتظر الساعة۔ ”یعنی جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے سپرد کردی گئی جو اس کام کے اہل اور قابل نہیں تو (اب اس فساد کا کوئی علاج نہیں) قیامت کا انتظار کرو۔“ یہ ہدایت صحیح بخاری کتاب علم میں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے لفظ امنت بصیغہ جمع لا کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ امانت صرف اسی کا نام نہیں کہ ایک شخص کا مال کسی دوسرے شخص کے پاس بطور امانت رکھا ہو، بلکہ امانت کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں حکومت کے عہدے بھی داخل ہیں۔ اور ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ”یعنی مجلسیں امانتداری کے ساتھ ہونی چاہئیں۔“ مطلب یہ ہے مجلس میں جو بات کہی جائے وہ اسی مجلس کی امانت ہے، ان کی اجازت کے بغیر اس کو دوسروں سے نقل کرنا اور پھیلانا جائز نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے”المستشار مؤ تمن“”یعنی جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ امین ہے۔“ اس پر لازم ہے کہ مشورہ وہی دے جو اس کے نزدیک مشورہ لینے والے کے حق میں مفید اور بہتر ہو، اگر جانتے ہوئے خلاف مشورہ دے دیاتو امانت میں خیانت کا مرتکب ہوگیا، اسی طرح کسی نے آپ سے اپنا راز کہا تو وہ اس کی امانت ہے، بغیر اس کی اجازت کے کسی سے کہہ دینا خیانت ہے آیت مذکورہ میں ان سب امانتوں کا حق ادا کرنے کی تاکید ہے۔ یہاں تک پہلی آیت کے ابتدائی جملہ کی تفسیر تھی، آگے پہلی آیت کے دوسرے جملہ کی تفسیر ہے کا فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف کے ساتھ کیا کرو۔“ ظاہر یہ ہے کہ اس کا خطاب حکام اور امراء کو ہے جو خصومات مقدمات کا فیصلہ کیا کرتے ہیں اور اسی کے قرینہ سے بعض حضرات نے پہلے جملہ کا مخاطب بھی حکام و امراء کو قرار دیا ہے، اگرچہ پہلے جملہ کی طرح اس میں بھی گنجائش اس کی بنا کر فیصلہ کردیا کرتے ہیں، اسی طرح جھگڑوں کا فیصلہ کرنا عوام میں بھی پایا جاسکتا ہے، مگر اس میں شبہ نہیں کہ اول نظر میں ان دونوں جملوں کے مخاطب حکام و امراء ہی معلوم ہوتے ہیں، اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے مخاطب ال حکام و امراء ہیں اور ثانیاً یہ خطاب ہر اس شخص کے لئے بھی ہے جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں اور جس کو کسی مقدمہ کا ثالث بنادیا جائے۔ اس جملہ میں حق تعالیٰ نے بین الناس فرمایا بین المسلمین یا بین المومنین نہیں فرمایا۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ مقدمات کے فیصلوں میں سب انسان مساوی ہیں، مسلم ہوں یا غیر مسلم اور دوست ہوں یا دشمن اپنے ہم وطن، ہم رنگ، ہم زبان ہوں یا غیر فیصلہ کرنے والوں کا فرض ہے کہ ان سب تعلقات سے الگ ہو کر بھی حق و انصاف کا تقاضا ہو وہ فیصلہ کریں۔ عدل و انصاف امن عالم کا ضامن ہے۔ غرض آیت کے پہلے جملہ میں ادائے امانت کا حکم ہے اور دوسرے میں عدل و انصاف کا ان میں ادائے امانات کو مقدم کیا یا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پورے ملک میں عدم و انصاف کا قیام اس کے بیر ہو ہی نہیں سکتا کہ جن کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار ہے وہ پہلے اداء امانات کا فریضہ صحیح طور پر ادا کریں، یعنی حکومت کے عہدوں پر صرف انہی لوگوں کو مقرر کریں جو صلاحیت کار اور امانت و دیانت کی رو سے اس عہدہ کے لے سب سے زیادہ بہتر نظر آئیں، دوستی اور تعلقات یا محض سفارش یا رشوت کو اس میں راہ نہ دیں، ورنہ نتیجہ یہ ہوگا کہ نااہل ناقابل یا خائن اور ظالم لوگ عہدوں پر قابض ہوجائیں گے پھر اگر ارباب اقتدار دل سے بھی یہ چاہیں کہ ملک میں عدل و انصاف کار رواج ہو تو ان کے لئے ناممکن ہوجائے گا، کیونکہ یہ عہدہ داران حکومت ہی حکومت کے ہاتھ اور پیر ہیں، جب یہ خائن یا ناقابل ہوئے تو عدل و انصاف قائم کرنے کی کیا راہ ہے ؟ اس آیت میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس میں حق جل شانہ نے حکمت کے عہدوں کو بھی امانت قرار دے کر اول تو یہ واضح فرما دیا کہ جس طرح امانت صرف اسی کو ادا کرنا چاہئے جو اس کا مالک ہو، کسی فقیر، مسکین پر رحم کھا کر کسی کی امانت اس کو دینا جائز نہیں یا کسی رشتہ دار یا دوست کا حق ادا کرنے کے لئے کسی شخص کی امانت اس کو دے دینا درست نہیں، اسی طرح حکومت کے عہدے جن کے ساتھ عام خلق اللہ تعالیٰ کا کام متعلق ہوتا ہے یہ بھی امانتیں ہیں اور ان امانتوں کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اپنی صلاحیت کار اور قابلیت و استعداد کے اعتبار سے بھی اس عہدے کے لئے مناسب اور موجودہ لوگوں میں سب سے بہتر ہوں اور دیانت اور امانت کے اعتبار سے بھی سب میں بہتر ہوں، ان کے سوا کسی دوسرے کو یہ عہدہ سپرد کردیا تو یہ امانت ادا نہ ہوئی۔ علاقائی اور صوبائی بنیادوں پر حکومت کے مناسب سپرد کرنا اصولی غلطی ہے۔ اس کے ساتھ قرآن حکیم کے اس جملہ نے اس عام غلطی کو بھی دور کردیا جو اکثر ممالک کے دستوروں میں چل رہی ہے کہ حکومت کے عہدوں کو باشندگان ملک کے حقوق قرار دے دیا ہے۔ اور اس اصولی غلطی کی بناء پر یہ قانون بنانا پڑا کہ حکومت کے عہدے تناسب آبادی کے اصول پر تقسیم کئے جائیں، ہر صوبہ ملک کے لئے کوٹے مقرر ہیں، ایک صوبہ کے کوٹہ میں دوسرے صوبہ کا آدمی نہیں رکھا جاسکتا، خواہ وہ کتنا ہی قابل اور امین کیوں نہ ہو، اور اس صوبہ کا آدمی کتنا ہی غلط کار نااہل ہو، قرآن حکیم نے صاف اعلان فرما دیا کہ یہ عہدے کسی کا حق نہیں بلکہ امانتیں ہیں جو صرف اہل امانت ہی کو دی جاسکتی ہیں خواہ وہ کسی صوبہ اور کسی خطہ کے رہنے والے ہوں، البتہ کسی خاص علاقہ اور صوبہ پر حکمت کے لئے اسی علاقہ کے آدمی کو ترجیح دی جاسکتی ہے کہ اس میں بہت سی مصالح ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ کام کی صلاحیت اور امانت میں اس پر پورا اطمینان ہو۔ دستور مملکت کے چند زریں اصول۔ اسی طرح اس مختصر آیت میں دستور مملکت کے چند بنیادی اصول آگئے جو مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ اول یہ کہ آیت کے پہلے جملہ کو ان اللہ یامرکم سے شروع فرما کہ اس طرف اشارہ کردیا کہ اصل امر اور حکم اللہ تعالیٰ کا ہے، سلاطین دنیا سب اس کے مامور ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ ملک میں اقتدار اعلی صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ 2۔ دوسرے یہ کہ حکومت کے عہدے باشندگان ملک کے حقوق نہیں جن کو تناسب آبادی کے اصول پر تقسیم کیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی امانتیں ہیں جو صرف ان کے اہل اور لائق لوگوں کو دیئے جاسکتے ہیں۔ 3۔ تیسرے یہ کہ زمین پر انسان کی حکمرانی صرف ایک نائب و امین کی حیثیت سے ہو سکتی ہے وہ ملک کی قانون سازی میں ان اصول کا پابند رہے گا جو حاکم مطلق حق تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی بتلا دیئے گئے ہیں۔ 4۔ چوتھے یہ کہ حکام و امراء کا فرض ہے کہ جب کوئی مقدمہ ان کے پاس آئے تو نسل و وطن اور رنگ و زبان یہاں تک کہ مذہب و مسلک کا امتیاز کئے بغیر عدل و انصاف کا فیصلہ کریں۔ اس آیت میں دستور مملکت کے زرین اصول بتلا کر آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جو نصیحت کی ہے وہ بہت ہی اچھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی سنتا ہے اور جو بولنے اور فریاد کرنے پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو اس کے حالات کو خود دیکھنا ہے، اس لئے اس کے بتلانے اور بنائے ہوئے اصول ہی ایسے ہیں جو ہمیشہ ہر ملک میں اور ہر دور میں قابل عمل ہو سکتے ہیں، انسانی دماغوں کے بنائے اصول و دستور صرف اپنے ماحول کے اندر محدود ہوا کرتے ہیں اور تغیر حالات کے بعد ان کا بدلنا ناگزیر ہوتا ہے جس طرح پہلی آیت کے مخاطب حکام و امراء تھے دوسری آیت میں عوام کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو ! تم اللہ کی اور رسول کی اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو۔ اولی الامر کون لوگ ہیں ؟:۔ اولی الامر لغت میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے، جن کے ہاتھ میں کسی چیز کا نظام و انتظام ہو، اسی لئے حضرت ابن عباس، مجاہد اور حسن بصری وغیرہ ؓ ، مفسرین قرآن نے اولی الامر کے مصداق علمئا و فقہاء کو قرار دیا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے نائب ہیں اور نظام دین ان کے ہاتھ میں ہے۔ اور ایک جماعت مفسرین نے جن میں حضرت ابوہریرہ ؓ بھی شامل ہیں، فرمایا کہ اولی الامر سے مراد و حکام اور امراء ہیں جن کے ہاتھ میں نظام حکومت ہے۔ اور تفسیر ابن کثیر اور تفسیر مظہری میں ہے کہ یہ لفظ دونوں طبقوں کو شامل ہے، یعنی علماء کو بھی اور حکام و امراء کو بھی، کیونکہ نظام امرا انہیں دونوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس آیت میں ظاہر اً تین کی اطاعتوں کا حکم ہے، رسول، رسول، اول الامر، لیکن قرآن کی دوسری آیات نے واضح فرما دیا کہ حکم و اطاعت دراصل صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ہے، ان الحکم الا للہ مگر اس کے حکم اور اس کی اطاعت کی عملی صورت چار حصوں میں منقسم ہے۔ حکم اور اطاعت کی تین عملی صورتیں۔ ایک وہ جس چیز کا حکم صراحتة خود حق تعالیٰ نے قرآن میں نازل فرما دیا اور اس میں کسی تفصیل و تشریح کی حاجت نہیں، جیسے شرک و کفر کا انتہائی جرم ہونا ایک اللہ وحدہ کی عبادت کرنا اور آخرت اور قیامت پر یقین رکھنا اور محمد مصطفے ﷺ کو اللہ کا آخری برحق رسول ماننا، نماز، روزہ، حج، زکوة کو فرض سمجھنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو براہ راست احکام ربانی ہیں، ان کی تعمیل بلاواسطہ حق تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ دسرا حصہ احکام کا وہ ہے جس میں تفصیلات و تشریحات کی ضرورت ہے، ان میں قرآن کریم اکثر ایک مجمل یا مبہم حکم دیتا ہے اور اس کی تشریح و تفصیل نبی کریم ﷺ کے حوالے کی جاتی ہے، پھر وہ تفصیل و تشریح جو آنحضرت ﷺ اپنی احادیث کے ذریعہ فرماتے ہیں وہ بھی ایک قسم کی وحی ہوتی ہے، اگر اس تفصیل و تشریح میں اجتہادی طور پر کوئی کمی یا کوتاہی رہ جاتی ہے تو بذریعہ حی اس کی اصلاح فرما دی جاتی ہے اور بالاخر آنحضرت ﷺ کا قول و عمل جو آخر میں ہوتا ہے وہ حکم الہی کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس قسم کے احکام کی اطاعت بھی اگرچہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے لیکن ظاہری اعتبار سے چونکہ یہ احکام صریح طور پر قرآن نہیں، آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے امت کو پہنچنے ہیں، اس لئے ان کی اطاعت ظاہری اعتبار سے اطاعت رسول ہی کہلاتی ہے جو حقیقت میں اطاعت الہی کے ساتھ متحد ہونے کے باوجود ظاہری اعتبار سے ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے، اسی لئے پورے قرآن میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دینے کے ساتھ اطاعت رسول کا حکم مستقلاً مذکور ہے۔ تیسرا درجہ احکام کا وہ ہے جو نہ قرآن میں صراحتہ مذکور ہیں نہ حدیث میں یا ذخیرہ احادیث میں اس کے متعلق متضاد روایات ملتی ہیں، ایسے احکام میں علماء مجتہدین قرآن و سنت کے منصوصات اور زیر غور مسئلہ کے نظائر میں غور و فکر کر کے ان کا حکم تلاش کرتے ہیں ان احکام کی اطاعت بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے قرآن و سنت سے مستفاد ہونے کی وجہ سے اطاعت خداوندی ہی کی ایک فرد ہیں، مگر ظاہری سطح کے اعتبار سے یہ فقہی فتاوی کہلاتے ہیں اور علماء کی طرف منسوب ہیں۔ اسی تیسری قسم میں ایسے احکام بھی ہیں جن میں کتاب و سنت کی رو سے کوئی پابندی عائد نہیں، بلکہ ان میں عمل کرنے والوں کو اختیار ہے جس طرح چاہیں کریں، جن کو اصطلاح میں مباحات کہا جاتا ہے، ایسے احکام میں عملی انتظام حکام و امراء کے سپرد ہے کہ وہ حالات اور مصالح کے پیش نظر کوئی قانون بنا کر سب کو اس پر چلائیں، مثلاً شہر کراچی میں ڈاک خانے پچاس ہوں یا سو، پولیس اسٹیشن کتنے ہوں، ریلوے کا نظام کس طرح ہو، آباد کاری کا انتظام کن قواعد پر کیا جائے یہ سب مباحات ہیں، ان کی کوئی جانب نہ واجب ہے نہ حرام بلکہ اختیاری ہے، لیکن یہ اختیار عوام کو دے دیا جائے تو کوئی نظام نہیں چل سکتا، اس لئے نظام کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ آیت مذکورہ میں اولوالامر کی اطاعت سے علماء اور حکام دونوں کی اطاعت مراد ہے، اس لئے اس آیت کی رو سے فقہی تحقیقات میں فقہاء کی اطاعت اور انتظامی امور میں حکام و امراء کی اطاعت واجب ہوگئی۔ یہ اطاعت بھی درحقیقت اللہ جل شانہ کے احکام ہی کی اطاعت ہے، لیکن ظاہری سطح کے اعتبار سے یہ احکام نہ قرآن میں ہیں نہ سنت میں، بلکہ ان کا بیان یا علماء کی طرف سے ہو یا حکام کی طرف سے اس لئے اس اطاعت کو تیسرا نمبر جداگانہ قرار دے کر اولی الامر کی اطاعت نام رکھا گیا اور جس طرح منصوصات قرآن میں قرآن کا اتباع اور منصوصات رسول میں رسول کا اتباع لازم واجب ہے، اسی طرح غیر منصوص فقہی چیزوں میں فقہا کا اور انتظامی امور میں حکام و امراء کا اتباع واجب ہے، یہی مفہم ہے اطاعت اولی الامر کا۔ خلاف شرع کاموں میں امیر کی اطاعت جائز نہیں۔ واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس کام کو ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگوں کے درمیان کوئی فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اولی الامر کی اطاعت کی تعلیم دی اس سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ امیر اگر عدل پر قائم رہے تو اس کی اطاعت واجب ہے اور اگر وہ عدل و انصاف کو چھوڑ کر خلاف شرع احکام صادر کرے تو ان میں امیر کی اطاعت نہیں کی جائے گی، چناچہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے”لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق۔“ ”یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت جائز نہیں جس سے خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشادفرما رہے ہیں کہ اگر تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو آدمی عدل و انصاف کو قائم رکھنے کی طاقت اور صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کو قاضی بھی نہیں بننا چاہئے، کیونکہ حکم بالعدل بھی ایک امانت ہے، جس کی حفاظت نہ رکھتا ہو تو اس کو قاضی بھی نہیں بننا چاہئے، کیونکہ حکم بالعدل بھی ایک امانت ہے، جس کی حفاظت کمزور اور نااہل آدمی نہیں کرسکتا، چناچہ جب حضرت ابوذر نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے کسی جگہ کا حاکم مقرر فرما لیں تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ”اے ابوذر آپ ضعیف آدمی ہیں اور منصب ایک امانت ہے جس کی وجہ سے قیامت کے دن انتہائی ذلت اور رسوائی ہوگی، سوائے اس شخص کے جس نے امانت کا حق پورا کردیا ہو (یعنی وہ ذلت سے بچ جائے گا۔“) عادل آدمی اللہ کا محبوب ترین بندہ ہے۔ ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عادل اللہ کا محبوب اور قریب ترین انسان ہے اور ظالم اللہ کی رحمت اور نظر کرم سے دور ہوتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ سب سے پہلے اللہ کے سایہ کے نیچے کون جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو اس بات کا زیادہ علم ہے، تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سامنے جب حق آجائے تو فوراً قبول کرلیتے ہیں اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو مال کو خرچ کرتے ہیں اور جب وہ فیصلہ کرتے ہیں تو ایسا عادلانہ کرتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے لئے کرتے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والوں حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول ﷺ کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول ﷺ کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔

اجتہاد اور قیاس کا ثبوت قولہ تعالیٰ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اگر تمہارا کسی امر کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو تم اللہ اور رسول کی جانب رجوع کرو۔ کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کتاب و سنت کے احکام منصوصہ کی جانب رجوع کیا جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ اگر احکام منصوصہ موجود نہیں تو ان کے نظائر پر قیاس کر کے رجوع کیا جائے گا، فردوہ کے الفاظ عام ہیں جو دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔