4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑا کرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے، اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرادیں تو اللہ موافقت کردے گا ان دونوں میں، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔

اس دوسری آیت میں قرآن کریم نے اس فساد عظیم کا دروازہ بند کرنے کے لئے حکام وقت، فریقین کے اولیاء اور حامیوں کو اور مسلمانوں کی جماعتوں کو خطاب کر کے ایک ایسا پاکیزہ طریقہ بتلایا جس سے فریقین کا اشتعال بھی ختم ہوجائے اور الزام تراشی کے راستے بھی بند ہوجائیں اور ان کے آپس میں مصالحت کی راہ نکل آئے اور گھر کا جھگڑا اگر گھر میں ختم نہیں ہوا تو کم از کم خاندان ہی میں ختم ہوجائے عدالت میں مقدمہ کی صورت میں کوچہ و بازار میں یہ جھگڑا نہ چلے۔ وہ یہ کہ ارباب حکومت یا فریقین کے اولیاء یا مسلمان کی کوئی مقتدر جماعت یہ کام کرے کہ ان کے آپس میں مصاحلت کرانے کے لے دو حکم مقرر کریں، ایک مرد کے خاندان سے دوسرا عورت کے خاندان سے اور ان دونوں جگہ لفظ حکم سے تعبیر کر کے قرآن کریم نے ان دونوں شخصوں کے ضروری اوصاف کو بھی متعین کردیا کہ ان دونوں میں جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو اور یہ صلاحیت ظاہر ہے کہ اسی شخص میں ہو سکتی ہے جو ذی علم بھی ہوا اور دیانتدار بھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک حکم مرد کے خانان کا اور ایک عورت کے خاندان کا مقرر کر کے دونوں میاں بیوی کے پاس بھیجے جائیں ........ اب وہاں جا کر یہ دونوں کیا کام کریں اور ان کے اختیارات کیا ہیں ........ قرآن کریم نے اس کو متعین نہیں فرمایا، البتہ آخر میں ایک جملہ یہ ارشاد فرمایا ان یرید اصلاحاً یوفق اللہ بینھما یعنی اگر یہ دونوں حکم اصلاح حال اور باہمی مصالحت کا ارادہ کرینگے تو اللہ تعالیٰ ان کے کام میں امداد فرما دیں گے اور میاں بیوی میں اتفاق پیدا کردیں گے۔ اس جملہ سے دو باتیں مفہوم ہوئیں اول تو یہ کہ مصالحت کرانے والے دونوں حکم اگر نیک نیت ہوں اور دل سے چاہیں کہ باہم صلح ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غیبی امداد ہوگی، کہ یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کے ذریعہ دونوں میاں بیوی کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اتفاق و محبت پیدا فرما دیں گے، اس کے نتیجہ سے یہ بھی سمجھا سکتا ہے کہ جہاں باہمی مصالحت نہیں ہو پاتی تو دونوں حکمین میں سے کسی جانب اخلاص کے ساتھ صلح جوئی میں کمی ہوتی ہے۔ دوسری بات اس جملہ سے یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ ان دونوں حکمین کے بھیجنے کا مقصد میاں بیوی میں صلح کرانا ہے، اس سے زیادہ کوئی کام حکمین کے بھیجنے کے مقصد میں شامل نہیں، یہ دوسری بات ہے کہ فریقین رضا مند ہو کر انہیں دونوں حکموں کو اپنا وکیل، مختار یا ثالث بنادیں اور یہ تسلیم کرلیں کہ تم دونوں مل کر جو فیصلہ بھی ہمارے حق میں دو گے ہمیں منظور ہوگا، اس صورت میں یہ دونوں حکم کلی طور پر ان کے معاملہ کے فیصلہ میں مختار ہوجائیں گے دونوں طلاق پر متفق ہوجائیں تو طلاق ہوجائے گی دونوں مل کر خلع وغیرہ کی کوئی صورت طے کردیں تو وہی فریقین اور مرد کی جانب سے دیئے ہوئے اختیار کی بنا پر عورت کو طلاق دیدیں تو فریقین کو ماننا پڑے گی، سلف میں حسن بصری اور امام ابوحنیفہ کی یہی تحقیق ہے، (4 وح المعانی وغیرہ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نہیں تمہیں بھی ان حکمین کو ایسا ہی اختیار دینا چاہئے جیسا عورت نے دیدیا۔ اس واقعہ سے بعض ائمہ مجتہدین نے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ ان حکمین کا با اختیار ہونا ضروری ہے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فریقین سے کہہ کر ان کو با اختیار بنوایا، اور امام اعظم ابوحنیفہ اور حسن بصری نے یہ قرار دیا کہ اگر ان حکمین کا با اختیار ہونا امر شرعی اور ضروری ہوتا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس ارشاد اور فریقین سے رضامندی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی، فریقین کو رضامندی کرنے کی کوشش خود اس کی دلیل ہے کہ اصل سے یہ حکمین با اختیار نہیں ہوتے، ہاں، میاں بیوی ان کو مختار بنادیں تو با اختیار ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کی اس تعلیم سے لوگوں کے باہمی جھگڑوں اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے متعلق ایک نئے باب کا نہایت مفید اضافہ ہوا، جس کے ذریعہ عدالت و حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی بہت سے مقدمات اور جھگڑوں کا فیصلہ برادریوں کی پنچایت میں ہوسکتا ہے۔ دوسرے نزاعات میں بھی حکم کے ذریعہ مصالحت کرائی جائے۔ حضرات فقہاء نے فرمایا ہے کہ باہم صلح کرانے کے لئے دو حکموں کے بھیجنے کی یہ تجویز صرف میاں بیوی کے جھگڑوں میں محدود نہیں، بلکہ دوسرے نزاعات میں بھی اس سے کام لیا جاسکتا ہے اور لینا چاہئے، خصوصاً جب کہ جھگڑنے والے آپس میں عزیز و رشتہ دار ہوں، کیونکہ فیصلوں سے وقتی جھگڑا تو ختم ہوجاتا ہے، مگر وہ فیصلے دلوں میں کدورت و عداوت کے جراثیم چھوڑ جاتے ہیں جو بعد میں نہایت ناگوار شکلوں میں ظاہر ہوا کرتے ہیں ........ حضرت فاروق اعظم نے اپنے قاصدوں کے لئے یہ فرمان جاری فرما دیا تھا کہ ”رشتہ داروں کے مقدمات کو انہی میں واپس کردو تاکہ وہ خود برادری کی امداد سے آپس میں صلح کی صورت نکال لیں، کیونکہ قاضی کا فیصلہ دلوں میں کینہ و عداوت پیدا ہونے کا سبب ہوتا ہے۔“ فقہائے حنفیہ میں سے قاضی قدس علاء الدین طرابلسی نے اپنی کتاب معین الحکام میں اور ابن سحنہ نے لسان الحکام میں اس فرمان فاروقی کو ایسے پنچایتی فیصلوں کی خاص بنیاد بنایا ہے جن کے ذریعہ فریقین کی رضامندی سے صلح کی کوئی صورت نکالی جائے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اگرچہ فاروقی فرمان میں یہ حکم رشتہ داروں کے باہمی جھگڑوں سے متعلق ہے، مگر اس کی جو علت و حکمت اسی فرمان میں مذکور ہے کہ عدالتی فیصلے دلوں میں کدورت پیدا کردیا کرتے ہیں، یہ حکمت رشتہ دار اور غیر رشتہ داروں میں عام ہے، کیونکہ باہمی کدورت اور عداوت سے سب ہی مسلمان کو بچانا ہے، اس لئے حکام اور قضاة کے لئے مناسب یہ ہے کہ مقدمات کی سماعت سے پہلے اس کی کوشش کرلیا کریں کہ کسی صورت سے ان کے آپس میں رضامندی کے ساتھ مصالحت ہوجائے۔ غرض ان دو آیتوں میں انسان کی خانگی اور عائلی زندگی کا ایک ایسا جامع اور مکمل نظام ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اس پر پورا عمل ہوجائے تو دنیا کے اکثر جھگڑے اور جنگ وجدال مٹ جائیں، مرد اور عورتیں سب مطمئن ہو کر اپنی خانگی زندگی کو ایک جنت کی زندگی محسوس کرنے لگیں اور خانگی جھگڑوں سے جو قبائلی اور پھر جماعتی اور ملکی جھگڑے اور جنگیں کھڑی ہوجاتی ہیں ان سب سے امن ہوجائے۔ آخر میں پھر اس عجیب و غریب قرآنی نظام محکم پر ایک اجمالی نظر ڈالئے جو اس نے گھریلو جھگڑوں کے ختم کرنے کے لئے دنیا کو دیا ہے 1۔ گھر کا جھگڑا گھر ہی میں تدریجی تدبیروں کے ساتھ چکا دیا جائے۔ 2۔ یہ صورت ممکن نہ رہے تو حکام یا برادری کے لوگ دو حکموں کے ذریعہ ان میں مصالحت کرا دیں تاکہ گھر میں نہیں تو خاندان ہی کے اندر محدود رہ کر جھگڑا ختم ہو سکے۔ 3۔ جب یہ بھی ممکن نہ رہے تو آخر میں معاملہ عدالت تک پہونچے، وہ دونوں کے حالات و معاملات کی تحقیق کر کے عادلانہ فیصلہ کرے۔ آخر آیت میں ان اللہ کان علیماً خبیراً ، فرما کر دونوں حکموں کو بھی متنبہ فرما دیا کہ تم کوئی بےانصافی یا کج روی کرو گے تو تم کو بھی ایک علیم وخبیر سے سابقہ پڑنا ہے اس کو سامنے رکھو۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والا جو کہ بخل کرتے ہیں

ربط آیات سورة نساء کی تفسیر میں آپ دیکھتے آئے ہیں کہ اس سورت میں حقوق العباد کا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے، شروع سورت سے یہاں تک عام انسانی حقوق کی اہمیت کا اجمالی تذکرہ فرمانے کے بعد یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا اہتمام اور ان میں کوتاہی پر سزا، وعید اور اس دنیا میں جو ان کی دو صنف ضعیف یعنی بچوں اور عورتوں کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا اور ظالمانہ رسمیں اختیار کی گئیں ان کی اصلاح کا اور پھر وراثت کے حقوق کا بیان آیا ہے، اس کے بعد والدین اور دوسرے رشتہ داروں اور تعلق داروں اور پڑوسیوں اور عام انسانوں کے حقوق کا کچھ تفصیلی بیان آ رہا ہے اور چونکہ ان حقوق کو علی سبیل الکمال وہی شخص ادا کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور رسول اور قیامت کے ساتھ عقیدہ درست رکھتا ہو، نیز بخل، کبر اور ریا سے بھی بچتا ہو، اس لئے کہ یہ امور بھی ادا حقوق میں مانع ہوتے ہیں اس لئے ان آیات میں توحید اور ترغیب و ترہیب کے کچھ مضامین ارشاد فرمائے اور شرک، انکار قیامت، عصیان رسول اور بخل وغیرہ اخلاق ذمیمہ کی مذمت بھی ذکر فرمائی خلاصہ تفسیر اور تم اللہ کی عبادت اختیار کرو (اس میں توحید بھی آگئی) اور اس کے ساتھ کسی چیز کو (خواہ وہ انسان ہو یا غیر انسان عبادت میں یا ان کی خاص صفات میں، اعتضاد میں) شریک مت کرو اور (اپنے) والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور (دوسرے) اہل قرابت کے ساتھ بھی، اور یتیموں کے ساتھ بھی اور غریب غرباء کے ساتھ بھی، اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور دور والے پڑسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی، (خواہ وہ مجلس دائمی ہو جیسے سفر طویل کی رفاقت اور کسی مباح کام میں شرکت یا عارضی ہو جیسے سفر قصیر، یا اتفاقی جلسہ میں شرکت) اور راہ گیر کے ساتھ بھی (خواہ وہ تمہارا مہمان ہو یا نہ ہو) اور ان (غلام لونڈیوں) کے ساتھ بھی جو (شرعاً) تمہارے مالکانہ قبضہ میں ہیں (غرض ان سب سے خوش معاملگی کرو جس کی تفصیل شرع نے دوسرے موقع پر بتلا دی ہے اور جو لوگ ان حقوق کو ادا نہیں کرتے اکثر اس کے کئی سبب ہیں یا تو ان کے مزاج میں تکبر ہے کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور کسی کی طرف التفات ہی نہیں کرتے اور یا ان کی طبیعت میں بخل غالب ہے کہ کسی کو دیتے دلاتے جان نکلتی ہے اور یا ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اعتقاد نہیں کہ آپ کے احکام کو اور اداء حقوق کے ثواب کے وعدوں کو اور تلاف حقوق کے عذاب کی وعیدوں کو صحیح نہیں سمجھتے اور یہ کفر ہے اور یا ان کی عادت نمائش اور نام و نمود کی ہے، اس لئے جہاں نمود ہو وہاں دیتے دلاتے ہیں گو حق نہ ہو اور جہاں نمود نہ ہو وہاں ہمت نہیں ہوتی گو حق ہو اور یا ان کو سرے سے اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ عقیدہ نہیں، یا وہ قیامت کے قائل نہیں اور یہ بھی کفر ہے، اس لئے اسی ترتیب سے جو ان امور کا انفراداً یا اجتماعاً ارتکاب کرتے ہیں ان کا حال بھی سن لو کہ) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں سے محبت نہیں رکھتے جو (دل میں) اپنے کو بڑا سمجھتے ہوں (زبان سے) شیخی کی باتیں کرتے ہوں، جو کہ بخل کرتے ہوں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم کرتے ہوں (خواہ زبان سے یا اس طرح سے کہ ان کو دیکھ کر دوسرے یہی تعلیم پاتے ہیں) اور وہ اس چیز کو پوشیدہ رکھتے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے (اس سے مراد یا مال و دولت ہے جب کہ بلامصلحت حفاظت کے محض بخل کی وجہ سے چھپا دے کہ اہل حقوق ان سے توقع ہی نہ کریں، یا مراد علم دین ہے کہ یہود اخبار رسالت کو چھپایا کرتے تھے، پس بخل بھی عام ہوجاوے گا، پس اس میں بخلاء و منکرین رسالت دونوں آگئے) اور ہم نے ایسے ناسپاسوں کے لئے (جو نعمت مال یا نعمت بعثت رسول کی حق شناسی نہ کریں) اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے اور جو لوگ کہ اپنے مالوں کو لوگوں کے دکھلانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن (یعنی قیامت کے دن) پر اعتقاد نہیں رکھتے (ان کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان سے محبت نہیں) اور (بات یہ ہے کہ) شیطان جس کا مصاحب ہو (جیسا ان مذکور لوگوں کا ہوا ہے) تو وہ اس کا برا مصاحب ہے (کہ ایسا مشورہ دیتا ہے جس میں انجام کار سخت ضرر ہو۔) معارف و مسائل حقوق کے بیان سے پہلے توحید کا ذکر کیوں۔ حقوق کی تفصیل سے پہلے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور توحید کا مضمون اس طرح ارشاد فرمایا گیاواعبدواللہ ولاتشرکوا بہ شیئاً یعنی ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔“ بیان حقوق سے پہلے مضمون عبادت اور توحید کو ذکر کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کے حقوق کا اہتمام نہ ہو تو اس سے دنیا میں اور کسی کے حقوق کے اہتمام کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے، برادری، سوسائٹی کی شرم یا حکومت کے قانون سے بچنے کے لئے ہزاروں راہیں ڈھونڈھ لیتا ہے، وہ چیز جو انسان کو انسانی حقوق کے احترام پر حاضر و غائب مجبور کرنیوالی ہے وہ صرف خوف خدا اور تقوی ہے اور یہ خوف وتقوی صرف توحید ہی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اس لئے مختلف تعلقات اور رشتہ والوں کے حقوق کی تفصیل سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید و عبادت کی یاد دھانی مناسب تھی۔ توحید کے بعد والدین کے حقوق کا ذکر۔ اس کے بعد تمام رشتہ داروں اور تعلق والوں میں سب سے پہلے والدین کے حقوق کا بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے متصل والدین کے حقوق کو بیان فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ حقیقت اور اصل کے اعتبار سے تو سارے احسانات و انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، لیکن ظاہری اسباب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ احسانات انسان پر اس کے والدین کے ہیں کیونکہ عام اسباب میں وہی اس کے وجود کا سبب ہیں اور آفرینش سے لے کر اس کے جوان ہونے تک جتنے کٹھن مراحل ہیں ان سب میں بظاہر اسباب ماں باپ ہی اس کے وجود اور پھر اس کے بقاء و ارتقاء کے ضامن ہیں، اسی لئے قرآن کریم میں دوسرے مواقع میں بھی ماں باپ کے حقوق کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے متصل بیان فرمایا گیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے ”یعنی میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرو۔“ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ واذا خذنامیثاق بنی اسرآئیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احساناً (2: 38) ان دونوں آیتوں میں والدین کے معاملہ میں یہ نہیں فرمایا کہ ان کے حقوق ادا کرو، یا ان کی خدمت کرو، بلکہ لفظ احسان لایا گیا، جس کے عام مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ حسب ضرورت ان کے نفقہ میں اپنا مال خرچ کریں اور یہ بھی داخل ہے کہ جیسی ضرورت ہو اس کے مطاق جسمانی خدمات انجام دیں، یہ بھی داخل ہے کہ ان کے ساتھ گفتگو میں سخت آواز سے یا بہت زور سے نہ بولیں جس سے ان کی بےادبی ہو، کوئی ایسا کلمہ نہ کہیں جس سے ان کی دل شکنی ہو، ان کے دوستوں اور تعلق والوں سے بھی کوئی ایسا سلوک نہ کریں جس سے والدین کی دل آزاری ہو، بلکہ ان کو آرام پہونچانے اور خوش رکھنے کے لئے جو صورتیں اختیار کرنی پڑیں وہ سب کریں، یہاں تک کہ اگر ماں باپ نے اولاد کے حقوق میں کوتاہی بھی کی ہو جب بھی اولاد کے لئے بدسلوکی کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول کریم ﷺ نے دس وصیتیں فرمائی تھیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں قتل کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے، دوسرے یہ کہ اپنے والدین کی نافرمانی یا دل آزاری نہ کرو اگرچہ وہ یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل اور مال کو چھوڑ دو دوسرے یہ کہ اپنے والدین کی نافرمانی یا دل آزاری نہ کرو اگرچہ وہ یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل اور مال کو چھوڑ دو۔ (مسند احمد) رسول کریم ﷺ کے ارشادات میں جس طرح والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدات وارد ہیں، اسی طرح اس کے بےانتہا فضائل اور درجات ثواب بھی مذکور ہیں۔ بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کے رزق اور عمر میں برکت ہو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے یعنی اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے۔ ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا باپ کی رضا میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ شعب الایمان میں بیہقی نے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لڑکا اپنے والدین کا مطیع و فرمانبردار ہو جب وہ اپنے والدین کو عزت و محبت کی نظر سے دیکھتا ہے تو ہر نظر میں اس کو حج مقبول کا ثواب ملتا ہے۔ بیہقی ہی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں لیکن جو شخص ماں باپ کی نافرمانی اور دل آزاری کرے اس کو آخرت سے پہلے دنیا ہی میں طرح طرح کی آفتوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید۔ آیت میں والذین کے بعد عام ذوی القربی یعنی تمام رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید آئی ہے، قرآن کریم کی ایک جامع اور مشہور آیت میں جس کو آنحضرت ﷺ اپنے خطبات کے آخر میں تلاوت فرمایا کرتے تھے، اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے ان اللہ یامرباعدل والاحسان وایتآء ذی القربی یعنی ”اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں سب کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کا اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا“ جس میں رشتہ داروں کی حسب استطاعت مالی اور جانی خدمت بھی داخل ہے اور ان سے ملاقات و خبر گیری بھی۔ حضرت سلمان ابن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ عام مسکینوں فقیروں کو دینے میں تو صرف صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور اگر اپنے ذی رحم رشتہ دار کو دیا جائے تو اس میں دو ثواب ہیں، ایک صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا یعنی رشتہ داری کے حقوق ادا کرنے کا۔ (مسند احمد، نسائی، ترمذی) آیت مذکورہ میں اول والدین کے حقوق کی تاکید فرمائی پھر عام رشتہ داروں کی۔ یتیم اور مسکین کا حق۔ تیسرے نمبر پر ارشاد فرمایاوالیتمی والمساکین، یتیموں اور مساکین کے حقوق کا مفصل بیان اگرچہ شروع سورت میں آ چکا ہے مگر اس کی یاد دہانی رشتہ داروں کے ضمن میں فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ لاوارث بچوں اور بیکس لوگوں کی امداد و اعانت کو بھی ایسا ہی ضروری سمجھیں جیسا اپنے رشتہ داروں کے لئے کرتے ہیں۔ پڑوسی کا حق۔ چوتھے نمبر میں ارشاد فرمایا والجار ذی القربی، اور پانچویں نمبر میں والجار الجنب جار کے معنی پڑوسی کے ہیں، اس آیت میں اس کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک جار ذی القربی دوسرے جار جنب ان دو قسموں کی تفسیر و تشریح میں صحابہ کرام کے مختلف اقوال ہیں عام مفسرین نے فرمایا کہ جار ذبی القربی سے مراد وہ پڑوسی ہے جو تمہارے مکان کے متصل رہتا ہے اور جار جنب سے وہ پڑوسی مراد ہے جو تمہارے مکان سے کچھ فاصلہ پر رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جار ذی القربی سے وہ شخص مراد ہے جو پڑوسی بھی ہے اور رشتہ دار بھی، اس طرح اس میں دو حق جمع ہوگئے اور جار جنب سے مراد وہ ہے جو صرف پڑوسی ہے رشتہ دار نہیں، اسلئے اس کا درجہ پہلے سے موخر رکھا گیا۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ جار ذی القربی وہ پڑوسی ہے جو اسلامی برادری میں داخل اور مسلمان ہے اور جارجنب سے غیر مسلم پڑوسی مراد ہے۔ الفاظ قرآن ان سب معانی کو متحمل ہیں اور حقیقت کے اعتبار سے بھی درجہ میں فرق ہوجانا امر معقول ہے اور معتبر ہے اور پڑوسی کے رشتہ دار یا غیر ہونے کے اعتبار سے بھی اور مسلم اور غیر مسلم ہونے کے اعتبار سے بھی ........ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پڑوسی خواہ قریب ہو یا بعید، رشتہ دار ہو یا مسلم ہو یا غیر مسلم، بہر حال اس کا حق ہے بقدر استطاعت کے امداد و اعانت اور خبر گیری لازم ہے۔ البتہ جس کا حق علاوہ پڑوسی کے دوسرا بھی ہے وہ دوسرے پڑوسیوں سے درجہ میں مقدم ہے، ایک حدیث میں خود رسول کریم ﷺ نے اس کو واضح فرما دیا ارشاد فرمایا کہ ”بعض پڑوسی وہ ہیں جن کا صرف ایک حق ہے، بعض وہ ہیں جن کے دو حق ہیں اور بعض وہ جن کے تین ہیں ہیں، ایک حق والا پڑوسی وہ غیرمسلم ہے جس سے کوئی رشتہ داری بھی نہیں، دو حق والا پڑوسی وہ ہے جو پڑوسی ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہے، تین حق والا پڑوسی وہ ہے جو پڑوسی بھی ہے، مسلمان بھی اور رشتہ دار بھی۔“ (ابن کثیر) رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جبرائیل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کی رعایت و امداد کی تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو بھی رشتہ داروں کی طرح وراثت میں شریک کردیا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) ترمذی اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی محلہ کے لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہو۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ایک پڑوسی کو پیٹ بھر کر کھاناجائز نہیں، جب کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ ہمنشین کا حق۔ چھٹے نمبر میں ارشاد فرمایاوالصاحب بالجنب اس کے لفظی معنی ہم ”پہلوساتھی“ کے ہیں، جس میں رفیق سفر بھی داخل ہے جو ریل میں جہاز میں بس میں، گاڑی میں آپ کے برابر بیٹھا ہو اور وہ شخص بھی داخل ہے جو کسی عام مجلس میں آپ کے برابر بیٹھا ہو۔ شریعت اسلام نے جس طرح نزدیک و دور کے دائمی پڑوسیوں کے حقوق واجب فرمائے اسی طرح اس شخص کا بھی حق صحبت لازم کردیا۔ جو تھوڑی دیر کے لئے کسی مجلس یا سفر میں آپ کے برابر بیٹھا ہو جس میں مسلم و غیر مسلم اور رشتہ دار و غیر رشتہ دار سب برابر ہیں، اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کی ہدایت فرمائی جس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ آپ کے کسی قول و فعل سے اس کو ایذا نہ پہنچے، کوئی گفتگو ایسی نہ کریں جس سے اس کی دل آزاری ہو، کوئی کام ایسا نہ کریں جس سے اس کو تکلیف ہو، مثلاً سگریٹ پی کر اس کا دھواں اس کے منہ کی طرف نہ چھوڑیں، پان کھا کر پیک اس کی طرف نہ ڈالیں، اس طرح نہ بیٹھیں جس سے اس کی جگہ تنگ ہوجائے۔ قرآن کریم کی اس ہدایت پر لوگ عمل کرنے لگیں تو ریلوے مسافروں کے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں، ہر شخص اس پر غور کرے کہ مجھے صرف ایک آدمی کی جگہ کا حق ہے، اس سے زائد جگہ گھیرنے کا حق نہیں، دوسرا کوئی اگر قریب بیٹھا ہے تو اس ریل میں اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا میرا ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ صاحب بالجنب میں ہر وہ شخص داخل ہے جو کسی کام اور کسی پیشہ میں آپ کا شریک ہے، صنعت مزدوری میں، دفتر کی ملازمت میں، سفر میں حضر میں۔ (روح المعانی) راہ گیر کا حق۔ ساتویں نمبر میں ارشاد فرمایاوابن السبیل، یعنی راہ گیر، اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوران سفر آپ کے پاس آجائے یا آپ کا مہمان ہوجائے چونکہ اس اجنبی شخص کا کوئی تعلق والا یہاں نہیں ہے، تو قرآن نے اس کے اسلامی، بلکہ انسانی تعلق کی رعایت کر کے اس کا حق بھی آپ پر لازم کردیا کہ بقدر وسعت و استطاعت اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ غلام، باندی اور ملازموں کا حق۔ آٹھویں نمبر میں ارشاد فرمایاوماملکت ایمانکم جس سے مراد مملوک غلام اور باندیاں ہیں، ان کا بھی یہ حق لازم کردیا گیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں، استطاعت کے موافق کھلانے پلانے، پہنانے میں کوتاہی نہ کریں، اور نہ ان کی طاقت سے زیادہ کام ان پر ڈالیں۔ اگرچہ الفاظ آیت کا صریح مدلول مملوک اور غلام اور باندیاں ہیں، لیکن اشتراک علت اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی بناء پر یہ احکام نوکروں اور ملازموں پر بھی حاوی ہیں کہ ان کا بھی یہی حق ہے کہ مقررہ تنخواہ اور کھانا وغیرہ دینے میں بخل اور دیر نہ کریں اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر کام نہ ڈالیں۔ حقوق میں کوتاہی وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں تکبر ہو۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایاان اللہ لایحب من کان مختالا فخوراً یعنی ”اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے جو متکبر اور دوسروں پر اپنی بڑائی جتانے والا ہو۔“ آیت کا یہ آخری جملہ پچھلے تمام ارشادات کا تکملہ ہے کہ پچھلے آٹھ نمبروں میں جن لوگوں کے حقوق کی تاکید آئی ہے اس میں کوتاہی وہ ہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں تکبر اور فخر و غرور ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔ تکبر اور جاہلی تفاخر کی وعید میں بہت سی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ”حضرت عبداللہ مسعود سے روایت ہے وہ شخص جہنم میں (ہمیشہ کے لئے) نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو اور جنت میں ایسا کوئی شخص نہیں جاسکے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے مقدار تکبر ہو۔“ ایک اور حدیث جس میں کبر کی تعریف بھی مذکور ہے ”حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو، حاضرین میں سے ایک آدمی نے سوال کیا، لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے کپڑے اچھے ہوں ان کے جوتے اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے ؟) آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہیں اور جمال کو پسند بھی فرماتے ہیں، تکبر نام ہے حق رد کرنے کا اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے کا۔“
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

اور سکھاتے ہیں لوگوں کو بخل اور چھپاتے ہیں جو ان کو دیا اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لئے عذاب ذلت کا

اس کے بعد الذین یبخلون میں بیان ہے کہ جو لوگ متکبرین ہوتے ہیں وہ حقوق واجبہ میں بھی بخل کرتے ہیں اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے اور دوسروں کو بھی اپنے قول و عمل سے اس بری صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ آپ میں بخل کا لفظ آیا ہے، جس کا اطلاق عرف عام میں حقوق مالیہ کے اندر کوتاہی کرنے پر ہوتا ہے، لیکن آیت کے شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بخل کا لفظ عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے، جو بخل بالمال اور بخل بالعلم دونوں کو شامل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یہود مدینہ کے حق میں نازل ہوئی تھی، یہ لوگ بہت زیادہ مغرور تھے، انتہاء درجہ کے کنجوس تھے، مال خرچ کرنے میں بھی بخل کرتے تھے اور اس علم کو بھی چھپاتے تھے جو انہیں اپنی الہامی کتابوں سے حاصل ہوا تھا، ان کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی بشارت تھی اور آپ کی علامات کا بھی ذکر تھا، لیکن یہود نے ان سب کا یقین کرلینے کے بعد بھی بخل سے کام لیا، نہ خود اس علم کے تقاضے پر عمل کیا اور نہ دوسروں کو بتلایا کہ وہ عمل کرتے۔ آگے فرمایا کہ ایسے لوگ جو اللہ کے دیئے ہوئے مال و دولت میں بھی بخل کرتے ہیں اور علم و ایمان کے معاملہ میں بھی بخیل ہیں، ایسے لوگ نعمت خداوندی کے ناسپاس ہیں اور ان کے لئے اہانت آمیز عذاب تیار کرلیا گیا۔ اتفاق کی فضیلت اور بخل کی مذمت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر صبح کے وقت دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک یہ کہتا ہے اے اللہ ! بھلائی کے راستہ میں خرچ کرنے والے کو اچھا عوض عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! بخیل کو (مال و دولت کی) تباہی سے ہمکنار کر۔“ ”حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اے اسماء ! خیر کے راستہ میں خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ دے ورنہ اللہ بھی تمہارے حق میں گننا شروع کر دے گا اور انفاق سے بچنے کے لئے بہت زیادہ حفاظت نہ برتو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی حفاظت کرنا شروع کر دے گا اور کم از کم جو تجھ سے ہو سکے اس کے دینے سے دریغ نہ کرو۔“ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سخی اللہ سے بھی قریب ہے جنت سے بھی قریب ہے اور لوگوں کی نظروں میں بھی پسندیدہ ہے، اور جہنم کی آگ سے دور ہے اور بخیل اللہ سے بھی دور ہے جنت سے بھی دور ہے لوگوں سے بھی دور ہے اور آگ سے قریب ہے اور جاہل آدمی جو سخاوت کرتا ہو (اور فرائض کو ادا کرنے اور محرمات سے بچنے کا اہتمام کرتا ہو) اس کنجوس سے بہتر ہے جو عبادت گذار ہو۔“ ”حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو عادتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہوتیں، بخل اور بد اخلاقی۔“
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ قیامت کے دن پر اور جس کا ساتھی ہوا شیطان تو وہ بہت برا ساتھی ہے۔

والذین ینفقون سے متکرین کی ایک دوسری صفت بتلا دی کہ یہ لوگ اللہ کے راستہ میں خود بھی خرچ نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں، البتہ لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتے رہتے ہیں اور چونکہ یہ لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، اس لئے اللہ کی رضا اور ثواب آخرت کی نیت سے خرچ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایسے لوگ تو شیطان کے ساتھی ہیں لہٰذا اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کے ساتھی شیطان کا ہوگا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح حقوق واجبہ میں کوتاہی کرنا بخل کرنا معیوب ہے اسی طرح لوگوں کو دکھانے کے لئے اور بےمقصد مصارف میں خرچ کرنا بھی بہت برا ہے، وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھانے کو نیکی کرتے ہیں ان کا وہ عمل عنداللہ مقبول نہیں ہوتا اور حدیث میں اسے شرک قرار دیا گیا ہے۔ ”حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شرک سے بالکل بےنیاز ہوں، جو شخص کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک ٹھہراتا ہے تو میں اس عمل کو شرک ہی کے لئے چھوڑ دیتا ہوں اور اس عمل کرنے والے کو بھی چھوڑ دیتا ہوں۔“ ”شداد بن اوس سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے نماز پڑھی دکھانے کے لئے تو اس نے شرک کیا، جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لئے تو اس نے شرک کیا، اور جس نے کوئی صدقہ دیا دکھانے کے لئے تو اس نے شرک کیا۔“ ”محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے متعلق مجھے بہت زیادہ اندیشہ شرک اصغر کا ہے، صحابہ نے پوچھا، شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا، ریا“ (احمد بحوالہ مشکوة) اور بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ قیامت کے دن جب اعمال صالحہ کا ثواب تقسیم ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان ریا کرنے والوں سے فرمائیں گے۔ ”ان لوگوں کے پاس چلے جاؤ جن کو دکھانے کے لئے تم دنیا میں نیک عمل کرتے تھے اور دیکھ لو کہ کیا ان کے پاس تمہارے اعمال کا ثواب اور اس کی جزاء ہے۔“
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور خرچ کرتے اللہ کے دیئے ہوئے میں سے اور اللہ کو ان کی خوب خبر ہے

ربط آیات ماقبل کی آیات میں انکار خدا، انکار آخرت اور بخل وغیرہ کی مذمت مذکور تھی اور ان آیات میں خدا و آخرت پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب مذکور ہے اور آخر میں مواقف حشر کا بیان کر کے ان لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا گیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور نہ نیک عمل کرتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اور ان پر کیا مصیبت نازل ہوجاوے گی اگر وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن (یعنی قیامت) پر ایمان لے آویں اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (اخلاص کیساتھ) خرچ کرتے رہا کریں (یعنی کچھ بھی ضرر نہیں ہر طرح نفع ہی نفع ہے) اور اللہ تعالیٰ ان (کے نیک و بد) کو خوب جانتے ہیں (پس ایمان و انفاق پر ثواب دیں گے اور کفر وغیرہ پر عذاب) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہ کریں گے (کہ کس کا ثواب مار لیں یا بےوجہ عذاب دینے لگیں جو کہ ظاہراً ظلم ہے) اور (بلکہ وہ تو ایسے رحیم ہیں کہ) اگر ایک نیکی ہوگی تو اس کو کئی گنا (کر کے ثواب دیں گے، جیسا کہ دوسری آیت میں وعدہ مذکور ہے) اور (اس ثواب موعود کے علاوہ) اپنے پاس سے (بلامعاوضہ عمل بطور انعام اور) اجر عظیم (الگ) دیں گے، سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جب کہ ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر (جن کا آپ سے سابقہ ہوا ہے) گواہی دینے کے لئے حاضر لاویں گے (یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے، ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء (علیہم السلام) کے اظہارات سنے جاویں گے، جو جو معاملات انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے، اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کہ سزا دی جائے گی اوپر فرمایا تھا کہ اس وقت کیا حال ہوگا آگے اس حال کو خود بیان فرماتے ہیں کہ) اس روز (یہ حال ہوگا کہ) جن لوگوں نے (دنیا میں) کفر کیا ہوگا اور رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش (اس وقت) ہم زمین کے پیوند ہوجاویں (تاکہ اس رسوائی اور آفت سے محفوظ رہیں) اور (گواہی کے علاوہ خود وہ اقراری مجرم بھی ہوں گے کیونکہ) اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا (جو ان سے دنیا میں صادر ہوئی تھیں) اخفاء نہ کرسکیں گے (پس دونوں طور پر فرد قرار داد جرم ان پر لگا دی جائے گی۔ معارف و مسائل پہلی آیت میں فرمایا وماذا علیھم لو امنوا باللہ، یعنی ان کو کیا نقصان پہنچ جائے اور کیا مصیبت پیش آجائے اگر یہ لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کریں، یہ سب آسان کام ہیں، ان کے اختیار کرنے میں کچھ بھی تکلیف نہیں، پھر کیوں نافرمان بن کر آخرت کی تباہی اپنے سر لے رہے ہیں۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دونا کردیتا ہے اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب

اس کے بعد فرمایا ان اللہ لایظلم مثقال ذرة یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کا ثواب اور جزائے خیر میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں فرماتے بلکہ اپنی طرف سے اس میں اور اضافہ فرما دیتے ہیں اور آخرت میں چند در چند ثواب بڑھا کر نوازیں گے اور اپنی طرف سے ثواب عظیم عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ ایک نیکی کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ مختلف بہانوں سے اضافہ در اضافہ ہوتا رہتا ہے، بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب بیس لاکھ گنا تک زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ کی ذات تو کریم ذات ہے وہ اپنی بےپایاں رحمت سے اتنا بڑھا کر دیدیتے ہیں کہ حساب و شمار میں بھی نہیں آتا، واللہ یضعف من لمن یشآئ، اس اجر عظیم کا کیا تصور کیا جاسکتا ہے جو بار گاہ رب العزت سے ملتا ہے۔ ویوت من لدنہ اجراً عظیماً آیت میں جو لفظ ذرة آیا ہے اس کا ایک ترجمہ تو معروف ہی ہے، جو ماقبل میں گذر چکا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ذرة لال رنگ کی سب سے چھوٹی چیونٹی کو کہا جاتا ہے، اہل عرب کم وزن اور حقیر ہونے میں اس کو بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔
Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب بلادیں گے ہم ہر امت میں سے احوال کہنے والا اور بلا دیں گے تجھ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والا

فکیف اذا جئنا من کل امة سے میدان آخرت کے استحضار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کفار قریش کی توبیخ بھی مقصود ہے۔ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب میدان حشر میں ہر ہر امت کا نبی اپنی امت کے نیک و بد اعمال پر بطور گواہ پیش ہوگا اور آپ بھی اپنی امت پر گواہ بن کر حاضر ہوں گے اور بطور خاص ان کفار و مشرکین کے متعلق خدائی عدالت میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی تکذیب کی اور آپ کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان نہ لائے۔ بخاری شریف میں روایت ہے حضو راقدس ﷺ نے عبداللہ بن مسعود سے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ، حضرت عبداللہ نے عرض کیا آپ مجھ سے سننا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن آپ ہی پر نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا ہاں پڑھو، میں نے سورة نساء کی تلاوت شروع کردی اور جب فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید پر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ اب بس کرو اور جب میں نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ علامہ قسطلانی لکھتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کو اس آیت سے آخرت کا منظر مستحضر ہوگیا اور اپنی امت کے کوتاہ عمل اور بےعمل لوگوں کی بابت خیال آیا اس لئے آنسو مبارک جاری ہوگئے۔ فائدہ۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ھولاء کا اشارہ زمانہ رسالت میں موجود کفار و منافقین کی طرف ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ قیامت تک کی پوری امت کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہا آپ کی امت کے اعمال آپ پر پیش ہوتے رہتے ہیں۔ بہرحال اس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ امتوں کے انبیاء اپنی اپنی امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے، اور آپ بھی اپنی امت کے اعمال کی گواہی دیں گے ........ قرآن کریم کے اس اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے جو اپنی کسی امت کے متعلق گواہی دے، ورنہ قرآن کریم میں اس کا اور اس کی شہادت کا بھی ذکر ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ آیت ختم نبوت کی دلیل بھی ہے۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن آرزو کریں گے وہ لوگ جو کافر ہوئے تھے اور رسول کی نافرمانی کی تھی کہ برابر ہوجاویں زمین کے اور نہ چھپاسکیں گے اللہ سے کوئی بات۔

یومئذ یود الذین کفروا میں میدان آخرت میں کافروں کی بدحالی کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین کا پیوند بن گئے ہوتے، کاش زمین پھٹ جاتی اور ہم اس میں دھنس کر مٹی بن جاتے اور اس وقت کی پوچھ گچھ اور عذاب و حساب سے نجات پا جاتے۔ میدان حشر میں جب کفار دیکھیں گے کہ تمام جانور ایک دوسرے کے مظالم کا بدلہ لینے دینے کے بعد مٹی بنا دیئے گئے تو ان کو حسرت ہوگی اور تمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، جیسا کہ سورة نباء میں فرمایاویقول الکفر یلیتنی کنت ترباً ط آخر میں فرمایا ولایکتمون اللہ حدیثاً یعنی یہ کفار اپنے عقائد و اعمال سے متعلق کچھ بھی پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے ان کے اپنے ہاتھ پیر اقرار کریں گے، انبیاء گواہی دیں گے اور اعمالناموں میں بھی سب کچھ موجود ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ قرآن کریم میں ایک جگہ یہ ارشاد ہے کہ کفار کچھ بھی نہ چھپائیں گے اور دوسری جگہ یہ ہے کہ وہ قسم کھا کر کہیں گے۔ واللہ ربنا ماکنا مشرکین (6: 32) کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ بظاہر ان دو آیتوں میں تعارض ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہہوگا یوں کہ جب شروع میں کفار یہ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کے سوا جنت میں کوئی جاتا ہی نہیں تو وہ یہ طے کرلیں گے کہ ہمیں اپنے شرک اور اعمال بد کا انکار ہی کردینا چاہئے، ہوسکتا ہے اس طرح ہم نجات پاجائیں، لیکن اس انکار کے بعد خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور چھپانے کا جو مقصد انہوں نے بنایا تھا اس میں بالکل ناکام ہوجائیں گے اس وقت سب اقرار کرلیں گے، اس لئے فرمایاولایکتمون اللہ حدیثاً کچھ بھی نہیں چھپا سکیں گے۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو، یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کرلو اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آیا ہے کوئی شخص تم میں جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ ملا تم کو پانی تو ارادہ کرو زمین پاک کا پھر ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو، بیشک اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والا۔

شان نزول ترمذی میں حضرت علی ؓ کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ شراب کی حرمت سے پہلے ایک دفعہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بعض صحابہ کرام کی دعوت کر رکھ تھی جس میں مے نوشی کا بھی انتظام تھا، جب یہ سب حضرات کھا پی چکے تو مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا اور حضرت علی ؓ کو امام بنادیا گیا، ان سے نماز میں قل یایھا الکفرون کی تلاوت میں بوجہ نشہ کے سخت غلطی ہوگئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تنبیہ کردی گئی کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھی جائے۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم نماز کے پاس بھی ایسی حالت میں مت جاؤ (یعنی ایسی حالت میں نماز مت پڑھو کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ منہ سے کیا کہتے ہو (اس وقت تک نماز مت پڑھو، مطلب یہ ہے کہ ادائے نماز تو اپنے اوقات میں فرض ہے اور یہ حالت ادائے نماز کے منافی ہے پس اوقات صلوة میں نشہ کا استعمال مت کرو، کبھی تمہارے منہ سے نماز میں کوئی کلمہ خلاف نہ نکل جائے) اور حالت جنابت میں بھی (یعنی جبکہ غسل فرض ہو) باستثناء تمہارے مسافر ہونے کی حالت کے (کہ اس کا حکم عنقریب آتا ہے، نماز کے پاس مت جاؤ) یہاں تک کہ غسل کرلو (یعنی غسل جنابت شرائط صحبت نماز سے ہے اور یہ حکم یعنی جنابت کے بعد بدون غسل نماز نہ پڑھنا حالت عدم عذر میں ہے اور اگر تم (کچھ عذر رکھتے ہو مثلاً) بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو جیسا کہ آگے آتا ہے) یا حالت سفر میں ہو (جو اوپر مستثنی ہوا ہے کہ اس کا حکم بھی آوے گا، یعنی اور پانی نہیں ملتا، جیسا آگے آتا ہے تو ان دونوں عذروں سے تیمم کی اجازت آتی ہے اور جواز تیمم کچھ انہی مذکور عذروں یعنی سفر و مرض کے ساتھ خاص نہیں بلکہ خواہ تم کو خاص یہ عذر ہوں) یا (یہ کہ عذر خاص نہ ہوں یعنی نہ تم مریض ہو نہ مسافر، بلکہ ویسے ہی کسی کا وضو یا غسل ٹوٹ جاوے اس طرح سے کہ مثلاً) تم میں سے کوئی شخص (پیشاب یا پاخانہ کے) استنجے سے (فارغ ہو کر) آیا ہو (جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) یا تم نے بیبیوں سے قربت کی ہو (جس سے غسل ٹوٹ گیا ہو اور) پھر (ان ساری صورتوں میں خواہ مرض و سفر کے عذر کی صورت ہو یا نہ مرض ہو نہ سفر ویسے وضو اور غسل کی ضرورت ہو) تم کو پانی (کے استعمال کا موقع) نہ ملے (خواہ تو اس وجہ سے کہ مرض میں اس سے ضرر ہوتا ہو خواہ اس لئے کہ وہاں پانی ہی موجود نہیں خواہ سفر ہو یا نہ ہو) تو (ان سب حالتوں میں) تم پاک زمین سے تمیم کرلیا کرو (یعنی اس زمین پر دو بار ہاتھ مار کر) اپنے چہروں اور ہاتھوں پر (ہاتھ) پھیرلیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑے بخشنے والے ہیں (اور جس کی ایسی عادت ہوتی ہے وہ آسان حکم دیا کرتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے آسان حکم دے دیے کہ تم کو تکلیف و تنگی نہ ہو۔) معارف و مسائل شراب کی حرمت کے تدریجی احکام۔ شریعت اسلامیہ کو حق تعالیٰ نے ایک خاص امتیاز یہ دیا ہے کہ اس کے احکام کو سہل اور آسان کردیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ شراب نوشی عرب کی پرانی عادت تھی اور پوری قوم اس عادت میں مبتلا تھی، بحز مخصوص حضرات کے جن کی طبیعت ہی کو اللہ تعالیٰ نے ایسا سلیم بنادیا تھا کہ وہ اس خبیث چیز کے پاس کبھی نہیں گئے، جیسے آنحضرت ﷺ کہ نبوت سے پہلے آپ نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عادت کسی چیز کی بھی ہو اس کا چھوڑنا انسان پر بڑا مشکل ہوتا ہے، خصوصاً شراب اور نشہ کی عادت تو انسان کی طبیعت پر ایسا قبضہ کرلیتی ہے کہ اس سے نکلنا آدمی اپنے لئے موت سمجھنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شراب نوشی اور نشہ کرنا حرام تھا اور اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو اس سے بچانا مقصود و مطلوب تھا، مگر کیا اس کو حرام کردیا جاتا تو لوگوں پر اس حکم کی تعمیل سخت مشکل ہوجاتی، اسلئے ابتداء اس پر جزوی پابندی عائد کی گئی اور اس کے خراب اثرات پر تنبیہ کر کے ذہنوں کو اس کے چھوڑنے پر آمادہ کیا گیا، چناچہ ابتداء اس آیت میں صرف یہ حکم ہوا کہ نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ، جس کا حاصل یہ تھا کہ نماز کے وقت نماز کا ادا کرنا تو فرض ہے، اوقات نماز میں شراب استعمال نہ کی جائے، جس سے مسلمانوں نے یہ محسوس کرلیا کہ یہ ایسی خراب چیز ہے جو انسان کے لئے نماز سے مانع ہے، بہت سے حضرات نے تو اسی وقت سے اس کے چھوڑنے کا اہتمام کرلیا اور دوسرے حضرات بھی اس کی خرابی اور برائی کو سوچنے لگے آخر کار سورة مائدہ کی آیت میں شراب کے ناپاک اور حرام ہونے کا قطعی حکم آ گیا اور ہر حال میں شراب پینا حرام ہوگیا۔ مسئلہ۔ جس طرح نشہ کی حالت میں نماز حرام ہے، بعض مفسرین نے فرمایا کہ جب نیند کا غلبہ ایسا ہو کہ آدمی اپنی زبان پر قابو نہ رکھے تو اس حالت میں بھی نماز پڑھنا درست نہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد ہے۔ ”اگر تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آنے لگے تو اسے کچھ دیر کے لئے سو جانا چاہئے تاکہ نیند کا اثر چلا جائے ورنہ نیند کی حالت میں وہ سمجھ نہیں سکے گا اور بجائے دعاء استغفار کے اپنے آپ کو گالی دینے لگ جائے گا۔“ تیمیم کا حکم ایک انعام ہے جو اس امت کی خصوصیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وضو طہارت کے لئے ایسی چیز کو پانی کے قائم مقام کردیا جو اپنی سے زیاد سہل الحصول ہے اور ظاہر ہے کہ زمین اور مٹی ہر جگہ موجود ہے، حدیث میں ہے کہ یہ سہولت صرف امت محمدیہ کو عطا کی گئی ہے، تمیم کے ضروری مسائل فقہ کی کتابوں اور اردو کے رسالوں میں بکثرت چھپے ہوئے ہیں ان کو دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 4:44–46

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب سے خرید کرتے ہیں گمراہی اور چاہتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

کہ تم بھی بہک جاؤ راہ سے اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے حمایتی اور اللہ کافی ہے مددگار

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

بعضے لوگ یہودی پھیرتے ہیں بات کو اس کے ٹھکانے سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور کہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائیو اور کہتے ہیں راعنا موڑ کر اپنی زبان کو اور عیب لگانے کو دین میں اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانا اور سن اور ہم پر نظر کر تو بہتر ہوتا ان کے حق میں اور درست لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی دیکھنے کے قابل ہیں دیکھو تو تعجب کرو جن کو کتاب (اللہ یعنی توریت کے علم) کا ایک بڑا حصہ ملا ہے (یعنی توریت کا علم رکھتے ہیں باوجود اس کے) کہ وہ لوگ گمراہی (یعنی کفر) کو اختیار کر رہے ہیں اور (خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے مگر وہ) یوں چاہتے ہیں کہ تم (بھی) راہ (راست) سے (علیحدہ ہو کر) بےراہ ہوجاؤ (یعنی طرح طرح کی تدبیریں اس کی کرتے ہیں جیسا کہ تیسرے پارہ کے آخر اور چوتھے کے شروع میں کچھ ذکر ہو بھی چکا ہے) اور تم کو اگر ان لوگوں کی اب تک خبر نہ ہو تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ (تو) تمہارے (ان) دشمنوں کو خوب جانتے ہیں (اس لئے تم کو بتلا دیا سو تم ان سے بچتے رہو) اور (ان کا حال مخالفت کا سن کر زیادہ فکر میں بھی نہ پڑجانا، کیونکہ) اللہ تعالیٰ (تمہارا) کافی رفیق ہے (کہ تمہاری مصلحتوں کی رعایت رکھے گا) اور اللہ تعالیٰ (تمہارے لئے) کافی حامی ہے (کہ ان کی مضرتوں سے تمہاری حفاظت کرے گا اور) یہ لوگ (جن کا ذکر ہوچکا ہے) یہودیوں میں سے ہیں (اور ان کا گمراہی کو اختیار کرنا جو اوپر آ چکا ہے یہ ہے کہ) کلام الٰہوی یعنی توریت) کو اس کے مواقع (اور محل) سے (لفظاً یا معنی) دوسری طرف پھیر دیتے ہیں اور (ایک گمراہی ان کی جس میں دھوکہ سے دوسرے سادہ ذہن شخص کا پھنس جانا بھی ممکن ہے یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے بات چیت کرتے وقت) یہ کلمات کہتے ہیں (جو آگے مذکور ہوتے ہیں، ان کلمات کے دو دو معنی ہیں ایک اچھے اور ایک برے، وہ لوگ برا مطلب لیتے تھے اور دوسروں پر ظاہر کرتے تھے کہ ہم اچھے مطلب سے کہتے ہیں اور اس سے کسی مسلمان کا دھوکہ میں آ کر بعضے ایسے ہی کلمات سے حضور ﷺ سے خطاب کرنا بعید نہ تھا، چناچہ سورة بقرہ کے رکوع نمبر 31 (آیت 401) کہنا ایک گونہ دوسروں کو گمراہ کرنا بھی ہے، گو لفظاً ہی ہو، پس اس میں یریدون ان تضلوا کا لفظ جو کہ اوپر آیا ہے بیان بھی ہوگیا، جیسا کہ من الذین ھادوا میں بیان تھا الذین اوتوا نصیباً کا اور یحرفون میں بیان تھا یشترون کا ان کلمات میں سے ایک یہ ہے کہ سمعاً وعصینا اس کا ترجمہ تو یہ ہے کہ ہم نے سن لیا اور مانا نہیں، اس کا اچھا مطلب تو یہ ہے کہ آپ کا ارشاد ہم نے سن لیا اور کسی آپ کے مخالف کا قول جو کہ ہم کو بہکاتا تھا نہیں مانا۔“ اور بڑا مطلب ظاہر ہے کہ ہم نے آپ کی بات کو سن تو لیا مگر ہم عمل نہ کریں گے) اور دوسرا کلمہ یہ ہے) اسمع غیر مسمع (اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تم ہماری بات سنو اور خدا کرے تم کو کوئی بات سنائی نہ جاوے، اس کا اچھا مطلب تو یہ کہ تم کو کوئی مخالف اور رنج دہ بات نہ سنائی جاوے، بلکہ آپ کا ایسا اقبال رہے کہ جو بات فرمائیں سب اس کے جواب میں موافق ہی بات آپ کو سنائیں اور برا مطلب یہ ہے کہ تم کو کوئی موافق اور مسرت بخش بات نہ سنائی جائے بلکہ آپ جو بات کہیں اس کا جواب مخالف ہی آپ کے کان میں پڑے) اور (تیسرا کلمہ یہ ہے) راعنا (اس کے دونوں اچھے اور برے مطلب سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں کہ اچھے معنی تو یہ ہیں کہ ہماری رعایت کیجئے اور برے معنی لغت یہود میں دشنام ہے، غرض ان کلمات کو) اس طور پر (کہتے ہیں) کہ اپنی زبانوں کو لہجہ توقیر سے لہجہ تحقیر کی طرف) پھیر کر اور (دل سے) دین میں طعنہ زنی (اور تحقیر ہی) کی نیت سے (وجہ یہ ہے کہ نبی کے ساتھ طعن و استہزاء عین دین کے ساتھ طعن و تمسخر ہے) اور اگر یہ لوگ (بائے دو معنی دینے والے الفاظ کے) یہ کلمات کہتے (بجائے سمعنا وعصینا کے) سمعنا اطعنا (جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا) اور بجائے اسمع غیر مسمع کے صرف) اسمع (جس کے معنی خالی یہ ہیں کہا آپ سن لیجئے) اور (بجائے راعنا کے) انظرنا (جس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مصلحت پر نظر فرمایئے اور یہ کلمات معنی شرارت سے پاک ہیں تو اگر یہ کلمات کہتے) تو یہ بات ان کے لئے بہتر (اور نافع بھی) ہوئی اور (حقیقت میں بھی) موقع کی باتیں تھی مگر (انہوں نے تو ایسے نفع اور موقع کی بات کہی ہی نہیں، بلکہ وہی بیہودہ بات بکتے رہے، اس لئے ان کو یہ تکلیف پہنچی کہ) ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب (جس میں یہ کلمات بھی آگئے اور بھی ان کے سب اقوال و افعال کفریہ داخل ہوگئے، پس ان سب کفریات کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کو) اپنی رحمت (خاصہ) سے دور پھینک دیا اب وہ ایمان نہ لاویں گے ہاں مگر تھوڑے سے آدمی (بوجہ اس کے کہ وہ ایسی حرکتوں سے دور رہے وہ دوری رحمت خاصہ سے مستثنی ہیں اور وہ ایمان بھی لے آئے جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ) معارف و مسائل ربط آیات۔ پچھلی آیات میں مواقع تقویٰ کا بیان تھا، سج میں زیادہ تر ذکر باہمی معاملات کا تھا، درمیان میں کچھ احکام عبادت نماز اور متعلقات کے ذکر کردیئے گئے، جو انسان میں خدا کا خوف اور فکر آخرت پیدا کرتے اور معاملات کی درستگی کو آسان کردیتے ہیں، مذکورہ آیات سے مخالفین کے ساتھ معاملات کا ذکر فرمایا گیا ہے جس میں یہود کی شرارت کا علاج اور مسلمانوں کو الفاظ و عنوان میں بھی ادب کی رعایت کی تلقین کی گئی ہے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے پہلے اس سے کہ ہم مٹا ڈالیں بہت سے چہروں کو پھر الٹ دیں انکو پیٹھ کی طرف یا لعنت کریں ان پر جیسے ہم نے لعنت کی ہفتہ کے دن والوں پر اور اللہ کا حکم تو ہو کر ہی رہتا ہے۔

خلاصہ تفسیر اے وہ لوگو جو کتاب (توریت) دیئے گئے ہو تم اس کتاب (یعنی قرآن پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے (اور تم کو اس پر ایمان لانے سے وحشت نہ ہونی چاہئے، کیونکہ ہم نے اس کو) ایسی حالت پر (نازل فرمایا) کہ وہ سچ بتلاتی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے (یعنی تمہاری اصل کتاب کے لئے وہ مصدق ہے، باقی تحریف کا حصہ اس سے الگ ہے سو تم قرآن پر) اس (امر غیر یقینی کے ہونے) سے پہلے پہلے (ایمان لے آؤ) کہ ہم (تمہارے) چہروں (پر کے نقش ونگار یعنی آنکھ ناک وغیرہ) کو بالکل مٹا ڈالیں اور ان (چہروں) کو الٹی جانب (یعنی گدی) کی طرح (صفا چٹ) بنادیں یا ان (ایمان نہ لانے والوں) پر ہم ایسی (خاص طور کی) لعنت کریں جیسی لعنت ان ہفتہ والوں پر کی تھی (جو یہود میں گزر چکے ہیں، جن کا ذکر سورة بقرہ میں آ چکا ہے، یعنی ان کی طرح ان کو بھی بندر کی شکل بنادیں) اور اللہ تعالیٰ کا (جو) حکم (صادر ہوجاتا ہے وہ) پورا ہی ہو کر رہتا ہے (سو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان نہ لانے پر اگر اس مسخ کا حکم کر دینگے پھر یہ ضروری ہوجائے گا، لہذا تم کو ڈرنا چاہئے اور ایمان لے آنا چاہئے۔) معارف و مسائل فائدہ نمبر 1 (قولہ تعالیٰ فنردھا علی ادبارھا (الٹ دیں ان کو پیٹھ کی طرف) الٹنے میں دونوں احتمال ہیں کہ چہرے کے نقش و نگار کو مٹا کر پورے چہرے کو پیٹھ کی کی جانب الٹ دیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چہرے کو گدی کی طرح سپاٹ کردیں، یعنی چہرے کو گدی کی طرف نہ پھیریں بلکہ گدی کے مانند سپاٹ اور صاف کردیں (مظہری، روح المعانی) فائدہ نمبر 2:۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طمس و مسخ کب ہوا ؟ بعض نے کہا کہ یہ عذاب قیامت سے قبل یہود پر ہوگا، بعض نے کہا یہ عذاب اس لئے واقع نہیں ہوا کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لے آئے تھے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سرے سے وہ سوال ہی واقع نہیں ہوتا، کیونکہ قرآن میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو طمس و مسخ کا عذاب ضرور واقع ہوگا، بلکہ احتمال ہے، یعنی اگر ان کے جرم کو دیکھا جائے تو وہ اس سزا کے مستحق ہیں، اور اگر عذاب نہ دیں تو یہ ان کی رحمت ہے۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے، اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا اس نے بڑا طوفان باندھا،

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ ہمیشہ دائمی سزا میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیر ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے، (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزا دائمی بھی نہ رہے گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہوا (جو اپنے عظیم ہونے کی وجہ سے قابل مغفرت نہیں۔) (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی تعجب کے قابل ہیں) جو اپنے کو مقدس بتلاتے ہیں (ان کے بتلانے سے کچھ نہیں ہوتا) بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں مقدس بتلا دیں (یہ البتہ قابل اعتبار ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن میں مومن کو مقدس بتلا چکے ہیں، جیسے سورة سبح اسم میں اشقی یعنی کافر کے مقابل ہمیں مومن کی نسبت فرمایا، قد افلح من تزکی پس وہی مقدس ہوگا نہ کہ کفر کرنے والے جیسے یہود ہیں) اور (ان یہود کو قیامت میں اس جھوٹے دعوے کا جس کا سبب کفر کو ایمان سمجھنا ہے، جو سزا ہوگی اس سزا میں) ان پر دھاگے کی برابر بھی ظلم نہ ہوگا (یعنی وہ سزا ان کے جرم سے زیادہ نہیں ہے، بلکہ ایسے جرم پر ایسی ہی سزا لائق ہے، ذرا) دیکھ لو (اس دعویٰ میں) یہ لوگ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں (کیونکہ جب وہ باوجود کفر کے اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے مدعی ہیں تو اس سے صاف لازم آتا ہے کہ کفر اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے، حالانکہ یہ محض تہمت ہے، اس لئے کہ تمام شرائع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تصریح فرما دی ہے کہ کفر ہمارے نزدیک سخت ناپسند اور مردود ہے) اور یہی بات (کہ خدا پر تہمت لگائی جائے) صریح مجرم ہونے کے لئے کافی ہے (پھر کیا ایسی صریح بڑی بات پر ایسی سزا کچھ ظلم و زیادتی ہے۔) معارف و مسائل شرک کی تعریف اور اس کی چند صورتیں۔ قولہ تعالیٰ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں جو عقائد ہیں اس طرح کا کوئی عقیدہ کسی مخلوق کے لئے رکھنا یہ شرک ہے، اس کی کچھ تفصیلات یہ ہیں علم میں شریک ٹھہرانا۔ یعنی کسی بزرگ یا پیر کے ساتھ یہ اعتقاد رکھنا کہ ہمارے سب حال کی اس کو ہر وقت خبر ہے، نجومی، پنڈت سے غیب کی خبریں دریافت کرنا یا کسی بزرگ کے کلام میں فال دیکھ کر اس کو یقینی سمجھنا یا کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کہ خبر ہوگئی یا کسی کے نام کا روزہ رکھنا۔ اشراک فی التصرف۔ یعنی کسی کو نفع یا نقصان کا مختار سمجھنا کسی سے مرادیں مانگنا، روزی اور اولاد مانگنا۔ عبادت میں شریک ٹھہراناکسی کو سجدہ کرنا، کسی کے نام کا جانور چھوڑنا، چڑھاوا چڑھانا، کسی کے نام کی منت ماننا، کسی کی قرب یا مکان کا طواف کرنا، خدا کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول یا رسم کو ترجیح دینا کسی کے روبرو رکوع کی طرف جھکنا کسی کے نام پر جانور ذبح کرنا، دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا وغیرہ