Ayah 4:123معارف و مسائل
مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ایک مفاخرانہ گفتگو
لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب الخ ان آیات میں پہلے ایک مکالمہ اور گفتگو کا ذکر ہے جو مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہوئی ہے اور پھر اس مکالمہ پر محاکمہ کیا گیا ہے، فریقین کو صحیح راہ ہدایت بتلائی گئی، آخر میں اللہ کے نزدیک مقبول اور افضل و اعلی ہونے کا ایک معیار بتلا دیا گیا جس کو سامنے رکھا جائے تو کبھی انسان غلطی اور گمراہی کا شکار نہ ہو۔
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی، اہل کتاب نے کہا کہ ہم تم سے افضل و اشرف ہیں، کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے، مسلمانوں نے کہا کہ ہم تم سب سے افضل ہیں، اس لئے کہ ہمارے نبی خاتم النبین ہیں اور ہماری کتاب آخری کتاب ہے جس نے پہلی سب کتابوں کو منسوخ کردیا ہے اس پر یہاں یہ آیت نازل ہوئیلیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب الخ یعنی یہ تفاخر اور تعلق کسی کے لئے زیبا نہیں اور محض خیالات اور تمناؤں اور دعوؤں سے کوئی کسی پر افضل نہیں ہوتا، بلکہ مدار اعمال پر ہے کسی کا نبی اور کتاب کتنی ہی افضل و اشرف ہو اگر وہ عمل غلط کرے گا تو اس کی ایسی سزا پائے گا کہ اس سے بچانے والا اس کو کوئی نہ ملے گا۔
یہ آیت جب نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر بہت شاق ہوئی، امام مسلم، ترمذی، نسائی اور امام احمد رحمہم اللہ نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی من تعمل سوء ا یجزبہ ”یعنی جو کوئی کچھ برائی کرے گا اس کی سزا دی جائے گی۔“ تو ہم سخت رنج و غم اور فکر میں پڑگئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اس آیت نے تو کچھ چھوڑا ہی نہیں، ذرا سی برائی بھی ہوگی تو اس کو جزا ملے گی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فکر میں نہ پڑو اپنی طاقت وقدرت کے مطابق عمل کرتے رہو، کیونکہ (جس سزا کا یہاں ذکر ہے ضروری نہیں کہ وہ جہنم ہی کی سزا ہو بلکہ) تمہیں دنیا میں جو بھی کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آتی ہے یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ اور برائی کی جزا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر کسی کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو وہ بھی کفارہ گناہ ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمان کو دنیا میں جو بھی کوئی غم یا تکلیف یا بیماری یا فکر لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔
جامع ترمذی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب یہ آیت من یعمل سوء یجزبہ ان کو سنائی تو ان پر یہ اثر یہ ہوا جیسے کمر ٹوٹ گئی ہو رسول کریم ﷺ نے یہ اثر یکھ کر فرمایا کیا بات ہے ؟ تو صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کوئی برائی نہیں کی اور جب ہر برائی کی جزا ملنی ہے تو ہم میں سے کون بچے گا ؟ آپ نے فرمایا اے ابوبکر ! آپ اور آپ کے مومن بھائی کوئی فکر نہ کریں، کیونکہ دنیا کی تکالیف کے ذریعہ آپ لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیگا۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ کو کوئی مصیبت اور غم نہیں پہونچتا ؟ صدیق اکبر نے عرض کیا بیشک سب چیزیں پہنچتی ہیں آپ نے فرمایا بس یہی جزاء ہے تمہارے سیات کی۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ بندہ کو بخار یا تکلیف پہونچتی ہے یا کانٹا لگتا ہے تو اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنی کوئی چیز ایک جیب میں تلاش کرے مگر دوسری جیب میں ملے، اتنی مشقت بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ محض دعوؤں اور تمناؤں میں نہ لگیں، بلکہ عمل کی فکر کریں کیونکہ کامیابی صرف اس سے نہیں کہ تم فلاں نبی یا فلاں کتاب کے نام لینے والے ہو، بلکہ اصل فلاح اس میں ہے کہ اس پر صحیح ایمان اور اس کے مطابق اعمال صالح کے پابند رہو،
Ayah 4:124ارشاد ہے
ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی وھو مومن فاولئک یدخلن الجنة ولایظلمون نقیراً ”یعنی جو مرد یا عورت نیک عمل کرے بشرطیکہ اس عمل کے ساتھ ایمان بھی ہو تو ضرور جنت میں جائے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا ملے گا جس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی۔“ اس میں اشارہ فرمایا کہ اہل کتاب یا دوسرے غیر مسلم اگر ان کے اعمال نیک بھی ہوں تو چونکہ ان کا ایمان صحیح نہیں اس لئے وہ عمل مقبول نہیں اور مسلمانوں کا چونکہ ایمان بھی صحیح ہے اور عمل بھی نیک ہے اس لئے وہ کامیاب اور دوسروں سے افضل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولبیت کا ایک معیار۔
چوتھی آیت میں افضیلت اور مقبولیت عنداللہ کا ایک معیار بتلایا گیا ہے، معیار کے دو جز ہیں ان میں سے ایک میں بھی خلل آئے تو ساری کوششیں اکارت اور ضائع ہوجاتی ہیں اور اگر غور کیا جائے تو دنیا میں جہاں کہیں کوئی گمراہی یا غلط کاری ہے وہ انہیں دو جزوؤں میں کسی ایک جز کے خلل سے پیدا ہوتی ہے، مسلمانوں اور غیر مسلموں میں موازنہ کریں یا خود مسلمانوں کے فرقوں، جماعتوں اور پارٹیوں میں مقابلہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی دو نقطے ہیں جن میں سے کسی ایک سے ہٹ جانا انسان کو ذلت ضلالت کے گڑھے میں ڈال دینا ہے۔
Ayahs 4:125–126ارشاد فرمایاومن احسن دیناً ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن و اتبع ملتہ ابراہیم حنیفاً یعنی اس شخص سے بہتر کسی کا طریقہ نہیں ہوسکتا جس میں دو باتیں پائی جائیں، ایک اسلم وجھہ للہ یعنی اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کر دے، ریا کاری یا دنیا سازی کے لئے نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل کرے۔
دوسرے وھومحسن یعنی وہ عمل بھی درست طریقہ پر کرے امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ درست طریقہ پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل محض خود ساختہ طرز پر نہ ہو، بلکہ شریعت مطہر کے بتلائے ہوئے طریقہ پر ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کے مقبول ہونے کی دو شرطیں ہیں ایک اخلاص اور دوسرے عمل کا درس یعنی مطابق شریعت و سنت ہونا، ان دو شرطوں میں سے پہلی شرط اخلاق کا تعلق انسان کے باطن یعنی قلب سے ہے اور دوسری شرط یعنی موافقت شرع کا تعلق انسان کے ظاہر سے ہے، جب یہ دونوں شرطیں کسی شخص نے پوری کرلیں تو اس کا ظاہر و باطن درست ہوگیا اور جب ان میں سے کوئی شرط مفقود ہوئی تو عمل فاسد ہوگیا، اخلاص نہ رہا تو عملی منافق ہوگیا اور اتباع شریعت فوت ہوگیا تو گمراہ ہوگیا۔
قوموں کی گمراہی کا سبب اخلاص یا صحت عمل کا فقدان ہے۔
قوموں اور مذاہب کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو معلوم ہوگا کہ جتنے بےراہ فرقے اور قومیں دنیا میں ہیں کسی میں اخلاص نہیں اور کسی میں عمل صحیح نہیں، یہی دو گروہ ہیں جن کا ذکر سورة فاتحہ میں صراط مستقیم سے ہٹ جانے والوں کے سلسلہ میں مغضوب علیھم اور ضآلین کے لفظوں سے بیان کیا گیا ہے، مغضوب علیھم وہ لوگ ہیں جن میں اخلاص نہیں، اور ضالین وہ جن کا عمل درست نہیں، پہلا گروہ شہوات کا شکار ہے اور دو سرا شبہات کا۔
پہلی شرط، یعنی اخلاص کی ضرورت اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں عمل کا بےکا رہنا تو عام طور پر سب سمجھتے ہیں لیکن محسن عملی یعنی اتباع شریعت کی شرط پر بہت سے مسلمان بھی نہیں دھیان دیتے یوں سمجھتے ہیں کہ نیک عمل کو جس طرح چاہو کرلو، حالانکہ قرآن و سنت نے پوری طرح واضح کردیا ہے کہ حسن عمل صرف نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اتباع سنت پر موقوف ہے، اس سے کم کرنا بھی جرم ہے اور اس سے بڑھانا بھی جرم ہے، جس طرح ظہر کی چار کے بجائے تین رکعات پڑھنا جرم ہے، اسی طرح پانچ پڑھنا بھی ویسا ہی جرم و گناہ ہے کسی عبادت میں جو شرط اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے لگائی ہو اس میں اپنی طرف سے شرطوں کا اضافہ یا آپ کی بتائی ہوئی ہیبت سے مختلف صورت اختیار کرنا یہ سب ناجائز اور حسن عمل کے خلاف ہے خواہ دیکھنے میں وہ کتنے ہی خوبصورت عمل نظر آئیں، بدعات اور محدثات جن کو رسول کریم ﷺ نے گمراہی قرار دیا اور ان سے بچنے کی تاکیدی ہدایتیں فرمائیں، وہ سب اسی قسم سے ہیں، جاہل آدمی اس کو پورے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی اور عبادت وثواب جان کر کرتے ہیں، مگر شرع محمدی میں اس کا یہ عمل ضائع بلکہ موجب گناہ ہوتا ہے، اسی وجہ سے قرآن کریم نے بار بار حسن عمل یعنی اتباع سنت کی تاکید فرمائی، سورة ملک میں ہے، لیبلوکم ایکم احسن عملاً یہاں پر احسن عملاً فرمایا اکثر عملاً نہیں فرمایا، یعنی کثرت عمل کا ذکر نہیں، بلکہ اچھا عمل کرنے کا ذکر ہے، اور اچھا عمل وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو۔
قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اسی حسن عمل اور اتباع سنت مصطفوی کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ومن ارادالاخرة وسعی لھا سعیھا یعنی سعی و عمل ان لوگوں کا مقبول ہے جنہوں نے نیت بھی خالص آخرت کی رکھی ہو اور اس کے لئے سعی بھی کر رہے ہوں، اور جو سعی کر رہے ہیں وہ سعی مناسب بھی ہو اور سعی مناسب وہی ہے جو رسل کریم ﷺ نے اپنے قول عمل سے امت کو بتلائی، اس سے ہٹ کر خواہ سعی میں کمی کی جائے یا زیادتی، دونوں چیزیں سعی مناسب نہیں ہیں اور سعی مناسب وہی ہے جس کا دوسرا نام حسن عمل ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کے مقبول ہونے کی دو شرطیں ہیں
اخلاص اور حسن عمل اور حسن عمل نام ہے اتباع سنت رسول ﷺ کا اس لئے اخلاص کے ساتھ حسن عمل کرنے والوں کا یہ بھی فرض ہے کہ عمل کرنے سے پہلے یہ معلوم کریں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو کس طرح کیا ہے اور اس کے متعلق کیا ہدایتیں دی ہیں، ہمارا جو عمل سنت کے طریقہ سے ہٹے گا نامقبول ہوگا نماز روزہ حج زکوة صدقات و خیرات اور ذکر اللہ اور درد وسلام سب میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو کس طرح انجام دیا اور کس طرح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے آخر آیت میں اخلاص اور حسن عمل کی ایک مثال حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام کی پیش کر کے ان کے اتباع کا حکم دیا گیا اور واتخذاللہ ابراہیم خلیلاً فرما کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ حضرت خلیل کے اس مقام بلند کا سبب یہی ہے کہ وہ مخلص بھی اعلی درجے کے تھے اور ان کا عمل بھی باشارت خداوندی صحیح اور درست تھا۔
Ayah 4:127ربط آیات
شروع سورت میں یتیموں اور عورتوں کے خاص احکام اور ان کے حقوق ادا کرنے کا وجوب مذکور تھا، کیونکہ جاہلیت میں بعضے ان کو میراث ہی نہ دیتے تھے، بعضے جو مال میراث میں یا اور کسی طور سے ان کو ملتا اس کو ناجائز طور پر کھا جاتے بعضے ان سے نکاح کر کے ان کو مہر پورا نہ دیتے اوپر ان سب کی ممانعت کی گئی تھی، اس پر مختلف واقعات پیش آئے، بعض کو تو یہ خیال ہوا کہ عورتیں اور بچے فی نفسہ قابل میراث کے نہیں، کسی وقتی مصلحت سے یہ حکم چند لوگوں کے لئے ہوگیا ہے، امید ہے کہ منسوخ ہوجائے گا اور بعض اس کے منتظر رہے جب نسخ نہ ہوا تو یہ مشورہ ٹھہرا کہ خود حضور ﷺ سے پوچھنا چاہئے اور حاضر ہو کر پوچھا، ابن جریر اور ابن المندر نے آیت کا سبب نزول اسی سوال کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد کی آیتوں میں عورتوں سے متعلقہ چند اور مسائل بیان فرما دیئے گئے۔ (بیان القرآن)
خلاصہ تفسیر
اور لوگ آپ سے عورتوں (کی میراث اور مہر) کے باب میں حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں تم کو (وہی سابق) حکم دیتے ہیں اور وہ آیات بھی (تم کو حکم دیتی ہیں) جو کہ (اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں اور) اور قرآن کے اندر تم کو پڑھ کر سنائی جایا کرتی ہیں (کیونکہ قرآن کی تلاوت میں ان کی تلاوت بھی ظاہر ہے کہ ہوا ہی کرتی تھی) جو کہ ان یتیم عورتوں کے باب میں (نازل ہوچکی) ہیں جن (کے ساتھ تمہارا یہ معاملہ ہے کہ اگر وہ صاحب مال و صاحب جمال ہوئیں تو ان سے نکاح کرتے ہو، مگر ان) کو جو (شرع سے) ان کا حق (میراث و مہر کا) مقرر ہے نہیں دیتے ہو اور (اگر صاحب جمال نہ ہوئیں صرف صاحب مال ہوئیں تو) ان کے ساتھ (بوجہ خوش جمال نہ ہونے کے) نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو (لیکن بوجہ صاحب مال ہونے کے اس خوف سے کہ یہ مال کہیں اور نہ چلا جائے اور کسی سے بھی نکاح نہیں کرنے دیتے) اور (جو آیات کہ) کمزور بچوں کے باب میں (ہیں) اور (جو آیات) کہ اس باب میں (ہیں) کہ یتیموں کی (تمام) کارگزاری (عام اس سے کہ مہر و میراث کے متعلق ہو یا اور کچھ ہو) انصاف کے ساتھ کرو (یہ مضمون ہو ان آیات سابقہ کا، پس وہ آیتیں اپنا مضمون اب بھی تمہارے ذمہ واجب کر رہی ہیں اور ان کا حکم بعینہ باقی ہے تم انہی کے موافق عمل رکھو) اور جو نیک کام کرو گے (نساء و یتامی کے بارے میں یا اور امور میں بھی) سو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں، (تم کو ان کی جزاء خیر دیں گے اور جانتے تو ہیں غیر خیر کو بھی لیکن یہاں ترغیب خیر کی مقصود ہے، اس لئے تخصیص کی گئی) اور اگر کسی عورت کو (قرائن سے) اپنے شوہر سے غالب احتمال بد دماغی (اور کج ادائی) یا بےپرواہی (اور بےرخی) کا ہو سو (ایسی حالت میں) دونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کرلیں، (یعنی عورت اگر ایسے شوہر کے پاس رہنا چاہے جو پورے حقوق ادا کرنا نہیں چاہتا اور اس لئے اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو عورت کو جائز ہے کہ اپنے کچھ حقوق چھوڑ دے مثلاً نان نفقہ معاف کر دے، یا مقدار کم کر دے اور اپنی باری معاف کر دے تاکہ وہ چھوڑے نہیں اور شوہر کو بھی جائز ہے کہ اس معافی کو قبول کرلے) اور (نزاع یافراق سے تو) یہ صلح (ہی) بہتر ہے اور (ایسی صلح ہوجانا کچھ بعید نہیں کیونکہ) نفوس کو (طبعاً) حرص کے ساتھ اقتران (واتصال) ہوتا ہے (جب اس کی حرص پوری ہوجاتی ہے راضی ہوجاتا ہے، پس شوہر جب دیکھے گا کہ میری مالی اور جانی آزادی میں جس کی طبعی حرص ہے کچھ خلل نہیں آتا اور مفت میں عورت ملتی ہے تو وہ غالباً نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجاتا ہے، پس شوہر جب دیکھے گا کہ میری مالی اور جانی آزادی میں جس کی کہ طبعی حرص ہے کچھ خلل نہیں آتا اور مفت میں عورت ملتی ہے تو وہ غالباً نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجائے گا اور عورت کی حرص نکاح میں رہنے پر خواہ کسی وجہ سے ہو ظاہر ہے کہ سبب اصلی ہے صلح کا پس جانبین کی خاص خاص حرص نے اس صلح کی تکمیل کردی) اور (اے مردود) اگر تم (خود عورتوں کے ساتھ) اچھا برتاؤ رکھو (اور ان سے حقوق معاف کرانے کے خواہاں نہ ہو) اور ان کے ساتھ (کج ادائی اور بےرخی کرنے سے) احتیاط رکھو تو (تم کو بڑا ثواب ملے کیونکہ) بلاشبہ حق تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں (اور اعمال نیک پر ثواب دیا کرتے ہیں) اور (عادتاً) تم سے یہ تو کبھی نہ ہو سکے گا کہ سب بیبیوں میں (ہر طرح سے) برابری رکھو (حتی کہ رغبت قلب میں بھی) گو (اس برابری کو) تمہارا کتنا ہی جی چاہے (اور تم کتنی ہی اس میں کوشش کرو لیکن چونکہ قلب کا میلان غیر اختیاری ہے، اس لئے اس پر قدرت نہیں، گو اتفاقاً بلا اختیار کہیں برابری ہو بھی جائے تو اس کی نفی آیت میں مقصود نہیں، غرض جب اختیار میں نہیں تو تم اس کے مکلف نہیں، لیکن اس کے غیر اختیاری ہونے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ ظاہری حقوق بھی اختیاری نہ رہیں بلکہ وہ تو اختیاری ہیں جب وہ اختیاری ہیں) تو (تم پر واجب ہے کہ) تم بالکل ایک ہی طرف نہ ڈھل جاؤ (بلکہ اس کا مطلب یہ کہ باطن سے بھی جس میں معذور تھے اور ظاہر سے بھی جس میں مختار ہو، یعنی حقوق شرعیہ میں ان سے نشوز و اعراض نہ کرو) جس سے اس (مظلومہ) کو ایسا کردو جیسے کوئی ادھر نہ ادھر (یعنی بیچ میں) لٹکی ہو (یعنی نہ تو اس کے حقوق ادا کئے جائیں کہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے کہ بےخاوند والی کہی جائے، بلکہ رکھو تو اچھی طرح رکھو) اور (رکھنے کی صورت میں جو زمانہ ماضی میں کچھ ناگوار معاملات ان سے کئے گئے) اگر (ان معاملات کی فی الحال) اصلاح کرلو اور (آئندہ زمانہ میں ایسے معاملات سے) احتیاط رکھو تو (وہ امور گزشتہ معاف کردیئے جائیں گے، کیونکہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (چونکہ اصلاح ذنوب متعلقہ بحقوق العباد کے ان عباد کے معاف کرنے سے ہوتی ہے پس اصلاح میں یہ معافی بھی آگئی تو اس کے وقوع کے بعد توبہ شرعاً صحیح ہوگئی اس لئے مقبول ہوگئی) اور اگر دونوں میاں بیوی (میں کسی طرح بھی موافقفت نہ ہوئی اور دونوں) جدا ہوجائیں (یعنی خلع یا طلاق ہوجائے) تو (کوئی ان میں سے خواہ مرد اگر اس کی زیادتی ہے یا عورت اگر اس کی کوتاہی ہے یوں نہ سمجھے کہ بدون میرے اس دوسرے کا کام ہی نہ چلے گا، کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسعت (قدرت) سے (دونوں میں سے) ہر ایک کو (دوسرے سے) بےاحتیاج کر دے گا (یعنی ہر ایک کا مقدر کام بےدوسرے کے چل جائے گا) اور اللہ تعالیٰ بڑے وسعت والے اور بڑی حکمت والے ہیں (ہر ایک کے لئے مناسب سبیل نکال دیتے ہیں۔)
Ayah 4:128معارف و مسائل
ازدواجی زندگی سے متعلق چند قرآنی ہدایات
وان امراة خافت من بعلھا (انی قولہ) واسعاً حکیماً ان تینوں آیتوں میں حق تعالیٰ شانہ نے ازدواجی زندگی کے اس تلخ اور کٹھن پہلو کے متعلق ہدایات دی ہیں جو اس طویل زندگی کے مختلف ادوار میں ہر جوڑے کو کبھی نہ کبھی پیش آ ہی جاتا ہے، وہ ہے باہمی رنجش اور کشیدگی اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس پر صحیح اصول کے ماتحت قابو پانے کی کشش نہ کی جائے تو نہ صرف زوجین کے لئے دنیا جہنم بن جاتی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ گھریلو رنجش خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی جنگ اور قتل و قتال تک نوبت پہنچا دیتی ہے قرآن عزیز مرد عورت دونوں کے تمام جذبات اور احساسات کو سامنے رکھ کر ہر فریق کو ایک ایسا نظام زندگی بتلانے کے لئے آیا ہے جس پر عمل کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کا گھر دنیا ہی میں جنت بن جائے گا گھریلو تلخیاں محبت و راحت میں تبدیلی ہوجائیں گی، اور اگر ناگزیر حالات میں علیحدگی کی نوبت بھی آجائے تو وہ بھی خوشگوار طبقہ خوش اسلوبی کے ساتھ ہو، قطع تعلق بھی ایسا ہو کہ عداوت دشمنی اور ایذاء رسانی کے جذبات پیچھے نہ چھوڑے۔
آیت نمبر 821 ایسے حالات سے متعلق ہے جس میں غیر اختیاری طور پر میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ ہوجائیں، ہر فریق اپنی جگہ معذور سمجھا جائے اور باہمی تلخی کی وجہ سے اس کا اندیشہ ہوجائے کہ باہمی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوجائے گی، جیسے ایک بیوی سے اس کے شوہر کا دل نہیں ملتا اور نہ ملنے کے اسباب رفع کرنا عورت کے اختیار میں نہیں، مثلاً عورت بدصورت یا سن رسیدہ بوڑھیا ہے، شوہر خوش رو ہے، تو ظاہر ہے کہ اس میں نہ عورت کا کوئی قصور ہے اور نہ مرد ہی کچھ مجرم کہا جاسکتا ہے۔
چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں اسی طرح کے چند واقعات مظہری وغیرہ میں منقول ہیں، ایسے حالات میں مرد کے لئے تو ایک عام قانون قرآن کریم نے یہ بتلایا ہے کہ فامساک بمعروف اوتسریح بااحسان کہ اس عورت کو رکھنا ہو تو دستور کے مطابق اس کے پورے حقوق ادا کر کے رکھو اور اگر اس پر قدرت نہیں تو اس کو خوش اسلوبی سے آزاد کردو، اب اگر عورت بھی آزاد ہونے کے لئے تیار ہے تو معاملہ صاف ہے کہ قطع تعلق بھی خوشگور انداز میں ہوجائے گا، لیکن اگر ایسے حالات میں عورت کسی وجہ سے آزادی نہیں چاہتی خواہ اپنی اولاد کے مفاد کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ اس کا کوئی دوسرا سہارا نہیں تو یہاں ایک ہی راستہ ہے کہ شوہر کو کسی چیز پر راضی کیا جائے، مثلاً عورت اپنے تمام یا بعض حقوق کا مطالبہ چھوڑ دے اور شوہر یہ خیال کرے کہ بہت سے حقوق کے بارے سے تو سبکدوشی ہوتی ہے، بیوی مفت میں ملتی ہے اس پر صلح ہوجائے۔
قرآن کریم کی اس آیت میں ایک تو اس طرح کی مصالحت کے متوقع ہونے کی طرف رہنمائی اس طرح فرمائی وا حضرت الانفس الشح یعنی حرص تمام نفوس کے سامنے دھری رہتی ہے ایسی مصالحت میں عورت کو تو یہ حرص ہے کہ مجھے آزاد کردیا تو اولاد برباد ہوجائے گی یا میری زندگی دوسری جگہ تلخ ہوگی اور شوہر کو یہ لالچ ہے کہ جب عورت نے اپنا کل مہر یا بعض معاف کردیا اور دوسرے حقوق کا بھی مطالبہ چھوڑ دیا تو اب اس کو رکھنے میں میرے لئے کیا مشکل ہے، اس لئے مصالحت باہمی آسان ہوجائے گی، اس کے ساتھ ارشاد فرمایا
وان امراہ خافت من بعلھا نستوزا او اعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا، یعنی اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے لڑائی جھگڑے یا بےرخی کا خطرہ محسوس کرے تو دونوں میں سے کسی کو گناہ نہیں ہوگا اگر آپس میں خاص شرائط پر صلح کرلیں اور گناہ نہ ہونے کے عنوان سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اس معاملہ کی صورت بظاہر رشوت کی سی ہے کہ شوہر کو مہر وغیرہ کی معافی کا لالچ دے کر ازدواجی زندگی کا تعلق باقی رکھا گیا ہے لیکن قرآن کے اس ارشاد نے واضح کردیا کہ یہ رشوت میں داخل نہیں بلکہ مصلحت میں داخل ہے جس میں فریقین اپنے کچھ کچھ کا مطالبہ چھوڑ کر کسی درمیانی صورت میں رضامند ہوجایا کرتے ہیں اور یہ جائز ہے۔
زوجین کے جھگڑے میں دوسروں کا دخل بلا ضرورت مناسب نہیں۔
تفسیر مظہری میں ہے کہ اس جگہ حق تعالیٰ نے ان یصلحا بینھما صلحاً فرمایا یعنی ”میاں بیوی دونوں آپس میں کسی صورت پر مصالحت کرلیں۔“ اس میں لفظ بینھما سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی کے معاملات میں بہت بہتریہ ہے کہ کوئی تیسرا دخیل نہ ہو، یہ دونوں خود ہی آپس میں کوئی بات طے کرلیں، کیونکہ تیسرے کے دخل سے بعض اوقات تو مصالحت ہی ناممکن ہوجاتی ہے اور ہو بھی جائے تو طرفین کے عیوب تیسرے آدمی کے سامنے بلا وجہ آتے ہیں جس سے بچنا دونوں کے لئے مصلحت ہے۔
مذکورہ آیت کے آخر میں فرمایاوان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعلمون خبیراً یعنی ایسے حالات میں جبکہ بیوی سے تمہارا دل نہیں ملتا اور اس وجہ سے تم اس کے حقوق ادا کرنا مشکل سمجھ کر آزاد کرنا چاہتے ہو تو گو ضابطہ میں تمہیں آزاد کردینے کا اختیار بھی حاصل ہے اور آیت کے ابتدائی جملہ کی رو سے عورت کے کچھ مطالبات چھوڑنے پر صلح کرلینا بھی جائز ہے، لیکن اگر حق تعالیٰ کے خوف کو سامنے رکھ کر احسان سے کام لو اور دل نہ ملنے کے باجود اس کے تعلق کو بھی نبھاؤ اور اس کے سب حقوق بھی پورے کرو، تو تمہارا یہ حسن عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے، جس کا یہ نتیجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس تحمل اور حسن عمل کا بدلہ ایسی نعمتوں اور حقوق سے دے گا جس کا تم کوئی تصور بھی نہیں کرسکتے اور شاید اسی وجہ سے یہاں صرف یہ بتلا کر چھوڑ دیا کہ تمہارا یہ حسن عمل ہمارے سامنے ہے، اس کا ذکر نہیں کیا کہ اس کا بدلہ کیا دیں گے ؟ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ بدلہ تمہارے وہم و خیال سے بھی زائد ہوگا۔
متعلقہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہوگیا کہ شوہر جب یہ دیکھے کہ کسی وجہ سے اس کا دل اپنی بیوی سے نہیں ملتا اور اس کے حقوق پورے نہیں ہوتے تو جہاں تک بیوی کے اختیاری معاملات کا تعلق ہے ان کی تو اصلاح کی کوشش کرے، تنبیہ کے لئے عارضی طور پر بےرخی، زبانی تنبیہ اور مجبوری معمولی مار پیٹ بھی کرنا پڑے تو کرے، جیسا کہ سورة نساء کی شروع کی آیات میں گزر چکا ہے اور اگر ساری کوششوں کے باوجود اصلاح سے مایوس ہوجائے، یا معاملہ کوئی ایسا ہے جس کا درست کرنا عورت کے اختیار ہی میں نہیں، تو اب اس کو قانون شرع یہ حق دیتا ہے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے طلاق دے کر آزاد کر دے، لیکن اگر وہ اس کے تعلق کو اسی حالت میں نبھائے، اپنے حقوق کو نظر انداز اور اس کے حقوق پورے پورے ادا کرے تو یہ اس کے لئے افضل و اعلی اور موجب ثواب عظیم ہے، اس کے بالمقابل اگر معاملہ برعکس ہو کہ مرد حقوق واجبہ نہیں ادا کرتا، اس لئے عورت آزادی چاہتی ہے تو اس صورت میں اگر شوہر بھی آزاد کرنے پر راضی ہے تو معاملہ صاف ہے، عورت کو بھی یہ حق ملتا ہے کہ جب شوہر اداء حقوق میں کوتاہی کی بناء پر اس کو آزاد کرنا چاہے تو عورت بھی اپنی آزادی اختیار کرلے اور اگر شوہر با اختیار خود آزاد کرے پر آمادہ نہیں تو عورت کو حق پہنچتا ہے کہ اسلامی عدالت سے اپنی آزادی کا مطالبہ کر کے آزاد ہوجائے لیکن اگر وہ شوہر کی بےرخی اور کج روی پر صبر کر کے اپنے حقوق کا مطالبہ چھوڑ کر اس کو نبھائے اور شوہر کے حقوق کو ادا کرے تو یہ اس کے لئے افضل و اعلی اور موجب ثواب عظیم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف اپنی تکلیف کو دور کرنے اور اپنا حق وصول کرنے کا فریقین کو قانونی حق قرآن کریم نے دے دیادوسری طرف دونوں کو بلند اخلاقی اور اپنے حقوق کے ترک کرنے پر صبر کی تلقین فرما کر یہ ہدایت فرما دی کہ جہاں تک ممکن ہو اس تعلق کو قطع کرنے سے بچنا چاہئے اور چاہئے کہ جانبین سے کچھ کچھ حقوق ترک کر کے کسی خاص صورت پر صلح کرلیں۔
اس آیت کے شروع میں تو میاں بیوی کے باہمی اختلاف کے وقت صلح کا صرف جائز ہونا بتلایا گیا ہے اور آخر آیت میں صلح نہ ہونے کی صورت میں بھی صبر و تحمل کے ساتھ تعلق نبھانے کی تلقین فرمائی گئی ہے، درمیان میں ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا ہے جس سے مصالحت کا پسندیدہ اور افضل و بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے، ارشاد ہے والصلح خیر یعنی باہم مصالحت کرنا بہتر ہے“ اور یہ جملہ ایسے عام عنوان سے بیان فرمایا جس میں زیر بحث میاں بیوی کے جھگڑے بھی داخل ہیں اور دوسری قسم کے گھریلو اختلافات بھی اور تمام دنیا کے معاملات کے باہمی جھگڑے اور خصومات و مقدمات بھی کیونکہ الفاظ قرآن عام ہیں کہ صلح بہتر ہے۔
خلاصہ مضمون یہ کہ طرفین سے اپنے اپنے پورے مطالبہ پر اڑے رہنے کے بجائے یہ بہتر ہے کہ طرفین اپنے کچھ مطالبات دستبردار ہو کر کسی درمیاین صورت پر رضامندی کے ساتھ مصالحت کرلیں، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے
”یعنی مسلمانوں کے درمیان ہر طرح کی مصالحت جائز ہے بجز اس صلح کے جس میں کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو اور مسلمانوں کو اپنی مانی ہوئی شرطوں پر قائم رہنا چاہئے، بجز ان شرائط کے جن کے ذریعہ کسی حلال کو حرام قرار دیا گیا ہو۔“
مثلاً کسی عورت سے اس بات پر صلح کرلینا جائز نہیں کہ اس کے ساتھ اس کی بہن کو بھی نکاح میں رکھا جائے، کیونکہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا شرعاً حرام ے، یا اس پر صلح کرے کہ دوسری بیوی کے حقوق ادا نہ کرے گا، کیونکہ اس میں ایک حلال کو حرام ٹھہرانا ہے۔
اور روایت میں چونکہ عموم کے ساتھ ہر صلح کو جائز قرار دیا ہے اس عموم سے امام اعظم ؒ نے یہ مسئلہ نکالا کہ صلح کی سب اقسام جائز ہیں خواہ اقرار کے ساتھ ہو جیسے مدعا علیہ یہ اقرار کرے کہ مدعی کے دعوے کے مطابق میرے ذمہ اس کے ایک ہزار روپیہ واجب الادا ہیں، پھر مصالحت اس پر ہوجائے کہ مدعی اس میں سے کچھ رقم چھوڑ دے، یا اس رقم کے معاوضہ میں اس سے کوئی چیز لے لے، یا مدعا علیہ دعوے کے بارے میں اقرار و انکار کچھ نہ کرے اور کہے کہ حقیقت میں جو کچھ بھی ہو میں چاہتا ہوں کہ تم اس صورت پر صلح کرلو، یا مدعا علیہ دعوے سے قطعی انکار کرلو، لیکن انکار کے باوجود جھگڑا قطع کرنے کے لئے کچھ دینے پر راضی ہوجائے اور اس پر صلح ہوجائے، یہ تینوں قسمیں صلح کی جائز ہیں، سکوت اور انکار کی صورت میں بعض ائمہ فقہاء کا اختلاف بھی ہے۔
آخر میں ایک مسئلہ قابل ذکر ہے جس کا تعلق زوجین کی باہمی مصالحت سے ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ یہ کہ اگر کسی عورت نے اپنے بعض حقوق کا مطالبہ ترک کردینے پر صلح کرلی تو یہ صلح عورت کے اس حق کو تو قطعی طور پر ختم کر دے گی جو بوقت صلح شوہر کے ذمہ عائد ہوچکا ہے، جیسے دین مہر کہ وہ شوہر پر اس صلح سے پہلے واجب الاداء ہوچکا ہے، لہذا جب وہ پورا مہر یا اس کا کوئی جز معاف کردینے پر صلح کرے تو یہ مہر یا اس کا حصہ ساقط ہوجائے گا اس کے بعد اس کو مطالبہ کا حق باقی نہ رہے گا، لیکن جو حقوق ایسے ہیں کہ بوقت صلح ان کی ادائیگی شوہر پر واجب ہی نہ تھی، مثلاً آئندہ زمانہ کا نان نفقہ یا حق شب باشی جس کا وجوب آنیوالے زمانہ میں ہوگا، بالفعل اس کے ذمہ واجب الادا نہیں ہے ان حقوق کو ترک پر اگر مصالحت کرلی گئی تو عورت کا حق مطالبہ ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ جب اس کا دل چاہے یہ کہہ سکتی ہے کہ آئندہ میں اپنا یہ حق چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اس صورت میں شوہر کو اختیار ہوگا کہ اس کو آزاد کر دے (تفسیر مظہری وغیرہ)
آخری آیت یعنی وان یتفر قایغن اللہ کلامن سعتہ میں فریقین کو تسلی دی گئی کہ اگر اصلاح و مصالحت کی سب کوششیں ناکام ہو کر الگ ہی ہونا پڑے تو اس سے بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دوسرے سے مستغنی فرما دیں گے، عورت کے لئے کوئی دوسرا ٹھکانا اور تکفل کا ذریعہ اور مرد کے لئے دوسری عورت مل جائے گی، اللہ تعالیٰ کی قدرت بڑی وسیع ہے، اس سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں، ان میں سے ہر ایک نکاح سے پہلی زندگی پر نظر ڈالے کہ ایک دوسرے کو پہچانتا بھی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے جوڑا ملا دیا، آج بھی پھر ایسی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
آخر آیت میں وکان اللہ واسعاً حکیماً فرما کر اس بات کو اور پختہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی وسعت ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے ممکن ہے کہ اس علیحدگی ہی میں حکمت و مصلحت ہو، جدائی کے بعد دونوں کو ایسے جوڑے مل جائیں کہ دونوں کی زندگی سدھر جائے۔
Ayahs 4:129–130امور غیر اختیاریہ پر مواخذہ نہیں
ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پائیدار بنانے کے لئے قرآن عظیم نے مذکورہ آیات میں جو ہدایتیں فریقین کو دی ہیں ان آیات میں ایک آیت یہ ہےولن تستطعیوا ان تعدلو ابین النسآء جس میں فریقین کو ایک خاص ہدایت فرمائی وہ یہ کہ ایک مرد کے نکاح میں ایک سے زائد عورتیں ہوں تو قرآن کریم نے سورة نساء کے شروع میں اس کو یہ ہدایت دی کہ سب بیویوں میں عدل و مساوات قائم رکھنا اس کے ذمہ فرض ہے اور جو خیال کرے کہ اس فرض کو میں ادا نہ کرسکوں گا تو اس کو چاہئے کہ ایک سے زائد بیبیاں نہ کرے، ارشاد ہے فان خفتم الا تعدلوا افواحدة ”یعنی اگر تم کو یہ خطرہ ہو کہ دو بییوں میں مساوات نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی پر اکتفا کرو۔“
اور رسول کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے بیویوں میں عدل اور برابری کو نہایت تاکیدی حکم قرار دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت و عید سنائی ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں برابری اور عدل کا پورا اہتمام فرمایا کرتے تھے اور ساتھ ہی بارگاہ جل شانہ میں عرض کیا کرتے تھے
”یعنی اے اللہیہ میری منصفانہ تقسیم اور مساوات اس چیز میں ہے جو میرے اختیار میں ہے اس لئے جو چیز آپ کے اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں، یعنی قلبی میلان اور رجحان اس میں مجھ سے مواخذہ نہ فرمایئے۔“
رسول کریم ﷺ سے زیادہ اپنے آپ پر قابو رکھنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ مگر قلبی میلان کو آپ نے بھی اپنے اختیار سے باہر قرار دیا اور اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا۔
سورة نساء کی شروع کی آیت کے ظاہری الفاظ سے بیویوں میں مطلقاً مساوات و برابری کا فرض ہونا معلوم ہوتا تھا، جس میں قلبی میلان میں بھی مساوات کرنا داخل ہے اور یہ معاملہ انسان کے اختیار میں نہیں، اس لئے سورة نساء کی اس آیت میں حقیقت حال کی وضاحت فرما دی کہ جن چیزوں پر تمہیں قدرت نہیں ہے ان میں مساوات فرض نہیں ہے، البتہ برابری اختیاری معاملات میں ہوگی، مثلاً شب باشی، طرز معاشرت اور نفقہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اس عنوان سے بیان فرمایا، جس سے ایک شریف انسان عمل کرنے پر مجبور ہوجائے، فرمایا
ولن تستطیعوا ان تعدلو ا بین النسآء ولو حرصتم فلاتمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقة ”یعنی تمہیں معلوم ہے کہ تم سب بیویوں میں اگر کوشش بھی کرو تو قلبی میلان کے بارے میں مساوات نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تمہارے اختیار میں نہیں، تو پھر ایسا نہ کرو کہ پورے ہی ایک طرف ڈھل جاء یعنی قلبی میلان تو اس طرف تھا ہی اور اختیاری معاملات میں بھی اسی کو ترجیح دینے لگو، جس کا نتیجہ یہ ہوجائے کہ دوسری عورت لٹکی ہی رہ جائے۔ یعنی شوہر اس کے حقوق بھی اد نہ کرے اور اس کو آزاد بھی نہ کرے۔
معلوم ہوا کہ اس آیت میں عدل پر کسی کی قدرت نہ ہونے کا جو ذکر ہے وہ قلبی میلان کی برابری ہے جو انسان کے اختیار میں نہیں اور اس آیت کے الفاظ فلا تمیلوا کل المیل میں خود اس مفہوم کا قرینہ موجود ہے، کیونکہ معنی ان الفاظ کے یہ ہیں کہ اگرچہ قلبی میلان میں برابری تمہاری قدرت میں نہیں، مگر بالکل ایک ہی طرف کے نہ ہو رہو، کہ اختیاری معاملات میں بھی اس کو ترجیح دینے لگو۔
اس طرح یہاں یہ سورة نساء کی پہلی آیت کی تشریح ہوگئی کہ اس کے ظاہری الفاظ سے قلبی میلان میں بھی مساوات کا فرض ہونا معلوم ہو رہا تھا، اس آیت نے کھول دیا کہ یہ بوجہ غیر اختیاری ہونے کے فرض نہیں، بلکہ فرض امور اختیاریہ میں مساوات ہے۔
اس آیت سے تعدد ازدواج کے خلاف استدلال قطعاً غلط ہے۔ مذکورہ تفصیل سے ان لوگوں کی غلط فہمی بھی واضح ہوگئی، جو ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ شروع سورة نساء کی آیت نے یہ حکم دیا کہ اگر چند بیویوں میں مساوات نہ کرسکو، تو پھر ایک ہی نکاح پر قناعت کرو، دوسرا نکاح نہ کرو، اور اس دوسری آیت نے یہ بتلا دیا کہ دو بییوں میں مساوات ممکن ہی نہیں، اس لئے نتیجہ یہ نکل آیا کہ دو بیویوں کو نکاح میں رکھنا ہی جائز نہیں اور عجب بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے خود ان دونوں آیتوں کے اندر اس غلط فہمی کے ازالہ کا سامان رکھ دیا ہے، دوسری آیت کا قرینہ ابھی گذر چکا ہے، کہ فلاتمیلوا کل المیل کے الفاظ ہیں، اور پہلی آیت میں یہ فرمایا فان خفتم الاتعدلوا فواحدة اس میں بطور شرط کے یہ فرمانا کہ اگر تمہیں خطرہ ہو۔“ یہ لفظ کھلا ہوا قرینہ اس کا ہے کہ دو بیویوں میں عدل و برابری ناممکن با اختیار سے خارج نہیں ورنہ اس طویل عبارت کی اور پھر وہ بھی دو آیتوں میں کوئی ضرورت ہی نہ تھی، جیسے حرمت علیکم امھتکم وبنتکم والی آیت میں ان عورتوں کی تفصیل دی جن سے نکاح حرام ہے اور وان تجمعوابین الاختین فرما کردو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت بتلائی گئی ہے، اسی طرح یہ بھی فرما دیا جاتا کہ ایک وقت میں ایک سے زائد بیویاں رکھنا حرام ہے اور پھر ان تجمعوا کے ساتھ بین الاختین کی قید فضول ہوجاتی، اسی ایک ہی جملہ میں یوں فرما دیا جاتا و ان تجمعوا بین امراتین یعنی مطلقاً دو عورتوں کو نکاح میں جمع رکھنا حرام ہے، مگر قرآن کریم نے اس مختصر کلام کو چھوڑ کر نہ صرف ایک طویل عبارت اختیار کی، بلکہ دو آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی، اس یہ بھی معلوم ہوا کہ آیت وان تجمعوا بین الاختین بھی ایک حیثیت سے اس کا جواز بتلا رہی ہے، کہ ایک سے زائد عورتوں کو نکاح میں جمع رکھنا تو جائز ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں بہنیں نہ ہوں۔
Ayahs 4:131–132ربط آیات
عورتوں اور یتیموں کے احکام بیان کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق پھر ترغیب و ترہیب کا مضمون ارشاد فرمایا گیا۔
خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمان میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں (تو ایسے مالک کے احکام کا ماننا بہت ہی ضرری ہے) اور (بجا آوری احکام کا خطاب خاص تم ہی کو نہیں ہوا بلکہ) واقعی ہم نے ان لوگوں کو بھی حکم دیا تھا جن کو تم سے پہلے کتاب (آسمانی یعنی توراة و انجیل) ملی تھی اور تم کو بھی (حکم دیا ہے) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر (جس کو تقوی کہتے ہیں، جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے، اسی لئے اس سورة کو تقوی سے شروع کر کے اس کی تفصیل میں مختلف احکام لائے ہیں) اور (یہ بھی ان کو اور تم کو سنایا گیا) کہ اگر تم ناشکری کرو گے (یعنی احکام الٓہیہ کی مخالفت کرو گے) تو (خدا تعالیٰ کا کوئی ضرر نہیں ہاں تمہارا ہی ضرر ہے، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی (تو) ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں (ایسے بڑے سلطان کا کیا ضرر ہوگا، البتہ ایسے بڑے سلطان کی مخالفت بلاشک مضر ہے) اور اللہ تعالیٰ کسی (کی اطاعت) کے حاجت مند نہیں (اور) خود اپنی ذات میں محمود (کامل الصفات) ہیں (پس کسی کی مخالفت سے ان کی صفات میں کوئی نقص لازم نہیں آتا) اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمان میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں اور (جب وہ ایسے قادر و مختار ہیں تو اپنے اطاعت گذار بندوں کے لئے وہ) اللہ تعالیٰ کافی کار ساز ہیں (پس ان کی کار سازی کے ہوتے ان کے فرمانبرداروں کو کون ضرر پہنچا سکتا ہے، پس کسی سے ڈرنا نہ چاہئے اور اللہ تعالیٰ جو تم کو دین کے کام بتلا رہے ہیں تو تمہاری ہی سعادت کے لئے ورنہ وہ دوسروں سے بھی کام لے سکتے ہیں کیونکہ ان کی ایسی قدرت ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اے لوگوں تم سب کو فنا کردیتا اور دوسروں کو موجود کردیتا (اور ان سے کام لے لیتا، جیسا دوسری آیت میں ہے ان تتولو ایستبدل الخ (74: 83) اور اللہ اس پر پوری قدرت رکھتے ہیں (پھر ایسا جو نہیں کیا تو ان کی عنایت ہے، اطاعت حکم کو غنیمت سمجھ کر سعادت حاصل کرو اور دیکھو دین کے کام کا اصلی ثمرہ آخرت میں ہے دنیا میں نہ لینے سے بد دل نہ ہونا بلکہ) جو شخص (دین کے کام میں) دنیا کا معاوضہ چاہتا ہو تو (وہ بڑی غلطی میں ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ کے پاس (یعنی ان کی قدرت میں) تو دنیا اور آخرت دونوں کا معاوضہ (موجود) ہے جب ادنی اعلی دونوں پر ان کی قدرت ہے، تو اعلی ہی چیز کیوں نہ مانگی جائے) اور اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے دیکھنے والے ہیں (سب کے اقوال اور درخواستوں کو دنیا کی ہوں یا دین کی سنتے ہیں اور سب کی نیتوں کو دیکھتے ہیں، پس طالبان آخرت کو ثواب دیں گے اور طالبان دنیا کو آخرت میں محروم رکھیں گے، پس آخرت ہی کی نیت اور درخواست کرنا چاہئے، البتہ دنیا کی حاجت مستقل طور پر مانگنا مضائقہ نہیں، لیکن عبادت میں یہ قصد نہ کرے۔
معارف و مسائل
فوائد مہمہ۔
للہ مافی السموت وما فی الارض، ”یعنی اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات“ اس جگہ ان الفاظ کو تین مرتبہ دہرایا گیا، اول سے کشائش اور وسعت مقصود ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں، دوسرے سے بےنیازی اور بےپروائی کا بیان مقصود ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں، دوسرے سے بےنیازی اور بےپروائی کا بیان مقصود ہے اس کو کسی کی پرواہ نہیں اگر تم منکر ہو، تیسری دفعہ میں رحمت اور کارسازی کا اظہار ہے کہ اگر تقوی اور اطاعت اختیار کرو تو وہ تمہارے سب کام بنا دے گا۔
Ayahs 4:133–134تیسری آیت میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تم سب کو فنا کر دے اور دنیا سے اٹھا لے اور دوسرے لوگ مطیع و فرمانبردار پیدا کر دے، اس سے بھی حق تعالیٰ کا استغناء اور بےنیازی خوب ظاہر ہوگئی اور نافرمانوں کو پوری طرح تہدید اور تخویف بھی ہوگئی۔