Ayah 4:171ربط آیات
ماقبل کی آیات میں یہود کو خطاب تھا اور انہی کی گمراہیوں کی تفصیل ذکر کی گئی اس آیت میں نصاری کو خطاب ہے اور ان کی بد اعتقادی اور خدا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ان کے باطل خیالات کی تردید کی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب (یعنی انجیل والو) تم اپنے دین (کے بارہ) میں (عقیدہ حقہ کی) حد سے مت نکلو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں غلط بات مت کہو (کہ نعوذ باللہ وہ صاحب اولاد ہے، جیسا بعض کہتے تھے المسیح ابن اللہ یا وہ مجموعہ آلہہ کا ایک جزو ہے جیسا بعض کہتے تھے ان اللہ ثالث ثلثة اور بقیہ دو جز ایک حضرت عیسیٰ ؑ کو کہتے تھے اور ایک حضرت جبرئیل ؑ کو جیسا آیت آئندہ میں ولا الملکة المقربون کے بڑھانے سے معلوم ہوتا ہے اور بعضے حضرت مریم (علیہا السلام) کو جیسا اتخذونی وامی سے معلوم ہوتا ہے یا وہ عین مسیح ہے جیسا بعض کہتے تھے ان اللہ ھو المسیح ابن مریم، غرض یہ سب عقیدے باطل ہیں) مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ (پیدائش) ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے (حضرت) مریم تک (حضرت جبرئیل ؑ کے واسطہ سے) پہنچایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جان (دارچیز) ہیں (کہ اس جان کو حضرت مریم کے جسم میں بواسطہ نفخ حضرت جبرئیل ؑ کے پہنچا دیا تھا باقی نہ وہ ابن اللہ ہیں نہ تین میں کے ایک ہیں، جیسا عقائد مذکورہ میں لازم آتا ہے) سو (جب یہ سب باتیں غلط ہیں تو سب سے توبہ کرو اور) اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر (ان کی تعلیم کے مطابق ایمان لاؤ (اور وہ موقوف ہے توحید پر، پس توحید کا عقیدہ رکھو) اور یوں مت کہو کہ (خدا) تین ہیں (مقصود منع کرنا ہے شرک سے اور وہ سب اقوال مذکورہ میں مشترک ہے، اس شرک سے) باز آجاؤ تمہارے لئے بہتر ہوگا (اور توحید کے قائل ہوجاؤ کیونکہ) معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے (اور وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجودات ہیں سب اس کی ملک ہیں (اور ان کا منزہ اور مالک علی الاطلاق ہونا دلیل ہی توحید کی) اور (ایک دلیل یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کار ساز ہونے میں کافی ہیں (اور ان کے سوا سب کار سازی میں ناکافی و محتاج الی الغیر اور ایک حد پر جا کر عاجز ہوجاتے ہیں اور یہ کفایت صفات کمال سے ہے اور صفات کا کمال لوازم الوہیت سے ہے، جب وہ غیر اللہ میں منتقی ہے پس الوہیت میں بھی منفی ہے، لہٰذا توحید ثابت ہے۔
معارف و مسائل
وکلمتہ اس لفظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کا کلمہ ہیں، مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کئے ہیں۔
(1) امام غزالی فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی پیدائش میں دو عامل کارفرما ہوتے ہیں، ایک عامل نطفہ ہے، اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا کلمہ ”کن“ فرمانا جس کے بعد وہ بچہ وجود میں آجاتا ہے ........ حضرت عیسیٰ ؑ کے حق میں چونکہ پہلا عامل منفی ہے، اس لئے دوسرے عامل کی طرف نسبت کر کے آپ کو کلمتہ اللہ کہا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مادی اسباب کے واسطہ کے بغیر صرف کلمہ ”کن“ سے پیدا ہوئے ہیں ........ اس صورت میں القھا الی مریم کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کلمہ حضرت مریم (علیہا السلام) تک پہنچا دیا جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش عمل میں آگئی۔
(2) بعض نے فرمایا کہ کلمة اللہ، بشارة اللہ کے معنی میں ہے اور مادہ اس سے حضرت عیسیٰ ؑ ہیں، اللہ جل شانہ، نے فرشتوں کے ذریعہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو حضرت عیسیٰ کی جو بشارت دی تھی اس میں ”کلمہ“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اذ قالت الملکة یمرم ان اللہ یبشرک بکلمة
(3) بعض نے فرمایا کلمة آیت اور نشانی کے معنی میں ہے، جیسا کہ دوسری جگہ یہ لفظ آیتہ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وصدقت بکلمت ربھا
وروح منہ اس لفظ میں دو باتیں قابل غور ہیں ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو روح کہنے کے کیا معنی ہیں ؟ ........ اور دوسرے یہ کہ اللہ جل شانہ کی طرف جو اس کی نسبت کی گئی ہے اس نسبت کا کیا مطلب ہے ؟
اس سلسلہ میں مفسرین کے متعدد اقوال منقول ہیں۔
(1) بعض نے فرمایاعرف کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شئے کی طہارت اور پاکیزگی کو بیان کرنا ہوتا ہے تو مبالغہ کے لئے اس پر روح کا اطلاق کردیا جاتا ہے، حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش میں چونکہ کسی باپ کے نطفہ کا دخل نہیں تھا اور وہ صرف اللہ جل شانہ کے ارادہ اور کلمہ کن کا نتیجہ تھے، اس لئے اپنی طہارت و نظافت میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، اسی وجہ سے عرف کے محاورہ کے مطابق کے مطابق ان کو روح کہا گیا اور اللہ کی طرف نسبت ان کی تعظیم و تشریف کے لئے ہے، جس طرح مساجد کی تعظیم کے لئے ان کی نسبت اللہ کی طرف کردی جاتی ہے، ”مساجد اللہ“ ، یا کعبہ کی نسبت اللہ کی طرف کر کے ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے، یا کسی اطاعت شعار بندہ کی نسبت اللہ کی طرف کر کے ”عبداللہ“ کہا جاتا ہے، چناچہ سورة بنی اسرائیل میں آنحضرت ﷺ کے لئے یہ صیغہ استعمال کیا گیا ہے اسری بعبدہ
(2) بعض حضرات نے فرمایا عیسیٰ ؑ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے مردہ دلوں میں روحانی حیات ڈال کر پھر زندہ کردیں، چونکہ وہ روحانی حیات کا سبب تھے جس طرح روح جسمانی حیات کا سبب ہوا کرتی ہے، اس لئے اس اعتبار سے ان کو روح کہا گیا، جیسا کہ خود قرآن کریم کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ وکذلک اوحینا الیک روحامن امرنا، کیونکہ قرآن کریم بھی روحانی حیات بخشتا ہے۔
(3) بعض نے فرمایا کہ روح کا استعمال راز کے معنی میں ہوتا ہے، حضرت عیسیٰ ؑ اپنی عجیب و غریب پیدائش کی وجہ سے چونکہ اللہ جل شانہ کی ایک نشانی اور راز تھے اس لئے انہیں روح اللہ کہا گیا۔
(4) بعض نے کہا کہ یہاں مضاف مخذوف ہے اور اصل عبارت یوں تھی ذوروح منہ اور چونکہ ذی روح ہونے میں سب حیوان برابر ہیں، اس لئے عیسیٰ ؑ کا امتیاز اس طرح ظاہر کیا گیا کہ ان کی نسبت اللہ جل شانہ نے اپنی طرف کردی۔
(5) ایک قول یہ بھی ہے کہ روح، نفخ (پھونک) کے معنی میں ہے، حضرت جبرئیل ؑ نے حضرت مریم کے گریبان میں اللہ کے حکم سے پھونک دیا تھا اور اسی سے حمل قرار پا گیا، چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ بطور معجزہ کے صرف نفخ سے پیدا ہوگئے تھے اس لئے آپ کو روح اللہ کہا گیا، قرآن کریم کی دوسری آیت فنفخنا فیہا من روحنا سے اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاہ بھی متعدد احتمالات بیان کئے گئے ہیں، بہرحال اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کا ایک جز ہیں اور یہی روح حضرت عیسیٰ ؑ کی انسانی شکل میں ظاہر ہوگئی ہے۔
لطیفہ۔ علامہ آلوسی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک نصرانی طبیب نے حضرت علی بن الحسین واقدی سے مناظرہ کیا اور ان سے کہا کہ تمہاری کتاب میں ایسا لفظ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کا جزو ہیں اور دلیل میں یہ آیت پڑھ دی، جس میں ”روح منہ“ کے الفاظ ہیں۔
علامہ واقدی نے ان کے جواب میں ایک دوسری آیت پڑھ دی وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ (اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی اللہ سے ہے اور منہ کے ذریعہ سے سب چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کردی گئی ہے) اور فرمایا کہ روح منہ کا اگر مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کا جزو ہیں تو اس آیت کا مطلب پھر یہ ہوگا کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اللہ کا جزو ہے ؟ یہ جواب سن کر نصرانی طبیب لاجواب ہوا اور مسلمان ہوگیا۔
ولاتقولوا ثلثة نزول قرآن کے وقت نصاری جن بڑے بڑے فرقوں میں تقسیم تھے تثلیث کے متعلق ان کا عقیدہ تین جدا جدا اصولوں پر مبنی تھا، ایک فرقہ کہتا تھا کہ مسیح عین خدا ہیں اور خدا ہی بشکل مسیح دنیا میں اتر آیا ہے، دوسرے فرقہ کا کہنا یہ تھا کہ مسیح ابن اللہ ہے اور تیسرا فرقہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وحدت کا راز تین میں پوشیدہ ہے، باپ، بیٹا مریم اس جماعت میں بھی دو گروہ تھے، دوسرا گروہ وہ حضرت مریم کی جگہ روح القدس کو اقنوم ثالث کہتا تھا غرض یہ لوگ حضرت مسیح ؑ کو ثالث ثلاثہ تسلیم کرتے تھے اس لئے قرآن کریم میں تینوں کو جدا جدا بھی مخاطب کیا ہے اور یکجا بھی، اور نصاریٰ پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ حق ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ مسیح ؑ مریم (علیہا السلام) کے بطن سے پیدا شدہ انسان اور خدا کے سچے رسول ہیں، اس سے زیادہ جو کچھ کہا جاتا ہے سب باطل اور لغو ہے، خواہ اس میں تفریط ہو جیسا کہ یہود کا عقیدہ ہے کہ العیاذ باللہ وہ شعبدہ باز اور مفتری تھے، یا افراط ہو جیسا کہ نصاری کا عقیدہ ہے کہ وہ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں، یا تین میں تیسرے ہیں۔
قرآن کریم نے بیشمار آیات میں ایک طرف تو نصاری اور یہود کی گمراہی کو واضح کیا اور دوسری طرف حضرت عیسیٰ ؑ کی شان رفیع اور عنداللہ ان کے مقام اعلی کو واضح فرمایا ہے تاکہ افراط وتفریط کے کج راہوں میں سے حق کا معتدل راستہ نمایاں ہوجائے۔
عیسائی عقائد اور ان کے مختلف پہلوؤں پر اور اس کے بالمقابل اسلام کی حقانیت پر اگر تفصیلی معلومات حاصل کرنا ہوں تو حضرت مولانا رحمتہ اللہ صاحب کیرانوی کی مشہور عالم کتاب ”اظہار الحق“ کا مطالعہ کریں، جس کا عربی سے ترجمہ مع شرح و تحقیق حال میں دارالعلوم کراچی نے تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔
لہ ما فی السموات وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا، یعنی آسمان اور زمین میں اوپر سے نیچے تک جو کچھ ہے سب اس کی مخلوق اور اس کی مملوک اور اس کے بندے ہیں، پھر کہتے اس کا شریک یا اس کا بیٹا کون اور کیونکر ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کام بنانے والا ہے اور سب کی کار سازی کے لئے وہی کافی اور بس ہے، کسی دوسرے کی حاجت نہیں، پھر بتلایئے اس کو شریک یا بیٹے کی حاجت کیسے ہو سکتی ہے ؟
خلاصہ۔ یہ ہوا کہ نہ کسی مخلوق میں اس کی شریک بننے کی قابلیت اور لیاقت اور نہ اس کی ذات پاک میں اس کی گنجائش اور نہ اس کی حاجت، جس سے معلوم ہوگیا کہ مخلوقات میں کسی کو خدا کا شریک یا بیٹا کہنا اس کا کام ہے جو ایمان اور عقل دونوں سے محروم ہو۔
دین میں غلو حرام ہے۔ (قولہ تعالی) لاتغلوا فی دینکم، اس آیت میں اہل کتاب کو غلو فی الدین سے منع فرمایا گیا، غلو کے لفظی معنی حد سے نکل جانے کے ہیں اور امام حصاص نے احکام القرآن میں فرمایا
”یعنی دین کے بارے میں غلو یہ ہے کہ دین میں جس چیز کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس سے آگے نکل جائے۔“
اہل کتاب یعنی یہود و نصاری دونوں کو اس حکم کا مخاطب اس لئے بنایا گیا کہ غلوفی الدین ان دونوں میں مشترک ہے اور یہ دونوں فرقے غلوفی الدین ہی کے شکار ہیں، کیونکہ نصاری نے تو عیسیٰ ؑ کو ماننے اور ان کی تعظیم میں غلو کیا، ان کو خدا یا خدا کا بیٹا یا تیسرا خدا بنادیا اور یہود نے ان کے نہ ماننے اور رد کرنے میں غلو کیا کہ ان کو رسول بھی نہ مانا، بلکہ معاذ اللہ ان کی والدہ ماجدہ مریم پر تہمت لگائی اور ان کے نسب پر عیاں لگایا۔
چونکہ غلو فی الدین کے سبب یہود و نصاری کی گمراہی اور تباہی مشاہدہ میں آچکی تھی، اس لئے رسل اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس معاملہ میں پوری احتیاط کی تاکید فرمائی، مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا
”میری مدح وثناء میں ایسا مبالغہ نہ کر جیسا نصاری نے عیسیٰ بن مریم کے معاملہ میں کیا ہے، خوب سمجھ لو کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس لئے تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول کہا کرو۔“
(اس روایت کو بخاری اور ابن مدینی نے بھی روایت کیا ہے اور صحیح السن قرار دیا ہے۔)
خلاصہ یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور بشر ہونے میں سب کے ساتھ شریک ہوں، میرا سب سے بڑا درجہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس سے آگے بڑھانا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں مجھے شریک قرار دے دویہ غلو، تم نصاری کی طرح کہیں اس غلو میں مبتلا نہ ہوجاؤ اور یہود و نصاری کا یہ غلو فی الدین صرف انبیاء ہی کی حد تک نہیں رہا، بلکہ انہوں نے جب یہ عادت ہی ڈال لی تو انبیاء (علیہم السلام) کے حوارییین اور متبعین اور ان کے نائبین کے مقابلہ میں بھی یہی برتاؤ اختیار کرلیا، رسول کو تو خدا بنادیا تھا، رسول کے متبعین کو معصوم کا درجہ دیدیا، پھر یہ بھی تنقید و تحقیق نہ کی کہ یہ لوگ حقیقتا انبیاء کے متبع اور ان کی تعلیم پر صحیح طور سے قائم بھی ہیں یا محض وراثتہً عالم یا شیخ سمجھے جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں ان کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جو خود بھی گمراہ تھے اور ان کی گمراہی کو اور بڑھاتے تھے، دین اور تدین ہی کی راہ سے ان کا دین برباد ہوگیا، قرآن حکیم نے ان لوگوں کی اس حالت کا بیان اس آیت میں فرمایا ہےاتخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباً من دون اللہ، یعنی ان لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤ کو بھی معبود کا درجہ دیدیا، اس طرح رسول کو تو خدا بنایا ہی تھا، اتباع رسول کے نام پر پچھلے مذہبی پیشواؤں کی بھی پرستش شروع کردی۔
اس سے معلوم ہوا کہ غلو فی الدین وہ تباہ کن چیز ہے جس نے پچھلی امتوں کے دین کو دین ہی کے نام پر برباد کردیا ہے، اسی لئے ہمارے آقا و مولا حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس وباء عظیم سے بچانے کے لئے مکمل تدبیریں فرمائیں۔
حدیث میں ہے کہ حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے رمی جمرات کے لئے حضرت عبداللہ بن عباس کو فرمایا کہ آپ کے واسطے کنکریاں جمع کر لائیں، انہوں نے متوسط قسم کی کنکریاں پیش کردیں، آپ نے ان کو بہت پسند فرما کردو مرتبہ فرمایابمثلھن بمثلھن یعنی ایسی ہی متوسط کنکریوں سے جمرات پر رمی کرنا چاہئے، پھر فرمایا
”یعنی غلو فی الدین سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی امتیں غلو فی الدین ہی کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوئیں۔“
اس حدیث سے چند اہم مسائل معلوم ہوئے
فوائد مہمہ۔ اول یہ کہ حج میں جو کنکریاں جمرات پر پھینکیں جاتی ہیں، ان کی حد مسنون یہ ہے کہ وہ متوسط ہوں، نہ بہت چھوٹی ہوں نہ بہت بڑی، بڑے بڑے پتھر اٹھا کر پھینکنا غلو فی الدین میں داخل ہے۔
دوسرے یہ معلوم ہوا کہ ہر چیز کی حد شرعی وہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے متعین فرما دی، اس سے تجاوز کرنا غلو ہے۔
تیسرے یہ واضح ہوگیا کہ غلو فی الدین کی تعریف یہ ہے کہ کسی کام میں اس کی حد مسنون سے تجاوز کیا جائے۔
حب دنیا کی حدود۔ ضرورت سے زیادہ دنیا کے مال و دولت اور عیش و عشرت کی طمع اسلام میں مذمت ہے اور اس کے ترک کرنے کی ہدایتیں بھی قرآن میں بکثرت وارد ہیں، لیکن رسول کریم ﷺ نے جہاں طمع دنیا اور حب دنیا سے منع فرمایا وہیں اپنے قول و عمل سے اس کی حدود بھی متعین فرما دی ہیں کہ نکاح کرنے کو اپنی سنت قرار دیا اور اس کی ترغیب دی، اولاد پیدا کرنے کے فوائد اور درجات بتلائے اہل و عیال کے ساتھ حسن معاشرت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کو فرض قرار دیا اپنی اور ان کی ضروریات کے لئے کس معاش کو فریضہ بعدا لفریضہ فرمایا، تجارت، زراعت، صنعت، حرفت اور مزدوری کی لوگوں کو تاکید فرمائی، اسلامی حکمت کا قیام اور اسلامی نظام کی ترویج کو فریضہ نبوت قرار دے کر اپنے عمل سے پورے جزیرة العرب میں ایک نظام مملکت قائم فرمایا اور خلفائے راشدین نے اس کو دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلا دیا، جس سے ملوم ہوا کہ بقدر ضرورت ان چیزوں کا اشتغال نہ حب دنیا میں شمارے نہ حرص و طمع میں۔
یہود و نصاری نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور رہبانیت میں مبتلا ہوگئے، قرآن حکیم نے ان کی اس کجروی کو ان الفاظ میں رد فرمایارہبانیة ابتدموھا ماکتبنا ھاعلیھم الا ابتغآء رضوان اللہ فما رعوھا حق رعایتھا ”یعنی ان لوگوں نے اپنی طرف سے رہبانیت کے یعنی ترک دنیا کے طریقے اختیار کر لئے جو ہم نے ان کے ذمہ نہ لگائے تھے، پھر جو چیزیں خود عائد کرلی تھیں ان کو پورا بھی نہ کرسکے۔“
سنت اور بدعت کی حدود۔ رسول کریم ﷺ نے عبادات، معاملات اور معاشرت سب ہی چیزوں میں اپنے قول عمل سے اعتدال کی حدود مقرر فرما دی ہیں اور ان سے پیچھے رہنا کوتاہی اور آگے بڑھنا گمراہی ہے، اسی لئے آپ نے بدعات اور محدثات کو بڑی شدت کے ساتھ روکا ہے، ارشاد فرمایا
”یعنی ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔“
بدعت اسی چیز کو کہا جاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے قول و عمل میں صراحتہ یا اشارة موجد نہ ہو۔
حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے لکھا ہے کہ اسلام میں بدعت کو اس لئے سخت جرم قرار دیا کہ وہ تحریف دین کا راستہ ہے، پچھلی امتوں میں یہی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب اور اپنے رسل کی تعلیمات پر اپنی طرف سے اضافے کر لئے اور ہر آنے والی نسل ان میں اضافے کرتی رہی یہاں تک کہ یہ پتہ نہ رہا کہ اصل دین کیا تھا اور لوگوں کے اضافے کیا ہیں۔
شاہ صاحب نے اپنی کتاب حجتہ اللہ البالغہ کے اندر یہ بیان فرمایا ہے کہ تحریف دین کے دنیا میں کیا کیا اسباب پیش آئے ہیں اور شریعت اسلام نے ان سب کے دروازوں پر کس طرح پہرہ بٹھایا کہ سوراخ سے یہ وباء اس امت میں نہ پھیلے۔
علماء و مشائخ کی تعظیم و اتباع میں راہ اعتدال۔ ان اسباب میں سے دین کے بارے میں تعمق و تشدد یعنی غلو فی الدین کو بڑا سبب قرار دیا مگر افسوس ہے کہ رسول کریم ﷺ کے اس قدر اہتمام اور شریعت کی اتنی پابندیوں کے باجود آج امت مسلمہ اسی غلو کی بری طرح شکار ہے، دین کے سارے ہی شعبوں میں اس کے آثار نمایاں ہیں، ان میں سے بالخصوص جو چیز ملت کے لئے مہلک اور انتہائی مضر ثابت ہو رہی ہے وہ دینی مقتداء و پیشواؤں کا معاملہ ہے، مسلمانوں کی ایک جماعت تو اس پر گئی ہے کہ مقتداء و پیشواء علماء و عرفاء کوئی چیز نہیں، کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، جیسے وہ اللہ کی کتاب سمجھتے ہیں ہم بھی سمجھ سکتے ہیں، ھم رجال ونحن رجال یعنی وہ بھی آدمی ہیں ہم بھی آدمی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ہوسناک جو نہ عربی زبان سے، واقف ہے نہ قرآن کے حقائق معارف سے نہ رسول کریم ﷺ کے بیان و تفسیر سے محض قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اپنے کو قرآن کا عالم کہنے لگا، قرآن کریم کی جو تفسیر تشریح خود رسول کریم ﷺ یا آپ کے بلاواسطہ شاگرد یعنی صحابہ کرام سے منقول ہے اس سب سے قطع نظر جو بات ذہن میں آگئی اس کو قرآن کے سر تھوپ دیا، حالانہ اگر صرف کتاب بغیر معلم کے کافی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت تھی کہ کتاب کے نسخے لکھے لکھائے لوگوں کو پہنچا دیتے، رسول کو معلم بناکر بھیجنے کی ضرورت نہ تھی، اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ بات صرف کتاب اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں، کسی بھی علم فن کی کتاب کا محض ترجمہ دیکھ کر کبھی کوئی شخص اس فن کا عالم نہیں بن سکتا، ڈاکٹری، یا طب یونانی کی کتابوں کا ترجمہ دیکھ کر آج تک کوئی حکیم یا ڈاکٹر نہیں بنا، انجینئری کی کتابیں دیکھ کر کوئی انجینئر نہیں بنا، کپڑا سینے یا کھانا پکانے کی کتابیں دیکھ کر کوئی درزی یا باورچی نہیں بنا، بلکہ ان سب چیزوں میں تعلیم و تعلم اور معلم کی ضرورت سب کے نزدیک مسلم ہے، مگر افسوس کہ قرآن و سنت ہی کو ایسا سرسری سمجھ لیا گیا ہے کہ اس کے لئے کسی معلم کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، چناچہ ایک بہت بڑی تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت تو اس طرف غلو میں بہہ گئی کہ صرف قرآن کے مطابق کو کافی سمجھ بیٹھے، علماء سلف کی تفسیروں اور تعبیروں کو اور ان کے اقتداء، و اتباع کو سرے سے نظر انداز کردیا۔
دوسری طرف ایک بھاری جماعت مسلمانوں کی اسغز میں مبتلا ہوگئی کہ اندھا دھند جس کو چاہا اپنا مقتداء اور پیشوا بنا لیا، پھر ان کی اندھی تقلید شروع کردی، نہ یہ معلوم کہ جس کو ہم مقتداء اور پیشواء بنا رہے ہیں یہ علم و عمل اور صلاح وتقوی کے معیار پر صحیح بھی اترتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ پھر اس طرف کوئی دھیان کیا کہ جو تعلیم یہ دے رہا ہے وہ قرآن و سنت کے مخالف تو نہیں ؟ شریعت اسلام نے غلو سے بچا کر ان دونوں کے درمیان طریقہ کار یہ بتلایا کہ کتاب اللہ کو رجال اللہ سے سیکھو اور رجال اللہ کو کتاب اللہ سے پہچانو، یعنی قرآن و سنت کی مشہور تعلیمات کے ذریعہ پہلے ان لوگوں کو پہچانو جو کتاب و سنت کے علوم میں مشغول ہیں اور ان کی زندگی کتاب و سنت کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے، پھر کتاب و سنت کے ہر الجھے ہوئے مسئلہ میں ان کی تفسیر و تشریح کو اپنی رائے سے مقدم سمجھو، اور ان کا اتباع کرو۔
Ayahs 4:172–173خلاصہ تفسیر
(نصاری خواہ مخواہ حضرت مسیح ؑ کو اللہ یا جزو اللہ بنا رہے ہیں، خود حضرت) مسیح (کی یہ کیفیت ہے کہ سکونت ارض کی حالت میں تو ان کا اقرار عبدیت جو کہ مبطل الوہیت ہے مشہور اور سب کو معلوم ہی ہے لیکن اب بھی سکونت سماء کی حالت میں کہ سکونت ارض سے ارفع اور مظنہ تعلی کا ہے، یا قیامت تک وہ جس حالت میں ہوں ان سے کوئی پوچھ کر دیکھئے اس حالت میں بھی) ہرگز خدا کا بندہ بننے سے عار (اور انکار) نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے (کبھی عار کریں گے، جن میں حضرت جبرئیل ؑ بھی ہیں، جن کو آلہ کار ایک جزو مانتے ہیں خود ان سے کوئی پوچھ کر دیکھے) اور (وہ عار کریں کیسے اس عار کرنے کا ایسا برا انجام ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو (اس کا انجام سن لو) اللہ تعالیٰ ضرور سب لوگوں کو اپنے پاس (یعنی حساب کے موقع پر) جمع کریں گے پھر جو لوگ (دنیا میں) ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے اچھے کام کئے ہوں گے (یعنی عبد بنے رہے ہوں گے، کیونکہ حاصل عبدیت کا یہی ایمان اور اعمال ہیں) تو ان کو تو ان کا پورا ثواب (بھی) دیں گے (جو کہ ایمان اور اعمال پر منصوص ہے) اور (اس کے علاوہ) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (بھی) دیں گے، (جس کی تفصیل منصوص نہیں) اور جن لوگوں نے (عبد بننے سے) عار کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا تو ان کو سخت درد ناک سزا دیں گے اور وہ لوگ کسی غیر اللہ کو اپنا یار اور مددگار نہ پاویں گے۔
معارف و مسائل
اللہ کا بندہ ہونا اعلی درجہ کی شرافت اور عزت ہے۔ لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ الخ یعنی مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار نہیں اور نہ ہی اللہ کے مقرب فرشتوں کو عار ہے اس لئے کہ اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجا لانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے، حضرت مسیح ؑ اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر و قیمت پوچھئے انکو اس سے کیسے ننگ اور عار آسکتا ہے، البتہ ذلت اور غیرت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے، جیسے نصاری نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو بیٹیاں مان کر ان کی اور بتوں کی عبادت کرنے لگے، سو ان کے لئے ہمیشہ کو عذاب اور ذلت ہے (فوائد عثمانی)
Ayahs 4:174–175خلاصہ تفسیر
اے (تمام) لوگو یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک (کافی) دلیل آچکی ہے (وہ ذات مبارک ہے رسول اللہ ﷺ کی) اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے (وہ قرآن مجید ہے پس رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے ذریعہ سے جو کچھ تم کو بتلایا جائے وہ سب حق ہے جن میں مضامین مذکورہ بھی داخل ہیں) سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے (جس کے لئے توحید و تنزیہ کا اعتقاد لازم ہے) اور انہوں نے اللہ (کے دین) کو (یعنی اسلام کو) مضبوط پکڑا (جس کے لئے رسول اور قرآن کی تصدیق لازم ہے) سو ایسوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں یعنی جنت میں) داخل کریں گے اور اپنے فضل میں (لے لیں گے یعنی دخول جنت کے علاوہ اور بھی نعمائے عظمی دیں گے جن میں دیدار الہی بھی داخل ہے) اور اپنے تک (پہنچنے کا) ان کو سیدھا راستہ بتلا دیں گے (یعنی دنیا میں ان کو طریق رضا پر قائم و ثابت رکھیں گے اور اسی سے تارک ایمان و اعمال صالحہ کی حالت معلوم ہوگئی کہ ان کو یہ ثمرات نہ ملیں گے۔)
معارف و مسائل
برہان سے کیا مراد ہے ؟: (قولہ تعالی) قدجآء کم برھان من ربکم برہان کے لفظی معنی دلیل کے ہیں، اس سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس ہے (روح)
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کو لفظ برہان سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ آپ کی ذات مبارک اور آپ کے اخلاق کریمانہ، آپ کے معجزات اور آپ پر کتاب کا نزول، یہ سب چیزیں آپ کی نبوت اور آپ کی رسالت کے کھلے کھلے دلائل ہیں، جن کو دیکھنے کے بعد کسی اور دلیل کی احتیاج باقی نہیں رہتی تو یوں سمجھنا چاہئے کہ آپ کی ذات خود ہی ایک مجسم دلیل ہے۔
اور نور سے مراد قرآن مجید ہے (روح) جیسا کہ سورة مائدہ کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے قدجآء کم من اللہ نور و کتب مبین (5: 51) ”یعنی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور وہ ایک کتاب واضح یعنی قرآن ہے“ (بیان القرآن) اس آیت میں جس کو نر کہا گیا ہے آگے اسی کو کتاب مبین کہا گیا، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ عطف تو تغائر کو چاہتا ہے لہٰذا نور اور کتاب ایک چیز نہیں ہو سکتے، اس لئے کہ تغائر عنوان کا کافی ہے اگرچہ مصداق اور معنون ایک ہی ہے (روح)
اور اگر نور سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس ہو، اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو یہ بھی صحیح ہے (روح) لیکن اس سے آنحضرت ﷺ کا ایسا نور محض ہونا ثابت نہیں ہوتا جو بشریت اور جسمانیت کے منافی ہو۔
Ayah 4:176ربط آیات
شروع سورت کے ذرا بعد میراث کے احکام مذکور تھے، پھر وہاں سے تقریباً ایک پارہ کے بعد دوسرے احکام کے ساتھ حکم میراث کی طرف پھر عود ہوا تھا، اب ختم سورت پر پھر عود ہے، اسی کی طرف شاید تین جگہ اس کے متفرق کردینے میں حکمت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے میراث کے باب میں بہت ظلم تھا، پس سورت کے اول میں، وسط میں، آخر میں اس کے ذکر فرمانے سے مخاطبین کا اہتمام بلیغ اس بات میں مفہوم ہوگا جس سے وہ بھی زیادہ اہتمام کریں۔
خلاصہ تفسیر
لوگ آپ سے (میراث کلالہ کے باب میں یعنی جس کے نہ اولاد ہو نہ ماں باپ ہوں) حکم دریافت کرتے ہیں آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے باب میں حکم دیتا ہے (وہ یہ ہے کہ) اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو (یعنی نہ مذکر نہ مونث اور نہ ماں باپ ہں) اور اس کے ایک (عینی یا علاتی) بہن ہو تو اس (بہن) کو اس کے تمام ترکہ کا نصف ملے گا (یعنی بعد حقوق متقدمہ اور بقیہ نصف اگر کئی عصبہ ہوا اس کو دیا جائے گا ورنہ پھر اسی پر رد ہوجائے گا) اور وہ شخص اس (اپنی بہن) کا وارث (کل ترکہ کا) ہوگا، اگر (وہ بہن مر جائے اور) اس کے اولاد نہ ہو (اور والدین بھی نہ ہوں) اور اگر (ایسی) بہنیں دو (یا زیادہ) ہوں تو ان کو اس کے کل ترکہ میں سے دو تہائی ملیں گے (اور ایک تہائی عصبہ کو وہ بطور رد کے انہی کو مل جائے گا) اور اگر (ایسی میت کے جس کے نہ اولاد ہے نہ والدین خواہ وہ میت مذکر ہو یا مونث) وارث چند (یعنی ایک سے زیادہ ایسے ہی) بھائی بہن ہوں مرد اور عورت تو (ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ) ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر (یعنی بھائی کو دوہرا بہن کو اکہرا لیکن عینی بھائی سے علاتی بھائی بہن سب ساقط ہوجاتے ہیں اور عینی بہن سے کبھی وہ ساقط ہوجاتے ہیں کبھی حصہ گھٹ جاتا ہے، جس کی تفصیل کتب فرائض میں نہیں اللہ تعالیٰ تم سے (دین کی باتیں) اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تم (ناواقفی سے) گمراہی میں نہ پڑو (یہ تو تذکیر احسان ہے) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں، (پس احکام کی مصلحتوں سے بھی مطلع ہیں اور احکام میں ان کی رعایت کی جاتی ہے، یہ حکمت کا بیان ہے۔)
معارف و مسائل
فوائد مہمہ۔ (1) قولہ تعالیٰ یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلة اس جگہ کلالہ کے حکم اور اس کے سبب نزول بیان فرمانے سے چند باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ جیسا پہلے وان تکفروافان للہ ما فی السموت وما فی الارض فرما کر اس کے بعد بطریق تمثیل اہل کتاب کا حال ذکر فرمایا تھا ایسے ہی ارشاد فاما الذین امنوا باللہ واعتصمو بہ الخ کے بعد اصحاب رسول اللہ ﷺ فرمایا تاکہ وحی سے انحراف کرنے والوں کی گمراہی اور برائی اور وحی کا اتباع کرنے والوں کی حقانیت اور بھلائی خوب سمجھ میں آجائے۔
(2) اسی کے ذیل میں دوسری بات یہ بھی ظاہر ہوگئی کہ اہل کتاب نے تو یہ غضب کیا کہ ذات اقدس سبحانہ و تعالیٰ کے لئے شریک اور اولاد جیسے شنیع امر کو تمثنیل کو اپنا ایمان بنا لیا اور وحی الہی کا خم ٹھونک کر خلاف کیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت ہے کہ اصول ایمان اور عبادات تو درکنار معاملات جزئیہ اور معمولی مسائل متعلقہ میراث نکاح وغیرہ میں بھی وحی کے متجسس اور منتظر رہتے ہیں اور ہر امر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں، اپنی عقل اور خواہش کو حاکم نہیں سمجھتے، اگر ایک دفعہ میں تشفی نہ ہوئی تو مکرر حاضر خدمت ہو کر دریافت کرتے ہیں۔ بیبیں تفات رہ از کجاست تابہ کجا۔
اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت سید المرسلین بھی بلا حکم وحی اپنی طرف سے حکم نہ فرماتے تھے، اگر کسی امر میں حکم وحی موجود نہ ہوتا تو حکم فرمانے میں نزول وحی کا انتظار فرماتے، جب وحی آتی تب حکم فرماتے، نیز اشارہ ہے اس طرف کہ ایک دفعہ تمام کتاب کے نازل ہونے میں جیسا کہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں وہ خوبی نہیں تھی جو بوقت حاجت اور حسب موقع متفرق نازل ہونے میں ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنی ضرورت کے موافق اس صورت میں سوال کرسکتا ہے اور بذریعہ وحی متلو اس کا جواب مل سکتا ہے، جیسا کہ اس موقع میں اور قرآن مجید کے بہت سے مواقع میں موجود ہے اور یہ صورت مفید تر ہونے کے علاوہ بوجہ شرافت ذکر خداوندی و عزت خطاب حق و عزجل ایسے فخر عظیم پر مشتمل ہے جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوا، واللہ ذوالفضل العظیم، جس صحابی کی بھلائی میں یا اس کے سوال کے جواب میں کوئی آیت نازل ہوئی وہ اس کے مناقب میں شمار ہوتی ہے اور اختلاف کے موقع میں جس کی رائے یا جس کے قول کے موافق وحی نازل ہوگئی قیامت تک ان کی خوبی اور نیک نام باقی رہے گا، سوکلالہ کے متعلق سوال و جواب کا ذکر فرما کر اس طرح کے بالعموم سوالات اور جوابات کی طرف اشارہ فرما دیا۔ (فوائد عثمانی)
تمت سورة النسآء واللہ الحمد اولہ واخرہ