Ayah 4:100معارف و مسائل
ہجرت کی تعریف۔ ان چار آیتوں میں ہجرت کے فضائل، برکات اور احکام کا بیان ہے لغت میں ہجرت، ہجران اور ہجر کے معنی ہیں کسی چیز سے بیزار ہو کر اس کو چھوڑ دینا اور محاورات عامہ میں ہجرت کا لفظ ترک وطن کرنے کے لئے بولا جاتا ہے، اصطلاح شرع میں دارالکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں چلے جانے کو ہجرت کہتے ہیں (روح المعانی)
اور ملا علی قاری نے شرح مشکوة میں فرمایا کہ کسی وطن کو دینی وجوہ کی بناء پر چھوڑ دینا بھی ہجرت میں داخل ہے (مرقاة صفحہ 93 جلد 1)
سور حشر کی آیت الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم جو مہاجرین صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی ملک کے کافر مسلمانوں کو ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے زبردستی نکال دیں تو یہ بھی ہجرت میں داخل ہے۔
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ ہندوستان سے پاکستان کی طرف منتقل ہونے والے مسلمان جو دارالکفر سے بیزاری کے سبب باختیار خود اس طرف آئے ہیں یا جن کو غیر مسلموں نے محض ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے زبردستی نکال دیا ہے، یہ سب لوگ شرعی معنی کے اعتبار سے مہاجر ہیں، البتہ جو تجارتی ترقی یا ملازمت کی سہولتوں کی نیت سے منتقل ہوئے وہ شرعاً مہاجر کہلانے کے مستحق نہیں۔
اور صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے
”یعنی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔“
سو اس کا مطلب اسی حدیث کے پہلے جملے سے ظاہر ہوجاتا ہے جس میں یہ ارشاد ہے
”یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی تکلیف سے سب مسلمان محفوظ اور سلامت رہتے ہوں“
مراد اس کی ظاہر ہے کہ سچا اور پکا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کو ایذاء نہ پہونچائے، اسی طرح سچا اور کامیاب مہاجر وہی ہے جو صرف ترک وطن کر کے فارغ نہ ہوجائے، بلکہ جتنی چیزیں شریعت نے حرام و ناجائز قرار دی ہیں ان سب کو بھی چھوڑ دے۔
اپنے دل کو بھی بدل جامہ احرام کے ساتھ
ہجرت کے فضائل۔
قرآن کریم میں جس طرح جہاد کے متعلق آیات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح ہجرت کا ذکر بھی قرآن کریم کی اکثر سورتوں میں متعدد مرتبہ ہے، سب آیات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہا آیت ہجرت میں تین قسم کے مضامین ہیں، اول ہجرت کے فضائل، دوسرے اس کے دنیاوی اور اخروی برکات، تیسرے باوجود قدرت کے دارالکفر سے ہجرت نہ کرنے پر وعیدیں۔
پہلے مضمون یعنی ہجرت کے فضائل کی ایک آیت سورة بقرہ میں ہے
”یعنی وہ جوا یمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت اور جہاد کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے۔“
”یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت اور جہاد اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑے درجہ میں ہیں اور یہی لوگ کامیاب بامراد ہیں۔“
”یعنی جو شخص اللہ اور رسول کے لئے اپنے گھر سے بہ نیت ہجرت نکل کھڑا ہوا پھر اس کو راستہ ہی میں موت آگئی تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہوگیا۔“
یہ آیت بعض روایات کے مطابق حضرت خالد بن حزام کے بارے میں ہجرت حبشہ کے زمانہ میں نازل ہوئی، یہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت پر نکلے تھے، راستہ میں ان کو سانپ نے کاٹ لیا، جس سے ان کی موت واقع ہوگئی، بہرحال ان تینوں آیتوں میں دارالکفر سے ہجرت کی ترغیب اور اس کے بڑے فضائل کا بیان واضح طور پر آ گیا۔
ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہےالھجرة تھدم ماکان قبلھا ”یعنی ہجرت ان سب گناہوں کو ختم کردیتی ہے جو ہجرت سے پہلے کئے ہوں۔“
ہجرت کی برکات۔
برکات کے متعلق سورة نحل کی ایک آیت میں ارشاد ہے
”یعنی جن لوگوں نے اللہ کے لئے ہجرت کے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے، اور آخرت کا ثواب تو بہت بڑا ہے، کاش یہ لوگ سمجھ لیتے۔“
سورة نساء کی چار آیتیں جو اوپر لکھی گئی ہیں ان میں سے چوتھی آیت کا بھی تقریباً یہی مضمون ہے جس میں ارشاد ہے
”یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ پائے گا زمین میں جگہ بہت اور کشائش“
آیت کا لفظ مراغم مصدر ہے جس کے معنی ہیں ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونا اور منتقل ہونے کی جگہ کو بھی مراغم کہہ دیا جاتا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں ہجرت کی برکات ظاہرہ وہ باطنہ کا بیان ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ جو شخص اللہ اور رسول کے لئے ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا میں راہیں کھول دیتے ہیں اور اس کو دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیتے ہیں اور آخرت کے ثواب درجات تو وہم و گمان سے بالاتر ہیں۔
اچھے ٹھکانے کی تفسیر مجاہد نے رزق حلال سے اور حسن بصری نے عمدہ مکان سے اور بعض دوسرے مفسرین نے مخالفین پر غلبہ اور عزت و شرف سے کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آیت کے مفہوم میں یہ سب چیزیں داخل ہیں، چناچہ تاریخ عالم شاہد ہے کہ جب کسی نے اللہ کے لئے وطن چھوڑا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو وطن کے مکان سے بہتر مکان وطن کی عزت و شرف سے زیادہ عزت، وطن کے آرام سے زیادہ آرام عطا کیا ہے، حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے عراقی وطن کو چھڑ کر شام کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے یہ سب چیزیں ان کو نصیب فرمائیں، حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل نے اللہ کے لئے اپنے وطن مصر کو چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر وطن ملک شام کا عطا فرمایا اور پھر مصر بھی ان کو مل گا، ہمارے آقا حضرت خاتم النبیاء ﷺ اور آپ کے صحابہ نے اللہ و رسول کے لئے مکہ کو چھوڑا تو مہاجرین کو مکہ سے بہترین ٹھکانا مدینہ میں نصیب ہوا، ہر طرح کی عزت و غلبہ اور راحت و ثروت عطا ہوئی، ہجرت کے ابتدائی دور میں چند روزہ تکلیف و مشقت کا اعتبار نہیں، اس عبوری دور کے بعد جو نعمتیں حق تعالیٰ کی ان حضرات کو عطا ہوئیں اور ان کی کئی نسلوں میں جاری رہیں اسی کا اعتبار ہوگا۔
صحابہ کرام کے فقر و فاقہ کے جو واقعات تاریخ میں مشہور ہیں وہ عموماً ہجرت کے ابتدائی دور کے ہیں یا وہ فقہ اختیاری کے ہیں کہ انہوں نے دنیا و مال و دولت کو پسند ہی نہیں کیا اور جو حاصل ہوا اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا، جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ کا اپنا حال یہی تھا کہ آپ کا فقر و فاقہ محض اختیاری تھا، آپ نے غناء و مال داری کو اختیار نہیں فرمایا اور اس کے باوجود ہجرت کے چھٹے سال میں فتح خیبر کے بعد آنحضرت ﷺ کے سب اہل و عیال کے گذارہ کافی انتظام ہوگیا تھا، اسی طرح خلفائے راشدین میں سب کا یہی حال تھا کہ مدینہ پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو سب کچھ دیا تھا لیکن اسلامی ضرورت پیش آنے پر حضرت صدیق اکبر نے اپنے گھر کا پورا مال لا کر پیش کردیا، ام المومنین حضرت زینب کو جو کچھ وظیفہ ملتا وہ سب فقراء و مساکین میں تقسیم کر کے خود فقیرانہ زندگی گذارتی تھیں اسی وجہ سے ان کا لقب ام المساکین ہوگیا تھا اور اس کے باوجود اغنیاء صحابہ جنہوں نے بڑی مقدار میں مال و جائیداد چھوڑی ان کی مقدار بھی صحابہ کرام میں کم نہیں، بہت سے حضرات صحابہ ایسے بھی تھے جو اپنے وطن مکہ مکرمہ میں مفلس و نادار تھے، ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دلت اور ہر طرح کی رفاہیت عطا فرمائی، حضرت ابوہریرہ ؓ جب ایک صوبہ کے والی بنا دیئے گئے تو بڑے لطف سے اپنی سابقہ زندگی کا نقشہ اتارا کرتے تھے اور اپنے نفس کو خطاب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ ابوہریرہ ! تو وہی ہے کہ فلاں قبیلہ کا نوکر تھا اور تیری تنخواہ صرف پیٹ بھرائی روٹی تھی اور تیری ڈیوٹی یہ تھی کہ جب وہ لوگ سفر میں جائیں تو پیدل ان کے ساتھ چلے اور جب وہ کسی منزل پر اتریں تو تو ان کے لئے جلانے کی لکڑیاں چن کر لائے، آج اسلام کی بدولت تو کہاں سے کہاں پہنچا، تجھ کو امام اور امیر المومنین کہا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ مہاجرین کے لئے قرآن میں فرمایا اس کو دنیا نے پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، البتہ اسی آیت میں شرط یہ ہے کہ ہاجروا لفی اللہ کے مصداق ہوں، دنیا کے مال و دولت یا حکومت و سلطنت یا عزت وجاہ کی طلب میں ہجرت نہ کی ہو ورنہ صحیح بخاری کی حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نیت سے ہجرت کرتا ہے تو ان کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کے لئے ہے یعنی یہ صحیح ہجرت ہے جس کے فضائل و برکات قرآن میں مذکور ہیں اور جس شخص نے کسی مال کی طلب یا کسی عورت کے نکاح کے خیال سے ہجرت کی ہو تو اس کی ہجرت کا معاوضہ وہی چیز ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
آج جو بعض مہاجرین پریشان حال ہیں یا تو ابھی وہ اس عبوری دور میں ہیں جس میں ابتدائی ہجرت کے وقت پریشانی پیش آیا کرتی ہے، یا پھر وہ صحیح معنی میں مہاجر نہیں ان کو اپنی نیت اور حال کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے، نیت اور عمل کی اصلاح کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی سچائی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں گے۔
Ayah 4:101خلاصہ تفسیر
اور جب تم زمین میں سفر کرو (جس کی مقدار تین منزل ہو) سو تم کو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا (بلکہ ضروری ہے) کہ تم (ظہر اور عصر اور عشاء کے فرض) نماز (کی رکعات) کو کم کردو (یعنی چار کی جگہ دو پڑھا کرو) اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم کو کافر لوگ پریشان کریں گے (اور اس اندیشہ کی وجہ سے ایک جگہ زیادہ دیر تک ٹھہرنا خلاف مصلحت سمجھا جاوے، کیونکہ) بلاشبہ کافر لوگ تمہارے صریح دشمن ہیں اور جب آپ ان میں تشریف رکھتے ہوں (اور اسی طرح آپ کے بعد اور جو امام ہو) پھر آپ ان کو نماز پڑھانا چاہیں (اور اندیشہ ہو کہ اگر سب نماز میں لگ جائیں گے تو کوئی دشمن موقع پا کر حملہ کر بیٹھے گا) تو (ایسی حالت میں) یوں چاہئے کہ (جماعت کے دو گروہ ہوجائیں پھر) ان میں سے ایک گروہ تو آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑے ہوجائیں (اور دوسرا گروہ نگہبانی کے لئے دشمن کے مقابل کھڑا رہے تاکہ دشمن کو دیکھتا رہے) اور وہ لوگ (جو آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہیں وہ بھی مختصر مختصر) ہتھیار لینے میں دیر نہ لگے، فوراً قتال کرنے لگیں، گو نماز قتال سے ٹوٹ جائے گی، لیکن گناہ نہیں) پھر جب یہ لوگ (آپ کے ساتھ) سجدہ کر چکیں (یعنی ایک رکعت پوری کرلیں) تو یہ لوگ (نگہبانی کے لئے) تمہارے پیچھے ہوجاویں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے اور دوسرے گروہ کے جو کہ اب نماز میں شامل ہوں گے جن کا بیان آگے آتا ہے، یہ پہلا گروہ ان سب کے پیچھے ہوجائے) اور دوسرا گروہ جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی (یعنی شروع بھی نہیں کی) وہ اس پہلے گروہ کی جگہ امام کے قریب) آجائے اور آپ کے ساتھ نماز (کی ایک رکعت جو باقی رہی ہے اس کو) پڑھ لیں اور یہ لوگ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لیلیں (اور سامان اور ہتھیار ہمراہ لینے کا اس لئے سب کو حکم کیا ہے کہ) کافر لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اگر تم اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے (ذرا) غافل ہو جاؤ تو تم پر ایک بارگی حملہ کر بیٹھیں، (سو ایسی حالت میں احتیاط ضروری ہے) اور اگر تم کو بارش (وغیرہ) کی وجہ سے (ہتھیار لے کر چلنے میں) تکلیف ہو یا تم بیمار ہو (اور اس وجہ سے ہتھیار باندھ نہیں سکتے، تو تم کو اس میں (بھی) کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھ اور (پھر بھی) اپنا بچاؤ (ضرور) لے لو، (اور یہ خیال نہ کرو کہ کفار کی دشمنی کا صرف دنیا ہی میں علاج کیا گیا ہے بلکہ آخرت میں اس سے بڑھ کر ان کا علاج ہوگا کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے سزائے اہانت آمیز مہیا کر رکھی ہے، پھر جب تم نماز (خوف) کو ادا کر چکو تو (بدستور) اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور لیٹے بھی (یعنی ہر حالت میں حتی کہ عین لڑائی کے وقت بھی اللہ کا ذکر جاری رکھو دل سے بھی اور احکام شرعی کے اتباع سے بھی کہ وہ بھی ذکر میں داخل ہے، لڑائی میں خلاف شرع کوئی کارروائی کرنے سے پرہیز کرو، غرض نماز تو ختم ہوئی ذکر ختم نہیں ہوتا، سفر یا خوف کی وجہ سے نماز میں تو تخفیف ہوگئی تھی لیکن ذکر اپنی حالت پر ہی ہے) پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ (یعنی سفر ختم کر کے مقیم ہوجاؤ اور اسی طرح خوف کے ختم ہونے کے بعد بےخوف ہوجاؤ) تو نماز کو (اصلی) قاعدہ کے موافق پڑھنے لگو (یعنی قصر اور نماز میں مشی وغیرہ چھوڑ دو ، کیونکہ وہ بوجہ عارض کے جائز رکھا گیا تھا) یقیناً نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدود ہے (پس فرض ہونے کی وجہ سے ادا کرنا ضرور اور وقت کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے وقت ہی میں ادا کرنا ضرور ہوا، اس لئے کچھ کچھ اس کی شکل و صورت میں تبدیلی کردی گئی، ورنہ نماز کی صورت مقصودہ وہی اصلی صورت ہے، پس سبب کے ختم ہونے کے بعد نماز کی اصلی صورت کی حفاظت لازم ہوگئی) اور ہمت مت ہارو اس مخالف قوم کے تعاقب کرنے میں (جبکہ اس کی ضرورت ہے) اگر تم (زخموں سے) تکلیف میں مبتلا ہو تو (کیا ہوا) وہ بھی تو درد میں مبتلا ہیں جیسے تم درد میں مبتلا ہو (تو وہ تم سے زیادہ قوت نہیں رکھتے پھر کا ہے کو ڈرتے ہو) اور (تم میں ایک زیادتی ان سے یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی چیزوں کی امید رکھتے ہو کہ وہ لوگ (ان کی) امید نہیں رکھتے (یعنی ثواب، تو دل کی قوت میں تم زیادہ ہوئے اور ضعف بدن میں ایک جیسے تو تم کو زیادہ چست رہنا چاہئے اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں (ان کو کفار کا کمزور دل اور کمزور بدن معلوم ہے) بڑے حکمت والے ہیں (تمہاری قوت برداشت سے زیادہ حکم نہیں فرمایا)۔
معارف و مسائل
ربط آیات۔ اوپر جہاد اور ہجرت کا ذکر تھا چونکہ اب احوال میں جہاد اور ہجرت کے لئے سفر کرنا پڑتا ہے اور ایسے سفر میں مخالف کی طرف اندیشہ بھی اکثر ہوتا ہے اس لئے سفر اور خوف کی رعایت سے جو نماز میں بعض خاص سہولتیں اور تحفیفیں کی گئی ہیں آگے ان کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayahs 4:102–104سفر اور قصر کے احکام
مسئلہ۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس سفر میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔
مسئلہ۔ اور جب سفر ختم کر کے منزل پر جا پہنچے تو اگر وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تب تو وہ حکم سفر میں ہے، فرض نماز چارگانہ آدھی پڑھی جائے گی اور اس کو قصر کہتے ہیں اور اگر پندرہ روز یا زیادہ کا رہنے کا ایک ہی بستی میں ارادہ ہو، تو وہ وطن اقامت ہوجائے گا وہاں بھی وطن اصلی کی طرح قصر نہیں ہوگا، بلکہ نماز پوری پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ قصر صرف تین وقت کے فرائض میں ہے اور مغرب اور فجر میں اور سنن و وتر میں نہیں ہے۔
مسئلہ۔ سفر میں خوف نہ ہو تو بھی قصر نماز پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ بعض لوگوں کو پوری نماز کی جگہ قصر پڑھنے میں دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، یہ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ قصر بھی شریعت کا حکم ہے، جس کی تعمیل پر گناہ نہیں ہوتا بلکہ ثواب ملتا ہے۔
مسئلہ۔ آیت میں ہے واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوة (یعنی جب آپ ان میں تشریف رکھتے ہوں) اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اب صلوة خوف کا حکم باقی نہیں رہا، کیونکہ آپ کی ذات بابرکات اب ہم میں موجود نہیں، اس لئے کہ یہ شرط اس وقت کے اعتبار سے بیان کی گئی ہے، کیونکہ نبی کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا آدمی بلا عذر کے امام نہیں بن سکتا، آپ کے بعد اب جو امام ہو وہی آپ کے قائم مقام ہے اور وہی صلوة خوف پڑھائے گا تمام ائمہ کے نزدیک صلوة خوف کا کام آپ کے بعد بھی جاری ہے منسوخ نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ جیسے آدمی سے خوف کے وقت صلوة خوف پڑھنا جائز ہے، ایسے ہی اگر کسی شیر یا اژدھا وغیرہ کا خوف ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو اس وقت بھی جائز ہے۔
مسئلہ۔ آیت میں دونوں گروہ کے ایک ایک رکعت پڑھنے کا تو ذکر فرمایا دوسری رکعت کا طریقہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو دونوں گروہ نے اپنی ایک ایک رکعت بطور خود پڑھ لی، مزید تفصیل احادیث میں ہے۔
Ayah 4:105خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب بھیجی (جس سے) واقع کے موافق (حال معلوم ہوگا) تاکہ آپ (اس واقعہ میں) ان لوگوں کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو کہ اللہ تعالیٰ نے (وحی کے ذریعہ سے) آپ کو (اصل حال) بتلا دیا ہے (وہ وحی یہ ہے کہ واقع میں بشیر چور ہے اور قبیلہ بنو ابیرق جو اس کے حامی ہیں کاذب ہیں) اور (جب اصل حال معلوم ہوگیا تو) آپ ان خائنوں کی طرف داری کی بات نہ کیجئے (جیسا بنو ابیرق کی اصل خواہش یہی تھی چناچہ دوسرے رکوع میں آتا ہےلھمت طآئفة منھم ان یضلوک مگر آپ نے ایسا کیا نہ تھا، خود اسی جملہ سے آپ کا اس پر عمل نہ کرنا بھی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ فضل الہی نے غلطی سے بچا لیا جس میں ہر غلطی کی نفی ہوگئی اور منع فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فعل ماضی میں واقع ہوچکا ہو، بلکہ اصل فائدہ منع کا یہ ہے کہ آئندہ کے لئے حقیقت حال سے آگاہ کر کے اس کے کرنے سے روکتے ہیں، پس آپ کی حالت اور نہی کے مجموعہ کا حاصل یہ ہوگا کہ کہ جیسے اب تک طرفداری نہیں کی آئندہ بھی نہ کیجئے اور یہ انتظامات بھی مکمل نبی کو معصم رکھنے کے لئے ہیں اور آیت میں سب کو خائن کہا حالانکہ خائن سب نہ تھے، اس لئے کہ جو لوگ خائن نہ تھے وہ بھی خائن کی اعانت کر رہے تھے اس لئے وہ خائن ٹھہرے) اور (لوگوں کے کہنے سے حسن ظن کے طور پر آپ نے جو بنا بیرق کو دیندار سمجھ لیا ہے، گو ایسا سمجھنا گناہ تو نہیں، لیکن چونکہ اس میں یہ احتمال تھا کہ آپ کے اتنا فرما دینے سے اہل حق اپنا حق چھوڑ دیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت رفاعہ خاموش ہو کر بیٹھ رہے، لہذا یہ کام نامناسب ہوا، اس لئے اس سے) آپ استغفار فرمایئے (کہ آپ کی شان عظیم ہے اتنا امر بھی آپ کے لئے قابل استغفار ہے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے بڑے رحمت والے ہیں اور آپ ان لوگوں کی طرف سے کوئی جواب دہی کی بات نہ کیجئے (جیسا وہ لوگ آپ سے چاہتے تھے) جو کہ (لوگوں کی خیانت اور نقصان کر کے باعتبار وبال و ضرر کے درحقیقت) اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہیں چاہتے (بلکہ اس کو مبغوض رکھتے ہیں) جو بڑا خیانت کرنیوالا بڑا گناہ کرنیوالا ہو (جیسا کہ تھوڑے خیانت کرنے والے کا بھی محبوب نہیں رکھتے، لیکن چونکہ بشیر کا بڑا خائن ہونا بتلانا مقصود ہے، اس لئے یہ صیغہ مبالغہ کا لایا گیا) جن لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ (اپنی خیانت کو) آدمیوں سے تو (شرما کر) چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ (مثل ہر وقت کے) اس وقت (بھی) ان کے پاس ہے جب کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف گفتگو کے متعلق تدبیریں کیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے سب اعمال کو اپنے (علمی) احاطہ میں لئے ہوئے ہیں ہاں (جو بشیر وغیرہ کی حمایت میں بعض اہل محلہ جمع ہو کر آئے تھے وہ سن لیں کہ) تم ایسے ہو کہ تم نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں سو (یہ بتلاؤ کہ) اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن ان کی طرف سے کون جوابدہی کرے گا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا کام بنانے والا ہوگا (یعنی نہ کوئی زبانی جواب دہی کرسکے گا نہ کوئی عملی درستگی مقدمہ کی کرسکے گا) اور (یہ خائنین اگر اب بھی توبہ موافق قاعدہ شرعیہ کے کرلیتے تو معافی ہوجاتی کیونکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ) جو شخص کوئی (متعد) برائی کرے یا (صرف) اپنی جان کا ضرر کرے (یعنی) ایسا گناہ نہ کرے جس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے اور) پھر اللہ تعالیٰ سے (حسب قاعدہ شرعیہ) معانی چاہے (جس میں بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا ان سے معاف کرانا بھی داخل ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا پائے گا اور (ضرور گنہگاروں کو اس کی کوشش کرنا چاہئے کیونکہ) جو شخص کچھ گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ فقط اپنی ذات ہی کے لئے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں (سب کے گناہوں کی ان کو خبر ہے) بڑے حکمت والے ہیں (مناسب سزا تجویز فرماتے ہیں) اور (یہ تو خود گناہ کرنے کا انجام ہوا اور جو کہ دوسروں پر تہمت لگا دے اس کا حال سنو کہ) جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یا بڑا گناہ پھر (بجائے اس کے کہ خود ہی توبہ کرلینا چاہئے تھی اس نے یہ کام کیا کہ) اس (گناہ) کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دی اس نے تو بڑا بھاری بہتان اور صریح گناہ اپنے (سر کے) اوپر لاد لیا (جیسا بشیر نے کیا کہ خود تو چوری کی اور ایک نیک بخت بزرگ آدمی لبید کے ذمہ چوری کی تہمت رکھ دی) اور اگر (اس مقدمہ میں) آپ پر (اے محمد ﷺ اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہو (جو کہ ہمیشہ آپ پر رہتا ہے) تو ان چالاک) لوگوں میں سے ایک گروہ نے تو آپ کو غلطی ہی میں ڈال دینے کا ارادہ کرلیا تھا (لیکن خدا کے فضل سے ان کی رنگ آمیز باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہ ہوگا، چناچہ فرماتے ہیں) اور وہ (کبھی آپ کو) غلطی میں نہیں ڈال سکتے، لیکن (ارادہ سے) اپنی جانوں کو (مبتلائے گناہ اور عذاب کے اہل بنا رہے ہیں) اور آپ کو ذرہ برابر (اس قسم کا) ضرر نہیں پہنچا سکتے اور (آپ کو غلطی سے ضرر پہنچانا کب ممکن ہے جب کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں (جس کے ایک حصہ میں اس قصہ کی اطلاع بھی دیدی) اور آپ کو وہ (مفید اور عالی) باتیں بتلائی ہیں جو آپ (پہلے سے) نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔
معارف و مسائل
ربط آیات۔ اوپر ظاہری کفار کے معاملات کے ضمن میں چند جگہ منافقین کا ذکر آیا ہے کہ کفر دونوں میں یکساں ہے، آگے بھی بعض منافقین کے ایک خاص قصہ کے متعلق مضمون مذکور ہوتا ہے (بیان القرآن)
آیات کا شان نزول۔
مذکورہ سات آیات ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں، لیکن عام قرآنی اسلوب کے مطابق جو ہدایات اس سلسلہ میں دی گئی وہ مخصوص اس واقعہ کے ساتھ نہیں بلکہ تمام موجودہ اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لئے عام اور بہت اصولی اور فروعی مسائل پر مشتمل ہیں۔
پہلے واقعہ معلوم کیجئے پھر اس سے متعلقہ ہدایات اور ان سے نکلنے والے مسائل پر غور کیجئے، واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں ایک خاندان بنو ابیرق کے نام سے معروف تھا، ان میں سے ایک شخص جس کا نام ترمذی اور حاکم کی روایت میں بشیر ذکر کیا گیا ہے اور بغوی اور ابن جریر کی روایت میں طعمہ نام بتلایا گیا ہے اس نے حضرت قتادہ بن نعمان کے چچا رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر چوری کرلی۔
ترمذی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ شخص درحقیقت منافق تھا، مدینہ میں رہتے ہوئے بھی صحابہ کرام کی توہین میں اشعار لکھ کر دوسروں کے ناموں سے ان کی اشاعت کیا کرتا تھا۔
اور چوری کی صورت یہ ہوئی کہ ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں تمام مسلمان فقر و فاقہ کے ساتھ تنگی سے بسر اوقات کرتے تھے اور ان کی عام خوراک جو کا آٹا تھا یا کھجوریں یا گیہوں کا آٹا جو بہت کم میسر تھا اور مدینہ میں ملتا بھی نہ تھا، ملک شام سے جب آتا تو کچھ لگ مہمانوں کے لئے یا کسی خاص ضرورت کے لئے خرید لیا کرتے تھے، حضرت رفاعہ نے اسی طرح کچھ گیہوں کا آٹا خرید کر ایک بوری میں اپنے لئے رکھ لیا، اسی میں کچھ اسلحہ وغیرہ بھی رکھ کر ایک چھوٹی کوٹھڑی میں محفوظ کردیا، ابن ابیرق، بشیر، یا طعمہ نے اس کو بھانپ لیا، تو نقب لگا کر یہ بوری نکال لی، حضرت رفاعہ نے جب صبح کو یہ ماجرا دیکھا تو اپنے بھتیجے قتادہ کے پاس آئے اور واقعہ چوری کا ذکر کیا، سب نے مل کر محلہ میں تفتیش شروع کی، بعض لوگوں نے بتایا کہا آج رات ہم نے دیکھا کہ بنو ابیرق کے گھر میں آگ روشن تھی، ہمارا خیال ہے کہ وہی کھانا پکایا گیا ہے، بنو ابیرق کو جب راز فاش ہونے کی خبر ملی تو خود آئے اور کہا کہ یہ کام لبید بن سہل کا ہے، حضرت لبید کو سب جانتے تھے کہ مخلص مسلمان اور نیک بزرگ ہیں ان کو جب یہ خبر ہوئی تو وہ تلوار کھینچ کر آئے اور کہا کہ چوری میرے سر لگاتے ہو اب میں تلوار اس وقت تک میان میں نہ رکھوں گا جب تک چوری کی حقیقت واضح نہ ہوجائے۔
بنو ابیرق نے آہستہ سے کہا کہ آپ بےفکر رہیں آپ کا نام کوئی نہیں لیتا، نہ آپ کا یہ کام ہوسکتا ہے، لغوی اور ابن جریر کی روایت میں اس جگہ یہ ہے کہ بنو ابیرق نے چوری ایک یہودی کے نام لگائی اور ہوشیاری یہ کی کہ آٹے کی بوری کو تھوڑا سا پھاڑ دیا تھا جس سے آٹا گرتا رہا اور رفاعہ کے مکان سے یہودی مذکور کے مکان تک اس آٹے کے آثار پائے گئے شہرت ہونے کے بعد چوری کیا ہوا اسلحہ اور زر ہیں بھی اس یہودی کے پاس رکھوا دیں اور تحقیق کے وقت اسی کے گھر سے برآمد ہوئیں، یہودی نے قسم کھائی کہ زرہیں مجھے ابن ابیرق نے دی ہیں۔
ترمذی کی روایت اور بغوی کی روایت میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ بنو ابیرق نے اولا چوری کو لبید بن سہل کے نام لگایا ہو، پھر جب بات بنتی نظر نہ آئی تو اس یہودی کے سر ڈالا ہو، بہرحال اب معاملہ یہودی اور بنو ابیرق کا بن گیا۔
ادھر حضرت قتادہ اور رفاعہ کو مختلف صورتوں سے یہ گمان غالب ہوگیا تھا کہ یہ کارروائی بنو ابیرق کی ہے، حضرت قتادہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر چوری کا واقعہ اور بسلسلہ تفتیش بنو ابیرق پر گمان غالب کا ذکر کردیا،
بنو ابیرق کو خبر ملی تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت رفاعہ اور قتادہ کی شکایت کی کہ بلا ثبوت شرعی چوری ہمارے نام لگا رہے ہیں حالانکہ مسروقہ مال یہودی کے گھر سے برآمد ہوا ہے، آپ ان کو روکئے کہ ہمارے نام نہ لگائیں، یہودی پر دعویٰ کریں۔
ظاہری حالات و آثار سے آنحضرت ﷺ کا بھی اسی طرف رجحان ہوگیا کہ یہ کام یہودی کا ہے، بنو ابیرق پر الزام صحیح نہیں، یہاں تک کہ بغوی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارادہ ہوگیا کہ یہودی پر چوری کی سزا جاری کردی جائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔
ادھر جب حضرت قتادہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آپ بغیر دلیل اور ثبوت کے ایک مسلمان گھرانے پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں، حضرت قتادہ اس معاملہ سے بہت رنجیدہ ہوئے، اور افسوس کیا کہ کاش میں اس معاملہ میں آنحضرت ﷺ کے سامنے کوئی بات نہ کرتا، اگرچہ میرا مال بھی جاتا رہتا اسی طرح حضرت رفاعہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا ارشاد فرمایا تو انہوں نے بھی صبر کیا اور کہاواللہ المستعان
اس معاملہ پر کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ قرآن کریم کا ایک پورا رکوع اس بارے میں نازل ہوگیا جس کے ذریعہ رسول کریم ﷺ پر واقعہ کی حقیقت منکشف کردی گی اور ایسے معاملات کے متعلق عام ہدایات دی گئیں۔
قرآن کریم نے بنوا بیرق کی چوری کھول دی اور یہودی کو بری کردیا تو بنو ابیرق مجبور ہوئے اور مال مسروقہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، آپ نے رفاعہ ؓ کو واپس دلایا اور انہوں نے اب سب اسلحہ کہ جہاد کے لئے وقف کردیا، ادھر بنو ابیرق کی چوری کھل گئی تو بشیر بن ابیرق مدینہ سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا، اگر وہ پہلے سے منافق تھا تو اب کھلا کافر ہوگیا اور اگر پہلے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوگیا۔
تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اللہ اور رسول کی مخالفت کے وبال نے بشیربن ابیرق کو مکہ میں بھی چین سے نہ رہنے دیا، اسی طرح پھرتے پھرتے آخر اس نے ایک اور شخص کے مکان میں نقب لگائی، تو دیوار اس کے اوپر گر گئی، اور وہیں دب کر مر گیا۔
یہاں تک تو واقعہ کی پوری تفصیل تھی، اب اس کے متعلق قرآنی ارشادت پر غور کیجئے۔:
پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کو چوری کے واقعہ کی اصل حقیقت بتلا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن اور وحی اسی لئے نازل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم و معرفت آپ کو عطا فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں اور خائنوں کی یعنی بنوا بیرق کی طرف داری نہ کریں اور اگرچہ ظاہری حالات اور قرائن کی بناء پر چوری کے معاملہ میں یہودی کی طرف آپ کا رجحان کوئی گناہ نہ تھا مگر تھا تو واقعہ کے خلاف،
آنحضرت ﷺ کو اجتہاد کرنے کا حق حاصل تھا۔ انا انزلنا الیک الکتب بالحق الخ اس آیت سے پانچ مسائل ثابت ہوئے، ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کو ایسے مسائل میں جن میں قرآن کریم کی کوئی نص صریح وارد نہ ہو اپنی رائے سے اجتہاد کرنے کا حق حاصل تھا، اور مہمات کے فیصلوں میں آپ بہت سے فیصلے اپنے اجتہاد سے بھی فرماتے تھے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجتہاد رائے وہی معتبر ہے جو قرآنی اصول اور نصوص سے ماخوذ ہو، خالص رائے اور خیال معتبر نہیں اور نہ اس کو شریعت میں اجتہاد کہا جاسکتا ہے۔
تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کا اجتہاد دوسرے ائمہ، مجتہدین کی طرح نہ تھا، جس میں غلطی اور خطاء کا احتمال ہمیشہ باقی رہتا ہے، بلکہ جب آپ کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے فرماتے تو اگر اس میں کوئی غلطی ہوجاتی تو حق تعالیٰ اس پر آپ کو متنبہ فرما کر آپ کے فیصلہ کو صحیح اور حق کے مطابق کرا دیتے تھے اور جب آپ نے کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی چیز نہ آئی تو یہ علامت اس کی تھی کہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کو پسند اور اس کے نزدیک صحیح ہے۔
چوتھی بات یہ معلم ہوئی کہ نبی کریم ﷺ جو کچھ قرآن سے سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا سمجھایا ہوا ہوتا تھا، اس میں غلط فہمی کا امکان نہ تھا، بخلاف دوسرے علماء و مجتہدین کے کہ ان کا سمجھا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بتلایا ہے، جیسا کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے متعلق بما آرئک اللہ وارد ہے، اسی وجہ سے جب ایک شخص نے فاروق اعظم ؓ سے یہ کہا فاحکم بما اراک اللہ تو آپ نے اس کو ڈانٹا کہ یہ خصوصیت آنحضرت ﷺ کی ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جھوٹے مقدمہ اور جھوٹے دعویٰ کی پیروی یا وکالت کرنا یا اس کی تائید و حمایت کرنا سب حرام ہے۔
Ayah 4:106اس لئے دوسری آیت میں آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقام بہت بلند ہے، ان سے اتنی بات بھی پسند نہیں۔
توبہ کی حقیقت۔
اور آیت نمبر 011 یعنی ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ الخ سے یہ معلوم ہوا کہ گناہ خواہ متعدی ہو یا لازمی یعنی حقوق العباد سے متعلق ہو یا حقوق اللہ سے، ہر قسم کا گناہ توبہ و استغفار سے معاف ہوسکتا ہے، البتہ توبہ و استغفار کی حقیقت جاننا ضروری ہے، محض زبان سے استغفر اللہ واتوب الیہ کہنے کا نام توبہ و استغفار نہیں ہے، اسی لئے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہے اس پر اس کو ندامت بھی نہیں اور اس کو چھوڑا بھی نہیں یا آئندہ کے لئے چھوڑنے کا عزم نہیں کیا اور اس حالت میں زبان سے استغفر اللہ کہتا ہے تو یہ توبہ کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔
خلاصہ یہ کہ توبہ کے لئے تین چیزیں ہونا ضروری ہیں، ایک گزشتہ پر نادم ہونا، دوسرے جس گناہ میں مبتلا ہو اس کو اسی وقت چھوڑ دینا اور تیسرے آئندہ کے لئے گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرنا، البتہ جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے ان کو انہی سے معاف کرانا یا حقوق ادا کرنا بھی توبہ کی شرط ہے۔
Ayah 4:107تیسری آیت (یعنی آیت 701) میں پھر اس کی تاکید فرمائی کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے آپ کوئی جواب دہی نہ کریں، کیونکہ وہ اللہ کو پسند نہیں۔
Ayah 4:108چوتھی آیت (یعنی آیت نمبر 801) میں ان خیانت کرنے والوں کے برے حال اور بیوقوفی کا بیان ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی جیسے آدمیوں سے تو شرماتے اور چوری کو چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے اور ان کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے، خصوصاً اس واقعہ کو جب انہوں نے باہم مشورہ کر کے یہ رائے قائم کی کہ الزام یہودی پر لگاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے رفاعہ اور قتادہ کی شکایت کرو کہ بلاوجہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں اور آپ سے اس کی درخواست کرو کہ آپ یہودی کے مقابلہ میں ہماری حمایت فرمائیں۔
Ayah 4:109پانچویں آیت (یعنی آیت نمبر 901) میں بنو ابیرق کی مدد کرنے والے حمایتیوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ دنیا میں تو تم نے ان کی حمایت کرلی، مگر معاملہ یہیں تو ختم نہیں ہوجاتا، قیامت میں جب حق سبحانہ، و تعالیٰ کی عدالت میں معاملہ پیش ہوگا وہاں کون حمایت کریگا، اس آیت میں ان کو ملامت بھی ہے اور آخرت کا خوف دلا کر اپنے فعل سے توبہ اور رجوع کی ترغیب بھی۔
Ayah 4:110چھٹی آیت (یعنی نمبر 110) میں قرآن کریم کے عام اسلوب حکیمانہ کے مطابق مجرموں گنہگاروں کو ناامیدی سے بچانے کے لئے فرمایا گیا کہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا، جب گنہگار اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم پاتا ہے اس میں ان لوگوں کو جن سے یہ گناہ سر زد ہوا تھا اس کی ترغیب ہے کہ اب بھی باز آجائیں اور دل سے توبہ کرلیں تو کچھ نہیں بگڑا، اللہ تعالیٰ سب معاف فرمائیں گے۔
Ayah 4:111ساتویں آیت (یعنی 111) میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اگر یہ لوگ اب بھی تائب نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول یا مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑتا، اس کا وبال خود اسی شخص پر ہے۔
Ayah 4:112آٹھویں آیت (یعنی 211) میں ایک عام ضابطہ کی صورت ارشاد فرمایا کہ جو شخص خود کو کوئی جرم کرے اور پھر یہ جرم کسی بےقصور انسان کے ذمہ لگائے (جیسا کہ اس واقعہ میں بنو ابیرق نے چوری خود کی اور الزام حضرت لبید یا یہودی پر لگا دیا) تو اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاد لیا۔
اپنے گناہ کا الزام دوسرے پر لگانا دوگنے عذاب کا سبب ہے۔ اور آیت نمبر 211 یعنی ومن یکسب خطیئة اواثما ثم یرم بہ الخ سے معلوم ہوا کہ وہ شخص گناہ خود کرے اور اس کا الزام دوسرے بےگناہ آدمی پر لگا دے، تو اس نے اپنے گناہ کو دوگنا اور نہایت سخت کردیا اور عذاب شدید کا مستحق ہوگیا، ایک تو خود اصل گناہ کا عذاب، دوسرے افتراء اور بہتان کا شدید عذاب۔
Ayah 4:113نویں آیت (یعنی نمبر 311) میں جو آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت آپ کے ساتھ نہ ہوئی جس نے بذریعہ وحی آپ کو واقعہ کی حقیقت بتلا دی تو یہ لوگ آپ کو غلطی میں مبتلا کردیتے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت آپ کے ساتھ ہے، اس لئے وہ ہرگز آپ کو غلطی میں نہیں ڈال سکتے، بلکہ خود ہی گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور آپ کو یہ ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور دانشمندی کی باتیں نازل فرمائی ہیں جن کو آپ نہیں جانتے تھے۔
قرآن و سنت کی حقیقت۔
آیت نمبر 311 یعنی وانزل اللہ علیک الکتب والحکمة وعلمک مالم تکن تعلم الخ میں کتاب کے ساتھ حکمت کو بھی داخل فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ حکمت جو نام ہے آنحضرت ﷺ کی سنت اور تعلیمات کا یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی نازل کی ہوئی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کے الفاظ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں، اسی لئے داخل قرآن نہیں اور معانی اس کے اور قرآن کے دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اس لئے دونوں پر عمل کرنا واجب ہے۔
اس سے اس کلام کی حقیقت معلوم ہوگئی جو بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ وحی کی دو قسمیں ہیں متلو (جو تلاوت کی جاتی ہے) اور غیر متلو (جو تلاوت نہیں کی جاتی) وحی متلو قرآن کا نام ہے جس کے معانی اور الفاظ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اور غیر متلو حدیث رسول کا نام ہے جن کے الفاظ آنحضرت ﷺ کے ہیں اور معانی اللہ کی طرف سے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کا علم ساری مخلوقات سے زائد ہے۔ دوسرا مسئلہ علمک مالم تکن تعلم الخ سے یہ ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے برابر تمام کائنات کا علم محیظ نہ تھا، جیسے بعض جاہل کہتے ہیں بلکہ جتنا علم حق تعالیٰ عطا فرماتے وہ مل جاتا تھا ہاں اس میں کلام نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جو علم عطا ہوا وہ ساری مخلوقات کے علم سے زائد ہے۔
Ayah 4:114خلاصہ تفسیر
عام لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر (یعنی ثواب و برکت) نہیں ہوتی، ہاں مگر جو لوگ ایسے ہیں کہ (خیر) خیرات کی یا اور کسی نیک کام کام کی یا لوگوں میں باہم اصلاح کردینے کی ترغیب دیتے ہیں (اور اس تعلیم و ترغیب کی تکمیل و انتظام کے لئے خفیہ تدبیریں اور مشورے کرتے ہیں، یا خود ہی صدقہ وغیرہ کی دوسروں کو خفیہ ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ بعض اوقات خفیہ ہی کہنا مصلحت ہوتا ہے، ان کے مشوروں میں البتہ خیر یعنی ثواب اور برکت ہے) اور جو شخص یہ کام کرے گا (یعنی ان اعمال کی ترغیب دے گا) حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے واسطے (نہ کہ جاہ و شہرت کی غرض سے) سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم عطاء فرمائیں گے اور جو شخص رسول (مقبول ﷺ کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ حق کام ظاہر ہوچکا تھا اور مسلمانوں کا (دینی) راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ ہو لیا (جیسا بشیر مرتد ہوگیا حالانکہ اسلام کا حق ہونا اور نیز اس خاص واقعہ میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کا خود اس کی نظر میں حق ہونا معلوم تھا، پھر بھی اسے بدبختی نے گھیرا) تو ہم اس کو (دنیا میں) جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔
معارف و مسائل
باہمی مشروں اور مجلسوں کے آداب۔
ارشاد ہے لاخیر فی کثیر من نجوہم یعنی لوگوں کے باہمی مشورے اور تدبیریں جو آخرت کی فکر اور انجام پر غور سے آزاد ہو کر محض چند روزہ دنیوی اور وقتی منافع کے لئے ہوا کرتے ہیں ان میں کوئی خیر نہیں۔
آگے ارشاد فرمایا الا من امر بصد قة او معروف او اصلاح بین الناس یعنی ان مشوروں اور سرگوشیوں میں اگر خیر کی کوئی چیز ہو سکتی ہے تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کو صدقہ خیرات کی ترغیب دے، یا نیکی کا حکم کرے، یا لوگوں کے آپس میں صلح کرانے کا مشورہ دے، ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ انسان کا ہر کلام اس کے لئے مضر ہی ہے، بجز اس کے کہ کلام میں اللہ کا ذکر ہو یا امر بالمعروف یا نہی عن المنکر ہو۔
معروف کے عنی ہیں ہر وہ کام جو شریعت میں اچھا سمجھا جائے اور جس کو اہل شرع پہچانتے ہوں اور اس کے مقابل منکر ہے، یعنی ہر وہ کام جو شریعت میں ناپسندیدہ اور اہل شرع میں اوپر اور اجنبی ہو۔
امربالمعروف، ہر نیکی کے حکم اور ترغیب کو شامل ہے، جس میں مظلوم کی امداد کرنا، حاجتمندوں کو قرض دینا، گم شدہ کو راستہ بتادینا وغیرہ سب نیک کام داخل ہیں اور صدقہ اور اصلاح بین الناس بھی اگرچہ اس میں داخل ہے، لیکن ان کو تخصیص کے ساتھ علیحدہ اس لئے بیان کیا گیا کہ ان دونوں چیزوں کا نفع متعدی ہے اور ان سے ملت کی اجتماعی زندگی سدھرتی ہے۔
نیز یہ دونوں کام خدمت خلق کے اہم ابواب پر حاوی ہیں، ایک جلب منفعت یعنی خلق اللہ کو نفع پہنچانا، دوسرے دفع مضرت یعنی لوگوں کو تکلیف اور رنج سے بچانا، صدقہ نفع رسانی کا اہم عنوان ہے، اور اصلاح بین الناس خلق اللہ کے مضرت اور نقصان سے بچانے کا اہم عنوان ہے، اس لئے جمہور علماء تفسیر کا قول ہے کہ اس جگہ صدقہ عام ہے جس میں زکوة، صدقات واجبہ بھی داخل ہیں اور نفلی صدقات بھی اور ہر نفع جو کسی کو پہنچایا جائے۔
صلح کرانے کی فضیلت۔
لوگوں کی باہمی رنجشیں دور کرنے اور ان کے آپس میں مصالحت و موافقت پیدا کرنے کے متعلق رسول کریم ﷺ کے ارشادات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا
”کیا میں تم کو ایسا کام نہ بتلاؤں جس کا درجہ روزے، نماز اور صدقہ میں سب سے افضل ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ضرور بتایئے، آپ نے فرمایا کہ وہ کام اصلاح ذات البین ہے، یعنی دو شخصوں کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہوجائے تو اس کو دور کرکے آپس میں صلح کرانا اور فساد کو ختم کرنا۔“
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہفساد ذات البین ھی الحالقہ“ ”یعنی لوگوں کے آپس میں جھگڑا فساد مونڈ دینے والی چیز ہے۔“ پھر اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ ”یہ جھگڑا سر کو نہیں مونڈتا، بلکہ انسان کے دین کو مونڈ ڈالتا ہے۔“
آیت کے آخر میں ایک اور اہم مضمون یہ ارشاد فرمایا کہ نیکیاں صدقہ اور امر بالمعروف اور اصلاح بین الناس اسی وقت معتبر اور مقبول ہو سکتی ہیں، جبکہ ان کو اخلاص کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جائے، اس میں کوئی نفسانی غرض شامل نہ ہو۔
Ayah 4:115اجماع امت حجت ہے
ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی الخ (آیت نمبر 511) اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخول جہنم کا سبب ہونا بیان فرمایا ہے ایک مخالفت رسول اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفت رسول کفر اور وبال عظیم ہے، دوسرے جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اس کو چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا، اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہوجائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہ عظیم ہے جیسا کہ آپ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایاید اللہ علی الجماعة من شد شدفی النار”یعنی جماعت کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعت مسلمین سے علیحدہ ہوگا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔“
حضرت امام شافعی سے کسی نے سوال کیا کہ کیا اجماع امت کے حجت ہونے کی دلیل قرآن کو معمول بنایا، ہر روز دن میں تین مرتبہ اور رات میں تین مرتبہ پورا قرآن ختم کرتے تھے بالاخر یہی مذکورہ آیت ذہن میں آئی اور اس کو علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرار کیا کہ اجماع کی حجیت پر یہ دلیل کافی ہے۔
Ayahs 4:116–121خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت کی، اس لئے ایسی سزا کا مستحق ہوگا، بخلاف دوسرے گناہوں کے کہ وہ گمراہی تو ہے مگر توحید کے خلاف اور اس سے بعید نہیں، اس لئے قابل مغفرت قرار دیا یا اور شرک کی طرح دوسری قسم کے کفر بھی ناقابل معافی ہونے میں شریک ہیں، کیونکہ اس میں بھی انکار ہوتا ہے، صانع کی کسی بتلائی ہوئی بات کا پس وہ اس کی صفت صدق کا انکار کرتا ہے اور بعض کافر خود ذات باری تعالیٰ ہی کے منکر ہیں، بعض کسی صفت کے منکر ہیں اور بعض صفت اور ذات دونوں کے منکر ہیں اور ان میں سے جس کا بھی انکار ہو وہ توحید کا انکار اور اس سے بعد ہے، پس کفر و شرک دونوں قابل معافی نہیں ہیں، آگے مشرکین کی بیوقوفی ان کے مذہبی طریقے میں بیان کرتے ہیں کہ) یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر (ایک تو) صرف چند زنانی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں اور (ایک) صرف شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو کہ (خدا تعالیٰ کے) حکم سے باہر ہے (اور) جس کو (اس بےحکمی کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت (خاصہ) سے دور ڈال رکھا ہے اور جس نے (جس وقت کہ رحمت خاصہ سے دور اور ملعون ہونے لگا) یوں کہا تھا (جس سے اس کی عداوت صاف ظاہر معلوم ہو رہی تھی) کہ میں (پوری کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ) ضرر تیرے بندوں سے اپنا مقرر حصہ اطاعت کا لوگوں اور (اس حصہ کی تفصیل یہ ہے کہ) میں ان کو (عقائد میں) گمراہ کروں گا اور میں ان کو (خیالات میں) ہوسیس دلاؤں گا (جس سے گناہ کی طرف میلان ہو اور ان کی مضرت نظر میں نہ رہے) اور میں ان کو (برے اعمال کرنے کی) تعلیم دوں گا جس سے وہ (بتوں کے نام پر) چوپاؤں کے کانوں کو تراشا وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے (اور یہ اعمال فسقیہ میں سے ہے جیسے ڈاڑھی منڈانا بدن گدوانا وغیرہ) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنا دے گا (یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے اور شیطان کی اطاعت کرے، وہ (شخص) صریح نقصان (وزیان) میں واقع ہوگا (وہ زیان جہنم میں جانا ہے) شیطان ان لوگوں سے (عقائد کے متعلق جھوٹے) وعدے کیا کرتا ہے (کہ تم بےفکر رہو نہ کہیں حساب ہے نہ کتاب ہے) اور (خیالات میں) ان کو ہوسیں دلاتا ہے (کہ اس گناہ میں ایسی لذت ہے اس حرام ذریعہ میں ایسی آمدنی ہے اور اعمال شیطانیہ کا وجود اور لغویت اور مضرت خود ظاہر ہے) اور شیطان ان سے صرف جھوٹے (فریب آمیز) وعدے کرتا ہے (کیونکہ واقع میں حساب و کتاب حق ہے اور اس کی ہوسوں کا فریب ہونا تو بہت جلدی کھل جاتا ہے) ایسے لوگوں کا (جو کہ شیطان کی راہ پر چلتے ہیں) ٹھکانا جہنم ہے (اور وہ خسران مبین یہی ہے) اور اس (جہنم) سے ہیں بچنے کی جگہ نہ پائیں گے (کہ وہاں جا کر پناہ لیں۔)
معارف و مسائل
ربط آیات۔
اوپر ذکر جہاد میں گو سب مخالفین اسلام داخل ہیں، لیکن بیان احوال میں اب تک یہود اور منافقین کے احوال کا بیان ہوا تھا، اور مخالفین میں ایک جماعت بلکہ اوروں سے بڑی مشرکین کی تھی، آگے کچھ ان کے عقائد کی حالت اور طریقہ مذمت اور اس کی سزا کا مذکور ہے، اور اس مقام پر یہ اس لئے اور زیادہ مناسب ہوگیا کہ اوپر جس سارق کا قضیہ ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ سارق مرتد تھا، پس اس سے اس کی دائمی سزا کا حال معلوم ہوگیا (بیان القرآن)
پہلی آیت یعنی ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشآء شروع میں سورة نساء (آیت نمبر 84) میں انہی الفاظ کے ساتھ آ چکی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں خاتمہ آیت پر ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیماً آیا ہے اور یہاں ومن یشرک بااللہ فقد ضل ضلاً بعیداً وجہ فرق کی ائمتہ تفسیر کی تصریحات کے مطابق یہ ہے کہ پہلی آیت کے مخاطب براہ راست یہود اہل کتاب تھے، جن کو بذریعہ تورات توحید کا حق ہونا اور شرک کا باطل ہونا اور رسول کریم ﷺ کا نبی برحق ہونا سب کچھ معلوم تھا، اس کے باجود وہ شرک میں مبتلا ہوگئے تو گویا اپنے عمل سے انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ تورات کی یہی تعلیم ہے جو سراسر افتراء اور بہتان ہے، اس لئے اس آیت کے آخر میں فقد افتری اثما عظیما ارشاد ہوا اور دوسری آیت کے مخاطب براہ راست مشرکین مکہ تھے، جن کے پاس اس سے پہلے نہ کوئی کتاب تھی نہ پیغمبر، مگر توحید کے عقلی دلائل بالکل واضح تھے اور اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے پتھروں کو اپنا معبود بنا لینا ادنی عقل والے کے لئے بھی لغو و باطل اور گمراہی تھا، اس لئے یہاں ارشاد ہوا فقد ضل ضلاً بعیداً
شرک اور کفر کی سزا کا دائمی ہونا۔ یہاں بعض لوگ یہ شبہ کرتے ہیں کہ سزا بقدر عمل ہونی چاہئے، مشرک اور کافر نے جو جرم کفر اور شرک کا کیا ہے، وہ محدود مدت عمر کے اندر کیا ہے تو اس کی سزا غیر محدود اور دائمی کیوں ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ کفر و شرک کرنے والا چونکہ اس کا جرم ہی نہیں سمجھتا بلکہ نیکی سمجھتا ہے، اس لئے اس کا عزم و قصد یہی ہوتا ہے کہ ہمیشہ اسی حال پر قائم رہے گا اور جب مرتے دم تک وہ اسی پر قائم رہا تو اپنے اختیار کی حد تک اس نے جرم دائمی کرلیا اس لئے سزا بھی دائمی ہوئی۔
ظلم کی تین قسمیں۔ ظلم کی ایک قسم وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز نہ بخشیں گے، دوسری قسم وہ ہے جس کی مغفرت ہو سکے گی اور تیسری قسم وہ ہے کہ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ لئے بغیر نہ چھوڑیں گے۔
پہلی قسم کا ظلم شرک ہے، دوسری قسم کا ظلم حقوق اللہ میں کوتاہی ہے اور تیسری قسم کا ظلم حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے (ابن کثیر بحوالہ مسند بزار)
شرک کی حقیقت۔
شرک کی حقیقت، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مخلوق کو عبادت یا محبت و تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنا ہے، قرآن کریم نے مشرکین کے اس قول کو جو وہ جہنم میں پہنچ کر کہیں گے، نقل کیا ہے
”یعنی قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جب کہ ہم نے تم کو اللہ رب العالمین کے برابر قرار دے دیا تھا۔“
ظاہر ہے کہ مشرکین کا بھی یہ عقیدہ تو نہ تھا کہ ہمارے گھڑے ہوئے پتھر اس جہان کے خالق اور مالک ہیں، بلکہ انہوں نے دوسری غلط فہمیوں کی بناء پر ان کو عبادت میں یا محبت و تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دے رکھا تھا، یہی وہ شرک تھا جس نے ان کو جہنم میں پہنچا دیا (فتح الملہم) معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات خالق، رازق، قادر مطلق، عالم الغیب والشہادة وغیرہ میں کسی مخلوق کو اللہ کے برابر سمجھنا شرک ہے۔
Ayah 4:122خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ ایمان لائے اور (انہوں نے) اچھے کام کئے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کرلیں گے کہ ان کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور سچا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کا کہنا صحیح ہوگا نہ تمہاری تمناؤں سے کام چلتا ہے اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں سے (کہ خالی خولی زبان سے اپنے فضائل بیان کیا کریں بلکہ مدارکار اطاعت پر ہے، پس) جو شخص (اطاعت میں کمی کرے گا اور) کوئی بڑا کام کرے گا (خواہ عقائد سے ہو یا اعمال سے) وہ اس کے عوض میں سزا دیا جاوے گا (اگر وہ برائی عقیدہ کفریہ تک ہے تو سزا دائمی اور یقینی اور اگر اس سے کم ہے تو سزا ہمیشہ کی نہیں) اور اس شخص کو خدا کے سوا نہ کوئی یار ملے گا اور نہ مددگار ملے گا (کہ خدا کے عذاب سے اسے چھڑا لے) اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو سو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا (کہ ان کی کوئی نیکی ضائع کردی جائے) اور (اوپر جو مومن کی قید لگائی گئی ہے اس کا مصداق ہر فرقہ نہیں بلکہ صرف وہ فرقہ جس کا دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونے میں سب سے اچھا ہو، اور ایسا فرقہ صرف اہل اسلام ہی ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں یہ صفات ہیںمکمل اطاعت اخلاص، ملت ابراہیم کی پیروی اور) ایسے شخص (کے دین) سے زیادہ بہتر کس کا دین ہوگا جو کہ اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے (یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی) اور (اس کے ساتھ) وہ مخل بھی ہو (کہ دل سے فرمانبرداری اختیار کی ہو خالی مصلحت سے ظاہر داری نہ ہو) اور وہ ملت ابراہیم (یعنی اسلام) کا اتباع کرے جس میں کچی کا نام نہیں اور (ملت ابراہیمی ضرور قابل اتباع ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو اپنا خالص دوست بنایا تھا (تو ظاہر ہے کہ دوست کے طریقہ پر چلنے والا بھی محبوب و مقبول ہوگا، پس طریقہ اسلام مقبول ہوا، پس اہل اسلام ہی مومن کے لقب کے مصداق ٹھہرے اور دوسرے فرقوں نے ابراہیم کی پیروی کو چھوڑ دیا کہ اسلام نہ لائے، اس لئے صرف مسلمان ہی ایسے ثابت ہوئے کہ محض امانی یعنی تمناؤں پر ان کا سہارا نہیں، بلکہ اطاعت گذار ہیں، پس کام انہی کا چلے گا) اور (اللہ تعالیٰ کی مکمل فرمانبرداری کرنا تو ضروری ہے، کیونکہ ان کی سلطنت وقدرت اور ان کا علم محیط دونوں تام اور مکمل ہیں اور یہی امور مدار ہیں وجوب اطاعت کے چنانچہ) انہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (یہ تو کمال سلطنت ہوا) اور اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو (اپنی علم میں) احاطہ فرمائے ہوئے ہیں (یہ کمال علمی ہوا)