4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو قائم رہو انصاف پر گواہی دو اللہ کی طرف اگرچہ نقصان ہو تمہارا یا ماں باپ کا یا قرابت والوں کا اگر کوئی مالدار ہے یا محتاج ہے تو اللہ ان کا خیر خواہ تم سے زیادہ ہے سو تم پیروی نہ کرو دل کی خواہش کی انصاف کرنے میں اور اگر تم زبان ملو گے یا بچاجاؤ گے تو اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (تمام معاملات میں ادائے حق کے وقت بھی اور فیصلہ کے وقت بھی) انصاف پر خوب قائم رہنے والے (اور اقرار یا شہادت کی نوبت آوے تو) اللہ (کی خوشنودی کے لئے (سچی) گواہی (اور اظہار) دینے والے رہو، اگرچہ (وہ گواہی اور اظہار) اپنی ہی ذات کے خلاف ہو، (جس کو اقرار کہتے ہیں) یا کہ والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلہ میں ہو (اور گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو کہ جس کے مقابل ہمیں ہم گواہی دے رہے ہیں یہ امیر ہے اس کو نفع پہنچنا چاہئے تاکہ اس سے بےمروتی نہ ہو، یا یہ کہ یہ غریب ہے، اس کا کیسے نقصان کردیں، تم گواہی دینے میں کسی کی امیری غریبی یا نفع و نقصان کو نہ دیکھو، کیونکہ) وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینی پڑے گی) اگر امیر ہے تو اور غریب ہے تو، دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے (اتنا تعلق تم کو نہیں، کیونکہ تمہارا تعلق جس قدر ہے وہ بھی انہی کا دیا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کا جو تعلق ہے وہ تمہارا دیا ہوا نہیں، پھر جب باوجود قوی تعلق کے اللہ تعالیٰ نے ان کی مصلحت اسی میں رکھی ہے کہ گواہی میں حق بات کہی جائے خواہ اس سے وقتی طور پر کچھ نقصان بھی پہنچ جائے تو تم ضعیف تعلق کے باوجود اپنی شہادت میں ان کی ایک عارضی مصلحت کا کیوں خیال کرتے ہو) سو تم (اس شہادت میں) خواہش نفس کا اتباع مت کرنا، کبھی تم حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم کج بیانی کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا پہلو تہی کرو گے (یعنی شہادت کو ٹالو گے) تو (یاد رکھنا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں بھیجنے کا اصل مقصد عدل و انصاف کا قیام ہے اسی سے دنیا کا امن وامان قائم رہ سکتا ہے۔ سورة نساء کی اس آیت میں تمام مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور سچی گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے، اور جو چیزیں قیام عدل یا سچی گواہی میں رکاوٹ ہو سکتی ہیں ان کو نہایت بلیغ انداز میں دور کیا گیا ہے، اسی مضمون کی ایک آیت سورة مائدہ میں بھی آنے والی ہے، دونوں کا مضمون بلکہ الفاظ بھی تقریباً مشترک ہیں اور سورة حدید کی آیت 52 سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں آدم ؑ کو خلیفتہ اللہ بنا کر بھیجنے کا اور پھر ان کے بعد دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو یکے بعد دیگرے بحیثیت خلیفتہ اللہ بھیجتے رہنے کا اور ان کے ساتھ بہت سی کتابیں اور صحیفے نازل فرمانے کا اہم مقصد یہی تھا کہ دنیا میں انصاف اور اس کے ذریعہ امن وامان قائم ہو، ہر فرد انسانی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں انصاف کو اپنا شعار بنالے اور جو سرکش لوگ وعظ و پند اور تعلیم و تبلیغ کے ذریعے عدل وا نصاف پر نہ آئیں، اپنی سرکشی پر اڑے رہیں، ان کو قانونی سیاست اور تعزیر و سزا کے ذریعہ انصاف پر قائم رہنے کے لئے مجبور کیا جائے۔ سورة حدید کی پچیسویں آیت میں اس حقیقت کو اس طرح واضح فرمایا ہے ”یعنی ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر اور ہم نے اتارا لوہا اس میں بڑا رعب ہے اور اس سے لوگوں کے کام چلتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بعثت انبیاء اور تنزیل کتب سماویہ کا سارا نظام انصاف ہی کے لئے کھڑا کیا گیا ہے رسولوں کا بھیجنا اور کتابوں کا نازل کرنا اسی مقصد کے لئے عمل میں آیا ہے اور آخر میں لوہا اتارنے کا ذکر کر کے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ سب لوگوں کو انصاف پر قائم رکھنے کے لئے صرف وعظ و نصیحت ہی کافی نہ ہوگی، بلکہ کچھ شریر لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو لوہے کی زنجیروں اور دوسرے ہتھیاروں سے مرعوب کر کے انصاف پر قائم کیا جائے گا۔ عدل و انصاف پر قائم رہنا صرف حکومت کا فریضہ نہیں بلکہ ہر انسان کا مکلف ہے۔ سورة حدید کی آیت مذکورہ اور سورة نساء کی اس آیت میں اسی طرح سورة مائدہ کی آیت کونوا قومین للہ شھدآء بالقسط ولایجرمنکم شنان قوم علی الاتعدلوا اعدلواھو اقرب للتقوی واتقواللہ ان اللہ خبیر بما تعملون، (آیت 8) سے واضح طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انصاف قائم کرنا اور اس پر قائم رہنا صرف حکومت اور عدالت کا فریضہ نہیں بلکہ ہر انسان اس کا مکلف و مخاطب ہے کہ وہ خود انصاف پر قائم رہے اور دوسروں کو انصاف پر قائم رکھنے کے لئے کوشش کرے، ہاں انصاف کا صرف ایک درجہ حکومت اور حکام کے ساتھ مخصوص ہے وہ یہ کہ شریر اور سرکش انسان جب انصاف کے خلاف اڑ جائیں، نہ خود انصاف پر قائم رہیں نہ دوسروں کو عدل و انصاف کرنے دیں، تو حاکمانہ تعزیر اور سزا کی ضرورت ہے یہ اقامت عدل و انصاف ظاہر ہے کہ حکومت ہی کرسکتی ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے۔ آج کی دنیا میں جاہل عوام کو چھوڑیئے لکھئے پڑھے تعلیم یافتہ حضرات بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انصاف کرنا صرف حکومت و عدالت کا فریضہ ہے، عوام اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس نے ہر ملک ہر سلطنت میں حکومت اور عوام کو دو متضاد فریق بنادیا ہے، راعی اور رعیت کے درمیان خلاف و اختلاف کی وسیع خلیج حائل کردی ہے، ہر ملک کے عوام اپنی حکومت سے عدل و انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن خود کسی انصاف پر قائم رہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اسی کا نتیجہ ہے جو دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ قانون معطل ہے، جرائم کی روز افزوں ترقی ہے، آج ہر ملک میں قانون سازی کے لئے اسمبلیاں قائم ہیں، ان پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا ہے، ان کے نمائندے منتخب کرنے کے لئے الیکشن میں خدا کی پوری زمین ہل جاتی ہے اور پھر یہ پورے ملک کا دل و دماغ ملک کی ضروریات اور لوگوں کے جذبات و احساسات کو سامنے رکھتے ہوئے بڑی احتیاط کے ساتھ قانون بناتے ہیں اور پھر رائے عامہ پھر اس کے نفاذ کے لئے حکومت کی لاتعداد مشینری حرکت میں آتی ہے جس کے ہزاروں بلکہ لاکھوں شعبے ہوتے ہیں اور ہر شعبہ میں ملک کے بڑے بڑے آزمودہ کار لوگوں کی محنتیں بروئے کار آتی ہیں، لیکن چلی ہوئی رسوم کی دنیا سے ذرا نظر کو اونچا کر کے دیکھا جائے اور جن لوگوں کو خواہ مخواہ تہذیب اور شائستگی کا ٹھیکہ دارمان لیا گیا ہے تھوڑی دیر کے لئے ان کو رانہ تقلید سے نکل کر حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو ہر شخص بےساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ نگاہ خلق میں دنیا کی رونق بڑھتی جاتی ہے مری نظروں میں پھیکا رنگ محفل ہوتا جاتا ہے اب سے سو سال پہلے 7581 ء سے 7581 ء تک کا ہی موازنہ کریں اعداد و شمار محفوظ ہیں وہ گواہی دیں گے کہ جوں جوں قانون سازی بڑھی، قانون میں عوام کی مرضی کی نمائش بڑھی اور تنفیذ قانون کے لئے مشینری بڑھی، ایک پولیس کے بجائے مختلف اقسام کی پولیس بروئے کار آئی اتنے ہی روز بروز جرائم بڑھے، اور لوگ انصاف سے دور ہوتے چلے گئے اور اسی رفتار سے دنیا کی بدامنی بڑھتی چلی گئی۔ امن عالم کی ضمانت صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا دے سکتا ہے۔ کوئی مرد رشید نہیں جو آنکھ کھول کر دیکھے اور چلتی ہوئی رسموں کی جکڑ بندی کو توڑ کر ذرا رسول عربی ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو سچ سمجھے اور اس حقیقت پر غور کرے کہ دنیا کا امن سکون نرے تعزیرات سے نہ کہی حاصل ہوا نہ آئندہ ہوگا، عالم کے امن وامان کی ضمانت صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا دے سکتا ہے، جس کے ذریعہ سارے فرائض راعی اور رعی اور عوام اور حکومت میں مشترک ہوجاتے ہیں اور ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے لگتا ہے، قانون کے احترام و حفاظت کے لئے عوام یہ کہہ کر آزاد نہیں ہوجاتے کہ یہ کام حکام کا ہے، قرآن مجید کی مذکورہ آیتیں بسلسلہ قیام عدل و انصاف اسی انقلابی عقیدہ کی تلقین پر ختم کی گئی ہیں۔ سورة نسآء کی اس آیت کے تم پر ان اللہ کان بما تعملون خبیراً کا ارشاد ہوا اور سورة مائدہ کی آیت کے آخر میں اول تقوی کی ہدایت فرمائی اور پھر فرمایا ان اللہ خبیر بما تعملون اور سورة حدید کی آیت کے آخر میں ارشاد ہواان اللہ قوی عزیز ان تینوں میں حکام اور عوام دونوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور قائم رکھنے کی ہدایت دینے کے بعد خواتم آیات میں سب کی نظریں اس حقیقت کی طرف پھیر دی گئی ہیں جو انسان کی زندگی اور اس کے خیالات اور جذبات میں انقلاب عظیم پیدا کرنے والی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی قوت و سلطنت اس کے سامنے حاضری اور حساب کتاب اور جزا و سزا کا تصور یہی وہ چیز تھی جس نے اب سے سو برس پہلے کی ناخواندہ دنیا کو آج کی نسبت بہت زیادہ امن و سکون بخشا ہوا تھا اور یہی وہ چیز ہے جس کے نظر انداز کردینے کی وجہ سے آج کی ترقی یافتہ آسمانوں سے باتیں کرنے والی، سیارے اڑانے والی دنیا امن و چین سے محروم ہے۔ روشن خیال دنیا سن لے کہ سائنس کی حیرت انگیز ترقیوں سے وہ آسمان کی طرف چڑھ سکتے ہیں، سیاروں پر جاسکتے ہیں، سمندر میں جاسکتے ہیں، لیکن امن وامان اور سکون و اطمینان جو ان سارے سامان اور سارے کارخانوں کا اصل مقصد ہے وہ نہ ان کو کسی سیارے میں ہاتھ آئے گا، نہ کسی نئی سے نئی ایجاد میں، وہ ملے گا تو پیغمبر عربی روحی فداہ ﷺ کے پیغام اور ان کی تعلیمات میں، اللہ تعالیٰ کو ماننے اور آخرت کے حساب پر عقیدہ رکھنے میں الابذکر اللہ تطمئن القلوب، سائنس کے حیرت انکشافات روز بروز اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی بےمثال صنعت کاری کو اور زیادہ روشن کرتے جاتے ہیں، جن کے سامنے ہر انسانی ترقی اپنے عجز و درماندگی کا اعتراف کر کے رہ جاتی ہے، مگر ”چہ سود چوں دل وانا و چشم بینا نیست“ قرآن حکیم نے ایک طرف تو دنیا کے سارے نظام کا منشاء ہی قیام عدل و انصاف بتلایا، دوسری طرف اس کا ایک بےمثال انتظام ایسا عجیب و غریب فرمایا کہ اگر اس کے پورے نظام کو اپنایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو یہی خونخوار و بدکار دنیا ایک ایسے صالح معاشرے میں تبدیل ہوجائے جو آخرت کی جنت سے پہلے نقد جنت اور ارشاد قرآنی ولمن خاف مقام ربہ جنثن جس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کو دو جنتیں ملیں گی، ایک آخرت میں، دوسری نقد دنیا ہی میں اس کا ظہور مشاہدہ میں آجائے اور یہ کوئی صرف فرضی خیالی یا خیالی اسکیم نہیں، اس پیغام کے لانے والے مقدس رسول ﷺ نے اس کو عملی صورت میں لا کر چھوڑا ہے اور ان کے بعد خلفائے راشدین اور دوسرے متبع سنت سلاطین نے جب بھی اس پر عمل کیا تو شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے کی فرضی مثال ایک حقیقت بن کر لوگوں کے مشاہدہ میں آگئی، غریب و امیر مزدور و سرمایہ دار تفرقہ یک سر مٹ گیا، قانون کا احترام ہر فرد اپنے گھروں کے بند کمروں میں رات کی تاریکیوں میں کرنے لگا، یہ کوئی افسانہ نہیں، تاریخی حقائق ہیں، جن کا اعتراف غیروں نے بھی کیا، اور ہر صاف دل غیر مسلم بھی اس کے ماننے پر مجبور ہوا۔ مضمون آیت کے بعد آیت کی تفسیر تفصیلاً دیکھئے مذکورہ آیت میں کونوا قومین بالقسط فرمایا گیا، قسط بکسر القاف کے معنی ہیں عدل و انصاف اور عدل و انصاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر صاحب حق کا حق پورا ادا کیا جائے اس کے عموم میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی داخل ہیں اور سب قسم کے انسانی حقوق بھی، اس لئے قیام بالقسط کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور یہ بھی داخل ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے، مظلوم کی حمایت کی جائے اور یہ بھی داخل ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کا حق دلوانے کے لئے شہادت کی ضررت پیش آئے تو شہادت سے گریز نہ کیا جائے اور یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت اور انتظام ہے، جب دو فریق کا کوئی مقدمہ ان کے سامنے پیش ہو تو فریقین کے ساتھ برابری کا معاملہ کریں، کسی ایک طرف کسی طرح کا میلان نہ ہونے دیں، گواہوں کے بیانات غور سے سنیں، معاملہ کی تحقیق میں اپنی پوری کوشش خرچ کریں، پھر فیصلہ میں پورے پورے عدل وا نصاف کا معاملہ رکھیں۔ عدل و انصاف کے قیام میں رکاوٹ بننے والے اسباب۔ سورة نساء اور سورة مائدہ کی یہ دونوں آیتیں اگرچہ مختلف سورتوں کی ہیں لیکن مضمون دونوں کا تقریباً قدر مشترک ہے، فرق اتنا ہے کہ عدل انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والی عادة دو چیزیں ہوا کرتی ہیں ایک کسی کی محبت و قرابت یا دوستی وتعلق جس کا تقاضا شاہد کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ شہادت ان کے موافق دی جائے تاکہ یہ نقصان سے محفوظ رہیں یا ان کو نفع پہنچنے اور فیصلہ کرنے والے قاضی یا جج کے دل میں اس تعلق کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں دے، دوسری چیز کسی کی عداوت و دشمنی ہے، جو شاہد کو اس کے خلاف شہادت پر آمادہ کرسکتی ہے اور قاضی اور جج کو اس کے خلاف فیصلہ دینے کے باعث ہو سکتی ہے، غرض محبت و عداوت دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو عدل و انصاف کی راہ سے ہٹا کر ظلم و جور میں مبتلا کرسکتی ہیں، سورة نساء اور سورة مائدہ کی دونوں آیتوں میں میں انہی رکاوٹوں کو دور کیا گیا ہے، سورة نساء کی آیت میں قرابت وتعلق کی رکاوٹ دور کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، ارشاد ہےاوالوالدین والاقربین یعنی اگرچہ تمہاری شہادت اپنے ماں باپ یا قریبی رشتہ داروں ہی کے خلاف پڑے تو بھی حق بات کہنے اور سچی شہادت دینے میں اس تعلق کا لحاظ نہ کرو۔ اور سورة مائدہ کی آیت میں عداوت اور دشمنی کی رکاوٹ کو دور کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا لایجرمنکم شنان قوم علی الاتعدلوا اعدلواھو اقرب للتقوی یعنی کسی قوم کا بغض و عداوت بھی تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہونا چاہئے کہ راہ عدل کو چھوڑ کر ان کے خلاف گواہی یا فیصلہ دینے لگو۔ دونوں آیتوں کے عنوان و تعبیر میں بھی تھوڑا فرق ہے، سورة نساء کی آیت میں قومین بالقسط شھدآء للہ فرمایا گیا اور سورة مائدہ کی آیت میں قومین للہ شھدآء بالقسط ارشاد ہوا، یعنی پہلی آیت میں دو چیزوں کی ہدایت ہے، ایک قیام بالقسط اور دوسری شہادت للہ، اور دوسری آیت میں بھی دو ہی چیزیں مامور بہ ہی، مگر عنوان بدل کر قیام اللہ اور شہادت بالقسط۔ اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس تغیر عنوان سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں دراصل ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں، کہیں قیام بالقسط اور شہادت للہ سے تعبیر کردیا گیا، کہیں قیام للہ اور شہادت بالقسط کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا، ان دونوں آیتوں کے طرز بیان میں یہ بات خاص طور پر قابل نظر ہے کہ کونوا قومین بالقسط یا قومین للہ کا طویل جملہ اختیار فرمایا گیا، حالانکہ عدل و انصاف کا حکم صرف ایک لفظ اقسطوا کے ذریعہ بھی دیا جاسکتا تھا، اس طویل جملہ کے اختیار کرنے میں اس طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ اتفاقی طور پر کسی معاملہ میں عدل و انصاف کردینے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوجاتی، کیونکہ کسی نہ کسی معاملہ میں انصاف ہوجاتا تو ایک ایسا طبعی امر ہے کہ ہر برے سے برے اور ظالم سے ظالم حاکم پر بھی صادق ہے کہ اس سے بھی کسی معاملہ میں تو انصاف ہو ہی جاتا ہے، اس جملہ میں لفظ قوامین استعمال فرما کر یہ بتلایا کہ عدل و انصاف پر ہمیشہ ہر وقت ہر حال اور ہر دوست دشمن کے لئے قائم رہنا ضروری ہے۔ پھر ان دونوں آیتوں میں پوری دنیا کو عدل و انصاف پر قائم کرنے اور قائم کرانے کے لئے جو زریں اصول اختیار کئے گئے ہیں وہ بھی قرآن عظیم ہی کی خصوصیات میں سے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم چیز تو یہ ہے کہ حکام اور عوام سب کو اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ اور روز جزاء کے حساب سے ڈرا کر اس کے لئے تیار کیا گیا ہے کہ عوام خود بھی قانون کا احترام کریں اور حکام جو تنفیذ قانون کے ذمہ دار ہیں وہ بھی تنفیذ قانون میں خدا و آخرت کو سامنے رکھ کر خلق خدا کے خادم بنیں، قانون کو خدمت خلق اور اصلاح عالم کا ذریعہ بنائیں، لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ اور مظلوم کو دفتر گردی کے چکر میں پھنسا کر مزید ظلم پر ظلم کا سبب نہ بنائیں، قانون کو اپنی ذلیل خواہشات یا چند ٹکوں میں فروخت نہ کریں، قومین للہ یاشھدآء للہ فرما کر حکام و عوام دونوں کو للہیت اور اخلاص عمل کی دعوت دی گئی ہے۔ دوسری بنیادی چیز یہ ہے کہ عدل و انصاف کو قیام کی ذمہ داری پورے افراد انسانی پر ڈال دی گئی ہے، سورة نساء اور مائدہ میں تو اس کا مخاطب یایھا الذین امنوا فرما کر پوری امت مسلمہ کو بنادیا گیا ہے اور سورة حدید میں لیقوم الناس بالقسط فرما کر اس فریضہ کو تمام افراد انسانی پر عائد کردیا گیا ہے، سورة نساء کی آیت میں ولو علی انفسکم فرما کر اس طرف ہدایت فرما دی کہ انصاف کا مطالبہ صرف دوسروں ہی سے نہ ہو، بلکہ اپنے نفس سے بھی ہونا چاہئے، اپنے نفس کے خلاف کوئی بیان یا اظہار کرنا پڑے تو بھی حق و انصاف کے خلاف کچھ نہ بولے، اگرچہ اس کا نقصان اس کی ذات ہی پر پڑتا ہو، کیونکہ یہ نقصان حقیر و قلیل اور عارضی ہے اور جھوٹ بول کر اس کی جان بچالی گئی تو قیامت کا شدید عذاب اپنی جان کے لئے خرید لیا۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو کوئی یقین نہ کرے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں ؑ پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کر دور جا پڑا،

ربط آیات اوپر زیادہ حصہ احکام فرعیہ کا مذکور اور ایمان و کفر کے مباحث کہیں کہیں معاملات مع المخالفین کے ضمن میں آگئے ہیں، آگے یہ مباحث قدرے تفصیل سے مذکور ہیں اور ختم سورت کے بالکل قریب تک چلے گئے ہیں، ترتیب بیان میں اول اس کا بیان ہے کہ شریعت میں ایمان معتبر کیا ہے، پھر کفار کے مختلف فرقوں کی مذمت عقائد میں بھی اور بعض اعمال میں بھی خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (یعنی جو مجملاً ایمان لا کر مومنین کے زمرہ میں داخل ہوچکے ہیں) تم (عقائد ضروریہ کی تفصیل سن لو کہ) اعتقاد رکھو اللہ کی (ذات وصفات کے) ساتھ اور اس کے رسول (محمد ﷺ کی رسالت) کے ساتھ اور اس کتاب (کے حق ہونے) کے ساتھ جو اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) اپنے رسول (یعنی محمد ﷺ پر نزل فرمائی اور ان کتابوں (کے حق ہونے) کے ساتھ (بھی) جو کہ (رسول اللہ ﷺ سے) پہلے (اور نبیوں پر) نازل ہوچکی ہیں (اور رسول اللہ ﷺ اور کتاب سابقہ پر ایمان لانے میں ملائکہ اور باقی انبیاء (علیہم السلام) اور یوم قیامت پر ایمان رکھنا بھی داخل ہوگیا) اور جو شخص اللہ (کی ذات یا صفات) کا انکار کرے اور اسی طرح جو) اس کے فرشتوں کا (انکار کرے) اور (اسی طرح جو) اس کی کتابوں کا (جس میں قرآن بھی آ گیا انکار کرے) اور (اسی طرح جو) اس کے رسولوں کا (جن میں رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں انکار کرے) اور (اسی طرح جو) روز قیامت کا (انکار کرے) تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جا پڑا، بلاشبہ جو لوگ (پہلے تو) مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر مسلمان ہوئے (اور اس بار بھی اسلام پر قائم نہ رہے ورنہ پہلا ارتداد معاف ہوجاتا بلکہ) پھر کافر ہوگئے، پھر (مسلمان ہی نہ ہوئے ورنہ پھر بھی ایمان مقبول ہوجاتا بلکہ) کفر میں بڑھتے چلے گئے (یعنی کفر پر دم مرگ تک ثابت اور دائم رہے) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز نہ بخشیں گے اور نہ ان کو (منزل مقصود (یعنی بہشت کا) راستہ دکھائیں گے، (کیونکہ مغفرت اور جنت کے لئے موت تک مومن رہنا شرط ہے)
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

جو لوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہوئے، پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر بڑہتے رہے کفر میں تو اللہ ان کو ہرگز بخشنے والا نہیں اور نہ دکھلاوے ان کو راہ۔

معارف و مسائل فوائد مہمہ (قولہ تعالی) ان الذین امنوا ثم کفروا الخ اس سے مراد منافقین میں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی شان میں ہے کہ اہل ایمان لائے پھر گوسالہ کی عبادت کر کے کافر ہوگئے پھر توبہ کر کے مومن ہوئے، پھر عیسیٰ ؑ سے منکر ہو کر کافر ہوئے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کر کے کفر میں ترقی کر گئے (روح المعانی) (قولہ تعالی) لم یکن اللہ لیغفر لھم ولالیھدیھم سبیلاً ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے سے ان کی توفیق حق ہی سلب ہو جائیگی، اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا، ورنہ جو قاعدہ قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ کیسا ہی کافر یا مرتد ہو اگر سچی توبہ کرے تو پچھلا گناہ معاف ہوجاتا ہے، یہ لوگ بھی توبہ کرلیں تو معافی کا قانون کھلا ہوا ہے۔
Ayah 4:138

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

خوش خبری سنا دے منافقوں کو کہ ان کے واسطے ہے عذاب دردناک،

خلاصہ تفسیر منافقین کو خوش خبری سنا دیجئے اس امر کی کہ ان کے واسطے (اخرت میں) بڑی درد ناک سزا (تجویز کی گئی) جن کی یہ حالت ہے کہ (عقائد تو اہل ایمان کے نہ رکھتے تھے مگر وضع بھی اہل ایمان کی نہ رکھ سکے چنانچہ) کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ان کے پاس (جا کر) عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں سو (خوب سمجھ لو کہ) عزت تو ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے (وہ جس کو چاہیں دیں، پس اگر اللہ تعالیٰ ان کو یا جن سے جاجا کر دوستی کرتے ہیں ان کو عزت نہ دیں تو کہاں سے معزز بن جاویں گے) اور (اے مسلمانودیکھو تم منافقین کی طرح کفار کے ساتھ خصوصیت مت رکھنا خاص کر جس وقت وہ کفریات کا تذکرہ کرتے ہوئے چناچہ اس سورة مدینہ کے قبل بھی) اللہ تعالیٰ تمہارے پاس یہ فرمان (سورة انعام (آیت نمبر 86) میں جو مکیہ ہے) بھیج چکا ہے (جس کا حاصل یہ ہے کہ جب (کسی مجمع میں) احکام الہیہ کے ساتھ استہزاء اور کفر ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے پاس مت بیٹھو جب تک کہ وہ کوئی اور بات شروع نہ کریں (اور یہ مضمون اس آیت کا حاصل ہے واذا رایت الذین یخوضون الخ سو یہ استہزاء کرنے والے مکہ میں مشرکین تھے اور مدینہ میں یہود تو علانیہ اور منافقین صرف غرباء، وضعفاء مسلمین کے روبرو پس جس طرح وہاں مشرکین کی مجالست ایسے وقت میں ممنوع تھی یہاں یہود اور منافقین کی مجالست سے نہی ہے اور یہ ممانعت ہم اس لئے کرتے ہیں) کہ اس حالت میں تم بھی (گناہ میں) انہی جیسے ہوجاؤ گے (گو دونوں کی نوعیت میں فرق ہو کہ ایک گناہ کفر کا ہے دوسرا فسق کا اور اس ممانعت مجالست میں کفار اور منافقین سب برابر ہیں، کیونکہ علت اس کی خوض فی الکفر یعنی کفر کی باتوں کا تذکرہ اور اس خوض کا منشاء کفر ہے، اور اس میں دونوں برابر ہیں، چناچہ سزائے کفر یعنی دوزخ کا ایندھن ہونے میں بھی دونوں برابر ہوں گے، کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو دوزخ میں جمع کردیں گے (اور) وہ (منافقین) ایسے ہیں کہ تم پر افتاد پڑنے کے منتظر (اور آرزو مند) رہتے ہیں پھر (ان کے اس انتظار کے بعد) اگر تمہاری فتح منجانب اللہ ہوگئی تو (تم سے آ کر) باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ (جہاد میں شریک) نہ تھے (کیونکہ نام و نمود کو تو مسلمانوں میں گھسے ہی رہتے تھے، مطلب یہ کہ ہم کو بھی غنیمت کا حصہ دو) اور اور اگر کافروں کو (غلبہ کا) کچھ حصہ مل گیا (یعنی وہ اتفاق سے غالب آئے) تو (ان سے جا کر) باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے (مگر ہم نے قصداً تمہارے اور غالب کرنے کے لئے مسلمانوں کی مدد نہ کی اور ایسی تدبیر کی کہ لڑائی بگڑ گئی) اور کیا ہم نے (جب تم مغلوب ہونے لگے تھے) تم کو مسلمانوں سے بچا نہیں لیا (اس طرح کہ ان کی مدد نہ کی، اور تدبیر سے لڑائی بگاڑ دی، مطلب یہ کہ ہمارا احسان مانو اور جو کچھ تمہارے ہاتھ آیا ہے ہم کو بھی کچھ حصہ دلواؤ، غرض دونوں طرف سے ہاتھ مارتے ہیں) سو (دنیا میں گو اظہار اسلام کی برکت سے مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن) اللہ تعالیٰ تمہارا اور ان کا قیامت میں (عملی) فیصلہ فرما دیں گے اور (اس فیصلہ میں) ہرگز اللہ تعالیٰ کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں غالب نہ فرمائیں گے (بلکہ کفار مجرم قرار پا کر دوزخ میں جاویں گے اور مسلمان اہل حق ثابت ہو کر جنت میں جائیں گے اور فیصلہ عملی یہی ہے) معارف و مسائل پہلی آیت میں منافقین کے لئے درد ناک عذاب کی خبر دی گئی ہے اور اس رنج دہ خبر کو لفظ بشارت سے تعبیر کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ ہر انسان اپنے مستقبل کے لئے خوشخبری سننے کا منتظر رہا کرتا ہے، مگر منفاقین کے لئے اس کے سوا کئی خبر نہیں، ان کے لئے بشارت کے عوض میں یہی خبر ہے۔
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

وہ جو بناتے ہیں کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ڈھونڈہتے ہیں ان کے پاس عزت سو عزت تو اللہ ہی کے واسطے ہے ساری،

عزت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہئے دوسری آیت میں کافر و مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور گھل مل کر رہنے کی ممانعت اور ایسا کرنے والوں کے لئے وعید مذکور ہے اور اس کے ساتھ ہی اس مرض میں مبتلا ہونے کی اصل منشاء اور سبب کو بیان کر کے اس کا لغو اور بیہودہ ہونا بھی بتلا دیا ہے ارشاد فرمایا ایبتغون عندھم العزة فان العزة للہ جمیعاً یعنی کفار مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور ان کے ساتھ ملنے کی غرض عموماً یہ ہوتی ہے کہ ان کی ظاہری عزت و قوت اور جتھے سے متاثر ہو کر یوں خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے دوستی رکھی جائے تو ہمیں بھی ان سے عزت و قوت حاصل ہوجائے گی، حق تعالیٰ نے اس لغو خیال کی حقیقت اس طرح واضح فرمائی کہ تم ان کے ذریعہ عزت حاصل کرنا چاہتے ہو جن کے پاس خود عزت نہیں، عزت جس کے معنی ہیں قوت و غلبہ کے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اور مخلوق میں سے جس کسی کو کبھی کوئی قوت و غلبہ ملتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو کس قدر بےعقلی ہوگی کہ عزت حاصل کرنے کے لئے اصل عزت کے مالک اور عزت دینے والے کو تو ناراض کیا جائے اور اس کے دشمنوں کے ذریعہ عزت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن مجید کی سورة منافقون میں بھی یہی مضمون ایک اضافہ کے ساتھ اس طرح آیا ہے۔ ”یعنی عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے لئے، لیکن منافقین اس گر کو نہیں جانتے۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اور مؤمنین کا اضافہ کر کے یہ بھی بتلا دیا کہ اصل عزت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو چاہتا ہے کچھ حصہ عزت عطا فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے چونکہ اس کے نزدیک محبوب اور مقبول ہیں، اس لئے ان کو عزت و غلبہ دیا جاتا ہے، کفار و مشرکین کو خود ہی عزت نصیب نہیں، ان کے تعلق سے کسی دوسرے کو کیا عزت مل سکتی ہے، اس لئے حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا۔ ”یعنی جو شخص مخلوقات اور بندوں کے ذریعے عزت حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کردیتے ہیں۔“ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ملک شام کے عامل (گورنر) سے فرمایاکنتم اقل الناس اذل الناس فاعزکم اللہ بالاسلام مھما تطلبوا العزة بغیرہ یذلکم اللہ (مستدرک ص 28/ج 3) ”یعنی (اے ابوعبیدہ) تم تعداد میں سب سے کم اور سب سے زیادہ کمزور تھے۔ تم کو محض اسلام کی وجہ سے عزت و شوکت ملی ہے تو خوب سمجھ لو اگر تم اسلام کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے عزت حاصل کرنا چاہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ذلیل کر دے گا۔“ ابوبکر حصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ مراد آیت مذکورہ سے یہ ہے کہ کافر و فجار سے دوستی کر کے عزت طلب نہ کرو، ہاں مسلمانوں کے ذریعہ عزت و قوت طلب کی جائے تو اس کی ممانعت نہیں، کیونکہ سورة منافقون کی آیت نے اس کو واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤمنین کو عزت بخشی ہے (حصاص، ص 253، ج 2) یہاں عزت سے مراد اگر ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والی آخرت کی عزت ہے تب تو دنیا میں اس کا مخصوص ہونا اللہ تعالیٰ کے رسول اور مؤمنین کے ساتھ واضح ہے کیوں کہ آخرت کی عزت کسی کافرو و مشرک کو قطعاً حاصل نہیں ہو سکتی، اور اگر مراد دنیا کی عزت لی جائے تو عبوری دور اور اتفاقی حوادث کو چھوڑ کر انجام کے اعتبار سے یہ عزت و غلبہ بالاخر اسلام اور مسلمانوں ہی کا حق ہے، جبتک مسلمان صحیح معنی میں مسلمان رہے، دنیا نے اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا اور پھر آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ ؑ کی امامت و قیادت میں مسلمان صحیح اسلام پر قائم ہوجائیں گے تو پھر غلبہ انہی کا ہوگا، درمیانی اور عبوری دور میں مسلمانوں کے ضعف ایمان اور ابتلاء معاصی کی وجہ سے ان کا کمزور نظر آنا اس کے منافی نہیں۔
Ayahs 4:140–141

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور حکم اتارچکا تم پر قرآن میں کہ جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہوتے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھو ان کے ساتھ یہاں تک کہ مشغول ہوں کسی دوسری بات میں نہیں تو تم بھی انہی جیسے ہوگئے اللہ اکٹھا کرے گا منافقوں کو اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہ

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

وہ منافق جو تمہاری تاک میں ہیں پھر اگر تم کو فتح ملے اللہ کی طرف سے تو کہیں کیا ہم نہ تھے تمہارے ساتھ اور اگر نصیب ہو کافروں کو تو کہیں کیا ہم نے گھیر نہ لیا تھا تم کو اور بچا دیا تم کو مسلمانوں سے، سو اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن اور ہرگز نہ دے گا اللہ کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ۔

آیت قدنزل علیکم فی الکتب الخ۔ میں قرآن مجید کی ایک اور آیت کا جو سورة انعام میں قبل از ہجرت مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکی تھی حوالہ دے کر یہ بتلایا گیا ہے کہ ہم نے تو اصلاح انسانی کے لئے پہلے ہی یہ حکم بھیج دیا تھا کہ کفار و فجار کی مجلس میں بھی مت بیٹھو اور تعجب ہے کہ یہ غافل لوگ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، کہ ان سے دوستی کرنے لگے، اور ان کو عزت و قوت کا مالک سمجھنے لگے۔ سورة نساء کی متذکرہ آیت اور سورة انعام کی وہ آیت جس کا حوالہ سورة نساء میں دیا گیا ہے دونوں کا مفہوم مشترک یہ ہے کہ اگر کسی مجلس میں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار یا ان پر استہزاء کر رہے ہوں تو جب تک وہ اس بیہودہ شغل میں لگے رہیں، ان کی مجلس میں بیٹھنا اور شرکت کرنا بھی حرام ہے، پھر سورة انعام کی آیت کے الفاظ میں کچھ تعمیم اور مزید تفصیل ہے، کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں ”یعنی جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ ہے کرو یہاں تک کہ وہ مشغول ہوجائیں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تم کو شیطان تو مت بیٹھو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ۔“ اس میں آیات آلہیہ میں جھگڑا کرنا مذکور ہے جس میں کفر و استہزاء بھی داخل ہے اور آیت کی تحریف معنوی یعنی آیات قرآنی کے ایسے معانی نکالنا جو رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی تفسیر کے خلاف یا اجماع امت کے خلاف ہوں یہ بھی اسی میں داخل ہیں، اسی لئے حضرت عبداللہ بن عباس سے بروایت ضحاک منقول ہے کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو قرآن کی تفسیر غلط یا اس میں تحریف کرنے والے یا بدعات نکالنے والے ہیں ان کے الفاظ یہ ہیںدخل فی ھذہ الایة کل محدیث فی الدین وکل مبتدع الی یوم القیمة (مظہری ص 352 ج 2) تفسیر بالرائے کرنیوالے کی مجلس میں شرکت جائز نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص قرآن کریم کے درس یا تفسیر میں تفسیر سلف صالحین کا پابند نہیں، بلکہ ان کے خلاف معانی بیان کرتا ہے اس کے درس و تفسیر میں شرکت بنص قرآن ناجائز اور بجائے ثواب کے گناہ ہے، تفسیر بحرمحیط میں ابحیان نے فرمایا کہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جس بات کا زبان سے کہنا گناہ ہے اس کا کانوں سے بااختیار خود سننا بھی گناہ ہے۔ اور اس پر یہ شعر نقل کیا ہے ”یعنی اپنے کانوں کو بری بات سننے سے بچاؤ جس طرح زبان کو بری بات کہنے سے بچاتے ہو۔“ دوسری بات سورة انعام کی آت میں یہ زیادہ ہے کہ اگر کسی وقت بھولے یا بیخبر ی سے کوئی آدمی ایسی مجلس میں شریک ہوگیا، پھر خیال آیا تو اسی وقت اس مجلس سے علیحدہ ہوجانا چاہئے خیال ہوجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھے۔ سورة نساء اور سورة انعام کی دونوں آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تک وہ لوگ اس بیہودہ گفتگو میں مشغول رہیں، اس وقت تک ان کی مجلس میں بیٹھنا حرام ہے۔ اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ اس گفتگو کو ختم کر کے کوئی اور بات شروع کردیں تو اس وقت ان کے ساتھ مجالست اور شرکت جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن کریم نے اس کو صراحت سے بیان نہیں فرمایا، اسی لئے علماء کا اس میں اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ ممانعت کی علت آیات الہیہ کی توہین اور تحریف تھی جب وہ ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہوگئی، اسی لئے دوسری باتیں شروع ہوجانے کے بعد ان کی مجلس میں بیٹھنا گناہ نہیں، اور بعض نے فرمایا کہ ایسے کفار و فجار اور ظالم لوگوں کی صحبت و مجالست بعد میں بھی درست نہیں، حضرت حسن بصری کا یہی ارشاد ہے، انہوں نے سورة انعام کے اس جملہ سے استدلال فرمایا ہےفلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین یعنی یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں، اور ظاہر ہے کہ ظالم اس گفتگو کو ختم کردینے کے بعد بھی ظالم ہی ہے اسی لئے اس کی صحبت و مجالست سے بعد میں بھی احتراز لازم ہے۔ (حصاص) اور تفسیر مظہری میں قاضی صاحب ؒ نے دنوں میں تطبیق اس طرح فرمائی ہے کہ جب کفر و استہزاء اور تحریف قرآن کی گفتگو بند ہو کر کوئی دوسری بات شروع ہوجائے تو اس وقت بھی ایسے لوگوں کی مجلس میں شرکت بلا ضرورت تو حرام ہے اور اگر کوئی ضرورت شرعی یا طبعی داعی ہو تو جائز ہے۔ بروں کی صحبت سے تنہائی بھلی۔ امام ابوبکر حصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس مجلس میں کوئی گناہ ہو رہا ہو تو مسلمان پر نہی عن المنکر کے ضابطہ سے یہ لازم ہے کہ اگر اس کو روکنے کی قدرت ہی تو قوت کے ساتھ روک دے اور یہ قدرت نہیں ہے تو کم از کم اس گناہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرے جس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ اس مجلس سے اٹھ جائے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک مرتبہ چند لوگوں کو اس جرم میں گرفتار کیا وہ شراب پی رہے تھے ان میں سے ایک شخص کے بارے میں ثابت ہوا کہ وہ روزہ رکھے ہوئے ہے، اس نے شراب نہیں پی، لیکن ان کی مجلس میں شریک تھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کو بھی سزا دی کہ وہ ان کی مجلس میں بیٹھا ہوا کیوں تھا۔ (بحرمحیط، صفحہ 573 جلد 3) تفسیر ابن کثیر میں اس جگہ یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”یعنی جو شخص اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ ایسے دستر خوان یا کھانے کی میز پر بھی نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو۔“ مذکورہ بحث میں مجلس سے اٹھ جانے کے متعلق جو کہا گیا ہے اس کے لئے یہ شرط ہے کہ شرعی حیثیت سے اس مجلس کے چھوڑ دینے میں کوئی گناہ لازم نہ آتا ہو، مثلاً مسجد میں جماعت کی شرکت ضروری امر ہے، اگر وہاں کوئی خلاف شرع کام ہونے لگے تو جماعت اس کی وجہ سے ترک نہ کرے بلکہ صرف قلبی ناراضگی پر اکتفا کرے، اس طرح کوئی اور ضروری مجلس جس کی ضرورت شریعت سے ثابت ہے، اگر وہاں کچھ لوگ کوئی خلاف شرع کام کرنے لگیں، تو دوسروں کے گناہ کی وجہ سے اس مجلس کو چھوڑ کر خود گناہ کا ارتکاب کرنا معقول اور درست نہیں، اسی لئے حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اگر ہم، لوگوں کے گناہ کی وجہ سے اپنے ضروری کام ترک کردیا کریں، تو ہم فساق و فجار کے لئے سنت و شریعت کے مٹانے کا راستہ ہموار کردیں گے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مجالست کی چند صورتیں ہیں اول ان کے کفریات پر رضا کے ساتھ، یہ کفر ہے، دوم اظہار کفریات کے وقت کراہیت کے ساتھ یہ بلا عذر فسق ہے، سوم کسی ضررت دنیوی کے واسطے مباح ہے، چہارم تبلیغ احکام کے لئے عبادت ہے، پنجم اضطرار اور بےاختیاری کے ساتھ اس میں معذور ہے۔ کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایاانکم اذا مثلھم یعنی اگر تم ایسی مجلس میں بطیب خاطر شریک رہے جس میں آیات آلہیہ کا انکار یا استہزاءیا تحریف ہو رہی ہو تو تم بھی ان کے گناہ کے شریک ہو کر انہی جیسے ہوگئے، مراد یہ ہے کہ خدانخواستہ تمہارے جذبات و خیالات بھی ایسے ہیں کہ تم ان کے کفریات کو پسند کرتے اور اس پر راضی ہوتے تو حقیقتا تم بھی کافر ہو، کیونکہ کفر کو پسند کرنا بھی کفر ہے، اور اگر یہ بات نہیں تو ان کی مثل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور دین کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں تم اپنی اس شرکت کے ذریعہ ان کی امداد کر کے معاذ اللہ ان کی مثل ہوگئے۔
Ayahs 4:142–144

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

البتہ منافق دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا اور جب کھڑے ہوں نماز کو تو کھڑے ہوں ہارے جی سے لوگوں کے دکھانے کو اور یاد نہ کریں اللہ کو مگر تھوڑا سا،

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

ادھر میں لٹکتے ہیں دونوں کے بیچ نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جسکو گمراہ کرے اللہ تو ہرگز نہ پاوے گا تو ان کے واسطے کہیں راہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو نہ بناؤ کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا لیا چاہتے ہو اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح۔

خلاصہ تفسیر بلاشبہ منافق لوگ (اظہار ایمان میں) چالبازی کرتے ہیں اللہ سے (گو ان کی چال اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور گو ان کا اعتقاد اللہ کے ساتھ چالبازی کرنے کا نہ ہو، مگر ان کی یہ کارروائی مشابہ اسی کی ہے کہ جیسا یہی اعتقاد ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ اس چال کی سزا ان کو دینے والے ہیں، اور (چونکہ دل میں ایمان تو ہے نہیں اور اس لئے نماز کو فرض نہ سمجھیں اس میں ثواب کا اعتقاد رکھیں، اس لئے) جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، (کیونکہ نشاط اعتقاد اور امید سے پیدا ہوتا ہے) صرف آدمیوں کو (اپنا اس نماز میں) اللہ تعالیٰ کا ذکر (زبانی) بھی نہیں کرتے مگر بہت ہی مختصر (یعنی محض صورت نماز کی بنا لیتے ہیں جس میں نماز کا نام ہوجاوے اور عجب نہیں کہ اٹھنا بیٹھنا ہی ہوتا ہو، کیونکہ جہر کی ضرورت تو بعض نمازوں میں امام کو ہوتی ہے، امامت تو ان کو کہاں نصیب ہوتی، مقتدی ہونے کی حالت میں اگر کوئی بالکل نہ پڑھے فقط لب ہلاتا رہے تو کسی کو کیا خبر ہو تو ایسے بد اعتقادوں سے کیا بعید ہے کہ زبان بھی نہ ہلتی ہو) معلق ہو رہے ہیں دونوں کے (یعنی کفار و مؤ منین) کے درمیان میں نہ (پورے) ادھر نہ (پورے) ادھر (کیونکہ ظاہر میں مومن تو کفار سے الگ اور باطن میں کافر تو مؤمنین سے الگ) اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں ڈال دیں (جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ عزم فعل کے وقت اس فعل کو پیدا کردیتے ہیں) ایسے شخص کے (مومن ہونے کے) لئے کوئی سبیل (یعنی راہ) نہ پاؤ گے (مطلب یہ کہ ان منافقین کے راہ پر آنے کی امید مت رکھو، اس میں منافقین کی تشنیع ہے اور مؤمنین کی تسلی کہ ان کی شرارتوں سے رنج نہ کریں) اے ایمان والو ! تم مؤمنین کو چھوڑ کر کافروں کو (خواہ منافق ہوں خواہ مجاہر ہوں) دوست مت بناؤ (جیسا منافقین کا شیوہ ہے، کیونکہ تم کو ان کی حالت کفرو عداوت کی معلوم ہوچکی) کیا تم (ان سے دوستی کر کے) یوں چاہتے ہو کہ اپنے اوپر (یعنی اپنے مجرم و مستحق عذاب ہونے پر) اللہ تعالیٰ کی حجت صریح قائم کرلو (حجت صریحہ یہی ہے کہ ہم نے جب منع کردیا تھا پھر کیوں کیا۔) معارف و مسائل مسئلہ(قولہ تعالی) قاموا کسالی جس کسل کی یہاں مذمت ہے وہ اعتقادی کسل ہے اور جو باوجود اعتضاد صحیح کے کسل ہو وہ اس سے خارج ہے، پھر اگر کسی عذر سے ہو جیسے مرض وتعب و غلبہ نوم تو قابل ملامت بھی نہیں اور اگر بلا عذر ہو تو قابل ملامت ہے۔ (بیان القرآن)
Ayahs 4:145–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق ہیں سب سے نیچے درجے میں دوزخ کے اور ہرگز نہ پاوے گا تو ان کے پاس کوئی مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی اور مضبوط پکڑا اللہ کو اور خالص حکمبردار ہوئے اللہ کے سو وہ ہیں ایمان والوں کے ساتھ اور جلد دے گا اللہ ایمان والوں کو بڑا ثواب ،

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

کیا کرے گا اللہ تم کو عذاب کرکے اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو اور اللہ قدردان ہے سب کچھ جاننے والا۔

خلاصہ تفسیر بلاشبہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے اور (اے مخاطب) تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا (جو ان کو اس سزا سے بچا سکے) لیکن (ان میں سے) جو لوگ (نفاق سے) توبہ کرلیں اور (مسلمانوں کے ساتھ جو ان کے ایذا رساں معاملات تھے ان کی اصلاح کرلیں (یعنی پھر ایسی باتیں نہ کریں) اور (کفار سے جو بغرض ان کی پناہ میں رہنے کے دوستی کرتے ہیں اس کو چھوڑ کر) اللہ تعالیٰ پر وثوق (اور توکل) رکھیں اور (ریاء کو چھوڑ کر) اپنے دین (یعنی اعمال) کو خالص اللہ ہی (کی رضا) کے لئے کیا کریں (غرض اپنے عقائد کی، عاملات کی اخلاق باطنی کی، اعمال کی، سب کی درستگی کرلیں) تو یہ (تائب) لوگ (ان مؤ منین) کے ساتھ (درجات جنت میں) ہوں گے، (جو کہ پہلے سے کامل ایمان رکھتے ہیں) اور (ان) مؤمنین کو اللہ تعالیٰ (آخرت میں) اجر عظیم عطا فرمائیں گے (پس جب یہ مومنین کے ساتھ ہوں گے تو ان کو بھی اجر عظیم ملے گا اور اے منافقو) اللہ تعالیٰ تم کو سزا دے کر کیا کریں گے اگر تم (ان کی نعمتوں کی جو تم پر ہیں) سپاس گذاری کرو اور (اس سپاس گزاری کا طریقہ ہمارا پسندیدہ یہ ہے کہ تم) ایمان لے آؤ (یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی کام اٹکا نہیں پڑا جو تم کو سزا دینے سے چل جاوے صرف تمہارا کفر جو اشد درجہ کا کفران نعمت ہے سبب ہے تمہاری سزا کا اگر اس کو چھوڑ دو تو پھر رحمت ہی رحمت ہے) اور اللہ تعالیٰ (تو خدمت کی) بڑی قدر کرنے والے (اور خدمت گزاری کے خلوص وغیرہ کو) خوب جاننے والے ہیں (پس جو شخص اطاعت و اخلاص سے رہے اس کو بہت کچھ دیتے ہیں) معارف و مسائل (قولہ تعالی) اخلصوا دینھم اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی عمل مقبول ہے جو ریاء سے پاک ہو، اور محض اسی کی ذات کے لئے ہو، کیونکہ مخلص کے معنی فقہاء نے یہ بیان کئے ہیں ”یعنی مخلص وہ آدمی ہے جو عمل محض اللہ کے لئے کرے اور اس بات کو وہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس کے عمل کی تعریف کریں۔“
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ کو پسند نہیں کسی بری بات کا ظاہر کرنا، مگر جس پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ ہے سننے والا اور جاننے والا،

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو (کسی کے لئے) پسند نہیں کرتے بجز مظلوم کے (کہ اپنے مظالم کی نسبت کچھ حکایت شکایت کرنے لگے تو وہ گناہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ (مظلوم کی بات) خوب سنتے ہیں (اور ظالم کے ظلم کی حالت) خوب جانتے ہیں (اس میں اشارہ ہے کہ مظلوم کو بھی خلاف واقعہ کہنے کی اجازت نہیں اور ہرچند کہ ایسی شکایت جائز تو ہے لیکن) اگر نیک کام علانیہ کردیا اس کو خفیہ کرو (جس میں معاف کرنا بھی آ گیا) یا (بالخصوص) کسی (کی) برائی کو معاف کردو تو (زیادہ افضل ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ (بھی) بڑے معاف کرنے والے ہیں، (باوجودیکہ) پوری قدرت والے ہیں کہ (اپنے مجرموں سے ہر طرح انتقام لے سکتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر معاف ہی کردیتے ہیں، پس اگر تم ایسا کرو تو اول تو تخلق باخلاق الٓہیہ یعنی اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا اتباع ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کرنے کی امید ہوگی) جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ (جیسا ان کے عقیدہ اور قول سے جو آگے آتا ہے صاف طور پر لازم آتا ہے) اور (کفر کرتے ہیں) اس کے رسولوں کے ساتھ (یعنی بعض کے ساتھ تو صراحتاً کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ اور حضور ﷺ کی نبوت کے منکر تھے اور کل کے ساتھ لزوماً جیسا آگے آتا ہے) اور یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے اور اس کے رسولوں کے درمیان میں (باعتبار ایمان لانے کے) فرق رکھیں اور (اپنے اس عقیدہ کو زبان سے بھی) کہتے ہیں کہ ہم (پیغمبروں میں سے) بعضوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں (اس قول اور اس عقیدہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی، کفر لازم آ گیا اور سب رسولوں کے ساتھ بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور ہر رسول نے سب رسولوں کو رسول کہا ہے، جب بعض کا انکار ہوا تو اللہ تعالیٰ کی اور بقیہ رسولوں کی تکذیب ہوگئی، جو کہ ضد ہے تصدیق اور ایمان کی) اور یوں چاہتے ہیں کہ بین بین ایک راہ تجویز کریں (کہ نہ سب پر ایمان رہے جیسے مسلمان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ سب کا انکار ہے جیسا کہ مشرکین کرتے تھے سو) ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں (کیونکہ کفر بالبعض بھی کفر ہے اور ایمان اور کفر کے درمیان کوئی واسطہ نہیں، جب ایمان بالجمیع نہ ہوا تو کفر ہی ہوا) اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے، (وہی ان کے لئے بھی ہوگی) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سبب رسولوں پر بھی اور ان میں سے کسی میں (ایمان لانے کے اعتبار سے) فرق نہیں کرتے، ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ضرور ان کا ثواب دیں گے اور (چونکہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے ہیں (اس لئے ایمان لانے سے پہلے جتنے گناہ ہوچکے ہیں، سب بخش دیں گے اور چونکہ وہ) بڑے رحمت والے ہیں (اس لئے ایمان کی برکت سے ان کے حسنات کو مضاعف کر کے خوب ثواب دیں گے)
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم کھول کر کرو کوئی بھلائی یا اس کو چھپاؤ یا معاف کرو برائی کو تو اللہ بھی معاف کرنیوالا بڑی قدرت والا ہے

معارف و مسائل ان آیات میں سے پہلی آیت اور دوسری آیت دنیا سے ظلم و جور کے مٹانے کا ایک قانون ہے، مگر عام دنیا کے قوانین کی طرح نہیں جس کی حیثیت صرف آمرانہ ہوتی ہے، بلکہ ترغیب و ترہیب کے انداز کا ایک قانون ہے جس میں ایک طرف تو اس کی اجازت دے دیگئی ہے کہ جس شخص پر کوئی ظلم کرے تو مظلوم اس کے ظلم کی شکایت، یا کسی عدالت میں چارہ جوئی کرسکتا ہے، جو عین عدل و انصاف کا تقاضا اور انسداد جرائم کا ایک ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک قید بھی سورة نحل کی آیت میں مذکور ہے، وان عاقبتم فعاقیوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین (آیت نمبر 621) یعنی اگر کوئی شخص تم پر ظلم کرے تو تم بھی اس سے ظلم کا بدلہ لے سکتے ہو، مگر شرط یہ ہے کہ جتنا ظلم وتعدی اس نے کیا ہے بدلہ میں اس سے زیادتی نہ ہونے پائے، ورنہ تم ظالم ہوجاؤ گے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم کے جواب میں ظلم کی اجازت نہیں بلکہ ظلم کا بدلہ انصاف سے ہی لیا جاسکتا ہے، اسی کے ساتھ یہ بھی ہدایت ہے کہ بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے مگر صبر کرنا اور معاف کردینا بہتر ہے۔ اور آیت مذکورہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس پر کسی نے ظلم کیا ہو اگر وہ ظلم کی شکایت، حکایت لوگوں سے کرے تو یہ غیبت حرام میں داخل نہیں، کیونکہ اس نے خود اس کو شکایت کرنے کا موقع دیا ہے، غرض قرآن حکیم نے ایک طرف تو مظلوم کو ظلم کا مساوی بدلہ لینے کی اجازت دے دی اور دوسری طرف اعلی اخلاق کی تعلیم، عفو و درگزر اور اس کے بالمقابل آخرت کا عظیم فائدہ پیش نظر کر کے مظلوم کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے اس جائز حق میں ایثار سے کام لے ظلم کا انتقام نہ لے، ارشاد فرمایا ان تبدواخیراً اوتخفوہ اوتعفوا عن سوٓء فان اللہ کان عفواً قدیراً ”یعنی اگر تم کوئی نیکی ظاہر کر کے کر دیاخفیہ طور پر کرو، یا کسی کے ظلم اور برائی کو معاف کردو تو یہ بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والے اور بڑی قدرت والے ہیں۔“ اس آیت میں اصل مقصد تو ظلم کے معاف کرنے سے متعلق ہے، مگر اس کے ساتھ علانیہ اور خفیہ نیکی کا بھی ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ یہ عفو و درگزر ایک بڑی نیکی ہے جو اس کو اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ کے عفو و رحمت کا مستحق ہوجائے گا۔ آخر آیت میں فان اللہ کان عفواً قدیراً فرما کر یہ بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ، قادر مطلق ہیں جس کو جو چاہیں سزا دے سکتے ہیں، اس کے باوجود بہت معاف کرنے والے ہیں تو انسان جس کو قدرت و اختیار بھی کچھ نہیں وہ اگر انتقام لینا بھی چاہے تو بہت ممکن ہے کہ اس پر قدرت ہی نہ ہو، اس لئے اس کو تو عفو و درگزر اور بھی زیادہ مناسب ہے۔ یہ ہے رفع ظلم اور اصلاح معاشرہ کا قرآنی اصول اور مربیانہ انداز کہ ایک طرف برابر کے انتقام کا حق دے کر عدل و انصاف کا بہترین قانون بنادیا، دوسری طرف مظلوم کو اعلی اخلاق کی تعلیم دے کر عفو و درگزر پر آمادہ کیا، جس کا لازمی نتیجہ وہ ہے جس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے فاذا الذین بینک وبینہ عداوة کانہ ولی حمیم (14: 43) یعنی جس شخص کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی اس طرز عمل سے وہ تمہارا مخلص دوست بن جائے گا۔“ عدالتی فیصلہ اور ظلم کا انتقام لے لینے سے ظلم کی روک تھام ضرر ہوجاتی ہے، لیکن فریقین کے دلوں میں وہ ایک دیرپا اثر چھوڑ جاتے ہیں جو آئندہ پھر باہمی جھگڑوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں ........ اور یہ اخلاقی درس جو قرآن کریم نے دیا اس کے نتیجہ میں گہرئی اور پرانی عداوتیں دوستیوں میں تبدیلی ہوجاتی ہیں۔ تیسری اور چوتھی اور پانچویں آیات میں قرآن حکیم نے یہ کھلا ہوا فیصلہ دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو مانے مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ لائے، یا بعض رسولوں کو مانے اور بعض کو نہ مانے وہ اللہ کے نزدیک مومن نہیں، بلکہ کھلا کافر ہے جس کی نجات آخرت کی کوئی راہ نہیں۔
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اس کے رسولوں ؑ سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اس کے رسولوں ؑ میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیچ میں ایک راہ،

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب

اسلامی مدار نجات ہے کسی مخالف مذہب میں نجات نہیں ہو سکتی قرآن حکیم کے اس واضح فیصلہ نے ان لوگوں کی بےراہی اور کج روی کو پورا طرح کھول دیا ہے، جو دوسرے اہل مذاہب کے ساتھ روا داری میں مذہب اور مذہبی عقلاء کو بطور نوتہ اور ہبہ کے پیش کرنا چاہتے ہیں، اور قرآن و سنت کے کھلے ہوئے فیصلوں کے خلاف دوسرے مذہب والوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک نجات صرف اسلام میں منحصر نہیں، یہودی اپنے مذہب پر اور عیسائی اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی نجات پاسکتا ہے، حالانکہ یہ لوگ سب رسولوں کے یا کم از کم بعض رسولوں کے منکر ہیں، جن کے کافر جہنمی ہونے کا اس آیت نے اعلان کردیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ عدل و انصاف اور ہمدردی و خیر خواہی اور احسان و رواداری کے معاملہ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، لیکن احسان و سلوک اپنے حقوق اور اپنی ملکیت میں ہوا کرتے ہیں، مذہبی اصول و عقائد ہماری ملکیت نہیں جو ہم کسی کو تحفہ میں پیش کرسکیں، اسلام جس طرح غیر مسلموں کے استھزا رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم میں نہایت سخی اور فیاض ہے، اسی طرح وہ اپنی سرحدات کی حفاظت میں نہایت محتاط اور سخت بھی ہے، وہ غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی خیر خواہی اور انتہائی رواداری کے ساتھ کفر اور رسوم کفر سے پوری طرح اعلان برات بھی کرتا ہے، مسلمانوں کو غیر مسلموں سے الگ ایک قوم بھی قرار دیتا ہے اور ان کے قومی شعائر کی پوری طرح حفاظت بھی کرتا ہے، وہ عبادت کی طرح مسلمانوں کی معاشرت کو بھی دوسروں سے ممتاز رکھنا چاہتا ہے جس کی بیشمار مثالیں قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ اگر اسلام اور قرآن کا یہ عقیدہ ہوتا کہ ہر مذہب و ملت میں نجات ہو سکتی ہے تو اس کو مذہب اسلام کی تبلیغ پر اتنا زور دینے کا کوئی حق نہ تھا، اور اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینا اصولاً غلط اور خلاف عقل ہوتا، بلکہ اس صورت میں خود رسول کریم ﷺ کی بعثت اور قرآن حکیم کا نزول معاذ اللہ بیکار اور فضول ہوجاتا ہے اور رسول کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کا سارا جہاد بےمعنی بلکہ ملک گیری کی ہوس رہ جاتی ہے۔ اس معاملہ میں بعض لوگوں کو سورة بقرہ کی آیت نمبر 26 سے شبہ ہوا ہے، جس میں ارشاد ہے ان الذین امنوا والذین ھادوا والنصری والصابئین من امن باللہ والیوم الاخر و عمل صالحا فلھم اجرھم عندربھم ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون،”یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے اور نصاری اور صابین ان میں جو بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ اس آیت میں چونکہ ایمانیات کی پوری تفصیل دینے کے بجائے صرف ایمان باللہ و الیوم الآخر پر اکتفا کیا گیا ہے تو جو لوگ قرآن کو صرف ادھورے مطالعہ سے سمجھنا چاہتے ہیں، اس سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ صرف اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھنا نجات کے لئے کافی ہے رسولوں پر ایمان شرط نجات نہیں اور یہ نہ سمجھ سکے کہ قرآن کی اصطلاح میں ایمان باللہ رسولوں پر ایمان شرط نجات نہیں اور یہ نہ سمجھ سکے کہ قرآن کی اصطلاح میں ایمان باللہ وہی معتبر ہے جو ایمان بالرسول کے ساتھ ہو، ورنہ محض خدا کے اقرار اور توحید کا تو شیطان بھی قائل ہے، قرآن کریم نے خود اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرما دیا ہے فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدواوان تولو فانما ھم فی شقاق فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم (2: 731) ”یعنی ان کا ایمان اس وقت معتبر ہوگا جبکہ وہ عام مسلمانوں کی طرح ایمان اختیار کریں، جس میں ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالرسول لازم ہے، ورنہ پھر سمجھ لو کہ وہی لوگ تفرقہ اور اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں، سو اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے ان کے لئے کافی ہے اور وہ بہت سننے والا ہے۔“ اور پیش نظر آیات میں تو اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ بتلا دیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ کے کسی ایک رسول کا بھی منکر ہو وہ کھلا کافر ہے اور اس کے لئے عذاب جہنم ہے، ایمان باللہ وہی معتبر ہے جو ایمان بالرسول کے ساتھ ہو، اس کے بغیر اس کو ایمان باللہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں ؑ پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو ان کو جلد دے گا ان کے ثواب اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔

آخری آیت میں پھر ایجابی طور پر بیان فرما دیا گیا ہے کہ نجات آخرت انہی لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے سب رسولوں پر بھی ایمان رکھیں اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے”یعنی قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر و تشریح کرتا ہے۔“ خود قرآنی تفسیر کے خلاف کئی تفسیر کرنا کسی کے لئے جائز نہیں۔