4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور مت پکڑاؤ دبے عقلوں کو اپنے وہ مال جن کو بنایا ہے اللہ نے تمہارے گذران کا سبب اور ان کو اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور کہ وان سے بات معقول،

ربط آیات گزشتہ آیات میں یتیموں کے مال ان کو سپرد کردینے اور عورتوں کے مہر ان کو ادا کرنے کا حکم گذر چکا ہے جس سے بظاہر یہ مستفاد ہوسکتا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا مال بہرحال ان کے حوالہ کردینا چاہئے، خواہ ان کو معاملات کا سلیقہ بھی نہ ہو اور وہ اموال کی حفاظت پر بھی قادر نہ ہوں، اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ان آیات میں فرمایا ہے کہ کم عقلوں کو اموال سپرد نہ کرو اور ان کی جانچ کرتے رہو، جب اموال کی حفاظت اور ان کے مصارف کی سوجھ بوجھ ان کے اندر محسوس ہونے لگے تو اموال ان کے سپرد کردو۔ خلاصہ تفسیر (اور اگر یتیم بالغ ہوجائیں جس کا مقتضی مال کا سپرد کردینا ہے جیسا آگے آتا ہے لیکن کم عقل ہوں تو) تم (ان) کم عقلوں کو اپنے (یعنی ان کے) وہ مال مت دو جن کو اللہ تعالیٰ نے (ایسے کام کا پیدا کیا ہے کہ ان کو) تمہارے (سب کے) لئے مایہ زندگی بنایا ہے (مطلب یہ کہ مال قدر کی چیز ہے، ان کو ابھی مت دو کہ بےقدری کر کے اڑا دیں گے) اور ان مالوں میں (سے) ان کو کھلاتے رہو پہناتے رہو اور ان سے معقول بات کہتے رہو (یعنی ان کو تسلی کرتے رہو کہ مال تمہارا ہے، تمہاری خیر خواہی کی وجہ سے ابھی تمہارے ہاتھ میں نہیں دیا، ذرا سمجھ دار ہوجاؤ گے تو تم ہی کو دے دیا جائے گا) اور (جب مال سپرد کرنے کے لئے ہوشیاری دیکھنا ضروری ہے تو) تم یتیموں کو (بالغ ہونے سے پہلے ہوشیاری وتمیز داری کی باتوں میں) آزما لیا کرو (کیونکہ بالغ ہونے کا وقت تو سپردگی مال کا وقت ہے، تو آزمائش پہلے سے چاہئے، مثلاً کچھ کچھ سودا سلف اس سے منگا لیا اور دیکھا کہ کیسے سلیقہ سے خرید کر لائے، یا کوئی چیز فروخت کی دے دی اور دیکھا کہ اس کو کس طرح فروخت کیا) یہاں تک کہ (ان کو آزمایا جائے) کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جاویں (یعنی بالغ ہوجاویں، کیونکہ نکاح کی پوری قابلیت بلوغ سے ہوتی ہے۔) پھر (بعد بلوغ و آزمائش) اگر ان میں ایک گو نہ تمیز دیکھو (یعنی حفاظت و رعایت مصالح مال کا سلیقہ اور انتظام ان میں پاؤ ں) تو ان کے اموال ان کے حوالے کردو (اور اگر ہنوز سلیقہ یا انتظام نہ معلوم ہو تو چندے اور حوالہ نہ کیا جائے) اور ان اموال (یتامی) کو ضرروت سے زائد اٹھا کر اور اس خیال سے کہ یہ بالغ ہوجاویں گے (پھر ان کو حوالہ کرنا پڑے گا) جلدی جلدی اڑا کر مت کھا ڈالو اور (اگر اس طرح نہ اڑا دیں، بلکہ تھوڑا کھانا چاہیں تو اس کا یہ حکم ہے کہ) جو شخص (اس مال سے) مستغنی ہو (یعنی اس کے پاس بھی بقدر کفایت موجود ہے گو صاحب نصاب نہ ہو) سو وہ تو اپنے کو بالکل (تھوڑا کھانے سے بھی) بچائے اور جو شخص حاجت مند ہو تو وہ مناسب مقدار سے (یعنی جس میں حاجات ضروریہ رفع ہوجاویں) کھلا ہے (برت لے) پھر جب (بعد وجود شرائط یعنی بلوغ و رشد مذکور کے) ان کے اموال ان کے حوالے کرنے لگو تو (بہتر ہے کہ) ان (کے اموال ان کو دیدینے) پر گواہ بھی کرلیا کرو، شاید کسی وقت کچھ اختلاف واقع ہو تو گواہ کام آویں) اور (یوں تو) اللہ تعالیٰ ہی حساب لینے والا کافی ہے (اگر خیانت نہ کی ہو تو گواہوں کا نہ ہونا بھی مضر نہیں، کیونکہ اصل حساب جن کے متعلق ہے وہ تو اس کی صفائی جانتے ہیں اور اگر خیانت کی ہے تو گواہوں کا ہونا کوئی نافع نہیں، کیونکہ جن سے حساب کا سابقہ ہے وہ اس کا ملوث ہونا ہونا جانتے ہیں، صرف ظاہری انتظام کے لئے گواہوں کا ہونا مصلحت ہے۔) معارف و مسائل مال سرمایہ زندگی ہے اور اس کی حفاظت لازمی ہے۔ ان آیات میں ایک طرف تو مال کی اہمیت اور انسانی معاش میں اس کا بڑا دخل ہونا بیان فرما کر اس کی حفاظت کا داعیہ قلوب میں پیدا کیا گیا، دوسری طرف حفاظت اموال کے متعلق ایک عام کوتاہی کی اصلاح فرمائی گئی، وہ یہ کہ بہت سے آدمی طبعی محبت سے مغلوب ہو کر ناتجربہ کار نابالغ بچوں اور ناواقف عورتوں کو اپنے اموال حوالہ کردیتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ مال کی بربادی اور بہت جلد افلاس و تنگدستی ہوتی ہے۔ عورتوں بچوں اور کم عقلوں کو اموال سپرد نہ کئے جائیں۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں یہ ہدایت فرمائی کہ اپنا پورا مال کم عقل بچوں عورتوں کے سپرد کر کے خود ان کے محتاج نہ بنو، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوام اور منتظم بنایا ہے تم مال کو خود اپنی حفاظت میں رکھ کر بقدر ضرورت ان کے کھلانے پہنانے پر خرچ کرتے رہو اور اگر وہ مال کو اپنے قبضہ میں لینے کا مطالبہ بھی کریں تو ان کو معقول بات کہہ کر سمجھا دو ، جس میں دلشکنی بھی نہ ہو اور مال بھی ضائع نہ ہونے پائے، مثلاً یہ کہہ دو کہ یہ سب تمہارے ہی لئے رکھا ہے، ذرا تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہیں دے دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی اس تفسیر پر آیت کا مفہوم ان سب عورتوں، بچوں اور کم عقل ناتجربہ کار لوگوں کو شامل ہے، جن کو مال سپرد کردینے پر مال میں نقصان کا خطرہ ہے، خواہ وہ اپنی بچے ہوں یا یتیم بچے اور خواہ وہ مال ان بچوں اور یتیموں کا اپنا ہو یا اولیاء کا ہو ........ یہی تفسیر حضرت ابوموسی اشعری سے بھی منقول ہے اور امام تفسیر حافظ طبری نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ پچھلی اور اگلی آیتوں کا سیاق اگرچہ اس حکم کو بھی یتیم بچوں کے ساتھ مخصوص کرنے کا رجحان پیدا کرسکتا ہے، لیکن الفاظ کا عموم اپنی جگہ ہے، جس میں یتیم اور غیر یتیم سب بچے داخل ہیں اور شاید اس جگہ اموالکم بصیغہ خطاب فرمانے میں یہی حکمت ہو کہ وہ اپنے اموال کو بھی شامل ہے اور وہ یتیموں کے اموال کو بھی، جب تک ان میں ہوشیاری نہ آئے ان کی ذمہ داری میں ہونے کی وجہ سے گویا انہی کے اموال ہیں اور اس سے پہلی آیات میں واتوا الیتمی اموالھم فرما کر اصل حقیت کو واضح بھی کردیا گیا ہے کہ یتیموں کے مال انہی کو دینا ہے، جس کے بعد کوئی مغالطہ باقی نہیں رہ سکتا۔ مال کی حفاظت ضروری امر ہے اور اس کو ضائع کرنا گناہ ہے اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے کوئی شخص مقتول ہوجائے تو شہید ہے، جیسا کہ جان کی حفاظت کرتے ہوئے مقتول ہونے پر شہادت کا درجہ موعود ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے جو شخص مقتول ہوجائے وہ شہید ہے (یعنی ثواب کے اعتبار سے شہیدوں میں شمار ہے۔“) ”نیک آدمی کے لئے اس کا اچھا اور پاکیزہ مال بہترین متاع حیات ہے۔“ ”جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہو اس کی مال داری میں دین کا کوئی حرج نہیں۔“ آخر کی ان دونوں میں حدیثوں میں یہ بات بتائی ہے کہ صالح اور متقی آدمی کا مال پاس رکھنا اس کے حق میں مضر نہیں ہے، کیونکہ ایسا شخص اللہ سے خوف کھاتے ہوئے اپنے مال کو گناہوں میں خرچ کرنے سے بچے گا، بہت سے اولیاء اللہ اور صوفیاء زاہدین سے جو مال کی برائی منقول ہے، وہ انہی لوگوں کے حق میں ہے جو گناہوں میں خرچ کر کے اپنے کمائے ہوئے مال کو آخرت کے عذاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور چونکہ انسان طبعی طور پر مال دار ہونے کے بعد اسراف اور دیگر معاصی سے محفوظ رہنے کی فکر چھوڑ دیتا ہے، اس لئے مال سے دور رہنے کو محبوب سمجھا گیا ہے، بقدر ضررت تھوڑا بہت کمایا اور اللہ کا نام لیا اور مال کے حساب سے اپنی جان بچائی، یہ پرانے بزرگوں کا طرز تھا دور حاضر میں لوگوں میں دین و ایمان کی اہمیت زیادہ نہیں ہے، دنیوی ساز و سامان کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور معمولی سی تکلیف ہی نہیں بلکہ ظاہری فیشن کے خلاف ورزی ہوجانے پر دین چھوڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں، اس لئے ایسے لوگوں کے لئے مال حلال کسب کرنے اور اس کو محفوظ رکھنے کی زیادہ اہمیت ہے، اسی طرح کے لوگوں کے لئے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ”یعنی تنگدستی انسان کو بعض اوقات کافر بنا سکتی ہے۔“ حضرت سفیان ثوری نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایاکان المال فیما مضی یکرہ فاما الیوم فھوترس المومن، یعنی ”زمانہ سابق میں مال کو پاس رکھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ مال مومن کی ڈھال ہے۔“ نیز انہوں نے فرمایامن کان فی یدہ من ھذہ شیاً فلیصلحہ فانہ زمان ان احتاج کان اول من بیدل دینہ، یعنی جس کے پاس دراہم ودنانیر میں سے کچھ موجود ہو اسے چاہئے کہ اس مال کو مناسب طریقہ پر کام میں لائے کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے کہ اگر کچھ حاجت پیش آگئی تو انسان سب سے پہلے حاجت پوری کرنے کے لئے اپنے دین ہی کو خرچ کرے گا۔“ مطلب یہ ہے کہ حاجت پوری کرنے کی اہمیت دین پر چلنے سے زیادہ ہوگئی۔ (مشکوة ص 194)
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور سدھارتے رہو یتیموں کو جب تک پہنچیں نکاح کی عمر کو پھر اگر دیکھو ان میں ہوشیاری تو حوالے کردو ان کے مال ان کا اور کھانہ جاؤ یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے پہلے کہ یہ بڑے نہ ہوجائیں اور جس کو حاجت نہ ہو تو مال یتیم سے بچتا رہے اور جو کوئی محتاج ہو تو کھاوے موافق دستور کے پھر جب ان کو حوالہ کرو ان کے مال تو گواہ کرلو اس پر اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو۔

نابالغوں کی سمجھ اور صلاحیت جانچنے کا حکم پہلی آیت میں جب یہ معلوم ہوگیا کہ جب تک معاملات میں نابالغوں کی ہوشیاری ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک ان کو اموال سپرد نہ کئے جائیں، اس لئے دوسری آیت میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام اور پھر امتحان کر کے ان کی صلاحیت معلوم کرنے کے احکام دیئے گئے، ارشاد ہوا وابتلوالیتمی حتی اذا بلغوا النکاح، ”یعنی بالغ ہونے سے پہلے ہی چھوٹے چھوٹے معمولی معاملات خریدو فروخت ان کے سپرد کر کے ان کی صلاحیت کا امحتان لیتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل یعنی بالغ ہو جائیں“ تو اب خاص طور سے اس کا اندازہ لگاؤ کہ وہ اپنے معاملات میں ہوشیا رہ گئے یا نہیں، جب ہوشیاری محسوس کرلو تب ان کے اموال ان کے سپرد کردو۔ خلاصہ یہ کہ بچوں کی مخصوص طبیعت اور ان میں عقل و ہوش کے نشو و نما کے اعتبار سے ان کے تین درجے کردیئے گئے، ایک بلوغ سے پہلے دوسرا بلوغ کے بعد، تیسرا ہوشیاری کے بعد بلوغ سے پہلے بچوں کے اولیاء کو یہ حکم ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کی کوشش کریں معاملات میں ان کو ہوشیار کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے معاملات خریدو فروخت کے ان کے ہاتھ سے کرائیں، آیت میں وابتلوا الیتامی کا یہی مطلب ہے ........ اس سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نابالغ بچے جو معاملات خریدو فروخت کے ان کے ہاتھ سے کرائیں، آیت میں وابتلوا الیتمی کا یہی مطلب ہے ........ اس سے امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نابالغ بچے جو معاملات خریدو فروخت اپنے ولی کی اجازت سے کریں وہ صحیح اور نافذ ہیں۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ جب وہ بالغ اور نکاح کے قابل ہوجائیں تو اب معاملات اور تجربہ کے اعتبار سے ان کے احوال کی جانچ کرو، اگر دیکھو کہ وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے لگے ہیں اور معاملات سلیقہ سے کرتے ہیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ بلوغ کی عمر۔ اس آیت میں جہاں بلوغ کا حکم بیان فرمایا گیا وہاں قرآن کریم نے اس بارے میں کہ بچے کا بالغ ہونا کس عمر میں سمجھا جائے گا فاذا بلغوا النکاح فرما کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ اصل بلوغ کسی عمر کے ساتھ مقید نہیں، بلکہ اس کا مدار ان آثار پر ہے جو بالغوں کو پیش آتے ہیں، ان آثار کے اعتبار سے جس وقت بھی وہ نکاح کے قابل ہوجائیں بالغ سمجھے جائیں گے خواہ عمر تیرہ چودہ سال ہی کی ہو، البتہ اگر کسی بچے میں آثار بلوغ نمودار ہی نہ ہوں تو عمر کے اعتبار سے اس کو بالغ قرار دیا جائے گا، جس میں فقہا کا اختلاف ہے بعض نے لڑکے کے لئے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لئے سترہ سال مقرر کئے ہیں اور بعض نے دونوں کے لئے پندرہ سال قرار دیئے، امام اعظم ابوحنیفہ کے مذہب میں فتوی اس قول پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں پندرہ سال کی عمر پوری ہونے پر شرعاً بالغ قرار دیئے جائیں گے، خواہ آثار بلوغ پائے جائیں یا نہیں۔ ہوشیاری کیونکر معلوم ہوگی ؟ اس سلسلہ میں انستم منھم رشداً کی تشریح۔ حکم قرآنییہ ہے کہ جب تم ان میں ہوشیاری محسوس کرو اس وقت ان کے اموال ان کو سپرد کردو، اس ہوشیاری کی کیا میعاد ہے ؟ قرآن مجید نے اس آخری میعاد کی کوئی صراحت نہیں فرمائی، اس لئے بعض فقہاء اس طرف گئے کہ جب تک پوری ہوشیاری محسوس نہ کی جائے اس وقت تک ان کے اموال ان کے سپرد نہ کئے جائیں گے، بلکہ بدستور سابق ولی کی حفاظت و امانت میں رہیں گے، خواہ ساری عمر اسی حالت میں گزر جائے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ کی تحقیق یہ ہے کہ اس جگہ عدم ہوشیاری سے وہ مراد ہے جو بچپن کے اثر سے ہو، اور بالغ ہونے کے دس سال بعد تک بچپن کا اثر ختم ہوجاتا ہے، اس لئے پندرہ سال عمر بلوغ اور دس سال سن رشد و ہوشیاری یہی کل پچیس سال کی عمر ہوجانے پر وہ رشد و ہوشیاری ضرور حاصل ہوگی جس کے حاصل ہونے میں بچپن اور کم عمری حائل تھی اور قرآن کریم نے لفظ رشدا نکرہ لا کر اس کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے کہ مکمل ہوشیاری اور دانشمندی شرط نہیں، کسی قدر ہوشیاری بھی اس کے لئے کافی ہے کہ ان کے اموال ان کو دے دیے جائیں، اس لئے پچیس سال تک انتظار کر کے اگر مکمل ہوشیاری نہ بھی آئے تب بھی ان کے اموال ان کو دے دیے جائیں گے، رہی مکمل ہوشیاری اور دانشمندی، سو یہ بعض لوگوں میں عمر بھر نہیں آتی، وہ ہمیشہ سیدھے بھولے رہتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کو اپنے اموال سے محروم نہ کیا جائے گا، ہاں اگر کوئی بالکل پاگل اور مجنون ہی ہو سو اس کا حکم علیحدہ ہے کہ وہ ہمیشہ نابالغ بچوں کے حکم میں رہتا ہے اور اس کے اموال کبھی اسکے حوالہ نہ کئے جائیں گے، جب تک اس کا جنون زائل نہ ہوجائے، اگرچہ ساری عمر اس جنون میں گزر جائے۔ یتیموں کے مال بےجا خرچ کرنے کی ممانعت۔ جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے اس آیت میں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ یتیموں کے مال ان کو اس وقت تک حوالے نہ کرو جب تک ان میں کسی قدر ہوشیاری اور تجربہ نہ آجائے اور اس کے لئے ظاہر ہے کہ مزید کچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔ اس حالت میں یہ امکان تھا کہ اولیاء یتیم کی طرف سے کوئی ایسی زیادتی ہو جس سے یتیم کا نقصان ہو، اس لئے آگے اس آیت میں ارشاد فرمایا ولاتاکلوھا اسرافابداراً ان یکبروا یعنی ”ان اموال کو ضرورت سے زائد اٹھا کر اور اس خیال سے کہ یہ بالغ ہوجائیں گے تو ان کو دینا پڑے گا، جلدی جلدی اڑا کر مت کھا ڈالو“ اس میں اولیاء یتیم کو دو چیزوں سے روکا گیا، ایک ان کے مال میں اسراف یعنی ضرورت سے زائد خرچ کرنے سے دوسرے اس بات سے کہ ان کا مال ضرورت پیش آنے سے پہلے جلد جلد خرچ کرنے لگیں، اس خیال سے عنقریب یہ بڑے ہوجائیں گے تو ان کا مال ان کو دینا پڑے گا، ہمارا اختیار ختم ہوجائے گا۔ یتیم کا ولی اس کے مال میں سے ضرورتاً کچھ لے سکتا ہے۔ آخر آیت میں اس کا ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم بچے کی تربیت اور اس کے مال کی حفاظت میں اپنا وقت اور محنت خرچ کرتا ہے کیا اس کو یہ حق ہے کہ یتیم کے مال میں سے اپنا حق الخدمت کچھ لے لے، چناچہ فرمایا ومن کان غنیاً فلستعفف، یعنی جو شخص حاجت مند نہ ہو اپنی ضرورت کا تکفل کسی دوسرے ذریعہ سے کرسکتا ہے، اس کو چاہئے کہ یتیم کے مال میں سے حق الخدمت نہ لیا کرے، کیونکہ یہ خدمت اس کے ذمہ فرض ہے، اس کا معاوضہ لینا جائز نہیں، پھر فرمایا ومن کان فقیراً فلیاکل بالمعروف یعنی جو ولی یتیم، فقیر محتاج ہو اور دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہ رکھتا ہو وہ یتیم کے مال میں سے ایک مناسب مقدار رکھ سکتا ہے جس سے حاجات ضروریہ پوری ہوجائیں۔ مال سپرد کرتے وقت گواہ بنانا۔ آخر میں ارشاد فرمایافاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم وکفی باللہ حسیباً یعنی ”جب آزمائش کے بعد یتمیوں کے اموال ان کے سپرد کرنے لگو تو چند ثقہ اور نیک لوگوں کو گواہ بنا لیا کرو، تاکہ آئندہ کسی نزاع اور جھگڑے کی صورت پیدا نہ ہو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے حساب میں ہر چیز ہے۔“ اوقاف اور دوسری ملکی اور ملی خدمت کا معاوضہ۔ آیت کے سباق سے ایک فقہی ضابطہ اور اصول معلوم ہوگیا کہ جو لوگ اوقاف کے نگران ہیں، یا مساجد و مدارس کے منتظم ہیں، یا مسلم حکومتوں کے اداروں کے ذمہ دار ہیں، یا ایسی ہی دوسری ملکی اور ملی خدمات جن کا انجام دینا فرض کفایہ ہے ان پر امور ہیں، ان حضرات کے لئے بھی اعلی اور افضل یہ ہے کہ اگر اپنے پاس اتنا اثاثہ ہو، اور وہ اپنے بچوں کے ضروری اخراجات پورے کرسکتے ہوں تو ان اداروں سے اور حکومت کے بیت المال سے کچھ بھی نہ لیں، لیکن اگر اپنے پاس گزارہ کے لئے مال موجود نہ ہو اور کسب کے اوقات ان کاموں میں مشغول ہوجاتے ہوں تو بقدر ضرورت ان اداروں سے مال لے لینے کا اختیار ہے، مگر قدر ضرورت کا لفظ پیش نظر رہے، بہت سے لوگ ضابطہ کے طور پر کاغذی خانہ پرسی کے لئے اپنا ماہانہ کچھ حصہ مقرر کرلیتے ہیں، لیکن مختلف طریقوں سے اس سے کہیں زیادہ بےاحتیاطی کے ساتھ اپنی ذات پر اور بال بچوں پر خرچ کرتے چلے جاتے ہیں، اس بےاحتیاطی کا مداوی ٰ بجز خوف الہی کے کچھ نہیں، جس کی طرف آیت کے اخیر ٹکڑے میں وکفی باللہ حسیباً فرما کر جملہ عوام و خواص کو توجہ دلا دی گئی ہے جسے اللہ کے محاسبہ کا خیال ہو وہی ناجائز مال سے بچ سکتا ہے، وباللہ التوفیق۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے تھوڑا ہو یا بہت ہو حصہ مقرر کیا ہوا ہے

ربط آیات سورة نساء میں اول ہی عام انسانی حقوق خصوصاً عائلی زندگی سے متعلق حقوق کا بیان چل رہا ہے، اس سے پہلی آیت میں یتمیوں کے حقوق کا بیان تھا، مذکورہ چار آیتوں میں بھی عورتوں اور یتیموں کے خاص حقوق متعلقہ وراثت کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں جاہلیت کی اس رسم کو باطل کیا گیا ہے کہ اس زمانہ میں عورتوں کو میراث کا مستحق ہی نہیں مانا جاتا تھا، اس آیت نے ان کو اپنے شرعی حصہ کا مستحق قرار دے کر ان کے حق میں کمی کرنے اور نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت کی، پھر چونکہ مستحقین میراث کا ذکر آیا تھا اور ایسے موقع پر تقسیم کے وقت غیر مستحقین فقراء اور یتیم بچے بھی حاضر ہوجایا کرتے ہیں تو دوسری آیت میں ان کے ساتھ حسن سلوک اور مراعات کا حکم ارشاد فرمایا، لیکن یہ حکم وجوبی نہیں، بلکہ استحبابی ہے۔ اس کے بعد تیسری اور چوتھی آیت میں بھی احکام یتامی کے سلسلہ میں اسی مضمون کی تاکید ہے۔ خلاصہ تفسیر مردوں کے لئے بھی (خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے) حصہ (مقرر) ہے اس چیز میں سے جس کو (ان مردوں کے) ماں باپ اور (دوسرے) بہت نزدیک کے قرابت دار (اپنے مرنے کے وقت) چھوڑ جاویں اور (اسی طرح) عورتوں کے لئے بھی (خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی) حصہ (مقرر) ہے اس چیز میں سے جس کو (ان عورتوں کے) ماں باپ اور (یا دسرے) بہت نزدیک کے قرابت دار (اپنے مرنے کے وقت) چھوڑ جاویں خواہ وہ (چھوڑی ہوئی) چیز قلیل ہو یا کثیر ہو (سب میں سے ملے گا اور) حصہ (بھی ایسا جو) قطعی طور پر مقرر ہے اور جب (وارثوں میں ترکہ کے) تقسیم ہونے کے وقت (یہ لوگ) موجود ہوں (یعنی دور کے) رشتہ دار (جن کا میراث میں حق نہیں) اور یتیم اور غریب لوگ (اس توقع سے کہ شاید ہم کو بھی کچھ مل جاوے، رشتہ دار تو ممکن ہے کہ گمان استحقاق سے اور دوسرے لوگ بامید خیر خیرات کے) تو ان کو بھی اس (ترکہ) میں (جس قدر بالغوں کا ہے اس میں) سے کچھ دے دو اور ان کے ساتھ خوبی (اور نرمی) سے بات کرو (وہ بات رشتہ داروں سے تو یہ ہے کہ سمجھا دو کہ تمہارا حصہ شرع سے اس میں نہیں ہے، ہم معذور ہیں اور دوسروں سے یہ کہ دے کر احسان نہ جتلاؤ) اور (یتامی کے معاملہ میں) ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر اپنے بعد چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ (کرمر) جاویں تو ان (بچوں) کی ان (لوگوں) کو فکر ہو (کہ دیکھئے ان کو کوئی ایذ نہ دے، تو ایسا ہی دوسرے کے بچوں کے لئے بھی خیال رکھنا چاہئے، کہ ہم ان کو آزار نہ دیں) سو (اس بات کو سوچ کر) ان لوگوں کو چاہئے کہ (یتامی کے معاملہ میں) اللہ تعالیٰ (کے حکم کی مخالفت) سے ڈریں (یعنی فعلاً آزار و ضرر نہ پہنچائیں) اور (قولاً بھی ان سے) موقع کی بات کہیں (اس میں تسلی اور دل جوئی کی بات بھی آگئی، اور تعلیم و تادیب کی بات بھی آگئی، غرض ان کے مال اور جان دونوں کی اصلاح رہے) بلاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال بلا استحقاق کھاتے (برتتے) ہیں اور کچھ نہیں اپنے شکم میں (دوزخ کی) آگ (کے انگارے) بھر رہے ہیں (یعنی انجام اس کھانے کا یہ ہونے والا ہے) اور (اس انجام کے مرتب ہونے میں کچھ زیادہ دیر نہیں، کیونکہ) عنقریب (ہی دوزخ کی) جلتی (آگ) میں داخل ہوں گے (وہاں یہ انجام نظر آئے گا۔) معارف و مسائل والدین اور دیگر اقرباء کے اموال میں حق میراث۔ اسلام سے پہلے عرب اور عجم کی قوموں میں انسان کی صنف ضعیف، یتیم بچے اور صنف نازل عورتیں ہمیشہ طرح طرح کے ظلم و ستم کا شکار رہے ہیں، اول تو ان کا کوئی حق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا تھا اور اگر کوئی حق مان بھی لیا گیا تو مردوں سے اس کا وصول کرنا اور اس کا محفوظ رکھنا کسی کی قدرت میں نہ تھا۔ اسلام نے سب سے پہلے ان کو حقوق دلائے پھر ان حقوق کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا، قانون وراثت میں بھی عام اقوام دنیا نے معاشرہ کے ان دونوں ضعیف اجزاء کو ان کے فطری اور واجبی حقوق سے محروم کیا ہوا تھا۔ عرب نے تو اصول ہی یہ بنا لیا تھا کہ وراثت کا مستحق صرف وہ ہے جو گھوڑے پر سوار ہو، اور دشمنوں کا مقابلہ کر کے اس کا مال غنیمت جمع کرے (روح المعانی ص 012 ج 4) ظاہر ہے کہ یہ دونوں صنف ضعیف بچے اور عورتیں اس اصول پر نہیں آسکتیں، اس لئے ان کے اصول وراثت کی رو سے صرف جوان بالغ لڑکا ہی وارث ہوسکتا تھا، لڑکی مطلقاً وارث نہ سمجھی جاتی تھی، خواہ بالغ ہو یا نابالغ اور لڑکا بھی اگر نابالغ ہوتا تو وہ بھی مستحق وراثت نہ تھا۔ رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک واقہ پیش آیا کہ اوس بن ثابت کا انتقال ہوا اور دو لڑکیاں ایک لڑکا نابالغ اور ایک بیوی وارث چھوڑے، مگر عرب کے قدیم دستور کے مطابق ان کے دو چچا زاد بھائیوں نے آ کر مرحم کے پورے مال پر قبضہ کرلیا اور اولاد اور بیوی میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، کیونکہ ان کے نزدیک عورت تو مطلقاً مستحق وراثت نہ سمجھی جاتی تھی خواہ بالغ ہو یا نابالغ اس لئے بیوی اور دونوں لڑکیاں تو یوں محروم ہوگئیں اور لڑکا بوجہ نابالغ ہونے کے محروم کردیا گیا، لہٰذا پورے مال کے وارث دو چچا زاد بھائی ہوگئے۔ اوس بن ثابت ؓ کی بیوہ نے یہ بھی چاہا کہ یہ چچا زاد بھائی جو پورے ترکہ پر قبضہ کر رہے ہیں تو ان دونوں لڑکیوں سے شادی بھی کرلیں تاکہ ان کی فکر سے فراغت ہو، مگر انہوں نے یہ بھی قبول نہ کیا، تب اوس بن ثابت کی بیوہ نے رسول کریم ﷺ سے عرض حال کیا اور اپنی اور اپنے بچوں کی بےکسی اور محرومی کی شکایت کی، اس وقت تک چونکہ قرآن حکیم میں آیت میراث نازل نہ ہوئی تھی، اس لئے آنحضرت ﷺ نے جواب دینے میں توقف فرمایا، آپ کو اطمینان تھا وحی الہی کے ذریعہ اس ظالمانہ قانون کو ضرور بدلا جائے گا، چناچہ اسی وقت یہاں نازل ہوئی۔ للرجال نصیب مماترک الوالدن والاقربون للنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثرنصیباً مفروضا اور اس کے بعد دوسری آیت وراثت نازل ہوئی جس میں حصوں کی تفصیلات ہیں، اور اس سورت کا دوسرا رکوع ان تفصیلات پر مشتمل ہے، حضور اقدس ﷺ نے احکام قرآنی کے مطابق کل ترکہ کا آٹھواں حصہ بیوی کو دے کر بایں طور پر سب مال مرحوم کے لڑکے اور لڑکیوں کو اس طرح تقسیم کردیا کہ اس کا آدھا لڑکے کو اور آدھے میں دونوں لڑکیاں برابر کی شریک رہیں اور چچا زاد بھائی بمقابلہ اولاد کے چونکہ اقرب نہ تھے اس لئے ان کو محروم کیا گیا۔ (روح المعانی) استحقاق میراث کا ضابطہ۔ اس آیت نے وراثت کے چند احکام کے ضمن میں قانون راثت کا ضابطہ بیان فرما دیا ہے۔ مما ترک الوالدن والاقربون، ان دو لفظوں نے وراثت کے دو بنیادی اصول بتلا دیئے، ایک رشتہ ولادت، جو اولاد اور ماں باپ کے درمیان ہے اور جس کو لفظ والدان سے بیان کیا گیا ہے دوسرے عام رشتہ داری جو لفظ قاقربون کا مفہوم ہے، اور صحیح یہ ہے کہ لفظ ”اقربون“ ہر قسم کی قرابت اور رشتہ داری کو حاوی ہے، خواہ وہ رشتہ باہمی ولادت کا ہو جیسے اولاد اور ماں باپ میں، یا دوسری طرح کا جیسے عام خاندانی رشتوں میں یا وہ رشتے جو ازدواجی تعلق سے پیدا ہوئے ہیں، لفظ ”اقربون“ سب پر حاوی ہے، لیکن والدین کو ان کی اہمیت کی وجہ سے بطور خاص جدا کردیا گیا، پھر اس لفظ نے یہ بھی بتلا دیا کہ مطلق رشتہ داری وراثت کے لئے کافی نہیں، بلکہ رشتہ میں اقرب ہونا شرط ہے، کیونکہ اگر اقربیت کو معیاری شرط نہ بنایا جائے تو ہر مرنے والے کی وراثت پوری دنیا کی تمام انسانی آبادی پر تقسیم کرنا ضروری ہوجائے گا، کیونکہ سب ایک ماں باپ آدم و حوا علہما السلام کی اولاد ہیں، دور قریب کا کچھ نہ کچھ رشتہ سب میں موجود ہے، اور یہ اول تو امکان سے باہر ہے، دوسرے اگر کسی طرح کوشش کر کے اس کا انتظام کر بھی لیا جائے تو متروکہ مال جزء لایتجزی بن کر ہی تقسیم ہو سکے گا جو کسی کے کام نہ آئے گا، اس لئے ضروری ہوا کہ جب وراثت کا مدار رشتہ داری پر ہو تو اصول یہ بنایا جائے کہ اگر نزدیک و دور کے مختلف رشتہ دار جمع ہوں تو قریبی رشتہ دار کو بعید پر ترجیح دے کر اقرب کے ہوتے ہوئے ابعد کو حصہ نہ دیا جائے، ہاں اگر کچھ رشتہ دار ایسے ہوں جو بیک وقت سب کے سب اقرب قرار دیئے جائیں، اگرچہ وجوہ اقربیت ان میں مختلف ہوں تو پھر یہ سب مستحق وراثت ہوں گے جیسے اولاد کے ساتھ ماں باپ یا بیوی وغیرہ کہ یہ سب اقرب ہیں اگرچہ اقربیت کی وجوہ مختلف ہیں۔ نیز ایک اور بات اسی لفظ ”اقربون“ نے یہ بتلائی کہ جس طرح مردوں کو مستحق وراثت سمجھا جاتا ہے اسی طرح عورتوں اور بچوں کو بھی اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ رشتہ اولاد کا یا ماں باپ کا ہو، یا دوسری قسم کے رشتے ہر ایک میں رشتہ داری کی حیثیت لڑکے اور لڑکی میں یکساں ہے، جس طرح لڑکا ماں باپ سے پیدا ہوا ہے، اسی طرح لڑکی بھی انہی سے پیدا ہوئی ہے جب حق وراثت کا مدار رشتہ پر ہوا تو چھوٹے بچے یا لڑکی کو محروم کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ پھر قرآن کریم کے اسلوب کو دیکھئے کہ للرجال والنساء کو جمع کر کے مختصر لفظوں میں ان کے حق کا بیان ہوسکتا تھا، اس کو اختیار نہیں کیا، بلکہ مردوں کے حق کو جس تفصیل سے بیان کیا ہے اسی تفصیل و تشریح کے ساتھ عورتوں کا حق جداگانہ بیان فرمایا، تاکہ دونوں کے حقوق کا مستقل اور اہم ہونا واضح ہوجائے۔ نیز اسی لفظ ”اقربون“ سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ مال وراثت کی تقسیم ضرورت کے معیار سے نہیں بلکہ قرابت کے معیار سے ہے، اس لئے یہ ضروری نہیں کہ رشتہ داروں میں جو زیادہ غریب اور حاجت مند ہو اس کو زیادہ وراثت کا مستحق سمجھا جائے، بلکہ جو میت کے ساتھ رشتہ میں قریب تر ہوگا وہ بہ نسبت بعید کے زیادہ مستحق ہوگا، اگرچہ ضرورت اور حاجت بعید کو زیادہ ہو، اگر اقربیت کے ضابطہ کو چھوڑ کر بعض رشتہ داروں کے محتاج یا نافع ہونے کو معیار بنا لیا جائے تو نہ اس کا ضابطہ بن سکتا ہے اور نہ یہ ایک طے شدہ مستحکم قانون کی شکل اختیار کرسکتا ہے، کیونکہ اقربیت کے علاوہ دوسرا معیار لامحالہ وقتی اجتہادی ہوگا، کیونکہ فقر و حاجت کوئی دائمی چیز نہیں، اس لئے کہ حالات بھی بدلتے رہتے ہیں درجات بھی ایسی صورت میں استحقاق کے بہت سے دعویدار نکل آیا کریں گے اور فیصلہ کرنے والوں کو ان کا فیصلہ مشکل ہوگا۔ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ۔ اگر اس قرآنی اصول کو سمجھ لیا جائے تو یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ جو آج کل بلاوجہ ایک نزاعی مسئلہ بنادیا گیا ہے، وہ خود بخود ایک قطعی فیصلہ کے ساتھ حل ہوجاتا ہے کہ اگر یتیم پوتا بہ نسبت بیٹے کے ضرورت مند زیادہ ہو، لیکن ”اقربون“ کے قانون کی رو سے وہ مستحق وراثت نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ بیٹے کی موجودگی میں اقرب نہیں، البتہ اس کی ضرورت رفع کرنے کے لئے دوسرے انتظامات کئے گئے ہیں جس میں سے ایک ایسا ہی انتظام اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ اس مسئلہ میں موجودہ دور کے مغرب زدہ مجددین کے علاوہ کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا، ساری امت آج تک قرآن و حدیث کی تصریحات سے یہی سمجھتی آئی ہے کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے کو میراث نہ ملے گی، خواہ اس کا باپ موجود ہو یا مر گیا ہو۔ متوفی کی ملکیت میں جو کچھ ہو سب میں وراثت کا حق ہے۔ اس آیت میں مما قل منہ اوکثر فرما کر ایک دوسری جاہلانہ رسم کی اصلاح فرمائی گئی ہے، وہ یہ کہ بعض قوموں میں بعض اقسام مال کو بعض خاص وارثوں کے لئے مخصوص کرلیا جاتا تھا، مثلاً گھوڑا اور تلوار وغیرہ اسلحہ یہ سب صرف نوجوان مردوں کا حق تھا، دوسرے وارثوں کو ان سے محرم کردیا جاتا تھا، قرآن کریم کی اس ہدایت نے بتلا دیا کہ میت کی ملکیت میں جو چیز بھی تھی، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہر چیز میں ہر وارث کا حق ہے، کسی وارث کو کوئی خاص چیز بغیر تقسیم کے خود رکھ لینا جائز نہیں۔ میراث کے مقررہ حصے اللہ کی جانب سے طے شدہ ہیں۔ آخر آیت میں جو ارشاد فرمایا نصیباً مفروضاً ، اس سے یہ بھی بتلا دیا کہ مختلف وارثوں کے جو مختلف حصے قرآن نے مقرر فرمائے ہیں، یہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں، ان میں کسی کو اپنی رائے اور قیاس سے کمی بیشی یا تغیر و تبدل کا کوئی حق نہیں۔ وراثت ایک جبری ملک ہے اس میں مالک ہونے والے کی رضامندی شرط نہیں۔ اور اسی لفظ مفروضاً ، سے ایک اور مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ وراثت کے ذریعہ جو ملکیت وارثوں کی طرف منتقل ہوتی ہے ملکیت جبری ہے نہ اس میں وارث کا قبول کرنا شرط ہے، نہ اس کا اس پر راضی ہونا ضروری ہے بلکہ اگر وہ زبان سے بصراحت یوں بھی کہے کہ میں اپنا حصہ نہیں لیتا تب بھی وہ شرعاً اپنے حصے کا مالک ہوچکا یہ دوسری بات ہے کہ وہ مالک بن کر شرعی قاعدہ کے مطابق کسی دوسرے کو ہبہ کر دے یا بیچ ڈالے یا تقسیم کر دے۔ محروم الارث رشتہ داروں کی دلداری ضروری ہے۔ میت کے رشتہ داروں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو ضابطہ شرعی کے ماتحت اس کی میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا، لیکن یہ ظاہر ہے کہ فرائض کی تفصیلات کا علم ہر شخص کو نہیں ہوتا، عام طور پر ہر رشتہ دار خواہش مند ہوتا ہے کہ اس کو بھی میراث میں سے حصہ ملے، اس لئے وہ رشتہ دار جو شرعی ضابطہ میراث کے تحت محروم قرار دیئے گئے ہیں، تقسیم میراث کے وقت ان کا دل افسردہ اور رنجیدہ ہوسکتا ہے خصوصاً جب کہ تقسیم میراث کے وقت وہ موجود بھی ہوں اور بالخصوص جبکہ ان میں کچھ یتیم اور مسکین حاجت مند بھی ہوں ایسی حالت میں جب کہ دوسرے رشتہ دار اپنا اپنا حصہ لے جا رہے ہوں اور یہ کھڑے دیکھ رہے ہیں ان کی حسرت وایاس اور دل شکنی کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن پر کبھی یہ کیفیت گزری ہو۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول،

اب قرآنی نظام کی خوبی و خوش اسلوبی کو دیکھئے کہ ایک طرف تو خود قرآن ہی کا بتایا ہوا عادلانہ ضابطہ یہ ہے کہ اقرب کے مقابل ہمیں ابعد کو محروم کیا جائے۔ دوسری طرف محروم ہونے والے ابعد کی حسرت اور دل شکنی بھی گوارا نہیں کی جاتی، اس کے لئے ایک مستقل آیت میں یہ ہدایت کی گئی واذا حضرالقسمة الوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوالھم قولاً معروفاً ”یعنی جو دور کے رشتہ دار اور یتیم مسکین میراث میں حصہ پانے سے محرم ہو رہے ہوں، اگر وہ تقسیم میراث کے وقت آموجود ہوں تو میراث پانے والوں کا اخلاقی فرض ہے کہ اس مال میں سے با اختیار خود کچھ حصہ ان کو بھی دیدیں جو ان کے لئے ایک قسم کا صدقہ اور موجب ثواب ہے، اور ایسے وقت میں جب کہ ایک مال بغیر کسی سعی و عمل کے محض اللہ تعالیٰ کے دین سے انہیں مل رہا ہو تو صدقہ خیرات فی سبیل اللہ کا خود بھی داعیہ دل میں ہونا چاہئے“ جیسا کہ اس کی ایک نظیر دوسری آیت میں مذکور ہے، کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ ”یعنی اپنے باغ کا پھل کھاؤ جب کہ وہ پھل دینے لگے اور جس روز پھل کاٹو تو اس کا حق نکال کر فقراء و مساکین کو دیدو۔“ (یہ آیت سورة انعام 241 میں آ رہی ہے) خلاصہ یہ ہے کہ میراث کی تقسیم کے قوت اگر کچھ دور کے رشتہ دار یتیم، مسکین وغیرہ جمع ہوجائیں جن کا کوئی حصہ ضابطہ شرعی سے اس میراث میں نہیں ہے تو ان کے جمع ہوجانے سے تم تنگدل نہ ہو، بلکہ جو مال اللہ تعالیٰ نے تمہیں بلا محنت عطا فرمایا ہے اس میں سے بطور شکرانہ کچھ عطا کردو اور غنیمت جانو کہ خرچ کا ایک اچھا موقع مل رہا ہے اس موقع پر ان لوگوں کو کچھ نہ کچھ دیدینے سے ان دور کے رشتہ داروں کی دل شکنی اور حسرت کا ازالہ ہوجائے گا، اس میں مرنے والے کا محروم الارث پوتا بھی آ گیا، اس کے چچاؤں اور پھوپھیوں کو چاہئے کہ اس کو اپنے اپنے حصہ سے بخوشی کچھ دیدیں۔ آخر آیت میں فرمایا وقولوالھم قولاً معروفاً ، اگر یہ لوگ اس طرح تھوڑا سا دینے پر بھی راضی نہ ہوں بلکہ دوسروں کے برابر حصہ کا مطالبہ کرنے لگیں تو چونکہ ان کا یہ مطالبہ قانون شرع کے خلاف اور غیر منصفانہ ہے، اس لئے ان کا مطالبہ پورا کرنے کی تو گنجائش نہیں، لیکن اس پر بھی ان کو کوئی ایسی بات نہیں کہی جائے جس سے ان کی دل شکنی ہو، بلکہ معقول طور پر ان کو سمجھایا جائے کہ شرعی قاعدہ سے میراث میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، ہم نے جو کچھ دیا ہے وہ محض تبرعاً دیا ہے اور ایک بات یہ معلم کرلینا ضروری ہے کہ ان لوگوں کو تبرعاً جو دیا جائے گا مجموعی مال میں سے نہیں، بلکہ بالغین ورثاء میں سے جو حاضر ہوں وہ اپنے حصہ میں سے دیں، نابالغ اور غائب کے حصہ میں سے دینا درست نہیں۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑی ہے اپنے پیچھے اولاد ضعیف تو ان پر اندیشہ کریں یعنی ہمارے پیچھے ایسا ہی حال ان کا ہوگا، تو چاہئے کہ ڈریں اللہ سے اور کہیں بات سیدھی،

اللہ سے ڈرتے ہوئے میراث تقسیم کریں تیسری آیت میں عام مسلمانوں کو خطاب عام ہے کہ اس کا پورا اہتمام کریں کہ مرنے والے کا ترکہ اس کی اولاد کو پورا پورا پہنچ جائے اور ہر ایسے طریقہ سے پرہیز کریں جس میں اولاد کے حصہ پر کوئی ناگوارا اثر پڑتا ہو، اس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی مسلمان کو کوئی ایسی وصیت یا تصرف کرتے ہوئے دیکھیں جس سے اس کی اولاد اور دوسرے وارثوں کو نقصان پہنچ جانے کا خطرہ ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کو ایسی وصیت یا ایسے تصرف سے روکیں، جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو اپنا پورا مال یا آدھا مال صدقہ کرنے سے روک دیا اور صرف ایک تہائی مال کو صدقہ کرنے کی اجازت دیدی، (مشکوة باب الوصایا، ص 562) کیونکہ پورا مال یا آدھا مال صدقہ کردیا جاتا تو وارثوں کا حصہ ختم یا کم ہوجاتا۔ نیز اس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ یتیم بچوں کے اولیاء ان کے مال کی حفاظت اور پھر بالغ ہونے کے بعد ان کو پورا پورا دینے کا بڑا اہتمام کریں، اس میں ادنی کوتاہی کو راہ نہ دیں اور دوسروں کے یتیم بچوں کے حالات کو اپنے بچوں اور اپنی محبت کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بعد ان کی اولاد کے ساتھ لوگ اچھا معاملہ کریں اور وہ پریشان نہ ہوں کوئی ان پر ظلم نہ کرے تو ان کو چاہئے کہ دوسرے کی اولاد یتامی کے ساتھ یہی معاملہ کریں۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب داخل ہوں گے آگ میں۔

یتیم کا مال ظلماً کھانا پیٹ میں انگارے بھرتا ہے چوتھی آیت میں یتمیوں کے مال میں ناجائز تصرف کرنے والوں کے لئے وعید شدید کا بیان ہے، کہ جو شخص ناجائز طور پر یتیم کا مال کھاتا ہے وہ اپنے پٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ اس آیت نے یتیم کے مال کو جہنم کی آگ قرار دیا ہے، بہت سے مفسرین نے اس کو تشبیہ اور کنایہ پر محمول کیا ہے، یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا ایسا ہے جیسے کوئی پیٹ میں آگ بھرے، کیونکہ اس کا انجام بالآخر قیامت میں ایسا ہی ہونے والا ہے، مگر اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ آیت میں کوئی مجاز اور کتابہ نہیں ہے، بلکہ جو مال یتیم کا ناجائز طریقہ سے کھایا جائے وہ حقیقت میں آگ ہی ہے، اگرچہ اس وقت اس کی صورت آگ کی معلوم نہ ہوتی ہو، جیسے کوئی شخص دیا سلائی کو کہے کہ یہ آگ ہے، یا سنکھیا کو کہے کہ قاتل ہے، تو ظاہر ہے کہ دیاسلائی کو ہاتھ میں لینے سے ہاتھ نہیں جلتا اور سنکھئے کو ہاتھ میں لینے سے بلکہ منہ میں رکھنے سے بھی کوئی آدمی نہیں مرتا، البتہ ذرا سی رگڑ کھانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جس نے دیا سلائی کو آگ کہا تھا وہ صحیح کہا تھا اسی طرح حلق کے نیچے اترنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ سنکھیا کو قاتل کہنے والا سچا تھا، قرآن کریم کے عام اطلاقات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ انسان جو عمل نیک یا بد کر رہا ہے یہی عمل جنت کے درخت اور پھل پھول ہیں یہ جہنم کے انگارے ہیں، اگرچہ ان کی صورت یہاں اور ہے، مگر قیامت کے روز اپنی شکلوں میں متشکل ہو کر سامنے آئیں گی، قرآن کریم کا ارشاد ہےووجدواما عملوا حاضراً یعنی قیامت کے روز وہ اپنے کئے ہوئے کو موجود پائیں گے، یعنی جو عذاب وثواب ان کو نظر آئے گا وہ حقیقت میں ان کا اپنا عمل ہوگا۔ بعض روایات میں ہے کہ یتیم کا مال ناحق کھانے والا قیامت کے روز اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ پیٹ کے اندر سے آگ کی لپٹیں اس کے منہ، ناک اور کانوں آنکھوں سے نکل رہی ہوں گی۔ اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک قوم قیامت کے روز اس طرح اٹھائی جائے گی کہ ان کے منہ آگ سے بھڑک رہے ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں نہیں پڑھا ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلماً (ابن کثیر 654 ج 1) آیت کے مضمون کا خلاصہ یہ ہوا کہ یتیم کا مال جو ناحق کھایا جائے وہ درحقیقت جہنم کی آگ ہوگی گو اس وقت اس کا آگ ہونا محسوس نہ ہو، اسی لئے رسول کریم ﷺ نے اس معاملہ میں شدید احتیاط کے لئے واضح ہدایات دی ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ”میں تم کو خاص طور پر دو ضعیفوں کے مال سے بچنے کی تنبیہ کرتا ہوں، ایک عورت، اور دوسرے یتیم۔“ سورة نساء کے اول رکوع میں شروع سے آخر تک عموماً ہی کے احکام ہیں، یتامی کے اموال کی نگہداشت رکھنے، ان کے مال کو اپنا مال نہ بنا لینے، ان کے وراثت میں ملے ہوئے اموال سے ان کو حصہ دینے کا حکم فرمایا اور بڑا ہوجانے کے ڈر سے ان کا مال اڑا دینے میں جلدی کرنا، یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے مہر کم کردینا، یا ان کے مال پر قبضہ کرلینا وغیرہ ان سب امور کی ممانت فرمائی۔ آخر میں فرمایا کہ ناحق یتیم کا مال کھانا پیٹ میں آگ کے انگارے بھرنا ہے، کیونکہ اس کی پاداش میں موت کے بعد اس طرح کے لوگوں کے پیٹوں میں آگ بھری جائے گی، لفظ یاکلون استعمال فرمایا ہے اور یتیم کا مال کھانے پر وعید سنائی گئی ہے، لیکن یتیم کے مال کا ہر استعمال کھانے پینے میں ہو یا برتنے میں، سب حرام اور باعث عتاب و عذاب ہے، کیونکہ محاورے میں کسی کا مال ناحق کھا لینا ہر استعمال کو شامل ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص وفات پا جاتا ہے تو اس کے مال کے ہر ہر حصہ اور ہر چھوٹی بڑی چیز کے ساتھ ہر وارث کا حق متعلق ہوجاتا ہے، اس کے نابالغ بچے یتیم ہوتے ہیں، ان بچوں کے ساتھ عموماً ہر گھر میں ظلم و زیادتی کا برتاؤ ہوتا ہے اور ہر وہ شخص جو ان بچوں کے باپ کی وفات کے بعد مال پر قابض ہوتا ہے خواہ ان بچوں کا چچا ہو یا بڑا بھائی ہو یا والدہ ہو یا اور کوئی ولی یا وصی ہو، اکثر ان امر کے مرتکب ہوجاتے ہیں جن کی ممانعت اس رکوع میں کی گئی ہے، اول تو سالہا سال مال کی تقسیم کرتے ہی نہیں، ان بچوں کی روٹی کپڑے پر تھوڑا بہت خرچ کرتے رہتے ہیں، پھر بدعات، رسومات اور فضولیات میں اسی مال مشترک سے خرچ کئے چلے جاتے ہیں۔ اپنی ذات پر بھی خرچ کرتے ہیں اور سرکاری کاغذات میں نام بدلوا کر اپنے بچوں کا نام لکھواتے ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن سے کوئی ہی گھر خالی رہتا ہوگا۔ مدرسوں اور یتیم خانوں میں جو چندہ یتیموں کے لئے آتا ہے اس کو یتمیوں پر خرچ نہ کرنا بھی ایک صورت یتیم کا مال ہضم کرنے کی ہے۔ مسئلہ۔ میت کے بدن کے کپڑے بھی ترکہ میں شامل ہوتے ہیں، ان کو حساب میں لگائے بغیر یونہی صدقہ کردیتے ہیں، بعض علاقوں میں تانبے پیتل کے برتن مال کو تقسیم کئے بغیر فقیروں کو دیدیتے ہیں، حالانکہ ان سب میں نابالغوں اور غیر حاضر وارثوں کا بھی حق ہوتا ہے، پہلے مال بانٹ لیں، جس میں سے مرنے والے کی اولاد، بیوی، والدین، بہنیں، جس جس کو شرعاً حصہ پہنچتا ہو اس کو دیدیں، اس کے بعد اپنی خوشی سے جو شخص چاہے مرنے والے کی طرف سے خیرات کریں، یا مل کر کریں تو صرف بالغین کریں، نابالغ کی اجازت کا بھی اعتبار نہیں اور جو وارث غیر حاضر ہو اس کے حصہ میں اس کی اجازت کے بغیر بھی تصرف درست نہیں۔ مسئلہ۔ میت کو قبرستان لے جاتے وقت جو چادر جنازہ کے اوپر ڈالی جاتی ہے وہ کفن میں شامل نہیں ہے، اس کو میت کے مال سے خریدنا جائز نہیں، کیونکہ وہ مال مشترک ہے کوئی شخص اپنی طرف سے خرچ کر دے تو جائز ہے، بعض علاقوں میں نماز جنازہ پڑھا نیوالے امام کے لئے کفن ہی کے کپڑے میں سے مصلی تیار کیا جاتا ہے اور پھر یہ مصلی امام کو دے دیا جاتا ہے یہ خرچ بھی کفن کی ضرورت سے فاضل ہے، ورثہ کے مشترک مال میں سے اس کا خریدنا جائز نہیں۔ مسئلہ۔ بعض جگہ میت کے غسل کے لئے نئے برتن خریدے جاتے ہیں، پھر ان کو توڑ دیا جاتا ہے، اول تو نئے خریدنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ گھر کے موجودہ برتنوں سے غسل دیا جاسکتا ہے اور اگر خریدنے کی ضرورت پڑجائے تو توڑنا جائز نہیں، اول تو اس میں مال ضائع کرنا ہے اور پھر ان سے یتمیوں کا اور غائب وارثوں کا حق وابستہ ہے۔ مسئلہ۔ ترکہ کی تقسیم سے پہلے اس میں سے مہمانوں کی خاطر تواضح اور صدقہ و خیرات کچھ جائز نہیں، اس طرح کے صدقہ خیرات کرنے سے مردے کو کوئی ثواب نہیں پہنچتا۔ بلکہ ثواب سمجھ کردینا اور بھی زیادہ سخت گناہ ہے، اس لئے کہ مورث کے مرنے کے بعد اب یہ سب مال تمام وارثوں کا حق ہے اور ان میں یتیم بھی ہوتے ہیں، اس مشترک مال میں سے دینا ایسا ہی جیسا کہ کسی کا مال چرا کر میت کے حق میں صدقہ کردیا جائے، پہلے مال تقسیم کردیا جائے، اس کے بعد اگر وہ وارث اپنے مال میں سے اپنی مرضی سے میت کے حق میں صدقہ خیرات کریں تو ان کو اختیار ہے۔ تقسیم سے پہلے بھی وارثوں سے اجازت لے کر مشترک ترکہ میں سے صدقہ خیرات نہ کریں، اس لئے کہ جو ان میں یتیم ہیں ان کی اجازت تو معتبر ہی نہیں اور جو بالغین ہیں وہ بھی ضروری نہیں کہ خوش دلی سے اجازت دیں، ہوسکتا ہے وہ لحاظ کی وجہ سے اجازت دینے پر مجبور ہوں اور لوگوں کے طعنوں کے خوف سے کہ اپنے مردہ کے حق میں دو پیسے تک خرچ نہ کئے، اس عار سے بچنے کے لئے بادل ناخواستہ بامی بھر لے ........ حالانکہ شریعت میں صرف وہ مال حلال ہے جب کہ دینے والا طیب خاطر سے دے رہا ہو، جس کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے۔ یہاں ہم ایک بزرگ کا واقعہ نقل کرتے ہیں، جس سے مسئلہ اور زیادہ واضح ہوجائے گا یہ بزرگ ایک مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، تھوڑی دیر مریض کے پاس بیٹھے تھے کہ اس کی روح پرواز کرگئی، اس موقع پر جو چراغ جل رہا تھا انہوں نے فوراً اسے بجھا دیا اور اپنے پاس سے پیسے دے کر تیل منگایا اور روشنی کی، لوگوں نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا جب تک یہ شخص زندہ تھا یہ چراغ اس کی ملکیت تھی اور اس کی روشنی استعمال کرنا درست تھا، اب یہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو اس کو ہر چیز میں وارثوں کا حق ہوگیا، لہٰذا سب وارثوں کی اجازت ہی سے ہم یہ چراغ استعمال کرسکتے ہیں اور وہ سب یہاں موجو نہیں ہیں، لہٰذا اپنے پیسوں سے تیل منگوا کر روشنی کی۔