Ayah 4:24والمحصنت من النسآء
یعنی شوہروں والی عورتیں بھی حرام کی گئیں جب تک کوئی عورت کسی شخص کے نکاح میں ہو، دوسرا شخص اس سے نکاح نہیں کرسکتا، اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ایک عورت بیک وقت ایک سے زائد شوہر والی نہیں ہو سکتی ہے، اس دور کے بعض جاہل ملحد کہنے لگے ہیں کہ مردوں کو جب ایک سے زائد بیویوں کی اجازت ہے تو عورتوں کو بھی ایک سے زائد شوہروں سے متمتع ہونے کی اجازت ملنی چاہئے، یہ مطالبہ اس آیت شریفہ کے بالکل خلاف ہے، ایسی جاہلانہ باتیں کرنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ مرد کے لئے کثرت تاریخ شاہد ہے، لیکن عورت کے لئے ایک وقت میں ایک سے زائد شوہر ہونا، اس عورت کے لئے بھی باعث مصیبت ہے اور جو دو مرد ایک عورت کے شوہر بن جائیں ان کے لئے بھی باعث ننگ و عار ہے اور اس بےشرمی ہے نیز اس میں کسی بچہ کے ثابت النسب ہونے کا بھی کوئی راستہ باقی نہیں رہتا، جب کئی مرد کسی عورت سے استمتاع کریں گے تو پیدا ہونے والی اولاد کو ان میں سے کسی ایک کا بیٹا تجویز کرنے کا کوئی طریق باقی نہ رہے گا، اس طرح کا بدترین مطالبہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو انسانیت کے سراپا دشمن ہوں اور جن کی غیرت و حیا کا جنازہ نکل چکا ہو ایسے لوگ اولاد اور والدین کے حقوق کی لائن سے وجود میں آنے والی رحمتوں سے پوری انسانیت کو محروم کرنے کی حمایت میں لگے ہوئے ہیں، جب نسب ثابت نہیں ہوگا تو باہمی حقوق و فرائض کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی ؟
خالص طبعی اور عقلی اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو ایک عورت کے لئے متعدد شوہر ہونے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
1۔ ازدواج کا بنیادی مقصد تناسل ہے، اس اعتبار سے متعدد عورتیں تو ایک مرد سے حاملہ ہو سکتی ہیں لیکن ایک عورت متعدد مردوں سے حاملہ نہیں ہو سکتی وہ ایک ہی سے حاملہ ہوگی، اس لئے متعدد شوہروں کی صورت میں ایک کے علاوہ باقی شوہروں کی قوت ضائع گئی۔ شہوت رانی کے سوا ان کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔
2۔ تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ عورت مرد کے مقابلہ میں صنف نازک ہے وہ سال کے اکثر حصہ میں استمتاع کے بھی قابل نہیں رہتی، بعض حالات میں اس کے لئے ایک ہی شوہر کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہوتا، چہ جائے کہ ایک سے زیادہ شوہر ہوں۔
3۔ چونکہ مرد جسمانی قوت کے اعتبار سے عورت کے مقابلہ میں زیادہ صحت مند ہے، اس لئے اگر کسی مرد کی جنسی قوت معمول سے زیادہ ہو اور ایک عورت سے اس کی تشفی نہ ہو سکتی ہو تو اسے جائز طریقہ سے دوسرے اور تیسرے نکاح کا موقع ملنا چاہئے، ورنہ وہ دوسرے ناجائز طریقے اختیار کرے گا اور پورے معاشرے کو باگڑ دے گا، لیکن عورت سے ایسے بگاڑ کا اندیشہ نہیں ہے۔
شریعت اسلامیہ میں اس مسئلہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نہ صرف کسی شخص کے نکاح میں ہوتے ہوئے عورت کے دوسرے نکاح کو حرام قرار دیا ہے بلکہ کسی عورت کا کوئی شوہر طلاق دیدے یا مر جائے تو اس کی عدت گزرنے تک بھی کسی دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
الاماملکت ایمانکم یہ جملہ اوالمحصنت من النسآء سے استثناء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر والی بیوی سے کسی دوسرے شخص کو نکاح کرنا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی عورت مملوکہ باندی ہو کر آجائے جس کی صورت یہ ہے کہ مسلمانوں نے دارالحرب کے کافروں سے جہاد کیا اور وہاں سے کچھ عورتیں قید کر کے لے آئے، ان عورتوں میں جو عورت دارالاسلام میں لائی گئی اور اس کا شوہر دارالحرب میں رہ گیا، تو اس عورت کا نکاح دارالاسلام میں آنے سے اپنے سابق شوہر سے ختم ہوگیا، اب یہ عورت اگر کتابیہ یا مسلمہ ہو تو اس سے دارالاسلام کا کوئی بھی مسلمان نکاح کرسکتا ہے اور اگر امیر المومنین اس کو باندی بنا کر کسی فوجی سپاہی کو مال غنیمت کی تقسیم میں دیدے تب بھی اس سے استمتاع جائز ہے ........ لیکن یہ نکاح و استمتاع ایک حیض آنے کے بعد ہی جائز ہے اور اگر حمل ہے تو وضع حمل ضروری ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی کافر عورت دالحرب میں مسلمان ہوجائے اور اس کا شوہر کافر ہے تو تین حیض گذرنے کے بعد وہ اس کے نکاح سے جدا ہوجائے گی۔
مسئلہ۔ اور اگر دارالسلام میں کوئی کافر عورت مسلمان ہوجائے اور اس کا شوہر کافر ہو تو حاکم شرع اس کے شوہر پر اسلام پیش کرے اگر وہ مسلمان ہونے سے انکار کرے تو قاضی ان دونوں میں تفریق کر دے اور یہ تفریق طلاق شمار ہوگی اس کے بعد عدت گذار کر وہ عورت کسی مسلمان سے نکاح کرسکتی ہے۔
کتب اللہ علیکم، یعنی جن محرمات کا ذکر ہوا ان کی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے، قال القرطبی ای حرمت ھذہ النسآء کتاباً من اللہ علیکم۔
واحل لکم ماورآء ذلکم، یعنی جو محرمات اب تک مذکور ہوئیں ان کے علاوہ دوسری عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں، مثلاً چچا کی لڑکی، خالہ کی لڑکی، ماموں زاد بہن، ماموں چچا کی بیوی ان کی فات یا طلاق دینے کے بعد بشرطیکہ یہ مذکوررہ اقسام اور کسی رشتہ سے محرم نہ ہوں اور اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی، جب وہ طلاق دیدے یا وفات پا جائے، بیوی مر جائے تو اس کی بہن کے ساتھ ........ وغیرہ ........ بیشمار صورتیں بنتی ہیں، ان سب کو ما ورآء ذلکم کے عموم میں داخل فرمایا دیا۔
مسئلہ۔ بیک وقت چار عورتوں سے زیادہ کو نکاح میں رکھنا جائز نہیں، اس کا تفصیلی بیان سورة نسآء کے شروع میں گذر چکا ہے، قریب کی آیت میں اس کا ذکر نہ دیکھ کر کسی کو یہ مغالطہ نہ ہوجائے کہ ماورآء ذلکم کے عموم میں بغیر کسی پابندی کے عورتوں سے نکاح جائز ہے، نیز بہت سی محرمات وہ ہیں جن کا ذکر احادیث شریفہ میں ہے اور ان کی طرف آیات میں اشارات بھی ہیں، جن کو ہم تفسیر کے ذیل میں ذکر کرتے چلے آئے ہیں۔
ان تبتغوا باموالکم یعنی محرمات کا یہ بیان تہارے لئے اس لئے کیا گیا ہے کہ اپنے مالوں کے ذریعہ حلال عورتیں تلاش کرو اور ان کو اپنے نکاح میں لاؤ۔
ابوبکر حصاص ؒ احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نکاح مہر سے خالی نہیں ہو سکتی (حتی کہ اگر زوجین آپس میں یہ طے کرلیں کہ نکاح بغیر مہر کے ہوگا تب بھی مہر لازم ہوگا، جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے) دوسرے یہ بات معلوم ہوئی کہ مہر وہ چیز ہونی چاہئے جس کو مال کہا جاسکے۔
حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہئے، ایک درہم ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوتا ہے۔
محصنین غیر مسافحین یعنی اپنے مالوں کے ذریعہ حلال عورتیں طلب کرو اور یہ سمجھ لو کہ عورتوں کی تلاش عفت و عصمت کے لئے ہے جو نکاح کا اہم مقصد ہے، اور نکاح کے ذریعہ اس چیز کو حاصل کرو، مال خرچ کر کے زنا کے لئے عورتیں تلاش نہ کرو۔
اس سے معلوم ہوگیا کہ اگرچہ زنا کار بھی مال خرچ کرتے ہیں لیکن وہ مال خرچ کرنا بھی حرام ہے اور اس مال کے ذریعہ جو عورت حاصل کی جائے اس سے استمتاع حلال نہیں ہوتا۔
لفظ غیر مسافحین بڑھا کر زنا کی ممانعت فرماتے ہوئے اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ زنا میں صرف شہوت رانی، سفح ماء، پانی بہانا مقصود ہوتا ہے، کیونکہ اس سے طلب اولاد اور ابقاء النسل کا ارادہ نہیں ہوتا، مسلمانوں کو پاک دامن رہنے اور تکثیر نسل انسانی کے لئے اپنی قوت کو ہر محل خرچ کرنا چاہئے، جس کا طریقہ ملک نکاح اور ملک یمین ہے۔
فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضة، یعنی نکاح کے بعد جن عورتوں سے استمتاع کرلو تو ان کے مہر دیدو، یہ دینا تمہارے اوپر فرض کیا گیا ہے۔
اس آیت میں استمتاع سے بیویوں سے ہمبستر ہونا اور وطی کرنا مراد ہے، اگر محض نکاح ہوجائے اور رخصتی نہ ہو اور شوہر کو استمتاع کا موقع نہ ملے، بلکہ وہ اس سے پہلے ہی طلاق دیدے تو آدھا مہر واجب ہوتا ہے اور اگر استمتاع کا موقع مل جائے تو پورا مہر واجب ہوجاتا ہے، اس آیت میں خصوصی توجہ دلائی ہے کہ جب کسی عورت سے استمتاع کرلیا تو اس کا مہر دینا ہر طرح سے واجب ہوگیا، اس میں کوتاہی ہی کرنا شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے اور انسانی غیرت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جب نکاح کا مقصد حاصل ہوگیا تو بیوی کے حق میں کوتاہی اور ٹال مٹول نہ ہو ........ البتہ شریعت عورت کو یہ حق بھی دیتی ہے کہ مہر اگر معجل ہے تو مہر کی وصولی تک وہ شوہر کے پاس جانے سے انکار کرسکتی ہے۔
حرمت متعہ۔ لفظ استمتاع کا مادہ، م، ت، ع ہے، جس کے معنی کسی فائدہ کے حاصل ہونے کے ہیں، کسی شخص سے یا مال سے کوئی فائدہ حاصل کیا تو اس کو استمتاع کہتے ہیں، عربی قواعد کی رو سے کسی کلمہ کے مادہ میں س اور ت کا اضافہ کردینے سے طلب و حصول کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں اس لغوی تحقیق کی بنیاد پر فما استعتم کا سیدھا مطلب پوری امت کے نزدیک خلفاً عن سلف وہی ہے، جو ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے، لیکن ایک فرقہ کا کہنا ہے کہ اس سے اصطلاحی متعہ مراد ہے اور ان لوگوں کے نزدیک یہ آیت متعہ حلال ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ متعہ جس کو کہتے ہیں اس کی صاف تردید قرآن کریم کی آیت بالا میں لفظ محصنین غیر مسافحین سے ہو رہی ہے، جس کی تشریح آگے آ رہی ہے۔
متعہ اصطلاحی جس کے جواز کا ایک فرقہ مدعی ہے یہ ہے کہ ایک مرد کسی عورت سے یوں کہے کہ اتنے دن کے لئے اتنے پیسے فلاں جنس کے عوض میں تم سے متعہ کرتا ہوں، متعہ اصطلاحی کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، محض مادہ اشتقاق کو دیکھ کر یہ فرقہ مدعی ہے کہ آیت سے حلت متعہ کا ثبوت ہو رہا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب دوسرے معنی بھی کم از کم متحمل ہے (گو ہمارے نزدیک متعین ہے) تو ثبوت کا کیا راستہ ہے ؟
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے محرکات کا ذکر فرما کر یوں فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ اپنے اصول کے ذریعے حلال عورتیں تلاش کرو، اس حال میں کہ پانی بہانے والے نہ ہوں یعنی محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ محصنین کی بھی قید لگائی ہے، یعنی یہ کہ عفت کا دھیان رکھنے والے ہوں ........ متعہ چونکہ مخصوص وقت کے لئے کیا جاتا ہے، اس لئے اس میں نہ حصول اولاد مقصود ہوتا ہے، نہ گھر بار بسانا اور نہ عفت و عصمت اور اسی لیئے جس عورت سے متعہ کیا جائے اس کو فریق مخالف زوجہ وارثہ بھی قرار نہیں دیتا اور اس کو ازواج معروفہ کی گنتی میں بھی شمار نہیں کرتا ........ اور چونکہ مقصد محض قضاء شہوت ہے، اس لئے مرد و عورت عارضی طور پر نئے نئے جوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں جب یہ صورت ہے تو متعہ عفت و عصمت کا ضامن نہیں بلکہ دشمن ہے۔
صاحب ہدایہ نے حضرت امام مالک کی طرف منسوب کیا ہے کہ ان کے نزدیک متعہ جائز ہے، لیکن یہ نسبت بالکل غلط ہے، جیسا کہ شراح ہدایہ اور دیگر اکابر نے تصریح کی ہے کہ صاحب ہدایہ سے تسامح ہوا ہے۔
البتہ بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اخیر تک حلت متعہ کے قائل تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، امام ترمذی نے باب ماجاء فی نکاح المتعہ کا باب قائم کر کے دو حدیثیں نقل کی ہیں، پہلی حدیث یہ ہے
”حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھو کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“
حضرت علی ؓ کی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
دوسری حدیث جو امام ترمذی نے نقل کی ہے وہ یہ ہے
”حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں متعہ اسلام کے عہد اول میں مشروع تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ الا علی ازواجہم اوماملکت ایمانہم نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہوگیا، اس کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ زوجہ شرعیہ اور مملوکہ شرعیہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع حرام ہے۔“
البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ حضرت ابن عباس کچھ عرصہ تک متعہ کو جائز سمجھتے تھے پھر حضرت علی ؓ کے سمجھانے سے (جیسا کہ صحیح مسلم ج 1 ص 254 پر ہے) اور آیت شریفہ الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم سے متنبہ ہو کر رجوع فرما لیا، جیسا کہ ترمذی کی روایات سے معلوم ہوا۔
یہ عجیب بات ہے کہ جو فرقہ حلت متعہ کا قائل ہے باوجودیکہ اسے حضرت علی ؓ کے محب اور فرمانبردار ہونے کا دعویٰ ہے، لیکن اس مسئلہ میں وہ ان کا بھی مخالف ہے، وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (62: 722)
صاحب روح المعانی، قاضی عیاض سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر غزوہ خیبر میں حرام کردیا گیا، اس کے بعد فتح مکہ کے دن حلال کردیا گیا، لیکن پھر تین دن کے بعد ہمیشہ کے لئے حرام کردیا گیا۔
نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ فرمان باری تعالیٰ شانہ والذین ھم لفروجھتم حافظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین، یہ ایسا واضح ارشاد ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں، اس سے حرمت متعہ صاف ظاہر ہے، اس کے مقابل ہمیں بعض شاذ قراءتوں کا سہارا لینا قطعاً غلط ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا استمتعتم سے متعہ اصطلاحی مراد ہونے کی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے، محض ایک احتمال ہے، یہ احتمال الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم کے قطعی الدلات مضمون کے ہرگز معارض نہیں ہوسکتا اور بالفرض اگر دونوں دلیلیں قوت میں برابر ہوں تو کہا جائے گا وہ دونوں دلیلیں حلت و حرمت میں متعارض ہیں، بالفرض اگر تعارض مان لیا جائے تب بھی عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ محرم کو مبیح پر ترجیح ہونی چاہئے۔
مسئلہنکاح متعہ کی طرح نکاح موقت بھی حرام اور باطل ہے، نکاح موقت یہ ہے کہ ایک مقررہ مدت کے لئے نکاح کیا جائے ........ اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ متعہ میں لفظ متعہ بولا جاتا ہے اور نکاح موقت لفظ نکاح سے ہوتا ہے۔
ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة آیت کے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ باہمی مہر مقرر کرنے کے بعد مہر مقررہ کوئی حتمی چیز نہیں ہوتی کہ اس میں کمی بیشی درست نہ ہو، بلکہ شوہر مقرر مہر پر اپنی طرف سے اضافہ بھی کرسکتا ہے اور بیوی اگر چاہے تو اپنی خوش دلی سے تھوڑا یا پورا مہر معاف کرسکتی ہے، الفاظ کے عموم سے معلوم ہوا کہ عورت اگر مہر معجل طے کر کے تاجیل کرلے، یعنی بعد میں لینے کو منظور کرلے تو یہ بھی درست ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔
ان اللہ کان علیماً حکیماً ، آیت کے ختم پر یہ جملہ بڑھا کر ایک تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ خبر ہے، احکام مذکورہ کی اگر کوئی شخص خلاف ورزی کرے تو اگرچہ اس کی خبر قاضی، حاکم اور کس انسان کو نہ ہو، لیکن اللہ جل شانہ کو تو سب خبر ہے، اس سے ہر حال میں ڈرتے رہنا چاہئے۔
اور یہ بھی بتلایا کہ جو احکام ارشا دفرمائے ہیں یہ سب کچھ حکمت پر مبنی ہیں، حکمت اس دقیق بات کو کہتے ہیں جو ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آتی، حرمت و حلت کے احکام جو آیات میں مذکور ہیں ان کی علت کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ان کو ہر حال میں ماننا لازم ہے، کیونکہ اگر ہمیں علت معلم نہیں تو صاحب حکم باری تعالیٰ شانہ کو تو معلوم ہے جو علیم اور حکیم ہے۔
اس دور کے بہت سے پڑھے لکھے جاہل احکام خداوندیہ کی علتیں تلاش کرتے ہیں، اگر کوئی علت معلوم نہیں ہوتی تو معاذ اللہ حکم ربی کو نامناسب یا دور حاضر کے تقاضوں کے خلاف کہہ کر ٹال دیتے ہیں، ان الفاظ میں ایسے لوگوں کا منہ بند کردیا گیا ہے اور بتلا دیا گیا ہے کہ تم نادان ہو، اللہ جل شانہ، دانا ہے تم ناسمجھ ہو اللہ حکیم ہے، اپنی سمجھ کو معیار حقانیت نہ بناء واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم
Ayah 4:25ربط آیات
اوپر سے چونکہ نکاح کے احکام چلے آ رہے ہیں اس لئے اسی کے ذیل میں اب شرعی لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا ذکر شروع ہوا اور پھر انہی کے متعلق حد کا حکم بھی بیان کردیا گیا کہ باندی اور غلام کی حد آزاد عورت و مرد سے مختلف ہوتی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اور جو شخص تم میں پوری قدرت اور گنجائش نہ رکھتا ہو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو وہ اپنے آپس (والوں) کی مسلمان لونڈیوں سے جو کہ تم لوگوں کی (شرعاً) مملوکہ میں نکاح کرلے (کیونکہ اکثر لونڈیوں کا مہر وغیرہ کم ہوتا ہے اور ان کو غریب کے ساتھ بیاہ دینے میں عار بھی نہیں کرتے) اور (لونڈی سے نکاح کرنے میں عار نہ کرے، کیونکہ دین کی رو سے تو ممکن ہے کہ وہ تم سے بھی افضل ہو، وجہ یہ کہ مدار افضلیت دین کا ایمان ہے اور) تمہارے ایمان کی پوری حالت اللہ ہی کو معلوم ہے (کہ اس میں کون اعلی ہے کون ادنی ہے کیونکہ وہ متعلق قلب کے ہے، جس کی پوری اطلاع اللہ ہی کو ہے اور دنیا کی رو سے زیادہ وجہ عار کی تفاوت نسب ہے، اس میں جو انساب کا اصل مبداء ہے یعنی حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) اس میں مشارکت کے اعتبار سے) تم سب آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہو (پھر عار کی کیا وجہ) سو (جب عدم عار کی وجہ معلوم ہوگئی تو ضرورت مذکورہ کے وقت) ان سے نکاح کرلیا کرو (مگر شرط یہ بھی ہے کہ) ان کے مالکوں کی اجازت سے (ہو) اور ان (کے ان مالکوں) کو ان کے مہر قاعدہ (شرعیہ) کے موافق دے دیا کرو (اور یہ مہر دینا) اس طور پر (ہو) کہ وہ منکوحہ بنائی جاویں نہ تو علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والی ہوں (ینی وہ مہر بمقابلہ نکاح ہو بطور اجرت زنا کے دینے سے وہ حلال نہ ہوگی) پھر جب وہ لونڈیاں منکوحہ بنا لی جاویں، پھر اگر وہ بڑی بےحیائی کا کام (یعنی زنا) کریں تو (بعد ثبوت بشرطیکہ مسلمان ہوں) ان پر اس سزا سے نصف سزا (جاری) ہوگی جو کہ (غیر منکوحہ) آزاد عورتوں پر ہوتی ہے، (جیسا کہ نکاح کے قبل بھی لونڈیوں کی یہی سزا تھی اور اسی طرح غلاموں کی بھی) یہ (لونڈیوں سے نکاح کرنا) اس شخص کے لئے (مناسب) ہے جو تم میں (بوجہ غلبہ شہوت اور آزاد منکوحہ میسر نہ ہونے کے) زنا (میں مبتلا ہوجانے) کا اندیشہ رکھتا ہو (اور جس کو یہ اندیشہ نہ ہو اس کے لئے مناسب نہیں) اور (اگر اس اندیشہ کی حالت میں بھی اپنے نفس پر قادر ہو تو) تمہارا ضبط کرنا زیادہ بہتر ہے (بہ نسبت نکاح کنیز کے) اور (یوں) اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے ہیں (اگر صورت کراہت میں بھی نکاح کرلیا، ہم مواخذہ نہیں کرینگے اور) بڑی رحمت والے ہیں (کہ حرمت کا حکم نہیں فرمایا۔)
معارف و مسائل
طول قدرت اور غناء کو کہتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کو آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو یا اس کا سامان میسر نہ ہو تو مومن باندیوں سے نکاح کرسکتا ہے اس سے پتہ چلا کہ جہاں تک ممکن ہو آزاد عورت ہی سے نکاح کرنا چاہئے، باندی سے نکاح نہ کرے اور اگر باندی سے نکاح کرنا پڑ ہی جائے تو مومن باندی تلاش کرے۔
حضرت امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے کہ آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کرلینا یا کتابیہ باندی سے نکاح کرلینا مکرہ ہے۔
اور حضرت امام شافعی اور دیگر ائمہ کے نزدیک آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کرنا حرام ہے اور کتابیہ باندی سے نکاح کرنا مطلقاً جائز نہیں ہے۔
بہرحال باندی کے نکاح سے بچنا آزاد مرد کے لئے ہر حال میں بہتر ہے اور اگر مجبوراً کرنا ہو تو مومن باندی سے نکاح کریں وجہ اس کی یہ ہے کہ باندی سے جو اولاد پیدا ہو وہ اس شخص کی غلام ہوتی ہے جو باندی کا مالک ہے اور غیر مومن باندی سے جو اولاد ہوگی اندیشہ ہے کہ وہ ماں کے ڈھنگ پر غیر دین اختیار کریں اولاد کو غلامی سے بچانے اور مومن بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بچوں کی ماں آزاد ہو اور اگر باندی ہو تو کم از کم مؤ منہ ضرور ہو، تاکہ بچہ کا ایمان محفوظ رہے، اسی لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ کتابی عورت جو آزاد ہو اس سے اگرچہ نکاح کرنا درست ہے، لیکن بچنا بہتر ہے اور اس دور میں تو اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہود و نصاری کی عورتیں عموماً مسلمانوں سے اس لئے نکاح کرتی ہیں کہ خود شوہر کو اور شوہر کی اولاد کو اپنے دین پر لا سکیں۔
پھر فرمایا واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے ایمان کا خوب علم ہے، ایمان وجہ فضیلت ہے، بعض مرتبہ غلام اور باندی ایمانی مرتبہ میں آزاد مرد و عورت سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اس لئے مومن باندی سے نکاح کرنے کو قابل نفرت نہ جانیں، بلکہ اس کے ایمان کی قدر کریں۔
آخر میں فرمایا بعضکم من بعضٍ ، یعنی آزاد اور غلام سب ایک ہی جنس بنی آدم سے تعلق رکھتے ہیں، اور سب ایک ہی نفس سے پیدا ہوئے ہیں، فضیلت کا مدار ایمان اور تقوی پر ہے، قال فی المظھری فھاتان الجملتان لتانیس الناس بنکاح الاماء ومنعھم عن الاستنکاف منھن ”یعنی ان دونوں جملوں کا مطلب یہ ہے کہ لوگ باندیوں کے نکاح سے مانوس ہوں اور اس نکاح کو قابل نفرت نہ سمجھیں۔“
فاتکحھن باذن اھلھن واتوھن اجورھن بالمعروف یعنی باندیوں سے نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے کرو، اگر وہ اجازت نہ دیں تو باندیوں کا نکاح صحیح نہ ہوگا، اس لئے کہ باندی کو خود اپنے نفس پر ولایت حال نہیں ہوتی، یہی حکم غلام کا بھی ہے کہ وہ اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرسکتا۔
پھر فرمایا کہ باندیوں سے نکاح کرو اس حال میں کہ وہ پاک دامن ہیں نہ وہ مسافحات ہو (یعنی علانیہ زنا کرنے والی) اور خفیہ طریقہ پر آشنا رکھنے والی ہو، گو اس جگہ پر باندیوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ نکاح کے لیے پاک دامن باندیوں کو تلاش کرو، لیکن آزاد عورت جو زانیہ ہو اس سے نکاح سے بچنا بھی افضل اور بہتر ہے۔
جیسا کہ آیت سے معلوم ہوا کہ اگر حر کے ساتھ نکاح کی قدرت نہ ہو تو باندی کے ساتھ نکاح کرو، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ متعہ جائز نہیں، اس لئے کہ اگر متعہ جائز ہوتا تو حرہ کے ساتھ نکاح کے عدم استطاعت کی صورت میں کسی شخص کے لئے آسان ترین صورت متعہ کرنے کی تھی کہ اس میں جنسی خواہش بھی پوری ہوجاتی اور مالی بوجھ بھی نکاح کے مقابلہ میں بہت کم ہوتا۔
نیز آیت میں محصنت غیر مسٰفحت کے ساتھ باندیوں کی صفت بیان کی گئی ہے اور متعہ کی صورت میں سفاح ہی سفاح ہوتا ہے کہ ایک عورت قلیل مدت میں متعدد اشخاص کے استعمال میں آتی ہے اور چونکہ بچہ کسی کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا، اس لئے تناسل کا بھی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور سب کی قوت صرف شہوت رانی میں ضائع چلی جاتی ہے۔
پھر فرمایا فاذا احصن فان اتین بفاحشة فعلیھن نصف ماعلی المحصنت من العذاب، یعنی جب باندیاں نکاح میں آگئیں، اور ان کے پاک دامن رہنے کا انتظام ہوگیا تو اب اگر زنا کر بیٹھیں تو ان کو اس سزا سے آدھی سز ملے گی جو آزاد عورتوں کے لئے مقرر ہے، اس سے غیر شادی شدہ آزاد عورتیں مراد ہیں، غیر شادی شدہ آزاد مرد و عورت سے اگر زنا کا صدور ہوجائے تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، جس کا ذکر سورة نور کی دوسری آیت میں ہے اور جو کوئی شادی شدہ مرد و عورت زنا کرلے تو اس کی سزا رجم ہے یعنی پتھروں سے مار مار کر قتل کردیا جائے گا چونکہ اس میں تنصیف نہیں ہو سکتی، اس لئے چاروں اماموں کا مذہب یہی ہے کہ غلام یا باندی خواہ شادی شدہ ہوں خواہ کنوارے ہوں اگر ان سے زنا سرزد ہوجائے تو ان کی سزا پچاس کوڑے ہیں، باندیوں کا حکم تو آیت شریفہ میں مذکور ہے، اور بطور دلالتہ النص غلام کا مسئلہ بھی اسی سے سمجھ میں آ رہا ہے۔
ذلک لمن خشی العنت منکم یعنی باندیوں سے نکاح کرنے کی اجازت اس شخص کے لئے ہے جس کو زنا میں پڑجانے کا اندیشہ ہو۔
وان تصبروا خیر لکم یعنی باوجود اندیشہ زنا کے بھی اگر صبر کرلو اور اپنے نفسوں کو پاک دامن رکھ سکو تو یہ تمہارے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ باندیوں سے نکاح کرو۔
آیت کے ختم پر فرمایا واللہ غفور رحیم، یعنی باندیوں سے نکاح کرنا مکروہ ہے، اگر اس کراہت پر عمل کرلو گے تب بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے اور وہ رحم والا بھی ہے کیونکہ اس نے باندیوں سے نکاح کی اجازت دیدی، اور اس کو ممنوع قرار نہیں دیا۔
فائدہ۔ آیت بالا کی تفسیر میں جو غلام وباندی کا ذکر آیا ہے ان سے شرعی غلام و باندی مراد ہیں جو کافر مرد و عورت جہاد کے موقع پر قید کر لئے جاتے تھے اور امیر المومنین ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا تھا، یہ قیدی غلام باندی بن جاتے تھے، پھر ان کی نسل بھی غلام رہتی تھی (باستثناء بعض صورتوں کے) جن کا تفصیلی ذکر فقہ کی کتابوں میں ہے جب سے مسلمانوں نے شرعی طو پر جہاد کرنا چھوڑ دیا ہے اور اپنے جہاد اور صلح و جنگ کا مدار دشمنان دین کے اشاروں پر رکھ دیا اور غیر شرعی اصولوں کے پابند ہوگئے ہیں اس وقت سے غلام اور باندی سے بھی محروم ہوگئے، موجودہ نوکر چاکر اور گھروں میں کام کرنے والی نوکرانیاں غلام باندی نہیں ہیں۔ اس لئے کہ یہ آزاد ہیں۔
بعض علاقوں میں بچوں کو بیچ دیتے ہیں اور غلام بنا لیتے ہیں، یہ سراسر حرام ہے اور ایسا کرنے سے یہ غلام باندی نہیں بن جاتے۔
Ayahs 4:26–27ربط آیات
ماقبل کی آیتوں میں احکام کی تفصیل مذکور ہوئی، ان آیتوں میں اللہ جل شانہ اپنا انعام و احسان بتلاتے ہیں اور یہ کہ ان احکام کی مشروعیت میں تمہارے ہی منافع و مصالح کی رعایت رکھی گئی ہے اگرچہ تم اس کی تفصیل کو نہ سمجھو، پھر اس کے ساتھ ہی ان احکام پر عمل کرنے کی ترغیب ہے اور گمراہوں کے ناپاک ارادوں پر بھی متنبہ کیا گیا کہ یہ لوگ تمہارے بدخواہ ہیں جو تمہیں مستقیم راستہ سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ کو (ان مضامین مذکورہ کے ارشاد فرمانے سے اسی طرح دوسرے مضامین سے اپنا کوئی نفع مقصود نہیں کہ یہ محال عقلی ہے ملکہ تم کو نفع پہنچانے کے لئے) یہ منظور ہے کہ (آیات احکام میں تو) تم سے (تمہاری مصلحت کے احکام) بیان کردے اور (آیات قصص میں) تم سے پہلے لوگوں کے احوال تم کو بتلا دے (تاکہ تم کو اتباع کی رغبت اور مخالفت سے خوف ہو) اور (خلاصہ مشترک مقصود یہ ہے کہ) تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرما دے (اور وہ توجہ یہی بیان فرمانا اور بتلانا ہے جس میں سرتاسر بندوں ہی کا نفع ہے جیسا مذکور ہوا) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں (کہ بندوں کی مصلحت جانتے ہیں) بڑے حکمت والے ہیں (کہ بلا وجوب ان مصلحتوں کی رعایت فرماتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کو تو (بیان احکام و قصص سے جیسا ابھی مذکور ہوا) تمہارے حال پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمانا منظور ہے اور جو لوگ (کفار و فجار میں سے) شہوت پرست ہیں وہ یوں چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے) بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ (اور انہی جیسے ہوجاؤ، چناچہ وہ اپنے فاسد خیالات مسلمانوں کے کانوں میں ڈالتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو احکام میں جس طرح تمہاری مصلحت پر نظر ہے اسی طرح تمہاری آسانی پر بھی نظر ہے، جیسا ارشاد ہے کہ) اللہ تعالیٰ کو (احکام میں) تمہارے ساتھ تخفیف (یعنی آسانی بھی) منظور ہے اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) آدمی (بہ نسبت اور مکلفین کے بدن اور ہمت دونوں میں) کمزور پیدا کیا گیا ہے (اس لئے اس کے ضعف کے مناسب احکام مقرر فرمائے ہیں، ورنہ با اعتبار رعایت مصلحت کے اعمال شاقہ کا تجویز کیا جانا بھی مضائقہ نہ تھا، مگر ہم نے دونوں امر کا مجموعاً لحاظ فرمایا اور یہ بڑے علم و حکمت اور نیز رحمت و شفقت پر موقوف ہے۔)
معارف و مسائل
نکاح کے بہت سے احکام بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں یہ بتایا کہ اللہ پاک واضح طور پر خوب کھول کر تمہیں احکام بتاتے ہیں اور انبیاء کرام اور صالحین عظام جو پہلے گذرے ہیں ان کے طریق کی رہبری فرماتے ہیں، تم یہ نہ سمجھو کہ یہ حرام و حلال کی تفصیلات صرف ہمارے ہی لئے ہے، بلکہ تم سے پہلے جو امتیں گذری ہیں ان کو بھی اس طرح کے احکام بتائے گئے تھے جنہوں نے عمل کیا اور مقربین بارگاہ خداوندی ہوئے۔
جو لوگ متبع شہوات ہیں یعنی زناکار اور وہ قومیں اور اصحاب مذاہب باطلہ جن کے نزدیک حرام حلال کوئی چیز نہیں وہ تم کو بھی راہ حق سے ہٹا کر اپنے باطل ارادوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، تم ان سے ہوشیار رہنا، بعض مذہبوں میں اپنی محرم عورتوں سے بھی نکاح کرلینا درست ہے اور بہت سے ملحدین اس دور میں نکاح کو ختم کرنے ہی کے حق میں ہیں اور بعض ممالک میں عورت کو متاع مشترک قرار دیئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو سراپا نفس کے بندے اور خواہش کے غلام ہیں اسلام کا کلمہ پڑھنے والے بعض ضعیف الایمان لوگ جو ان ملحدوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کی باتوں میں آ کر اپنے دین کو فرسودہ خیال کرنے لگتے ہیں اور دشمنوں کی باتوں کو انسانیت کی ترقی سمجھتے ہیں اور نادانستہ طور پر اس خام خیالی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ لوگ ماڈرن نظریات کے حامی ہیں کاش ! ہمارا دین بھی اس کی اجازت دیتا، العیاذ باللہ ! اللہ پاک نے تنبیہ فرمائی ہے کہ تم لوگ اینے بدطنیت انسانوں کے نظریات کو اپنانے سے دور رہنا۔
Ayah 4:28پھر فرمایا یریداللہ ان یخفف عنکم یعنی اللہ پاک تم پر تخفیف اور ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں، تمہاری دقتیں دور کرنے کے لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے جن پر سب عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور اگر آزاد عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ ہو تو باندیوں سے نکاح کی اجازت دے دی ہے، مہر کے بارے میں طرفین کو باہمی رضا مندی سے طے کرنے کا اختیار دیا اور ضرورت کے وقت ایک سے زائد عورت سے بھی نکاح کی اجازت دی گئی، بشرطیکہ عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
پھر فرمایاخلق الانسان ضعیفاً یعنی انسان خلقی طور پر ضعیف ہے اور اس کے اندر شہوانی مادہ رکھا گیا ہے، اگر بالکل ہی عورتوں سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا تو اطاعت اور فرمانبرداری کرنے سے عاجز رہ جاتا، اس کے عجز و ضعف کے پیش نظر عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ ترغیب دی، اور نکاح کے بعد آپس میں جو ایک دوسرے کو نفس اور نظر کی پاکیزگی کا نفع اور دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں ان سے طرفین کو تقویت پہنچتی ہے، پس نکاح ضعف کے دور کرنے کا باہمی معاہدہ اور ایک بےمثال طریقہ ہے۔
Ayah 4:29ربط آیات
شروع سورة نساء میں تمام انسانوں کا ایک ماں باپ سے پیدا ہونا اور سب کا ایک رشتہ اخوت میں جکڑے رہنا بیان فرما کر عام انسانوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی ادائیگی کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا، پھر یتیموں اور عورتوں کا تفصیلی بیان آیا، پھر میراث کے احکام کا بیان ہوا، جس میں یتیموں، عورتوں کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی بھی تاکید آئی، اس کے بعد نکاح کے احکام آئے کہ کس عورت سے نکاح حلال ہے کس سے حرام، کیونکہ نکاح ایک ایسا معاملہ اور معاہدہ ہے جس سے عورت کی جان اور مال میں تصرف کرنے کا کسی کو حق ملتا ہے۔
مذکورہ آیتوں میں عام انسانوں کے جان و مال کی حفاظت اور ان میں ہر ناجائز تصرف کرنے کی ممانعت کا بیان ہے، خواہ وہ انسان مرد ہوں یا عورتیں اور عزیز رشتہ دار ہوں یا غیر یہاں تک کہ مسلم ہوں یا وہ غیر مسلم جن سے ترک جنگ کا کوئی معاہدہ ہوچکا ہو (کما صرح بہ المظہری)
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق (یعنی غیر مباح) طور پر مت کھاؤ (برتو) لیکن (مباح طور پر ہو مثلاً) کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے (واقع) ہو (بشرطیکہ اس میں اور بھی سب شرائط شرعیہ ہوں) تو مضائقہ نہیں (یہ تو مالی تصرف تھا، آگے تصرف نفسی کو فرماتے ہیں) اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بڑے مہربان ہیں (اس لئے ضرر رسانی کی صورتوں کو منع فرما دیا، بالخصوص جبکہ اس میں یہ اثر ہو کہ دوسرا شخص پھر تم کو ضرور پہنچاوے گا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ تم کو بھی ضرر سے بچا لیا) اور (چونکہ قتل ان دونوں امروں میں اشدہ اس لئے اس پر بالخصوص و عید سناتے ہیں کہ) جو شخص ایسا فعل (یعنی قتل) کرے گا اس طور پر کہ حد (شرع) سے گذر جائے اور (وہ گذرنا بھی خطاء فعل یا خطاء رائے سے نہ ہو بلکہ) اس طور پر کہ (قصداً) ظلم کرے تو ہم عنقریب (یعنی بعدالموت) اس کو (دوزخ کی) آگ میں داخل کریں گے اور یہ امر (یعنی ایسی سزا دینا) اللہ تعالیٰ کو (بالکل) آسان ہے (کچھ اہتمام کی حاجت نہیں جس میں اس احتمال کی گنجائش ہو کہ شاید کسی وقت اہتمام و سامان جمع نہ ہو تو سزا ٹل جائے گی۔)
معارف و مسائل
جس طرح باطل طریقہ سے غیر کا مال کھانا جائز نہیں، خود اپنا مال بھی باطل طریق سے خرچ کرنا جائز نہیں۔
آیت کے الفاظ میں اموالکم بینکم کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں ”اپنے مال آپس میں“ اس میں یہ بات تو باتفاق مفسرین داخل ہے ہی کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناجائز طریق پر نہ کھائے، ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں فرمایا کہ اس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنا ہی مال ناجائز طور پر کھائے، مثلاً ایسے کاموں میں خرچ کرے جو شرعاً گناہ یا اسراف بےجا ہیں، وہ بھی آیت کی رو سے ممنوع و ناجائز ہے۔
آیت میں لاتاکلوا کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں ”مت کھاؤ۔“ مگر عام محاورے کے اعتبار سے اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کے مال میں ناحق طور پر کسی قسم کا تصرف نہ کرو، خواہ کھانے پینے کا ہو یا اسے استعمال کرنے کا، عرف عام میں کسی کے مال میں تصرف کرنے کو اس کا کھانا ہی بولا جاتا ہے، اگرچہ وہ چیز کھانے کی نہ ہو، لفظ ”باطل“ جس کا ترجمہ ”ناحق“ سے کیا گیا ہے عبداللہ بن مسعود اور جمہور صحابہ کے نزدیک تمام ان صورتوں پر حاوی ہے جو شرعاً ممنوع اور ناجائز ہیں، جس میں چوری، ڈاکہ، غضب، خیانت، رشوت، سود و قمار اور تمام معاملات فاسدہ داخل ہیں۔ (بحر محیط)
باطل طریقہ سے کوئی مال کھانے کی تشریح و تفصیل۔
قرآن کریم نے ایک لفظ بالباطل فرما کر تمام ناجائز طریقوں سے حاصل کئے ہوے مال کو حرام قرار دیدیا، پھر ان ناجائز طریقوں کی تفصیلات رسول کریم ﷺ کے حوالہ فرمائی، آپ نے ہر ناجائز معاملہ کی تفصیل بیان فرما دی۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جو تفصیلات ناجائز خریدو فروخت یا ناجائز اجارہ وغیرہ کی رسول کریم ﷺ کی احادیث میں مذکور ہیں وہ درحقیقت اس قرآنی حکم کی تشریح ہے اس لئے وہ سب احکام ایک حیثیت سے قرآن ہی کے احکام ہیں، احادیث رسول کریم ﷺ میں جتنے احکام شرعیہ مذکور ہوئے ہیں، سب کا عام طور پر یہی حال ہے کہ وہ کسی نہ کسی قرآنی اشارہ کی تشریح ہوتی ہے، خواہ ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ فلاں آیت کی تشریح ہے۔
آیت کے پہلے جملہ میں ناحق اور ناجائز طریقوں سے کسی کے مال میں تصرف کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے دوسرے جملہ میں جائز طریقوں کو حرمت سے مستثنی کرنے کے لئے ارشاد فرمایا الا ان تکون تجارة عن تراض منکم یعنی دوسروں کا وہ مال حرام نہیں جو بذریعہ تجارت باہمی رضامندی سے حاصل کیا گیا ہو۔
جائز طریقے اگرچہ تجارت کے علاوہ اور بھی ہیں، مثلاً عاریتہ ہبہ، صدقہ، میراث، لیکن عام طور پر ایک شخص کا مال دوسرے کے تصرف میں آنے کی معروف و جاری صورت تجارت ہی ہے۔
پھر تجارت کے معنی عام طور پر صرف بیع و شراء کے لئے جاتے ہیں، مگر تفسیر مظہری میں اجارہ یعنی ملازمت و مزدوری اور کرایہ کے معاملات کو بھی تجارت میں داخل قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ بیع میں تو مال کے بدلہ میں مال حاصل کیا جاتا ہے اور اجارہ میں محنت و خدمت کے بدلہ میں مال حاصل ہوتا ہے، لفظ تجارت ان دونوں کو حاوی ہے۔
مضمون آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ کسی کا مال ناحق کھانا رام ہے، لیکن اگر رضامندی کے ساتھ یعنی بیع و شراء یا ملازمت و مزدوری کا معاملہ ہوجائے تو اس طرح دوسرے کا مال حاصل کرنا اور اس میں مالکانہ تصرفات کرنا جائز ہے۔
کسب معاش کے ذرائع میں تجارت اور محنت سب سے افضل ہے۔
دوسرے کا مال حاصل کرنے کی جائز صورتوں میں سے اس آیت میں صرف تجارت کے ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسب معاش کے ذرائع میں سے تجارت اور محنت سب سے افضل اور اطیب ذریعہ معاش ہے،
حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کونسی کمائی حلال وطیب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا
”یعنی انسان کے ہاتھ کی مزدوری اور ہر سچی بیع و شراء (جس میں جھوٹ فریب نہ ہو۔)“
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”سجا تاجر جو امانت دا ہو وہ انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ؟
اور حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔
”سچا تاجر قیامت کے روز عرش کے سایہ میں ہوگا۔“
پاکیزہ کمائی کے خاص شرائط۔
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا
”سب سے زیادہ پاک کمائی تاجروں کی کمائی ہے، بشرطیکہ وہ جب بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں، اور جب وعدہ کریں تو وعدہ خلافی نہ کریں اور جب ان کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں اور جب کوئی سامان (کسی سے) خریدیں تو (تاجروں کی عادت کے مطابق) اس سامان کو برا اور خراب نہ بتائیں اور جب اپنا سامان فروخت کریں تو (واقعہ کے خلاف) اس کی تعریف نہ کریں اور جب ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو ٹالیں نہیں اور جب ان کا قرض کسی کے ذمہ ہو تو اس کو تنگ نہ کریں۔“
(اخرجہ الاصبہانی، از حاشیہ مظہری)
”قیامت کے روز تاجر لوگ فاجروں، گنہگاروں کی صف میں ہوں گے بجز اس شخص کے جو اللہ سے ڈرے اور نیکی کا معاملہ کرے اور سچ بولے۔“
دوسرے کا مال حلال ہونے کے لئے تجارت اور تراضی کی دو شرطیں۔
آیت کے اس جملہ میں تجارت کے ساتھ عن تراض منکم فرما کر یہ بتلا دیا کہ جہاں تجارت ہی نہ ہو بلکہ تجارت کے نام پر جواء، سٹہ، یا ربو اور سود کا معاملہ ہو یا مال ابھی موجود نہیں، محض ذہنی قرار داد پر اس کا سودا کیا گیا ہو وہ بیع باطل اور حرام ہے۔
اس طرح اگر تجارت یعنی مبادلہ اموال تو ہو لیکن اس میں فریقین کی رضامندی نہ ہو وہ بھی بیع فاسد اور ناجائز ہے اور یہ دنوں صورتیں اکل اموال بالباطل میں داخل ہیں، پہلی صورت کو فقہاء بیع باطل کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور دوسری صورت کو بیع فاسد کے نام سے۔
تشریح اس کی یہ ہے کہ ایک مال کا دوسرے مال سے تبادلہ کرنے کا نام تجارت ہے۔ اگر ان میں کسی ایک جانب مال ہو اور اس کے بالمقابل مال ہی نہ ہو تو وہ تجارت نہیں، بلکہ فریب ہے، سود کے معاملات کا یہی حال ہے کہ سود کی رقم ادھار کی میعاد کا معاوضہ ہوتا ہے، اور یہ میعاد کوئی مال نہیں، اسی طرح سٹہ، جواء کہ اس میں ایک طرف تو مال متعین موجود ہے، دوسری طرف مال کا ہونا یا نہ ہونا مشکوک ہے، اسی طرح وہ وعدے کے سودے جن میں مال ابھی تک وجود میں نہیں آیا اور اس کا سودا کرلیا گیا تو ایک طرف مال اور دوسری طرف موہوم وعدہ ہے، اس لئے حقیقت کے اعتبار سے یہ تجارت ہی نہیں بلکہ ایک قسم کا دھوکہ فریب ہے، اسی لئے فقہاء نے اس کو بیع باطل قرار دیا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں طرف سے مال اور تبادلہ مال تو ہے، لیکن کسی ایک جانب سے رضامندی نہ ہو، یہ تجارت تو ہوئی مگر فاسد اور غلط قسم کی تجارت ہے، اس لئے اس کو بیع فاسد کہا جاتا ہے اور ناجائز ہے۔
اس تشریح سے بیع و شراء اور تجارت کی جتنی ناجائز صورتیں ہیں سب نکل جاتی ہیں۔
شرط تراضی کی حقیقت۔
البتہ ایک تیسری قسم اور ہے جس میں طرفین سے تبادلہ مال بھی ہے اور بظاہر فریقین کی رضامندی بھی، مگر وہ رضامندی درحقیقت مجبوری کی رضامندی ہوتی ہے، حقیقی رضامندی نہیں ہوتی، اس لئے شرعاً اس تیسری قسم کو بھی دوسری ہی قسم میں داخل قرار دیا گیا ہے، مثلاً عام ضرورت کی چیزوں کو سب طرف سے سمیٹ کر کوئی ایک شخص یا ایک کمپنی اسٹاک کرے اور پھر اس کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ کر کے فروخت کرنے لگے، چونکہ بازار میں دوسری جگہ ملتی نہیں، گاہک مجبور ہے کہ مہنگی سستی جیسی بھی یہ فروخت کرے وہ اس کو خریدے، اس صورت میں اگرچہ گاہک خود چل کر آتا ہے اور بظاہر رضامندی کے ساتھ خریدتا ہے، لیکن اس کی یہ رضامندی درحقیقت ایک مجبوری کے تحت ہے، اس لئے کالعدم ہے۔
اسی طرح کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ معاشرت کی ایسی صورتیں پیدا کر دے کہ وہ اپنا مہر معاف کرنے پر مجبور ہوجائے تو گو معافی کے وقت وہ اپنی رضامندی کا اظہار کرتی ہے لیکن درحقیقت رضامندی نہیں ہوتی۔
یا کوئی آدمی جب یہ دیکھے کہ میرا جائز کام بغیر رشوت دیئے نہیں ہوگا وہ رضامندی کے ساتھ رشوت دینے کے لئے آمادہ ہو تو چونکہ یہ رضامندی بھی درحقیقت رضامندی نہیں اس لئے شرعاً کالعدم ہے۔
اس سے معلوم ہوگیا کہ الا ان تکون تجارة عن تراض منکم سے بیع شراء اور تجارت کی صرف انہی صورتوں کا جواز ثابت ہوا جس کا جواز رسول کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے، اور فقہاء نے ان کو منضبط کردیا ہے اور جتنی صورتیں بیع و شراء اور تجارت کی شرعاً ممنوع و ناجائز ہیں وہ سب اس سے خارج ہیں، قرآن کریم کے اس ایک لفظ نے فقہ کی پوری کتاب البیوع اور کاتب الاجارہ کا مکل بیان کردیا۔
آیت کا تیسرا جملہ یہ ہے ولاتقتلوا انفسکم جس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو اس میں باتفاق مفسرین خودکشی بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ ایک دوسرے کو ناحق قتل کرلے۔
آیت کے پہلے جملہ میں عام انسانوں کے مالی حقوق اور ان کی حفاظت کا بیان تھا، اس جملہ میں ان کے جانی حقوق کی حفاظت کا بیان آ گیا .... اور اس جگہ مال کو مقدم اور جان کو مؤخر شاید اس لئے بیان فرمایا گیا کہ مالی حقوق میں ظلم و جور اور کوتاہی و غفلت بہت عام ہے، ناحق قتل دخول ریزی اگرچہ اس سے زیادہ اشد ہے مگر عادة اس میں ابتلاء کم ہے، اس لئے اس کو مؤ خر بیان فرمایا۔
آیت کے آخر میں ارشاد ہے ان اللہ کان بکم رحیماً یعنی جو احکام اس آیت میں دیئے گئے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق نہ کھاؤ یا کسی کو ناحق قتل نہ کرو، یہ سب احکام تمہارے حق میں رحمت خداوندی ہیں تاکہ تم ان کاموں کے اخروی وبال سے بھی محفوظ رہو اور دنیوی سزاؤں سے بھی۔
Ayah 4:30اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد فرمایاومن یفعل ذلک عدوانا ظلماً فسوف نصلیہ ناراً یعنی قرآنی ہدایت کے باوجود اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے اور جان بوجھ کر تعددی اور ظلم کی راہ سے کسی مال ناحق لے لے یا کسی کو ناحق قتل کر دے تو ہم عنقریب اس کو جہنم میں داخل کریں گے ........ تعدی اور ظلم کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر سہو و نسیان یا خطا سے ایسا ہوگیا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔