4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو دعا دیوے کوئی تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا وہی کہو الٹ کر بیشک اللہ ہے ہر چیز کا حساب کرنے والا

سلام اور اسلام واذا حییتم بتحیة فحیوا باحسن منھا الخ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سلام اور اس کے جواب کے آداب بتلائے ہیں لفظ تحیہ کی تشریح اور اس کا تاریخی پہلو۔ تحیہ کے لفظی معنی ہیں کسی کو ”حیاک اللہ“ کہنا، یعنی ”اللہ تم کو زندہ رکھے قبل از اسلام عرب کی عادت تھی کہ جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ”حیاک اللہ“ یا انعم اللہ بک عینا یا ”انعم صباحاً وغیرہ الفاظ سے سلام کیا کرتے تھے، اسلام نے اس طرز تحیہ کو بدل کر السلام علیکم کہنے کا طریقہ جاری کیا، جس کے معنی ہیں ”تم ہر تکلیف اور رنج و مصیبت سے سلامت رہو۔“ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ لفظ سلام اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے اور ”السلام علیم“ کے معنی یہ ہیں کہ ”اللہ رقیب علیکم“ ”یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ ہے۔“ اسلامی سلام تمام دوسری اقوام کے سلام سے بہتر ہے۔ دنیا کی ہر مہذب قوم میں اس کا رواج ہے کہ جب آپس میں ملاقات کریں تو کوئی کلمہ آپس کی موانست اور اظہار محبت کے لئے کہیں، لیکن موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی سلام جتنا جامع ہے کوئی دوسرا ایسا جامع نہیں، کیونکہ اس میں صرف اظہار محبت ہی نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ آپ کو تمام آفات اور آلام سے سلامت رکھیں، پھر دعاء بھی عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں، بلکہ حیات طیبہ کی دعاء ہے، یعنی تمام آفات اور آلام سے محفوظ رہن کی، اسی کے ساتھ اس کا بھی اظہار ہے کہ ہم اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں، ایک دوسرے کو کوئی نفع بغیر اس کے اذن کے نہیں پہنچا سکتا، اس معنی کے اعتبار سے یہ کلمہ ایک عبادت بھی ہے اور اپنے بھائی مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی۔ اسی کے ساتھ اگر یہ دیکھا جائے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھی کو تمام آفات اور تکالیف سے محفوظ فرما دے تو اس کے ضمن میں وہ گیا یہ وعدہ بھی کر رہا ہے کہ تم میرے ہاتھ اور زبان سے مامون ہو، تمہاری جان، مال، آبرو کا میں محافظ ہوں۔ ”یعنی تم جانتے ہو کہ سلام کیا چیز ہے ؟ سلام کرنے والا یہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مامون رہو“ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام تحیہ ایک عالمگیر جامعیت رکھتا ہے(1) اس میں اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے (2) تذکیر بھی (3) اپنے بھائی مسلمان سے اظہار تعلق و محبت بھی (4) اس کے لئے بہترین دعا بھی (5) اور اس سے یہ معاہدہ بھی کہ میرے ہاتھ اور زبان سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچنے گی، جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے ”یعنی مسلمان تو وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب مسلمان محفوظ رہیں، کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔“ کاش مسلمان اس کلمہ کو عام لوگوں کی رسم کی طرح اداء نہ کرے، بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھ کر اختیار کرے، تو شاید پوری قوم کی اصلاح کے لئے یہی کافی ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کے باہم سلام کو رواج دینے کی بڑی تاکید فرمائی اور اس کو افضل الاعمال قرار دیا اور اس کے فضائل و برکات اور اجر وثواب بیان فرمائے، صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہاری آپس میں محبت قائم ہو جائیگی، وہ یہ کہ آپس میں سلام کو عام کرو، یعنی ہر مسلمان کے لئے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو۔“ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام کے اعمال میں سب سے افضل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو کھانا کھلا دو اور سلام کو عام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہنچانتے ہو (صیحین) مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد نے حضرت ابوامامہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں ابتداء کرے۔ مسند بزار اور معجم کبیر طبرانی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا ہے، اس لئے تم آپس میں سلام کو عام کرو، کیونکہ مسلمان آدمی جب کسی مجلس میں جاتا ہے اور ان کو سلام کرتا ہے تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا ایک بلند مقام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اس نے سب کو سلام، یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد دلائی، اگر مجلس والوں نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا تو ایسے لوگ اس کو جواب دیں گے جو اس مجلس والوں سے بہتر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بڑا بخیل وہ آدمی ہے جو سلام میں بخل کرے (طبرانی، معجم کبیر عن ابی ہریرہ) رسول کریم ﷺ کے ان ارشادات کا صحابہ کرام پر جو اثر ہوا اس کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اکثر بازار میں صرف اس لئے جایا کرتے تھے کہ جو مسلمان ملے اس کو سلام کر کے عبادت کا ثواب حاصل کریں، کچھ خریدنا یا فروخت کرنا مقصود نہ ہوتا تھا، یہ روایت موطا امام مالک میں طفیل بن ابی بن کعب ؓ سے نقل کی ہے۔ قرآن مجید کی جو آیت اوپر ذکر کی گئی ہے اس میں ارشاد یہ ہے کہ جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس کا جواب اس سے بہتر الفاظ میں دو ، یا کم از کم ویسے ہی الفاظ کہہ دو اس کی تشریح رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے اس طرح فرمائی کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا ”السلام علیک یا رسول اللہ“ آپ نے جواب میں ایک کلمہ بڑھا کر فرمایا”وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ۔“ پھر ایک صاحب آئے اور انہوں نے سلام میں یہ الفاظ کہے”السلام علیک یا رسول اللہ ور حمتہ اللہ۔“ آپ نے جواب میں ایک اور کلمہ بڑھا کر فرمایا ”وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔“ پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اپنے سلام ہی میں تینوں کلمے بڑھا کر کہا ”السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ وبرکاتہ“ آپ نے جواب میں صرف ایک کلمہ ”وعلیک“ ارشاد فرمایا، ان کے دل میں شکایت پیدا ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان پہلے جو حضرات آئے آپ نے ان کے جواب میں کئی کلمات دعاء کے ارشاد فرمائے اور میں نے ان سب الفاظ سے سلام کیا تو آپ نے ”وعلیک“ پر اکتفا فرمایا آپ نے فرمایا کہ تم نے ہمارے لئے کوئی کلمہ چھوڑا ہی نہیں کہ ہم جواب میں اضافہ کرتے، تم نے سارے کلمات اپنے سلام ہی میں جمع کردیئے، اس لئے ہم نے قرآنی تعلیم کے مطابق تمہارے سلام کا جواب بالمثل دینے پر اکتفا کرلیا اس روایت کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے۔ حدیث مذکور سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ سلام کا جواب اس سے اچھے الفاظ میں دینے کا جو حکم آیت مذکورہ میں آیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ سلام کرنے والے کے الفاظ سے بڑھا کر جواب دیا جائے، مثلاً اس نے کہا”السلام علیکم“ تو آپ جواب دیں ”وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ۔“ اور اس نے کہا ”السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔“ تو آپ جواب میں کہیں ”وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔“ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یہ کلمات کی زیادتی صرف تین کمالات تک مسنون ہے اس سے زیادہ کرنا مسنون نہیں اور حکمت اس کی ظاہر ہے کہ سلام کا موقع مختصر کلام کرنے کا مقتضی ہے، اس میں اتنی زیادتی مناسب نہیں ہے، جو کسی کام میں مخل یا سننے والے پر بھاری ہوجائے اسی لئے جب ایک صاحب نے اپنے ابتدائی سلام ہی میں تینوں کلمے جمع کردیئے تو رسول اللہ ﷺ نے آگے اور زیادتی سے احتراز فرمایا، اس کی مزید توضیح حضرت عبداللہ بن عباس نے اس طرح فرمائی کہ مذکورہ تینوں سے زیادہ کرنے والے کو یہ کہہ کر روک دیا کہان السلام قد انتھی الی البرکة (مظہری عن البغوی) یعنی ”سلام لفظ برکت پر ختم ہوجاتا ہے۔“ اس سے زیادہ کرنا مسنون نہیں ہے۔ (و مثلہ عن ابن کثیر) تیسری بات حدیث مذکور سے یہ معلوم ہوئی کہ سلام میں تین کلمے کہنے والے کے جواب میں اگر صرف ایک کلمہ ہی کہہ دیا جائے تو وہ بھی اداء بالمثل کے حکم میں حکم قرآنی (اور دھا) کی تعمیل کے لئے کافی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے صرف ایک کلمہ پر اکتفا فرمایا ہے۔ (تفسیر مظہری) مضمون آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب کسی مسلمان کو سلام کیا جائے تو اس کے ذمہ جواب دینا تو واجب ہے، اگر بغیر کسی عذر شرعی کے جواب نہ دیا تو گناہگار ہوگا، البتہ جواب دینے میں دو باتوں کا اختیار ہے، ایک یہ کہ جن الفاظ سے سلام کیا گیا ہے ان سے بہتر الفاظ میں جواب دیا جائے، دوسرے یہ کہ بعینہ انہی الفاظ سے جواب دے دیا جائے۔ اس آیت میں سلام کا جواب دینے کو تو لازم جواب صراحة بتلا دیا گیا ہے، لیکن ابتداءً سلام کرنے کا کیا درجہ ہے، اس کا بیان صراحتا نہیں ہے۔ مگر اذا حییتم میں اس کے حکم کی طرف بھی اشارہ موجود ہے، کیونکہ اس لفظ کو بصیغہ مجہول بغیر تعیین فاعل ذکر کرنے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ سلام ایسی چیز ہے جو عادة سب ہی مسلمان کرتے ہیں۔ مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب وہ شخص ہے جو سلام کی ابتداء کرے۔ اور سلام کی تاکید اور فضائل آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے ابھی آپ سن چکے ہیں ان سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سلام کرنا بھی سنت موکدہ سے کم نہیں تفسیر بحر محیط میں ہے کہ ابتدائی سلام تو اکثر علماء کے نزدیک سنت موکدہ ہے اور حضرت حسن بصری نے فرمایا السلام تطوع والرد فریضة یعنی ”ابتداء سلام کرنے میں تو اختیار ہے لیکن سلام کا جواب دینا فرض ہے۔“ رسول کریم ﷺ نے اس حکم قرآنی کی مزید تشریح کے طور پر سلام اور جواب سلام کے متعلق اور بھی کچھ تفصیلات بیان فرمائی ہیں وہ بھی مختصر طور پر ملاحظہ کرلیجئے صحیحین کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سواری پر ہو اس کو چاہئے کہ پیادہ چلنے والے کو خود سلام کرے اور جو چل رہا ہو وہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور جو لوگ تعداد میں قلیل ہوں وہ کسی بڑی جماعت پر گذریں تو ان کو چاہئے کہ سلام کی ابتداء کریں۔ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام کرنا چاہئے کہ اس سے اس کے لئے بھی برکت ہوگیا ور اس کے گھر والوں کے لئے بھی۔ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان سے بار بار ملاقات ہو تو ہر مرتبہ سلام کرنا چاہئے اور جس طرح اول ملاقات کے وقت سلام کرنا مسنون ہے اسی طرح رخصت کے وقت بھی سلام کرنا مسنون اور ثواب ہے، ترمذی، ابوداؤد میں یہ حکم بروایت قتادہ و ابوہریرہ ؓ نقل کیا ہے۔ اور یہ حکم جو ابھی بیان کیا گیا ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، اس سے چند حالات مستثنی ہیں، جو شخص نماز پڑھ رہا ہے اگر کوئی اس کو سلام کرے تو جواب دینا واجب نہیں بلکہ مفسد نماز ہے، اسی طرح جو شخص خطبہ دے رہا ہے یا قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہے، یا اذان یا اقامت کہہ رہا ہے، یا دینی کتابوں کا درس دے رہا ہے۔ یا انسانی ضروریات استنجا وغیرہ میں مشغول ہے اس کو اس حالت میں سلام کرنا بھی جائز نہیں اور اس کے ذمہ جواب دینا بھی واجب نہیں۔ اختتام مضمون پر فرمایاان اللہ کان علی کل شیء حسیباً یعنی ”اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والے ہیں۔“ جن میں انسان اور اسلامی حقوق مثل سلام اور جواب سلام کے سب امور داخل ہیں، ان کا بھی اللہ تعالیٰ حساب لیں گے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں بیشک تم کو جمع کرے گا قیامت کے دن اس میں کچھ شبہ نہیں اور اللہ سے سچی بات کس کی بات۔

پھر فرمایا اللہ لا الہ الا ھو لیجمعنکم الی یوم القیمة لاریب فیہ یعنی ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کو معبود جانو، جو کام کرو اس کی عبادت کی نیت سے کرو، وہ تم کو قیامت کے روز جمع فرمائیں گے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اس روز سب کے بدلے عنایت فرمائیں گے، قیامت کا وعدہ اور جزاء و سزا کی خبر سب حق ہے۔“ ومن اصدق من اللہ حدیثاً کیونکہ اللہ کی دی ہوئی خبر ہے، اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے ؟
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے معاملہ میں دو فریق ہو رہے ہو اور اللہ نے ان کو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے کیا تم چاہتے ہو کہ راہ پر لاؤ جسکو گمراہ کیا اللہ نے اور جس کو گمراہ کرے اللہ ہرگز نہ پاوے گا تو اس کے لئے کوئی راہ

خلاصہ تفسیر تین مختلف گروہوں کا بیان اور ان کے احکام پہلے فرقہ کا بیان۔ (جب تم ان مرتدین کی حالت دیکھ چکے) پھر تم کو کیا ہوا کہ ان منافقین کے باب میں تم (اختلاف رائے کر کے) دو گروہو ہوگئے (کہ ایک گروہ ان کو اب بھی مسلمان کہتا ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو (ان کے علانیہ کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ان کے (بد) عمل کے سبب (وہ بدعمل اور تداداً دارالسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے، جو کہ اس وقت نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا) کیا تم لوگ (اے وہ گروہ جن کو اس ترک دارالاسلام کا علامت کفر ہونا معلم نہیں) اس کا ارادہ رکھتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے (جبکہ ان لوگوں نے گمراہی اختیار کی) گمراہی میں ڈال رکھا ہے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ عزم فعل کے وقت اس فعل کو پیدا کردیتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ غیر مومن میں گمراہ کو جو ہدایت یافتہ مومن کہتے ہو یہ تمہارے لئے جائز نہیں) اور جس کو ان لوگوں کو مومن نہ کہنا چاہئے اور بھلا وہ خود کیا مومن ہوں گے ان کے غلوفی الکفر کی تو یہ حالت ہے کہ) وہ اس تمنا میں ہیں کہ جیسے وہ کافر ہیں تم بھی (خدا نہ کرے) کافر بن جاؤ، جس میں تم اور وہ سب ایک طرح ہوجاؤ سو (ان کی جب یہ حالت ہے تو) ان میں سے کسی کو دوست مت بنانا (یعنی کسی کے ساتھ مسلمانوں کیساتھ ایسا برتاؤ مت کرنا، کیونکہ دوستی کے جواز کے لئے اسلام شرط ہے) جب تک وہ اللہ کی راہ میں (یعنی تکمیل اسلام کے لیے) ہجرت نہ کریں (کیونکہ اس وقت ہجرت کا وہ حکم تھا جو اب اقرار بالشہادتین کا ہے اور تکمیل اسلام کی قید اسلئے ہے کہ خالی دارالسلام میں آنا کافی نہیں، یوں تو کفار اہل تجارت بھی آجاتے ہیں، بلکہ اسلامی حیثیت سے آویں، یعنی اسلام بھی ظاہر کریں، تاکہ جامع اقرار و ہجرت کے ہوجاویں اور رہی قلبی تصدیق تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوسکتا ہے مسلمانوں کو اس کی تفتیش ضروری نہیں) اور اگر وہ (اسلام سے) اعراض کریں (اور کافر ہی رہیں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جس جگہ ان کو پاؤ (یہ پکڑنا یا تو قتل کے لئے ہے یا غلام بنانے کے لئے) اور نہ ان میں کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار بناؤ (مطلب یہ کہ کسی حالت میں ان سے کوئی تعلق نہ رکھو، نہ امن میں دوستی نہ خوف میں استعانت بلکہ الگ تھلگ رہو۔) دوسرے فرقہ کا بیان۔ مگر (ان کفار میں) جو لوگ ایسے ہیں جو کہ (تمہارے ساتھ مصالحت سے رہنا چاہتے ہیں، جس کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ بواسطہ صلح ہو یعنی) ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں (یعنی ہم عہد ہوجاتے ہیں) کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد (صلح) ہے، (جیسے بنو مدلج، کہ ان سے صلح ہوئی تو ان کے ہم عہد بھی اس استثناء میں آگئے تو بنو مدلج بدرجہ اولی مستثنی ہوئے) یا (دوسرے طریقہ یہ ہے کہ بلا واسطہ صلح ہو اس طرح سے کہ) خود تمہارے پاس اس حال سے آویں کہ ان کا دل تمہارے ساتھ اور نیز اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے منقبض ہو (اس لئے نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہو کہ تم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو اپنی قوم سے لڑیں بلکہ (ان سے بھی صلح رکھیں اور تم سے بھی، پس دونوں طریقوں میں جس طریق سے کوئی مصالحت رکھے وہ حکم مذکور پکڑنے اور قتل سے مستثنی ہیں) اور (تم ان لوگوں کی) درخواست صلح میں اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کہ ان کے دل میں تمہاری ہیبت ڈال دی ورنہ) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط (اور لدیر) کردیتا پھر وہ تم سے لڑنے لگتے (مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس پریشانی سے بچا لیا) پھر اگر (صلح کر کے) وہ تم سے کنارہ کش رہیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے معاملہ سلامت روی کا رکھیں (ان سب الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صلح سے رہیں کوئی لفظ تاکید کے لئے فرما دیئے) تو (اس حالت صلح میں) اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر (قتل یا قید وغیرہ کی) کوئی راہ نہیں دی (یعنی اجازت نہیں دی) تیسرے فرقہ کا بیان۔ بعضے ایسے بھی تم کو ضرور ملیں گے (یعنی ان کی یہ حالت معلوم ہوگی) کہ (براہ دھوکہ) وہ یہ (بھی) چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں (اور ساتھ ہی اس کے) جب کبھی ان کو (صریح مخالفین کی طرف سے) شرارت (و فساد) کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے (یعنی ان سے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے کہا جاتا ہے) تو وہ (فوراً) اس (شرارت) میں جاگرتے ہیں (یعنی مسلمانوں سے لڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور وہ دھوکہ کی صلح توڑ دیتے ہیں) سو یہ لوگ اگر (صلح توڑدیں اور) تم سے (یعنی تمہاری لڑائی سے) کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے سلامت روی رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو (تمہارے مقابلہ سے) روکیں (سب کا مطلب مثل سابق کے ایک ہی ہے کہ صلح توڑ دیں) تو تم (بھی) ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ہم نے تم کو ان پر صاف حجت دی ہے (جس سے ان کا قتل کرنا ظاہر ہے اور وہ حجت ان کا نقص عہد ہے) معارف و مسائل مذکورہ آیات میں تین فرقوں کا بیان ہے، جن کے متعلق دو حکم مذکور ہیں، واقعات ان فرقوں کے مندرجہ روایات سے واضح ہوں گے۔ پہلی روایت۔ عبد بن حمید نے مجاہد سے روایت کیا کہ بعض مشرکین مکہ سے مدینہ آئے اور ظاہر کیا کہ ہم مسلمان اور مہاجر ہو کر آئے ہی، پھر مرتد ہوگئے اور حضرت رسول مقبول ﷺ سے اسباب تجارت لانے کا بہانہ نہ کرے کے پھر مکہ چل دیئے اور پھر نہ آئے ان کے بارے میں مسلمانوں کی رائے مختلف ہوئی، بعض نے کہا یہ کافر ہیں بعض نے کہا یہ مومن ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا کافر ہونا آیت فما لکم فی المنفقین فئتین میں بیان کردیا اور ان کے قتل کا حکم دیا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی نے فرمایا کہ ان کا منافق کہنا بایں معنی ہے کہ جب اسلام کا دعویٰ کیا تھا جب بھی منافق تھے دل سے ایمان نہ لائے تھے اور منافقین گو قتل نہ کئے جاتے تھے لیکن جب تک ہی کہ اپنا کفر چھپاتے تھے اور ان لوگوں کا ارتداد ظاہر ہوگیا تھا اور جنہوں نے مسلمان کہا شاید حسن ظن کی وجہ سے کہا ہو، اور ان کے دلائل ارتداد میں کچھ تاویل کرلی ہوگی اور اس تاویل کی بنیاد رائے محض ہوگی جس کی تائید دلیل شرعی سے نہ ہوگیا اس لئے معتبر نہیں رکھی گئی۔ دوسری روایت۔ ابن ابی شیبہ نے حسن سے رایت کیا کہ سراقہ بن مالک مدلجی نے بعد واقعہ بدر و احد کے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آ کر درخواست کی کہ ہماری قوم بنی مدلج سے صلح کرلیجئے، آپ نے حضر خالد کو تکمیل صلح کے لئے وہاں بھیج دیا، مضمون صلحیہ تھا ”ہم رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے اور قریش مسلمان ہوجائیں گے تو ہم بھی مسلمان ہوجائیں گے اور جو قومیں ہم سے متحد ہوں گی وہ بھی اس معاہدہ میں ہمارے شریک ہیں۔“ اس پر یہ آیت ودوالوتکفرون الی قولہ الا الذین یصلون الخ نازل ہوئی۔ تیسری روایت۔ حضرت ابن عباس سے روایت کیا گیا کہ آیتہ ستجدون اخرین الخ میں جن کا ذکر ہے مراد ان سے قبیلہ اسد اور غطفان ہیں کہ مدینہ میں آئے اور ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے اور اپنی قوم سے کہتے کہ ہم تو بندر اور عقرب (بچھو) پر ایمان لائے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے کہ ہم تمہارے دین پر ہیں۔ اور ضحاک نے ابن عباس سے یہی حالت بنی عبدالدار کی نقل کی ہے، پہلی اور دوسری روایت روح المعانی اور تیسری معالم میں ہے۔ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ اس تیسری روایت والوں کی حالت مثل پہلی روایت والوں کے ہوئی، کہ دلیل سے ان کا پہلے ہی سے مسلمان نہ ہونا ثابت ہوگیا، اسی لئے ان کا حکم مثل عام کفار کے ہے، یعنی مصالحت کی حالت میں ان سے قتال نہ کیا جائے اور مصالحت نہ ہونے کی صورت میں قتال کیا جائے، چناچہ پہلی روایت والوں کے باب میں دوسری آیت یعنی فان تولو فخذوم واقتلوھم میں گرفتار کرنے اور قتل کا حکم اور تیسری آیت الا الذین یصلون الخ میں مصالحت میں ان کا استثناء موجودہ جن کی مصالحت کا ذکر دوسری روایت میں ہے اور تاکید استثناء کے لئے پھر فان اعتزالوکم کی تصریح کردی۔ اور تیسری روایت والوں کے باب میں چوتھی آیت یعنی ستجدون اخرین الخ میں بیان فرما دیا کہ اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش نہیں ہوتے بلکہ مقاتلہ کرتے ہیں تو تم ان سے جہاد کرو، اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر وہ صلح کریں تو ان سے قتال نہ کیا جائے۔ (بیان القرآن) خلاصہ یہ کہ یہاں تین فرقوں کا ذکر فرمایا گیا 1۔ جو ہجرت کہ شرط اسلام کے زمانہ میں باوجود قدرت کے ہجرت نہ کریں یا کرنے کے بعد دارالاسلام سے نکل کر دارالحرب میں چلے جائیں۔ 2۔ مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ خود کرلیں یا ایسا معاہدہ کرنے والوں سے معاہدہ کرلیں۔ 3۔ جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں۔ پہلے فریق کا حکم عام کفار کی مانند ہے، دوسرا فریق قتل اور پکڑ دھکڑ سے مستثنی ہے، تیسرا فریق اسی سزا کا مستحق ہے جس کا پہلا فریق تھا، ان آیتوں کے کل دو حکم مذکور ہیں، یعنی عدم صلح کے وقت قتال اور مصالحت کے وقت قتال نہ کرنا۔
Ayahs 4:89–91

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہوجاؤ سو تم ان میں سے کسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وطن چھوڑ آویں اللہ کی راہ میں پھر اگر اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ، اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ملاپ رکھتے ہیں ایک قوم سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے یا آئے ہیں تمہارے پاس کہ تنگ ہوگئے ہیں دل ان کے تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے بھی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زور دیدیتا تو ضرور لڑتے تم سے سوا گر یک سو رہیں وہ تم سے پھر تم سے نہ لڑیں اور پیش کریں تم پر صلح تو اللہ نے نہیں دی تم کو ان پر راہ

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم دیکھو گے ایک اور قوم کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور اپنی قوم سے بھی جب کبھی لوٹائے جاتے ہیں وہ فساد کی طرف تو اس کی طرف لوٹ جاتے ہیں پھر اگر وہ تم سے یک سو نہ رہیں اور نہ پیش کریں تم پر صلح اور اپنے ہاتھ نہ روکیں، تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور ان پر ہم نے تم کو دی ہے کھلی سند۔

ہجرت کی مختلف صورتیں اور احکام قولہ تعالیٰ حتی یھاجروا فی سبیل اللہ الخ۔ ابتداء اسلام میں ہجرت دارالکفر سے تمام مسلمانوں پر فرض تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا سابرتاؤ کرنے سے منع کیا ہے جو اس فرض کے تارک ہوں، پھر جب مکہ فتح ہوا تو سرور عالم ﷺ نے فرمایالاھجرة بعد الفتح (رواہ البخاری) ”یعنی جب مکہ فتح ہو کر دارالاسلام بن گیا تو اب وہاں سے ہجرت فرض نہ رہی۔“ یہ اس زمانہ کا حکم ہے جبکہ ہجرت شرط ایمان تھی اس آدمی کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تھا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے، لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اب یہ صورت باقی نہیں رہی۔ ہجرت کی دوسری صورت یہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گی جس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے لاتنقطع الھجرة حتی تنقطع التوبة ”یعنی ہجرت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک توبہ کی قبولیت کا وقت باقی رہے۔“ (صحیح بخاری) علامہ عینی شارح بخاری نے اس ہجرت کے متعلق لکھا ہےان المراد بالھجرة الباقیة ھی ھجر السئات”یعنی اس ہجرت سے مراد گناہوں کا ترک کرنا ہے۔“ جیسا کہ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں المھاجرمن ھجر مانھی اللہ عنہ ”یعنی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں سے پرہیز کرے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔“ (بحالہ مرقاة جلد اول) مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ اصطلاح میں ہجرت کا اطلاق دو معنی پر ہوتا ہے (1) دین کے لئے ترک وطن کرنا، جیسا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنا وطن مکہ ترک کر کے مدینہ اور حبشہ تشریف لے گئے۔ (2) گناہوں کا چھوڑنا۔ ولاتتخذوا منھم ولیاولا نصیرا اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار سے طلب نصرت حرام ہے، چناچہ ایک روایات میں آتا ہے کہ کفار کے خلاف انصار نے جب یہود سے مدد طلب کرنے کی اجازت آپ سے چاہی تو آپ نے فرمایاالخبیث لاحاجة لنا بہم ”یعنی یہ خبیث قوم ہے اس کی ہمیں کوئی حاجت نہیں۔“ (مظہری جلد 2)
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور مسلمان کا کام نہیں کہ قتل کرے مسلمان کو مگر غلطی سے اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی سے تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور خوں بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ معاف کردیں، پھر اگر مقتول تھا ایسی قوم میں سے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور خود وہ مسلمان تھا تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور اگر وہ تھا ایسی قوم میں سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے تو خون بہاں پہنچائے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی پھر جسکو میسر نہ ہو تو روزے رکھے دو مہینے کے برابر گناہ بخشوانے کو اللہ سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا دوزخ ہے پڑا رہے گا اسی میں اور اللہ کا اس پر غضب ہوا اور اس کو لعنت کی اور اس کے واسطے تیار کیا بڑا عذاب۔

خلاصہ تفسیر اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو (ابتداء) قتل کرے لیکن غلطی سے (ہو جائے تو اور بات ہے) اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس پر (شرعاً) ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا (واجب) ہے اور خوں بہا (بھی واجب) ہے جو اس (مقتول) کے خاندان والوں کو (یعنی ان میں جو وارث ہیں بقدر حصص میراث) حوالہ کردی جائے (اور جس کے کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال قائم مقام ورثہ کے ہے) مگر یہ کہ وہ لوگ (اس خوں بہا کو) معاف کردیں (خواہ کل یا بعض اتنی ہی معاف ہوجاوے گی) اور اگر وہ (مقتول خطاً) ایسی قوم سے ہو جو تمہارے مخالف ہیں (یعنی حرب یہیں اور انہی میں کسی وجہ سے رہتا تھا) اور وہ شخص خود مومن ہے تو (فرض) ایک غلام یا لونڈی مسلمان کا آزاد کرنا (پڑے گا اور دیت اس لئے نہیں کہ اگر ورثہ اس مقتول کے مسلمان ہیں تب تو وہ اسلامی حکومت کے ماتحت نہ ہونے کے باعث مستحق نہیں اور اگر کافر ہیں تو اس صورت میں دیت بیت المال کا حق ہوتی اور دارالحرب سے دارالسلام کے بیت المال میں ترکہ لایا نہیں جاتا) اور اگر وہ (مقتول خطائً) ایسی قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں معاہدہ (صلح یا ذمہ کا) ہو (یعنی ذمی یا مصالح و مستامن ہو) تو خوں بہا (بھی واجب) ہے جو اس (مقتول) کے خاندان والوں کو (یعنی ان میں جو وارث ہیں) حوالہ کردیجیے، (کیونکہ کافر کافر کا وارث ہوتا ہے) اور ایک غلام یا لونڈی مسلمان کا آزاد کرنا (پڑے گا) پھر (جن صورتوں میں غلام لونڈی کا آزاد کرنا واجب ہے) جس شخص کو (غلام لونڈی) نہ ملے (اور نہ اتنے دام ہوں کہ خرید سکے) تو (اس کے ذمہ بجائے اس آزاد کرنے کے) متواتر (یعنی لگاتار) دو ماہ کے روزے ہیں (یہ آزاد کرنا اور وہ نہ ہو سکے تو روزے رکھنا) بطریق توبہ کے (ہے) جو اللہ کی طرف سے مقرر ہوئی ہے (یعنی اس کا یہ طریقہ مشروع ہوا ہے) اور اللہ تعای بڑے علم والے حکمت والے ہیں (اپنے علم و حکمت سے مصلحت کے مناسب احکام مقرر فرمائے ہیں، گو ہر جگہ حکمت بندہ کو معلوم نہ ہو) اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی (اصلی) سزا (تو) جہنم (میں اس طرح رہنا) ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہتا (لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ اصلی سزا جاری نہ ہوگی، بلکہ ایمان کی برکت سے آخر نجات ہوجائے گی) اور اس پر (ایک میعاد معین تک کے واسطے) اللہ تعالیٰ غضبناک ہوں گے اور اس کو اپنی رحمت (خاصہ) سے دور کریں گے اور اس کے لئے بڑی سزا (یعنی سزاء دوزخ) کا سامان کریں گے۔) معارف و مسائل ربط آیات۔ اوپر سے قتل و قتال کا ذکر چلا آ رہا ہے اور کل صورتیں ابتدائً قتل کی آٹھ ہیں، کیونکہ مقتل چار چار حال سے خالی نہیں ہے، یا مومن ہے یا ذمی یا مصالح و مستامن ہے یا حربی یا اور قتل دو طرح کا ہے یا عمداً یا خطاءً پس اس اعتبار سے کل صورتیں قتل کی آٹھ ہوئیں اول مومن کا قتل عمد، دوم مومن کا قتل خطاء سوم ذمی کا قتل عمد، چہارم ذمی کا قتل خطاء پنجم مصالح کا قتل عمد، ششم مصالح کا قتل خطائ، ہفتم حربی کا قتل عمد، ہشتم حربی کا قتل خطا۔ ان صورتوں میں بعض کا حکم تو اوپر معلوم ہوچکا، بعض کا آگے مذکور ہے اور بعض کا حدیث میں موجود ہے، چناچہ صورت اولی کا حکم دنیوی یعنی وجوب قصاص سورة بقرہ میں مذکور ہے اور حکم اخری آگے آیت ومن یقتل میں آتا ہے اور صورت دوم کا بیان قول اللہ تعالیٰ و ما کان لمومن (الی قولہ) وھو مومن فتحریر رقبة میں آتا ہے، اور صورت سوم کا حکم حدیث دار قطنی میں ہے کہ ذمی کے عوض رسول اللہ ﷺ نے مسلمان سے قصاص لیا (اخرجہ الزیلعی فی تخریج الہدایہ) صورت چہارم کا ذکر قول اللہ تعالیٰ وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق میں آتا ہے، صورت پنجم کا ذکر اوپر کے رکوع قول اللہ تعالیٰ فماجعل اللہ لکم علیھم سبیلاً میں آ چکا ہے۔ صورت ششم کا حکم چہارم کے ساتھ ہی مذکور ہے، کیونکہ میثاق عام ہے جو وقتی اور دائمی دونوں کو شامل ہے، پس ذمی و مستامن دونوں آگئے، درمختار کی کتاب الدیات کے شروع میں مستامن کی دیت کے وجوب کی تصحیح کی ہے، صورت ہفتم و ہشتم کا حکم خود جہاد کی مشروعت سے اوپر معلوم ہوچکا، کیونکہ جہاد میں اہل حرب قصداً مقتول ہوتے ہیں اور خطاء کا جواز بدرجہ اولی ثابت ہوگا۔ (بیان القرآن) قتل کی تین قسمیں اور ان کا شرعی حکم۔ پہلی قسمعمد۔ جو ظاہراً قصد سے ایسے آلہ کے ذریعہ سے واقع ہو جو آہنی یا تفریق اجزاء میں آہنی آلہ کی طرح ہو، جیسے دھار والا بانس یا دھار والا پتھر وغیرہ۔ دوسری قسم۔ شبہ عمد۔ جو قصداً تو ہو مگر ایسے آلہ سے نہ ہو جس سے اجزاء میں تفریق ہو سکتی ہو۔ تیسری قسم۔ خطائً یا تو قصد ظن میں کہ دو سرے آدمی کو شکاری جانور یا کافر حربی سمجھ کر نشانہ لگا دیا یا فعل میں کہ نشانہ تو جانور ہی کو لگایا لیکن آدمی کو جا لگا اس میں خطاء سے مراد غیر عمد ہے، پس دوسری، تیسری دونوں قسمیں اس میں آگئیں، دونوں میں دیت بھی ہے اور گناہ بھی ہے، مگر ان دونوں امر میں دونوں قسمیں متفاوت ہیں۔ دیت دوسری قسم کی سو اونٹ ہیں، چار قسم کے یعنی ایک ایک قسم کے پچیس پچیس اور دیت تیسری قسم کی سو اونٹ ہیں، پانچ قسم کے یعنی ایک ایک قسم کے بیس بیس، البتہ اگر دیت میں نقد دیا جائے تو دونوں قسموں میں دس ہزار درہم شرعی یا ایک ہزار دینار شرعی ہیں اور گناہ دوسری قسم میں زیادہ ہے بوجہ قصد کے اور تیسری قسم میں کم صرف بےاحتیاطی کا (کذا فی الہدایتہ) چناچہ تحریر رقبہ کا وجوب و نیز لفظ توبہ بھی اس پر دال ہے، اور یہ حقیت ان تینوں کی دنیا میں جاری ہونے والے احکام شرعیہ کے اعتبار سے ہے اور گناہ کے اعتبار سے عمد وغیرہ عمد ہونا، اس کا مدار قلبی قصد و ارادہ پر ہے، جس پر عید آئندہ کا مدار ہے، وہ خدا کو معلوم ہے، ممکن ہے کہ اس اعتبار سے قسم اول غیر عمد ہوجاوے اور قسم ثانی عمد ہوجاوے۔ مسئلہ۔ یہ مقدار مذکور دیت کی جب ہے کہ مقتول مرد ہو اور اگر عورت ہو تو اس کی نصف ہے (کذا فی الہدایتہ) مسئلہ۔ دیت مسلم اور ذمی کی برابر ہے، قول رسول ؑ ہی دیة کل ذی عھدفی عھدہ الف دینار، (کذا فی الھدایة اخرجہ ابوداؤد فی مراسیلہ) مسئلہ۔ کفارہ یعنی تحریر رقبہ یا روزے رکھنا خود قاتل کو ادا کرنا پڑتا ہے اور دیت قاتل کے اہل نصرت پر ہی جن کے شرع کی اصطلاح میں عاقلہ کہتے ہیں (بیان القرآن) یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ قاتل کے جرم کا بوجھ اس کے اولیاء اور انصار پر کیوں ڈالا جاتا ہے کیونکہ وہ تو بےقصور ہیں ؟ وجہ دراصل یہ ہے کہ اس میں قاتل کے اولیاء بھی قصور وار ہوتے ہیں کہ انہوں نے اس کو اس قسم کی بےاحتیاطی کرنے سے روکا نہیں اور دیت کے خوف سے آئندہ وہ لوگ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کریں گے۔ مسئلہ۔ کفارہ میں لونڈی غلام برابر ہیں، لفظ رقبہ عام ہے، البتہ ان کے اعضاء سالم ہونے چاہئیں۔ مسئلہ۔ دیت مقتول کی شرعی ورثہ میں تقسیم ہوگی، اور جو اپنا حصہ معاف کر دے گا اس قدر معاف ہوجائے گی اور اگر سب نے معاف کردیا سب معاف ہوجائے گی۔ مسئلہ۔ جس مقتول کا کوئی وارث شرعی نہ ہو اس کی دیت بیت المال میں داخل ہوگی، کیونکہ دیت ترکہ ہے اور ترکہ کا یہی حکم ہے۔ (بیان القرآن) مسئلہ۔ اہل میثاق (ذمی یا مستائن) کے باب میں جو دیت واجب ہے ظاہر یہ ہے کہ اس وقت ہے جب اس ذمی یا مستامن کے اہل موجود ہوں اور اگر اس کے اہل نہ ہوں، یا وہ اہل مسلمان ہوں اور مسلمان کافر کا وارث ہو نہیں سکتا، اس لئے وہ بجائے نہ ہونے کے ہے، تو اگر وہ ذمی ہے تو اس کی دیت بیت المال میں داخل کی جائیگی، کیونکہ ذمی لاوارث کا ترکہ جس میں دیت داخل ہے، بیت المال میں آتا ہے، (کما فی الدارلمختار) ورنہ واجب نہ ہوگی (بیان القرآن) مسئلہ۔ روزے میں اگر مرض وغیرہ کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہا ہو تو از سر نو رکھنے پڑیں گے، البتہ عورت کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہوگا۔ مسئلہ۔ اگر کسی عذر سے روزہ پر قدرت نہ ہو تو قدرت تک توبہ کیا کرے۔ مسئلہقتل عمد میں یہ کفارہ نہیں توبہ کرنا چاہئے۔ (بیان القرآن)
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو جب سفر کرو اللہ کی راہ میں تو تحقیق کرلیا کرو اور مت کہو اس شخص کو کہ جو تم سے سلام علیک کرے کہ تو مسلمان نہیں تم چاہتے ہو اسباب دنیا کی زندگی کا سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا سو اب تحقیق کرلو بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کے لئے) سفر کیا کرو تو ہر کام کو (قتل یا اور کچھ ہو) تحقیق کر کے کیا کرو اور ایسے شخص کو جو کہ تمہارے سامنے (علامات) اطاعت (کی) ظاہر کرے (جیسا کلمہ پڑھنا یا مسلمانوں کے طرز پر سلام کرنا) یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو (دل سے) مسلمان نہیں (محض اپنی جان بچانے کو جھوٹ موٹ اظہار اسلام کرتا ہے) اس طور پر کہ تم دنیوی زندگی کے سامان کی خواہش کرتے ہو، کیونکہ خدا کے پاس (یعنی ان کے علم وقدرت میں تمہارے لئے) بہت غنیمت کے مال ہیں (جو تم کو جائز طریقوں سے ملیں گے اور یاد تو کرو کہ) پہلے (ایک زمانہ میں) تم بھی ایسے ہی تھے (کہ تمہارے اسلام کے قبول کا مدار صرف تمہارا دعوی و اظہار تھا) پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا (کہ اس ظاہری اسلام پر اکتفا کیا گیا اور باطنی جستجو پر موقوف نہ رکھا) سو (ذرا) غور (تو) کرو بیشک اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں (کہ بعد اس حکم کے کون اس پر عمل کرتا ہے کون نہیں کرتا ثواب میں) برابر نہیں وہ مسلمان جو بلا کسی عذر کے گھر میں بیٹھے رہیں (یعنی جہاد میں نہ جاویں) اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے (یعنی مالوں کو خرچ کر کے اور جانوں کو حاضر کر کے) جہاد کریں (بلکہ) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا درجہ بہت زیادہ بنایا ہے جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں بہ نسبت گھر میں بیٹھنے والوں کے اور (یوں بوجہ فرض عین نہ ہونے کے گناہ ان بیٹھنے والوں پر بھی نہیں بلکہ بوجہ ایمان اور دوسرے فرائض عین کے بجا لانے کے) سب سے (یعنی مجاہدین سے بھی قاعدین سے بھی) اللہ تعالیٰ نے اچھے گھر کا (یعنی جنت کا آخرت میں) وعدہ کر رکھا ہے اور (اوپر جو اجمالاً کہا گیا ہے کہ مجاہدین کا بڑا درجہ ہے اس کی تعیین یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مجاہدین (مذکورین) کو بمقابلہ گھر میں بیٹھنے والوں کے لیے بڑا اجر عظیم دیا ہے، (وہ درجہ یہی اجر عظیم ہے اس اجمال کی تفصیل فرماتے ہیں) یعنی (بوجہ اعمال کثیرہ کے جو مجاہد سے صادر ہوتے ہیں ثواب کے) بہت سے درجے جو خدا کی طرف سے ملیں گے اور (گناہوں کی، مغفرت اور رحمت (یہ سب اجر عظیم کی تفصیل ہوئی) اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے بڑے رحمت والے ہیں۔ معارف و مسائل ربط آیات۔ پچھلی آیات میں قتل مومن پر سخت وعید فرمائی ہے، آگے یہ فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے جاری ہونے میں مومن کے مومن ہونے کے لئے صرف ظاہری اسلام کافی ہے، جو شخص اسلام کا اظہار کرے اس کے قتل سے ہاتھ روکنا واجب ہے اور محض شک و شبہ کی وجہ سے باطن کی تفتیش کرنا اور احکام اسلامیہ کے جاری کرنے میں اس کے یقینی ایمان کے ثبوت کا منظر رہنا جائز نہیں، جیسا بعض صحابہ سے بعض غزوات میں اس قسم کی لغزش واقع ہوئی کہ بعض لوگوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن بعض حضرات صحابہ نے ان کی علامات اسلام کو کذب پر محمول کر کے قتل کر ڈالا اور مقتول کا مال غنیمت میں لے لیا، اللہ تعالیٰ نے اس کا انسداد فرمایا اور چونکہ اس وقت تک صحابہ کو یہ مسئلہ واضح طور پر معلوم نہ تھا اسلئے صرف فہمائش پر اکتفا کیا اور اس فعل پر ان کے لئے کوئی وعید نازل نہیں فرمائی (بیان القرآن) مسلمان سمجھنے کے لئے علامات اسلام کافی ہیں باطن کی تفتیش کرنا جائز نہیں۔ مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو شخص اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرے تو کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ بغیر تحقیق کے اس کے قول کو نفاق پر محمول کرے، اس آیت کے نزول کا سبب کچھ ایسے واقعات ہیں جن میں بعض صحابہ کرام سے اس بارے میں لغزش ہوگئی تھی۔ چنانچہ ترمذی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ملا جب کہ یہ حضرات جہاد کے لئے جا رہے تھے یہ آدمی اپنی بکریاں چرا رہا تھا، اس لئے حضرات صحابہ کو سلام کیا، جو عملاً اس چیز کا اظہار تھا کہ میں مسلمان ہوں، صحابہ کرام نے سمجھا کہ اس وقت اس نے محض اپنی جان و مال بچانے کے لئے یہ فریب کیا ہے کہ مسلمانوں کی طرح سلام کر کے ہم سے بچ نکلے، چناچہ انہوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریوں کو مال غنیمت قرار دے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص آپ کو اسلامی طرز پر سلام کرے تو بغیر تحقیق کے یہ نہ سمجھو کہ اس نے فریب کی وجہ سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے اور اس کے مال کو مال غنیمت سمجھ کر حاصل نہ کرو۔ (ابن کثیر) اور حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک دوسری روایت ہے جس کو بخاری نے مختصراً اور بزار نے مفصلاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ مجاہدین کا بھیجا جن میں حضرت مقداد بن اسود بھی تھے، جب وہ موقع پر پہنچے تو سب لوگ بھاگ گئے، صرف ایک شخص رہ گیا جس کے پاس بہت مال تھا، اس نے صحابہ کرام کے سامنے کہااشھدان لا الہ الا اللہ، مگر حضرت مقداد نے یہ سمجھ کر کہ دل سے نہیں کہا بلکہ محض جان و مال بچانے کے لئے کلمہ اسلام پڑھ رہا ہے اس کو قتل کردیا، حاضرین میں سے ایک صحابی نے کہا کہ آپ نے برا کیا کہ ایک ایسے شخص کو قتل کردیا جس نے لا الہ ہوگیا تو اس واقعہ کا ضرور ذکر کروں گا، جب یہ لوگ مدینہ واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ کو یہ واقعہ سنایا، آپ نے حضرت مقداد کو بلا کر سخت تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ بروز قیامت تمہارا کیا جواب ہوگا، جب کلمہ لا الہ الا اللہ تمہارے مقابلہ میں دعویدار ہوگا اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، لاتقولوا لمن القی الیکم السلم لست ممناً مذکورہ آیت کے بارے میں ان دو واقعات کے علاہ دوسرے واقعات بھی منقول ہیں، لیکن محققین اہل تفسیر نے فرمایا کہ ان روایات میں تعارض نہیں ہوسکتا کہ یہ چند واقعات مجموعی حیثیت سے نزل کا سبب ہوئے ہوں۔ آیت کے الفاظ میں القی الیکم السلم ارشاد ہے، اس میں لفظ ”سلام“ سے اگر اصطلاحی سلام مراد لیا جائے تب تو پہلا واقعہ اس کے ساتھ زیادہ چسپاں ہے اور اگر سلام کے لفظی معنی سلامت اور اطاعت کے لئے جائیں تو یہ سب واقعات اس میں برابر ہیں اسی لئے اکثر حضرات نے ”سلام“ کا ترجمہ اس جگہ اطاعت کا کیا ہے۔ واقعہ کی تحقیق کے بغیر فیصلہ کرنا جائز نہیں۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں ایک عام ہدایت ہے کہ مسلمان کوئی کام بےتحقیق محض گمان پر نہ کریں، ارشاد ہے اذاضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا، ”یعنی جب تم اللہ کی راہ میں سفر کیا کرو تو ہر کام تحقیق کے ساتھ کیا کرو“ محض خیال اور گمان پر کام کرنے سے بسا اوقات غلطی ہوجاتی ہے، اس میں سفر کی قید بھی اس وجہ سے ذکر کی گئی کہ یہ واقعات سفر ہی میں پیش آئے یا اس وجہ سے کہ شبہات عموماً سفر میں پیش آتے ہیں، اپنے شہر میں ایک دوسرے کے حالات سے عموماً واقفیت ہوتی ہے، ورنہ اصل حکم عام ہے، سفر میں ہو یا حضر میں بغیر تحقیق کے کسی عمل پر اقدام جائز نہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے”سوچ سمجھ کر کام کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔“ (بحر محیط) دوسرے جملہ یعنی تبتغون الحیوة الدین اس میں اسی روگ کی اصلاح ہے، جو اس غلطی پر اقدام کرنے کا باعث ہوا، یعنی دنیا کی دولت مال غنیمت حاصل ہونے کا خیال آگے یہ بھی بتلا دیا کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے اموال غنیمت بہت سے مقرر اور مقدر کر رکھے ہیں، تم اموال کی فکر میں نہ پڑو، اس کے بعد ایک اور تنبیہ فرمائی کہ ذرا اسپر بھی تو نظر ڈالو کہ پہلے تم میں بھی تو بہت سے حضرات ایسے ہی تھے کہ مکہ مکرمہ میں اپنے اسلام و ایمان کا اعلان نہیں کرسکتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا کہ کفار کے نرغہ سے نجات دیدی، تو اسلام کا اظہار کیا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ شخص جو لشکر اسلام کو دیکھ کر کلمہ پڑھ رہا ہے وہ حقیقتً پہلے سے اسلام کا معتقد ہو مگر کفار کے خوف سے اسلام کا اظہار نہیں کرنے پایا تھا، اس وقت اسلام لشکر کو دیکھ کر اظہار کیا، یا کہ شروع میں جب تم نے کلمہ اسلام کو پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان کہا تو اس وقت تمہیں مسلمان قرار دینے کے لئے شریعت نے یہ قید نہیں لگائی تھی کہ تمہارے دلوں کو ٹٹولیں، اور دل میں اسلام کا ثبوت ملے، تب تمہیں مسلمان قرار دیں، بلکہ صرف کلمہ اسلام پڑھ لینے کو تمہارے مسلمان قرار دینے کے لئے کافی سمجھا گیا تھا اسی طرح اب جو تمہارے سامنے کلمہ پڑھتا ہے اس کو بھی مسلمان سمجھو۔ اہل قبلہ کافر نہ کہنے کا مطلب۔ اس آیت کریمہ سے یہ اہم مسئلہ معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان بتلاتا خواہ کلمہ پڑھ کر یا کسی اور اسلامی شعار کا اظہار کر کے مثلاً اذان، نماز وغیرہ میں شرکت کرے تو مسلمان پر لازم ہے کہ اس کو مسلمان سمجھیں اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کریں، اس کا انتظار نہ کریں کہ وہ دل سے مسلمان ہوا ہے یا کسی مصلحت سے اسلام کا اظہار کیا ہے۔ نیز اس معاملہ میں اس کے اعمال پر بھی مدار نہ ہوگا، فرض کرلو کہ وہ نماز نہیں پڑھتا روزہ نہیں رکھتا اور ہر قسم کے گناہوں میں ملوث ہے، پھر بھی اس کو اسلام سے خارج کہنے کا یا اس کے ساتھ کافروں کا معاملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں، اسی لئے امام اعظم نے فرمایا لانکفراھل القبلة بذنب ”یعنی ہم اہل قبلہ کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں کہتے“ بعض روایات حدیث میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہو۔ خواہ وہ کتنا ہی گنہگار بدعمل ہو۔ مگر یہاں ایک بات خاص طور پر سمجھنے اور یاد رکھنے کی ہے کہ قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے اس کو کافر کہنا یا سمجھنا جائز نہیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جب تک اس سے کسی ایسے قول و فعل کا صدور نہ ہو جو کفر کی یقینی علامت ہے اس وقت تک اس کے اقرار اسلام کو صحیح قرار دے کر اس کو مسلمان کہا جائے گا اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے، اس کی قلبی کیفیات اخلاص یا نفاق سے بحث کرنے کا کسی کو حق نہ ہوگا۔ لیکن جو شخص اظہار اسلام اور اقرار ایمان کے ساتھ ساتھ کچھ کلمات کفر بھی بکتا ہے، یا کسی بت کو سجدہ کرتا ہے، یا اسلام کے کسی ایسے حکم کا انکار کرتا ہے جس کا اسلامی حکم ہونا قطعی اور بدیہی ہے یا کافروں کے کسی مذہبی شعار کو اختیار کرتا ہے، جیسے گلے میں زنار وغیرہ ڈالنا وغیرہ وہ بلاشبہ اپنے اعمال کفر یہ کے سبب کافر قرار دیا جائے گا آیت مذکورہ میں لفظ تبینوا سے اس کی طرف اشارہ موجود ہے، ورنہ یہود و نصاری تو سب ہی اپنے آپ کو مومن مسلمان کہتے تھے اور مسیلمہ کذاب جس کو باجماعت صحابہ کافر قرار دے کر قتل کیا گیا وہ تو صرف کلمہ اسلام کا اقرار ہی نہیں بلکہ اسلامی شعائر نماز اذان وغیرہ کا بھی پابند تھا اپنی اذان میں اشھدان لا الہ اللہ کے ساتھ اشھد ان محمد ارسول اللہ بھی کہلواتا تھا، مگر اس کے ساتھ وہ اپنے آپ کو بھی نبی اور رسول صاحب وحی کہتا تھا جو نصوص قرآن و سنت کا کھلا ہوا انکار تھا، اسی کی بناء پر اس کو مرتد قرار دیا گیا اور اس کے خلاف باجماع صحابہ جہاد کیا گیا۔ خلاصہ مسئلہ کیا ہوگیا کہ ہر کلمہ گو اہل قبلہ کو مسلمان سمجھو اس کے باطن اور قلب میں کیا ہے ؟ اس کی تفتیش انسان کا کام نہیں، اس کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرو، البتہ اظہار ایمان کے ساتھ خلاف ایمان کوئی بات سر زد ہو تو اس کو مرتد سمجھو، بشرطیکہ اس کا خلاف ایمان ہونا قطعی اور یقینی ہو اور اس میں کوئی دوسرے احتمال یا تاویل کی راہ نہ ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لفظ ”کلمہ گو“ یا ”اہل قبلہ“ یہ اصطلاحی الفاظ ہیں جن کا مصداق صرف وہ شخص ہے جو مدعی اسلام ہونے کے بعد کسی کافرانہ قول و فعل کا مرتکب نہ ہو۔
Ayah 4:95

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں امور وہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے، اللہ نے بڑھا دیا لڑنے والوں کا اپنے مال اور جان سے بیٹھ رہنے والوں پر درجہ اور ہر ایک سے وعدہ کیا اللہ نے بھلائی کا اور زیادہ کیا اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے اجر عظیم

جہاد سے متعلقہ چند احکام۔ دوسری آیت یعنی لایستوی القعدون من المومنین میں چند احکام جہاد کو بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ بغیر کسی معذوری کے شریک جہاد نہیں ہوتے وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو غیر مجاہدین پر درجہ میں فضیلت اور برتری دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں فریق یعنی مجاہدین وغیر مجاہدین سے اچھی اجزاء کا وعدہ کیا ہوا ہے، جنت و مغفرت دونوں کو حاصل ہوں گی، فرق درجات کا رہے گا۔ علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے کہ بعض لوگ اس کو ادا کریں تو باقی مسلمان سبکدوش ہوجاتے ہیں، بشرطیکہ جو لوگ جہاد میں مشغول ہیں وہ اس جہاد کے لئے کافی ہوں اور اگر وہ کیا نہیں تو ان کے قرب و جوار کے مسلمانوں پر فرض عین ہوجائے گا کہ مجاہدین کی مدد کریں۔ فرض کفایہ کی تعریف۔ فرض کفایہ شریعت میں ایسے ہی فرائض کو کہا جاتا ہے جن کی ادائیگی ہر فرد مسلم پر ضروری نہیں بلکہ بعض کا کرلینا کافی ہے اور عموماً قومی اور اجتماعی کام اسی درجہ میں ہیں، علوم دینیہ کی تعلیم و تبلیغ بھی ایسا ہی فرض ہے کہ چھ لوگ اس میں مشغول رہیں اور وہ کافی بھی ہوں تو دوسرے مسلمان اس فریضہ سے سبکدوش ہوجاتے ہیں لیکن جہاں کوئی بھی مشغول نہ ہو تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔ نماز جنازہ اور تجہیز و تکفین بھی ایک قومی چیز ہے کہ ایک بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا حق ادا کرتا ہے اور اس کا حکم بھی یہی ہے مساجد اور مدارس بنانا اور دوسرے رفاہ عامہ کے کام سر انجام دینا اسی حکم میں داخل ہیں، یعنی بعض مسلمان کرلیں تو باقی سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر وہ احکام جو اجتماعی اور قومی ضرورتوں سے متعلق ہیں ان کو شریعت اسلام نے فرض کفایہ ہی قرار دیا ہے، تاکہ تقسیم عمل کے اصول پر تمام فرائض کی ادائیگی ہو سکے، کچھ لوگ جہاد کا کام انجام دیں، کچھ تعلیم و تبلیغ کا، کچھ دوسری اسلامی یا انسانی ضروریات مہیا کرنے کا۔ اس آیت میں وکلاً وعد اللہ الحسنی فرما کر ان لوگوں کو بھی مطمئن فرما دیا ہے جو جہاد کے علاوہ اسلام کے دشمنوں کی مدافعت کے لئے کافی ہو اور اگر ان کا جہاد کافی نہ رہے ان کو مزید کمک کی ضرورت ہو تو اول قرب و جوار کے مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے وہ بھی کافی نہ ہو تو ان کے آس پاس کے لوگوں پر فرض عین ہوجاتا ہے اور وہ بھی کافی نہ رہیں تو دوسرے مسلمانوں پر یہاں تک کہ مشرق و مغرب کے ہر مسلمان کا یہ فرض ہوجاتا ہے کہ اس میں شریک ہو۔
Ayah 4:96

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

میں جو کہ درجے میں اللہ کی طرف سے اور بخشش ہے اور مہربانی اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔

تیسری آیت میں بھی انہی درجات فضیلت کا بیان ہے جو مجاہدین کو دوسروں پر حاصل ہیں۔ مسئلہ۔ لنگڑے، لولے، اندھے، بیمار اور دیگر معذور شرعی لوگوں پر جہاد فرض نہیں ہے۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اس حالت میں کہ وہ برا کر رہے ہیں اپنا کہتے ہیں ان سے فرشتے تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم تھے بےبس اس ملک میں کہتے ہیں فرشتے کیا نہ تھی زمین اللہ کی کشادہ جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں سو ایسوں کا ٹھکانا دوزخ اور وہ بہت بری جگہ

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

پہنچے مگر جو ہیں بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے جو نہیں کرسکتے کوئی تدبیر اور نہ جانتے ہیں کہیں کا راستہ

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ایسوں کو امید ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ ہے معاف کرنیوالا بخشنے والا

خلاصہ تفسیر بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے (باوجود قدرت ہجرت کے پھر ہجرت کے تارک ہو کر) اپنے کو گناہ گار کر رکھا تھا تو (اس وقت) وہ (فرشتے) ان سے کہتے ہیں کہ تم (دین کے) کس (کس) کام میں تھے (یعنی دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے) وہ (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (اپنی بود و باش کی) سر زمین میں محض مغلوب تھے (اسلئے بہت سی ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے، یعنی ان فرائض کے ترک میں معذور تھے) وہ (فرشتے) کہتے ہیں (اگر اس جگہ نہ کرسکتے تھے تو) کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کر کے اس (سے کسی دوسرے حصہ) میں چلا جانا چاہئے تھا (اور وہاں جا کر فرائض کو ادا کرسکتے تھے، اس سے وہ لاجواب ہوجائیں گے اور جرم ان کا ثابت ہوجائے گا) سو ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور جانے کے لئے وہ بری جگہ ہے لیکن جو مرد اور عورتیں اور بچے (واقع میں ہجرت پر بھی) قادر نہ ہوں کہ نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں نہ راستہ سے واقف ہیں سو ان کے لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑے مغفرت کرنے والے ہیں اور (جن لوگوں کے لئے ہجرت مشروع ہے ان میں سے) جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں (یعنی دین کے لئے) ہجرت کرے گا تو اس کو روئے زمین پر جانے کی بہت جگہ ملے گی اور (اظہار دین کی) بہت گنجائش (ملے گی، پس اگر ایسی جگہ پہنچ گیا تو دنیا میں بھی اس سفر اور اظہار سے کامیابی ظاہر ہے) اور (اگر اتفاق سے یہ مذکور کا میابی نہ ہوئی تب بھی آخرت کی کامیابی میں تو کوئی تردد نہیں، کیونکہ ہمارا قانون ہے کہ) جو شخص اپنے گھر سے اس نیت سے نکل کھڑا ہو کہ اللہ و رسول (کے دین کے ظاہر کرسکنے کے موقع) کی طرف ہجرت کروں گا پھر (مقصد کے حاصل کرنے سے پہلے) اس کو موت آپکڑے، تب بھی اس کا ثواب (جس کا وعدہ ہجرت کرنے پر ہے) ثابت ہوگیا (جو وعدہ کی وجہ سے ایسا ہے جیسے) اللہ کے ذمہ (گو ابھی اس سفر کو ہجرت نہیں کہہ سکتے، لیکن صرف اچھی نیت سے اس کے شروع کردینے پر پورا صلہ عطا ہوگیا) اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں (اس ہجرت کی برکت سے گو وہ ناتمام رہے بہت سے گناہ معاف فرما دیں گے جیسا حدیث میں ہجرت کی فضلت آئی ہے کہ ہجرت سے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں) اور) بڑے رحمت والے ہیں (کہ عمل کو اچھی نیت سے شروع کرنے ہی سے عمل کے پورا ہونے کے برابرثواب عنایت فرماتے ہیں۔)