4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں تو ہم معاف کردیں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں

ربط آیات اس آیت سے پہلی آیات میں چند بڑے بڑے گناہوں کا ذکر اور ان میں مبتلا ہونے والوں پر شدید عذاب کا بیان ہے، قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان یہ ہے کہ جب کسی جرم پر سزا سے ڈرایا جاتا ہے جسے ترہیب کہتے ہیں تو اس کے ساتھ ترغیب کا پہلو بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ جو شخص اس جرم سے باز آئے گا اس کے لئے یہ انعامات و درجات ہیں۔ اس آیت میں بھی ایک خاص انعام خداوندی ذکر کر کی ترغیب دی گئی ہے وہ یہ کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچ گئے تو تمہارے چھوٹے گناہوں کو ہم خود معاف کردیں گے اور اس طرح تم ہر طرح کے بڑے چھوٹے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر عزت و راحت کے اس مقام میں داخل ہو سکو گے جس کا نام جنت ہے۔ خلاصہ تفسیر جن کاموں سے تم کو (شرع میں) منع کیا جاتا ہے (یعنی گناہ کے کام) ان میں سے جو بھاری بھاری کام ہیں (یعنی بڑے بڑے گناہ ہیں) اگر تم ان سے بچتے رہو تو (اس بچنے پر ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے اعمال حسنہ کے کرنے سے جب کہ وہ مقبول ہوجائیں) ہم تمہاری خفیف برائیاں (یعنی چھوٹے چھوٹے گناہ جو کہ دوزخ میں لے جاسکتے ہیں) تم سے دور (یعنی معاف) فرما دیں گے (پس دوزخ سے محفوظ رہو گے) اور ہم تم کو ایک معزز جگہ (یعنی بہشت) میں داخل کردیں گے۔ معارف و مسائل گناہوں کی دو قسمیں۔ آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، کچھ کبیرہ، یعنی بڑے گناہ اور کچھ صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی شخص ہمت کر کے کبیرہ گناہوں سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کو وہ خود معاف فرما دیں گے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنے میں یہ بھی داخل ہے کہ تمام فرئاض و واجبات کو ادا کرے، کیونکہ فرض و واجب کا ترک کرنا خود ایک کبیرہ گناہ ہے، تو حاصل یہ ہوا کہ جو شخص اس کا اہتمام پورا کرے کہ تمام فرائض و واجبات ادا کرے اور تمام کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لے، تو حق تعالیٰ اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ کردیں گے۔ اعمال صالحہ صغائر کا کفارہ ہوجاتے ہیں۔ کفارہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ کو صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کا حساب بیباق کردیں گے، اور بجائے عذاب کے ثواب اور بجائے جہنم کے جنت نصیب ہوگی ........ جیسے احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ جب کوئی شخص نماز کے لئے وضو کرتا ہے تو ہر عضو کے دھونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ ہوگیا چہرہ دھویا تو آنکھ، کان، ناک وغیرہ کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، کلی کرلی تو زبان کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا پاؤں دھوئے تو پاؤں کے گناہ دھل گئے، پھر جب وہ مسجد کی طرف چلتا ہے تو ہر قدم پر گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اعمال صالحہ صغائر کا کفارہ ہوجاتے ہیں۔ کفارہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ کو صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کا حساب بیباق کردیں گے اور بجائے عذاب کے ثواب اور بجائے جہنم کے جنت نصیب ہوگی ........ جیسے احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ جب کوئی شخص نماز کے لئے وضو کرتا ہے تو ہر عضو کے دھونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ ہوگیا، چہرہ دھویا تو آنکھ، کان، ناک وغیرہ کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، کلی کرلی تو زبان کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، پاؤں دھوئے تو پاؤں کے گناہ دھل گئے، پھر جب وہ مسجد کی طرف چلتا ہے تو ہر قدم پر گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ وضو، نماز وغیرہ اعمال صالحہ کے ذریعہ گناہوں کا کفارہ ہونا جو روایات حدیث میں مذکور ہے اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں اور کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اور صغیرہ کی یہ شرط ہے کہ آدمی ہمت اور کوشش کر کے کبیرہ گناہوں سے بچ گیا ہو ........ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں میں مبتلا رہتے ہوئے وضو اور نماز ادا کرتا رہے تو محض وضو نماز یا دوسرے اعمال صالحہ سے اس کے صغیرہ گناہوں کا بھی کفارہ نہیں ہوگا اور کبیرہ تو اپنی جگہ میں ہی ........ اس لئے کبیرہ گناہوں کا ایک بہت بڑا ضرر خود ان گناہوں کا وجود ہے جس پر قرآن و حدیث کی شدید وعیدیں ائٓی ہیں اور وہ بغیر سچی توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اس کے علاوہ دوسری محرومی یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے چھوٹے گناہ بھی معاف نہیں ہوں گے اور یہ شخص محشر میں کبائر و صغائر کے بوجھ میں لدا حاضر ہوگا اور کوئی اس وقت اس کا بوجھ ہلکا نہ کرسکے گا۔ گناہ اور اس کی دو قسمیں صغائر، کبائر۔ آیت میں کبائر کا لفظ آیا ہے، اس لئے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ کبیرہ کسے کہتے ہیں اور وہ کل کتنے ہیں اور صغیرہ گناہ کی کیا تعریف ہے اور اس کی تعداد کیا ہے ؟ علماء امت نے اس مسئلہ پر مختلف انداز میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی تقسیم اور ان کی تعریفات سے پہلے یہ خوب سمجھ لیجئے کہ مطلق گناہ نام ہے ہر ایسے کام کا جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کے خلاف ہو، اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوجائے گا کہ اصطلاح میں جس گناہ کو صغیرہ یعنی چھوٹا کہا جاتا ہے، درحقیقت وہ بھی چھوٹا نہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی مرضی کی مخالفت ہر حالت میں نہایت سخت و شدید جرم ہے اور اس کی مرضی کی مخالفت کبیرہ ہی ہے ........ کبیرہ اور صغیرہ کا فرق صرف گناہوں کے باہمی مقابلہ اور موازنہ کی وجہ سے کیا جاتا ہے، اسی معنی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ کل مانھی عنہ فھو کبیرة یعنی جس کام سے شریعت اسلام میں منع کیا گیا ہے وہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ خلاصہ۔ یہ ہے کہ جس گناہ کو اصطلاح میں صغیرہ یا چھوٹا کہا جاتا ہے اس کے یہ معنی کسی کے نزدیک نہیں ہیں کہ ایسے گناہوں کے ارتکاب میں غفلت یا سستی برتی جائے اور ان کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جائے بلکہ صغیرہ گناہ کو بیباکی اور بےپرواہی کے ساتھ کیا جائے، تو وہ صغیرہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے۔ کسی بزرگ نے فرمایا کہ چھوٹے گناہ اور بڑے گناہ کی مثال محسوسات میں ایسی ہے جیسے چھوٹا بچھو اور بڑا بچھو، یا آگ کے بڑے انگارے اور چھو وٹی چنگاری کہ انسان ان دونوں میں سے کسی کی تکلیف کو بھی برداشت نہیں کرسکتا، اسی لئے محمد بن کعب قرطبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ گناہوں کو ترک کیا جائے جو لوگ نماز، تسبیح کے ساتھ گناہوں کو نہیں چھوڑتے ان کی عبادت مقبول نہیں اور حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ تم جس قدر کسی گناہ کو ہلکا سمجھو گے اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک بڑا جرم ہوجاوے گا اور سلف صالحین نے فرمایا کہ ہر گناہ کفر کا قاصد ہے، جو انسان کو کافرانہ اعمال و اخلاق کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اور مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کو ایک خط میں لکھا کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کے مداح بھی مذمت کرنے لگتے ہیں اور دوست بھی دشمن ہوجاتے ہیں، گناہوں سے بےپرواہی انسان کے لیے دائمی تباہی کا سبب ہے ........ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر اگر توبہ اور استغفار کرلیا تو یہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کی تو یہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔”یعنی ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا ان کے اعمال بد نے“ (38: 41) البتہ گناہوں کے مفاسد اور نتائج بد اور مضر ثمرات کے اعتبار سے ان کے آپس میں فرق ضروری ہے اس فرق کی وجہ سے کسی گناہ کو کبیرہ اور کسی کو صغیرہ کہا جاتا ہے۔ گناہ کبیرہ۔ گناہ کبیرہ کی تعریف قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی تشریحات کے ماتحت یہ ہے کہ جس گناہ پر قرآن میں کوئی شرعی حد یعنی سزا دنیا میں مقرر کی گئی ہے یا جس پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم وغیرہ کی وعید آئی ہے وہ سب گناہ کبیرہ ہیں، اسی طرح ہر وہ گناہ بھی کبیر میں داخل ہوگا جس کے مفاسد اور نتائج بد کسی کبیرہ گناہ کے برابریا اس سے زائد ہوں، اسی طرح جو گناہ صغیرہ جرأت و بےباکی کے ساتھ کیا جائے یا جس پر مداومت کی جائے تو وہ بھی کبیرہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ ابن عباس کے سامنے کسی نے کبیرہ گناہوں کی تعداد سات بتلائی تو آپ نے فرمایا سات نہیں سات سو کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ ابن عباس کے سامنے کسی نے کبیرہ گناہوں کی تعداد سات بتلائی تو آپ نے فرمایا سات نہیں سات سو کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ امام ابن حجر مکی نے اپنی کتاب الزواجر میں ان تمام گناہوں کی فہرست اور ہر ایک کی مکمل تشریح بیان فرمائی ہے جو مذکور (الصدر تعریف کی رو سے کبائر میں داخل ہیں، ان کی اس کتاب میں کبائر کی تعداد چار سو سڑسٹھ تک پہنچی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بعض نے بڑے بڑے ابواب معصیت کو شمار کرنے پر اکتفاء کیا ہے تو تعداد کم لکھی ہے بعض نے ان کی تفصیلات اور انواع و اقسام کو پورا لکھا تو تعداد زیادہ ہوگئی، اس لئے یہ کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے مختلف مقامات میں بہت سے گناہوں کا کبیرہ ہونا بیان فرمایا اور حالات کی مناسبت سے کہیں تین کہیں چھ کہیں سات کہیں اس سے بھی زیادہ بیان فرمائے ہیں اسی سے علماء امت نے یہ سمجھا کہ کسی عدد میں انحصار کرنا مقصود نہیں، بلکہ مواقع اور حالات کے مناسب جتنا سمجھا گیا اتنا بیان کردیا گیا۔ بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں بھی جو سب سے بڑے ہیں تمہیں ان سے باخبر کرتا ہوں، وہ تین ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ساجھی ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا۔ اسی طرح بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے، فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے، پھر پوچھا کہ اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ تو فرمایا کہ تم اپنے بچہ کو اس خطرہ سے مار ڈالو کہ یہ تمہارے کھانے میں شریک ہوگا تمہیں اس کو ساتھ بدکاری کرنا، بدکاری خود ہی بڑا جرم ہے اور پڑوسی کے اہل و عیال کی حفاظت بھی چونکہ اپنے اہل و عیال کی طرح انسان کے ذمہ لازم ہے اس لئے یہ جرم دوگنا ہوگیا۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالیاں دے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی ماں باپ کو گالی دینے لگے ؟ فرمایا کہ ہاں ! جو شخص کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دیتا دیتا ہے اس کے نتیجہ میں وہ اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے تو یہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دی ہوں، کیونکہ یہی ان گالیوں کا سبب بنا ہے۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ یا رسول اللہ نے شرک اور قتل ناحق اور یتیم کا مال ناجائز طریق پر کھانے اور سود کی آمدنی کھانے اور میدان جہاد سے بھاگنے اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور بیت اللہ کی بےحرمتی کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ بعض روایات حدیث میں اس کو بھی کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے کہ کوئی شخص دارالکفر سے ہجرت کرنے کے بعد پھر دارالہجرة کو چھوڑ کر دارالکفر میں دوبارہ چلا جائے۔ دوسری روایات حدیث میں ان صورتوں کو بھی گناہ کبیرہ کی فہرست میں داخل کیا گیا ہے مثلاً جھوٹی قسم کھانا، اپنی ضرورت سے زائد پانی کو روک رکھنا، دوسرے ضرورت والوں کو نہ دینا جادو سیکھنا، جادو کا عمل کرنا اور فرمایا کہ شراب پینا اکبر الکبائر ہے اور فرمایا کہ شراب پینا ام الفاحش ہے، کیونکہ شراب میں مست ہو کر آدمی ہر برے سے برا کام کرسکتا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی پر ایسے عیب لگائے جس سے اس کی آبرو ریزی ہوتی ہو۔ ایک حدیث میں ہے جس شخص نے بغیر کسی عذر شرعی کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جماع کردیا تو وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، مطلب یہ ہے کہ کسی نماز کو اپنے وقت میں نہ پڑھا، بلکہ قضاء کر کے دوسری نماز کے ساتھ پڑھا۔ بعض روایات حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے عذاب و سزا سے بےفکر و بےخوف ہوجانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ ایک روایات میں ہے کہ وارث کو نقصان پہنچانے اور اس کا حصہ میراث کم کرنے کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی کبائر میں سے ہے۔ اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ خائب و خاسر ہوئے اور تباہ ہوگئے اور تین دفعہ اس کلمہ کو دہرایا حضرت ابوذر غفاری ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ محروم القسمتہ اور تباہ و برباد کون لوگ ہیں ؟ تو آپ نے جواب دیا ایک وہ شخص جو تکبر کے ساتھ پاجامہ یا تہبند یا کرتہ اور عباء کو ٹخنے سے نیچے لٹکاتا ہے دوسرے وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کر کے احسان جتلائے، تیسرے وہ آدمی جو بوڑھا ہونے کے باوجود بدکاری میں مبتلا ہو، چوتھے وہ آدمی جو بادشاہ یا افسر ہونے کے باوجود جھوٹ بولے پانچویں وہ آدمی جو عیال دار ہونے کے باوجود تکبر کرے، چھٹے وہ آدمی جو کسی امام کے ہاتھ پر محض دنیا کی خاطر بیعت کرے۔ اور صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ چغلی کھانے والا جنت میں نہ جائے گا۔ اور نسائی و مسند احمد وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ چند آدمی جنت میں نہ جائیں گے شرابی، ماں باپ کا نافرمان، رشتہ داروں سے بلاوجہ قطع تعلق کرنے والا، احسان جتلانے والا جنات شیاطین یا دوسرے ذرائع سے غیب کی خبریں بتانے والا، دیوث، یعنی اپنے اہل و عیال کو بےحیائی سے نہ روکنے والا۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس شخص پر جو کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی کے لئے قربان کرے۔
Ayahs 4:32–33

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور ہوس مت کرو جس چیز میں بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور مانگو اللہ سے اس کا فضل بیشک اللہ کو ہر چیز معلوم ہے،

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہر کسی کے لئے ہم نے مقرر کردیئے ہیں وارث اس مال کے کہ چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے، اور جن سے معاہدہ ہوا تمہارا ان کو دیدو ان کا حصہ بیشک اللہ کے روبرو ہے ہر چیز۔

ربط آیات ماقبل کی آیتوں میں میراث کے احکام گذرے ہیں، ان میں یہ بھی بتلایا جا چکا ہے کہ میت کے ورثہ میں اگر مرد اور عورت ہو، اور میت کی طرف رشتہ کی نسبت ایک ہی طرح کی ہو تو مرد کو عورت کی نسبت دوگنا حصہ ملے گا، اسی طرح کے اور فضائل بھی مردوں کے ثابت ہیں، حضرت ام مسلمہ نے اس پر ایک دفعہ حضور اکرم سے عرض کیا کہ ہم کو آدھی میراث ملتی ہے اور بھی فلاں فلاں فرق ہم میں اور مردوں میں ہیں۔ مقصد اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ ان کی تمنا تھی کہ اگر ہم لوگ بھی مرد ہوتے تو مردوں کے فضائل ہمیں بھی حاصل ہوجاتے، بعض عورتوں نے یہ تمنا کی کہ کاش ہم مرد ہوتے تو مردوں کی طرح جہاد میں حصہ لیتے اور جہاد کی فضیلت ہمیں حاصل ہوجاتی۔ ایک عورت نے حضور سے یہ عرض کیا مرد کو میراث میں دوگنا حصہ ملتا ہے اور عورت کی شہادت بھی مرد سے نصف ہے تو کیا عبادت اور اعمال میں بھی ہم کو نصف ہی ثواب ملے گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں دونوں قولوں کا جواب دیا گیا ہے، حضرت ام سلمہ کے قول کا جواب لاتتمنوا سے دیا گیا اور اس عورت کے قول کا جواب للرجال نصیب سے دیا گیا۔ خلاصہ تفسیر اور تم (سب مردوں، عورتوں کو حکم ہوتا ہے کہ فضائل وہبیہ میں سے) ایسے کسی امر کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (مثلاً مردوں کو) بعضوں پر (مثلاً عورتوں پر بلا دخل ان کے کسی کے عمل کے) فوقیت بخشی ہے، (جیسے مرد ہونا یا مردوں کا دو حصہ ہونا یا ان کی شہادت کا کامل ہونا وغیرہ ذلک کیونکہ) مردوں کے لئے ان کے اعمال (کے ثواب) کا حصہ (آخرت میں) ثابت ہے اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال (کے ثواب) کا حصہ (آخرت میں) ثابت ہے، (اور مدار نجات کا قانوناً یہی اعمال ہیں اور ان میں کسی کی تخصیص نہیں، تو اگر دوسروں سے فوقیت حاصل کرنے کا شوق ہے تو (اعمال میں جو کہ فضائل کسبیہ ہیں کوشش کر کے دوسروں سے زیادہ ثواب حاصل کرلو) باوجود اس پر قادر ہونے کے فضائل خاصہ مذکورہ کی تمنا محض ہوس اور فضول ہے) اور (اگر فضائل و ہبیہ میں ایسے فضائل کی رغبت ہے جن میں اعمال کو بھی دخل ہے مثلاً احوال و کمالات باطنیہ و امثالہا تو مضائقہ نہیں، لیکن اس کا طریقہ بھی یہ نہیں کہ خالی تمنائیں کیا کرو، بلکہ یہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل (خاص) کی درخواست (یعنی دعاء) کیا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں (اس میں سب چیزیں آگئیں، یعنی فضائل و ہبیہ قسم اول کی وجہ تخصیص بھی اور فضائل کسبیہ پر ثواب دینا بھی اور فضائل وہبیہ قسم دوم کی درخواست بھی، پس یہ جملہ سب کے متعلق ہے) اور ہر ایسے مال کے لئے جس کو والدین اور (دوسرے) رشتہ دار لوگ (اپنے مرنے کے بعد) چھوڑ جاویں، ہم نے وارث مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تمہارے عہد (پہلے سے) بندھے ہوئے ہیں (اسی کو مولی الموالات کہتے ہیں) ان کو (اب جبکہ شرع سے رشتہ دار لوگ وارث مقرر ہوگئے، ساری میراث مت دو ، بلکہ صرف) ان کا حصہ (یعنی ایک ششم) دیدو، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع ہیں (پس ان کو ساری میراث نہ دینے کی حکمت اور ششم حصہ مقرر کردینے کی مصلحت اور یہ کہ یہ ششم ان کو کون دیتا ہے کون نہیں دیتا، ان سب کی ان کو خبر ہے۔) معارف و مسائل امور اختیاریہ اور غیر اختیاریہ کی تمنا کرنا۔ آیت میں ان غیر اختیاری فضائل کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے جو دوسروں کو حاصل ہوں ........ وجہ یہ ہے کہ انسان جب اپنے آپ کو دوسروں سے مال و دولت، آرام و عیش، حسن و خوبی، علم و فضل وغیرہ میں کم پاتا ہے تو عادةً اس کے دل میں ایک مادہ حسد کا ابھرتا ہے، جس کا تقاضا کم سے کم یہ ہوتا ہے کہ میں بھی اس کے برابر یا زیادہ ہوجاؤں اور بسا اوقات اس پر قدرت نہیں ہوتی، کیونکہ بہت سے کمالات ایسے ہیں جن میں انسان کے سعی و عمل کو کوئی دخل نہیں وہ محض قدرت کے انعامات ہوتے ہیں جیسے کسی شخص کا مرد ہونا، یا کسی اعلی خاندان نبوت میں یا خاندان حکومت میں پیدا ہونا، یا حسین و خوبصورت پیدا ہونا وغیرہ کہ جس شخص کو یہ انعامات حاصل نہیں، وہ اگر عمر بھر اس کی کوشش کرے کہ مثلاً مرد ہوجائے یا خاندانی سید بن جائے، اس کا ناک نقشہ قدو و قامت حسین ہوجائے تو یہ اس کی قدرت میں نہیں، نہ کسی دوا اور علاج یا تدبیر سے وہ ان چیزوں کو حاصل کرسکتا ہے اور جب دوسرے کی برابری پر قدرت نہیں ہوتی تو اب اس کے نفس میں یہ خواہش جگہ پڑتی ہے کہ دوسروں سے بھی یہ نعمت چھن جائے تاکہ وہ بھی خصلت ہے اور دنیا کے بہت سے جھگڑوں اور فسادات قتل و غارت گری کا سبب ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت نے اس فساد کا دروازہ بند کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ولاتتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض یعنی اللہ تعالیٰ نے بہ تقاضائے حکمت و مصلحت جو کمالات و فضائل لوگوں میں تقسیم فرمائے ہیں کسی کو کوئی وصف دے دیا کسی کو کوئی، کسی کو کم کسی کو زیادہ، اس میں ہر شخص کو اپنی قسمت پر راضی اور خوش رہنا چاہئے، دوسرے کے فضائل و کمالات کی تمنا میں نہ پڑنا چاہئے کہ اس کا نتیجہ اپنے لئے رنج و غم اور حسد کے گناہ عظیم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جس کو حق تعالیٰ نے مرد بنادیا وہ اس پر شکر ادا کرے جس کو عورت بنادیا وہ اسی پر راضی رہے اور سمجھے کہ اگر وہ مرد ہوجاتی تو شاید مردوں کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرسکتی اور گنہگار ہوجاتی جس کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت پیدا کیا ہے وہ اس پر شکر گزار ہو کہ اس کو ایک نعمت ملی اور جو بدصورت ہے وہ بھی رنجیدہ نہ ہوا اور سمجھے کہ میرے لئے اسی میں کوئی خیر مقدر ہوگی، اگر مجھے حسن و جمال ملتا تو شاید کسی فتنہ اور خرابی میں مبتلا ہوجاتا جو شخص نسب کے اعتبار سے سید ہاشمی ہے وہ اس پر شکر کرے کہ یہ نسبت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور جس کو یہ نسبت حاصل نہیں وہ اس فکر میں نہ پڑے اور اس کی تمنا بھی نہ کرے، کیونکہ یہ چیز کسی کو کوشش سے حاصل ہونے والی نہیں اس کی تمنا اس کو گناہ میں مبتلا کر دے گی اور بجز رنج و غم کے کچھ حاصل نہ ہوگا بجائے نسب پر افسوس کرنے کے اعمال صالحہ کی فکر میں زیادہ پڑے، ایسا کرنے سے وہ بڑے نسب والوں سے بڑھ سکتا ہے۔ بعض آیات قرآنی اور ارشادات نبوی میں مسابقت فی الخیرات یعنی نیک کاموں میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کا حکم یا دوسروں کے فضائل و کمالات کو دیکھ کر ان کی تحصیل کے لئے سعی و عمل اور جدوجہد کی ترغیب آئی ہے تو وہ ان اعمال و افعال سے متعلق ہے جو انسان کے اختیار میں ہیں اور کسب و اکتساب سے حاصل ہو سکتے ہیں، مثلاً علمی فضائل اور عملی و اخلاقی کمالات کسی کے دیکھ کر ان کے حاصل کرنے کی جدوجہد مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے، یہ آیت اس کے منافی نہیں، بلکہ آیت کا آخری حصہ اس کی تائید کر رہا ہے، جس میں ارشاد ہے للرجال نصیب مما اکتسوبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن یعنی جو کوئی چیز مردوں نے کسب و عمل کے ذریعہ حاصل کی ان کو اس کا حصہ ملے گا اور جو عورتوں نے سعی و عمل کے ذریعہ حاصل کی ان کو اس کا حصہ ملے گا۔ اس میں یہ ارشاد موجود ہے کہ فضائل و کمالات کی تحصیل میں کسب و اکتساب اور جدوجہد بیکار نہیں، بلکہ ہر مرد و عورت کو اس کی سعی و عمل کا حصہ ضرور ملے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی شخص کے علمی، عملی، اخلاقی فضائل کو دیکھ کر ان کی تمنا اور پھر تمنا پوری کرنے کے لئے سعی و عمل اور جدوجہد کرنا مطلوب اور مستحسن ہے۔ یہاں ایک مغالطہ بھی رفع ہوگیا جس میں بہت سے ناواقف مبتلا ہوا کرتے ہیں بعض تو غیر اختیاری فضائل کی تمنا میں لگ کر اپنے عیش و آرام اور سکون و اطمینان کو دنیا ہی میں برباد کرلیتے ہیں اور اگر نوبت حسد تک پہنچ گئی، یعنی دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا ہونے لگی تو آخرت بھی برباد ہوئی، کیونکہ حسد کے گناہ عظیم کا ارتکاب ہوا۔ اور بعض وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی سستی کم ہمتی بلکہ بےغیرتی سے اختیاری فضائل حاصل کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے اور کوئی کہے تو اپنی کم ہمتی اور بےعملی پر پردہ ڈالنے کے لئے قسمت و تقدیر کے حوالے دینے لگتے ہیں۔ اس آیت نے ایک حکیمانہ اور عادلانہ ضابطہ بتلا دیا کہ جو کمالات و فضائل غیر اختیاری میں اور ان میں انسان کا کسب و عمل موثر نہیں جیسے کسی کا عالی نسب یا حسین و خوبصورت صورت پیدا ہونا وغیرہ ایسے فضائل کو تو حوالہ تقدیر کر کے جس حالت میں کوئی ہے اسی پر اس کو راضی رہنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے، اس سے زائد کی تمنا بھی لغو، فضول اور نقد رنج و غم ہے۔ اور جو فضائل و کمالات اختیاری ہیں جو کسب و عمل سے حاصل ہو سکتے ہیں ان کی تمنا مفید ہے، بشرطیکہ تمنا کے ساتھ کسب و عمل اور جدوجہد بھی ہو اور اس میں اس آیت نے یہ بھی وعدہ کیا کہ سعی و عمل کرنے والے کی محنت ضائع نہ کی جائے گی بلکہ ہر ایک کو بقدر محنت حصہ ملے گا مرد ہو یا عورت۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس آیت سے پہلے لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل اور لاتقتلوا انفسکم کے احکام آئے تھے جن میں کسی کا مال ناحق استعمال کرنے اور کسی کو ناحق قتل کرنے کی ممانعت ہے اس آیت میں ان دونوں جرموں کے سرچشمہ کو بند کرنے کے لئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ دوسرے لوگوں کو جو مال و دولت یا عیش و عشرت یا عزت و جاہ وغیرہ میں تم پر تقوی خدا داد حاصل ہے، تم اس کی تمنا بھی نہ کرو .... اس میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چوری، ڈاکہ اور دوسرے ناجائز طریقوں سے کسی کا مال لینا، یا انسان کو مال و دولت وغیرہ میں اپنے سے فائق اور بڑھا ہوا پاتا ہے تو اول اس کے دل میں اس کی برابری یا اس سے برتری کی خواہش و تمنا پیدا ہوتی ہے پھر یہ تمنا ہی ان سب جرائم تک پہنچا دیتی ہے، قرآنی ہدایت نے ان تمام جرائم کے سرچشمہ کو بند کردیا کہ دوسروں کے فضائل و کمالات کی تمنا ہی کو روک دیا۔ آیت میں اس کے بعد ارشاد ہے وسئلو اللہ من فضلہ اس میں یہ ہدایت ہے کہ جب تم کسی کو کسی کمال میں اپنے سے زائد دیکھو تو بجائے اس کے کہ اس خاص کمال میں اس کے برابر ہونے کی تمنا کرو، تمہیں کرنا یہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کی درخواست کرو، کیونکہ فضل خداوندی ہر شخص کے لئے جدا جدا صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، کسی کے لئے مال و دولت فضل الٰہی ہوتا ہے اگر وہ فقیر ہوجائے تو گناہ و کفر میں مبتلا ہوجائے اور کسی کے لئے تنگی اور تنگدستی ہی میں فضل ہوتا ہے اگر وہ غنی اور مالدار ہوجائے تو ہزاروں گناہوں کا شکار ہوجائے اسی طرح کسی کی عزت و جاہ کی صورت میں فضل خداوندی ہوتا ہے، کسی کے لئے گمنامی اور کسمپرسی ہی میں اس کے فضل کا ظہور ہوتا ہے اور حقیقت حال پر نظر کرے تو معلوم ہوجائے کہ اگر اس کو عزت و جاہ ملتی تو بہت سے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا۔ اسلئے اس آیت نے یہ ہدایت دی کہ جب اللہ سے مانگو تو کسی خاص وصف معین کو مانگنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا فضل مانگو تاکہ وہ اپنی حکمت کے مطابق تم پر اپنے فضل کا دروازہ کھول دے۔ آخر آیت میں فرمایا ان اللہ کان بکل شی علیماً یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے، اس میں اشارہ فرمادیا کہ حق تعالیٰ کی تقسیم عین حکمت اور عین عدل و انصاف ہے جس کو جس حال میں پیدا کیا اور رکھا ہے وہی مقتضائے حکمت و عدل تھا مگر چونکہ انسان کو اپنے اعمال کے عواقب کا پورا پتہ نہیں ہوتا اس کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ کس کو کس حال میں رکھنا اس کے لئے مفید ہے۔ آیت مذکورہ کی شان نزول میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب میراث میں مردوں کا دوہرا حصہ مقرر ہوا تو بعض عورتوں نے یہ تمنا کی کہ ہم مرد ہوتے تو ہمیں بھی دوہرا حصہ ملتا اس کے مناسب دوسری آیت میں میراث کے قانون کا اعادہ اس انداز سے کردیا گیا کہ اس میں جو کچھ حصے مقرر کئے گئے ہیں وہ عین حکمت اور مطابق عدل ہیں، انسانی عقل چونکہ تمام عالم کے مصالح و مفاسد کا احاطہ نہیں کرسکتی، اس لئے وہ ان حکمتوں کو بھی نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون میں ملحوظ ہیں، اس لئے جو حصہ کسی کے لئے مقرر کردیا گیا ہے اس کو اسی پر راضی رہنا اور شکر گذار ہونا چاہئے۔ میراث پہنچنے کا حکم۔ اس آیت کے آخر میں جو باہمی معاہدہ کی بناء پر حصہ دینا مذکور ہے، یہ ابتداء اسلام میں تھا بعد میں آیت واولوالارحام بعضھم اولی بعض سے یہ منسوخ ہوگیا، اب اگر دوسرے ورثاء موجود ہوں تو دو شخصوں کے باہمی معاہدہ کا میراث پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو تو ان کو سمجھاؤ اور جدا کرو سونے میں اور مارو ان کو پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی بیشک اللہ ہے سب سے اوپر بڑا،

ربط آیات عورتوں کے متعلق جو احکام گذر چکے ہیں، اس میں ان کی حق تلفی کی ممانعت بھی مذکور ہوئی، اب آگے مردوں کے حقوق کا ذکر ہے اور ان کے مطالبہ اور ان کو قوت کرنے کی صورت میں تادیب کی اجازت بھی دی گئی ہے، حقوق میں اختلاف واقع ہونے کی صورت میں اس کے تصفیہ کا طریق اور حقوق ادا کرنے والوں کی فضیلت بھی مذکور ہے، اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی تصریح ہے کہ مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے، اس سے یہ جواب بھی نکل آیا کہ جب مرد، عورت کے مقابل ہمیں افضل ہیں تو یہ اشکال نہیں ہونا چاہئے، کہ میراث میں ان کا حصہ عورتوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے ؟ خلاصہ تفسیر مرد حاکم ہیں عورتوں پر (دو وجہ سے، ایک تو) اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (یعنی مردوں کو) بعضوں پر (یعنی عورتوں پر قدرتی) فضیلت دی ہے، (یہ تو وہی امر ہے) اور (دوسرے) اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں پر) اپنے مال (مہر میں اور نان نفقہ میں) خرچ کئے ہیں (اور خرچ کرنے والوں کا ہاتھ اونچا اور بہتر ہوتا ہے اس سے کہ جس پر خرچ کیا جاوے اور یہ امر مکتسب ہے) سو جو عورتیں نیک ہیں (وہ مرد کے ان فضائل و حقوق کی وجہ سے) اطاعت کرتی ہیں (اور) مرد کی عدم موجودگی میں (بھی) بحفاظت (وتوفیق) الٰہی (اس کی آبرو و مال کی) نگہداشت کرتی ہیں اور جو عورتیں (اس صفت کی نہ ہوں، بلکہ) ایسی ہوں کہ تم کو (قرائن سے) ان کی بد دماغی کا احتمال (قوی) ہو تو ان کو (اول) زبانی نصیحت کرو اور (نہ مانیں تو) ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو (یعنی ان کے پاس مت لیٹو) اور (اس سے بھی نہ مانیں تو) ان کو (اعتدال کے ساتھ) مارو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر (زیادتی کرنے کے لئے) بہانہ (اور موقع) مت ڈھونڈو (کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی رفعت اور عظمت والے ہیں (ان کے حقوق اور قدرت اور علم سب بڑے ہیں، اگر تم ایسا کرو گے پھر وہ بھی تم پر اپنے حقوق کے متعلق ہزاروں الزام قائم کرسکتے ہیں) اور اگر (قرائن سے) تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بی بی میں (ایسی کشاکش کا) اندیشہ ہو (کہ اس کو وہ باہم نہ سلجھا سکیں گے) تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو، مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو (ایسا ہی) تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے (تجویز کر کے اس کشاکش کے رفع کرنے کے لئے ان کے پاس) بھیجو (کہ وہ جا کر تحقیق حال کریں، اور جو بےراہی پر ہو، یا دونوں کا کچھ کچھ قصور ہو سمجھا دیں) اگر ان دونوں آدمیوں کو (سچے دل سے) اصلاح (عاملہ کی) منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی میں (بشرطیکہ وہ ان دونوں کی رائے پر عمل بھی کریں) اتفاق فرما دیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں (جس طریق سے ان میں باہم مصالحت ہو سکتی ہے اس کو جانتے ہیں جب حاکمین کی نیت ٹھیک دیکھیں گے وہ طریق ان کے قلب میں القاء فرما دیں گے۔) معارف و مسائل سورة نسآء کے شروع سے یہاں تک بیشتر احکام اور ہدایات عورتوں کے حقوق سے متعلق آتی ہیں، جن میں ان ”الم کو مٹایا گیا ہے جو اسلام سے پہلے پوری دنیا میں اس صنف نازک پر توڑے جاتے تھے، اسلام نے عورتوں کو وہ تمام انسانی حقوق دیئے جو مردوں کو حاصل ہیں، اگر عورتوں کے ذمہ مردوں کی کچھ خدمات عائد کیں تو مردوں پر بھی عورتوں کے حقوق فرض کئے۔ سورة بقرہ کی آیت میں ارشاد فرمایاولھن مثل الذی علیھن بالمعروف (2: 822) یعنی ”عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ایسے ہی واجب ہیں جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں۔ ‘ اس میں دونوں کے حقوق کی مماثلت کا حکم دے کر اس کی تفصیلات کو عرف کے حوالہ سے فرمایا جاہلیت اور تمام دنیا کی ظالمانہ رسموں کا یکسر خاتمہ کردیا، ہاں یہ ضروری نہیں کہ دونوں کے حقوق صورت کے اعتبار سے متماثل ہوں، بلکہ عورت پر ایک قسم کے کام لازم ہیں تو اس کے مقابل مرد پر دوسری قسم کے کام ہیں، عورت امور خانہ داری اور بچوں کی تربیت و حفاظت کی ذمہ دار ہے، تو مردان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کسب معاش کا ذمہ دار ہے، عورت کے ذمہ مرد کی خدمت و اطاعت ہے تو مرد کے ذمہ اس کا مہر اور نفقہ یعنی شام ضروری اخراجات کا نتظام ہے، غرض اس آیت نے عرتوں کو مردوں کے مماثل حقوق دیدیئے۔ لیکن ایک چیز ایسی بھی ہے جس میں مردوں کو عورتوں پر تفوق اور ایک خالص فضیلت حاصل ہے، اس لئے اس آیت کے آخر میں فرمایاوللرجال علیھن درجة یعنی مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت کا حاصل ہے۔ ان آیات میں اسی درجہ کا بیان قرآن کریم کے حکیمانہ طرز بیان کے ساتھ اس طرح کیا گیا ہے کہ مردوں کی یہ فضیلت اور تفوق خود عورتوں کی مصلحت اور فائدہ کے لئے اور عین مقتضائے حکمت ہے اس میں عورت کی نہ کسر شان ہے نہ اس کا کوئی نقصان ہے۔ ارشاد فرمایاالرجال قومون علی النسآئ (5: 43) قوام، قیام، قیم عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو، اسی لئے اس آیت میں قوام کا ترجمہ عموماً حاکم کیا گیا ہے، یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہیں، مراد یہ ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لئے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ یا امیر اور حاکم ہوتا ہے کہ اختلاف کے قوت اس کے فیصلہ سے کام چل سکے، جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست کے لئے اس کی ضرورت سب کے نزدیک مسلم ہے، اسی طرح قبائلی نظام میں بھی اس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی اور کسی ایک شخص کو قبیلہ کا سردار اور حاکم مانا گیا ہے، اسی طرح اسی عائلی نظام میں جس کو خانہ داری کہا جاتا ہے اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے، عورتوں اور بچوں کے مقابل ہمیں اس کام کے لئے حق تعالیٰ نے مردوں کو منتخب فرمایا کہ ان کی عمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں، بچوں کے زیادہ ہیں اور یہ ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ کوئی سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة بقرہ کی آیت میں وللرجال علیھن درجة (2: 822) فرما کر اور سورة نسآء کی آیت متذکرہ میں الرجال قومون علی النسآء فرما کر یہ بتلا دیا گیا کہ اگرچہ عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم و واجب ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں اور دونوں کے حقوق باہم ماثل ہیں، لیکن ایک چیز میں مردوں کو امتیاز حاصل ہے کہ وہ حاکم ہیں ........ اور قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ حکومت جو مردوں کی عورتوں پر ہے محض آمریت اور ساتبداد کی حکومت نہیں، بلکہ حاکم یعنی مرد بھیق انون شرع اور مشورہ کا پابند ہے، محض اپنی طبیعت کے تقاضہ سے کوئی کام نہیں کرسکتا، اس کو حکم دیا گیا ہے کہ عاشر وھن بالمعروف (5: 91) یعنی عورتوں کے ساتھ معروف طریقہ پر اچھا سلوک کرو۔ اسی طرح دوسری آیت میں عن تراض منھما وتشاور (2: 332) کی تعلیم ہے جس میں اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ امور خانہ داری میں بیوی کے مشورہ سے کام کریں، اس تفصیل کے بعد مرد کی حاکمیت عورت کے لئے کسی رنج کا سبب نہیں ہو سکتی، تاہم چونکہ یہ احتمال تھا کہ مردوں کی اس فضیلت اور اپنی محکومیت سے عورتوں پر کوئی ناگوار اثر ہو، اس لیے حق تعالیٰ نے اس جگہ صرف حکم بتلانے اور جاری کرنے پر اکتفاء نہیں فرمایا، بلکہ خود ہی اس کی حکمت اور وجہ بھی بتلا دی، ایک وہبی جس میں کسی کے عمل کا دخل نہیں، دوسرے کسی جو عمل کا اثر ہے۔ پہلی وجہ یہ ارشاد فرمائی بما فضل اللہ بعضھم علی بعض، یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں خاص حکمت و مصلحت کے تحت ایک کو ایک پر بڑائی دی ہے، کسی کو افضل کسی کو مفضول بنایا ہے، جیسے ایک خاص گھر کو اللہ نے اپنا بیت اللہ اور قبلہ قرار دیدیا، بیت المقدس کو خاص فضیلت دیدی، اسی طرح مردوں کی حاکمیت بھی ایک خدا داد فضیلت ہے جس میں مردوں کی سعی و عمل یا عورتوں کی کوتاہی و بےعملی کا کوئی دخل نہیں۔ دوسری وجہ کسی اور اختیاری ہے کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، مر ادا کرتے ہیں اور ان کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں ........ ان دو وجہ سے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا۔ فائدہ۔ یہاں ایک بات اور قابل غور ہے، ابن حیان بحر محیط میں لکھتے ہیں کہ آیت میں حاکمیت رجال کی دو وجہوں کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ کسی کو ولایت و حکومت کا استحقاق محض زور و تغلب سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ کام کی صلاحیت و اہلیت ہی اس کو حکومت کا مستحق بنا سکتی ہے۔ مردوں کی افضلیت کے بیان کے لئے قرآن حکیم کا عجیب اسلوب۔ پہلی وجہ کے بیان میں مختصر طریقہ یہ تھا کہ رجال اور نساء کی طرف ضمیریں عائد کر کے فضلھم علیھن فرما دیا جاتا، مگر قرآن کریم نے عنوان بدل کر بعضھم علی بعض کے الفاظ اختیار کئے، اس میں یہ حکمت ہے کہ عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کا بعض اور جزء قرار دے کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اگر کسی چیز میں مردوں کی فوقیت اور افضلیت ثابت بھی ہوجائے تو اس کی ایسی مثال جیسے انسان کا سر اس کے ہاتھ سے افضل یا انسان کا دل اس کے معدہ سے افضل ہے، تو جس طرح سرکا ہاتھ سے افضل ہونا ہاتھ کے مقام اور اہمیت کو کم نہیں کرتا، اسی طرح مرد کا حاکم ہونا عورت کے درجہ کو نہیں گھٹاتا کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے مثل اعضاء و اجزاء کے ہیں، مرد سر ہے تو عورت بدن۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس عنوان سے اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ یہ افضلیت جو مردوں کو عورتوں پر حاصل ہے یہ جنس اور مجموعہ کے اعتبار سے ہے، جاں تک افراد کا تعلق ہے تو بہت ممکن ہے کہ کوئی عورت کمالات علمی و عملی میں کسی مرد سے بڑھ جائے اور صفت حاکمیت میں بھی مرد سے فائق ہوجائے۔ مرد اور عورت کے مختلف اعمال تقسیم کار کے اصول پر مبنی ہیں۔ دسوری وجہ اختیاری جو بیہ بیان کی گئی ہے کہ مرد اپنے مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، اس میں بھی چند اہم امور کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، مثلاً ایک تو اس کا شبہ کا ازالہ ہے جو آیات میراث میں مردوں کا حصہ دوہرا اور عورتوں کا اکہرا ہونے سے پیدا ہوسکتا ہے، کیونکہ اس آیت نے اس کی بھی ایک وجہ بتلا دی کہ مالی ذمہ داریاں تمام تر مردوں پر ہیں، عورتوں کا حال تو یہ ہے کہ شادی سے پہلے ان کے تمام مصارف کی ذمہ داری باپ پر ہے اور شادی کے بعد شوہر پر اس لئے اگر غور کیا جائے تو مرد کو دوہرا حصہ دینا اس کو کچھ زیادہ دینا نہیں ہے، وہ پھر لوٹ کر عورتوں ہی کو پہنچ جاتا ہے۔ دوسرا اشارہ ایک اہم اصول زندگی کے متعلق یہ بھی ہے کہ عورت اپنی خلقت اور فطرت کے اعتبار سے نہ اس کی متحمل ہے کہ اپنے مصارف خود کما کر پیدا کرے، نہ اس کے حالات اس کے لئے سازگار ہیں کہ وہ محنت، مزدوری اور دوسرے ذرائع کسب میں مردوں کی طرح دفتروں اور بازاروں میں پھرا کرے ........ اس لئے حق تعالیٰ نے اس کی پوری ذمہ دری مردوں پر اس کے بالمقابل نسل بڑھانے کا ذریعہ عورت کو بنایا گیا ہے، بچوں کی اور امور خانہ داری کی ذمہ داری بھی اسی پر ڈال دی گئی ہے، جبکہ مرد ان امور کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ عورت کو اپنے نفقات میں مرد کا محتاج کر کے اس کا رتبہ کم کردیا گیا ہے، بلکہ تقسیم کار کے اصول پر ڈیوٹیاں تقسیم کردی گئی ہیں، ہاں ڈیوٹیوں کے درمیان جو باہم تفاضل ہوا کرتا ہے وہ یہاں بھی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں وجہوں کے ذریعہ یہ بتلا دیا گیا کہ مردوں کی حاکمیت سے نہ عورتوں کا کوئی درجہ کم ہوتا ہے اور نہ ان کی اس میں کوئی منفعت ہے، بلکہ اس کا فائدہ بھی عورتوں ہی کی طرف عائد ہوتا ہے۔ صالح بیوی۔ اس آیت کے شروع میں بطور ضابطہ یہ بتلا دیا گیا کہ مرد عورت پر حاکم ہے اس کے بعد نیک و بد عورتوں کا بیان اس طرح فرمایافالصلحت قنثت حفظت للغیب بما حفظ اللہ ”یعنی نیک عورتیں وہ ہیں جو مرد کی حاکمیت کو تسلیم کر کے ان کی اطاعت کرتی ہیں اور مردوں کے پیٹھ پیچھے بھی اپنے نفس اور ان کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔“ یعنی اپنی عصمت اور گھر کے مال کی حفاظت جو امور خانہ داری میں سب سے اہم ہیں، ان کے بجا لانے میں ان کے لئے مردوں کے سامنے اور پیچھے کے حالات بالکل مساوی ہیں، یہ نہیں کہ ان کے سامنے تو اس کا اہتمام کریں، اور ان کی نظروں سے غائب ہوں تو اس میں لاپرواہی برتیں۔ رسول کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ”یعنی بہترین عورت وہ ہے کہ جب تم اس کو دیکھو تو خوش رہو اور جب اس کو کوئی حکم دو تو اطاعت کرے اور جب تم غائب ہو تو اپنے نفس اور مال کی حفاظت کرے۔ اور چونکہ عورتوں کی یہ ذمہ داریاں یعنی اپنی عصمت اور شوہر کے مال کی حفاظت دونوں آسان کام نہیں، اس لئے آگے فرما دیا بما حفظ اللہ، یعنی اس حفاظت میں اللہ تعالیٰ عورت کی مدد فرماتے ہیں، انہی کی امداد اور توفیق سے وہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتی ہیں، ورنہ نفس و شیطان کے مکائد ہر وقت ہر انسان مرد و عورت کے گھیرے ہوئے ہیں اور عورتیں خصوصاً اپنی علمی اور عملی قوتوں میں بہ نسبت مرد کمزور بھی ہیں، اس کے باوجود وہ ان ذمہ داریوں میں مردوں سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور امداد ہے، یہی وجہ ہے کہ بےحیائی کے گناہوں میں بہ نسبت مردوں کی عورتیں بہت کم مبتلا ہوتی ہیں۔ اطاعت شعار، تابعدار عورتوں کی فضیلت جہاں اس آیت سے مفہوم ہوتی ہے وہاں اس سلسلہ میں احادیث بھی وارد ہیں۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایاکہ جو عورت اپنے شوہر کی تابعدار و مطیع ہو اس کے لئے استغفار کرتے ہیں پرندے ہوا میں، اور مچھلیاں دریا میں، اور فرشتے آسمانوں میں اور درندے جنگلوں میں۔ (بحر محیط) نافرمان بیوی اور اس کی اصلاح کا طریقہ۔ اس کے بعد ان عورتوں کا ذکر ہے جو اپنے شوہروں کی فرمانبردار نہیں یا جن سے اس کام میں کوتاہی ہوتی ہے، قرآن کریم نے ان کی اصلاح کے لئے مردوں کو علی الترتیب تین طریقے بتلائے، والتی تخافون نسوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن ”یعنی عورتوں کی طرف سے اگر نافرمانی کا صدور یا اندیشہ ہو، تو پہلا درجہ ان کی اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے ان کو سجھاؤ اور اگر وہ محض سمجھانے بجھانے سے باز نہ آئیں، تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کا بسترہ اپنے سے علیحدہ کردو، تاکہ وہ اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی کا احساس کر کے اپنے فعل پر نادم ہوجائیں قرآن کریم کے الفاظ میں فی المضاجع کا لفظ ہے، اس سے فقہاء رحمہہ اللہ نے یہ مطلب نکالا کہ جدائی صرف بسترہ میں ہو، مکان کی جدائی نہ کرے کہ عورت کو مکان میں تنہا چھوڑ دے اس میں ان کو رنج بھی زیادہ ہوگا اور فساد بڑھنے کا اندیشہ بھی اس میں زیادہ ہے۔ ایک صحابی سے روایت ہے ”میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے آپ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ اور تم پہنو تو انہیں بھی پہناؤ اور چہرے پر مت مارو، اگر اس سے علیحدگی کرنا چاہو تو صرف اتنی کرو کہ (بستر الگ کردو) مکان الگ نہ کرو۔ اور جو اس شریفانہ سزا و تنبیہ سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر اس کو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے بدن پر اثر نہ پڑے، اور ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے تک نوبت نہ آئے اور چہرہ پر مارنے کو مطلقاً منع فرما دیا گیا ہے۔“ ابتدائی دو سزائیں تو شریفانہ سزائیں ہیں، اس لئے انبیاء و صلحاً سے قولاً بھی ان کی اجازت منقول ہے اور اس پر عمل بھی ثابت ہے مگر تیسری سزا یعنی مار پیٹ کی اگرچہ بدرجہ مجبوری ایک خاص انداز میں مرد کو اجازت دی گئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی ارشاد ہے ولن یضرب خیارکم، یعنی ”اچھے مرد یہ مارنے کی سزا عورتوں کو نہ دیں گے چناچہ انبیاء (علیہم السلام) سے کہیں ایسا عمل منقول نہیں۔ ابن سعد اور بیہقی نے حضرت صدیق اکبر کی صاحبزادی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ پہلے مردوں کو مطلقاً عورتوں کو مارنے سے منع کردیا گیا تھا، مگر پھر عورتیں شیر ہوگئیں تو یہ اجازت مکرر دی گئی۔ آیت مذکور کا تعلق بھی اسی قسم کے ایک واقعہ سے ہے، اس کا شان نزول ہے کہ زید بن ابی زبیر نے اپنی لڑکی حبیبہ کا نکاح حضرت سعد بن ربیع سے کردیا تھا، ان کے آپس میں کچھ اختلاف پیش آیا، شوہر نے ایک طمانچہ مار دیا، حبیبہ نے اپنے والد سے شکایت کی، والد ان کو لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے حکم دے دیا کہ حبیبہ کو حق حاصل ہے کہ جس زور سے سعد بن ربیع نے ان کے طمانچہ مارا ہے وہ بھی اتنی ہی زر سے ان کے طمانچہ ماریں۔ یہ دونوں حکم نبوی سن کر چلے کہ اس کے مطابق سعد بن ربیع سے اپنا انتقام لیں، مگر اسی وقت آیت مذکورہ نازل ہوگئی، جس میں آخری درجہ میں مرد کے لئے عورت کی مارپیٹ کو بھی جائز قرار دے دیا ہے اور اس پر مرد سے قصاص یا اتنقام لینے کی اجازت نہیں دی، آیت نازل ہونے پر آنحضرت ﷺ نے ان دونوں کو بلوا کر حق تعالیٰ کا حکم سنا دیا، اور انتقام لینے کا پہلا حکم منسوخ فرما دیا۔ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ان تدابیر سہ گانہ کے ذریعہ اگر وہ تابعدار ہوجائیں تو پھر تم بھی چشم پوشی سے کام لو، معمولی باتوں پر الزام کی راہ نہ تلاش کرو، اور سمجھ لو کہ اللہ کی قدرت سب پر حاوی ہے۔ خلاصہ مضمون۔ آیت سے بنیادی اصول کی حیثیت سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ پچھلی آیات کے ارشادات کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حقوق باہم متماثل ہیں بلکہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کا اس وجہ سے زیادہ اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ بہ نسبت مرد کے ضعیف ہیں، اپنے حقوق اپنی قوت بازو کے ذریعہ مرد سے حاصل نہیں کرسکتیں، لیکن اس مساوات کے یہ معنی نہیں کہ عورت و مرد میں کوئی تفاضل یا درجہ کا کوئی فرق ہی نہ ہو، بلکہ بقتضائے حکمت و انصاف دو سبب سے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا ہے اولتو جنس مرد کو اپنے علمی اور عملی کمالات کے اعتبار سے عورت کی جنس پر ایک خدا داد فضیلت اور فوقیت حاصل ہے، جس کا حصول جنس عورت کے لئے ممکن نہیں ........ افراد و احاد اور اتفاقی واقعات کا معاملہ الگ ہے۔ دوسرے یہ کہ عورتوں کی تمام ضروریات کا تکفل مرد اپنی کمائی اور اپنے مال سے کرتے ہیں ........ پہلا سبب وہی غیر اختیاری اور دوسرا کسبی اور اختیاری ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک ہی مال باپ کی اولاد میں سے بعض کو حاکم بعض کو محکوم بنانے کے لئے عقل و انصاف کی رو سے دو چیزیں ضروری تھیں، ایک جس کو حاکم بنایا جائے اس میں علم و عمل کے اعتبار سے حاکمیت کی صلاحیت، دوسرے اس کی حاکمیت پر محکوم کی رضامندی پہلا سبب مرد کی صلاحیت حاکمیت کو واضح کر رہا ہے اور دوسرا سبب محکوم کی رضا مندی کو، کیونکہ بوقت نکاح جب عورت اپنے مہر اور نان نفقہ کے تکفل کی شرط پر نکاح کی اجازت دیتی ہے تو اس کی اس حاکمیت کو تسلیم اور منظور کرتی ہے۔ الغرض اس آیت کے پہلے جملہ میں خانگی اور عائلی نظام کا ایک بنیادی اصول بتلایا گیا ہے کہ اکثر چیزوں میں مساوات حقوق کے باوجود مرد کو عورت پر ایک فضیلت حاکمیت کی حاصل ہے اور عورت محکوم و تابع ہے۔ اس بنیادی اصول کے ماتحت عملی دنیا میں عورتوں کے دو طبقے ہوگئے، ایک وہ جنہوں نے اس بنیادی اصول اور اپنے معاہدہ کی پابندی کی اور مرد کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کی ........ دوسرے وہ جو اس اصول پر پوری طرح قائم نہ رہا، پہلا طبقہ تو خانگی امن و اطمینان کا خود ہی کفیل ہے، اس کو کسی اصلاح کی حاجت نہیں۔ دوسرے طبقہ کی اصلاح کے لئے آیت کے دوسرے جملہ میں ایک ایسا مرتب نظام بتلایا گیا کہ جس کے ذریعہ گھر کی اصلاح گھر کے اندر ہی ہوجائے اور میاں بیوی کا جھگڑا انہیں دونوں کے درمیان نمٹ جائے کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہ ہو، اس میں مردوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر عورتوں سے نافرمانی یا اطاعت میں کچھ کمی محسوس کرو تو سب سے پہلا کام یہ کرو کہ سمجھا بجھا کر ان کی ذہنی اصلاح کرو، اس سے کام چل گیا تو معاملہ یہیں ختم ہوگیا عورت ہمیشہ کے لئے گناہ سے اور مرد قلبی اذیت سے اور دونوں رنج و غم سے بچ گئے اور اگر فہمائش سے کام نہ چلا تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کو تنبیہ کرنے اور اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لئے خود علیحدہ بستر پر سو یہ ایک معمولی سزا اور بہترین تنبیہ ہے، اس سے عورت متنبہ ہوگی تو جھگڑا یہیں ختم ہوگیا اور اگر وہ اس شریفانہ سزا پر بھی اپنی نافرمانی اور کج روی سے باز نہ آئی تو تیسرے درجہ میں معمولی مار مار نے کی بھی اجازت دے دیگئی جس کی حد یہ ہے کہ بدن پر اس مار کا اثر و زخم نہ ہو ........ مگر اس تیسرے درجہ کی سزا کے استعمال کو رسول کریم ﷺ نے پسند نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد فرمایا کہ شریف اور بھلے لوگ ایسا نہیں کریں گے۔ بہرحال اس معمولی مارپیٹ سے بھی اگر معاملہ درست ہوگیا تب بھی مقصد حاصل ہوگیا، اس میں مردوں کو عورتوں کی اصلاح کے لئے جہاں یہ تین اختیارات دیئے گئے وہیں آیت کے آخر میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فان اطعنکم فلاتبغوا علیھن سبیلا یعنی اگر ان سہ نمبری تدبیروں سے وہ تمہاری بات ماننے لگیں تو اب تم بھی زیادہ بال کی کھال نہ نکالو“ اور الزام تراشی میں مت لگو، بلکہ کچھ چشم پوشی سے کام لو اور خوب سمجھ لو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر تمہیں کچھ بڑائی دی ہے تو اللہ تعای کی بڑائی تمہارے اوپر بھی مسط ہے، تم زیادتی کرو گے تو اس کی سزا تم بھگتو گے۔ جھگڑا اگر طول پکڑ جائے تو دونوں طرف سے برادری کے حکم سے صلح کرائی جائے۔ یہ نظام تو وہ تھا کہ جس کے ذریعہ گھر کا جھگڑا گھر ہی میں ختم ہوجائے، لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جھگڑا طول پکڑ لیتا ہے، خواہ اس وجہ سے کہ عورت کی طبیعت میں تمردو سرکشی ہو یا اس بناء پر کہ مرد کا قصور اور اس کی طرف سے بےجا تشدد ہو، بہرحال اس صورت میں گھر کی بات کا باہر نکلنا تو لازمی ہے، لیکن عام عادت کے مطابق تو یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے حامی ایک دوسرے کو برا کہتے ہیں اور الزام لگاتے پھرتے ہیں، جس کا نتیجہ جانبین سے اشتعال اور پھر دو شخصوں کی لڑائی خاندانی جھگڑے کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔