Ayahs 7:97–98یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔
اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔
Ayah 7:99اللہ کے مکر سے مراد وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے وہ بیخبر ہوں تاکہ انسان اللہ سے ڈرتے رہیں اور اللہ کے احکام میں محتاط رہیں۔ اور جو لوگ نہ ڈریں گے وہ خسارے میں رہیں کیونکہ عافیت کوشی ، غفلت اور حد سے گزرجانے اور لاپرواہی کا نتیجہ خسران مبین ہی ہوسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال اور تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو ہلاک کردیا گیا اور ان کے بعد یہ اس دنیا کے وارث بنائے گئے اور جنہیں ان کی غفلت ہی کی وجہ سے برباد کیا گیا کہ ان کی بربادی میں ان کے لئے کوئی ہدایت اور عبرت نہیں ہے ؟
Ayah 7:100یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے تھے اور ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور اس عارضی مصنوعی عافیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اس لاپرواہی کو ایک طرف چھوڑ دیتے تو وہ اصلاح پذیر ہوجاتے اور ان واقعات سے عبرت لیتے۔ کاش ! کہ وہ ایسا کرتے۔
اس آیت میں جو تنبیہ کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نامعلوم عذاب اور مستقبل کی اچانک تباہی اور بربادی کے خوف سے کانپتے ہی رہیں اور وہ ہر وقت غیر یقینی صورت حالات سے دوچار رہیں کہ کسی بھی وقت ان پر کوئی عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت کا جزع و فزع ، کسی بھی وقت آجانے والے عذاب کا ڈر ، اور ہر وقت یہ خطرہ کہ کسی بھی وقت کوئی آفت نازل ہوسکتی ہے ، ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے انسانی قوتیں شل ہوجاتی ہیں اور انسان علم و عمل کی خوبی سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح مایوس ہوکر انسان اس کرۂ ارض کی تعمیر اور ترقی کے مسلسل عمل سے دستکش ہوسکتا ہے۔ اس تنبیہ کی غرض وغایت انسان کو شل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان بیدار ہو ، اس کے اندر ہر وقت خدا خوفی کا احساس ہو ، وہ ہر وقت اپنے نفس کے اوپر نگراں رہے ، اور دنیا میں گزرے ہوئے واقعات سے سبق لے وہ انسانی تاریخ کے محرکات کو معلوم کرلے۔ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت قائم رہے اور عیش و عشرت کی زندگی اسے غافل اور مغرور نہ کردے۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں آخرت میں امن ، اطمینان ، اپنی رضا مدنی ، دنیا و آخرت کی رضامندی عطا کرے گا لیکن یہ اس وقت ہوگا جب انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے احساس کو تیز رکھا۔ اور انہوں نے تقویٰ اور خدا خوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو آلودگیوں میں ملوث نہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادی قوت کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے اپنے محدود و مادی وسائل کے مقابلے میں ان وسائل پر بھروسہ کیا جو اللہ کے ہاں موجود ہیں۔ اور جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرتے ، ان کے دل دولت ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کے ذکر پر مطمئن تھے ، وہ اپنی خواہشات اور شیطانی حرکات پر کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ وہ اس کرہ ارض پر مصلح کے طور پر اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے نہ ڈرتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
اس انداز میں ہم اللہ کے عذاب سے اس دائمی ڈراوے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ، ایسا عذاب جو اٹل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی ان تدابیر کے مطابق ہوتا ہے جس کا ادراک انسان کو نہیں ہوتا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات کا مطلب محض خوف و ہراس پھیلانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہے ، لوگوں کے اندر بےچینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر احساس زیاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ زندگی کو معطل کرنا مطلوب نہیں ہے ، بلکہ اسے لاپرواہی اور سرکشی سے بچانا مطلوب ہے۔
اسلامی اور قرآنی منہاج تربیت کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے طور طریقوں کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اقوام اور سوسائٹیوں کے مسائل واطوار کو بھی درست کرتا ہے۔ اور ہر ایک کا علاج اس کے حالات کے مطابق کرتا ہے۔ کسی کو امن ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے کی امید کی دولت دیتا ہے۔ اور کسی کے لئے خوف بیداری اور سٹینڈ ٹو کا نسخہ تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے باز آجائے اور اللہ کے عذاب سے ڈرے جو کسی بھی وقت انہیں گھیر سکتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مادی زندگی پر بھروسہ کرکے غرے میں مبتلا ہوجائے۔ اللہ بہرحال اپنی مخلوق سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ لطیف وخبیر ہے۔
یہاں سنت جاریہ کا بیان ختم ہوجاتا ہے۔ انسانی وجدان کو اس سنت کے شعور کا ٹچ دیا گیا اور نہایت ہی اچھے اشارات دئیے گئے۔ اب روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پلٹ جاتا ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان بستیوں کے باشندوں کا مجموعی طور پر کیا انجام ہوا اور اس انجام سے کفر کا کیا مزاج سامنے آتا ہے اور ایمان کا مزاج کس رنگ میں سامنے آتا ہے اور اقوام عالم کی تاریخ سے ان دو قسم کے انسانوں کی عمومی روش کیا معلوم ہوتی ہے ؟
Ayah 7:101یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔
وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔
Ayah 7:102یہاں جس عہد کا ذکر ہے وہ فطرت انسانی کا عہد بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر اس سورة کے آخر میں ہوا ہے (واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی شہدنا) " اے نبی لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی ادم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا : " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا : " ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ " ہم اس پر گواہی دیتے ہیں "۔
اس عہد سے وہ عہد بھی مراد ہوسکتا ہے جو ان لوگوں کے اسلاف نے اپنے رسولوں سے کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے مگر بعد میں آنے والے لوگ اس سے منحرف ہوگئے جیسا کہ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا رہا ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اہل ایمان جاہلیت کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور آخر کار پوری طرح جاہلیت میں داخل ہوجاتے ہیں۔
بہرحال عہد سے مراد جو بھی ہو ، لیکن ہلاک ہونے والوں کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ کسی عہد و پیمان کے پابند نہ تھے ، نہ وہ کسی بات پر قائم رہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے ساتھ بدلتے رہتے تھے۔ ان کا مزاج بھی ایسا ہوگیا تھا کہ وہ اپنی بات پر جمتے نہ تھے اور نہ سچا طرز عمل اختیار کرتے تھے۔ بلکہ اکثر کو فاسق پایا گیا یعنی اپنے دین سے منحرف پایا گیا۔ اور یہ اس لئے کہ وہ ہر وقت بدلتے رہتے تھے اور کسی عہد کا پاس نہ رکھتے تھے بلکہ وہ اغراض کے بندے ہوگئے تھے جو قوم اللہ کے ساتھ اپنے وعدے پر قائم نہیں رہتی اور اپنے دین اور راہ ہدایت پر قائم نہیں رہتی اور اللہ سے ہدایت اخذ نہیں کرتی تو ظاہر ہے کہ ایسی قوم تتر بتر ہوجاتی ہے۔ راہ حق سے منحرف ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ فاسق بن جاتی ہے چناچہ ان بستیوں والوں کی یہی حالت ہوگئی تھی اس لئے ان کا یہ انجام ہوا۔
Ayah 7:103درس نمبر 79 ایک نظر میں
اس سبق میں فرعون اور اس کے درباریوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات کی وہ کڑیاں جو اس کے دعوائے ربوبیت اور اس کے لشکر سمیت اس کی غرق یابی کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ ان کڑیوں کی درمیانی کڑیاں مثلاً جادوگروں کے ساتھ مقابلہ اور حق کا باطل پر غالب آنا ، جادوگروں کا ایمان لانا ، اور ان کے الفاظ کے ساتھ کہ ہم رب موسیٰ اور رب ہارون پر ایمان لاتے ہیں ، پھر فرعون کی جانب سے انہیں سخت عذاب کی دھمکی ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان و اسلام کی سر بلندی کا مظاہرہ اور ان کی جانب سے اپنی زندگی کے مقابلے میں ایمان و اسلام کو ترجیح دینا ، اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرعون کی جانب سے مظالم کا ذکر ، پھر اللہ کی جانب سے آل فرعون اور اہل مصر پر خشک سالی وغیرہ کے عذاب کا نزول اور ہر قسم کی پیداوار کی تباہی ، پھر طوفان ، پسوؤں اور مینڈکوں کے حملے اور خون کی بارش اور ہر باران کی کی جانب سے حضرت موسیٰ کی روحانی قوت کے سامنے جھکنا کہ وہ رب العالمین سے سوال کریں تاکہ انہیں اس عذاب سے نجات ملے۔ لیکن جب ان پر سے یہ مصیبت دور کی جاتی تو جلد ہی وہ لوگ دوبارہ اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جاتے اور اعلان کردیتے کہ جس قدر آیات و معجزات بھی وہ دکھائیں ہم اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چناچہ ان بار بار کی بدعملیوں کی وجہ سے ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور وہ غرق کردئیے جاتے ہیں کیونکہ وہ معجزات کو جھٹلاتے ہیں اور اس آزمائش میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ تمام امور سنت جاریہ کے مطابق انجام پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان پر سختی کرکے اور مصائب میں مبتلا کرکے بھی آزماتے ہیں اور ان کو خوشحالی اور فراوانی عطا کرکے بھی آزماتے ہیں۔ اس کے بعد وہ واقعات آتے ہیں کہ جب قوم موسیٰ ان آزمائشوں میں پوری اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو خلافت فی الارض عطا فرماتے ہیں اور غلامی کی اس شدت اور مصیبت کے بعد خلافت فی الارض عطا کرکے پھر ان کو آزمایا جاتا ہے اور فراوانی عطا کی جاتی ہے۔
ہم نے مذکورہ بالا واقعات پر مشتمل ایک سبق تجویز کیا ہے اور اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی جانب سے جو واقعات درپیش ہوئے اسے دوسرا درس بنایا ہے کیونکہ دونوں کا موضوع مختلف ہے۔
یہ قصہ یہاں جس انداز سے شروع کیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کے مقاصد کیا ہیں ؟ اس کا آغاز ان الفاظ سے کیا جاتا ہے۔
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ " پھر ان قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ مگر انہوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا ؟ "
یہ تصریح کی جاتی ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کی غرض وغایت کیا ہے۔ یعنی یہ کہ اس دنیا میں ہمیشہ مفسدین کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا رہا ہے۔ چناچہ قصے کی غرض وغایت کے اظہار کے بعد اس کے ضروری مضمون و موضوع کے ساتھ مناسب حلقے پے در پے لائے جاتے ہیں۔
اس قصے میں زندہ اور متحرک مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان میں حرکت بھی ہے اور مکالمات بھی ہیں۔ تاثرات بھی ہیں اور مختلف لوگوں اور کرداروں کے خدوخال اور ان کی شناخت بھی ہے۔ اس کے درمیان جگہ جگہ ہدایات و اشارات بھی ہیں اور عبرت آموزی بھی ہے اور اس بات کی صفائی بھی ہے کہ دعوت الی اللہ کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور دعوت الی الطاغوت کا مزاج کیا ہوتا ہے اور یہ کہ تمام طاغوتی قوتیں در اصل ربوبیت اور حاکمیت کی مدعی ہوتی ہیں اور دعوت الی رب العالمین کی تڑپ جس نفس میں گہرائی تک بیٹھ جاتی ہے ، اس نفس سے طاغوتی قوتوں کا خوف یکسر غائب ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اس راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں اور کسی وعدہ و وعید کو خاطر میں نہیں لاتے۔
درس نمبر 79 ۔ تشریح آیات 103 ۔ تا ۔ 137
۔۔۔
اس سے پہلے اس سورت میں جن بستیوں کا ذکر ہوا تھا ، ان کے اہالیان نے دعوت حق کی تکذیب کی تھی اور ان کو ہلاک کیا گیا تھا ، ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ قصے کا آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں اور خلاصہ یہاں دے دیا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کا ٹولہ دعوت حق کا استقبال کس طرح کرتا ہے اور اس انجام کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جس تک وہ پہنچے۔ انہوں نے ان آیات و معجزات کے ساتھ ظلم اس طرح کیا کہ ان کا انکار کردیا۔ یعنی انہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا۔ قرآن کریم میں بارہا کفر کے لئے فسق کا لفظ اور شرک کے لئے ظلم کا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ کفر و شرک سے بڑا ظلم اور بڑا فسق اور نہیں ہے جو لوگ کفر کرتے ہیں یا شرک کرتے ہیں وہ در اصل ایک عظیم سچائی کے ساتھ ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ کی حاکمیت اور عقیدہ توحید کے ساتھ۔ اور یہ لوگ در اصل خود اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں کیونکہ اپنے آپ کو یہ لوگ ہلاکت و بربادی کا مستحق ٹھہراتے ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ پھر ایسے لوگ عوام الناس پر یہ ظلم کرتے ہیں کہ انہیں ایک اللہ وحدہ کی غلام اور بندگی سے نکال کر مختلف طاغوتی طاقتوں کے بندے بناتے ہیں اور ان کو رب اور مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں اور اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ چناچہ کفر ظلم ہے اور کافرون ظالمون ہیں جیسا کہ قرآن کریم ایسا انداز بیان اختیار کرتا ہے نیز جو شخص کفر اور ظلم اختیار کرتا ہے وہ راہ مستقیم کو چھوڑ کر غلط راستوں پر چلتا ہے اور مختلف بےراہ رویوں میں پڑ کر فاسق اور بدکار بن جاتا ہے اور آخر کار جنت کے بجائے جہنم کا مستحق قرار پاتا ہے۔
فرعون اور اس کے ٹولے نے آیات الٰہی کے ساتھ ظلم کیا یعنی ان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس لئے وہ برے انجام تک پہنچے۔
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ " پس دیکو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا ؟ " ہر وہ طاغوتی نظام جس میں اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی دوسرے قانون کی اطاعت کی جاتی ہو وہ فسادی نظام ہے اور اسی کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ایسی طاغوتی قوتیں مصلحین میں نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ فسادی قوتیں ہوتی ہیں۔
Ayah 7:104حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پہلی ملاقات میں جو مکالمات ہوئے اور واقعات پیش آئے تھے وہ اس طرح تھے۔
" موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے "۔ تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔ پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے۔ کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں "۔
حق و باطل اور ایمان و کفر کے مابین یہ پہلا معرکہ ہے ، اس منظر میں ایک جانب رب العالمین کی طرف سے دعوت دی جار رہی ہے مد بالمقابل وہ طاغوتی طاقت ہے جس نے ربوبیت کے تمام حقوق اپنے لیے خاص کیے ہوئے ہیں اور زندگی کے ان معاملات میں رب العالمین کی اطاعت نہیں کی جاتی۔
وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ
موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں
ذرا انداز خطاب ملاحظہ ہو۔ " اے فرعون !" آپ نے اسے مائی لارڈ سے خطاب نہیں فرمایا۔ جس طرح عموماً لوگ اس لفظ کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت لارڈ اور مولیٰ کون ہے ؟ ہاں آپ نے بادشاہ کو بڑی عزت سے اس کے لقب سے پکارا ، اس لفظ کے استعمال کے ذریعہ آپ نے فرعون کو بتا دیا کہ آپ صرف فرعون ہیں اور دوسری یہ حقیقت بھی اس کے سامنے کھول دی کہ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، " میں اس کائنات کے مالک کا نمائندہ ہوں " حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو حقیقت پیش کی یہی حقیقت آپ سے پہلے آنے والے تمام رسولوں نے بھی پیش کی تھی اور وہ یہ تھی کہ تمام جہانوں کا اب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ ایک ہی حاکم ہے اور پوری زندگی میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ آج کل کے ماہرین ادیان جو کچھ کہتے ہیں عقائد میں بھی تغیر اور ارتقاء کا عمل ہوتا رہا ہے اور وہ سماوی ادیان کو بھی اس اصول سے مستثنی نہیں کرتے تو ان حضرات کا یہ نظریہ باطل ہے ، کیونکہ ادم (علیہ السلام) سے نبی آخر الزماں تک تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، اس میں صرف اللہ حاکم اور مطاع رہا ہے ، اور یہ نہیں رہا کہ پہلے متعدد الٰہوں کے نظریات تھے پھر تین خداؤں اور پھر ایک خدا کا عقیدہ جاری ہوگیا۔ یہ تو تھی صورت اسلام کی۔ رہی جاہلیت تو اس کے اندر جو اختلاف و اضطراب رہا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ روح پرستی ، متعدد الہوں کی پرستش ، سورج کی پرستش ، دو خداؤں کی پرستش ، ایک خدا کی مشرکانہ پرستش اور بے خدا جاہلیت وغیرہ۔ لہذا سماوی ادیان رسولوں کی تعلیمات اور جاہلی ادیان کے افکار کو ایک ہی اصول پر نہیں پرکھا جاسکتا۔
غرض حضرت موسیٰ اور فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان جو آمنا سامنا ہوا ، یہی صورت ہر نبی کو اپنے اپنے دور میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ سے پہلے آنے والوں کو بھی اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی۔ ہر دور میں حکمرانوں نے یہ سمجھا کہ یہ دعوت ان کے اقتدار کے خلاف سازش ہے جس طرح فرعون نے یہ سمجھا کہ یہ درحقیقت ان کے اقتدار اعلی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ جب کوئی یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ اللہ وحدہ رب العالمین ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے سوا تمام دوسری حاکمیتیں باطل نہیں اور اللہ کے سوا وہ تمام لوگ جو عوام سے اپنا قانون منواتے ہیں وہ وہ در اصل طاغوت ہیں۔ اور اس اعلان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دعوے کے ساتھ پیش فرمایا کہ وہ اللہ رب العالمین کی جانب سے رسول ہیں اور وہ جو بات کرتے ہیں وہ اللہ کی جانب سے کرتے ہیں اور ان کا اللہ کی جانب سے یہ فریضہ ہے کہ وہ لوگوں تک یہ دعوت پہنچائیں
Ayah 7:105حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۔ " میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں " اس لئے کہ جو رسول حقیقت الوہیت سے خبردار ہے وہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتا ہے کیونکہ وہ مقام خدائی اور مرتبہ کبریائی سے خبردار ہوتا ہے۔
" میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں " اور یہ ایسی دلیل ہے جو میری بات کی صداقت پر بین دلیل ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے ہوں "۔
اب اس عظیم حقیقت کے عنوان سے اور اللہ کی ربوبیت عامہ اور حاکمیت شاملہ کے نظریہ کے تحت حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ کیا کہ فرعون بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ کے ساتھ واپس اپنے وطن جانے کی اجازت دے دے۔
بنی اسرائیل صرف اللہ کے بندے اور غلام تھے۔ لہذا فرعون کو یہ حق نہ پہنچتا تھا کہ وہ انہیں اپنا بندہ اور غلام بنا لے کیونکہ کوئی بھی انسان دو آقاؤں کا غلام نہیں بن سکتا۔ نہ وہ دو الہوں کا معبود بن سکتا ہے ، جو شخص عبداللہ ہو وہ کسی اور کا عبد نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف فرعون بنی اسرائیل کو اپنی خواہشات کا غلام بنا رہا تھا اور دوسری جانب حضرت موسیٰ یہ اعلان کر رہے تھے کہ صرف اللہ ہی رب العالمین ہے صرف ربوبیت الہیہ کے اعلان ہی سے اس بات کی نفی ہوجاتی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو جو غلام بنا رکھا ہے وہ کالعدم ہے۔
یہ اعلان کہ صرف اللہ رب العالمین ہی ہمارا حاکم اور رب ہے ، بذات خود ہی انسان کی آزادی کا چارٹر ہے اور اس اعلان کے ساتھ ہی ایک انسان غیر اللہ کی غلامی ، اطاعت اور قانون سے آزاد ہوجاتا ہے۔ وہ انسانی غلامی ، اپنی خواہشات کی غلامی ، انسانی رسومات کی غلامی اور انسانی قانون و حرکت کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے۔
لہذا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ کی رب العالمینی کا اعلان بھی کرے اور پھر غیر اللہ میں سے کسی کی غلامی کا دم بھی بھرے۔ اس اعلان کے ساتھ کسی غیر اللہ کی حکومت و اقتدار جمع ہوسکتا اور نہ کسی اور کا قانون جمع ہوسکتا ہے۔ جو لوگ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے ہاں وہ قوانین جاری کئے ہوئے ہیں جو انہی جیسے انسانوں نے بنائے ہیں یا خود انہوں نے بنائے ہیں اور ان کے ہاں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت رہی ہے تو یہ لوگ ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ ایک لحظہ کے لئے بھی مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ان پر حاکمیت غیر اللہ کی ہو اور وہ دین اللہ میں داخل ہوں۔ ان کے ہاں رائج قانون ، قانون شریعت نہ ہو اور وہ مسلمان بھی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں وہ اپنے ملوک اور حکام کے دین پر تو ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دین پر نہیں ہوتے۔
یہی وہ نظریہ تھا جس کی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو واپس جانے دے۔ ذرا ان فقرات کو دوبارہ پڑھئے " اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں ""۔۔۔ " لہذا میرے ساتھ بنی اسرائیل کو رخصت کیجئے "۔ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اس اساس پر ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور رسالت کا یہ منطقی نتیجہ ہے کہ لوگوں کو غلامی سے رہا کیا جائے۔ یہ لازم و ملزوم امور ہیں۔
Ayah 7:106فرعون اور اس کے ٹولے نے بھی اس اعلان کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اللہ کی ربوبیت کے اعلان کا مفہوم کیا ہے ؟ یہ بات ان کی نظروں سے اوجھل نہ تھی۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس دعوت کے نتیجے میں ان کی حکومت خاتمہ یقینی ہے۔ اس دعوت سے ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اس کی حکومت کے قانونی جواز کے لیے یہ اعلان ایک چیلنج ہے اور یہ کھلی بغاوت اور مخالفت ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ وہ موسیٰ کو جھوٹا ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ رسول رب العالمین ہیں اس لئے انہوں نے فی الفور معجزات کا مطالبہ کردیا۔
قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "
فرعون نے مطالبہ معجزات کا راستہ اس لئے اختیار کیا کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ حضرت موسیٰ رب العالمین کے رسول نہیں اور جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں تو آپ کی دعوت یہاں ہی ختم ہوجائے گی اور آپ کی ہوا اکھڑ جائے گی اور جن لوگوں کو یقین ہی نہ رہے گا تو پھر جو چاہیں کہتے پھریں۔ وہ ایک بےدلیل دعویٰ کے مدعی ہوں گے اور اس کے لئے کوئی خطرہ نہ ہوں گے۔
Ayahs 7:107–108حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔
حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔
(مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ رنگ والے تھے۔ انہوں نے اپنا گندم گوں ہاتھ نکالا تو وہ بلب کی طرح چمکتا ہوا باہر آیا۔ لیکن یہ سفیدی بوجہ بیماری نہ تھی بلکہ معجزانہ سفیدی تھی۔ جب آپ نے ہاتھ دوبارہ اپنے کپڑوں میں چھپایا تو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں چلا گیا یعنی گندم گوں رنگ کا ہوگیا۔
یہ تھی حضرت موسیٰ کے دعوائے نبوت پر دلیل۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ آپ رب العالمین کے نمائندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ درعون اور اس کے ٹولے نے ان معجزانہ دلائل کو تسلیم کیا ؟ کیا انہوں نے رب العالمین کی ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ؟ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر فرعون کی ربوبیت ، اقتدار اور تاج و تخت کا جواز کیا رہ جاتا اور اس کے ٹولے کے لئے مراکز و مناصب پر مقتدر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا جو ان کو فرعون نے عطا کئے تھے اور وہ فرعون کی حکومت کے کل پرزے تھے۔ اگر وہ اللہ کو رب العالمین تسلیم کرتا تو عملاً اس کا اقتدار ختم ہوجاتا۔
اگر اللہ کو رب العالمین تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی تقاضا یہ وہتا ہے کہ پھر ملک کے اندر اللہ کی شریعت اور قانون نافذ ہو ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اس لئے اس نظریہ کے مطابق فرعون کا قانون اور اس کے احکام بےاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ احکام جو شریعت کے خلاف ہوں اور نہ شریعت پر مبنی ہوں۔ اگر لوگوں کے رب اللہ رب العالمین قرار پائیں تو پھر ان کا کوئی اور رب نہیں رہتا جس کے احکام اور قوانین کے وہ مطیع ہوں اور لوگ فرعون کے احکام اور شریعت کی جو اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنا رب تسلیم کرلیا ہے۔ لوگوں کا رب وہ شخص ہوتا ہے جس کے قوانین کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ لوگ اس رب کے دین میں ہوتے ہیں۔
لیکن یہ بات تو اس قدر جلدی سے نہیں مانی جاسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ طاغوت ٹھنڈے پیٹوں اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوجائے اور اس کا نظام باطل اور کالعدم قرار پاجائے ؟
Ayahs 7:109–110فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے " تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔
وہ چلا چلا کر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو دعوی کیا ہے وہ کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہے اور کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے ، حکومت چھیننا اس کا مطلب ہے۔ وہ ہمارے نظام حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ دور جدید میں اسے یہی کہا جاسکتا ہے۔
یہ زمین اللہ کی ہے ، عوام الناس اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے بندوں پر حکومت بھی اللہ کی قائم ہوجائے تو وہ تمام طاغوتی حکمرانیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں جو اللہ کی شریعت کے برعکس قائم ہوں۔ اور ان لوگوں کا اقتدار خود بخود ختم ہوجاتا ہے جو از خود لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا اقتدار بھی خود بخود ختم ہوجاتا ہے جنہیں ان طاغوتی حکمرانوں نے صاحب منصب اور اہلکار بنا رکھا ہے۔
اس طرح فرعون اور اس کے ٹولے نے معلوم کرلیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت کس قدر خطرناک ہے۔ اور یہی بات تمام طاغوتی قوتیں ہر دور میں اچھی طرح جان لیتی ہیں۔
ایک عرب نے اپنے فطری فہم و ادراک کی اساس پر یہ کہا کہ حضور ﷺ جو لوگوں کو (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی دعوت دیتے ہیں یہ ایک ایسی دعوت ہے جسے بادشاہ پسند نہیں کرتے۔ اور ایک دوسرے عرب دانشور نے اپنی فطری معاملہ فہمی کی اساس پر یہ کہا اگر تم نے اس دعوت کو جاری رکھا تو عرب و عجم تمہارے ساتھ برسر پیکار ہوجائیں گے۔ یہ دونوں عرب دانشور در اصل عربی زبان کے مفاہم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ (لا الہ الا اللہ) کا اعلان حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ کیونکہ وہ عربی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے کہ ایک دل میں ایک سرزمین پر کلمہ طیبہ کی شہادت اور پھر غیر اللہ کی اور خلاف شریعت حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کے عرب کلمہ شہادت کو اس طرح نہ سمجھتے تھے جس طرح آج کے نام نہاد مسلمان اسے سمجھتے ہیں۔ آج کے لوگوں کا مفہوم کلمہ شہادت بہت ہی ناقص ، کم درجے کا اور کمزور درجے کا ہے۔
Ayahs 7:111–112اب فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وقت مصر میں کاہن اور جادوگر بڑی تعداد میں تھے۔ خود کاہن جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ تمام بت پرستانہ مذاہب میں جادو دین کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ چناچہ ان ادیان کے کاہن اور مجاور جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ آج کل ادیان کے جدید ماہرین اس صورت حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی رہا ہے کہ جادوگری سے دین کا آغاز ہوا۔ اور زیادہ پکے ملحد یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح جادو بالکل دین قرار پا گیا ہے اسی طرح ہر ایک دین بھی ختم ہوجائے گا اور جس طرح سائنس نے جادگروی کے دور کو ختم کردیا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مذہب بھی ختم ہوجائے گا۔ بہرحال یہ ان کا خطب ہے جس میں وہ سائنس کے عنوان سے مبتلا ہیں۔
فرعون کے مشیروں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ حضرت موسیٰ اور آپ کے بھائی کو وقت دے دیں اور اپنی ریاست کے اطراف و اکناف سے بڑے بڑے جادوگروں کو طلب کریں تاکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جادو گری کا مقابلہ کریں۔ (نعوذ باللہ)
فرعون نے اپنی معروف و مشہور فرعونیت کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں سرکشی کا مظاہرہ نہ کیا اور اس کا رویہ بیسویں صدی کے بعد کے فرعونوں سے زیادہ معقول رہا۔ آج کل کے فرعون دعوت اسلامی کا مقابلہ تشدد اور قید و بند اور باطل طریقوں سے کرتے ہیں۔
Ayahs 7:113–114قرآن کریم اب درمیانی تفصیلات چھوڑ کر ایک دوسرے منظر کو پیش کرتا ہے کہ کس طرح فرعون کے ٹولے نے لوگوں کو جمع کیا اور کن کن کو جمع کیا بلکہ پردہ اٹھتے ہی جادوگر سامنے آجاتے ہیں اور یہ قرآن کریم کا بیان کردہ قصص میں نہایت ہی موثر اور پیارا اسلوب ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک منظر کو لپیٹ کر دوسرا منظر سامنے لایا جاتا ہے۔
وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ۔ چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا " اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟ " فرعون نے جواب دیا " ہاں ، اور تم مقرب بارگاہ ہوگے "۔
یہ لوگ پیشہ ور جادوگر تھے اور اسی طرح پیشہ ور کاہن تھے اور دونوں کاموں سے ان کا مقصد پیسے کمانا تھا۔ دنیا میں ہمیشہ پیشہ ور علمائے دین نے طاغوتی طاقتوں اور ظالم بادشاہوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا ہے۔ نیز دنیا میں جب بھی اللہ کی حاکمیت کا نظام معطل ہوا ہے اور اللہ وحدہ کی بندگی ختم ہوئی ہے اس کی جگہ طاغوتی نظام قائم ہوگیا ہے اور جب طاغوتی نظام قائم ہوا ہے تو ایسے حکمرانوں کو پیشہ ور اہل دین کی ضرورت پیش آئی ہے اور ان حکمرانوں نے اہل پیشہ کو ان کے پیشے پر اجر دیا ہے اور انہوں نے دینی اعتبار سے اس طاغوتی نظام کو قبول کیا ہے۔ یوں دونوں کے درمیان باہم معاہدہ رہا ہے اور طاغوتی حکمرانوں نے ان پیشہ ور اہل دین کو پیسہ بھی دیا ہے اور مقرب بھی بنایا ہے۔
فرعون نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کام پر انہیں اجرت بھی دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کے مقربین میں سے بھی ہوں گے۔ یوں فرعون نے ان کو آمادہ کیا کہ وہ صرف موسیٰ کا بےجگری سے مقابلہ کریں اور سخت جدوجہد کریں۔ لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کہ وہ چرب زبانی یا چالاکی سے حضرت موسیٰ کو شکست دے دیں گے یہاں تو ان کا واسطہ خدا ، خدا کے رسول ، خدائی معجزات اور خوارق عادت ، حقائق و واقعات سے تھا ، محض شعبدہ بازی اور تخیلاتی جادوگری نہ تھی۔
Ayah 7:115جادوگر اجر کے بارے میں مطمئن ہوگئے اور فرعون کی ہمنشینی کی لالچ میں ان کی گردنیں بلند ہوگئیں اور مقابلے کے لئے تیار ہوگئے۔ اب یہ حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور آپ کو چلینج دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ اس مقام بلند تک جا پہنچتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور جس کے بارے میں انہیں تصور بھی نہ تھا اور وہ اس اجر کے مستحق قرار پائے جس کی انہیں توقع ہی نہ تھی۔
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْن۔ پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔ تم ہی پھینکو۔
انہوں نے اختیار حضرت موسیٰ کو دے دیا کہ چاہو تو تم اپنا عصا کو پھینکو یا ہم پھینکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت اعتماد سے چیلنج کر رہے تھے۔ ان کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اور اپنی فنکاری پر اعتماد تھا۔ اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰ بھی نہایت ہی پر اعتماد تھے اور انہوں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ تم پھینکو۔ انہوں نے صرف ایک لفظ میں جواب دیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ان کے کرتب کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ حضرت موسیٰ کے نفس کے اندر پورا یقین و اطمینان تھا۔ یہ امور اور یہ معانی قرآن کریم کے طریقہ کلام کے مطابق الفاظ کے استعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔
Ayah 7:116جس طرح حضرت موسیٰ اچانک صورت حالات سے دو چار ہوے ، سیاق کلام اور انداز بیان ایسا ہے کہ ہر قاری اچانک ایک خوفناک صورت حال سے دو چار ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑی لاپرواہی سے جواب دے رہے ہیں لیکن اچانک انہیں بھی ایک نہایت ہی خوفناک اور مرعوب کن صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے جسے دیکھ کر انسان خائف ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں۔ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ ۔ انہوں نے جو اپنے آلچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوفزدہ کردیا اور بڑٓ ہی زبردست جادو بنا لائے۔
ہمارے لئے یہ بات کافی ہے کہ ان لوگوں کے فن کے بارے میں قرآن کریم نے بھی سحر عظیم کا لفظ استعمال کیا اور اس سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا جادو کس قدر عظیم تھا۔ انہوں نے لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کردیا اور لوگوں کے دلوں کو رعب سے بھر دیا اور ماحول پر خوف کی فضا طاری ہوگئی۔
لفظ استرھب کے استعمال سے ماحول کا ایک نقشہ سامنے آجاتا ہے یعنی انہوں نے لوگوں کے اندر خائف ہونے کا تاثر پیدا کردیا۔ اس طرح کہ وہ ڈرنے پر مجبور ہوگئے۔ اور سورت طہ میں تو یہ بھی بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ بھی دل ہی دل میں خائف ہوگئے تے۔ ان تمام الفاظ سے ان لوگوں کی خوفناک جادوگری کے بارے میں یقین آجاتا ہے۔
Ayahs 7:117–119لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہوگے۔
باطل ہمیشہ پھول جاتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کردیتا ہے ، دلوں کو مرعوب کردیتا ہے اور اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ باطل غالب ہی رہے گا۔ یہ سیلاب کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ اور تمام چیزوں کو نیست و نابود کردے گا لیکن جونہی اس کا واسطہ ایک سنجیدہ ، پر عزم اور مضبوط سچائی سے ہوتا ہے تو اس سے غبارے کی طرح ہوا نکل جاتی ہے اور وہ بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، خارپشت کی طرح سکڑ جاتا ہے اور محض گھاس کے شعلے کی طرح ہوتا ہے جو ایک منٹ میں بجھ جاتا ہے۔ اب سچائی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس میں اس مفہوم کا پرتو موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ حق ایک عظیم اور بھاری وجود کا مالک ہے اور اس کی زد بڑے زور سے پڑتی ہے اور وہ مستقلاً ثابت ہوجاتا ہے اور حق کے سوا تمام دوسرے امور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں اور باطل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں۔ سچائی باطل اور اس کے پیروکاروں پر غالب آجاتی ہے اور نہایت پھلنے پھولنے اور آنکھوں کو چندھیانے کے بعد یہ باطل بڑی تیزی سے سکڑ جاتا ہے۔
فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور فتح مند ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوئے۔ لیکن ابھی تک یہ سر پر ائز ختم نہیں ہوئی۔
Ayahs 7:120–122اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔
یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔
لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
Ayah 7:123ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔
اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔
Ayahs 7:124–125تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔
لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔