7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 7:88–89

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہ مختصر ترین چند کلمات ہیں ‘ لیکن ان میں ایمان کی تجلیات واضح طور پر نظر آتی ہیں اور اہل ایمان کا ذوق وشوق ان سے عیاں ہے ۔ اسی طرح ان کلمات سے جاہلیت کا مزاج اور اس کی بدذوقی کا اظاہر بھی خوب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ وقت کے دل کی خوبصورت مناظر بھی چمکتے نظر آتے ہیں اور ان میں ربانی حقائق صاف نظر آتے ہیں ۔ آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی اس دھمکی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ” شعیب ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس صورت حال میں پھر داخل ہوجائیں جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی ہے ۔ وہ تو ایک مکروہ اور ناپسندیدہ صورت حال ہے ۔ ” ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ جو شخص اس طاغوتی ملت کی طرف دوبارہ لوٹ جاتا ہے ۔ جس میں دین کے لئے خالص نہیں ہوتا ‘ جس میں اطاعت صرف اللہ کی نہیں ہوتی جس میں لوگ اللہ کے سوا کچھ دوسری شخصیات کو رب بنا لیتے ہیں اور ان کے اقتدار اعلیٰ کا قرار کرتے ہیں وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے حالانکہ ایسے شخص کو اللہ نے ان تمام ملتوں سے نجات دے دی تھی ۔ وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تھے اور اللہ نے انہیں راہ ہدایت بتا دی تھی ۔ ایسا شخص اگر پھر اسی ملت میں داخل ہوتا ہے تو وہ کلمہ شہادت جھوٹ موٹ پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے ملت ابراہیم کو ترک کرکے دوبارہ طاغوتی ملت میں داخلہ لے لیا ہے ۔ ایسی ملت میں دوبارہ جانے کا مدعا صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ طاغوتی ملت کو حق سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کے اقتدار اعلی کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے ۔ ایسا شخص کلمہ شہادت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ طاغوتی ملت کا بھی فرد بن جاتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طاغوتی نظام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا میں قائم رہے ‘ اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردے اور یہ کہ اس کا وجود ایمان کے منافی نہیں ہے ۔ ایسا شخص طاغوتی ملت میں داخل ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے ۔ ایسے شخص کا یہ طرز عمل اس شخص سے زیادہ خطرناک ہے جو سرے سے ہدایت قبول نہیں کرتا اور اسلام کے جھنڈے کو بلند ہی نہیں کرتا کیونکہ اس طرز عمل سے یہ شخص طاغوت کے اقتدار اعلی کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے اور طاغوت کا اقتدار اعلی پر دست درازی کے مترادف ہوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ آیت ” وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا “۔ (7 : 89) ” ہمارے لئے یہ سزاوار ہی نہیں ہے کہ ہم طاغوتی ملت کی طرف لوٹ آئیں ۔ “ یہ دینی شان ہی کے متضاد ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس بات کا اعلان اس وقت کرتے ہیں جب کہ انکو کھلی دھمکی دی جارہی ہے کہ تمہیں ایسا کرنا ہوگا ایسی دھمکی طاغوتی قوتیں ہر دور اور ہر زمانے میں ہر اسلامی جماعت کو دیتی چلی آئیں ہیں ۔ ان تمام جماعتوں کو جو اپنے آپ کو طاغوتی نظام سے نکالنا چاہتی ہیں اور صرف اللہ کے دین اور نظام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ہمیشہ ایسی دھمکیاں ملتی رہی ہیں ۔ طاغوتی نظام اور اس کی اطاعت سے نکلنے کی مشکلات اگرچہ بہت ہی زیادہ نظر آئیں ان مشکلات اور مصائب کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو انسانوں پر طاغوت کی غلامی کی صورت میں پڑتی ہیں ۔ طاغوتی نظام کی جانب سے آنے والی مشکلات نہایت ہی رسواکن ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر طاغوتی نظام میں امن وسلامتی اور اطمینان و سکون اور ہر چیز کی فراوانی نظر آئے ۔ طاغوتی نظام کی مشکلات نہایت ہی گہری اور دور رس ہوتی ہیں ۔ ان میں انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ جب انسان انسان کا غلام ہو تو اس کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اس سے بڑی اور کوئی غلامی نہیں ہو سکتی کہ کسی جگہ انسان ‘ انسان کے لئے قانون بنائے اور دوسرا اس کا مطیع فرمان ہو ۔ اس سے بڑی غلامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک انسان کا ارادہ اسی جیسے ایک دوسرے انسان کے تابع ہو اور وہ اس کی مرضی اور حکم کا پابند ہو یا اس سے اور بڑی غلامی اور مصیبت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان بعض انسانوں کی خواہشات اور رجحانات کے غلام ہوں اور ایک انسان کی لگام دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں ہو ۔ وہ انہیں جس طرح چاہے چلائے اور جس طرف چاہے لے جائے ۔ لیکن طاغوتی نظام میں صرف اس قسم کی معنوی اور فلسفیانہ اعلی اقدار ہی کو پامال نہیں کیا جاتا بلکہ لوگوں کے اموال اور اولاد بھی طاغوتی نظام کے اختیار میں چلے جاتے ہیں ۔ وہ جس طرح چاہتا ہے لوگوں کے اموال میں تصرفات کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے انکی اولاد کو بری یا اچھی تربیت دیتا ہے ۔ انہیں اپنی مرضی کے تصورات و افکار اور مفہوم واقدار عطا کرتا ہے ۔ نیز ان کے اندر اخلاق اور عادات بھی اپنی مرضی کے مطابق رواج دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ طاغوت لوگوں کی روح اور ان کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ ارواح کو ذبح کرتا ہے ‘ وہ لوگوں کے جسموں کو ذبح کرکے ان کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرتا ہے ۔ پھر ان کی جان ومال اور عزت وآبرو کا بھی وہ سودا کرتا ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو بھی بےراہ روی سے باز نہیں رکھ سکتا کیونکہ یہ بےراہ روی طاغوتی نظام کے اہلکاروں کے مفاد میں ہوتی ہے ۔ طاغوتی نظام لوگوں کی عزت وآبرو کے ساتھ یا تو بطور ظلم کھیلتا ہے اور لوگوں کے ضمیر کو بدل کر خوشی خوشی ان سے ان کی عزتیں لٹاتا ہے ۔ وہ تہذیب کے عنوان سے ان سے بےتہذیبی کراتا ہے ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاغوتی نظام نظام میں رہتے ہوئے اپنا مال اور اپنی آبرو بچا لے جائیں اور ان کا ایمان ونظریہ بھی محفوظ رہے وہ درحقیقت ایک بہت بڑی غلطی فہمی کا شکار ہیں یا انہیں حقیقی صورت حال کا احساس ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طاغوت کی غلامی نفس انسانی ‘ دولت انسانی اور عزت انسانی کو گہری مصیبت میں مبتلا کرتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اللہ کی غلامی کے فرائض خواہ کتنے ہی زیادہ نظر آئیں ‘ وہ بہرحال اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کے لئے بہت ہی مفید ہے جبکہ آخرت میں اللہ کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنے ایک مقالے ” تحریک اسلامی کی بنیادیں “ میں فرمایا ہیں : ” انسانی زندگی کے مسائل میں جس کی تھوڑی سی بصیرت بھی حاصل ہو وہ اس حقیقت سے بیخبر نہیں رہ سکتا کہ انسانی معاملات کے بنا اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملات انسانی کی زمام کارکس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت چلا کرتی ہے جس سمت پر ڈرائیور اس کو لے جانا چاہتا ہے اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں خواستہ وناخواستہ اسی سمت پر سفر کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں ‘ اسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت پر وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کی ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرا ئع جن کے قابو میں ہوں قوت واقتدار کی باگیں جن کے ہاتھ میں ہوں ‘ عام انسانوں کی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو ‘ خیالات و افکار اور نظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائع جن کے قبضے میں ہوں ‘ انفرادی سیرتوں کی تعمیر اور اجتماعی نظام کی تشکیل اور اخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو ‘ ان کی رہنمائی و فرمان روائی کے تحت رہتے ہوئے انسانیت بحثییت مجموعی اس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہوں ۔ یہ رہنما وفرمانروا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر وصلاح پر چلے گا ۔ برے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے ‘ بھلائیوں کو نشوونما نصیب ہوگا اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو کم از کم پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی ۔ لیکن اگر رہنمائی و قیادت اور فرمانروائی کا یہ اقتدار ان لوگوں نے ہاتھ میں ہو جو خدا سے برگشتہ اور فسق و فجور میں سرگشتہ ہوں تو آپ سے آپ سارا نظام زندگی خدا سے بغاوت اور ظلم وبداخلاقی پر چلے گا ۔ خیالات ونظریات علوم وآداب ‘ سیاست ومعیشت ‘ تہذیب ومعاشرت ‘ اخلاق ومعاملات ‘ عدل و قانون ‘ سب کے سب بحیثیت مجموعی بگڑ جائیں گے ۔ برائیاں خوب نشوونما پائیں گی ۔ “ ” اس تشریح کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ دین میں اس مسئلے کی کیا اہمیت ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ کا دین اول تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ بالکلیہ بندہ حق بن کر رہیں اور ان کی گردن میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کا حلقہ نہ ہو۔ پھر وہ چاہتا ہے کہ اللہ ہی کا قانون لوگوں کی زندگی کا قانون بن کر رہے ۔ پھر اس کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین سے فساد مٹے ۔ ان منکرات کا استیصال کیا جائے جو اہل زمین پر اللہ کے غضب کے موجب ہوتے ہیں اور ان خیرات وحسنات کو فروغ دیا جائے جو اللہ کو پسند ہیں ۔ ان تمام مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی اس طرح پورا نہیں ہو سکتا کہ نوع انسانی کی رہنمائی و قیادت اور معاملات انسانی کی سربراہ کاری ائمہ کفر وضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دین حق کے پیرو محض ان کے ماتحت رہ کر ان کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھا تے ہوئے یاد خدا کرتے رہیں ۔ یہ مقاصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اہل خیر وصلاح جو اللہ کی رجا کے طالب ہوں ‘ اجتماعی قوت پیدا کریں اور سردھڑ کی بازی لگا کر ایسا نظام حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و راہنمائی اور قیادت و فرمان روائی کا منصب مومنین وصالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل ہی نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے اسی لئے دین میں امام صالحہ کے قیام اور نظام حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے ۔ غور کیجئے آخر قرآن و حدیث میں التزام جماعت اور سمع و اطاعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت سے خروج اختیار کرلے تو اس سے قتال واجب ہے خواہ وہ کلمہ توحید کا قائل اور نماز روزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو ۔ کیا اس کی وجہ یہ اور صرف یہی نہیں ہے کہ امامت صالحہ اور نظام حق کا قیام وبقا دین کا حقیقی مقصود ہے ‘ اور اس مقصد کا حصول اجتماعی طاقت پر موقوف ہے ‘ لہذا جو شخص اجتماعی اطاقت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی تلافی نہ نماز سے ہو سکتی ہے اور نہ اقرار توحید سے ؟ پھر دیکھئے کہ آخر اس دین میں جہاد کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے کہ اس سے جی چرانے اور منہ موڑنے والوں پر قرآن مجید نفاق کا حکم لگاتا ہے ؟ جہاد نظام حق کی سعی کا ہی تو دوسرا نام ہے اور قرآن اسی جہاد کو وہ کسوٹی قرار دیتا ہے جس پر آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے ۔ بالفاظ دیگر جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ نہ تو نظام باطل کے تسلط سے راضی ہو سکتا ہے اور نہ نظام حق کے قیام کی جدوجہد میں جان ومال سے دریغ کرسکتا ہے ۔ اس معاملے میں جو شخص کمزوری دکھائے گا اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے پھر بھلا کوئی دوسرا عمل اسے کیا نفع پہنچا سکتا ہے ۔ “ ” اس وقت اتنا موقع نہیں ہے کہ میں آپ کے سامنے اس مسئلے کی پوری تفصیل بیان کروں مگر جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے بالکل کافی ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے امامت صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے جو شخص اس دین پر ایمان لایا ہو اس کا کام صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا کہ اپنی زندگی کو حتی الامکان اسلام کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرے بلکہ عین اس کے ایمان ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام سعی وجہد کو اس ایک مقصد پر مرکوز کر دے کہ زمام کار کفار وفساق کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے ہاتھ میں آئے اور وہ نظام حق قائم ہو جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق دنیا کے انتظام کو درست کرے اور درست رکھے ۔ اسلام جب یہ دعوت دیتا ہے کہ اقتدار اعلی ان غاصبوں سے چھین لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا جائے تو اس دعوت کی اصل غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ کہ انسانیت کو آزاد کیا جائے اور تمام انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کیا جائے ۔ اسی طرح اسلام کی اس دعوت کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کی روحانی ونظریاتی دنیا اور مالی اور مادی دنیا کو بھی ان طاغوتی قوتوں کے خلاف جدوجہد اور جہاد و قتال کریں اور ہر قسم کی قربانیاں دیں ۔ لیکن اس راہ میں قربانیاں دے کر دراصل وہ مسلسل ایسی قربانیاں دینے سے نجات پاتے ہیں جو ان کے مقابلے میں ذلیل اور حقیر ہیں ۔ اسلام تو لوگوں کو عزت اور شرف کے مقام کے لئے جدوجہد کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : آیت ” قدافترینا علی اللہ ۔۔۔۔۔ (7 : 89) ” ہم اللہ پر جھوت گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں “۔ لیکن حضرت شعیب جس قدر باطل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ‘ اپنی قوت سے آوازحق بلند کررہے ہیں اور اپنی سوسائٹی کے کبراء کو چیلنج کر رہے ہیں ‘ اسی قدر وہ اللہ کی مشیت اور رضا کے سامنے سرنگوں ہو رہے ہیں اور اللہ کی تقدیر کے سامنے راضی برضا ہو رہے ہیں اس لئے کہ اللہ کا علم وسیع اور حاوی ہے اور انسان کا علم محدود ہے ۔ اللہ کے علم کے سامنے کوئی انسان عزم اور جزم اختیار نہیں کرسکتا ۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ ایک مسلمان کیلئے اچھا رویہ یہی ہے کہ اس کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کر دے ۔ آیت ” الا ان یشآء اللہ “۔ (7 : 89) ” الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) تمام امور کو اللہ کے سپرد فرماتے ہیں ۔ مستقبل میں ان کے حالات جس رخ پر چلنے والے ہیں اور اہل ایمان کو جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ سب کے سب اللہ کے سپرد ہیں ۔ وہ تو صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تمام طاغوتی نظریات اور طاغوتی پشیکشوں کا انکار کردیں ‘ ملت طاغوتی ہیں واپس چلے جانے سے صاف صاف انکار کر دے اور مسلمانوں کی جانب سے بھی عزم صمیم ظاہر کردیں ۔ اور اس بات کا اصولی طور پر قطعی انکار کردیں ۔ لیکن وہ مشیت الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ معاملات کا دارومدار تو مشیت الہیہ پر ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور اہل ایمان کا علم محدود ہے اور رب ذوالجلال کا علم لامحدود ہے لہذا وہ اللہ کے وسیع اور محیط علم اور اس کی مشیت کی طرف اپنے معاملات کو سپرد کرتے ہیں ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اومرا نواہی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور مشیت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اوامر ونواہی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور میشت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے۔ یہاں حضرت شعیب اپنی قوم کے طاغوتوں اور ان کے وعدو وعید اور دھمکیوں کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی توکل اور نہایت ہی اعتماد کے ساتھ اور دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہمارے اور ہماری اس طاغوتی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ آیت ” عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا “ (7 : 89) ” اللہ پر ہی ہم نے اعتماد کیا ہے ۔ اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہاں ہم ایک خیرہ کن منظر دیکھتے ہیں۔ ایک نبی اور خدا کے ایک دوست کے قلب میں حقیقت الہیہ کی تجلیات صاف نظر آتی ہیں ۔ نبی جانتے ہیں کہ قوت کا منبع کہاں ہے اور ایک مومن کے لئے آخری پناہ گاہ کونسی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ آخری فیصلے اور فتح وشکست کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے وہ رب واحد پر توکل کرتا ہے اور اس معرکے میں کود پڑتا ہے جو نبی اور اہل ایمان پر مسلط کردیا گیا ہے اور جو حالات نے لابدی کردیا ہے ۔ رب ذوالجلال کی جانب سے عطا کردہ فتح کے سوا یہ معرکہ سر نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں کفار اہل ایمان کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور ان کو اپنے دین سے دور کرنے کی سعی کرتے ہیں
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔

آیت ” وَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْْباً إِنَّکُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ (90) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ ہیں خدوخال اس معرکے کے جو انسانی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا ہے اگرچہ اس کی نوعیت کبھی نہیں بدلتی ۔ طاغوتی قوتیں سب سے پہلے داعی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ دعوت کو بند کر دے لیکن جب وہ اپنی ایمانی قوت پر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتا ہے ‘ دعوت کو جاری رکھتا ہے ‘ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات کو انگیز کرتا ہے اور دھمکیوں اور طاغوتی قوتوں کے حجم سے مرعوب نہیں ہوتا تو یہ قوتیں داعی کے متبعین کو اذیت دینا شروع کردیتی ہے۔ ان پر یہ مصائب محض انکے دین کی وجہ سے توڑے جاتے ہیں ۔ ان ظالموں کے پاس اپنے ظلم کے لئے کوئی جواز نہیں ہوتا لیکن انکے پاس مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی ظاہری قوتیں ہوتی ہیں ۔ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی جاہلیت پر عوام کو مطمئن کرسکیں ۔ خصوصا ان لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور جن کی نظروں میں باطل خفیف و حقیر ٹھہرا کیونکہ ان لوگوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کردیا اور ہر قسم کا اقتدار اللہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی نظروں میں اس کے سوا کوئی مقتدر اعلی ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جب حق و باطل علیحدہ علیحدہ متمیز ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے بالمقابل آجاتے ہیں تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہوتا ہے اور اللہ خود فیصلہ کردیتا ہے ۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

مگر ہوا یہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (91) ” مگر ہوا یہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “ رجفہ ایسی آفت جو دہلا دیتی ہے اور اوندھا گرا دیتی ہے ‘ اس لئے کہ انہیں اپنی دھمکیاں اور دست درازیاں یاد آجائیں کہ وہی تو تھے جو اہل ایمان کو اذیتیں دیتے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوے کا جواب انہیں الفاظ میں دیتے ہیں ۔ وہ کہتے تھے ۔ آیت ” لئن اتبعتم ۔۔۔۔ (7 : 91) ” اگر تم نے شعیب کا اتباع کیا تو تم برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ بات وہ مومنین کو بطور تہدید کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے شعیب کی اطاعت کی وہ نہیں بلکہ وہ لوگ برباد ہوئے جنہوں نے مخالفت کی ۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں ہی نہ تھے ۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہوکر رہے

آیت ” الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَأَن لَّمْ یَغْنَوْاْ فِیْہَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَانُواْ ہُمُ الْخَاسِرِیْنَ (92) ” لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں ہی نہ تھے ۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہوکر رہے “۔ آنکھ جھپکتے ہی ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھروں میں اوندھے پڑے ہیں ‘ بےحس و حرکت گویا انہوں نے ان گھروں کو تعمیر نہیں کیا اور گویا اب ان گھروں میں ان کے کچھ آثار بھی باقی نہیں ہیں ۔ اب ان کی تاریخ کے ان صفحات کو اس طرح پست کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور ان کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہیں جدا ہیں ‘ اور ان کے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ انکی راہیں ہیں ‘ اور انکے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے کہ انکے انجام بھی جدا ہیں اور اب ان کے اس انجام بد پر ان کے حقیقی بھائی کو بھی کوئی تاسف نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں نیست ونابود کردیا گیا ہے ۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93) اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “ اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین میں واحد رابطہ عقیدہ ونظریہ ہے اور اسی پر اتحاد وانفعال کا مدار ہے۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں

جلد نمبر 3 آغاز۔ درس نمبر 78 ایک نظر میں اس سورة میں اب تک کے مضمون میں یہ سبق گویا ایک وقفہ ہے۔ اس سے قبل قوم حضرت نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط ، اور قوم شعیب (علیہم السلام) کے جو قصے بیان کئے گئے۔ اس وقفے میں ان پر مجموعی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ وقفہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس میں اس سنت الٰہیہ کا بیان کیا جائے جو اس کرۂ ارض پر جاری وساری ہے اور اس دنیا کی بستی کے مکذبین پر تقدیر الٰہی نے اسے نافذ کیا ہے ، یہاں لفظ " قریہ " استعمال کیا گیا جس سے مراد کوئی بڑا شبہہ ہے ، یا کوئی موجود مرکزی تہذیب ہے۔ یہ سنت الٰہیہ کا واحد اور اٹل قانون ہے اور اس کا نفاذ اللہ کی جانب سے تمام مکذبین پر ہوتا ہے۔ اور اسی سنت الٰہیہ سے انسانی تاریخ بنتی ہے ، بلکہ انسانی تاریخ کا اصلی پہلو ہی سنت الٰہیہ ہے۔ اور سنت الٰہیہ کا یہ کام اور غرض وغایت ہے کہ وہ جھٹلانے والوں کو رنج و الم میں مبتلا کرتی ہے۔ شاید کہ ان کے دل پسیج جائیں اور نرم ہوکر اللہ کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ کی حقیقت الوہیت اور اپنی حقیقت عبودیت کو اچھی طرح معلوم کرلیں۔ اور اگر وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوں اور انہیں ہوش نہ آئے تو پھر اللہ ان مکذبین پر انی نعمتوں کی فراوانی کردیتا ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے سہولیات اور نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور پھر ان کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ وہ ناز و نعمت میں گھر کر عیاشیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ ان کے لئے آزمائش ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں وہ جن مشکلات میں مبتلا ہوئے ہیں ایسی ہی مشکلات ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد پر بھی نازل ہوئی تھیں اور دنیا کے حالات ایسی ہی ڈگر پر نشیب و فراز کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ وقالوا قدمس اباءنا الضراء والسراء (اور وہ کہتے ہیں کہ ایسی ہی مشکلات میں ہمارے آباء بھی متبلا ہوئے تھے اور ایسی ہی خوشحالی بھی ان پر آئی تھی) وہ ایسی ہی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور غفلت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ کی پکڑ آلیتی ہے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ فراخیوں اور فراوانیوں اور مشکلات و مصائب میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس آمائش میں اللہ کی جو حکمت ہوتی ہے وہ اس کا ادراک نہیں کرپاتے اور اللہ کے غضب میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اور جو غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں ان کے انجام سے وہ نہیں ڈرتے اور وہ اسی طرح عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح حیوان زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اسی مدہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتے اور خدا خوفی کا رویہ اختیار کرتے تو ان کا یہ حال نہ ہوگا بلکہ ان پر آسمانوں سے مزید و برکات نازل ہوتیں اور زمین سے اور آسمانوں سے ان پر رزق نازل ہوتا اور ان پر اللہ اپنی طمانیت کی وہ حالت نازل کرتا جس سے ان کی زندگی نہایت اطمینان سے بسر ہوتی اور اس اطمینان اور فراخی کے بعد ان پر زوال اور بربادی کی کوئی حالت نہ آتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو ان ہلاک کئے جانے والے کے بعد زمین کے وارث اور اہل اقتدار بنائے گئے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ غفلت اور غرور سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ہر وقت بیدار رہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ ان کو اس تاریخی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ نے کئی اقوام کو پے در پے ہلاک کیا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو مواقع فراہم کئے مگر انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے انجام سے نصیحت نہ پکڑی لہذا بستیوں والوں کا انتظار اللہ کا قانون مکافات کر رہا ہے اور انسانی تاریخ میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ یہ وقفہ ، حضور ﷺ سے خطاب پر ختم ہوتا ہے۔ آپ کو کہا جاتا ہے تلک القری نقص علیک من انبیائہا۔ (یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں) تاکہ آپ کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ان کا یہ انجام سنت الٰہیہ کے مطابق ہوا۔ فرمایا جاتا ہے۔ وما وجدنا لاکثرہم من عہد وان وجدنا اکثرہم لفسقین۔ (ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا) یہ آخری رسول اور اس آخری رسول کی امت تمام رسولوں کی اخلاقی دولت کے وارث ہیں اور صرف یہ رسول اور ان کی امت ہی ان تاریخی واقعات و اطلاعات سے فائدہ اور نصیحت لیتے حاصل کرتے ہیں۔ تشریح آیات 94 تا 102: یہاں سیاق کلام سے غرض وغایت یہ نہیں ہے کہ کسی متعین حادثے کو بیان کیا جائے بلکہ یہاں مقصد عمومی سنت الٰہیہ کا بیان ہے۔ یہاں کسی خاص قوم کے خدو خال بیان کرنا مطلوب نہیں ہیں ، بلکہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے اقدامات کا بیان مقصود ہے۔ چناچہ یہاں اللہ کے اس ناموس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق یہ پورا نظام کائنات چل رہا ہے اور تمام واقعات اس کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور اس ناموس کی وجہ سے اس جہان میں انسانی تاریخ اپنا سفر کرتی ہے اور " رسالت " بھی اس کرہ ارض پر ناموس الٰہی کا ایک حصہ ہے ، کیونکہ ناموس الٰہی بھی در اصل ایک وسیع تر اور عظیم تر رسالت ہے۔ یہ کہ اس جہان میں واقعات بغیر کسی پروگرام کے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ تقدیر الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں ، اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقرر کردہ مقاصد و اہداف کے مطابق ہوتا ہے اور آخری نتائج مشیت الٰہیہ کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اور یہ مشیت سنت الٰہیہ کے مطابق کام کرتی ہے اور یہ ناموس اور سنت دونوں مشیت الٰہیہ کے وضع کردہ ہیں۔ ماضی کی ان بستیوں کو جو واقعات پیش آئے وہ اللہ کی بےقید مشیت کی وضع کردہ سنت کے مطابق پیش آئے اور اسی طرح بعد میں آنے والی اقوام کو بھی اسی عالمی ناموس کے مطابق چلایا جائے گا۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق انسان کا ارادہ اور اس کی جدوجہد ، اس کی تاریخ کی تشکیل میں ایک اہم عنصر ہے ، لیکن انسانی جدوجہد اور انسانی ارادے کی بےقید مشیت کے وسیع دائرے کے اندر رہتے ہیں اور اللہ کا نظام قضا و قدر ان کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ واللہ بکل شیئ محیط۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ انسان کا یہ ارادہ اور اس کی یہ جدوجہد اللہ کے نظام مشیئت اور نظام قضا وقدر کے اندر رہتے وہئے اس پوری کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یہ انسان اور اس کی جدو جہد اس کائنات سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور متاثر کرتے بھی ہیں ، گویا عوامل اور مناظر کا ایک بڑا عجوبہ ہے جس سے انسانی تاریخ تشکیل پاتی ہے اور یہ دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی تاریخ کی اقتصادی تعبیر اور انسانی تاریخ کی طبیعاتی تعبیر اور انسانی تاریخ کی جغرافیائی تعبیر نہایت ہی محدود اور چھوٹے دائرے نظر آتے ہیں جبکہ اسلامی تصور تاریخ کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے اور اس کے مقابلے میں یہ محدود دائرے انسان کے بنائے ہوئے کھیل نظر آتے ہیں اور بےڈھب لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو ، اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں۔ یہ بات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ہی بلند ہے کہ وہ لوگوں کو تنگی اور سختی میں محض کھیل تماشے کی غرض سے مبتلا کرے اور ان پر جسمانی اور مالی پریشانیاں آئیں۔ اللہ کی شان سے یہ تصور مطابقت ہی نہیں رکھتا کہ لوگوں کو رنج ومحن میں اس لئے مبتلا کیا جائے کہ الٰہ ان سے انتقام لیتا ہے اور کینہ کی تسکین کرتا ہے۔ جیسا کہ تمام بت پرستانہ مذاہب میں الٰہوں کی طرف اس قسم کے قصے مشہور ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الٰہوں کا کام یہ ہے کہ وہ عبث مشغلوں اور انتقامی کارروائیوں میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔ اور انسانوں کے معمولی جرائم پر سخت سے سخت انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے پھر لوگوں کو سختیوں اور مشکلات سے کیوں دو چار کیا جاتا ہے ؟ صرف اس لئے کہ جن لوگوں کی فطرت بالکل مسخ نہ ہوچکی ہو اور اس میں بھلائی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہو ، وہ فطرت جاگ اٹھے اور وہ دل نرم ہوجائیں جن میں کچھ بھی لچک موجود ہے اور جو بالکل ہی پتھر نہ بن گئے ہوں اور یہ کہ یہ ضعیف انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے جو قہار و جبار ہے اور وہ عاجزی اور تضرع سے اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اور اس کی رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور اس عاجزی اور تضرع کے اظہار کے ذریعے اس بات کا اعلان کردیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں کیونکہ اللہ کی بندگی کرنا انسانی وجود کی اصل غرض وغایت ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کی جانب سے عاجزی کرنے اور بندگی کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ انسان کی ضرورت اور اس کا مقصد وجود ہے۔ وما خلقت الجن والنس الا لیعبدون۔ ما ارید منہم من رزق وما ارید ان یطعمون۔ ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین۔ " میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ ان سے کھانے کا طلبگار ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ رازق اور پختہ قوت کا مالک تو صرف اللہ ہی ہے "۔ اور حدیث قدسی میں آتا ہے کہ " اگر تمام انسان اور جن ، ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی عبادت اور بندگی پر جمع ہوجائیں تو یہ مکمل اجتماع اللہ کی حکومت میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرسکتا اور اگر تمام جن و انس ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی معصیت پر جمع ہوجائیں تو بھی اللہ کی حکومت سے کسی چیز کو کم نہیں کرسکتے "۔ لیکن لوگوں کی جانب سے اعلان بندگی اور اللہ کے سامنے عجز و نیاز مندی کا اظہار خود ان کے لئے مفید ہے۔ انسان کی زندگی اور انسان کا معاشی نظام بھی اس سے اصلاح پذیر ہوتا ہے جب لوگ صرف اللہ کی بندگی اکا اظہار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی بندگی اور غلامی کے سوا تمام بندگیوں اور غلامیوں سے نجات پا لیتے ہیں ، وہ شیطان کی غلامی سے بھی بچ جاتے ہیں جو انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہے ، اور اس سورة کے آغاز ہی میں بتا دیا گیا تھا کہ شیطان کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ انسانوں کو گمراہ کردے۔ اسی طرح اللہ کی غلامی اختیار کرکے انسان اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی نجات پاتے ہیں اور وہ شیطان کی پیروی کرنے سے حیا کرتے ہیں اور اس طرح ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے کسی قول وعمل سے اللہ کے غضب کے مستحق نہیں ہوتے۔ وہ مشکل حالات میں بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں اور اس راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوتے ہیں جو انہیں آزادی کی طرف لے جاتی ہے ، جس میں ان کی اخلاقی تطہیر ہوتی ہے اور وہ ہوا و ہوس کے غلام بھی نہیں ہوتے اور دوسرے افراد کی غلامی سے بھی بالا ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہر بستی کے باشندوں کے لئے ایک نبی بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ اسے جھٹلائیں اور پھر انہیں پکڑا جائے اور اس پکڑ کا آغاز اس طرح ہو کہ ان کو نفسیاتی اور روحانی مصائب میں مبتلا کردیا جائے اور ان کو بدنی اور مالی تاوان کی اذیت کا مزہ چکھایا جائے تاکہ یہ اذیتیں سہ کر ان کے دل دوبارہ زندہ ہوں۔ یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان رنج و الم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی شخصیت کے اندر سے کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور اس کے اندر تہذیب آجاتی ہے اور اندر سے خیر و برکت کے خشک سوتے تازہ ہو کر پھوٹ نکلتے ہیں۔ زندہ دلوں کے اندر احساس تیز ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے سائے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر جب اندوہناک لمحات میں گھرے ہوئے ضعیف آدمی پر اللہ کی رحمت کی ہواؤں کے خوشگوار جھونکے چلنے لگتے ہیں تو ایسا انسان نہایت ہی اطمینان اور سکینت محسوس کرتا ہے۔ لعلہم یضرعون۔ شاید کہ وہ عاجزی پر اتر آئیں۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں " آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور نہیں خبر تک نہ ہوئی

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ ۔ " اس کے بعد ہم نے ان کی بد حالی کو خوشحالی سے بدل دیا "۔ سختی کی جگہ نرمی آگئی ، تنگی کی جگہ فراوانی آگئی۔ غربت کی جگہ انعامات آگئے ، بیماری کی جگہ صحت آگئی ، اولاد کی کمی کی جگہ کثرت اولاد آگئی ، ہر چیز میں کمی کی جگہ کثرت نے لے لی ، اور خوف کی جگہ امن آگیا۔ چناچہ عیش و آرام کے تمام ساز و سامان مہیا ہوگئے ، ناز و نعمت اور کھانے پینے کے لئے سامان فراہم ہوگئے۔ لیکن اللہ کے اس اصول کے مطابق در اصل یہ سب کچھ ایک قسم کی ازمائش تھی۔ اگر کسی کو مصائب میں مبتلا کر کے آزمائش میں ڈالا جائے تو بعض اوقات اس پر لوگ صبر کرتے ہیں اور اکثر لوگ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ شدت سے فریق مخالف میں دفاعی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ ظلم اور شدت کا شکار شخص بعض اوقات اللہ کو یاد کرکے قوت حاصل کرتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں بھلائی کی کوئی رمق ابھی باقی ہو۔ ایسا شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے عاجزی اور زاری کرتا ہے اور ذکر الٰہی کے سایہ میں وہ اطمینان و سکون حاصل کرلیتا ہے۔ یاد رہے کہ ذکر الٰہی کے آفاق وسیع ہیں اور اس کے میدان طویل و عریض ہیں اور اللہ کی جانب سے ذاکرین کے لئے جو وعدے ہوتے ہیں ، ان میں ان کے لئے خشخبری ہوتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو مال کی فراوانی کے ذریعے آزماتا ہے تو یہ ازمائش غربت و افلاس کے مقابلے میں بہت سخت ہوتی ہے۔ دولت مندی کی وجہ سے انسان غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سرکشی اختیار کرلیتا ہے اور بہت ہی کم لوگ ایسے حالت میں صبر کرسکتے ہیں اور ایسے کم لوگ ہی پھر اللہ کے صحیح بندے ہوتے ہیں۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ۔ " پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہتے ہیں " یعنی یہ لوگ پھلے پھولے اور زمین میں پھیل گئے ، عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے لگے ، ان کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم ہوگئیں اور انہوں نے سب کرنا شروع کردیا۔ کسی معاملے میں احتیاط یا ڈر ان کی راہ میں حائل نہ رہا۔ عَفَوْا کے لفظ سے جہاں کسی چیز کی کثرت کا اظہار ہوتا ہے وہاں اس سے لاپرواہی کی نفسیات کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو خفیف اور ہلکی سمجھنے لگے۔ ہر معاملے میں خواہ و شعوری دنیا سے متعلق ہو یا طرز عمل کے ساتھ متعلق ہو ، اس میں وہ سہل انگار ہوگئے تھے۔ یہ نفسیاتی اور عملی صورت حالات ان تمام لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے جن لوگوں کو مال و دولت کی فراوانی حاصل ہو اور وہ بڑے آرام کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ خصوصاً جبکہ عیش کوشی میں وہ ایک طویل عرصے تک غرق رہے ہوں ، خواہ افراد ہوں یا اقوام ہوں گویا ان کے دل و دماغ سے سنجیدگی اور احساس جاتا رہا ہے اور وہ بڑے بڑے معاملات میں بھی سنجیدہ ہونا پسند نہیں کرتے۔ وہ کھلے ہاتھوں خرچ کرتے ہیں ، وسیع پیمانے پر داد عیش دیتے ہیں ، عیش و عشرت میں ہر وقت گم رہتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے معاملات کو لیتے ہیں اور ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کے بارے میں سن کر بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ ایسے افعال کا ارتکاب بڑی بےباکی سے کرتے ہیں وہ اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتے۔ وہ عوام سے شرم محسوس نہیں کرتے۔ ان سے ہر قسم کی ذلت کا صدور بڑی لاپرواہی سے ہوتا ہے۔ وہ اس کائنات میں جاری سنت الٰہیہ کو نہیں پاتے۔ ان آزمائشوں کو نہیں سمجھتے ، اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملات یہاں یونہی چلتے رہتے ہیں ، ان کا کوئی معلوم سبب نہیں ہے اور نہ یہ کائنات کسی منصوبے کے ساتھ چل رہی ہے اور یہ کہ (ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے رہے ہیں) قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ہم نے مشکلات کا دور گزار لیا ہے ، اب ہمارے اچھے دن آئے ہیں اور یہ دن بہت ہی اچھی طرح بسر ہو رہے ہیں اور یہ بغیر کسی منصوبے کے گزر رہے ہیں۔ یہ وہ آخری حد ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں ڈوب جاتے ہیں ، ہر نصیحت کو بھول کر لہو و لعب اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اس حد پر انجام بد ان کو آ لیتا ہے اور یہ سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے۔ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ۔ آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی " ان کی غفلت ، غرور اور اللہ سے ان کی دوری پر ان کو یہ سزا دی گئی۔ انہوں نے اپنی خواہشات کو کھلی چھٹی دے دی تھی۔ وہ کسی بھی برے کام کے ارتکاب میں کوئی باک نہ کرتے تھے۔ اور ان کے دلوں کے پیمانے سئے خدا خوفی کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا تھا۔ یہی ہے اللہ کی سنت ، اس کائنات میں اور وہ اسی ڈگر پر چلتی رہتی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مخلوق میں اس کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ انسانی تاریخ کا قافلہ انسان کے ارادے اور عمل کے ساتھ ، اللہ کی قدرت اور مشیت کے وسیع دائرے میں آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اور قرآن کریم اس سنت الٰہیہ کو لوگوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور بار بار انہیں اس سے ڈراتا اور متنبہ کرتا ہے۔ یہ فتنہ عذاب الٰہی کا فتنہ ہے اور اس میں انسان کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کرکے آزمایا جاتا ہے اور اس میں انسان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے اور برے انجام سے بچتا رہے ، کیونکہ یہاں مکافات عمل کا قانون جاری وساری ہے اور مکافات عمل کا قانون اٹل ہے۔ اس لئے جو شخص چوکنا نہ رہے ، جس نے خدا خوفی کا راستہ نہ اپنایا ، اور احتیاط نہ کی وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اور وہ اپنے آپ کو ایسے عذاب سے دوچار کرلے گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا۔ اور اللہ کسی نفس پر کوئی حکم نہیں کرتا۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے

یہ اللہ کی سنت جاریہ کا ایک دوسرا پہلو ہے ، اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بدکرداری کے بجائے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ اور بلا حساب ان کو دیتا رہتا ، آسمانوں سے اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی۔ قرآن نے جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس کے پیش نظر ہم اسے ہر طرح کی فراوانی سے تعبیر کرسکتے ہو جو کسی ایک جنس ضرورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر قسم اور ہر نوع کی فراوانی۔ اس آیت اور اس سے قبل کی آیت میں ہم ایک عظیم حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق بیک وقت انسانی نظریات اور انسانی زندگی کے حقائق سے بھی ہے اور اس پوری کائنات کے حقائق سے بھی ہے۔ اور ان کے اندر انسانی تاریخ کا اہم عنصر اور عامل بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس اہم فیکٹر کو دنیا کے انسانوں کے وضع کردہ نظامہائے حیات نے پوری طرح نظر انداز کیا ہے بلکہ اس کا انکار کیا ہے۔ وہ فیکٹر ہے ایمان و عقیدہ اور خدا خوفی کا۔ ایمان و عقیدے اور خدا خوفی کا مسئلہ انسانی زندگی کے حقائق سے جدا چیز نہیں ہے اور نہ وہ انسانی تاریخ سے کوئی الگ چیز ہے بلکہ ایمان باللہ اور خدا خوفی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی برکات نازل فرماتے ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ ایفائے عہد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہم لوگ جو اللہ پر ایمان لانے والے ہیں ، ہماری شیوہ تو یہ ہے کہ اللہ کے اس عہد کو مومنانہ دل سے لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے علل و اسباب کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ، اور اس آیت کے مدلول و مفہوم کی تصدیق میں لمحہ بھر تردد بھی نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارا ایمان تو ہے ہی ایمان بالغیب اور اس ایمان کے تقاضے کے طور پر ہم اللہ کے اس عہد کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم پھر اللہ کے اس عہد پر غور و فکر کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے خود حکم دیا ہے کہ تم قرآن میں غور و فکر کرو اور غور و فکر کے بعد ہمیں اس بات کی ماہیت و حقیقت کا علم بھی ہوجاتا ہے۔ اللہ پر ایمان لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی فطرت زندہ ہے اور فطری حقائق کے ادراک اور قبول کرنے کی اہلیت اس میں موجود ہے۔ ایسے شخص کا ادراک سچا ہے اور اس کی انسانی بنیاد صحیح وسالم ہے۔ اور اس شخص کے دماغ میں اس قدر وسعت ہے کہ وہ اس کائنات کے حقائق کا ادراک کرسکے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو عملی زندگی میں انسان کی کامیابی کے ضامن ہیں۔ اللہ پر ایمان ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی ہے ، یہ انسانی شخصیت کی منتشر قوتوں کو جمع کرکے انہیں ایک جہت اور رخ پر ڈال دیتی ہے اور اس جہت میں انسانی شخصیت اللہ کی قوت کی مدد سے آگے بڑھتی ہے اور اس زمین پر اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ اس کرہ ارض کی تعمیر میں لگ جاتی ہے۔ نتیجۃ اس کرۂ ارض سے فتنہ و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور انسان اس زمین کی ترقی اور تعمیر میں لگ جاتا ہے اور اس طرح انسان عملی زندگی میں کامیاب رہتا ہے۔ اللہ پر پختہ ایمان انسان کو خود اپنی خواہشات کی غلامی اور دوسرے انسانوں کی غلامی سے نجات دیتا ہے کہ اور اس میں شک نہیں کہ صرف اللہ کا غلام اور دوسری تمام غلامیوں سے آزاد انسان ہی اس کرۂ ارضپر خلافت راشدہ کا صحیح نظام قائم کرسکتا ہے۔ ایسا شخص ان لوگوں سے قوی تر ہوگا جو ایک دوسرے کے غلام ہیں یا اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔ خدا کا خوف ایک دانشمندانہ بیداری ہے۔ اس سے انسام سرکشی ، غرور ، بےراہ روی جیسے اخلاقی عیوب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کی سرگرمیاں اعتدال اختیار کرلیتی ہیں اور اس کی زندگی کا اسلوب سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری جدوجہد محتاط ہوجاتی ہے۔ اور وہ سرکشی کا ارتکاب کرکے اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھتا اور اپنی زندگی کو صالحانہ حدود میں رکھتا ہے۔ ایک صالح انسان کی زندگی کا نقشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ آگے بڑھنے اور رکاوٹوں کے درمیان توازن پیدا کرلیتا ہے۔ وہ زمین پر محنت کرتا ہے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ ہوائے نفس ، سرکشی اور تجاوز سے آزاد ہوتا ہے اور اس کے دل میں ہر وقت خوف خدا ہوتا ہے۔ ایسا شخص ایک صالح ، نتیجہ خیز اور مفید کردار کا مالک ہوتا ہے اور ایسا ہی شخص اللہ کی امداد کا مستحق ہوتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے اوپر برکات الٰہی کے سائے نزول کرتے ہیں۔ ان کے کام میں خیر و برکت عام ہوتی ہے اور اس کی زندگی پر فلاح سایہ فگن ہوتی ہے۔ اس کی زندگی بظاہر اسباب کے مطابق چل رہی ہوتی ہے لیکن درحقیقت ایک غیبی قوت اس کی مددگار ہوتی ہے۔ وہ برکات جو مومنین اور اہل تقوی پر سایہ فگن ہوتی ہیں وہ مختلف النوع ہوتی ہیں اور اس آیت میں ان کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں لیکن وہ یقیناً موجود ہوتی ہیں۔ اس آیت میں جو اشارات ہیں ان سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان پر ہر جانب سے برکات کا نزول ہورہا ہوتا ہے۔ ہر طرف سے برکت کے چشمے پھوٹتے ہیں جن کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ لہذا اس سے مراد ہر قسم و نوع کی برکات ہیں ، ہر شکل و صورت میں ان کا نزول ہوتا ہے ، بعض ایسی ہیں جو لوگوں کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو وہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ سے خوف کھانا محض پرائیویٹ عبادت کا مسئلہ ہے اور اس کا انسان کی عملی اور اجتماعی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے لوگوں نے در اصل حقیقت ایمان کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ ان کا گرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ اللہ کے نزدیک تو ایمان کا عملی اور اجتماعی زندگی کے ساتھ تعلق موجود ہے۔ اور اس پر اللہ گواہی دے رہا ہے اور اللہ کی شہادت کافی شہادت ہے۔ اور اللہ اسے ان باتوں سے متعلق کرتا ہے جن کے بارے میں لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ عملی اور اجتماعی زندگی کے معاملات ہیں۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ۔ " اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ بعض لوگ دیکھتے ہیں کہ بعض اقوام کا نقطہ نظر اس معاملے میں یوں ہے : " ہم مسلمان ہیں اور ہمارے اوپر رزق کے دروازے بند ہیں اور ہمارے حصے میں خشک سالی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اقوام ایسی ہیں جو نہ مومن باللہ ہیں اور نہ اہل تقویٰ میں سے ہیں لیکن ان پر ہر طرف سے رزق کی بارش ہو رہی ہے۔ ان کے پاس بےپناہ قوت ہے اور وہ دنیا میں با اثر ہیں۔ لہذ سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں جس سنت الٰہیہ کا ذکر ہوا ہے وہ ہم پر صادق کیوں نہیں آتی ؟ " در اصل ایسے لوگوں نے اس مسئلے کے صرف ظاہری اور سطحی پہلو کو لیا ہے۔ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، وہ مومن اور متقی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ نہ ان لوگوں نے خالصتاً اللہ کی بندگی اور غلامی کا رویہ اپنایا ہے۔ ان کی عملی زندگی میں لا الہ الا اللہ کی شہادت موجود نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اپنے میں سے بعض غلاموں کی غلامی کر رہے ہیں۔ " یہ " غلام ان کے الٰہ بنے ہوئے ہیں اور ان کے لئے قانون بناتے ہیں۔ نہ صرف قوانین بلکہ ان کے لئے حسن و قبح کی اقدار بھی تجویز کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگ کہاں مومن ہیں۔ مومن کا تو فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ختم کردے جو ان پر مقتدر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ مومون کا تو پہلا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی کو بھی الٰہ و رب نہ بنائے جو ان پر اپنے قوانین اور اپنا نظام نافذ کرے۔ جب ایسے مدعیان کے اسلاف حقیقی مومن اور مسلم تھے تو ان کے سامنے پوری دنیا سرنگوں تھی اور ان پر آسمان اور زمین کی برکات کی بارش ہوتی تھی اور ان کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ سچا تھا ، کیونکہ وہ خود سچے تھے۔ رہے وہ لوگ جن پر رزق کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں تو یہ بھی سنت الٰہیہ کا ایک حصہ ہے۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ " پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں "۔ ان لوگوں پر جو انعامات ہوتے ہیں وہ در اصل ان کے لئے ابتلاء و آزمائش ہے اور یہ ابتلاء مصیبت کی ابتلاء سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ کفار پر جو انعامات ہوتے ہیں اور اہل ایمان پر جو انعامات ہوتے ہیں ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ برکت الٰہی بعض اوقات ایک قلیل چیز میں بھی اپنے رنگ دکھاتی ہے۔ جب انسان ایک تھوڑی چیز سے اچھی طرح فائدہ اٹھاتا ہے اور امن و سکون کے ساتھ خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے ، دوسری جانب بڑی بڑی ترقی یافتہ اور مالدار اقوام ایسی ہیں جو پریشانی اور عدم اطمینان کی زندگی بسر کرتی ہیں حالانکہ بظاہر وہ نہایت ہی امن وامان سے زندگی بسر کرتی ہیں اور ان کے افراد کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ افراد معاشرہ کے درمیان بےچینی کا دور دورہ ہے۔ اور قریب ہے کہ یہ اقوام مکمل طور پر تباہ ہوجائیں۔ سازوسمان بسیار مگر اطمینان مفقود ہے۔ ہر چیز کی فراوانی ہے ، لیکن لوگ بدکردار ہیں ، ان کی خوشحالی ہی ان کے لئے برے مستقبل کا پتہ دے رہی ہے اور یہ خوشحالی ان کے لئے انتقام الٰہی کا سبب ہے۔ اہل ایمان کو جو برکات ملتی ہیں ، ان کے کئی رنگ ہیں ، ان کی ضروریات کی چیزوں میں برکت ہوتی ہے ، ذات انسانی میں برکت ہوتی ہے ، انسانی شعور میں برکت ہوتی ہے ، پاکیزہ زندگیوں میں برکت ہوتی ہے اور ان برکات کے نتیجے میں زندگی بڑھتی ہے اور اس کے اندر سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے ، یہ نہیں کہ ہر طرف سہولیات تو وافر ہوں اور انسان جہنم میں ہو جسمانی اور نفسیاتی اضمحلال میں مبتلا ہو۔ سنت جاریہ جس پر تاریخ انسانی بھی ایک گواہ ہے اور جس کے بیان کے متصل بعد اب روئے سخن اہل غفلت کی طرف مڑتا ہے۔ ان حالات کے جاننے اور دیکھنے کے بعد جن میں مکذبین کو تباہ و برباد کیا گیا اور ان پر عذاب نازل ہوا جن کی وجہ سے پڑھنے والے کے شعور اور وجدان کے اندر ایک ہمہ گیر ارتعاش پیدا ہوگیا کیونکہ ان لوگوں نے اپنی نرمی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آزمائش انعامات اور زندگی کے سازو سامان میں غفلت کا مظاہرہ کیا اور حکمت الٰہیہ کو نہ سمجھ سکے کہ یہ تو در اصل ان کی آزمائش ہے۔ ایسے حالات میں اب سیاق کلام ان اہل غفلت کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اپنے حال میں مست ہیں۔ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ رات اور دن کے کسی بھی وقت میں ان کو عذاب الٰہی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ، ایسے حالات میں کہ لہو و لعب اور خواب غفلت میں ڈرے ہوئے ہوں۔