7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا ، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے " اے موسیٰ ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جسیے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ موسیٰ نے کہا " تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو

درس نمبر 80 ایک نظر میں اس سبق میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کی ایک دوسری کڑی چلتی ہے۔ اب آپ کا معاملہ اپنی قوم بنی اسرائیل سے ہے۔ یہ لوگ اب دشمن سے نجات پا چکے ہیں۔ اللہ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اور وہ تمام ترقی اور تعمیر جسے وہ سب کچھ سمجھتے تھے ، تباہ و برباد کردی گئی ہے۔ آج حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کے طاغوتی نظام سے واسطہ نہیں پڑا ہوا ، طاغوت کے ساتھ جو معرکہ تھا وہ تو سر ہوچکا ہے۔ آج آپ کو ایک نئے محاذ میں لڑنا ہے۔ انسانی شخصیت کے اندر جو جاہلیت رچی بسی ہوتی ہے۔ آج اس کے ساتھ معرکہ درپیش ہے۔ آج حضرت موسیٰ اس ذلت اور پستی سے برسر پیکار ہیں جو بنی اسرائیل کی شخصیت میں ، دور غلامی کے اندر تہ بہ تہ بیٹھی ہوئی ہے۔ ان کے مزاج میں کجی آگئی ہے ، ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے ہیں اور میدان جنگ میں وہ سخت بزدل نظر آتے ہیں۔ زندگی اور بلند تر زندگی کی راہ میں جو مشکلات ہوتی ہیں ان کے انگیز کرنے میں وہ نہایت ہی کمزور ہیں۔ اور وہ شخصی میلانات کے بندے ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذلت ، غلامی اور مظلومیت انسان کی شخصیت کو تباہ کردیتی ہیں۔ طویل عرصے تک خائف زندگی گزارنا۔ ، خفیہ سرگرمیاں ، کج فطرتی اور تشدد اور عذاب سے بچنے کے لیے مخفی رہنا۔ اور رات کے اندھیرے میں کام کرنا ہر وقت تشدد اور مصیبت میں ابتلاء کا ڈر ایک ایسا ماحول ہوتا ہے جس سے انسان کی فطرت میں سخت بگاڑ اور عدم توازن پیدا ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل ایک طویل عرصے تک سخت ترین تشدد کا شکار رہے تھے۔ طویل عرصے تک ان پر خوف ، ڈر ، بت پرستی اور فرعونیت کا سایہ رہا۔ فرعون کی ان بچیوں کو زندہ رکھتا اور لڑکوں کو ذبح کردیتا۔ یہ سنگ دلانہ تشدد کبھی موقوف بھی ہوتا لیکن ذلت غلامی اور توہین آمیز زندگی تو مستقلاً ان کی قسمت میں تھی۔ ان کی شخصیت میں بگاڑ پیدا ہوگیا تھا۔ ان کا مزاج غیر معتدل ہوگیا تھا۔ فطرت میں کجی داخل ہوگئی تھی۔ خیالات بگڑ گئے تھے۔ ان کی نفسیات میں ذلت ، بزدلی ، کینہ پروری ، نفرت رچی بسی تھی۔ جب بھی کوئی انسانی طبقہ اس قسم کے مظالم کا شکار ہو تو ان میں اسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ حضرت عمر ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ربانی بصیرت عطا کی تھی۔ آپ انسانوں کی نفسیات سے اچھی طرح باخبر تھے۔ انہوں نے اپنے تمام حکام سے کہہ رکھا تھا اور یہ وصیت کردی تھی " آپ لوگوں کے چہرے پر مار مار کر سزا مت دو ، اس طرح تم لوگوں کو ذلیل کردوگے " ان کو علم تھا کہ چہرے پر مار کی وجہ سے لوگ ذلیل ہوجاتے ہیں اور اسلام کی تو یہ بنیادی پالیسی ہے کہ رعیت کو ذلیل و خوار نہیں کرنا ہے ۔ کیونکہ اسلامی مملکت میں لوگ باعزت تصور ہوتے ہیں۔ اسلام کی پالیسی اور خواہش یہ ہے کہ لوگ باعزت ہوں۔ اور حکام کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ لوگوں کو مار مار کر ذلیل کریں۔ اسلام نے یہ کہا کہ لوگ حکام کے غلام نہیں ہوتے۔ وہ اللہ کے غلام اور معزز لوگ ہوتے ہیں۔ وہ تمام غیر اللہ سے محترم ہیں۔ فرعونیت کے طاغوتی نظام میں فرعونیوں نے بنی اسرائیل کو مار مار کر ذلیل کردیا تھا۔ بلکہ ان پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کے مقابلے میں یہ مار بالکل معمولی بات نظر آتی تھی۔ بنی اسرائیل کے بعد تمام مصری قوم کو بعد میں آنے والے حکمرانوں نے مار مار کر ذلیل کیا ، فرعونی طاغوت کے بعد رومی طاغوت نے مصریوں کو اسی طرح مار مار کر ذلیل کیا۔ ان مصائب سے مصری قوم کو صرف اسلام نے نجات دی۔ جب اسلام آیا تو اس نے مصری قوم کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دی۔ عمرو ابن العاص حاکم مصر اور فاتح مصر کے بیٹے نے جب ایک قبطی کو صرف ایک کوڑا مارے جانے پر بہت ہی غصہ آیا اور وہ بھی فاتح مصر اور گورنر کے بیٹے کی طرف سے۔ اس نے اونٹنی پر سوار ہوکر ایک ماہ تک سفر کیا اور یہ شکایت حضرت عمر ابن خطاب تک پہنچائی۔ صرف ایک کوڑا مارنے کی شکایت۔ حالانکہ فتح مصر سے پہلے رومیوں کی جانب سے مارے جانے والے کئی کوڑوں پر وہ صبر کرتا تھا۔ یہ تھا اسلامی انقلاب کا معجزہ۔ جس نے قبطیوں کے اندر بھی انقلاب پیدا کردیا۔ اگرچہ وہ مسلمان نہ ہوں۔ اسلام نے انسانیت کو ذلت و خواری کی جمی ہوئی تہوں کے نیچے سے نکالا اور آزادی دی۔ لوگ اس طرح اٹھے کہ ان کا جسم و روح آزاد ہوگیا اور انہوں نے اپنے آپ سے ذلت کے غبار کو ایک دم جھاڑ دیا۔ کسی غیر اسلامی نظام نے انسانیت کو اس قدر آزادی نہیں دی تھی۔ اب حضرت موسیٰ کا واسطہ اس مہم سے تھا کہ انہوں نے اپنی قوم کی شخصیت سے صدیوں کی غلامی وجہ سے اور طاغوتی نظام کے تحت ذلت کی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو دور کرنا تھا۔ بنی اسرائیل مصر سے نکل چکے تھے اور انہوں نے سمندر کو عبور کرلیا تھا۔ قرآن کریم کے بیان کردہ قصص میں ان لوگوں کی شخصیات صاف صاف نظر آتی ہیں۔ یہ غلامی کے گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آثار جاہلیت سے مقابلہ ہے۔ حضرت موسیٰ کا مقابلہ اب ان لوگوں کی کٹ حجتی ، اخلاقی بےراہ روی ، فکر و نظر کی جہالت سے ہے جو ان کی شخصیت میں ، اس طویل عرصہ اسیری میں کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھیں۔ اس سلسلے میں ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے حضرت موسیٰ کس قدر ان تھک مصائب برداشت کررہے ہیں۔ ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جن کی فطرت صدیوں تک زمین بوس رہی ہے۔ ان کی حالت یہ تھی جس طرح غلاظت کا کیڑا غلاظت سے نکلنا پسند نہیں کرتا اور ذلت اور غلاظت کو اپنے لیے معمولی سمجھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جدوجہد میں ہر صاحب دعوت کے لیے ایک سبق ہے۔ خصوصاً ایسے صاحب دعوت کے لیے جسے ایسے لوگوں سے واسطہ ہو ، جو صدیوں تک ذلت اور غلامی میں رہے ہوں اور جنہوں نے ایسے طاغوتی نظام میں زندگی بسر کی جو ظالم بھی ہو اور متشدد بھی۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ داعی جس طرف بلا رہا ہے وہ راہ نجات ہے۔ بلکہ وہی راہ نجات ہے لیکن ایک طویل عرصہ عالم ہونے اور مومن ہونے کی وجہ سے ان کے لیے یہ دعوت ایک عادی دعوت بن گئی ہو اور ان کا دین ایک بےروح روسمی دین بن گیا ہو۔ ایسے حالات میں ایک داعی کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ دگنا ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے داعی کے لیے صبر کی بھی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے داعی کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی کج فہمی ، ان کی بد اخلاقی ، ان کے مزاج کی سہل انگاری اور ان کے اقدام کی سست رفتاری پر صبر کرے۔ ہر مرحلے پر ایسے لوگوں میں شکست اور دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ جانے کی خواہشات پر نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ صبر کرے۔ قصہ بنی اسرائیل کو امت مسلمہ کے لیے قرآن کریم میں اسی لیے ثبت کردیا گیا ہے کہ امت مسلمہ کے لیے اس میں بڑی عبرتیں ہیں اور اسی حکمت کے تحت اسے بار بار مختلف پہلوؤں سے لایا گیا ہے۔ تاکہ امت مسلمہ اس تجربے سے فائدہ اٹھائے اور حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے تمام داعیوں کے لیے بھی اس قصے میں بڑی مقدار میں زاد راہ موجود ہے۔ درس نمبر 80 تشریح آیات۔ 138 ۔ تا۔ 171 ۔۔۔ اس قصے کا یہ ساتواں منظر ہے۔ اس میں بنی اسرائیل اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ نجات پا کر بحر قلزم سے اس پار چلے گئے ہیں۔ اب ہمیں فرعونی مناظر کے برعکس اس میں بنی اسرائیل کی سرکش ، معصیت کیش اور نہایت ہی کج مزاج شخصیت کا سامنا ہے۔ اور یہ اخلاقی کمزوریاں ان کے مزاج میں تہ بہ تہ صدیوں کی تاریخ کے دوران جمی ہوئی ہیں۔ اس پر کوئی طویل عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی تھی جس نے انہیں خوب ذلیل کرکے رکھا ہوا تھا۔ فرعون کی قوم بھی اس کام میں شریک تھی اور یہ نجات انہیں حضرت موسیٰ کی وجہ سے ملی تھی ، حضرت موسیٰ نے یہ تحریک اللہ رب العالمین کے نام سے چلائی تھی۔ رب العالمین نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور ان کی نجات کے لیے سمندر کے ٹکڑے کیے اور انہیں اس ذلت آموز زندگی سے نجات دی۔ وہ تو مصر کی بت پرستی اور سرزمین ظلم سے ابھی رہا ہوکر آئے تھے۔ لیکن سمندر کو پار کرتے ہی جب وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں جس کا ایک بت ہے اور وہ اس کی پوجا کرتی ہے اور ہر شخص اپنے بتوں کی پوجا پاٹ میں مشغول ہے تو وہ جھٹ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ان کے لیے بھی ایسا ہی بت تجویز کردیں تاکہ وہ بھی اسی طرح پوجا پاٹ شروع کردیں حالانکہ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش خالص نظریہ توحید پر مبنی تھی اور اسی نظریہ کے تحت فرعون کی ہلاکت ہوئی تھی اور ان کو نجات ملی تھی۔ (وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰي قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰٓي اَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوْا يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ) ۔ بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا ، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے " اے موسیٰ ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جسیے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ متعدی بیماریاں جس طرح جسم کو آ لیتی ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں بھی متعدی ہوتی ہیں ، لیکن متعدی بیماریاں تب ہی پھیلتی ہیں جب لوگوں کے اندر ان کے پھیلاؤ کے لیے جراثیم موجود ہوں اور قرآن کریم نے جس طرح بنی اسرائیل کے مزاج کا نہایت ہی سچا ، گہرا اور ہمہ جہت نقشہ کھینچا ہے اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ خلاقی اعتبار سے نہایت ہی بودے ، ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست تھے ، وہ گمراہی کو اسی طرح قبول کرتے تھے جس طرح پٹرول کو آگ لگتی ہے۔ وہ اٹھتے ہی گر جاتے تھے ، چند قدم ہی راہ مستقیم پر چلتے تھے کہ اچانک ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیتے تھے ، اس لیے کہ ان کے کلیجے میں گمراہی کے جراثیم داخل ہوچکے تھے۔ وہ سچائی سے دور تھے۔ ان کا احساس مر چکا تھا ، اور ان کا شعور بجھ چکا تھا۔ اچانک جب وہ ایک بت پرست قوم کو بت پرستی میں مشغول دیکھتے ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کی بیس یا تئیس سالہ جدوجہد اور اپنی غلامی کی صدیاں بھول جاتے ہیں اور مطالبہ کردیتے ہیں کہ ان کے لیے بھی بت تجویز کیے جائیں۔ سابقہ معجزات کو تو چھوڑ دیں ایک طرف ، ابھی ابھی تو وہ سمندر پھٹا اور بڑے بڑے تودوں سے گزر کر آئے ہیں۔ جس میں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا دشمن ہلاک کیا گیا۔ فرعون اور اس کا ظالم عملہ سب بت پرست تھے اور وہ بنی اسرائیل کے خلاف فرعون کو اسی بت پرستی کے نام پر ابھارتے تھے۔ وہ اہل فرعون کی یہ باتیں بھول گئے جو وہ کہتے تھے۔ " ا تذر موسیٰ و قومہ لیفسدوا فی الارض و یذرک و الھتک " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہا ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں اور وہ تمہیں اور تمہارے الہوں کو چھوڑ دیں " یہ سب کچھ بھول بھلا کر وہ اپنے نبی اور رسول سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح تمہارے کہنے پر وسرے تمہارے کہنے پر دوسرے معجزات سرزد ہوئے اب اپنے رب سے ہمارے لیے بتوں کی منظوری بھی لے لے تاکہ ہم بھی بت پرستی شروع کردیں۔ اگر یہ لوگ خود ہی بت پرستی شروع کردیتے تو پھر بھی کوئی بات تھی مگر انہیں اس قدر حیا نہ آئی نبی اور رب العالمین سے بت پرستی کی اجازت چاہی لیکن یہ بنی اسرائیل ہیں ، ان سے سب کچھ متوقع ہے۔ اس مطالبے پر حضرت موسیٰ کو بہت غصہ آتا ہے ، جس طرح رب العالمین کے کسی رسول کو اپنے رب کے بارے میں آنا چاہئے۔ اس لیے کہ کوئی بھی رسول عقیدہ توحید کے بارے میں سخت غیرت مند ہوتا ہے اور اس کے لیے شرک ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ان کو ایسا جواب دیتے ہیں جو ان کے لیے مناسب ہے۔ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ۔ " موسیٰ نے کہا تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو "۔ یہاں ان کی جہالت کو مخصوص نہیں کیا گیا۔ لہذا مفہوم یہ ہوا کہ تم غایت درجے کے جاہل ہو ، اگر یہ علم کے مقابلے میں استعمال ہو تو مراد بےعلمی ہوتی ہے اور اگر یہ غلط عقل کے مقابلے میں آئے تو مراد حماقت ہوتی ہے یعنی تم غایت درجہ کے احمق اور غایت درجے کے کورے اور علم ہو۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ عقیدہ توحید سے جو لوگ منحرف ہوتے ہیں وہ جاہل بھی ہوتے ہیں اور احمق بھی ہوتے ہیں اور یہ کہ علم اور سائنس اور عقلمندی انسان کو عقیدہ توحید پر پہنچاتی ہے۔ علم اور عقل کبھی بھی عقیدہ توحید کے سوا کسی اور عقیدہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ علم اور عقل تو اس پوری کائنات کا مشاہدہ کرکے یہ شہادت پاتے ہیں کہ اس کا ایک خالق اور مدبر ہے ، یہ خالق اور مدبر ہے بھی وحدہ لاشریک۔ اس لیے کہ اس پوری کائنات کے ضوابط و قوانین اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا مدبر ایک ہے۔ اور جس قدر اس کائنات میں غور و فکر کیا جاتا ہے اور اس کے اندر جستجو کی جاتی ہے یہی بات سامنے آتی ہے کہ ضوابط و آثار کی یک رنگی دلیل ہے وحدت خالق کی۔ اس سے اعراض اور صرف نظر وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پرلے درجے کے جاہل ہوں یا احمق ہوں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو عالم اور سائنس دان کہتے ہیں۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے "

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے ہیں کہ جس بت پرستی میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی بری چیز ہے اور ان کی جانب سے یہ سراسر غیر معقول مطالبہ ہے ، کیا تم ایسے لوگوں کی پیروی کرتے ہو جو خود ہلاک و برباد ہونے والے ہیں ؟ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے " یہ شرک و بت پرستی ، یہ بتوں کی پوجا پاٹ ، یہ بت پرستانہ تہذیب و تمدن جس میں کئی رب ہوں اور ان ارباب کے نیچے پھر مسند نشستیں اور مذہبی لیڈر ہوں اور حاکم و محکوم ہوں اور وہ بت پرستی سے اپنے حقوق کا تعین کرتے ہوں۔ یہ تمام خرافات اور توہمات زندگی کے فاسد تصور پر مبنی ہیں اور باطل اور بےاصل ہیں۔ اور ان تصورات اور اعمال نے دنیا سے ختم ہونا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت ہے۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے کہا " کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قومیں پر فضیلت بخشی ہے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں اپنے نظریہ حیات اور اپنے رب کے بارے میں غیرت کی وجہ سے مزید جوش آجاتا ہے۔ ان کا نغمہ تیز تر ہوجاتا ہے اور وہ برہمی کے ساتھ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ابھی ابھی سمندر کے کنارے جو کچھ ہوا تم بھول گئے ہو ، تم اپنے مرتبہ ومقام کا خیال بھی نہیں رکھتے۔ (قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) ۔ : " پھر موسیٰ نے کہا " کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قومیں پر فضیلت بخشی ہے " اس دور میں تمام اقوام پر بنی اسرائیل کی فضیلت واضح ہے کہ تمام مشرک اقوام میں سے بنی اسرائیل کو منصب رسالت دیا گیا۔ اس سے بڑی فضیلت اور اس سے زیادہ احسان اور کیا ہوسکتا ہے۔ رسالت ایک عظیم فضل اور عظیم احسان ہے۔ نیز اس وقت بنی اسرائیل کو اس منصب کے لیے بھی چنا گیا۔ کہ وہ اس زمین پر مقتدر اعلیٰ ہوں گے۔ خصوصاً ارض مقدس کو ان کے ہاتھوں واگزار کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ، کیونکہ اس دور میں ارض مقدس پر غیر قوموں کا قبضہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان اعزازات کے بعد وہ کس منہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے لیے کوئی الہ تجویز کیا جائے جیسا کہ دوسری قوم نے اپنے لیے الہ تجویز کر رکھے ہیں ، جبکہ ان پر اللہ کا بڑا فضل و کرم تھا۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی ، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

قرآن کا یہ انداز کلام ہے کہ انبیاء کے کلام کے ساتھ متصلاً اللہ کے کلام کو بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی حکایت کے ساتھ متصلاً اللہ کا کلام بھی آجاتا ہے۔ وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭوَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۔ اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی ، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ اللہ کے کلام اور اللہ کے نبیوں کے کلام کو یجا کرنے سے در اصل نبیوں کی تکریم مقصود ہے اور یہ در اصل اعزازو تکریم کا یہ نہایت ہی بہترین انداز ہے۔ یہ احسان جو بنی اسرائیل پر کیے گئے اور یہاں جتلائے گئے وہ ان کے دل و دماغ میں موجود تھے۔ اور ان کا مشاہدہ تازہ تھا۔ محض ان احسانات کی یاد دہانی ہی اس بات کے لیے کافی تھی کہ وہ سجدہ شکر بجا لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ یہ عبرت کا مقام ہے اور انسانوں پر مشکلات اور اس کے بعد مشکلات سے نجات سب کچھ انسان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ " اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش ہے "۔ اس لیے کہ ان میں سے کوئی واقعہ بھی اتفاقی نہ تھا۔ سب کچھ تقدیر الہی کے مطابق تھا اور آزمائش تھی اور آزمائش سے مقصد عبرت آموزی تھی اور مسلمانوں کو تجربات سے دوچار کرکے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنا مطلوب تھا اور یہ مقصد تھا کہ جب ان کو سزا دی جائے تو ان کے لیے گلے شکوے کا کوئی موقعہ نہ رہے ، اس وقت جب یہ تمام آزمائشیں ان پر کارگر نہ ہوں۔ اب یہ منظر بھی ختم ہوجاتا ہے ، اس سے بڑا دلچسپ دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا ، اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ " میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا "

یہ آٹھواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اور آپ کے رب العالمین کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ حضرت موسیٰ اس عظیم تقریب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ حضرت ہارون کو وصیت کرکے اپنا قائم مقام بناتے ہیں اور اس کے بعد آپ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی مہم کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے ، اس مرحلے میں بنی اسرائیل کو ذلت اور زبردستی کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ قوم فرعون کی ایذا رسانیوں اور تشدد کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ ذلت اور غلامی کی شہری زندگی کو ترک کرکے اب وہ صحرا کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ اور ارض مقدس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ارض مقدس کی بازیابی کی عظیم اور اصلی مہم کے اہل ہی نہیں بنے۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اور کانٹوں سے پر راہ ہے کہ کوئی کرہ ارض پر اقتدار کے مناصب حاصل کرکے فریضہ خلافت ارضی کا منصب سنبھال لے۔ اس سے قتبل کے منظر میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ان کے دلوں میں بت پرستی اور شرک نے کس طرح گھر کرلیا ہے کہ ایک بت پرست قوم کو دوران سفر دیکھتے ہی اپنے لیے بتوں کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اذہان و قلوب سے عقیدہ توحید متزلزل ہوگیا جس کے لیے حضرت موسیٰ کو خاص طور پر رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس پر کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا تھا۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ حضرت موسیٰ کو تفصیلی ہدایات دے کر ان کے پاس واپس بھیجا جائے اور آپ نئی ہدایات کے تحت اس قوم کی تنظیم و تربیت کریں تاکہ وہ ارض مقدس کی آزادی کا عظیم فریضہ ادا کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقررہ وقت و مقام میں ملاقات کی دعوت دی تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے براہ راست کوئی ہدایات لیں۔ اور اس ملاقات میں خود حضرت موسیٰ کی بھی مزید تربیت مقصود تھی تاکہ آپ بھی آنے والے مشکل حالات اور مشکل مہمات کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ کی تربیت کا کورس تیس دن مقرر ہوا تھا۔ اس میں دس دن کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ یوں چالیس دن تک یہ سلسلہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں ملاقات الٰہی کے لیے ریاض کیا۔ آپ اس دنیا کی دلچسپیوں سے دور ہوگئے۔ اور عالم بالا کی طرف قریب ہوگئے ، لوگوں سے دور اور رب العالمین سے قرب حاصل کیا۔ آپ کی روح صاف ہوگئی اور آپ کا اندرون روشن ہوگیا اور یوں آپ کو براہ راست رب العالمین کی تربیت میں آنے والے فرائض منصب رسالت کے لیے تیار کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی روانگی سے قبل اپنے بھائی اور جانشین حضرت ہارون کو ان الفاظ میں وصیت کی۔ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ " میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا " حضرت موسیٰ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ہارون بھی اللہ کی جانب سے نبی مسل ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو نصیحت کرے بلکہ نصیحت ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔ پھر حضرت موسیٰ کو ان بھاری ذمہ داریوں کا اچھی طرح احساس تھا اور آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ حضرت ہارون نے کشادہ دلی سے نصیحت کو سنا اور قبول کیا۔ انہوں نے اس پر برا نہ منایا ، کیونکہ نصیحت برے لوگوں کو اچھی معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ لوگ بھلائی سے چھٹکارا چاہتنے والے ہوتے ہیں اور ان چھوٹے قد والوں پر بھی نصیحت گراں گزرتی ہے جو اپنے آپ کو بہت ہی بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کو نصیحت کی جائے تو یہ چھوٹے قد کے لوگ اس میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چھوٹے قد والے متکبر وہ ہوتے ہیں کہ تم ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو کہ ان کی امداد کرو اور وہ تمہارے ہاتھکو جھٹک دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بڑا دکھا سکیں۔ یہ تیس راتیں اور پھر ان میں دس دن کی مزید وسعت میں کیا حالات پیش آئے ؟ ان کے بارے میں ابن کثیر کہتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ تیس راتیں مقرر کی تھیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں روزے رکھے اور کچھ نہ کھایا۔ اور جب میعاد پوری ہوگئی تو آپ نے درخت کے چھلکے سے مسواک کی۔ اس پر اللہ نے ان کو حکم دیا کہ آپ چالیس دن پورے کریں "
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ " اے رب ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں "۔ فرمایا " تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا " چناچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا " پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں "

اب تو یہ منظر آپ کے سامنے ہے۔ یہ منظر ایک منفرد منظر ہے اور یہ حضرت موسیٰ کا خاصہ ہے اس میں رب ذوالجلال اور رب العالمین براہ راست اپنے بندے سے مخاطب ہیں۔ اس منظر میں ایک ذرہ ، ایک محدود ذرہ اور ایک فانی وجود ایک ازلی اور ابدی ذات کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک بندہ اپنے خالق سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے جبکہ خالق ابدی و ازلی وراء الوراء ہے اور بندہ زمین پر ہے۔ لیکن اس التقاء کی کیفیت کیا تھی ؟ اس کے ادراک سے ہم عاجز ہیں۔ اللہ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی کیفیت کیا تھی ، اس کے بارے میں ہم نہیں بتا سکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کن ذرائع ادراک سے یہاں ہدایات اخذ کرتے تھے ، کلمات کس طرح تے ؟ یہ سب تصورات ہم بندوں اور محدود قوت کے مالک انسان کے لیے ناقابل تصور ہیں۔ اس لیے کہ ہماری قوت مدرکہ محدود ہے۔ ہمارا سرمایہ ادراک محدود ہے۔ ہمارے تجربے واقعاتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر جو لطیف راز اور جو لطیف شعور و دیعت کر رکھا ہے اس کے ذریعے ہم معلوم کرتے ہیں کہ یہ ہمکلامی واقع ہوئی اور ہمیں اس کا یقین ہے اور شعوری یقین ہے لیکن کیفیت کے بارے میں سوال کرتے ہمیں اپنے یقین کو گدلا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ تعلق ، محدود اور لامحدود کا تعلق ہمارے محدود پیمانہ ادراک میں سما نہیں سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ اس منفرد منظر کو ہم اپنے خیال ، اپنے اعصاب اور اپنے وجود میں پوری طرح مستحضر کرلیں۔ اپنی پوری قوتوں ، فہم و ادراک کی پوری قوتوں کو مستحضر کرکے اور اس کا منظر کے تصورات کے قریب جانے کی کوشش کریں۔ اور حضرت موسیٰ جس حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور اس کا شعور پاتے تھے ، اس میں ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکیں۔ (وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ) " جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ " اے رب ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں " یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ حضرت موسیٰ اللہ کی طرف سے کلمات سن رہے ہیں اور ان کو جس بات کا شوق ہے اور جس طرف وہ کھنچے چلے جا رہے ہیں اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جلالت شان کیا ہے ، وہ مطالبہ کردیتے ہیں ، ایک ایسے امر کا جوا اس کرۂ کی بشریت کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اگر اسے ممکن بنا دیا جائے تو کسی انسان کی طاقت ہی میں یہ نہیں ہے۔ یعنی آپ رویت ذات باری کا مطالبہ فرماتے ہیں۔ شوق وامید کے ان حالات میں اور محبت و وصال کے اس ماحول میں وہ عالم شہود میں ذات باری کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن جواب میں دو ٹوک بات آتی ہے۔ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ ، فرمایا " تو مجھے نہیں دیکھ سکتا "۔ اور اس کے بعد اللہ کی شفقت سامنے آتی ہے۔ اور آپ کو یہ بات پڑھا دی جاتی ہے کہ لَنْ تَرٰىنِيْ کی وجہ کیا ہے یہ کہ آپ کے اندر اس کی طاقت ہی نہیں ہے۔ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ ۔ " ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا " اس لیے کہ پہاڑ انسان کے مقابلے میں زیادہ جمنے والا ہے۔ پھر وہ متاثر ہونے والا بھی نہیں ہے اور وہ انسان کے مقابلے میں قبولیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا۔ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ " چناچہ ان کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا "۔ سوال یہ ہے کہ یہ تجلی کیسی تھی ، ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے کہ اس کی کوئی صفت بیان کرسکیں۔ نہ ہم اس کے ادراک کرسکتے ہیں ، نہ ہم اس تجلی کو دیکھ سکتے ہیں ، ہم اسے صرف اس لطیف روحانی تعلق کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں اور یہ روحانی رویت بھی اس وقت ممکن ہے جب انسان کی روح صاف و شفاف ہوجائے اور پوری طرح اپنے اس اصل اور مصدر کی طرف متوجہ ہوجائے۔ صرف الفاظ اور بےمعنی الفاظ کے ذریعے ہم کسی کیفیت کو قارئین کے اذہان میں منتقل نہیں کرسکتے۔ لہذا ہم کوشش نہیں کرتے کہ ہم اس کو الفاظ کے ذریعے سمجھائیں۔ نیز اس موضوع پر جو روایات وارد ہیں ان کو بھی ہم ایک طرف رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان روایات میں سے کوئی بھی حضور ﷺ تک مرفوع نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی ہے۔ اس تجلی کے آثار کے بارے میں قرآن یہ کہتا ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور زمین پر ہموار۔ حضرت موسیٰ انسانی ضعف کی وجہ سے بےہوش ہوگئے۔ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ جب ہوش آیا تو بولا " پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں " جب انہیں ہوش آیا " انہیں معلوم ہوا کہ انسانی قوت ادراک کی حدود کیا ہیں اور انہیں عملاً معلوم ہوگیا کہ انہوں نے یہ سوال کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے تو اعتراف کیا کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے ، میں توبہ کرتا ہوں ، میں حد سے تجاوز کیا ، میں پہلا مسلمان ہوں اور رسول ہمیشہ پہلا مسلمان ہوا کرتا ہے ، وہ اللہ کی عظمت پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہے ، سب سے پہلے وہ اپنی رسالت اور اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لاتا ہے ، پیغمبروں کو اللہ کا حکم ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ایمان کا اعلان کریں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں کافی مقامات پر آیا ہے۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا " اے موسیٰ ! میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو۔ پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا

حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے میں ہے۔ رہی صفت ہم کلامی باری تعالیٰ تو اس صفت میں حضرت موسیٰ منفرد ہیں۔ وہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ آپ وہ ہدایات پکڑیں اور شکر ادا کریں تو یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور راہنمائی اور یہ تذکیر ہے کہ اللہ کے ان انعامات کا جواب ایک ہی ہے یعنی شکر ادا کرنا۔ رسول چونکہ قائد ہوتے ہیں اور قائدین لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ، اس لئے لوگوں کا بھی فرض بن جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہدایات کو لیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں ان پر اللہ کے مزید انعامات نازل ہوں گے ، ان کی اصلاح ہوگی اور وہ اللہ سے جڑ کر سرکشی سے بچ جائیں گے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متلعق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا " ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں ، عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا

اب چند الفاظ اس رسالت کے مضمون اور طریقہ کار کے بارے میں ہیں کہ یہ رسالت کس طرح دی گئی : (وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) " اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی " روایات اور مفسرین کے درمیان ان تختیوں کے بارے میں اختلافات ہیں ، بعض نے ان کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔ ان تفصیلات کا بیشتر حصہ ان اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے جو اسلامی تفاسیر کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مرفوع نہیں ہے۔ چناچہ ہم اس آیت کو پڑھ کر آگے جانے سے رک جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان روایات میں جو تفصیلات ہیں ان سے ان الواح کی حقیقت میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔ یہ تختیاں کیسی تھیں ، کس چیز کی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر کس انداز کی تحریر درج تھی ، اس کے بارے میں ہمارے پاس تفصیلات نہیں ہیں ، نہ ان کی کوئی ضرورت ہے ، کیونکہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ ان تختیوں میں لکھا ہوا کیا ہے اور کیا تھا ؟ ان میں وہ تمام تفصیلات تھیں جن کا تعلق حضرت موسیٰ کی رسالت سے تھا۔ مثلاً اللہ کا بیان ، اللہ کی شریعت کے احکام ، لوگوں کی اصلاح کے لیے مزید ہدایات ، امت کے حالات اور جن امور کی وجہ سے ان کے اندر بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، یعنی ان کی تاریخ وغیرہ۔ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا۔ اور اس سے کہا " ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں " اللہ کی جانب سے اہم حکم یہ تھا کہ آپ نہایت ہی قوت اور عزم سے ان الواح و ہدایات کو لیں اور اپنی قوم کو سختی سے حکم دیں کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں۔ اگرچہ وہ مشکل ہوں اس لیے کہ وہ ان کی اصلاح حال کے لیے نہایت ہی موزوں تھیں اور احسن تھیں۔ حضرت موسیٰ کو اس انداز میں ہدایات لینے کا حکم دینے کے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ ، بنی اسرائیل نے ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کی تھی ، ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرتے کرتے ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، لہذا ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سختی اور سنجیدگی کی اشد ضرور تھی ، تاکہ وہ ان کے اندر فرائض رسالت اچھی طرح ادا کرسکیں اور پھر فرائض منصب خلافت ادا کرسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو نظریہ حیات کی اساس پر کام کرتے ہوں ان کو اپنے نظریات پر صحیح طرح جم جانا چاہیے۔ اللہ کے نزدیک عقیدہ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اس پوری کائنات کے نقطہ نظر سے بھی نظریہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اس کائنات کے تصرفات اور انسانی تاریخ کے بارے میں انسان کا صاف ستھرا نقطہ نظر ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے بارے میں انسان کے افکار صاف ہونے ضروری ہیں۔ یوں انسان کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی الوہیت کے لیے مخصوص ہو۔ اس کے بعد اس نظریہ پر مبنی ایک ایسا نظام زندگی قائم ہو جو انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کردے اور زندگی کے لیے بالکل ایک نیا انداز مقرر کردے۔ وہ نظام ایسا نہ ہو جس کے تحت جاہلیت چلتی ہے ، جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی الوہیت قائم ہوتی ہو۔ غرض پوری زندگی کا ایک ایسا تفصیلی اور جامع نظام جو اس نظریہ حیات پر مبنی ہو۔ ایسے نظام کا قیام ضروری ہے۔ اللہ کے نزدیک واضح عقیدہ اور اس پر مبنی نظام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق ، اس کے اندر انسان کے وجود اور پھر اس انسان کی تاریخ کے بارے اسلامی نظریہ حیات پر انسان کو بڑی سختی سے جم جانا چاہئے۔ انسان کو اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہئے واضح طور پر وہ اپنے نظریات کا اعلان کرے اور دو ٹوک الفاظ میں کرے۔ اس معاملے میں سہل انگاری سے کام نہ لے۔ نرمی اختیار نہ کرے ، رخصتیں تلاش نہ کرے۔ اس لیے کہ یہ بہت ہی اہم اور بنیادی معاملہ ہے۔ اس معاملے کے تقاضے بھی اس قدر مشکل ہیں کہ نرم مزاج ، لچک والے اور رخصتیں تلاش کرنے والے لوگ ان کو پورے نہیں کرسکتے۔ لیکن اسلامی نظریہ حیات پر جمنے اور اسے سختی سے پکڑنے کے معنی یہ بھی نہیں کہ انسان متشدد ، پیچیدہ مزاج اور خشک مزاج ہوجائے۔ اس لیے کہ دین اسلام کی یہ نفسیات نہیں ہیں۔ دین صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ دین کے لیے ایک شخص سنجیدہ ہو ، بات صاف کرتا ہو ، دو ٹوک نظریات رکھتا ہو اور صاف گو ہو۔ یہ باتیں تشدد ، سختی ، خشکی اور بد مزاجی سے الگ ہیں۔ نظریات پر جمنے اور بد مزاجی میں بہرحال فرق ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصر کی طویل غلامانہ زندگی نے بنی اسرائیل میں ایسی اخلاقی کمزوریاں پیدا کردی تھیں ، جن کے لیے سختی پر مبنی ہدایات ضروری تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جس قدر ہدایات بھی دی گئیں ان میں نہایت ہی سختی پائی جاتی ہے۔ تاکہ روایتی سہل انگاری ، کمزور اخلاقی قوت اور بےراہ روی کا علاج کیا جاسکے اور وہ دین کے معاملے میں درست فکر ، صریح آواز اور واضح انداز اختیار کریں۔ وہ تمام اقوام جو ایک طویل عرصے تک غلام رہی ہوں ان کے اندر ایسی ہی اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ غلامی ذلت ، عاجزی ، ڈر ، طاغوت کی غلامی وغیرہ جن کی وجہ سے ایسے لوگ کج فہم ، دھوکہ باز ، سہل انگار اور محنت و مشقت سے بھاگنے والے ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے دور میں جو اقوام بھی غلام رہی ہیں ان کے اندر یہ صفات موجود ہیں کیونکہ غلامی لوگوں کے ضمیر بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریات سے دور بھاگتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ نظریات کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے۔ جس طرف دنیا چلتی ہے ، یہ لوگ اسی طرف چلتے ہیں اور جدھر کی ہوا ہو انسان اس طرف بڑی آسانی کے ساتھ چل سکتا ہے۔ یہ ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو یہ بشارت بھی دیتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نظریہ حیات کو سختی سے تھامے رکھا تو تمہیں زمین کا اقتدار اعلیٰ نصیب ہوگا اور تم فاسقون کے گھروں کے مالک بن جاؤ گے۔ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ " عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا " آیات کے اس ٹکڑے کا اقرب مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد ارض مقدس ہے جو اس دور میں بت پرستوں کے قبضے میں تھی۔ یہ حضرت موسیٰ کو بشارت تھی کہ تم اس پر قابض ہوگے۔ اگرچہ حضرت موسیٰ کے عہد میں بنی اسرائیل اس میں داخل نہ ہوئے کیونکہ آپ کے دور میں ابھی تک ان کی اخلاقی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔ ان کے اخلاق ابھی تک درست نہ تھے کیونکہ وہ جب ارض مقدس کے سامنے آئے تو انہوں نے اپنے نبی سے کہہ دیا " اے موسیٰ ! اس میں تو ایک جبار قوم بستی ہے اور ہم اس وقت تک اس میں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس سے نکل نہیں جاتے۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہوں گے " ان میں ایک دو شخص سچے مومن تھے ، انہوں نے اصرار کیا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ اور حملہ کردو ، یہ دو شخص در اصل الہ سے ڈرنے والے تھے۔ اس پر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا " ہم تو اس شہر میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک یہ قوم وہاں موجود ہے۔ تم اور تمہارا رب جاؤ، لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں انتظار میں "۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل کا مزاج کس قدر بگڑا ہوا تھا۔ وہ کس قدر کج رو تھے اور حضرت موسیٰ ان کی دعوت اور ان کی شریعت کن لوگوں کی اصلاح کے لیے تھی۔ ایسے حالات میں یہ نہایت ہی موزوں ہدایت تھی کہ تورات کی ہدایات کو قوت سے پکڑو اور اپنی قوم سے ان پر سختی سے عمل کراؤ۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں ، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ، اگر سیدھا راستہ ان کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروائی کرتے رہے

اب اس منظر کے آخر میں اور موسیٰ اور رب موسیٰ کے مکالمے کے اختتام پر ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو متکبر ہیں ، جو اللہ کے معجزات و ہدایات سے منہ موڑتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کی تصویر کشی بڑے واضح رنگ اور قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے عین مطابق۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کے بارے میں اپنی مشیت کا اعلان فرماتے ہیں جو اس زمین میں بغیر جواز کے تکبر کرتے ہیں اور بڑے بنتے ہیں۔ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ ایسے کہ چاہے جو معجزانہ استدلال ان کے سامنے پیش کیا جائے وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کو کسی اچھے کام کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک نہیں کہتے ، اگر وہ برائی کا کوئی کام بھی دیکھیں اس کی طرف لپکیں لہذا ایسے لوگوں کا صحیح علاج یہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ایسے لوگوں پر کام کیا جائے جو مانتے ہیں ، یہ تو ماننے والے نہیں ، آیات و دلائل جو اس کائنات میں ظاہر و باہر ہیں اور وہ آیات و دلائل جو اللہ کی کتابوں میں ہیں ، اس لیے کہ انہوں نے پہلے سے تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے اور اعراض کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے ہوں گے ان کی حرکات اور ان کی صفات یہ ہیں : الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۔ جو بغیر کسی حق کے زمین پر بڑے بنتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کا حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر خود بڑا بنے۔ بڑائی تو اللہ کی صفت ہے ، اور کبریائی میں اللہ کسی کو شریک نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کی چادر ہے۔ لہذا کوئی انسان جو اس کرہ ارض پر بڑا بنتا ہے وہ بغیر جواز کے تکبر کرتا ہے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ کوئی اس سرزمین پر قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرلے اور اللہ کے بندوں پر اللہ کے بجائے اپنا اقتدار اعلیٰ استعمال کرے۔ اور لوگوں سے اپنے قوانین پر عمل کرائے۔ اس تکبر اور بڑائی سے تمام دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تمام شرارتوں کی بنیاد ہے اور ہر قسم کا فساد اس سے برپا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسری صفات ایسے لوگوں کی یہ آتی ہیں۔ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۔ اگر سیدھا راستہ سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں۔ ان کی یہ فطرت ہے کہ سیدھے راستے کو دیکھ کر ہی اس سے ایک طرف ہوجاتے ہیں اور ٹیڑھے راستے کو دیکھتے ہی اس پر روانہ ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اور اس کے خلاف وہ نہیں جاسکتے۔ یہ ہے ان کی صفت۔ قرآن کریم اس انداز میں اس کی تعبیر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مشیت نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ہدایت کے دروازے ان کے لیے بند کردیے گئے ہمیشہ کے لیے۔ اس قسم کے لوگ ہمیں ہر معاشرے میں ملتے رہتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ حق سے اجتناب کرتے ہیں اور باطل کی طرف سخت میلان رکھتے ہیں اور بغیر تدبیر اور بغیر سوچے باطل کی طرف لپکتے ہیں۔ سچائی کا مستقیم راستہ ان کو مشکل اور باطل کا ٹیڑھا راستہ ان کو آسان نظر آتا ہے اور ایسے لوگ اللہ کی آیات و دلائل اور معجزات سے دور بھاگتے ہیں ، ان پر غور و فکر نہیں کرتے ، ان کے ذرائع فہم و ادراک پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور نہ فطرت اور حق کے اشارات ان پر اثر کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ، اس عجیب قرآنی ہدایات کی ان جھلکیوں سے اس قسم کے لوگ ممتاز طور پر نظر آتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے ماحول اور معاشرے میں دیکھتے ہی ایک قاری کہہ اٹھتا ہے۔ ہاں ہاں اس قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ فلاں فلاں شخص ان قرآنی کلمات کا مصداق ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو ایسی ایسی تباہ کن اور مہلک سزا دے کر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہ وہ سزا و جزا ہے جس کے وہ لوگ ٹھیک طور پر مستحق ہیں جو آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں غفلت برتتے ہیں اور زمین میں بغیر حق اپنی بڑائی جماتے ہیں۔ ان کی روش یہ ہے کہ ہر اس راستے سے ایک طرف ہوجاتے ہیں جو ہدایت کا راستہ ہو اور ہر اس راستے کی طرف لپکتے ہیں جو گمراہی کا راستہ ہو ، ایسے لوگوں کو تو ان کے عمل کی سزا مل رہی ہے اور یہ لوگ اپنے طرز عمل کی جہ سے ہلاکت کے دروازے تک آپہنچے ہیں۔ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہی کرتے رہے " ا
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کی انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں

ور یہ کہ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا " ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا آخرت کی ہستی کا انکار کیا اور اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے ، کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں۔ حبطت کا لفظ حبوط سے ہے۔ کہتے ہیں حبطت اعمالہم۔ جب وہ زہریلی گھاس چرے اور اس کا پیٹ پھول جائے اور پھر اس سے گیس نکل جائے۔ اس لفظ کو باطل کی قوت کے لیے اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باطل کے اعمال بظاہر بہت ہی پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی جب غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے تو پھر کچھ نہیں رہتا۔ یہ تو مناسب سزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی جوابدہی سے انکار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اعمال کس طرح ختم ہوجاتے ہیں اور برباد ہوجاتے ہیں ؟ نظریاتی اور اعتقادی لحاظ سے تو ہمارا ایمان ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے ، اگرچہ ظاہری حالات ایسے نظر آئیں کہ ان میں ، ان لوگوں کے اعمال کا یہ انجام متوقع نہ نظر آتا ہو۔ لیکن جو کوئی بھی اللہ کی آیات کی تکذیب کرے اور آخرت کی جوابدہی کا یقین نہ رکھے اس کے اعمال آخر کار ضائع اور برباد ہوں گے اور ان کی حیثیت اسی ہوگی جیسے کہ وہ کچھ نہیں ہیں۔ لیکن نظری پہلو سے بھی یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں جو اس پوری کائنات کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں اور ان کی تائید میں وہ آیات و دلائل بھی موجود ہیں جو اللہ کے پیغمبروں نے پیش کیے ، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا بھی انکار کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کی روح در اصل مسخ شدہ ہے اور ایسے لوگ اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین سے سرکش ہیں۔ اس کائنات سے ایسے شخص کا کوئی حقیقی رابطہ نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے لوگ اس سچی جدوجہد کی راہ سے ہم آہنگ ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال چونکہ کائنات کے رخ ، اس کے مقاصد اور اللہ کے قوانین کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اعمال اگرچہ بظاہر خیرہ کن ہوں بےحقیقت ہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوں ، اس لئے کہ یہ اعمال ان دائمی مضبوط دواعی اور نظریات پر مبنی نہیں ہوتے جو اس پوری کائنات کی بنیاد ہیں۔ ان اعمال کا ہدف اور نصب العین وہ نہیں ہوتا جو اس پوری کائنات کا ہدف اور نصب العین ہے۔ ان کی مثال اس نہر جیسی ہے جو اپنے سرچشمے سے کٹ گئی ہو اور اس نے جلد یا بدیر لامحالہ خشک ہونا ہے۔ جو لوگ ان ایمانی اقدار اور انسانی تاریخ کے درمیان گہرے رابطے کا ادراک نہیں کرسکتے اور جو لوگ تقدیر کے اس اٹل فیصلے کو نہیں پا سکتے جو ان لوگوں کے حق میں صاد ہوچکا ہے جو ان ایمانی اقدار کے منکر ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غافل ہیں۔ اور انہی کے بارے میں یہ سزا سنائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی سنت جاریہ اور ناموس کلی کو نہ پا سکیں گے۔ کیونکہ ان کا رخ پھر گیا ہے اور اب ان کے بارے میں آخری فیصلے کا ظہور باقی ہے۔ جن لوگوں کو اس دنیا کی عمر مختصر نے غرے میں ڈال دیا ہے اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آخرت سے غافل لوگ بظاہر اس دنیا میں بڑی کامیابی سے زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان کو یہ دھوکہ اس سو جن سے ہوگیا جو کسی جانور کو مسوم گھاس کھانے کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جانور تازہ اور موٹا ہوگیا اور وہ بہت ہی صحت مند ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ مرنے والا ہوتا ہے۔ اس دنیا میں جو اقوام نابود ہوکر مٹ چکی ہیں ، اور ان کی جگہ جو دوسری اقوام آکر آباد ہوگئی ہیں۔ وہ ان سابقہ اقوام سے عبرت نہیں لیتیں۔ وہ اللہ کی اس سنت کو نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس طرح اس کائنات میں کام کرتی ہے۔ اللہ کی یہ تقدیر اور اس کا نظام جاری وساری ہے۔ اسی میں کسی وقت بھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ اللہ سب لوگوں پر احاطہ کیے ہوئے۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے

جس دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دربار میں تھے ، یہ ایک منفرد ملاقات تھی اور ہماری محدود آنکھوں کے لیے ظاہر ہے کہ اس منظر کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں نہ ہماری روح اس منظر کو دیکھ سکتی ہے اور ہماری فکر اور قوت مدرکہ اس کے بارے میں حیران ہے۔ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی قوم نے گمراہی اختیار کرلی۔ وہ دوبارہ مصری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے اور بت پرستی کے گڑھے میں گر گئے۔ انہوں نے ایک بولتے ہوئے بچھڑے کے بت کو اپنا الہ بنا لیا اور اس کی عبادت شروع کردی۔ ان حالات میں اب اس قصے کے نویں منظر سے ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمارے سامنے اس کا دسواں منظر آتا ہے۔ نواں منظر بلند عالم بالا میں ہے ، جس کے مناظر میں خوشی اور روشنی کا ماحول ہے ، محبتوں اور بہار کے مکالمات ہمارے سامنے تھے ، لیکن اچانک ایسا منظر نظر آتا ہے کہ لوگ سربلندیوں سے پستیوں میں گرتے ہیں ، وہ صحت مندی کے بعد وہ دوبارہ بیمار بیمار نظر آتے ہیں۔ واضح سوچ کے بجائے خرافات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔ وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ۔ موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی یہ ہے بنی اسرائیل کا مزاج ، وہ قدم قدم پر بےراوہ روی اختیار کرتے ہیں۔ وہ ظاہری اور معنوی کسی بھی اعتبار سے بلندی کی طرف نہیں جاتے بلکہ ان کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہی لکھا ہے۔ جونہی ہدایت و راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے وہ غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں۔ انہوں نے بحر قلزم کو معجزانہ طور پر پار کرتے ہی دیکھا کہ ایک قوم بت پرستی میں مشغول ہے تو انہوں نے پیغمبر سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی الہ بنا دیا جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے انہیں روکا اور ان کے اس خیال کو سختی سے رد کردیا۔ جب حضرت موسیٰ طور پر گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک سنہری بچھڑا آواز نکال رہا ہے اور اس میں زندگی کے آثار بھی نہیں محض ایک جسد ہے ، یہ سامری کی مصنوعات میں سے ایک عجیب صنعت تھی۔ یہ شخص سامرہ کا رہنے والا تھا ، اس کے بارے میں سورت طلہ میں تفصیلات درج ہیں۔ اس نے اس بچھڑے کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ اس سے بیلوں جیسی آواز نکل رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو ہر طرف سے امنڈ آئے اور جب سامری نے ازروئے شیطنت یہ کہا کہ یہ تمہارے موسیٰ اور تمہارا الہ ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑے۔ اس نے کہا کہ موسیٰ جس الہ کی ملاقات کے لیے گئے ہیں وہ تو یہ رہا۔ موسیٰ نے مقام اور وقت کے تعین میں غلطی کی ہے۔ انہوں نے خصوصاً اس لیے بھی یقین کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزار لیا۔ جب حضرت موسیٰ تیس دنوں کے بعد بھی نہ لوٹے تو سامری نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) غلطی کر گئے ہیں الہ تو یہ رہا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ نے ان کو ایک ایسے رب کی عبادت کی تعلیم دی تھی جو نظر نہیں آتا تھا ، جو رب العالمین تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ جسد تو ان میں سے ایک شخص سامری کی صنعت ہے۔ بنی اسرائیل اپنے کردار کا جو نقشہ پیش کر رہے تھے وہ انسانیت کی ایک نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی ، قرآن کریم اس تصویر پر تعجب کا اظہار کرکے مشرکین مکہ کو یہ تصور دیتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی حالت کیا ہے ؟ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو ایک ایسے جسد کی عبادت کرتا ہے جسے خود اس نے بنایا ہو ، حالانکہ خود انسانوں کو اور ان کی مصنوعات کو اللہ بناتا ہے ، حقیقی خالق اللہ ہے۔ ان میں حضرت ہارون موجود تھے ، وہ اس بھونڈی گمراہی سے ان کو نہ روک سکے۔ ان میں بعض عقلاء اور مومنین بھی موجود تھے ، لیکن وہ بھی بتے عقل عوام کے اس ریلے کے ٓگے بند نہ باندھ سکے۔ خصوصاً جبکہ وہ سونے کا بنا ہوا تھا۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "

آخر میں جب جوش و خروش ختم ہوا اور لوگوں کے حواس بحال ہوئے اور حقیقت سامنے آگئی اور انہوں نے جان لیا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے اور انہوں نے کھلے شرک کا ارتکاب کرلیا تو وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے " سقط فی یدہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کا حیلہ اور تدبیر اس کے سامنے فیل ہوجائے۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ وہ جس گمراہی میں ملوث ہوگئے اب تو وہ اس سے صاف نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ، تو ایسے حالات میں ببے بس ہو کر انہوں نے کہا :" اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے " اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان میں اصلاح پذیری کا مادہ بہرحال موجود تھا۔ اور ان کے دل اس قدرت سخت نہ ہوگئے تھے جس طرح بعد میں ہوئے کہ قرآن مجید کو کہنا پڑا کہ وہ پتھر بن گئے یا پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ بہرحال اس وقت جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ غلطی پر ہیں اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سوا ان کے لیے فلاح کا اور کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے اس طرح توبہ کی اور اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس دور میں یہ لوگ قابل اصلاح تھے۔