Ayah 7:150یہ واقعات اس وقت ہوئے جب حضرت موسیٰ رب ذوالجلال کے دربار میں کھڑے تھے ، اور اللہ سے ہمکلام تھے۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ ان کے پیچھے ان کی قوم کیا کر رہی ہے۔ اگر اللہ ان کو بتاتے تو انہیں اس وقت علم ہوجاتا ، بہرحال اب حضرت موسیٰ کی واپسی پر گیا ہواں منظر سامنے آتا ہے۔
۔۔۔
وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓي اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔ ادھر سے موسیٰ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو ان حالات کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئے۔ آپ کے اقوال اور آپ کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت غصے میں تھے۔ اور آپ کے غصے کا اظہار ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۔ آتے ہی اس نے کہا " بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد ! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے " اسی طرح آپ کے اقدامات سے بھی غصہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کو داڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ يَجُرُّهٗٓ اِلَيْهِ. اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔
حضرت موسیٰ کا یہ غصہ بالکل برحق تھا۔ اس لیے کہ وہ اچانک ایسی صورت حال سے دوچار ہوگئے تھے جن کی انہیں توقع نہ تھی۔ یہ ایک انقلابی صورت حالات تھی۔ بئسما خلفتمونی من بعدی۔ بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد۔ میں تمہیں ٹھیک راستے پر چھوڑ کر گیا تھا ، تم نے اسے ضلالت سے بدل دیا۔ میں تمہیں اس حال میں چھوڑ کر گیا کہ تم خدا کی عبادت کر رہے تھے اور جب واپس ہوا تو تم بچھڑے کی عبادت کر رہے تھے حالانکہ وہ صرف ایک جس تھا اور بیل جیسی آواز نکال رہا تھا۔ اعجلتم امر ربکم۔ کیا تم سے اس قدر صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے۔ یعنی تم نے اپنے رب کے فیصلے کا انتظار نہ کیا ، اس کے عذاب کا انتظار نہ کیا اور اس نے جس عرصے کے لیے مجمع بلایا تھا اس کا انتظار نہ کیا۔ والقی الالواح واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ۔ اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت مشتعل تھے۔ اس لیے کہ ان تختیوں میں اللہ کا کلام تھا ، اور ان کے پاس ادب کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ان کو زمین پر نہ پھینکتے لیکن اس وقت آپ سخت غصے میں تھے اور آپ ضبط نہ کرسکے۔ بھائی کو بھی بالوں سے پکڑ کر کھینچا حالانکہ ان کے بھائی عبد صالح اور پیغمبر تھے۔ حضرت ہارون نے برادرانہ جذبات سے اپیل کی تاکہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور آپ موافقانہ رویہ اختیار کریں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی صفائی پیش کی اور یہ بتایا کہ انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ قال ابن امر ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی۔ ہارون نے کہا " اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔
اب میری ماں کے بیٹے کے الفاظ استعمال کرکے حضرت ہارون ان کے جذبہ کی طرف نہایت ہی جوش و خروش سے لپک رہے تھے۔ اور ایسے حالات موجود تھے کہ اگر حضرت ہارون ان کی زیادہ مزاحمت کرتے تو وہ تشدد پر اتر آتے اور اس صورت حال کی تصویر وہ اس طرح کھینچتے ہیں " قریب تھا کہ وہ مجھے مار ڈالتے " اس لیے وہ بےقصور تھے۔
فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَاۗءَ وَلَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر "
اس دوسرے فقرے سے بھی حضرت ہارون اپنے بھائی کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر دونوں بھائیوں کے مشترکہ دشمن ہوں تو بھائی ایک دوسرے کی پوزیشن کا خیال رکھتے ہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اور ظالموں کو ایک صف میں کھڑا نہ کریں۔ ظالم وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور میں نے تو ان کے ساتھ ظلم میں شرکت نہیں کی۔ میں تو بری الذمہ ہوں۔
Ayah 7:151اب حضرت موسیٰ کے جذبات ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور آپ معذرت کو معقول سمجھ لیتے ہیں ، اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مغفرت اور شفقت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ۔ تب موسیٰ نے کہا " اے رب ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما ، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے "
Ayahs 7:152–153اب فیصلہ کن بات سامنے آتی ہے اور آخری فیصلہ بہرحال اللہ سبحانہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بات کو اپنے بندے حضرت موسیٰ کی بات سے متصلا لاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی عزت افزائی کا ایک انداز ہے۔
۔۔۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔
یہ حکم بھی ہے او وعدہ بھی ہے۔ بیشک جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا۔ عنقریب ان پر غضب آنے والا ہے اور اس دنیا کی زندگی میں وہ ذلت سے رہیں گے۔ اور یہ اللہ کا ایک دائمی اصول اور اس کی سنت ہے کہ جو لوگ برے کام کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تو اللہ ان کی مغفرت کردیتا ہے ، اللہ کو چونکہ علم تھا کہ بچھڑے کے پجاری توبہ نہ کریں گے۔ اس لیے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا گیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ وہ اپنی روشن درست نہ کریں گے اور اس اصول سے استفادہ نہ کریں گے اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ بنی اسرائیل ایک کے بعد ایک نافرمانی کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ انہیں بار بار معاف کرتے رہے یہاں تک کہ وہ دائمی غضب کے مستحق ہوئے۔ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ ۔ جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ قیامت تک جو بھی افتراء باندھیں گے یہ ایک مسلسل سزا ہے جب بھی جرم ہوگا یہی سزا ہوگی۔ چاہے افتراء بنی اسرائیل کی طرف سے ہو یا غیر بنی اسرائیل کی طرف سے ہو۔
اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا ، ان پر اللہ نے ذلت لکھ دی ہے اور وہ ہمیشہ مغضوب علیہ رہیں گے اور غضب کی شکل یہ ہے کہ قیامت تک ان پر ایسی اقوام کو مسلط کردیا جائے گا جو ان کو بدترین عذاب دیتی رہیں گی۔ جب بھی معلوم ہوا کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان پڑھ اور پسماندہ لوگوں پر برتری حاصل کر رہے ہیں اور جیسا کہ تلموذ کی زبان میں ایسے ایسے لوگوں کے لیے " گوئم " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لوگ اپنی مالی اور پروپیگنڈے کی قوت سے غلط فائدہ لینے لگے یا انہوں نے ایسے نظامہائے حکومت قائم کیے اور ان کے ذریعے سے اپنے منصوبے جاری کرنا شروع کیے یا انہوں نے اللہ کے بندوں کو اپنے گھروں سے نکالنا شروع کردیا اور ان پر مظالم شروع کردیے اور جب کبھی گمراہ حکومتوں نے ان کے ہمرکاب چلنا شروع کردیا جیسا کہ آج کے دور میں ان کی یہ پوزیشن بظاہر نظر آتی ہے۔ گو یہ تمام امور ان کے خلاف اللہ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف یا متضاد نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کے مذکورہ بالا خود اپنے اقدامات کی وجہ یہ دنیا کے لوگوں کے اندر قابل نفرت ہیں اور اس مواد کو جمع کر رہے ہیں جو آخر کار ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اہل فلسطین ان کے ان مظالم کا شکار اس لیے ہیں کہ اہل فلسطین کا کوئی دین نہیں ہے ، اور اہل فلسطین صحیح مسلمان نہیں ہیں۔ یہ لوگ دین اسلام کے علاوہ بعض دوسرے جھنڈوں کے نیچے لڑتے ہیں ، جمع ہوتے ہیں اور متفرق ہوتے ہی۔ یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ناکام و نامراد ہیں اور اسرائیل کی چھوٹی سی جمعیت اگرچہ بظاہر ترقی پذیر نظر آتی ہے ، لیکن یہ حالات دائماً نہ رہیں یہ ایک عارضی دور ہے ، اور اس میں مسلمانوں سے وہ قوت اور وہ اسلحہ گم ہوگیا ہے جو ان کا واحد ہتھیار ہے۔ وہ واح دنظام ہے ، واحد جھنڈا ہے ، یعنی اسلامی جھنڈا جس کے تحت انہوں نے ہزار سال تک دنیا پر غلبہ حاصل کیا۔ اسی جھنڈے تلے وہ غالب آئے اور اس کے سوا ہمیشہ مغلوب ہوں گے۔ اس وقت امت مسلمہ سکڑنے اور غائب ہونے کے دور سے گزر رہی ہے۔ اور یہ گمشدگی اس زہر کی وجہ سے ہے جو امت مسلمہ کے اندر عالمی یہودیت اور عالمی صلیبیت نے پھیلائی ہے۔ اور یہ عالمی جمہوریت اور صیہونیت اور صلیبیت نے عالم اسلام پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے کہ یہاں کے حالات درست نہ ہوں لیکن یہ حالات ہمیشہ یونہی نہ رہیں گے اس گمشدگی کے بعد امت مسلمہ کو نمود اور ظہور ضرور نصیب ہوگا۔ آخر کار آنے والے مسلمان اپنے اسلام کے ہتھیار کو پائیں گے۔ کون جانتا ہے کہ کب پوری دنیا ہوش کے ناخن لیتی ہے اور یہودی مظالم کے خلاف اٹھتی ہے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور وہ دنیا میں دوبارہ ذلت کے اس گڑھے میں جا گریں جو اللہ نے ان پر لکھ دیا ہے۔ اگر پوری انسانیت یہودیوں کے خلاف بیدار نہیں ہوتی تو ہمارا یقین کہ امت مسلمہ ضرور بیدار ہوگی۔
Ayah 7:154غرض یہ تو ایک وقفہ اور لمحہ فکریہ تھا تاکہ بچھڑنے کو الہ بنانے والوں کے انجام پر قدرے غور کرایا جائے اب سابقہ منظر ہی اختتام کو یوں پہنچتا ہے۔
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۔ پھر جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں
قرآن کا ذرا انداز تعبیر ملاحظہ ہو " گویا غضب اور غصہ ایک شخصی چیز ہے ، جس نے حضرت موسیٰ پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور اپنی مرضی سے ان کو چلاتا ہے اور حرکت میں لاتا ہے۔ اور جب یہ خاموش ہوگیا اور حضرت موسیٰ کو اس نے آزاد چھوڑ دیتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے اختیار میں آگئے۔ غصے کی وجہ سے جو تختیاں انہوں پھینک دی تھیں۔ وہ دوبارہ ہاتھ میں لے لیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ ان تختیوں میں اللہ کی ہدایات تھیں۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے تھے ان کے لیے یہ رحمت تھیں ان کے دل راہ راست پر آنے کے لیے کھل گئے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کی رحمتوں سے دامن بھر لیے تھے۔ اور ایک گمراہ اور بےراہ شخص سے اور کون بدبخت ہوگا جو اپنے سامنے کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور اس روح سے اور کوئی بدبخت نہیں ہے جو ماری ماری پھرتی ہے اور جسے نہ کوئی صحیح راہ نظر آتی اور نہ اسے دولت یقین ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی وہ صفت ہے جس سے دل کھلتے ہیں اور جس سے غفلت دور ہوتی ہے اور انسان راہ راست پر آتا ہے اور حق کو قبول کرتا ہے۔ اللہ ان ربوں کا خالق ہے۔ اور وہی اس حقیقت کا فیصلہ اور اعلان کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ دلوں کا حال رب العالمین سے زیادہ اور کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 7:155اب یہ قصہ ذرا آگے بڑھتا ہے ایک نیا منظر اسکرین پر آتا ہے۔ اس قصے کا یہ بارہواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اپنے منتخب ستر افراد کے ساتھ رواں دواں ہیں ؟
وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۔ اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔
اللہ کے ساتھ تعین وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ شاید یہ وقت اس لیے متعین ہوا تھا کہ اس میں بنی اسرائیل توبہ کریں اور انہوں نے جس کفر اور شرک کا ارتکاب کیا تھا ، اس پر اللہ سے معافی چاہیں۔ سورة بقرہ میں ہے کہ اس جرم کے عوض بنی اسرائیل کے لیے بطور کفارہ جو سزا مقرر کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ خود اپنے لوگوں کو قتل کریں یعنی ان میں سے مطیع فرمان لوگ نافرمانوں کو قتل کریں ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہاں تک وہ قتل کرتے رہے کہ جب تک اللہ نے ان کو معاف کرکے یہ حکم نہیں دے دیا کہ اب بس کرو۔ یہ ستر آدمی ان کے زیرک اور سمجھدار لوگ تھے ، یا ان کے نمائندے تھے۔ " یہ الفاظ کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائب یا نمائندے تھے۔
یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ یہ لوگ کون تھے ؟ انہیں سخت زلزلے نے آ لیا اور یہ بےہوش ہوگئے جیسا کہ دوسری سورتوں میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اللہ کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپ پر اترنے والی ہدایات اور الواح کو تسلیم کرلیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا مزاج کیا تھا۔ ان کے منتخب لوگوں کا یہ حال تھا تو دوسرے عام لوگوں کا حال کیسا ہوگا اور اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ گئے ہیں توب قبول کرانے کے لیے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ آپ درخواست فرما رہے ہیں کہ آپ قصور معاف کردیں اور رحمت فرمائی۔ آپ عاجزی کر رہے ہیں اور قصور کا اعتراف کر رہے ہیں۔
فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا۔ جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ نے عرض کیا " اے میرے سرکار ، آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا آپ اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟۔
اللہ کی قدرت کے سامنے یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے کہ پہلے بھی آپ چاہتے تو ہمیں ہلاک کرسکتے تھے ، اور یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار وہ دعائے مغفرت سے پہلے بطور تمہید کرتے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ آپ کیا ہم میں سے چند نادانوں کی وجہ سے ہم سب کو ہلاک فرما رہے ہیں۔ استفہام کا صیغہ استعمال کرکے حضرت موسیٰ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اے اللہ تیری شان کریمی سے یہ مستبعد ہے کہ تو ایسا کرے۔ گویا یہ دعا بشکل استفہام ہے۔
اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ ۔ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) یہ بتاتے ہیں کہ اس جہاں میں جو کچھ واقعہ ہوتا ہے اس کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ جو بھی پیش آئے وہ اللہ کی جانب سے ابتلا ہوتا ہے اور آپ بتاتے ہیں کہ وہ دوسروں کی طرح اللہ کی مشیت سے غافل نہیں ہیں۔ تمام آزمائشوں کا یہی حال ہوتا ہے ، جو لوگ ان کی حقیقت کو جان لیتے ہیں اور یہ سمجھتے کہ یہ ان کے رب کی طرف سے ابتلاء ہے اور ایک امتحان ہے جس سے انہوں نے گزرنا ہے اچھی طرح جانتے ہوئے اور ببانگ دہل۔ اور جو لوگ ان واقعات کی حقیقت سے غافل ہوتے ہیں ان کے لیے یہ واقعات و مشکلات گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس حقیقت کا اظہار اس مقصد کے لیے کرتے ہیں جو آگے آتا ہے یعنی اللہ کے سامنے یہ درخواست اور دعا کہ وہ اس امتحان میں انہیں کامیاب کرے۔
اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانتے والے ہیں۔
آپ ہمارے سرپرست ہیں اس لیے ہماری مدد کیجیے۔ اس آزمائش سے ہم آپ کی مدد اور معاونت کے بغیر کامیابی سے نہیں نکل سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں آپ کی مغفرت اور آپ کی رحمت کی بھی ضرورت ہے۔
Ayah 7:156وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔
ہم مکمل طور پر تیری طرف لوٹ گئے ہیں ، تیری رحمت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیری جانب سے نصرت کے امیدوار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلیم و رضا اور حکمت ابتلاء کو سمجھتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی درخواست پیش فرمائی اور یہ حتمی اعلان کردیا کہ ہم اللہ کی پناہ گاہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی یہ دعا ہر مسلمان کے لیے خضوع و خشوع اور مقام کبریائی کے آداب کے عین مطابق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بندے کو اپنی درخواست کس طرح شروع کرنا چاہیے اور کس طرح اس کا اختتام ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد جواب یہ آتا ہے۔ قال عذابی اصیب بہ من اشاء و رحمتی وسعت کل شیئ۔ جواب میں ارشاد ہوا۔ سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔
یہ اللہ کی بےقید مشیت کی حکمرانی کا اعلان ہے جس نے اس کائنات کے لیے اپنے اختیار سے ایک قانون وضع کیا ہے اور اسے اپنی مرضی سے جاری کیا ہے اور اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ اسے عدل و انصاف کے ساتھ چلائے گا۔ اور سچائی پر وہ چلے گا۔ کیونکہ عدل اللہ کی صفات میں سے اہم صفت ہے اور اللہ کی مشیت نہایت عدل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے اسی طرح کرنا چاہا ہے۔ لہذا عذاب اسی شخص پر آتا ہے جو اللہ کے نزدیک مستحق عذاب ہو ، یہی اس کی مشیت کا تقاضا ہے۔ اس کی رحمت نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور رحمت بھی مستحق رحمت کو ملتی ہے۔ یہ بھی اسی کی مشیت ہے ، کسی کو سزا دینے میں یا کسی پر انعامات کی بارش کرنے میں اللہ کی مشیت یونہی بغیر کسی منصوبے اور اتفاق کے نہیں چلتی۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے۔
Ayah 7:157اس اصول کے تعین کے بعد اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ کو بعض آنے والے واقعات کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں۔ یہ امت مسلمہ اور آخری امت کے بارے میں ہے جن پر اللہ کی رحمت کی بارش ہوگی ، اس انداز تعبیر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس پوری کائنات سے وسیع ہے۔ انسان اس کی انتہاؤں کو نہیں پا سکتا۔ اس کی وسعتوں سے اللہ ہی واقف ہے ، کیا ہی عظیم رحمت ہوگی یہ۔ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْن۔ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔
اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے ، زکوۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔ (پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر ، نبی امی (ﷺ) کی پیروی اختیار کریں۔ جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے ، بدی سے روکتا ہے ، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے ، وہی فلاح پانے والے ہیں۔
یہ ایک عظیم خبر تھی ، اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ نبی آخر الزمان کے بارے میں بنی اسرائیل کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی۔ اور یہ اطلاع ان کے بڑے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی دی گئی تھی اور نبی آخر الزمان کے عملاً آنے سے بہت ہی پہلے یہ اطلاع کردی گئی تھی۔ یہ یقینی خبر تھی کہ آپ مبعوث ہوں گے ، آپ کی یہ صفات ہوں گی ، آپ کی رسالت اس منہاج پہ ہوگی۔ آپ کی امت کی صفات یہ ہوں گی۔ وہ نبی امی ہوگا۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے گا۔ وہ تمام پاک چیزوں کو حلال کرے گا اور تمام ناپاک چیزوں کو حرام قرار دے گا۔ اور بنی اسرائیل پر ان کی معصیتوں کی وجہ سے جو بوجھ ڈال دیے گئے ، انہیں اتار دے گا اور جن پابندیوں میں انہوں نے اپنے آپ کو جکڑ لیا تھا وہ بھی کھول دے گا ، بشرطیکہ وہ اس پر ایمان لے آئیں ، اس نبی کے متبعین رب سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ اپنے مالوں سے زکوۃ دیں گے اور اللہ کی آیات پر یقین رکھیں گے۔ اور اس نبی پر جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اس کی نہایت درجے کی تعظیم کریں گے ، اس کی عزت کریں گے۔ اس کی مدد کریں گے ، ہر معاملے میں اس کی تائید کریں گے اور کتاب اللہ کی صورت میں جو نور اس پر نازل ہوگا وہ اس کے متبع ہوں گے اور یہی لوگ فلاح پانے والوں میں سے ہوں گے۔
بنی اسرائیل کو اس بڑے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے ، نہایت ہی قبل از وقت اطلاع دے کر اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو بتا دیا تھا کہ اس کا آئندہ کا دین کیا ہوگا ، آئندہ اس کا جھنڈا بلند کرنے والے کون لوگ ہوں گے ، اس کے متبعین کوں ہوں گے اور اس کی رحمت کن لوگوں پر ہوگی ، لہذا تمام ادیان سماوی کے متبعین کے پاس اب کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ اس یقینی اطلاع پر عمل نہ کریں۔
یہ خبر رب العالمین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بھیجی ہے ، اور ایسے اہم وقت میں اس کا اعلان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے ستر منتخب لوگوں کے ساتھ اللہ کی ملاقات کے لیے مقررہ وقت پر گئے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس نبی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کس قدر گھناؤنا جرم تھا اور یہ کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو اس میں خود ان کے لیے بہت سی بھلائیاں تھیں اور مومنین کے ساتھ شامل ہو کر وہ فلاح پاتے۔
علم اور دلیل کے باوجود اس جرم کا ارتکاب ہورہا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ بنی اسرائیل وہ شرمناک لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ نبی آخر الزمان اور آپ کے لائے ہوئے دین کی مخالفت کی۔ پہلے یہودی یہ دشمنی کرتے رہے اور ان کے بعد صلیبیوں نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور یہ نہایت ہی مکارانہ لڑائی ہے جس کا اعلان انہوں نے اس نبی اور اس کے دین کے خلاف کر رکھا ہے۔ وہ مسلسل اس جنگ میں مشغول ہیں اور انہوں نے اسے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔
جو شخص صرف ان نصوص کا مطالعہ کرے جو قرآن کریم میں اہل کتاب کے بارے میں اور ان کی اسلام دشمنی کے بارے میں آئے ہوئے ہیں جن کا تفصیلی تذکرہ سورة بقرہ ، سورة آل عمران ، سورة نساء اور سورة مائدہ میں ہوا ہے اسے معلوم ہوجائے گا کہ ان لوگوں نے اس دین کے خلاف کس قدر ہمہ گیر جنگ کی ہے اور کس قدر بےرحمی اور بےجگری کے ساتھ وہ اس دین کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔
اور جو شخص قرآن کے بعد کی تاریخ کو غور سے پڑے کہ جب مدینہ میں اسلام کے جھنڈے بلند ہوئے ، اسلام کی ایک مملکت قائم ہوئی اور تب سے لے کر آج تک جو زمانہ بھی گزرا ہے ، اس سے معلوم ہوگا کہ ان لوگوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے اور وہ ہمیشہ اس بات پر مصر رہے ہیں۔
دور جدید کی عالمی صیہونیت اور صلیبیت نے اسلام کے خلاف وہ کارروائیاں کی ہیں جو کبھی وہ پوری اسلامی تاریخ میں نہ کرسکے تھے۔ اس دور میں انہوں نے اسی سازشیں کی ہیں اس دین کو سرے سے مٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اسلام کے خلاف آخری فیصلہ کن معرکہ لڑیں گے۔ اور اس کے لیے وہ تمام تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ جس کا وہ اس سے قبل پوری تاریخ میں تجربہ کرچکے ہیں اور وہ تمام جدید طریقہ ہائے کار بھی اختیار کریں گے جو انہوں نے اب ایجاد کیے ہیں۔
آج بعض سادہ لوح انسان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ دنیا کے ملحدین کے خلاف تمام اہل ادیان کو باہم مل کر تعاون کرنا چاہئے ، حالانکہ یہ اہل ادیان ہر اس شخص کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہیں جو اپنے آپ کو صرف اسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اور اہل اسلام کے خلاف وہ ایسی جنگیں لڑ رہے ہیں جن کے خدوخال صلیبی جنگو اور اندلس کی تفتیشی عدالتوں جیسے ہیں مثلا وہ دوسرے ممالک میں استعماری اور نو آبادیاتی نظام قائم کرکے ایسا کریں یا آزاد ممالک کے اندر ایسے حالات پیدا کرکے جن کے ذریعہ اسلامی تصورات کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر وقت لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہر قسم کے غیبی تصور کے منکر ہیں ، سائنس اور تجربے کے سوا کسی چیز کو نہیں مانتے ، ترقی کے نام پر اخلاقی بگاڑ پیدا کرتے ہیں ، فقہ اسلامی میں تبدیلیوں کے لیے مستشرقین کی کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں ، ربا کو حلال قرار دیتے ہیں اور اس کے علاوہ تمام محرمات کے سلسلے میں عالم اسلام کو غلط راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
یہ ایک وحشیانہ جنگ ہے جو یہ لوگ اسلام کے خلاف جاری کیے ہوئے ہیں حالانکہ انہیں اسلام اور نبی اسلام کے بارے میں بہت پہلے خوشخبری دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اسے ماننے کے بجائے اسلام اور نبی اسلام کے خلاف یہ عناد اور کینہ شروع کردیا۔
Ayah 7:158قبل اس کے کہ سیاق کلام اگلے منظر کی نقاب کشائی کرے ، یہاں قدرے وقفہ کیا جاتا ہے اور اس وقفے میں روئے سخن نبی ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ پوری انسانیت کو دعوت دیتے رہیں اور یہ اللہ کا وعدہ قدیم ہے۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ اے محمد ان سے کہو کہ " اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے
یہ آخری رسالت ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے عام ہے ، یہ کسی نوع یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اس رسالت سے پہلے جو رسالتیں گزری ہیں وہ مقامی تھیں یا محدود اور ایک محدود زمانے کے لیے تھیں اور زمانہ وہی تھا جو کسی رسول کے بعد دوسرے رسول کے آنے کے درمیان ہوتا ہے۔ ان رسالتوں کے دور میں انسانیت نے ترقی کی طرف چند ہی قدم رکھے تھے ، تاکہ انسانیت رفتہ رفتہ ترقی کرتی چلی جائے اور آخری رسالت تک یہ قافلہ پہنچ جاے۔ ہر رسالت میں شریعت کے بعض احکام کے اندر اضافے و ترمیم کا کام ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب آخری رسالت کا دور آیا تو یہ آخری رسالت اپنے اصول اور فروع کے اعتبار سے ایک مکمل رسالت تھی اور یہ ایسی تھی کہ اس کے اصول نئے قوانین کی شکل میں دنیا میں نافذ ہوسکتے تھے اور یہ آخری رسالت ساری دنیا کے لیے آئی۔ اس لیے کہ اس آخری رسالت پر سلسلہ رسل ختم ہوگیا ہے۔ اب اور کوئی رسالت کے لیے نبی امی منتخب ہوا تاکہ اس کا پیغام فطری پیغام ہو اور اللہ کی جانب سے جو کچھ آئے وہ پہنچا دے اور اس کا معلم صرف اللہ ہو ، اس لیے اس آخری رسالت کے اوپر کسی دنیاوی تعلیم کی چھاپ نہیں ہے ، نہ وہ انسانی افکار سے متاثر ہے تاکہ فطری رسالت لوگوں کی فطرت تک پہنچے اور اپیل کرے۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ۔ اے محمد ان سے کہو۔ اے انسانو ، میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں۔
یہ آیت مکی سورة میں ایک مکی آیت ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے اپنی رسالت کا اعلان کردیں ، یہ ان اہل کتاب اور مستشرقین کا مسکت جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ میں ، اہل مکہ اور قریش سے آگے وسیع علاقے میں اپنی رسالت کے بارے میں نہ سوچتے تھے۔ یہ کہ قریش سے آگے اہل عرب اور پھر اہل عرب سے آگے اہل کتاب تک اپنی دعوت کو وسعت انہوں نے اس وقت دی اور جزیرۃ العرب سے بھی باہر پوری دنیا تک دعوت پھیلانے کا انہوں نے اس وقت سوچا جبکہ کامیاب حالات نے ان کو اس پر آمادہ کیا۔ یہ حقیقت میں ایک عظیم افتراء ہے اور اسلام کے خلاف ان کی ایک قدیم نظریاتی جنگ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ نظریاتی جنگ وہ ہر وقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پریشانی کی بات یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب اس دین کے خلاف یہ سازشیں کیوں کرتے ہیں اور مستشرقین جو اہل کتاب کے سرخیل ہیں اور اسلام کے خلاف لڑنے والی ایک زبردست قوت ہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، پریشانی اور عظیم پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ ان ملمع سازوں سے اپنا دین سیکھتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اپنا استاد سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے لکھے ہوئے ان خرافات کے حوالے اپنی کتابوں میں دیتے ہیں۔ وہ اسلامی تاریخ بھی ایسے ملمع کاروں سے لیتے ہیں اور اس قسم کے دھوکہ کھائے ہوئے احمق پھر اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب بھی کہتے ہیں۔
اب ہم دوبارہ آیت کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔ رسول اللہ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ اعلان کردیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ جس رب کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس کی پہچان کیا ہے ؟
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۔ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔
نبی ﷺ تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں اور آپ اس رب کے فرستادہ ہیں جو تمام مخلوقات کا رب ہے اور وہ بھی اسی کائنات کا ایک حصہ ہیں۔ اللہ وحدہ الہ اور حاکم ہے۔ تمام لوگ اس کے بندے ہیں۔ اور آپ کی بادشاہت اور قدرت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ آپ واحد پیدا کرنے والے اور زندہ کرنے والے ہیں۔
اللہ تمام کائنات کا مالک ہے ، وہ تمام موجودات پر حاکم ہے ، وہ موت وحیات کا مالک ہے۔ لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس کے دین پر چلیں اور اس کے فرستادے سب کے سب اسی دین کو پھیلانے والے ہیں۔ اس طرح قرآن کریم لوگوں کو ان کے رب کی شناخت کراتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کا نظام اس رسول کی اطاعت پر قائم کریں۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پا لوگے۔
اس پکار اور دعوت کے اندر نہایت ہی لطیف اشارے ہیں چاہیے کہ ہم ذرا وقفہ کرکے ان پر غور کریں۔
٭ اس پکار اور دعوت میں سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ پر ایمان لاؤ اور یہ ایمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمہ طیبہ میں منضبط کیا گیا ہے۔
٭ اور اس پر ایمان و اقرار کے بغیر اسلام اور ایمان کا تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن یہاں ایمان لانے کی دعوت سے پہلے اللہ کی تعریف کی گئی اور اس کی شناخت دی گئی کہ ایسے اللہ پر ایمان لاؤ۔ یعنی وہ " جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اس کے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے ، وہ زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے " لہذا یہاں جس خدا پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے اس کی صفا پہلے بیان کردی گئی ہیں۔ اسی طرح جس رسول پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے کہ سب لوگ اس کو مانیں اور اطاعت کریں اس کی صفات بھی پہلے بیان کردی گئیں۔
٭۔ دوسری بات یہ کہ نبی امی بھی اللہ پر اور اللہ کے کلام پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے لیکن اس کے اندر یہ اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی بھی دعوت سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ داعی کا خود اس پر یقین ہو ، اس کے دین میں دعوت کا مفہوم واضح ہو ، اسے اس پر پورا یقین ہو ، ہی وجہ ہے کہ جس رسول کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے وہ " اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے اور اس کے کلمات پر بھی " اور اسی کی طرف وہ لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔
٭ پھر یہاں ایمان کے تقاضے بھی دیے گئے ہیں ، کہ سب لوگ رسول کی اطاعت بھی کریں اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو بھی اپنے ہاں جاری کریں۔ اس کی سنت کو مشعل راہ بنائیں۔ اور اس بات کی نشاندہی یوں کی گئی ہے " لہذا اس کی پیروی اختیار کرو ، اس کی امید ہے کہ شاید تم راہ راست پا لوگے " اس سے معلوم ہوا کہ اگر لوگ رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو ان کی فلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ بات کافی نہیں ہے کہ لوگ دلوں میں ایمان لے آئیں اور پھر رسول کا اتباع نہ کریں۔ عملی اتباع ہی در اصل اسلام ہے۔
دین اسلام اپنے مزاج اور اپنی ماہیت کی وضاحت ہر موقع و محل میں کرتا ہے۔ اس طرح کہ اسلام مجرد عقیدہ و نظریہ نہیں ہے ، نہ اسلام صرف مراسم عبودیت کا نام ہے۔ اسلام رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع کا نام ہے ، تمام ہدایات جو رسول پہ اترے ، تمام شرعی قوانین جو رسول نے وضع کیے ان کا اتباع ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ حکم نہیں دیا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، اور نہ صرف یہ حکم دیا ہے کہ اس طرح مراسم عبودیت بجا لاؤ بلکہ اسلام نے ایک مکمل قانون اور نظام دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک تم پورے نظام شریعت اور اسلامی قانون اور نظام کو اپنی عملی زندگی میں واضح نہ کروگے اس وقت تک تمہاری فلاح کی کوئی امید نہیں۔
یہ ہے دین اسلام اور اس دین کی کوئی اور تصویر قابل قبول نہیں ہے ، صرف اس کی یہی شکل قابل قبول ہے جس میں کہا گیا (واتبعوہ) اس کی اطاعت کرو ، شاید کہ تم فلاح پاؤ۔ اگر صرف اعتقادی تصور ہی مطلوب ہوتا تو اللہ صرف یہ بات کہنے پر اکتفا کرتے۔ فامنوا باللہ ورسولہ۔
Ayah 7:159شدید زلزلے کے بعد کیا واقعات پیش آئے جس میں بنی اسرائیل کے ستر لیڈر ہلاک کرد دیے گئے ؟ یاں صرف یہ بات آتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی اس اچانک موت پر الہ کے ہاں نہایت ہی عاجزی سے دعا کی ، یہ نہیں بتایا کہ ان لوگوں کا کیا بنا لیکن دوسری سورتوں میں یہ قصہ جس طرح لایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعاء کی وجہ سے اللہ نے انہیں زندہ کردیا اور یہ لوگ پکے مومن کی طرح اپنی قوم کی طرح اپنی قوم کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ لوٹے۔
لیکن قصے کی اگلی کڑیاں لانے سے قبل یہاں اس حقیقت کو بیان کردیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ اچھے بھی تھے ، وہ حق کو قبول کرتے تھے۔
حضرت موسیٰ کے دور میں ان میں اچھے لوگ بھی تھے۔ ان میں سے ایک طبقہ ایسا تھا جو حق بات کرتا تھا اور انصاف سے کام لیتا تھا۔ اور خود حضور کے دور میں بھی ان میں سے بعض حق پرستوں نے اسلام کو قبول کیا۔ خصوصاً ان لوگوں نے جو اپنے ہاں موجود تورات میں نبی امی کے بارے میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ ان کے سرخیل آپ کے صحابی حضرت عبداللہ ابن سلام تھے اور یہ اس وقت کے یہودیوں کا مقابلہ ان پیشین گوئیوں سے کرتے تھے جو نبی آخر الزمان کے بارے میں تورات میں موجود تھیں۔ نیز ان کے ہاں جو شریعت کے نصوص تھے وہ بھی اسلامی نظام قانون کے ساتھ ہم رنگ تھے۔
اب اس اہم ضمنی بات کے بعد اصل قصے کا مضمون یوں آگے بڑھتا ہے۔
Ayah 7:160یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی جس کا سایہ حضرت موسیٰ پر قائم و دائم رہا۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کرکے کفر کیا اور اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرکے غلطی معاف کروائی۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا اور زلزلے کی وجہ سے ان کی جان نکل گئی۔ اور حضرت موسیٰ کی آہ وزاری کے بعد دوبارہ ان کو زندگی ملی۔ اسی طرح ان کو 12 گروہوں میں ان کی شاخوں کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا۔ ان کے 12 گروہ تھے اور ہر گروہ حضرت یعقوب کے پوتوں میں سے کسی ایک کی شاخ تھا۔ ان لوگوں نے قبائل کی طرح اپنے سلسلہ انساب کو اچھی طرح محفوظ کر رکھا تھا۔
وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا۔ اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ان بارہ فرقوں میں محض انتظامی اعتبار سے پانی کی تقسیم کے لیے بانٹا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے حقوق پر دست درازی نہ کریں۔
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُم۔ اور جب موسیٰ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چناچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کرلی۔
ان پر بادلوں کا سایہ اس لیے کیا گیا کہ صحرا کے اندر بےپناہ تپش تھی۔ من ایک قسم کا بری شہد ہے اور سلوی ایک چربہ پرندہ ہوتا ہے۔ اس طرح پانی فراہم کرنے کے بعد ان کے لیے زندگی کی تمام ضروریات فراہم ہوگئیں۔
وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ۔ ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من وسلوی اتارا۔ " کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں " مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے "
یہاں ان کو حکم دیا گیا کہ تمام طیبات کو کھاؤ، معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان پر ، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بعض طیبات کو حرام نہ کیا گیا تھا۔
ان کے ساتھ یہ تمام مراعات بالکل واضح ہیں لیکن یہ لوگ بہرحال بدفطرت تھے اور ہر وقت معصیت اور نافرمانی کے لیے تیار رہتے تھے۔ اور اس آیت کے آخری حصے وما ظلمونا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام انعامات و اکرامات ، ان کے لیے معجزانہ انداز میں چشمے نکالنے اور حضرت موسیٰ کے عصا مارنے کے نتیجے میں 21 چشمے ابل پڑنے ، اور تپتے ہوئے صحرا میں ان پر بادلوں کے سائے اور پھر صحرا میں اس قدر قابل فخر غذا فراہم کرنے کے باوجود انہوں نے " آپ اپنے اوپر ظلم کیا " یعنی وہ کفر و ظلم کرکے خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اور خود اپنے آپ کو سزا و عذاب کا مستحق ٹھہرا رہے تھے۔
عنقریب سیاق کلام میں ان کے ظلم کے کچھ نمونے آئیں گے۔ مثلا اللہ کے احکام کی نافرمانی کرنا ، ان سے پہلو تہی کرنا ، یہ سب کام وہ اپنے خلاف کرتے تھے ، اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے ، اللہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اگر تمام مخلوقات اس کی نافرمانی کرے تو اس کی بادشاہت میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اور اگر تمام مخلوقات مطیع فرمان ہوجائے تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ معصیتوں کا ارتکاب کرکے در اصل وہ اپنا ہی گھاٹا کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayah 7:161اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔
۔۔۔
انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام نہیں لیا گیا ، کیونکہ سیاق کلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شرط صرف یہ عائد کی گئی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت ایک مخصوص دعا مخصوص کلمات کی صورت میں پڑھتے جاؤ، اور اس شہر میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہوتے جاؤ اور تمہیں جو فتح و نصرت عطا ہوئی اس پر شکر ادا کرو ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضور اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ اپنی سواری کے اوپر سجدہ ریز تھے۔ ان لوگوں سے اللہ وعدہ کر رہے تھے کہ اگر تم اس حالت میں اس شہر میں داخل ہوگے تو اللہ تمہاری تمام غلطیاں معاف کردے گا اور اگر تم م میں سے کوئی مزید نیکی کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ مزید بارش کرے گا اپنے انعامات کی۔ لیکن ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں بعض نے گستاخانہ انداز میں دعا کے الفاظ ہی بدل دئیے اور بعض نے داخلے کے لیے مقرر شکل بدل دی۔ انہوں نے یہ نافرمانی کیوں کی ؟ الفاظ بدلنے یا سجدہ ریز نہ ہونے سے انہیں کیا فائدہ مل رہا تھا ؟ محض سرکشی اور کج مزاجی کی تسکین !
Ayah 7:162فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ ۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا۔
لہذا اب ان پر عالم بالا کی طرف سے عذاب آتا ہے ، وہ اللہ جو ان پر من وسلوی اتار رہا تھا ، اور ان پر اس کے بھیجے ہوئے بادل سایہ فگن تھے ، اب ان پر عذاب نازل فرما رہا ہے۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔
اس طرح ان میں جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر کیا انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ، کیونکہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔ اس بار قرآن مجید نے اس عذاب کی تصریح نہیں کی جو انہیں دیا گیا۔ کیونکہ عذاب کے تعین کے بغیر ہی اس قصے کی غرض وغایت پوری ہوجاتی ہے۔ قصے سے اصل غرض وغایت یہ بتانا ہے کہ اللہ کی معصیت کرنے والے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور اللہ کا ڈراوا حقیقت بن جاتا ہے اور کوئی نافرمان اللہ کے انصاف سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔
Ayah 7:163اب پھر بنی اسرائیل معصیت اور سرکشی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس بار وہ کھلے بندے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے بلکہ تاویل سے کام لے رہے اور احکام سے گلو خلاصی کر رہے ہیں۔ جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتے کیونکہ ابتلاء اور مشکلات پر وہ لوگ صبر کرتے ہیں جن کی طبیعت سنجیدہ ہو اور جو ذاتی خواہشات اور ہر قسم کی لالچ کے مقابلے میں ضبط رکھتے ہوں۔
۔۔
یہاں قرآن نے بنی اسرائیل کے احوال ماضی کے بیان کو چھوڑ کر ، اب ان بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا ہے جو سابقہ بنی اسرائیل کی اولاد تھے اور حضور کے دور میں موجود تھے۔ یہ لوگ مدینہ میں بھی تھے۔ یہ آیات آیت واذ نتقنا الجبل فوقہم تک مدنی آیات ہیں۔ یہ مدینہ میں یہودیون کے ساتھ مکالمے کے طور پر نازل ہوئیں اور انہیں مضمون کے اعتبار سے اس مکی سورت میں رکھ دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا مضمون مکمل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان سے اس واقعہ کے بارے میں دریافت کریں جو ان کے ہاں بہت ہی مشہور و معروف ہے اور ان کی تاریخ میں درج ہے۔ قرآن کریم اگلے اور پچھلے بنی اسرائیل کو ایک ہی امت سمجھتا ہے۔ ان کو وہ جرائم بھی یاد دلاتا ہے جو مختلف ادوار میں ان سے سرزد ہوئے اور اس کے بدلے میں اللہ نے انہیں بندر بنا دیا اور ان پر مسخ جیسا عذاب نازل ہوا۔ ان پر ذلت اور اللہ کا غضب مسلط ہوگئے۔ ہاں ان سب عذابوں سے وہ لوگ بہرحال محفوظ رہے ہوں گے جنہوں نے نبی آخر الزمان کی مطابقت اختیار کی اور اس کی وجہ سے ان کے کاندھوں سے بوجھ اتر گئے اور جو بیڑیاں انہیں لگی ہوئی تھیں ، وہ کھل گئیں۔
سمندر کے کنارے والی بستی کون سی تھی۔ قرآن نے اس کا نام نہیں لیا کیونکہ نام لینے کی ضرورت ہی نہ تھی اور گاؤں کا نام مخاطبین کے ذہنوں میں تھا۔ اس واقعہ کے کردار بنی اسرائیل کے سرکردہ لوگ تھے اور یہ کسی ساحلی شہر میں آباد تھے۔ بنی اسرائیل نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہفتے میں ان کے لیے ایک چھٹی کا دن مقرر کیا جائے جو آرام اور عبادت کا دن ہو۔ اور اس میں ان کے لیے معاشی سرگرمیاں منع ہوں۔ ہفتے کا دن ان کے لیے ایسا دن مقرر کیا گیا۔ اب اللہ نے اس دن کے بارے میں انہیں آزمائش میں ڈال کر یہ سمجھانا چاہا کہ وہ زندگی کی دلکشیوں اور لالچوں سے کس طرح چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اور بنی اسرائیل کے لیے یہ ضروری بھی تھا اس لیے کہ وہ ایک طویل عرصے تک غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے تھے اور غلاموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں اور ان کے اندر اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ذلت اور غلامی سے بدنی نجات کے بعد یہ ضروری ہے کہ انسان ذہناً اور اخلاقاً بھی غلامی سے نجات پا جائے تاکہ وہ صحیح اور صالح زندگی بسر کرسکے۔ خصوصاً وہ لوگ جو داعی کے مقام پر فائز ہوں۔ ان کے لیے تو ایسی اخلاقی تربیت فرض عین ہے۔ پھر خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے ذمے خلافت فی الارض کی ذمہ داری بھی ہے اور وہ مناصب حکمرانی پر فائز ہوں۔ ارادے کی پختگی اور نفس پر ضطب کے معاملے میں پہلی آزمائش آدم و حوا کی ہوئی اور ان سے لغزش ہوگئی اور انہوں نے شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے شجرۂ خلد کو چکھ لیا اور یہ لالچ کیا کہ ان کی حکمرانی دائمی ہوجائے اور ان کے بعد بھی ہر وہ جماعت جسے اللہ نے منصب خلافت فی الارض عطا کیا اسے آزمایا گیا۔ مختلف اقوام کو مختلف انداز اور مختلف حالات میں ضرور آزمایا گیا۔
لیکن اس آزمائش میں بنی اسرائیل پورے نہ اترے۔ اس لیے کہ وہ اس سے قبل بار بار وعدہ خلافی کرچکے تھے اور بار بار انہوں نے سرکشی اختیار کی تھی۔ آزمائش یوں ہوئی کہ ہفتے کے روز مچھلیاں ساحل کے قریب آجاتیں۔ ان کا شکار سہل ہوجاتا ، لیکن وہ یہ مچھلیاں اس لیے نہ پکڑ سکتے تھے کہ ہفتے کو شکار کرنا حرام تھا۔ اور اس حرمت میں خود ان کی خواہش شامل تھی۔ جب ہفتہ نہ ہوتا اور وہ شکار کے لیے نکلتے تو مچھلیاں قریب نہ ہوتیں جیسا کہ ہفتے کو وہ دیکھا کرتے تھے۔ یہ وہ بات تھی جسے حضور اکرم کے ذریعے اللہ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ذرا یاد کریں کہ انہوں نے اس حرمت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘاِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ۔ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سب کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ مچھلیوں کا یہ واقعہ کیسے پیش آگیا ، تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ خارق عادت اور ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ مچھلیاں ساحل کے قریب بڑی تعداد میں دوڑتی پھرتیں اور اگر کوئی پکڑتا تو بسہولت پکڑ سکتا۔ آج کل بعض لوگ خود اللہ کے جاری کیے ہوئے قوانین کونیہ کو قوانین طبعیہ کا نام دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بات نہیں ہوسکتی تو یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق بات ایسی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ نے خود اس کائنات کو بنایا ہے اور اس کے اندر جو طبعی قوانین جاری کیے ہیں وہ اس نے یہاں ودیعت کیے ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت ہے۔ اللہ کی یہ مشیت خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پابند نہیں ہے کہ وہ صرف اپنے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف نہ جاسکتی ہو۔ ان قوانین کے بعد بھی مشیت الہیہ آزاد ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے حقیقی علم دیا ہے وہ اس نکتے سے غافل نہیں ہوتے۔ اگر اللہ کی حکمت اور مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ انسانوں کی بھلائی اس میں ہے کہ یہ قوانین فطرت درست طور پر کام کرتے رہیں تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اللہ کی مشیت ان قوانین کے ہاتھ میں قید ہوگئی۔ جس وقت بھی اللہ کی مشیت یہ چاہے کہ کوئی واقعہ ان قوانین کے خلاف وقوع پذیر ہوجائے تو ایسا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً ان قوانین کے مطابق جو جزئی واقعہ بھی ہوتا ہے۔ (اگر کوئی پتا بھی گرتا ہے) تو وہ اللہ کے نظام تقدیر کے مطابق واقع ہوتا ہے۔ یوں نہیں ہے کہ یہ اسباب و مسببات اب مشیت الہیہ سے آزاد ہوگئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نظام قوانین طبعی بھی مشیت کا پابند ہے لہذا جو جزئی واقعہ قوانین طبعیہ کے مطابق ہوتا ہے یا خلاف یہ اللہ کے علم و قدر کے مطابق ہوتا ہے۔ لہذا مطابق عادت واقعہ اور خارق عادت واقعہ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ اس نظام کائنات میں خود کاری نہیں ہے جیسا کہ بعض سطح میں لوگوں کو نظر آتا ہے۔ بعض فلاسفہ نے اب اس بات کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔ (دیکھئے فی ظلال القرآن ج 7، ص 520، 522)
بہرحال بنی اسرائیل کی ایک ساحلی آبادی پر یہ واقعہ پیش آیا۔ چناچہ اس آزمائش میں بعض لوگ گر جاتے ہیں۔ ان کے عزائم شکست کھا جاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے اپنے پختہ عہد کو بھول جاتے ہیں ، یہ حیلہ سازی شروع کردیتے ہیں اور حیلے بہانے یہودیوں کا پرانا طریقہ ہے۔ جب دلوں میں کجی آجائے اور خدا خوفی ختم ہوجائے تو انسان حیلے بہانے ہی تلاش کرتا ہے۔ پھر لوگ نصوص کی عبادات کے ساتھ کھیلتے ہیں اور مقصد اور معانی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی قانون کی حفاظت اس کے دفعات و عبارات کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ قانون اور ضابطے کی پابندی دلوں کے ساتھ ہوتی ہے اور دل تب قانون کی پابندی کرتے جب ان کے اندر تقوی اور خشیت ہو۔ ایک متقی اور خدا سے ڈرنے والا دل ہی قانون کی حفاظت کرسکتا ہے۔ اور جب کوئی قوم دل و جان سے کسی قانون کی حفاظت کرنا چاہے تو اس کے بارے میں لوگ حیلے بہانے نہیں کرسکتے۔ لیکن اگر کسی قانون کی حفاظت صرف حکومتی ذرائع سے مغلوب ہو ، محض خوف سزا سے پابندی کرائی جائے تو اس طرح کبھی نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی حکومت ہر فرد پر ایک نگراں مقرر کردے۔ اور وہ نگراں تنہائی اور مجمع دونوں میں پوری پوری نگرانی کرسکتا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ وہ تمام قانونی اسکیمیں فیل ہوجاتی ہیں جن کی قوت نافذہ لوگوں کا دلی تقویٰ اور دلی میلان نہ ہو اور اسی طرح وہ تمام نظامہائے زندگی ناکام رہتے ہیں جو بعض انسانوں نے دوسرے انسانوں کے لیے بنائے ہیں اور جس میں قوت نافذہ خوف خدا پر مبنی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام ادارے ناکام ہوجاتے ہیں جن کے ذمے قوانین کا نفاذ ہوتا ہے۔ پھر ان اداروں پر نگران ادارے بھی ناکام ہوجاتے ہیں (کرپشن میں ترقی ہوتی ہے اور انٹی کرپشن ادارہ کرپٹ ہوتا ہے) اور ان کا کام اول سے آخر تک سطحی ہوجاتا ہے۔
چناچہ اس گاؤں کے باسیوں نے اس قانون کی خلاف ورزی کے سلسلے میں حیلہ سازیاں شروع کردیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہفتے کے دن مچھلیوں کو گھیرنے کے لیے بند باندھ دیتے اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو یہ لوگ جلدی سے آکر مچھلیاں پکڑ لیتے۔ اب دل کو تسلی یوں دیتے کہ انہوں نے ہفتے کے دن بہرحال مچھلیوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ مچھلیاں بہرحال بندوں کے اندر پانی میں ہوتیں۔ اور ان میں سے اچھے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آیا۔ اس نے ان لوگوں پر تنقید کی جو یہ حیلہ سازی کرتے تھے ، یہ لوگ انہیں تلقین کرتے تھے ، خدا سے ڈروا اور ایسا نہ کرو ، اور ایک تیسرا گروہ ایسے نیک لوگوں کا بھی سامنے آگیا جو کہتا کہ یہ تنقید کرنے والے لوگ بےفائدہ کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ جس کام میں پڑگئے ہیں ان کے لیے نصیحت و تنقید سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ نے ان کو سزا دینا اور ہلاک کرنا لکھ دیا ہے۔