7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا : ” اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ‘ اور تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے ۔

آیت ” نمبر 24 تا 25۔ سب کے سب اتر جاؤ ‘ اس کرہ ارض پر جابسو ‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ کہاں تھے ؟ جنت کہاں ہے ؟ یہ غیبی امور سے متعلق باتیں ہیں اور اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں وہ ذات باری بتادے جس کے ہاتھ میں غیب کی کنجیاں ہیں ۔ اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو کسی انسان کی جانب سے ان غیبی امور ومقامات کی تلاش ایک فضول کوشش ہوگی ۔ اسی طرح جو لوگ ان امور کا انکار کرتے ہیں اور اپنی سائنسی اور غیر یقینی معلومات کی اساس پر کرتے ہیں وہ بھی اپنی حدود سے تجازو کررہے ہیں اور ان کا یہ موقف محض خود سری اور مکابرہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس عالم غیب کی بات کرتے ہیں ، جہاں تک انہیں یہ رسائی حاصل نہیں ہے لیکن ان لوگوں کی خود سری کا عالم یہ ہے کہ یہ سرے سے عالم غیب کا انکار کرتے ہیں حالانکہ عالم غیب نے بھی تک انسان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے علم کا موضوع مادہ ہے اور مادے کی دنیا میں بھی اب تک کے معلوم سے مجہول زیادہ ہے ۔ بہرحال یہ سب لوگ اترے ۔ زمین پر آگئے ۔ آدم ‘ حوا ‘ ابلیس اور ان کے حوالی و موالی اور یہاں وہ اس لئے اترے کہ اس میدان میں معرکہ آدم وابلیس شروع ہو وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور دو مزاجوں کے درمیان معرکہ شروع جائے ۔ ایک مزاج سوفیصد شرپسند ہے اور دوسرا خیر وشر دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اللہ کی مشیت نے ابتلاء کی جو اسکیم تیار کی ہے اسے پورا کیا جاسکے اور اللہ کا منصوبہ قضا وقدر آخر تک پہنچے ۔ اللہ نے آدم اور انکی اولاد کے لئے زمین پر رہنا مقرر کردیا کہ وہ یہاں بسیں ۔ دنیا کی پیداوار سے فائدہ اٹھائیں ۔ ایک وقت مقررہ تک ۔ یہاں زندہ رہیں اور مریں اور وقت آنے پر انہیں اٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہی کریں۔ اہل جنت ‘ جنت میں اور اہل النار دوزخ میں جائیں ۔ یہ ہوگا انجام اس عظیم سفر انسانیت کا ۔ اب یہ پہلا راؤنڈ ختم ہوا ۔ اس کے بعد معرکہ آدم وابلیس کے نئے راؤنڈ ہوں گے ۔ ان میں انسان صرف اس صورت میں کامیاب ہوگا کہ اس نے اپنے رب کی پناہ لی ہوگی اور اگر اس نے اپنے دشمن کو دوست بنا لیا تو ظاہر ہے کہ وہ شکست کھائے گا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں ہے بلکہ ان آیات میں انسان کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے تاکہ اس کے مزاج ‘ اس کی نشوونما ‘ اس کے ماحول ‘ نظام قضاوقدر جو اس کی زندگی کو متاثر کرتا ہے اور وہ نظام جو اللہ نے اس کے لئے پسند کیا ‘ وہ ابتلاء جس سے اس نے دو چار ہونا ہے اور وہ انجام جس تک اس نے پہنچنا ہے ‘ کے بارے میں حقائق سامنے آسکیں اور یہ وہ باتیں ہیں جو اسلامی تصور حیات کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ جہاں تک ہمیں فی ضلال القرآن کا منہاج اجازت دے گا ‘ ہم اس کے بنیادی نکات پر نوٹ کریں گے تفصیلات ہم اپنی کتاب ” خصائص التصور الاسلامی “ کے لئے چھوڑتے ہیں جو اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتی ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں ‘ قصہ تخلیق انسانیت سے ہی میں جو پہلی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور انسان کی تخلیق کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں اللہ کے نظام قضا وقدر کے اندر کام کرتے ہیں ۔ اس حقیقت کے ادراک سے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ انسان کی تخلیق جو ایک تقدیر اور منصوبے کے مطابق ہوئی محض اتفاقی بات نہ تھی اور اس کائنات ‘ انسان اور نظام قضا وقدر کے درمیان مکمل توافیق ہے ۔ جو لوگ اللہ کی معرفت سے محروم ہیں وہ ذات باری کی قدر نہیں کرسکتے جس طرح کہ اس کا حق ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے کاموں اور ان کے نظام قضا وقدر کو ان پیمانوں سے ناپتے ہیں جو انسان کے چھوٹے چھوٹے کاموں اور منصوبوں کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔ وہ جب دیکھتے ہیں تو انکی سمجھ میں صرف یہ بات آتی ہے کہ انسان بھی اس دنیا کی دوسری مخلوقات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ اس عظیم کائنات میں یہ زمین ایک ذرہ کے برابر ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ انسان کی پیدائش کے پیچھے کوئی مقصد تلاش کیا جائے ‘ لہذا اس انسان کی اس کائنات میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ انسان کا وجود یہاں محض اتفاق سے ہوگیا اور اس انسان کے اردگرد جو کائنات ہے وہ اس کے وجود اور نشوونما کے سخت خلاف ہے ۔ یہ محض تیرت کے ہیں جو یہ لوگ اللہ کے افعال اور اس کے نظام قضا وقدر کے بارے میں چلاتے ہیں ۔ اور وہ بھی محض اپنی محدود انسانی معیار عقل و دانش کے مطابق ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ پوری کائنات انسان کی ملکیت ہوتی تو وہ اس چھوٹے سے کرہ ارض کو خاطر ہی میں نہ لاتا اور نہ اس چھوٹی سی مخلوق کی پرواہ کرتا جو اس پرچلتی ہے ۔ کیونکہ انسان اس پوری کائنات کی عظیم مملکت کا اہتمام نہیں کرسکتا ۔ نہ وہ اس کی ہر چیز کی تدبیر کرسکتا ہے ‘ نہ ہر چیز کا اندازہ کرسکتا ہے اور نہ وہ اس جہان کی تمام اشیاء کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرسکتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جہان کا بادشاہ اللہ ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں سے کوئی ایک ذرہ بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے ۔ اللہ اس عظیم کائنات کا تھامنے والا ہے اور اس کائنات کی کوئی چیز اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی اگر اللہ کا حکم نہ ہو ۔ یہاں کوئی چیز بھی اللہ کی مشیت کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی ۔ انسان جب اللہ کی ہدایت کو ترک کر دے اور اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی شروع کر دے تو وہ مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اگر اس مصیبت کو وہ علم کا نام دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔ وہ اللہ کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے اور اللہ کے افعال و اعمال کو اپنے افعال پر قیاس کرتا ہے حالانکہ اللہ کے افعال واقدار انسان کے قیاس سے باہر ہیں ۔ یہ انسان کی غلط فہمی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو اپنی کم ظرفی کی وجہ سے حقیقت سمجھتا ہے ۔ سرجیمس جینز اپنی کتاب ” کائنات جو ایک راز ہے “ انسان کے گمراہانہ تصورات کے بارے میں کہتا ہے ۔ ” ہم جب اس زمین پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جو ریت کا ایک چھوٹا سادانہ ہے تو ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہم اس پوری کائنات کی طبیعت اور ماہیت کو معلوم کریں جو ہمارے اردگرد اور زمان ومکان کی ناقابل تصور وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ہم یہ بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس کو وجود میں لانے کی غرض وغایت کیا ہے ؟ جب ہم اس کائنات کو دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے تو ہم حیرانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہماری نظریں خیرہ ہوجاتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات کس طرح ہمیں خوف میں مبتلا نہ کرے جبکہ اس کی وسعتیں اس قدر بڑی ہیں کہ ہماری عقل ان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ پھر اسی کائنات پر ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے اور ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور اس کے مقابلے میں انسان کے ذخیرہ علم جو تاریخ ہے وہ ان زمانوں کے مقابلے میں ایک لمحہ ہے ۔ پھر یہ اس اعتبار سے بھی خوفناک ہے کہ اس کے اندر ایک خوفناک وحدت پائی جاتی ہے ۔ پھر یہ اس لئے بھی خوفناک ہے کہ اس کائنات کے اندر ہمارا وطن یہ زمین اس قدر چھوٹی ہے کہ دنیا کے سمندروں کے ایک چھوٹے سے ریت کے کنکر کو اگر ایک ملین ٹکڑے کیا جائے تو اس سے بھی کم ہے ۔ لیکن اس کائنات کی سب سے زیادہ خوفناکی اس پہلو سے ہے کہ یہ ایک بےمطلب چیز ہے ۔ جس طرح ہماری زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بےمطلب ہے ۔ ہمارے جذبات ‘ ہمارے ‘ مقاصد ‘ ہمارے اعمال ‘ ہمارے فنون اور ہمارے ادیان سب کے سب اس کائنات کے نظام کے ساتھ غیر مانوس ہیں اور اس کے نظام کے ساتھ بےمیل ہیں ۔ اگر ہمارے ادیان سب کے سب اس کائنات کے نظام کے ساتھ غیر مانوس ہیں اور اس کے نظام کے ساتھ بےمیل ہیں ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اس کائنات اور ہماری زندگی کے درمیان مستقل دشمنی اور تضاد ہے تو یہ بات غلط نہ ہوگی اس لئے کہ اس کائنات کی فضا کی اکثریت اس قدر ٹھنڈی ہے کہ جہاں زندگی ممکن نہیں ہے ۔ تمام انواع حیات وہاں منجمد ہوجاتے ہیں اور اکثر مادی اجزاء اس قدر گرم ہیں کہ ان میں زندہ رہنا محال ہے ۔ اس فضائے کائنات میں ایسی شعاعیں ہر وقت باہم متصادم ہوتی رہتی ہیں کہ اجرام فلکی باہم متصادم رہتے ہیں اور یہ شعاعیں بسا اوقات زندگی کی دشمن ہو سکتی ہیں بلکہ کسی بھی وقت زندگی ختم کرسکتی ہیں ۔ “ ” یہ کائنات جس میں حالات نے ہمیں لا کر پھینک دیا ہے اگر یہ بات سچ نہیں ہے کہ ہم یہاں اس کائنات کی کسی غلطی کی وجہ سے زندہ ہیں تو یہ بات بہرحال قرین قیاس ہے کہ انسان کا وجود یہاں محض اتفاق اور مصاوفت سے ہوگیا ہے ۔ “ یہ ہیں ان لوگوں کے خیالات ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ہم اس نکتے پر بحث کر آئے ہیں کہ اس کائنات کا دشمن حیات ہونا اور یہ فرض کرلینا کہ یہ کائنات کسی مدبر اور کنٹرول کرنے والے کے بغیر ہے ‘ اور یہ کہ اس نے اوپر انسان جیسی مخلوق اور مطلق زنگی کا وجود میں آجانا محض اتفاق کے طور پر ہے کسی عام آدمی کی عقل میں آنے والی باتی نہیں ہے جہ جائیکہ کوئی بڑا عالم یا سائنس دان ایسی باتیں کرے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کائنات اس کے اندر پائے جانے والی ہر قسم کی زندگی کے قاتل ہے اور کوئی اس کے اوپر قوت مدبرہ بھی نہیں ہے تو یہ زندگی کس طرح وجود میں آگئی ؟ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کائنات سے زیادہ طاقتور ہے کہ یہ کائنات کے علی الرغم وجود میں آگئی اور باوجود اس کے وجود میں آگئی کے کائنات اس کے وجود میں آنے کے خلاف تھی ۔ کیا انسان وجود میں آنے سے قبل اس عظیم کائنات سے زیادہ قوی تھا ‘ اور اس طرح وہ زبردستی یہاں آکر کھڑا ہوگیا ۔ میں کہتا ہوں یہ ایک ایسی سوچ ہے جس پر توجہ ہی نہ دینا چاہئے۔ اگر یہ نام نہاد علماء فقط یہ کہنے پر اکتفاء کرتے کہ ہمارے ذرائع علم اس کائنات کی تفسیر و توضیح نہیں کرسکتے ہیں اور یہ خرافات نہ بکتے جو وہ میٹا فزکس کے بارے میں بکتے ہیں ‘ جن پر کوئی سند ان کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا فرض ادا کر جاتے اگرچہ یہ فرض بھی ناقص ہوتا ۔ البتہ وہ کہہ دیتے کہ ہمارے ارد گرد جو کائنات ہے یہ ایک معمہ ہے لیکن وہ اپنے دائرہ علم سے بہت آگے بڑھ جاتے ہیں اور مفروضوں ‘ بلادلیل تصورات اور انسانی خواہشات کے پیدا کردہ فنی مزعومات کی دلدل میں جا پھنستے ہیں جو غیر محفوظ علاقے ہیں ۔ ہم مسلمان الحمد للہ جب اس کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں نہ خوف دامن گیرہوتا ہے اور نہ ہم اس حیرت میں پڑتے ہیں ‘ جس کا اظہار سرجیمس جینز نے کیا ہے بلکہ ہم تو اس کائنات کے خالق کے بارے میں ڈر جاتے ہیں اور ہمیں وہ جمال و جلال نظر آتا ہے جو اس کائنات ہماری دوست بن جاتی ہے اس لئے کہ اس کو بھی خالق نے پیدا کیا ہے اور ہمیں بھی ۔ دونوں کے اندر پورا توافق اور ہم آہنگی ہے ۔ ہم اس کی ضخامت اور اس کی باریکی سے حیرت زدہ ضرور ہوتے ہیں لیکن خوفزدہ نہیں ہوتے اور ہمیں یہ شعور اور احساس آکر نہیں پکڑتا کہ اب ہم آج یا کل برباد ہو رہے ہیں اس لئے کہ ہمارا اور اس کائنات کا رب ایک ہے ۔ ہم اس کے ساتھ نہایت ہی انس و محبت اور اعتماد اور یقین کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارا رزق اور ضروریات اور ہماری معاش اور معیشت کے ذخائر اسی میں ہیں اور ہمیں اس کائنات کے خالق کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ قصہ تخلیق آدم سے ہمیں جو دوسری حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی جملہ زندہ مخلوق کے مقابلے میں انسان ایک معزز ‘ برتر اور مکرم مخلوق ہے ۔ اس نے اس جہان میں نہایت ہی اہم رول ادا کرنا ہے۔ اس نے نہایت ہی وسیع میدان میں تگ ودو کرنی ہے اور اس کے ساتھ یہاں کئی جہانوں کا معاملہ ہے ۔ لیکن یہ تمام امور اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کی حدود میں ہیں ۔ اس انسان کی یہاں وہ پوزیشن نہیں جو اسے وہ مکاتب فکر دیتے ہیں جو حواس خمسہ اور مادیت کے اندر محدود ہیں ۔ یہ مکاتب فکر انسان کو اس کائنات کا ایک موثر عامل نہیں سمجھتے ۔ ان مذاہب و تصورات میں تمام اہمیت مادے اور اس کے اثرات کو دی جاتی ہے ۔ اسی طرح نظریات ارتقاء کے قائلین اسے اس سے بھی گھٹیا مقام دیتے ہیں یعنی حیوانات میں سے ایک حیوان ۔ ان لوگوں کو انسان کی انسانی خصوصیات سے کوئی غرض اور واسطہ نہیں ہے ۔ یا وہ اسے فرائیڈ کے نظریہ جنسیت کے زاویہ سے دیکھتے ہیں جو انسان کو محض جنس کے گندے تالات کا ایک کیڑا سمجھتا ہے اور وہ اسی گندے تالاب کے ذریعے ہی ترقی کرتا ہے ۔ لیکن اسلام اس منفرد مخلوق یعنی انسان کو جو عزت و کرامت عطا کرتا ہے وہ اس مقام تک نہیں پہنچتی کہ وہ الہ بن جائے جیسا کہ جدید روشن خیالی کے دور میں پیدا ہونے والے تصورات حیات نے اسے الہ بنا دیا ہے ۔ اسلامی تصورحیات اسے سچائی اور اعتدال کا درجہ دیتا ہے جو درست اور صحت مند ہے ۔ پھر اس منفرد مخلوق حضرت انسان کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی ایک نہایت ہی پروقار تقریب میں کیا گیا ‘ اور جیسا کہ ہم نے قرآنی نصوص کی روشنی میں کہا اس تقریب میں ایک مکمل انسان پیش کیا گیا ۔ اس میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ وہ اس زمین کا خلیفہ ہے ۔ جنت میں اس پر جو ابتلا آئی وہ بھی اسی غرض کے لئے تھی کہ وہ فرائض خلافت کی ادائیگی کے لئے تیار ہوجائے ‘ جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ یہ پوری کائنات صرف زمین نہیں ‘ انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ وہ اس کے لئے مفید ومعاون ہے اور زمین و آسمان میں جس قدرچیزیں ہیں انسان کے لئے مسخر کردی گئیں ۔ پھر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو جو کردار سپرد کیا ہے وہ بھی بہت ہی عظیم ہے ۔ اس پورے کرہ ارض کو ترقی دینا اور اس کے اوپر اللہ کا نظام خلافت قائم کرنا چاہے اس زمین کا حج بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بہرحال یہ ایک عظیم ڈیوٹی ہے جو انسان کے سپرد کی گئی ۔ اس قصے اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے اور یہ صرف اس کرہ ارض پر ہی منفرد نہیں ہے بلکہ یہ پوری کائنات میں منفرد مخلوق ہے ۔ دوسرے ستاروں میں ملائکہ جنات اور وہ تمام مخلوقات ہیں جن کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے ۔ ان مخلوقات کے دوسرے فرائض ہیں ‘ یہ تمام مخلوقات اپنا علیحدہ مزاج اور طبیعت رکھتی ہیں ۔ ان کی طبیعت ان کے فرائض کے ساتھ مناسب ہے ۔ البتہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے جس کے فرائض اور وظائف بھی منفرد ہیں اور اس پر قرآن کی یہ آیت دلالت کرتی ہے ۔ آیت ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والا رض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا “۔ (33 : 72) ” ” ہم نے اس امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھالیا ‘ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا ۔ “ گویا انسان اس پوری کائنات میں اپنی خصوصیات کے اعتبار سے منفرد ہے ۔ ان خصوصیات میں ظلم اور جہل دونوں شامل ہیں ۔ اس ظلم اور جہل کے ساتھ اسے ذاتی خود مختاری دی گئی ہے اور علم ومعرفت کی استعداد دی گئی ہے ۔ ذاتی ارادہ دیا گیا ہے اور جس قدر وہ جہل وظلم پر قادر ہے اسی قدر وہ عدل اور علم پر بھی قدرت رکھتا ہے ۔ غرض انسانی صلاحیتوں کی یہ رنگاررنگی ہی اس کی اہم خصوصیت ہے ۔ ان تمام خصوصیات کے ساتھ ‘ اب یہ بات اہم نہیں رہتی کہ انسان جس کرے پر زندہ ہے وہ اپنے حجم اور اس پوری کائنات کی وسعت کے اعتبار سے بہت ہی چھوٹا ہے ۔ اس لئے کہ ہر معاملے میں حجم کی اہمیت نہیں ہوتی ۔ مثلا قوت عقلی جو اشیاء کا ادراک کرتی ہے اور انسان کا متحرک بالارادہ ہونا اور اپنی ذاتی ترجیح کے مطابق کام کرنا ‘ اگرچہ اللہ کی بندگی کے وسیع تر دائرے کے اندر ہو ‘ یہ سب چیزیں بہرحال انسان کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتی ہیں اور اسے ایک منفرد مخلوق بنا دیتی ہیں ۔ محض اس زمین کے حجم کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے سرجیمس جینز جیسے لوگ انسان کی قدروقیمت کو گھٹاتے ہیں ۔ یہ بات درست نہیں ہے ۔ یہ آیات اور یہ قصص انسان کو جو اعزاز عطا کرتے ہیں وہ اس کے فریضہ خلافت الہیہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس منفرد مخلوق کا اعزاز اور اس کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے جب ہم ان آفاق اور کائنات کی ان پہنائیوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں یہ کام کرتا ہے ۔ اب ذرا دیکھئے کہ اس منفرد مخلوق کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ براہ راست ہے ۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے پھر عالم بالا کی پروقار تقریب میں اس کا اعلان کیا ہے اور اسے گویائی عطا کی ۔ پھر اسے جنت میں داخل کیا اور کہا کہ کھاؤ جہاں سے چاہو ماسوائے ممنوعہ درخت کے ۔ اس کے بعد اسے خلافت کا مقام عطا کیا ‘ خود اپنے کلام کے ساتھ ۔ پھر اللہ نے اسے تعلیم دی جیسا کہ آیت سورة بقرہ میں ہم نے اس کی تشریح کردی ہے کہ اسماء سے مراد الفاظ کے معانی ہیں یعنی لفظ اور مدلول وہ چیز ہے جس پر علم ومعرفت کاتبادلہ ممکن ہوا ہے ۔ ان ہی کے ذریعے سے تمام انسانوں کے علم میں اضافہ ہوا ہے اور آدم کو جنت میں بھی اور اس کے بعد بھی اللہ نے وصیت کی اور اسے ایسی خصوصی صلاحیتیں دیں جو صرف انسان میں ہیں اور کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئیں اور پھر اپنی مزید ہدایت دے کر رسولوں کو بھیجا پھر اللہ نے اپنے اوپر اپنی مخلوق کے ساتھ رحمت کرنا فرض کرلیا کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو انہیں معاف کردیا جائے اور یہ اس منفرد مخلوق پر اللہ کا آخری کرم ہے ۔ یہ انسان عالم بالا کے ساتھ بھی باہم ہم سفر ہے ۔ فرشتے اس کی تکریم میں سجدہ کرتے ہیں ۔ پھر اس کی حفاظت کے لئے بھی فرشتے مقرر ہیں ۔ ان میں سے بعض وحی لانے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور اللہ کے جو بندے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر ثابت قدمی اختیار کرتے ہیں تو ان پر اللہ فرشتے نازل کرتا ہے ‘ جو اسے خوشخبری دیتے ہیں ۔ اس طرح جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ان کی بھی یہ فرشتے نصرت کرتے ہیں اور انہیں فتح کی خوشخبری دیتے ہیں پھر یہ فرشتے کفار پر مسلط کئے جاتے ہیں جو انہیں قتل بھی کرتے ہیں اور انکی ارواح کو بھی عذاب دیتے ہیں۔ غرض یہ اور دوسرے معاملات ایسے ہیں جن میں انسان کا فرشتوں کی دنیا سے بھی رابط ومعاملہ ہے ۔ پھر انسان کا جنات کے ساتھ بھی معاملہ ہے ۔ ان کے صالحین کے ساتھ بھی اور ان کے شرپسندوں کے ساتھ بھی انسان اور شیطان اعظم کے درمیان جو معرکہ ہوا اس کے بارے میں تو قارئین جان چکے ہیں ۔ یہ عظیم معرکہ اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ لیکن نیک جنوں کے ساتھ انسان کا باہم ربط بھی بعض آیات میں مذکور ہے اور جنات کی تسخیر بھی قرآن سے ثابت ہے جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے میں مذکور ہے کہ انہوں نے جنات کو مسخر کرلیا تھا ۔ اسی طرح یہ انسان اس پوری مادی کائنات کے ساتھ بھی مربوط ہے ۔ خصوصا زمین اور اس کے اردگرد ستاروں اور سیاروں کے ساتھ ۔ اس زمین پر تو انسان اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے ۔ انسان کے لئے اس کی تمام قوتیں مسخر کردی گئی ہیں ‘ اس کے خزانے اور اور پیداوار انسان کے لئے وقف ہے ۔ اور انسان کے اندر وہ قوت اور استعداد ودیعت کردی گئی ہے جو اس کی کنہ تک مسلسل پہنچ رہا ہے اور اس کے طبیعی قوانین کا انکشاف کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح وہ اس زمین پر عظیم کردار ادا کر رہا ہے ۔ یوں اس کا اس کائنات کی تمام زندہ مخلوق کے ساتھ ربط ہے ۔ پھر اپنی طبیعت کی بو قلمونیوں کی وجہ سے وہ خود اپنے نفس کے اندر بہت دور تک معرفت کے گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ یہ آسمانوں تک معراج حاصل کرتا ہے اور فرشتوں کے مقامات سے بھی آگے چلا جاتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اللہ کا بندہ خاص ہوتا ہے ۔ لیکن اگر وہ گر جائے تو محض ایک حیوان کی سطح تک بھی اتر آتا ہے ۔ جب وہ اپنی خواہشات کو اپنا الہ بنا لے ۔ اس وقت اس کی انسانیت گندے حیوانی تالاب میں لت پت ہوجاتی ہے ۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک وسیع و عریض میدان درجات ہے جو عالم حس کے اندر اور اس کے آگے و رائے حس کی حدود تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا اس میں معاملہ ہے ۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ انسان کے سوا کسی اور مخلوق کے لئے یہ مقامات نہیں ہیں ‘ جیسا کہ اس قصے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے ۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ یہ منفرد مخلوق ‘ اپنی اس انفردیات کے باوجود بعض پہلوؤں سے کمزور بھی ہے اور اپنی ان کمزوریوں کی وجہ سے اس بات کا امکان ہے کہ اسے شر کی طرف کھینچا جاسکتا ہے ۔ وہ ذاتی اور سفلی خواہشات کے پیچھے درجہ اسفل تک بھی گر سکتا ہے ۔ اس کی ایک کمزوری تو یہ ہے کہ وہ یہاں باقی رہنا چاہتا ہے ۔ پھر وہ اقتدار کا بھی بھوکا ہے اور اس اندر اقتدار کی سخت خواہش ہے ۔ جب وہ اللہ کی ہدایت کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو اس کی کمزریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ خالص خواہشات نفسانیہ کا بندہ بن جاتا ہے یا وہ ایسے دشمن شیطان کا پیرو کار بن جاتا ہے ‘ جس نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ وہ اسے گمراہ کرے گا ‘ اس مقصد کے لئے انتھک کوشش جاری رکھے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام ذرائع ووسائل کام میں لائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت اور اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اسے پوری طرح اس کی فطرت کے سپرد نہیں کردیا ۔ نہ اسے اپنی عقل اور سوچ کے حوالے کردیا ہے ۔ بلکہ اس کی ہدایت کے لئے اور اسے انجام بد سے ڈرانے کے لئے رسولوں کا سلسلہ بھیجا ہے ۔ چناچہ اس قصے پر بغور تبصرہ اگلی آیات کی تفسیر میں آرہا ہے ۔ اور یہ انسان کی کامیابی کا پہلا زینہ ہے ۔ اس طرح وہ اپنی خواہشات کے جنگل سے آزاد ہو کر اللہ کی جانب چلا آتا ہے اور اس طرح اپنے خفیہ دشمن سے نجات پا جاتا ہے ۔ یہ نجات اسے اللہ کے ذکر ‘ اس کی یاد ‘ اس کی رحمت اور اس کے اجر کے حصول کے داعیہ اور اس کی سرزنش سے ڈر کی وجہ سے ملتی ہے ۔ یہ تمام باتیں اسے قوت بخشتی ہیں اور ان کے ذریعے وہ اپنی کمزوریوں اور شہوات پر قابو پا لیتا ہے ۔ اس سلسلے میں اس کی پہلی ٹریننگ یہ تھی کہ جنت میں اس کے لئے ایک درخت کو حرام کردیا گیا تاکہ وہ اس سے بچ کر اپنے ارادے کو قوت بخشے اور کمزوریوں اور نافرمانیوں کی کشش کا مقابلہ کرے اگرچہ وہ اس پہلے تجربے اور پہلی آزمائش میں کامیاب نہیں رہا لیکن بعد میں یہ ناکامی اس کے لئے سبق آموز ثابت ہوئی ۔ اس کی ان کمزوریوں کی وجہ سے اللہ نے رحم فرمایا اور اس کے لئے توبہ کے دروازے کو کھلا رکھا ۔ جب وہ بھول جائے اور پھر اسے یاد آجائے اور وہ پشیمان ہو ۔ جب وہ گر جائے اور پھر اٹھے ‘ جب وہ راہ راست سے ہٹ جائے اور توبہ کرلے اور مڑ کر سیدھی راہ اختیار کرلے تو اس کے لئے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ‘ اس کی غلطی کو معاف کرتا ہے اور یہ نہیں کہ اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو ضرور اسے پکڑے ۔ یا اس کے لئے لعنت ہو اور اس کی اولاد بھی اس تہمت سے متہمم ہو ‘ کیونکہ کوئی گناہ ابدی نہیں ہوتا ۔ کوئی بوجھ اٹھانے والے دوسرے کا بوجھ کس طرح اٹھائے گا۔ ؟ اسلامی نظام حیات کا یہ تصور اس کہانی کو رد کردیتا ہے جو انسانیت پر کینسہ کے غلط تصورات نے مسلط کی تھی اور جس کے نتیجے میں عیسائی مذہب پر کئی غیر فطری عقائد اور رسومات مسلط ہوگئے اور یہ مذہب درست عقائد کے بجائے خرافات میں گم ہوگیا ۔ یہ عجیب تصور ہے کہ آدم کی لغزش اب پوری انسانیت کی گردن میں لٹکی ہوئی ہے ‘ اور ایک دائمی لعنت ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ان کے خود ساختہ خدا مسیح کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہے ۔ ان کی جان بھی اس سے تب چھوٹتی ہے اور انسانیت کا دامن بھی تب صاف ہوتا ہے جب یہ انسانی خدا سولی پر چڑھ جاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ جو لوگ قیامت تک عیسائیت کو قبول کرتے ہیں ان کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں ۔ بہت خوب ! اس کے مقابلے میں اسلامی تصور حیات میں یہ معاملہ کس قدر آسان اور قابل فہم ہے کہ حضرت آدم بھول گئے اور ان سے لغزش کا صدور ہوگیا ۔ انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اور یوں اس پہلی لغزش کا معاملہ ختم ہوگیا اور یہ لغزش انسان کے لئے ایک سبق آموز تجربہ کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہوگئی اور بس تاکہ انسان اس سے سبق حاصل کرے ذرا دیکھئے یہ تصور کس قدر سادہ ہے ۔ کس قدر واضح ہے اور اس تصور کا اپنا ناکس قدر سادہ ہے اور آسان ہے ۔ چوتھی حقیقت یہ ہے کہ یہاں انسان اور شیطان کی کشمکش ایک حقیقی کشمکش ہے ۔ یہ مسلسل اور سخت ترین کشمکش ہے ۔ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دشمن انسان نے ہر حالت میں انسان کے خلاف اپنی کاروائی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے اور اس نے برملا کہہ دیا ہے کہ وہ ہر طرف اور ہر جہت سے انسان پر حملہ آور ہوگا اور پنے حملوں کو مسلسل جاری رکھے گا وہ ان الفاظ میں اعلان جنگ کرتا ہے ۔ ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ شیطان ملعون نے یہ راہ اپنائی کہ وہ انسانوں کے خلاف اپنی اس فریب کاری کو جاری رکھے گا ۔ اسے اس کاروائی کے لئے مہلت ملنی چاہئے ۔ اس کے مقابلے میں اس کے سامنے جو سیدھی راہ تھی اسے اس نے ترک کردیا ۔ سیدھی راہ یہ تھی کہ اس نے ذات باری کے سامنے اللہ کے احکام کو درست طرح سن کر جو معصیت کی اس پر وہ نادم ہوتا اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ۔ اس کے برعکس اس نے یہ اعلان کیا کہ وہ ہر راہ گزر پر بیٹھ کر ان کو گمراہ کرے گا اور ہر جہت اور ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہوگا اور ان کو گمراہ کر کے چھوڑے گا ۔ شیطان انسانوں پر ان مقامات سے حملہ کرتا ہے جو دفاعی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں ۔ یہ کمزور مقامات جنسی خواہشات اور مرتبے کے حصول کی خواہشات ہیں ۔ ان کمزور مقامات کو انسان صرف خدا خوفی اور ذکر الہی کے ذریعے درست کرسکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی خواہشات کو دبائے اور اپنی خواہشات کے خلاف جنگ ہے اور اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہدایت کا اتباع ہے ۔ اور مادی خواہشات پر قابو پا کر صرف وہ لوگ بلندی حاصل کرسکتے جو بلند نظریات اور بلند ارادے رکھتے ہوں اس لئے کہ یہاں شیطان اپنے لاؤ لشکر سمیت ایک طرف میدان میں ہے اور اس کا مقابلہ تب ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر شریعت کو نافذ کردیا جائے ۔ پس یہ معرکہ نظریات اور ضمیر کے میدان میں بھی جاری ہے اور زندگی کے عملی میدان میں بھی جاری ہے ۔ دونوں میدانوں میں یکبارگی یہ کشمکش ضروری ہے ۔ وہ شیاطین جو دنیا میں براجمان ہیں وہ لوگوں کو اپنی شریعت ‘ اپنی وضع کردہ اقدار کے مطابق چلاتے ہیں ۔ انہوں نے یہاں حسن وقبح کے اپنے پیمانے بنا رکھے ہیں ۔ جو اللہ کی حاکمیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی شریعت کی نفی کرتے ہیں اور ان اقتدار کے خلاف چلتے ہیں جو دین اسلام سے نکلتی ہیں ۔ یہ انسانی شیاطین ہیں اور ان کو جنی شیاطین ہدایات دیتے ہیں ۔ ان انسانی شیاطین کے ساتھ یہ سیاسی معرکہ بھی خود شیطان اصلی کے خلاف معرکہ ہے ۔ یہ اس سے کوئی علیحدہ بات نہیں ہے ۔ اس طرح اس دنیا میں برپا یہ عظیم کشمکش دراصل شیطان کے ساتھ ایک عظیم معرکہ ہے ۔ شیطان کے دوستوں کے ساتھ معرکہ ہے ۔ جب ایک صحیح الفکر مسلمان اس معرکے میں کودتا ہے تو وہ فی الحقیقت اپنی مادی خواہشات کے ساتھ برسر جنگ ہوتا ہے ۔ پھر وہ شیطان کے ان دوستوں کے خلاف برسرجنگ ہوتا ہے جنہوں نے اس کرہ ارض پر خود اپنا اقتدار اعلی قائم کر رکھا ہے ۔ وہ ان تمام شرارتوں کے ساتھ برسرجنگ ہوتا ہے جو ان شیاطین اور ان کے دوستوں نے دنیا میں برپا کر رکھی ہیں اور جب ایک مومن اس ہمہ جہت جنگ میں مصروف ہوتا ہے تو وہ پوری طرح یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ یہ ہمہ جہت جنگ شیطان کے ساتھ لڑ رہا ہے جو اس کا حقیقی دشمن ہے اور جس نے اس کے خلاف مسلسل جنگ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ یہ جنگ قیامت تک ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے ۔ (الجھاد ماض الی یوم القیامۃ (حدیث) کہ ” جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور ہر صورت اور ہر میدان میں جاری رہے گا ۔ “ آخری بات اس قصے سے یہ معلوم ہوتی ہے جیسا کہ تفصیلات آگے آرہی ہیں ‘ کہ خود انسان کی فطرت ‘ طبیعت اور مزاج میں ایک چیز موجود ہے اور وہ ہے شرم وحیاء انسان عریانی کو فطرتا ناپسند کرتا ہے ۔ خصوصٓ شرمگاہ کی عریانی کو ۔ آیت ” فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْء َاتِہِمَا (7 : 20) ” شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ ننگا کر دے ان کی ان شرمگاہوں کو جو پوشیدہ تھیں “۔ آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا “۔ (7 : 22) ” اس طرح دھوکہ دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا ۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے ۔ “ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللّہِ “ (7 : 26) ” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ‘ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے “۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “ (7 : 27) ” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “ یہ تمام ہدایات وتبصرے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی فطری مسئلہ ہے اور یہ داعیہ انسانی فطرت کی انتہائی گرائیوں میں ہے کہ وہ لباس پہنے اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے لباس انسان کے لئے زینت اور پردہ ہے جبکہ لباس تقوی انسان کی روحانی شرمگاہوں کے لئے ستر ہے فطرت سلیمہ نے ہمیشہ اپنی جسمانی اور روحانی شرمگاہوں کو چھپانے کی سعی کی ہے اور وہ ہمیشہ ان کمزوریوں کو چھپانے پر حریص رہی ہے ۔ جو لوگ انسانی جسم کو لباس سے عاری کرنا چاہتے ہیں ‘ نفس انسانی کو لباس تقوی سے محروم کرکے ننگا کرنا چاہتے ہیں ‘ اللہ اور انسانوں سے شرم وحیاء کو ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ جن لوگوں کی زبانیں ‘ جن کے قلم ‘ اور جن کے ذرائع ابلاغ اور میڈیا اس بات میں رات اور دن مصروف ہو کہ مختلف طریقوں سے اور مختلف خبیث اور شیطانی ذرائع سے ان کو اپنے ان فطری دواعی سے عاری کردیں ‘ وہ درحقیقت انسان سے وہ فطری خواص چھین لینا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے ۔ یہ لوگ انسان کو اس شیطان کے سامنے جھکانا چاہتے ہیں ‘ جو ان کا دشمن ہے جس نے سب سے پہلے انسان کی شرمگاہ کو ننگا کرنے سے اپنی شیطنت کا آغاز کیا تھا ۔ پھر یہ لوگ ان صہیونی منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتے ہیں جو یہودیوں نے انسانیت کی بربادی کے لئے تیار کر رکھے ہیں اور ان کے مطابق وہ پوری انسانیت کو اس قدر مضمحل کردینا چاہتے ہیں کہ وہ انکے مقابلے میں اٹھ نہ سکے اور اس کی حالت یہ ہوجائے کہ اس کے اندر کوئی انسانی خصوصیت نہ رہے ۔ عریانی فطرتا ایک حیوانی خاصہ ہے ۔ اس کی طرف انسان صرف اس وقت آمادہ ہو سکتا ہے جب وہ مقام انسانیت سے گر کر حیوانی مرتبے میں آجائے ۔ نیز عریانیت کو خوبصورتی صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ‘ جن کا ذوق انسانی ختم ہوچکا ہو۔ چناچہ وسطی افریقہ کے نہایت ہی پسماندہ لوگ مادر زاد ننگے ہوتے ہیں اور جب اسلام ان میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ انہیں کپڑے پہناتا ہیں ۔ آج مغرب کے نام نہاد ترقی پسند دانشور انسان کو عریانی کے اس گڑھے میں گرا رہے ہیں جہاں سے اسلام نے انہیں نکالا تھا وہ نکالنے کے بعد انکو نہایت ہی متمدن بنا دیا تھا اور انکو اسلامی مفہوم اور اہداف کے مطابق متمدن بنایا تھا ۔ اسلام میں تمدن اور ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کے اندر انسانی خصائص کو ترقی دی جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کیا جائے ۔ نفس کی عریانی یہ ہے کہ انسان شرم وحیاء کو خیر باد کہہ دے اور یہ وہ مقصد ہے جس کے لئے یورپ کا میڈیا ‘ قلم ‘ آواز اور اسکرین کام کر رہی ہے ۔ یہ اس قدر پسماندگی اور جاہلیت کی طرف رجعت قہقہری ہے جو کبھی تھی ‘ اسے کسی مفہوم میں بھی ترقی ‘ حضارت اور تمدن نہیں کہا جاسکتا جیسا کہ آج مغرب کا شیطانی میڈیا مسلمانوں کو یاد کررہا ہے ۔ تخلیق انسانیت کا قصہ ان تمام اقدار اور پیمانوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مسلمانوں کو اس طرف ہدایت کی اور تمام شیطانی وساوس سے نجات دی اور جاہلیت کے گندے تالاب سے مسلمانوں کو نکالا ۔ قرآن نے یہ قصہ انہیں مقاصد کے لئے پیش کیا ہے ۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

اور فرمایا ” وہیں تم کو جینا اور وہی مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا ۔

درس نمبر 74 ایک نظر میں : زیر نظر سبق اس سورة کے وقفوں میں سے ایک وقفہ ہے ۔ پہلے منظر کے بعد یہ ایک طویل وقفہ ہے جس میں تخلیق انسانیت کی ایک عظیم روئیداد بیان کی گئی ہے ۔ اس سورة میں جگہ جگہ ایسے وقفے آتے ہیں گویا سامعین سے کہا جاتا ہے ‘ ذرا رکیں ‘ کہا یہاں تک جو کچھ آپ نے دیکھا اس پر غور کریں اور آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ اس منظر میں انسانیت کے لئے کیا کیا نصائح ہیں اور کیا کیا عبرت آموزیاں ہے ۔ یہ وقفہ ان دستوں کی موجودگی میں ہے جو ایک طرف انسانیت کی جانب سے اور دوسری جانب شیطان کی جانب سے باہم معرکہ آرائی کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ اس وقفے میں بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس اسلوب سے اور کس گزر گاہ سے داخل ہوتا ہے اور یہ کہ اس کا منصوبہ کیا ہے اور کس شکل و صورت میں ہے ۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ صرف اس صورت میں ہدایت دیتا ہے جب کوئی صورت عملا قائم ہو ‘ موجود ہو اور مسئلہ پیدا ہوگیا ہو ۔ وہ جو قصص بھی بیان کرتا ہے ‘ اس لئے بیان کرتا ہے کہ تحریک اسلامی کے اندر کچھ واقعی حالات موجود ہوتے ہیں جن پر وہ قصہ منطبق ہوتا ہے ۔ قرآن کے قصص جیسا کہ اوپر کہہ آئے ہیں محض فنی اور ادبی مقاصد کے لئے نہیں ہوتے اور نہ قرآن کسی مسئلے پر محض نظریاتی زاوے سے بحث کرتا ہے ۔ اسلام کی حقیقت پسندی اور اس کی سنجیدگی اس بات کی متقاضی تھی کہ اس کی ہدایات ایسے مسائل کے بارے میں ہوں جو عملا تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔ قصہ آدمیت کے اس پہلے مرحلے کے بعد آنے والے اس وقفے کا تعلق عرب جاہلیت کی واقعی صورت حال کے ساتھ ہے ۔ قریش نے دوسروں عربوں کے مقابلے میں اپنے لئے کچھ حقوق مختص کئے ہوئے تھے ۔ لوگ باہر سے حج بیت اللہ کے لئے آتے تھے جسے قریش نے بت خانہ بنا دیا تھا اور یہ حقوق وہ اپنے لئے بعض جعلی تصورات کی اساس پر مختص کرتے تھے اور اسے اللہ کی شریعت قرار دیتے تھے ۔ ان تصورات کو انہیں نے قانون شکل دے رکھی تھی اور اسے شریعت کہتے تھے تاکہ دوسرے مشرکین ان قوانین کی پیروی کریں ۔ ہر جاہلیت میں کاہن ‘ سردار ‘ گدی نشین لوگ عوام الناس کے لئے ایسے ہی اصول گھڑ لیتے ہیں ۔ قریش نے اپنے لئے ایک خاص لقب اختیار کیا ہوا تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے ۔ اور اپنے لئے انہوں نے بعض حقوق مختص کر رکھے تھے جو دوسرے عربوں کو حاصل نہ تھے ۔ ان حقوق میں سے بعض طواف بیت اللہ کے بارے میں تھے ۔ صرف ان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے زیر استعمال کپڑوں میں طواف کرسکتے تھے ‘ رہے دوسرے عرب تو وہ ان کپڑوں میں حج نہ کرسکتے تھے جو کبھی کسی نے پہنے ہوں ۔ اب ان لوگوں کیلئے دو صورتیں تھیں یا تو وہ قریش سے کپڑے مستعار لیتے تھے تاکہ وہ طواف کرلیں اور یا اپنے لئے نئے کپڑے بنواتے تھے اور اگر وہ ان دونوں صورتوں پر عمل نہ کرسکتے تو پھر وہ ننگے طواف کرتے اور ان میں عورتیں بھی شامل ہوتیں ۔ علامہ ابن کثیر کہتے ہیں ” ماسوائے قریش کے دوسرے عرب ان کپڑوں میں طواف نہ کرسکتے تھے جو انہوں نے اس سے پہلے پہن لئے ہوتے تھے ۔ اس بات کے پیچھے ان کا یہ نظریہ تھا کہ چونکہ ان کپڑوں میں وہ اللہ کی نافرمانی کرتے رہے ہیں اس لئے ان میں ہمارے طواف کرنا درست نہیں ہے ۔ قریش جو حمس کہلاتے تھے ‘ ان کا یہ حق تھا کہ وہ اپنے طواف کرلیتا ‘ کسی کے پاس جدید کپڑے ہوتے تو بھی وہ طواف کرلیتا ‘ لیکن طواف کے بعد اسے پھینک دیتا اور وہ کسی کی ملکیت نہ ہوتا ۔ اگر کسی کو نہ نیا کپڑا ملتا اور نہ عاریتا اہل قریش میں سے دستیاب ہوتا تو وہ ننگا طواف کرتا ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک عورت ننگی حالت میں طواف کر رہی ہے ‘ اس صورت میں وہ اندام نہائی کو ڈھانپ لیتی ۔ لیکن جن عورتوں کو ایسی حالت میں طواف کرنا پڑتا وہ اکثر اوقات رات کے وقت طواف کرتیں ۔ یہ رسوم انہوں نے اپنی جانب سے گھڑ لی تھیں اور آباؤ اجداد کے وقت سے وہ ان پر عمل پیرا تھے ۔ وہ عقیدہ یہ رکھتے تھے کہ ان کا یہ جدی فعل شریعت الہیہ پر مبنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انکی اس بات پر حرف گیری فرمائی ۔ آیت ” وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاء نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا “۔ (7 : 28) ” اور جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے آباء کو ایسا ہی کرتے پایا ہے اور یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ۔ “ (قل ای) ’ اے پیغمبر کہہ دے (ان اللہ لا یامر بالفحشاء (7 : 28) ” بیشک اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ۔ “ یعنی تم جو کچھ کر رہے ہو یہ ایک فحش کام ہے اور قابل نفرت ہے اور اللہ ایسے قابل نفرت کاموں کا کبھی حکم نہیں دیتا ۔ آیت ” أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ” کیا تم اللہ پر وہ افتراء باندھتے ہو جو تمہارے علم نہیں ہے ۔ “ یعنی تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جن کی صحت کا خود تمہیں بھی یقین نہیں ہے ۔ آیت ” قل امر ربی بالقسط “۔ (7 : 29) ” کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ۔ “ آیت ” قُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ “۔ (7 : 29) ” اس کا حکم یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر “۔ یعنی اس نے جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ عبادت اور عبادت کے مقامات کو درست رکھو اور ان رسولوں کی اطاعت کرو جو معجزات لے کر آئے ہیں اور عبادت صرف اللہ کی کرو ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان دوبنیادی ارکان کے سوا کسی کی عبادت کو قبول نہیں کرتا یعنی یہ کہ وہ عمل شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے یہ کہ وہ شرک سے خالص ہو۔ عبادت ‘ طواف اور لباس کے بارے میں شرعی قوانین اور خوراک کے معاملات میں عربوں کی جاہلی سوسائٹی میں جو عملی صورت حال اس وقت موجود تھی اور جسے وہ شریعت منجانب اللہ سمجھتے تھے ‘ اس عملی صورت حال کے بارے میں یہ تبصرہ آیا ہے یہ تبصرہ انسانیت کی تخلیق کی عظیم کہانی کے ضمن میں آیا ہے ۔ کھانے کا ذکر شجر ممنوعہ کے ضمن میں اور لباس کا ذکر واقعہ نزع لباس میں تھا جو شیطان کی سازش سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا سے اتار دیا گیا ۔ اس سازش کا شکار ہو کر وہ اس ممنوعہ درخت کے پھل کو کھا گئے تھے اور انسان کی فطری حیا کا ذکر بھی اس میں آگیا تھا کہ جب ان سے لباس جنت اتار دیا گیا تو پھر وہ جنت کے درختوں کے پتے اوپر لپٹینے لگے اور یوں وہ ستر پوشی کرنے لگے ۔ غرض اس قصے میں جو واقعات آئے اور اس کے بعد ان پر جو تبصرہ ہوا ‘ وہ عربوں کے اندر موجود جاہلی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ قصہ قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی آئے گا۔ لیکن اس وقت اس کے لانے کے مقاصد اور ہوں گے اور اس پر پھر تبصرے اور نتائج بھی اور ہوں گے ۔ قرآن کریم ہر جگہ جو قصہ بھی لاتا ہے وہ انسانوں کی کسی عملی صورت حال پر ہی پیش کرتا ہے اور اس پر پھر تبصرے بھی ان مقاصد اور صورت حالات کے مطابق کرتا ہے ۔ چناچہ قرآن کریم ہر مقام کے حالات کے مطابق قصے کی متعلقہ کڑی پیش کرتا ہے اور ہر مقام کے مزاج کے مطابق اس کی تفصیلات دیتا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے فصل قصص ‘ میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں)
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ‘ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ‘ شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔

آیت ” نمبر 26۔ یہ اللہ کی جانب سے انسانوں کے نام ایک درد انگیز پکار ہے اور یہ پکار تخلیق انسانیت کی کہانی کے منظر کے بعد آئی ہے ۔ خصوصا اس کے اس حصے کے بعد جس میں شیطان کی سازش سے حضرت آدم اور حوا کے جسموں سے جنت کا لباس اتار دیا گیا اور جس میں دونوں اس طرح دکھائی دیتے تھے کہ وہ اپنے جسموں کے اوپر جنت کے پتوں کو چسپاں کر رہے تھے ۔ یہ دن انہیں اللہ کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے دیکھنے پڑے تھے کیونکہ انہیں ایک خاص درخت کا پھل کھانے کی صریح ممانعت کی گئی تھی ۔ یہ ایک لغزش تھی اور اس کی نوعیت ایسی نہ تھی جس کی تفصیلات اہل کتاب کی منحرف کتابوں تورات وانجیل کے اندر موجود ہیں اور جن کا پر تو آج مغرب کے تمام علوم وفنون پر صاف صاف نظر آتا ہے ۔ دور جدید میں فرائڈ کے افکار اس پر مستزاد ہیں ۔ ان اساطیر اور فضول قصوں میں یہ کہا گیا ہے کہ شجر ممنوعہ شجر علم تھا اور شجر حیات تھا اور اگر آدم وحوا اس کا پھل کھالیتے تو اللہ کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھی خدا کی طرح الہ بن جاتے ۔ نہ یہ ممانعت جنسی ملاپ کی ممانعت تھی جس طرح فرائڈ اور مغربی علوم وفنون اور مغربی ارٹ اس بات کا انعکاس کرتے ہیں اور انہوں نے ان کہانیوں کی اساس پر جنسی بےراہ روای کا فلسفہ فرائڈ کے خیالات کی شکل میں اپنا رکھا ہے ۔ غرض حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش کے نتیجے میں ان کے لباس کے اتر جانے کے منظر اور پھر دور جاہلیت میں عریانی کی حالت میں طواف کرنے کی صورت حال کے پیش نظریہ پکار آتی ہے کہ اے انسان اللہ نے تم پر کس قدر رحمت اور شفقت کی ہے کہ تمہاری زینت اور شرمگاہوں کو چھپانے کے لئے لباس کا انتظام کیا اور اسے تمہارے ستر کے لئے ایک لازمی قانون کی شکل دی ۔ اگر لباس نہ ہوتا تو تم برہنگی کی حالت میں نہایت ہی مکروہ نظر آتے ۔ (انزلنا) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ لباس بطور قانون لازم ہے ۔ لباس کا اطلاق کبھی تو ستر پر ہوتا ہے یعنی داخل ستر اور ریاش کا اطلاق اس لباس پر ہوتا ہے جو زیب وزینت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی ظاہری لباس ۔ لفظ ریاش کے معنی میں عیش و عشرت اور مال و دولت ہے ان سب معانی کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اور یہ لازم وملزوم ہیں ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً “۔ (7 : 26) ” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ تقوی کے لباس کا ذکر فرماتے ہیں اور ساتھ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں کہ لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ عبدالرحمن ابن اسلم نے یہ کہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے تو یہ لباس تقوی ہے ۔ “ لباس ستر اور لباس تقوی شریعت میں لازم وملزوم ہیں ۔ لباس ستر جسم کو چھپانے اور زینت کے لئے ہے اور لباس تقوی دل کے قابل شرم حالات کو چھپاتا ہے اور قلب کی زیب وزینت بنتا ہے ۔ دونوں لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ خدا کے خوف اور خدا سے حیاء کرنے کے شعور کے نتیجے ہی میں انسان جسم کے قابل شرم حصوں کو کھلا رکھنا قبیح سمجھتا ہے اور جو شخص اللہ سے حیا نہیں کرتا اور اس نہیں ڈرتا ‘ اس کے لئے جسمانی عریانی کوئی قابل ملامت بات نہیں ہوتی ۔ چناچہ اسلام کی نظر میں تقوی اور حیا سے عاری ہونا اور لباس کو اتار دینا ایک ہی جیسا قبیح فعل ہے ۔ جسم کا چھپانا فطری حیاء ہے اور اس کا تعلق محض کسی خاندان اور سوسائٹی کے رواج کے ساتھ نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض اور لوگ اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جو اسلامی معاشرے سے حیاء کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہو امسلمانوں کی انسانیت کو ختم کردیں اور یہ عین اس منصوبے کے مطابق ہے جو صہیونی لیڈروں نے انسانیت کی تباہی کے لئے بنایا تھا ۔ بلکہ یہ ایک فطری داعیہ ہے جس اللہ نے انسان کے اندر ودیعت کر رکھا ہے ۔ پھر یہ ایک شرعی اور قانون تقاضا ہے جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یہ توفیق دی ہے کہ وہ دنیا میں اس قانون کو نافذ کریں کیونکہ یہ زمین اللہ نے انسانوں کے اختیار میں دی ہے اور اسے انکے لئے جائے رزق بنا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اس لباس اور ستر پوشی کا قانون دے کر تم پر عظیم رحمت کی گئی ہے ۔ اس طرح اللہ نے ان کی ۔۔۔۔ متاع انسانیت کو اس انجام سے بچایا کہ وہ حیوانات کی سطح تک نیچے چلی جائے ۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں وہ تمام مسائل یاد دلا کر ان سے توقع کرتے ہیں کہ آیت ” لعلھم یذکرون “۔ (7 : 26) ” شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں “۔ اس مقام پر آ کر ایک مسلمان اچھی طرح معلوم کرسکتا ہے کہ زیب وزینت ‘ فیشن ‘ ترقی پسندی اور محبت کے نام پر انسانوں کے اخلاق کو بگاڑنے اور انہیں جسمانی طور پر ننگا کرنے کے لئے جو عظیم کوشش ہو رہی ہے وہ اس یہودی سازش کے عین مطابق ہے جو انہوں نے انسانیت کی تباہی کے لئے تیار کر رکھی ہے ۔ یہ سازش یہودیوں نے اس لئے تیار کی ہے کہ مسلمانوں کی قوت جلدی سے تباہ ہوجائے اور انہیں جلدی سے غلام بنایا جاسکے ، نیز دین اسلام کے ساتھ لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں جو محبت ابھی تک باقی ہے یہ منصوبہ اس کی مکمل بیخ کنی کے لئے بھی بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے لئین یہ یہودیوں اور ان کے ایجنٹوں کی قلمیں ‘ فلمیں ‘ تمام تعلیمی ادارے اور میڈیا مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں حالانکہ انسان کے لئے زینت عریانی میں نہیں ستر میں پوشیدہ ہے ۔ یہ حیوانات کی زینت ہے کہ وہ ننگے رہیں ‘ لیکن آج کا انسان جاہلیت اور پسماندگی کی طرف لوٹ رہا ہے اور انسان کے بجائے حیوان بنا رہا ہے ۔ کیا انسان اس نعمت کو یاد نہیں کر رہا ہے جو اللہ نے اسے انسان بنانے کے حوالے سے کی ہے ۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

آیت ” نمبر 27 تا 30۔ یہ اللہ کی جانب سے انسان کے نام دوسری پکار ہے ۔ یہ غور وفکر کے اس وقفے میں ہے جو ان کے والدین حضرت آدم وحوا کے قصے کے دوران کیا گیا ہے ۔ اور خصوصا اس منظر پر بطور تبصرہ کیا گیا ہے جس میں شیطان نے اپنی گہری سازش کے ذریعے انہیں بےلباس کردیا کہ انہوں نے اس سازش کا شکار ہو کر اللہ کے صریح حکم کو بھلا دیا اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں ان سے لغزش سرزد ہوگئی ۔ نیز ہم نے جاہلیت عربیہ کے دور میں برہنہ طواف کے بارے میں جو کچھ کہا اس کی روشنی میں بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ نے کیوں اس انداز میں بنی نوع انسان کو پکارا کیونکہ وہ اس عریانی کو منجانب اللہ شریعت سمجھتے تھے ۔ پہلی ندا میں تو بنی آدم کو یہ یاد دلایا گیا کہ ان کے ابو الآباء کے ساتھ کیا پیش آیا اور کس طرح اللہ نے انکی شرمگاہوں کے چھپانے اور پھر ان کی زیب وزینت کا انتظام فرمایا ۔ رہی یہ دوسری پکار تو یہ بنی آدم کو عموما اور مشرکین مکہ کو خصوصا یہ یاد دہانی ہے جس سے اسلام سب سے پہلے خطاب کررہا تھا کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں اور اپنے لئے خود نظام زندگی اور رسم و رواج اور شریعت تصنیف نہ کریں اور اس طرح شیطان کے فتنے کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس نے تمہارے باپ کے خلاف یہی سازش کی تھی ‘ اس کو سازش کے ذریعے جنت سے نکلوایا تھا ‘ اور انہیں جنت کے لباس سے محروم کر کے ان کی شرمگاہوں کو ان کے سامنے ننگا کردیا تھا ۔ لہذا ہر وہ تحریک جو عریانی کی دعوت دیتی ہے وہ شیطانی تحریک ہے اور جاہلی تحریک ہے خواہ یہ زمانہ قدیم کی ہو یا دور جدید کی ۔ یہ تحریک تمہارے دشمن کی تحریک ہے ۔ شیطان تو تمہارا کھلا دشمن تھا اور وہ آدم اور اس کی اولاد کا دائمی دشمن ہے ۔ عریانی کی تحریک بھی انسان اور شیطان کی دشمنی کی ہمی گیر تحریک کا ایک پہلو ہے ۔ لہذا بنی آدم کو اپنے دشمن کو یہ موقع نہ دینا چاہئے کہ وہ اس معرکہ میں کامیاب ہو اور اس طرح انسانوں اور جنوں نے جہنم کو بھر دیئے جانے کا باعث بن سکے ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “۔ (7 : 27) ” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “ انسانوں کو زیادہ ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں یہ اطلاع بھی دیتے ہیں کہ شیطان اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے ‘ لہذا وہ اپنے پوشیدہ وسائل کے ذریعے تمہارے بدراہ کرنے پر زیادہ قدرت رکھتا ہے ۔ لہذا انہیں ڈرنا چاہئے اور شدید احتیاط کرنا چاہئے ۔ ہر وقت چوکنا رہنا اور حد درجہ محتاط رہنا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں آلے اور تمہیں پتہ ہی نہ ہو۔ آیت ” إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ “۔ (7 : 27) ” وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ “ ۔ اور اب اس فقرے کا آخری بند آتا ہے جو نہایت ہی موثر ہے اور اس طرف ہدایت کرتا ہے کہ تم احتیاط کرو کیونکہ تقدیر الہی کے نظام نے ان لوگوں کے ساتھ شیطان کو بطور دوست لگا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ‘ اور اس شخص کی بربادی کی کیا انتہا ہوگی جس کا دوست شیطان ہو ۔ ظاہر ہے کہ وہ ان پر قبضہ کرلے گا گمراہ کرے گا اور ان کی نکیل تھام کر جدھر چاہے گا ‘ لے جائے گا اور ان کا کوئی مددگار اور معاون نہ ہوگا ۔ اور نہ اللہ ان کا دوست ہوگا ۔ آیت ” إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (27) ” ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے ‘ شیطان ان کا یار اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کے بالمقابل حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اللہ ان کا ولی اور ناصر ہوتا ہے ۔ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے اور اس کے نتائج بھی خوفناک ہیں اور اس حقیقت کو یہاں ایک کلیہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ اس کے بعد اس کلیہ کی ایک مثال بھی پیش کردی جاتی ہے ۔ جو عملا مشرکین کی زندگیوں میں موجود ہوتی ہے ۔ چناچہ معلوم ہوجاتا ہے کہ شیطان کس طرح ولی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کی ولایت لوگوں کے تصورات اور عملی زندگی میں کس طرح کام کرتی ہے۔ نمونہ ملاحظہ ہو۔ آیت ” وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاء نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا “۔ (7 : 28) یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ “ مشرکین عرب اس کے قائل تھے اور اس پر عمل پیرا بھی تھے وہ برہنگی کی حالت میں طوائف کرکے بیت الحرام میں اس فحاشی کا ارتکاب کرتے تھے اور اس میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں لیکن وہ زعم یہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ اس طرح کہ اللہ نے ہمارے آباء کو اس کا حکم دیا تھا اس لئے وہ ایسا ہی کرتے چلے آئے تھے اور ہم کو یہ رسم وراثت میں ملی ہے اس لئے ہم بھی ایسا کرتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے ‘ لیکن وہ دور جدید کی جاہلیت کی طرح مغرور اور سرکش نہ تھے ۔ آج کے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا معاملات زندگی کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ‘ یہ تو عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے لئے جو قوانین ‘ جو اقتدار اور جو رسومات چاہیں وضع کرلیں۔ اس میں اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ پرانی جاہلیت کے پیروکار تو فقط یہ جرم کرتے تھے کہ اپنے لئے خود قوانین اور دستور حیات وضع کرتے اور پھر کہتے کہ یہ امر الہی ہے ۔ یہ غلطی زیادہ بھیانک تو ہو سکتی ہے اور زیادہ قابل ملامت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دین کے نام پر دھوکہ اور فریب ہے اور لوگوں کے جذبہ دین سے بھی غلط فائدہ اٹھانا ہے لیکن خود سری اور غرور کے اعتبار سے یہ ان لوگوں سے کم تھے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ لوگوں کے لئے قانون سازی کا حق صرف ان کو حاصل ہے اور وہی یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ لوگوں کے لئے کیا مفید ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ یہ تم اللہ پر خالص افترا باندھتے ہو اور یہ کہ اللہ کی شریعت اور اس کا قانونی نظام اپنے مزاج کے اعتبار سے فحاشی کو پسند نہیں کرتا ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کس طرح تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ تم فحاشی وعریانی کا ارتکاب کرو۔