7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟

آیت ” قُلْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ” ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ “۔ اللہ تعالیٰ مطلقا فحاشی کے خلاف ہیں اور فحاشی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی بھی معاملے میں مقررہ حد سے گزر جائے ۔ عریانی بھی اسی کی تعریف میں آتی ہے اس لئے اللہ اس کا حکم کیسے دے سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کئے ہیں اور وہ یہ حکم نہیں دیتا کہ اس کے مقرر کردہ حدود توڑے جائیں ۔ اس نے شرم ‘ حیاء اور تقوی کا حکم دیا ہے تو پھر عریانی کا حکم کیسے صادر ہو سکتا ہے ۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ کے اس حکم کی اطلاع کس نے دی ہے ۔ کیونکہ اللہ کے احکام اور قوانین محض دعوی سے تو ثابت نہیں ہوتے ۔ اللہ کے احکام اور قوانین تو اس کی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے اللہ کے احکام معلوم ہوں ۔ کوئی انسان کسی بات کے اللہ اور رسول کی جانب سے آنے کا دعوی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ثابت نہ ہو ۔ اس لئے اللہ کے دین میں سند کے بغیر کوئی قول نہیں کیا جاسکتا ‘ ورنہ اس فکری انتشار کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا کہ لوگ بات تو خود کریں مگر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیں ۔ جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے اور اس کے جو بنیادی عناصر ہوتے ہیں وہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب بھی لوگ جاہلیت کی طرف لوٹتے ہیں وہ ایک ہی طرح کی بات کرتے ہیں اور ان کی سوچ ایک ہی طرح کی ہوتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ قدیم اور جدید دونوں جاہلیتوں کے درمیان ایک طویل زمانہ حائل ہے اور وہ مکان کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہیں ۔ آج ہم جس جاہلیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ اس میں کوئی ایک جھوٹا اٹھاتا ہے اور وہ باتیں کہنا شروع کردیتا جو اس کی خواہشات نفسانیہ سے ڈکٹیٹ کرتی ہیں اور پھر کہتا ہے کہ یہ ہے اللہ کی شرعیت ۔ پھر ایک اور خود سر اور سرکش اٹھتا ہے اور اللہ کے دین کے صریح اور بدیہی امور کا انکار کرتا ہے ۔ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ کا دین اس قسم کے احکام پر مشتمل نہیں ہوسکتا ۔ دین کس طرح یہ احکام دے سکتا ہے ‘ دین ان امور سے کس طرح منع کرسکتا ہے اور ایسے لوگوں سے اگر دلیل پوچھی جائے تو انکی خواہش نفس کے سوا اور کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی ۔ ہم کہتے ہیں ۔ آیت ” أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ان کے اس دعوی کی تردید کے بعد کہ اللہ نے اس قسم کی فحاشی کا حکم نہیں دیا ‘ اب اللہ کے احکام تو اس کے بالکل متضاد اور برعکس ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو عدل اعتدال کا حکم دیتا ہے اور حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے وہ حدود سے تجاوز اور فحاشی کا حکم ہر گز نہی دیتا ۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ عبادت یا شعائر زندگی اور پکارنے کے معاملے میں صرف اللہ کی بندگی کرو جیسا کہ اللہ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں صریح ہدایات دی ہیں۔ اللہ نے اس مسئلے کو یوں نہیں چھوڑ دیا کہ اس کے بارے میں ہر انسان جو چاہے رائے رکھے اور پھر یہ دعوی کرے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ بلکہ اللہ نے یہ حکم دے دیا ہے کہ دین خالص اللہ کے لئے ہوگا اور صرف اللہ کی مکمل بندگی ہوگی ۔ نہ کوئی کسی کا غلام اور مطیع ہوگا اور نہ کوئی کسی کے ذاتی احکام کا پابند ہوگا ۔ آیت ” قُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ “۔ (7 : 29) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ! میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے ‘ اور ان کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو۔ اس کے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر ۔ “ یہ تو ہیں اللہ کی جانب سے مامورات اور یہ اس صورت حال کے برعکس ہے جس پر وہ قائم ہیں ۔ یہ اس کے بھی خلاف ہیں کہ وہ اپنے آباء کی اطاعت کریں اور آباء کے قوانین کی اطاعت کریں کیونکہ یہ بھی تو ہماری طرح کے بندے تھے اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ اسے سمجھتے بھی منجانب اللہ ہیں۔ نیز یہ احکام اس عریانی اور ننگے پن کے بھی خلاف ہیں ‘ جبکہ اللہ نے آدم وحوا پر یہ احسان کیا تھا کہ انہیں لباس دے کر اور زیب وزینت کا سامان دے کر ان کو حکم دیا تھا کہ اپنے آپ کو ڈھانپ لو اور اپنی شکل و صورت اچھی بناؤ پھر یہ احکام اس صورت حال کے بھی خلاف تھے جس میں انہوں نے اپنے عقائد اور نظام زندگی میں شرک کو داخل کردیا ہے ۔ یہاں آکر اب لہجہ ذرا سخت ہوجاتا ہے اور سخت الفاظ میں سبق یاد دلایا جاتا ہے ۔ انجام بد سے بھی ڈرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس چند روزہ زندگی کے خاتمے پر تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے ۔ ان کی پیشی کا منظر یہ ہوگا کہ وہ دو فریق بن جائیں گے ۔ ایک وہ فریق جو اللہ کی راہ پر ہوگا اور امر الہی کا پابند ہوگا اور دوسرا فریق وہ ہوگا جو شیطان کے احکام کا پیروکار ہوگا۔
Ayahs 7:29–30

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو ! میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے ‘ اور ان کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو۔ اس کے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر ۔ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے ‘ اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “ یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔ آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “ تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔ جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔ اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ‘ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

آیت ” نمبر 31 تا 33۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقائد پر تاکید مزید ہے۔ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ عرب جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کی اساس ان امور پر ہے ۔ یہ نظریہ پوری انسانیت کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور اسے اس بحث کے ضمن میں لایا گیا ہے جو اس کرہ ارض پوری انسانیت کی تخلیق کے قصے سے متعلق ہے۔ ان حقائق میں سے اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق ‘ انسان کے لئے جن چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اس میں سے بعض چیزوں کو خود بعض انسان حرام قرار دیتے ہیں اور کام بھی وہ اذن الہی کے بغیر کرتے ہیں اور اللہ کے قانون میں سے کسی سند کے بغیر جبکہ ان کا یہ فعل یعنی یہ تحریم وتحلیل ایک شرکیہ فعل ہے ۔ پھر یہ اللہ تعالیٰ پر ایک افتراء بھی ہے اور ان کا ذاتی زعم بھی ۔ چناچہ اللہ ان کو پکارتے ہیں کہ اللہ نے تمہاری زیب وزینت کے لئے جو سامان پیدا کیا ہے اس سے آراستہ رہو۔ عربی میں اسے ” ریش “ کہتے ہیں خصوصا عبادت کے وقت اور عبادات میں طواف بھی شامل ہے ‘ جسے وہ برہنہ حالت میں ادا کرتے تھے ۔ وہ ایسے لباسوں کو حرام قرار دیتے تھے جنہیں اللہ نے حرام قرار نہیں دیا بلکہ وہ بندوں کے لئے انعام واکرام تھا ۔ لہذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اللہ کے فراہم کردہ زیب وزینت میں اس کی عبادت کریں ‘ نہ کہ ننگے ہو کر اور نہ ہی فحاشی کرتے ہوئے ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ “۔ (7 : 31) ” اے بنی آدم ‘ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو۔ “ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو یہ بھی حکم دیتے ہیں کہ یہاں پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرو اور کھانے پینے کی قسم کی تمام چیزوں کو کام میں لاؤ ۔ لیکن اسراف نہ کرو ‘ اور دوسرے یہ کہ پاکیزہ چیزیں استعمال میں لاؤ ۔ آیت ” وکُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31) ” اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ احادیت میں وارد ہے کہ جس طرح وہ لوگ بعض اوقات لباس کو حرام قرار دیتے تھے ‘ اسی طرح وہ بعض کپڑوں کو پہننا بھی حرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ باتیں قریش نے اپنی طرف سے گھڑ لی تھیں ۔ صحیح مسلم مٰن ہشام ابن عروہ کی روایت ہے کہ عرب بیت اللہ کا طواف عریانی کی حالت میں کرتے تھے ماسوائے قریش اور ان کی اولاد کے ۔ یہ لوگ ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ‘ الا یہ کہ قریش انہیں کپڑے دیں ۔ چناچہ قریش کے مرد مردوں کو کپڑے دیتے تھے اور عورتیں عورتوں کو ‘ نیز قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ دوسرے لوگ عرفات تک جاتے تھے ۔ قریش یہ کہتے تھے کہ ہم حرم والے ہیں اس لئے کسی عرب کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ہمارے کپڑوں کے سوا کسی اور کپڑے میں طواف کرے ۔ اسی طرح جب کوئی عرب حرم میں داخل ہو تو وہ سرف اہل قریش کا کھانا کھا سکتا ہے اس لئے کہ اگر کسی عرب کا مکہ میں دوست نہ ہوتا جو اسے کپڑے عاریتا دے سکتا ‘ اور یا اگر اسے یہ سہولت حاصل نہ ہوتی کہ وہ کرایہ کے کپڑے خرید سکتا تو اس کے لئے دو راستے کھلے ہوئے تھے ‘ ایک یہ کہ وہ عریانی کی حالت میں طواف کرے اور یا کپڑوں میں طواف کرکے کپڑے پھینک دے ۔ ایسے کپڑوں کو لقی کہا جاتا تھا اور پھر انہیں کوئی بھی ہاتھ نہ لگاتا ۔ “ قرطبی ‘ احکام القرآن میں لکھتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ عرب ایمان حج میں مرغن غذا نہ کھاتے تھے اور تھوڑا بہت کھاتے تھے اور برہنہ حالت میں طواف کرتے تھے ۔ انہیں کہا گیا ” ہر عبادت کے وقت اپنے آپ کو زینت سے آراستہ کرو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ “ یعنی جو چیزیں تم پر حرام نہیں قرار دی گئی ہیں ان کو حرام کرنے میں اسراف نہ کرو۔ اس لئے کہ اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا اور حد سے تجاوز یہ بھی ہے کہ حلال چیزوں کو حرام قرار دیا جائے ۔ جائز کرنے میں حدود توڑنا اور حرام کرنے میں حدود سے آگے بڑھنا دونوں تجاوزات میں آتے ہیں۔ یہاں قرآن کریم صرف اس بات پر اکتفاء نہیں کرتا کہ ہر عبادت گاہ میں صرف لباس زیب تن کر کے جاؤ اور اللہ کے پیدا کردہ پاکیزہ رزق سے فائدہ اٹھاؤ اور کھاؤ پیو ‘ بلکہ بطور استکار ان لوگوں سے پوچھتا ہے کہ اللہ نے لوگوں کے لئے زیب وزینت کی جو چیزیں پیدا کی ہیں انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے اور جو پاکیزہ خوراک پیدا کی ہے اسے کس نے حرام قرار دیا ہے ۔ اس لئے کہ لوگوں کی جانب سے از خود رزق کو حلال قرار دینا اور اپنے اوپر زیب وزینت کو حرام قرار دینا کس کے اذن سے ہے ‘ کیونکہ حلال و حرام کا تعین من جانب شارع ہوتا ہے ۔ آیت ” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّہِ الَّتِیَ أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالْطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ “۔ (7 : 32) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کیلئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ “ اس تنبیہ آمیز سوال کے بعد یہ قرار دیا جاتا ہے کہ یہ لباس اور یہ پاکیزہ رزق اہل ایمان کا حق ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں اور وہ اس رب پر ایمان لانے والے ہیں جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اگرچہ ان چیزوں میں غیر مومن اس دنیا کی حد تک انکے ساتھ شریک ہیں لیکن قیامت میں اور اگلے جہاں میں تو یہ چیزیں خالصتا مومنین کے لئے ہیں اور وہاں کفار کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آیت ” قُلْ ہِیْ لِلَّذِیْنَ آمَنُواْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ “ (7 : 32) ” کہو ‘ یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لئے ہیں ‘ اور قیامت کے روز تو خالصتا انہیں کے لئے ہوں گی ۔ “ اس لئے اگر صورت حال یہ ہے تو یہ حرام کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ایک چیز قیامت میں تو مسلمانوں کے لئے خاص ہو اور یہاں پر حرام ہو ۔
Ayahs 7:32–33

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کیلئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ کہو ‘ یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لئے ہیں ‘ اور قیامت کے روز تو خالصتا انہیں کے لئے ہوں گی ۔ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے)

آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32) ” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “ اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔ آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33) اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے) یہ ہیں وہ چیزیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ وہ فحش افعال جو حدود الہیہ سے متجاوز ہوں ۔ چاہے وہ ظاہر ہوں یا خفیہ ہوں ‘ (اثم) ہر معصیت کو کہتے ہیں ۔ (بغی بغیر الحق) وہ ظلم جو حق و انصاف کے خلاف ہو ‘ اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جبکہ شرک کی پست پر کوئی قوت دلیل نہیں ہوتی ۔ اس شرک میں وہ بھی شامل ہے جو عرب جاہلیت میں بھی تھی اور اس کے علاوہ بھی تمام جاہلیتوں میں تھی کہ قانون سازی میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے حالانکہ قانون سازی اور شریعت سازی اللہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا جو خود نسبت کرنے والے کے علم میں بھی نہ ہوں ‘ مثلا وہ جن چیزوں کو حلال و حرام قرار دیتے تھے وہ ان کے علم میں نہ تھیں اور وہ بغیر علم ویقین کے ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے ۔ یہ بجائے خود شرک ہے ۔ اس سلسلے میں کلبی نے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ جب مشرکین کو یہ خطاب کیا گیا اور ان پر یہ گرفت کی گئی تو اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ” جب مسلمانوں نے لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کیا تو مشرکین نے ان کو غیرت دلائی اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جاہلیت اپنے پیروکاروں کو کس حد تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض لوگ ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ ان کی فطرت نے اپنی حالت بدل دی تھی اور ان کی فطرت اس حقیقی شرم وحیا سے محروم ہوچکی تھی جس کے بارے میں قصہ آدم وابلیس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ شرم وحیا آدم وحوا میں موجود تھا کیونکہ ” جب انہوں نے درخت کو چکھا تو انکی شرمگائیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے لپیٹنے لگے ۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمان تو لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور زیب وزینت کے ساتھ طواف کر رہے ہیں اور ستر و شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ ان میں فطرت کے عین مطابق انسانی خصوصیات پروان چڑھیں اور وہ حیوانوں کی طرح عریانی سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں نے یہ فطری حال اختیار کی تو انہوں نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ۔ یہ ہے جاہلیت کا کارنامہ ۔ وہ لوگوں کی فطرت ‘ ان کی روح ‘ انکے تصورات اور انکی اقدار اور پیمانوں کو مسخ کردیتی ہے ۔ آج دور جدید کی جاہلیت لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کررہی ہے جو ان کے ساتھ جاہلیت عربیہ کر رہی تھی یا اس سے پہلے یونانی جاہلیت کر رہی تھی یا رومی جاہلیت کر رہی تھی یا فارس کی مشرک جاہلیت کر رہی تھی غرض ہر خطے اور ہر دور میں جاہلیت کے یہی خدوخال رہے ہیں ۔ دور جدید کی جاہلیت کیا کر رہی ہے ‘ صرف یہ کہ وہ لوگوں کو ننگا کر رہی ہے ۔ ان کے جسم سے شرم وحیا اور تقوی کے لباس کا اتار رہی ہے ۔ اس کام کو وہ ترقی اور تہذیب و تمدن کا نام دیتی ہے ۔ اس کے بعد وہ شریف زادوں اور شریف زادیوں کو طعنہ دیتی ہے کہ وہ رجعت پسند ‘ مقلد روایت پسند اور دیہاتی ہیں۔ مسخ فطرت کو مسخ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ فطرت سے روگردانی کرنے کو فطرت کا فساد ہی کہا جاسکتا ہے ۔ حسن وقبح کے پیمانے بدل جانے کو ضمر کا بدلنا ہی کہا جاسکتا ہے اور اس پر اگر کوئی فخر بھی کرتا ہے تو وہ اس کا احمقانہ غرور ہی ہوگا بلکہ صریح سرکشی ہوگی ۔ کیونکہ اس بیماری اس حیوانیت اور اس سرکشی کا تعلق شرک کے ساتھ ہے ‘ یہ دراصل اربابا من دون اللہ کی طرف سے ان کے قانون سازی اور ضابطہ بندی ہے اور انہوں نے مل کر ایک دوسرے کو اس کی وصیت کی ہے ۔ عرب مشرکین اس قسم کی ہدایات اپنے علاقے کے حاکموں سے اخذ کرتے تھے اور یہ حکام ان کا استحصال کرتے تھے ‘ محض ان کی جہالت کی وجہ سے اور ان سے اس قسم کے غیر معقول کام کروا کر ان پر اپنی قیادت وسیادت مسلط کرتے جن میں کاہن سردار اور امراء سب شامل تھے ۔ آج بھی لوگ اپنی دنیاوی قیادتوں سے ایسی ہی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور ان کی ہدایات کی تعمیل خدائی احکام کی طرح فرض ہوتی ہے ۔ کوئی انہیں رد نہیں کرسکتا ۔ آج آرائش کی دکانیں اور ان کی منصوبہ بندی کرنے والے ‘ اسی طرح فیشن کی منصوبہ بندی کرنے والے وہ ارباب ہیں جن کے جال میں دورجدید کی جاہلیت میں بسنے والی تمام عورتیں اور مرد پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ارباب اپنے احکام صادر کرتے ہیں اور ان کی تعمیل وہ تمام لوگ کرتے ہیں جو پوری دنیا میں ننگی ٹکڑیوں کی شکل میں موجود ہیں اور یہ لوگ ان منصوبہ سازوں کے احکام کی تعمیل نہایت ہی بےبسی کی حالت میں کرتے ہیں ۔ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے نئے سال کے لئے جو فیشن تیار کرلیا گیا ہے وہ انکے حالات اور ضروریات کے لئے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ لباس ان کیلئے مفید ہے یا نہیں بلکہ نہایت ہی عاجزی سے یہ لوگ ان کے اشاروں پر چلتے ہیں ۔ اگر یہ نہ چلیں تو ان پر دوسرے مویشی اور حیوانات حرف گیری کرتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آرائش وزیبائش اور فیشن ہاؤس کے پیچھے کون سے قوتیں کام کر رہی ہیں ؟ اور یہ کون سی قوتیں ہیں جو لوگوں کو ننگا کر رہی ہیں ۔ ناولوں اور فلموں کے پیچھے کیا مقاصد کام کررہے ہیں ؟ رسالوں اور اخباروں کی پشت پر کون سی قوتیں کار فرما ہیں ۔ بعض اخبارات تو مسلسل اخلاقی پستی اور اخلاقی فساد پھیلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کی پشت پر وہ کون سی خفیہ قوت ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تمام عالمی فساد کی پشت پر یہودیوں کی قوت ہے ۔ یہ یہودی ہی ہیں جو دراصل ان لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی نکیل ان کے ہاتھ میں دے دی ہے ۔ وہ اپنے مقاصد دنیا میں اس قسم کی لہریں پیدا کرکے حاصل کرتے ہیں اور پوری دنیا ان مقاصد کیلئے بھاری قیمت ادا کرکے کام کر رہی ہے ۔ ان مقاصد کے لئے وہ لوگوں کے اندر نفسیاتی بےچینی پھیلاتے ہیں ‘ انسانی فطرت کو بدلتے ہیں اور انسان کو فیشن اور جنسی بےراہ روی کے ہاتھ میں ایک کھلونا بنادیا گیا ہے ۔ اس اسراف وتبذیر اور اخلاقی فساد کے ذریعے یہ یہودی قوت اپنے معاشی مقاصد پورے کرتی ہے ۔ کیونکہ فیشن اور میک اپ اور سامان تعیش کے کارخانے عالمی یہودیت نے لگا رکھے ہیں اور یہ لوگوں کے اندر مانگ پیدا کرکے پھر ان اشیاء کو ان پر ہی فروخت کرتے ہیں ۔ لباس اور فیشن کا معاملہ اسلامی شریعت سے جدا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام حیات میں اس کے لئے بھی ضابطہ مقرر ہے ۔ اور اسی لئے اسے ایمان اور توحید وشرک کے اساسی مسئلے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ۔ مختلف اسباب کی بناء پر یہ مسئلہ نظریات اور شریعت کے ساتھ مربوط ہے ۔ ٭ لباس کا تعلق اللہ کے اقتدار اعلی سے ہے کیونکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی طرف ہمیں اس معاملے میں رجوع کرنا ہے کیونکہ لباس ایک ایسی چیز ہے جس کے اثرات اخلاق ‘ معیشت اور زندگی کے دوسرے اہم معاملات پر پڑتے ہیں ۔ ٭ لباس ہی کے ذریعے انسان کی انسانی خصوصیات کا ظہور ہوتا ہے اور انسانی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دبا کر انسانی پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ ہر جاہلیت کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ عوام الناس کے ذوق ‘ ان کے اخلاق اور ان کے حسن وقبح کے پیمانے بدل دیتی ہے اور عریانی اور حیوانیت کو ترقی کا نام دیتی ہے ۔ اور ستر اور حیاچشمی کو رجعت پسندی اور پسماندگی کہتی ہے ۔ ایسی صورت میں انسانی فطرت کو مسخ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمارے ہاں آج اس قسم کے جاہل موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ لباس کا دین اور مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کا عورتوں کے لباس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین و مذہب اور آرائش وزیبائش کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے ؟ یہ ہے وہ فکری بگاڑ جو جاہلیت ہر دور میں اور ہر جگہ پیدا کرتی ہے ۔ بظاہر تو لباس کا مسئلہ ایک جزئی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن اسلام اور رب تعالیٰ کے ہاں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ایک تو اس کا تعلق توحید وشرک کے مسئلے سے ہے ‘ دوسرے اس کا تعلق انسان کے اخلاق ومعاشرے کی اصلاح و فساد کے ساتھ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس پر ایک نہایت ہی موثر اور پرزور تبصرہ کیا گیا ہے ۔ یہ تبصرہ عموما قرآن کریم میں بڑے بڑے اور اہم مسائل پر بحث کے بعد کیا گیا ہے ۔ اس تبصرے میں بنی آدم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں اپنی اصل حقیقت پر بھی غور کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ان کا رہنا اور سہنا بہرحال ایک محدود مدت تک کے لئے ہے اور ایک دن انہیں یہاں سے جانا ہے جس کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک منٹ کی تاخیر وتقدیم نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

ہر قوم کے لئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے ‘ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم بھی نہیں ہوتی ۔

آیت ” نمبر 34۔ اسلامی تصورحیات کا یہ ایک اساسی عقیدہ ہے۔ اور قرآن کریم بار بار غافل اور ناشکرے دلووں کے اندر اس کا جگاتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی اس زندگی اور اس کی محدود مہلت کو دائمی نہ سمجھ لیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ۔ یہاں اس مہلت سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کی نسل انسانی کے لئے طبیعی زندگی کی ایک حد ہے اور اس سے مراد ملت اور تہذیب کی عمر طبیعی بھی ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کے اقتدار اعلی اور دنیا میں اس کی برتری کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ مراد کسی نسل کی عمر طبیعی ہو یا کسی ملت کی عمر طبیعی ہو ‘ بہرحال جب مہلت ختم ہو تو اس کے بعد ان کا زندہ رہنا مقتدر اعلی رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ۔ یہاں بحث کے خاتمہ سے پہلے ایک عجیب نکتے پر اظہار خیال ضروری ہے۔ سورة انعام اور سورة اعراف میں جاہلیت کے زاوے سے نذر ونیاز ‘ حلال و حرام کے تعین کے مسائل پر قرآن نے جو منہاج بحث اختیار کیا اور مسائل لباس اور خوراک اور کھانوں کے مسائل پر جو بحث کی گئی اس میں ایک عجیب مماثلت پائی جاتی ہے ۔ وہاں ذبیحوں ‘ نذر ونیاز ‘ مویشیوں اور کھانوں پر بحث کا آغاز اس طرح کیا گیا کہ سب سے پہلے اس صورت حالات کو سامنے لایا گیا جو عملا موجود تھی اور کہا گیا کہ یہ اللہ پر افتراء ہے کہ اس صورت حالات کو منجانب اللہ شریعت سے تعبیر کیا جائے ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ تم اس پر کوئی دلیل پیش کرو اگر تمہارے اس کوئی سند ہے تو ۔ کہا گیا ۔ آیت ” ام کنتم شھدا اذ وصکم اللہ بھذا “۔ کہ جب اللہ نے یہ شریعت بنائی اور تمہیں تلقین کی کہ اس پر عمل کرو کیا تم خود اس وقت موجود تھے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ اس لئے بولے کہ لوگوں کو بغیر علم کے وہ گمراہ کرے ‘ ایسا شخص ظالم ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ اس کے بعد بیان یوں آگے بڑھا کہ کفار نے کہا کہ وہ جو شرک کر رہے ہیں وہ امر الہی کے نتیجے میں ہے ‘ اگر اللہ نہ چاہتا تو ایسا نہ ہوتا آیت ” سیقول الذین اشرکوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے ۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا ۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ ‘ تم تو ماسوائے ظن وتخمین کے کسی اور چیز کی پیروی نہیں کر رہے ہو ‘ بلکہ تم اپنی جانب سے باتیں گھڑتے ہو ‘ کہہ دو اللہ ہی کے پاس حجت بالغہ ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ کہہ دو ‘ لاؤ اپنے گواہوں کو جو یہ شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اے پیغمبر اگر کوئی گواہ یہ شہادت دے بھی تو تم اس کے ساتھ شہادت نہ دو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر قرار دیتے ہیں ۔ اس کے بعد وہاں ان کے ان مزعومات اور مفتریات کو مضحکہ خیز بتایا گیا اور کہا گیا کہ آؤ ‘ ہم تمہیں بتائیں کہ اللہ کی جانب سے کیا حرام ہے ‘ کیونکہ حلال و حرام کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ اور وہی کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے سکتا ہے ۔ فرمایا آیت ” قل تعالواـ۔۔۔۔۔۔ “۔ کہہ دو آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کیا ہے ؟ یہ کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ “۔ یہاں بھی اسی منہاج بحث کو اختیار کیا گیا ہے ۔ وہی مدارج بیان یہاں بھی ہیں ۔ پہلے ان کی صورت حالات کو پیش کیا گیا کہ وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور از خود حلال و حرام کے حدود مقرر کرتے ہیں ‘ خصوصا لباس اور کھانوں کے معاملات میں ۔ پھر انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ فحاشی اور شرک جیسے خطرناک گناہوں میں مبتلا ہیں اور ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی گئی کہ شیطان نے جنت میں کس طرح تمہارے باپ کو بےلباس کیا اور پھر یہ کہا گیا کہ لباس ستر اور لباس زینت تمہارے لئے اتارا گیا ہے اور یہ رب کی نعمت ہے ۔ اس کے بعدان کو یہ تنبیہ کی گئی کہ تمہارا یہ دعوی غلط ہے کہ یہ حلال و حرام جس پر تم عمل پیرا ہو یہ اللہ نے مقرر کئے ہوئے ہیں اور اللہ کی شریعت ہیں ۔ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ “۔ ” کہہ دیجئے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جو زینت پیدا کی ہے اسے کس نے حرام قرار دیا ہے ؟ اور پھر پاکیزہ رزق ۔۔۔۔۔ کہہ دیجئے یہ دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائیں ہیں اور قیامت میں تو خالصتا ان کے لئے ہیں ۔ ہم آیات کو مفصل ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو ایمان لائیں ۔ “ تفصیل آیات میں یقینی علم کی طرف اشارہ ہے اور ان کی پیروی ضروری ہے۔ لوگ عبادات و شریعت کے بارے میں جس ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں ۔ وہ درست نہیں ہے اور اس سلسلے میں ان کے تمام دعوے غلط ہیں ۔ اس کے بعد آخر میں بتایا جاتا ہے کہ آؤ تمہیں بتائیں اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ آیت ” قل انما حرم ربی الفواحش “۔ ” کہہ دیجئے میرے رب نے تو صرف ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا ہے ‘ مطلق گناہ ‘ بغیر حق کے دست درازی ‘ اور یہ کہ تم بےدلیل شرک کرو اور اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تمہارے پاس علم نہیں ہے ۔ “ ۔ اور جس طرح اللہ نے لباس وطعام کے بارے میں احکام دیئے اسی طرح اس نے عبادت اور اکل وشرب کے بارے میں بھی دیئے ہیں ۔ آیت ” قل امر ربی بالقسط “۔ (7 : 29) ” کہہ دیجئے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور عبادت کے وقت اپنے چہروں کو درست رکھو ‘ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ‘ اللہ اسراف کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ “۔ ان دونوں مباحث میں مسائل حلال و حرام کا تعلق ایمان اور شرک کے ساتھ جوڑا گیا ہے کیونکہ تحلیل وتحریم کا تعلق مسئلہ اقتدار اعلی سے ہے اور انسانوں میں سے کوئی مقتدر اعلی نہیں ہو سکتا ۔ نیز ان مسائل کا تعلق اس معاملے سے ہے کہ یہاں لوگ کس کی بندگی کریں گے ؟ غرض دونوں مقامات پر مسئلہ بھی ایک ہے اور منہاج بحث بھی ایک ہے اور اس بحث کے لئے جو درجے (Steps) رکھے گئے ہیں وہ بھی وہی ہیں ۔ (صدق اللہ العظیم) اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ قرآن کریم اگر اللہ کی جانب سے نہ ہوتا تو دیکھنے والا دیکھتا کہ اس میں اختلافات ہیں ۔ وحدت منہاج کی اہمیت اس وقت دوچند ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورة انعام اور سورة اعراف کے موضوعات بحث مختلف ہیں ۔ لیکن جاہلیت کے ساتھ جب اسلامی نظام کا مقابلہ ہوتا ہے تو منہاج بحث ایک جیسا ہوجاتا ہے ۔ ‘ خصوصا جبکہ بات اساسی موضوعات و تصورات پر ہو۔
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

”(اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ ) ” اے بنی آدم “ یاد رکھو ! اگر تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں ‘ تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرے گا اس کے لئے کسی خوف ورنج کا موقع نہیں ہے

درس نمبر 75 تشریح آیات : 35۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 53۔ قصہ تخلیق انسانیت پر تبصرہ کرنے کے لئے یہ ایک طویل وقفہ تھا ۔ اس تبصرے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت انسانیت کس قسم کی جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس کے مقابلے میں عرب جاہلیت کس مقام پر ہے ۔ جاہلیت کا موازنہ چند اساسی مسائل کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ یعنی جسم کی ستر پوشی اور روح کی ستر پوشی لباس تقوی کے ساتھ ۔ جسم وروح کی سترپوشی کا تعلق اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقیدے ‘ عقیدہ توحید وشرک کے ساتھ ہے جو اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عقیدہ ہے ۔ اب یہاں سے انسانیت کے نام ایک دوسری پکار شروع ہوتی ہے ۔ اس ندا اور پکار کا تعلق مسئلہ لباس کے ساتھ بھی ہے اور انسانوں کے لئے زندگی کے تمام معاملات میں ہدایات لینے اور ان کا اتباع کرنے کے معاملے سے بھی ہے ۔ قانون سازی کے مسئلے سے بھی ہے اور دنیا میں اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے مسئلے سے بھی ہے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح از سر نو یہ بات معلوم ہوجائے کہ انہوں نے ان موضوعات پر ہدایات لینے کا قوام رسالت کا قوام ہے۔ اور زندگی کے موجودہ مرحلے کے اختتام پر قیامت کے دن حساب و کتاب اسی نقطہ نظر سے ہوگا کہ کس نے رسولوں سے ہدایات لے کر ان کی پیروی کی اور کس نے ان کی نافرمانی کی ؟ آیت ” نمبر 35 تا 36۔ اللہ کی جانب سے بنی آدم کو آغاز تخلیق ہی میں یہ صاف ہدایت تھی اور یہ اس کرہ ارض پر بنی آدم کے اقتدار اور خلافت کے لئے لازمی شرط بھی تھی ‘ کیونکہ یہ زمین اللہ نے پیدا کی ہے ۔ اس میں انسانوں کی زندگی کی ضروریات اس نے پیدا کی ہیں اور اس کے اوپر اقتدار واختیار اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے تاکہ انسان یہاں مناسب رول ادا کرسکے ‘ ورنہ انسان کا ہر قسم کا عمل مردود ہوگا اور اسے کوئی مسلمان قبول نہ کرے گا ۔ آخرت میں بھی وہ گناہ ہوگا اور موجب جہنم ہوگا اور کوئی بدلہ اس عذاب سے چھڑا نہ سکے گا ۔ آیت ” فَمَنِ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ (35) ” تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرلے گا اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ “ اس لئے کہ تقوی ہی انہیں گناہوں اور فواحش سے دور رکھ سکتا ہے ۔ سب سے بڑی فحاشی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب ہے ‘ پھر اللہ کے اقتدار اعلی کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے اور خدائی خصوصیات کا دعوی کرنا ہے ۔ تقوی ہی انسان کو خدا کی اطاعت اور نیک کاموں پر آمادہ کرتا ہے اور خوف سے نجات دے کر درالامان میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے حصول رضائے الہی ممکن ہے ۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

آیت ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا أُوْلَـَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (36) ” اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ کیونکہ اللہ کے عہد ونصیحت کو فراموش کرنے اور استکبار اور تکذیب کی وجہ سے یہ لوگ اپنے دوست شیطان سے مل چکے ہیں اور ان پر اللہ کا یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے کہ ” جو لوگ تم میں سے اس کی اطاعت کریں گے تو ان سب سے میں جہنم کو بھر دوں گا ۔ “ اب یہاں سے اللہ کے سامنے پیشی کا منظر شروع ہوتا ہے ۔ جس کی طرف سابقہ سبق کے آخر میں اشارہ کیا گیا تھا ۔ آیت ” وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاء أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُونَ (34) ” ہر قوم کے لئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے ‘ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم بھی نہیں ہوتی ۔ “ اس کے بعد یوم و حساب کا منظر شروع ہوتا ہے ‘ فیصلے اور سزا وجزاء کے مناظر آتے ہیں ۔ گویا یہ متقین اور مستکبرین کے انجام کی تفصیل ہے ۔ یہ منظر اسی طرح ہے جس طرح قرآن کریم مناظر قیامت کو پیش کرتا ہے ،۔ قارئین کو یوں نظر آتا ہے کہ واقعات عملا رونما ہو رہے ہیں ۔ قرآن کریم نے مناظر قیامت کے بیان میں ایک خاص اسلوب اپنایا ہے ۔ حشر ونشر ‘ حساب و کتاب ‘ انعام واکرام اور عذاب اور سزا کے بیان میں نہایت ہی موثر اسلوب اپنایا ہے ۔ یہاں صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن نے موجودہ دنیا کے بعد آنے والے جہان کچھ اوصاف گنوا دیئے ہیں بلکہ اس کے مناظر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ مناظر محسوس اور مجسم نظر آتے ہیں ۔ انکے اندر افراد چلتے پھرتے اور زندہ نظر آتے ہیں اور نہایت ہی واضح شکل و صورت میں ۔ قرآن کریم کی دنیا میں جب ایک مسلم زندگی بسر کرتا ہے تو وہ ان مشاہدات اور مناظر کو اپنی آنکھوں سے جگہ جگہ دیکھتا ہے ۔ وہ ان سے متاثر ہوتا ہے ۔ کبھی اس کا دل دھڑکتا ہے ‘ کبھی اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ کبھی وہ بری طرح خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ کبھی وہ پوری طرح مطمئن اور ہشاش وبشاش ہوجاتا ہے ۔ کبھی اسے آگے کے شعلہ ہائے جو الہ نظر آتے ہیں ۔ اور کبھی اسے جنت کی باد نسیم محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں زندہ رہنے والا مومن اس دن سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور جو لوگ ان مناظر کے بارے میں آیات کو غور سے پڑھتے ہیں ‘ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس دنیا کے مقابلے میں درحقیقت میدان حشر میں زندہ رہ رہے ہیں ۔ وہ قرآن کی دنیا میں اس طرح گم ہوجاتے ہیں جس طرح کوئی انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے ۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں چلا جاتا ہے اور یہ انتقال محسوس طور پر ہوتا ہے۔ غرض اس کے احساس و شعور میں عالم آخرت آنے والا مستقبل نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا حال ہوتا ہے جس کا وہ مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ۔ یہاں جن مناظر کو پیش کیا گیا ہے وہ طویل ترین مناظر میں سے ہیں اور ان میں زندگی بھرپور نظر آتی ہے ۔ یہ مسلسل مناظر ہیں اور ان لوگوں کے ڈائیلاگ بھی موجود ہیں اور زندہ اور بھرپور مکالمات کو حیرت انگیز الفاظ میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس طرح مکمل طور پر جس طرح آنکھوں سے دیکھ کر کوئی کسی منظر کو محفوظ کرلیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا یہ مناظر قصہ آدم پر تبصرے کے بعد آئے ہیں جبکہ آدم جنت سے نکال دیئے گئے تھے ۔ انکے ساتھ بیوی کا اخراج بھی ہوگیا تھا اور یہ اخراج شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا ۔ اس کے بعد بنی آدم کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی تھی کہ شیطان کے فتنوں سے بچو وہ تمہیں اس طرح نقصان نہ پہنچا دے جس طرح تمہارے باپ کو اپنی دیسہ کاریوں سے جنت سے نکلوایا ۔ اس تنبیہ کے ساتھ کہ اگر انہوں نے آنے والے رسولوں کو چھوڑ کر شیطان کا اتباع اختیار کیا تو وہ جہنم کی سزا کے مستحق ہوں گے ۔ ان باتوں کے بعد قیامت کے دن اللہ کے سامنے حضوری کے شاہد پیش کئے گئے ۔ یہ شاہد اس طرح پیش کئے گئے کہ گویا یہ قصہ آدم کے متصلا پیش آ رہے ہیں ۔ اچانک رسولوں کی بعثت اور ان کے مقاصد سامنے آجاتے ہیں ‘ اچانک ان لوگوں کا منظر سامنے آجاتا ہے جو شیطان کے پیروکار ہیں ‘ اچانک وہ لوگ سامنے آجاتے ہیں جو شیطان کے مخالف ہیں اور جنت کے وارث ہیں ۔ وہ عالم بالا سے یہ پکار سنتے ہیں ” کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث ہو ‘ اس لئے کہ تمہارے عمل اچھے تھے ۔ “ آیت ” ان تلکم الجنۃ التی “ ۔ یوں نظر آتا ہے کہ مسافر گھروں کو واپس آرہے ہیں ‘ مہاجر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور اب انہوں نے اس دارالنعیم میں ہمیشہ رہنا ہے ۔ اس قصے اور اس تبصرے کے اندر جو ہم آہنگی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے قصہ آتا ہے اور اس کے مناظر عالم بالا میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد اس پر تبصرہ اور شاید قیامت آئے اس ہم آہنگی میں جو خوبصورتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ کہانی عالم بالا میں فرشتوں کے سامنے شروع ہوتی ہے ۔ اس وقت آدم وحوا کی تخلیق کی تقریب سعید تھی ۔ آدم اور حوا کو جنت میں رکھا گیا تھا ‘ اور شیطان کی وسوسہ اندازی سے جنت سے ان کے اخراج کے واقعات پیش آئے اخراج اس لئے ہوا کہ انہوں نے مکمل اطاعت اور بندگی نہ کی اور عالم بالا ہی میں یہ مناظر آغاز و انجام یکجا ہوجاتے ہیں اور انکے درمیان انسانی زندگی کے طویل مناظر پیوست ہیں۔ گویا ایک ہی اسٹیج پر یہ تمام مناظر آغاز ‘ درمیان اور انجام پیش ہوگئے ۔ نہایت ہی ہم آہنگی اور مناسب انداز وپیرائے ہیں۔ اب ہم میدان حشر میں آگئے ہی اور اس میں اللہ کے سامنے ان لوگوں کو پیش کیا گیا ہے جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں۔ ان لوگوں کا افتراء اور بہتان یہ ہے کہ انہوں نے آباؤ اجداد سے کچھ رسومات اور ضابطے ورثے میں پائے ہیں اور کچھ ضابطے اور قوانین خود انہوں نے اپنی جانب سے وضع کئے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ من جانب اللہ ہیں۔ ان لوگوں کی بھی پیشی ہے جن لوگوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ وہ یقینی شریعت کر آئے تھے ۔ اس کے مقابلے میں انہوں نے ظن وتخمین سے کام لے کر علم ویقین کو رد کردیا ‘ یہ لوگ دنیا میں عیش و عشرت کرتے رہے اور زمانہ ابتلاء خوب مستی سے گزارا اور رسولوں نے انکے سامنے جو پیغام پیش کیا وہ بھی ان تک پہنچا جسے قبول کرنا انکی قسمت میں نہ تھا ۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

آخر اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگ اپنے نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لئے پہنچیں گے ۔ اس وقت وہ ان سے پوچھیں گے کہ ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” سب ہم سے گم ہوگئے “۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے ۔

آیت ” نمبر 37۔ دیکھئے اب ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے رسول آچکے تھے ۔ اس منظر میں پہلے تو ان کی روح قبض کی جاتی ہے گویا ملزم گرفتار ہوتے ہیں ۔ پھر ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا : فرشتے کہیں گے ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “ اب تمہارے وہ دعوے کہاں ہیں جن کے ذریعے تم اللہ پر افتراء باندھتے تھے ‘ اور وہ الہ کہاں ہیں جن کو تم نے دنیا میں دوست بنا رکھا تھا ‘ جن کی وجہ سے تم فتنے میں پڑگئے اور رسولوں کی لائی ہوئی دعوت کو چھوڑ دیا ۔ یہ قوتیں اس آڑے وقت میں تمہاری مدد کو کیوں نہیں آرہی ہیں کہ اب تمہاری جان لی جارہی ہے اور تمہیں کوئی ایسا مددگار نہیں مل رہا جو اس وقت سے لمحہ بھر کے لئے موت کو مؤخر کردے ۔ ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ ان یہی جواب ہو سکتا ہے ۔ آیت ” قالوا ضلوا عنا “۔ (7 : 37) ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “ وہ ہم سے اس طرح گم ہوگئے اور اس طرح غائب ہوگئے کہ ہمیں ان کا کوئی اتاپاتا نہیں مل رہا ۔ اب وہ ہماری طرف نہیں آ رہے ۔ غرض وہ لوگ اس قدر بدحال ہوں گے کہ ان کے خدا بھی انکی طرف متوجہ نہ ہو سکیں گے اور نہ وہ ایسے برے حالات میں ان کوئی مدد کرسکیں گے اور ایسے خداؤں سے زیادہ گھاٹے میں اور کون ہوگا جو اپنے بندوں تک نہ پہنچ سکتے ہوں اور ایسے مشکل حالات میں ۔ آیت ” وشھدوا علی انفسھم “۔ (7 : 37) ” وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے ۔ “ اس سے قبل جب ان پر دنیا میں عذاب آیا تھا تو بھی انہوں نے یہی اعتراف کیا تھا ۔ (فما کانت دعوھم) ” جب ہمارا عذاب آیا تو انکی پکار صرف یہی تھی کہ حقیقت میں ہم ظالم تھے ۔ “۔ اب حاضری دو بار الہی کا منظر ختم ہے اور اس کے بعد دوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ یہ مجرم اب جہنم کی آگ میں ہیں ۔ ان دونوں مناظر کی درمیان کڑیاں غائب ہیں ۔ موت کے واقعات ‘ نشر وحشر کے واقعات درمیان میں سے غائب ہیں گویا ان کو پکڑ کر سیدھا جہنم میں ڈال دیا گیا ۔
Ayahs 7:38–39

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا ‘ حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔

آیت ” نمبر 38 تا 39۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38) ” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔ یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38) ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔ آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38) ” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “ یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔ آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38) ” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔ جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔ آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39) ” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین صادقین کا منظر ہے اور اس المناک منظر کے بالکل برعکس ہے ۔
Ayahs 7:40–41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

یقین جانو ‘ جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور انکے مقابلے میں سرکش رہے ان کے لئے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے ۔ ان کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا ۔ مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلا ملا کرتا ہے ۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔

آیت ” نمبر 40 تا 41۔ اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے لئے سزا کا مطالبہ کرتے رہیں گے لیکن سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ آیت ” لَہُم مِّن جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِن فَوْقِہِمْ غَوَاش “۔ (7 : 41) ” ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ “ یعنی ان کے لئے فرش بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور مہاد کا اطلاق اس پر بطور مذاق کیا گیا ہے ۔ بچھونا ایسا ہوگا جس میں نہ نرمی ہوگی اور نہ ہی وہ فروخت بخش ہوگا اور آگ ہی کا اڑھنا ہوگا ۔ یعنی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ ظالم ہی مجرم ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور آیات الہی کی تکذیب کرتے ہیں ۔ قرآن کی تعبیر کی رو سے یہ اوصاف مترادف ہیں ۔ اب اس منظر کے بالمقابل دوسرا منظر دیکھئے ۔ :