Ayahs 7:175–177تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔
لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔
۔۔۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ
اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔
ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔
یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں
یہ ہے ان کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کے دلائل اور ایمان کے موجبات خود ان کی فطرت میں ملے ہوئے تھے اور یہ دلائل اور اشارات ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر بھی موجود تھے ، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو کھینچ کر ان سے نکال لائے۔ اب یہ مسخ شدہ اجسام تھے ، جو ٹنگے تھے اور مقام انسانیت سے گر کر یہ لوگ حیوانیت تک اتر آئے تھے۔ یہ اس کتے کی طرح تھے جو کیچر میں لت پت ہو۔ ان کے پاس تو ایمان اور دلائل ہدایت کے وہ پر تھے جن کے ذریعے یہ اعلیٰ علیین تک پرواز کرسکتے تھے۔ ان کی تخلیق بھی بہترین ڈیزائن میں ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اعلی علیین کے مقابل میں اسفل سافلین کے مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔
کیا اس مثال سے کوئی اور بری مثال ہوسکتی ہے کہ کوئی خود اپنی کھال سے کھینچ کر باہر نکل آئے اور ہدایت سے بالکل ننگا ہپوجائے اور یہ کہ کوئی خواہشات نفسانیہ کی تسکین کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو۔ ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا کہ وہ خود اپنی ہی کھال کھینچ کر اپنی ہڈیوں اور گوشت کو ننگا کردے۔ اپنے حامی اور مددگار کو تباہ کردے اور اپنے گوشت کو شیطانی درندوں کے نوچنے کے لیے ننگا اور آسان کردے۔ اور پھر شیطان ایسے شخص کو مرتبہ انسانیت سے گرا کر مرتبہ حیوانیت تک لے آئے اور وہ اسی طرح حیران و پریشان ہوجائے جس طرح باؤلا کتا زبان لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔
یہ قرآن کریم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے ایسی صورت حالات کی تصویر کشی ایسے موثر الفاظ میں کی ، اس طرح کہ اس کا اعجاز بالکل واضح ہے۔
سوال یہ ہے کہ آیا ایسے لوگوں کی کوئی مخصوص مثال بھی اس وقت تھی یا ایک عمومی بات کو یہاں مثال کی شکل میں لایا گیا ہے ؟ کیا ان مثالوں کے مصداق کے بارے میں ذخیرہ روایات میں کچھ ہے ؟
بعض روایات میں آتا ہے کہ فلسطین میں ایک صالح شخص تھا۔ یہ اس سے قبل گزرا ہے جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس شخص کے انحراف اور اس کی اخلاقی بربادی کا ایک طویل قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ شخص بھی اس مثال کا مصداق بن سکتا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیلی روایات اسلامی تفاسیر میں داخل ہوگئی ہیں لہذا اس قصے کی تمام تفصیلات کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پھر ان اسرائیلی روایات کے اندر چونکہ بےحد اختلاف و اضطراب ہے ، اس لیے بھی ان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بلعام ابن باعور نامی تھا ، یہ شخص فلسطین کے جابر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عربوں کا امیہ ابن الصلت تھا۔ بعض روایات میں ابو عامر فاسق کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ کے معاصر تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ حضرت یوشع ابن نون کے دور میں تھا۔ اور حضرت یوشع ابن نون نے تیہ میں بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کے بعد ان جابر حکمرانوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی تھی۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان جباروں کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے سے بنی اسرائیل نے معذرت کردی تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارے رب دونوں لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو جو آیات دی گئی تھیں وہ اسم اعظم تھا۔ جس کے ساتھ ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو کتاب الہی دی گئی تھی۔ یہ نبی تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں بڑی اختلافی بحثیں ہوئیں۔
یہاں ظلال القرآن میں اپنے منہاج کے مطابق ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے نص میں ان تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ، نہ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث منقول ہے۔ بہرحال قرآن کریم نے جس واقعی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس دنیا میں انسانی تاریخ میں بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ایک شخص کے سامنے آیات دلائل پیش ہوئے ہیں۔ وہ ان کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ان کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کو ان کے مطابق درست نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جنہیں دینی علم دیا جاتا ہے لیکن وہ خود اپنے علم سے ہدایت نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے علم کو تحریف کتاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور یہ لوگ ذاتی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کی خواہشات اور ان لوگوں کے اوپر تسلط حاصل کرنے والوں کی خواہشات یعنی اس عارضی دنیا کے مفادات کے ہاتھ ہی میں ان کی نکیل ہوتی ہے۔
ہم نے کئی علمائے دین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن وہ لائن پر نہیں آتے۔ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی زبان سے ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جنہیں خود بھی سچا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ اپنے علم کو تحریف و انحراف کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے فتاوی اہل اقتدار کے حق میں استعمال کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایسے اہل اقتدار کے اقتدار کو اور مضبوط کرتے ہیں جو اس زمین پر اللہ کے اقتدار کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔
ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون صرف اللہ کا حق ہے ، اور جو شخص قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرے وہ در اصل مدعی الوہیت ہے اور جو شخص بھی خدائی کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ جو شخص کسی انسان کے لیے اس حق کو تسلیم وہ بھی کافر ہے۔ اس کے باوجود اور اس بات کو جانتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو قانون ساز کہتے ہیں اور الوہیت اور خدائی کے مدعی ہیں اور جن کے بارے میں خود اس عالم دین نے فتوی دے رکھا ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ یہ عالم دین ایسے لوگوں کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کو اسلام کہتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک سال جو کچھ لکھتا ہے تو سود کو حرام قرار دیتا ہے اور دوسرے سال اپنی تحریروں میں سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ فسق و فجور کو ایک مبارک امر قرار دیتے ہیں۔ فسق و فجور کو اسلام نام اور عنوان دیتے ہیں اور اسے اسلام لباس میں لاتے ہیں۔
اب یہ شخص کیا اس تبصرے کا مصداق نہ ہوگا کہ جسے اللہ نے ایسی آیات دیں اور علم دیا اور وہ اللہ کے دلائل و علم سے نکل بھاگا ، شیطان نے اسی پر گرفت مضبوط کرلی اور یہ شخص گمراہیوں میں سے ہوگیا۔ قرآن کریم جس شخص کے بارے میں خبر دے رہا وہ شخص اسی کا مصداق ہوگا۔ اس کو اللہ نے علم دیا ، سربلندی کے ذرائع دئیے لیکن وہ بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بجائے پستیوں کی طرف گرتا رہا۔ ذرا قرآن کریم کے اس تبصرے اور اس خبر کو پڑھییے۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ
اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھڑو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔
جس شخص کی خبر قرآن دے رہا ہے یہی ہمارے دور کے ایسے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ مثال ہر اس شخص پر فٹ ہے جسے اللہ نے علم دیا نکال کے لیکن وہ اس علم کے تقاضوں پر نہ چلا۔ اس نے ایمان کی راہ اختیار نہ کی ، اللہ کی نعمتوں سے کھینچ کر نکل گیا۔ اور شیطان کا تابع مہمل ہوگیا۔ اب وہ باؤلے کتے کی طرح زبان لٹکائے پھرتا رہے گا۔
جس طرح قرآن ہمارے احساس میں ڈالتا ہے۔ یہ شخص اغراض دنیا کے پیچھے زبان لٹکائے بھاگ رہا ہے اور اغراض دنیا ہی کی وجہ سے یہ انعامات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر لے آیا ہے ، اور یہ کتے کی طرح زبان لٹکائے ہوئے ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص اغراض دنیا کی جانب سے کبھی بھی مطمئن نہ ہوگا۔ جس شخص کی نکیل اغراض دنیا کے ہاتھ میں چلی جائے وہ ان سے چھوٹ نہیں سکتا ، چاہے تم انہیں ہزار وعظ و نصیحت کرو۔ وہ اس راہ پر زبان لٹکائے سرکاری دفاتر کا طواف کرے گا اور کرتا رہے گا۔
انسانی زندگی کا گہرا مطالعہ کیجئے۔ اس مثال کا مصداق تو ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے۔ بلکہ زمانے گزر جاتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ ہر طرف سے بڑھے چلے آتے ہیں اور جن لوگوں کو اللہ بچا لیتا ہے وہ قدرت نادرہ ہوتے ہیں۔ جو آیات الہیہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، جو زمین کی پستیوں کی طرف آنے کے بجائے بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ، جو خواہشات نفسانیہ کو دباتے ہیں جنہیں شیطان ذلیل نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ اپنی ناک میں ای کسی نکیل نہیں ڈالتے۔ اس سمت نہیں جاتے جس کا سرا اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تمثیل ہے جس کے مصداق کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بہت دور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔
حضور کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی قوم پر یہ آیات پڑھیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ ان آیات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر نہ کردیں۔ لہذا حضور کے بعد ہمیں ان آیات کی تلاوت کرکے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان آیات کی مضبوط پناہ گاہ سے اپنے آپ کو باہر نہ نکالیں۔ اور ان کو اللہ کے علوم میں سے جو حصہ ملا ہے ، اسے ترک کرکے وہ اس انجام تک اپنے آپ کو نہ پہنچائیں۔ نیز اپنے آپ کو اس صورت حال میں مبتلا نہ کریں کہ انسان کتوں کی طرح زبان لٹکائے خواہشات دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے ، جن کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اپنے آپ پر وہ ظلم نہ کریں جو ایک دشمن اپنے دشمن پر بھی نہیں کرتا کیونکہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈال کر وہ صرف اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔
ہم نے اپنے دور میں ایسے اہل علم کو دیکھا ہے کہ جو اپنے اوپر اس قسم کے ظلم کرنے میں بہت ہی حریص ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو جہنم کے ٹھکانے کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ صبح سے شام تک اپنے لیے جہنم کے ٹھکانے کو مضبوط کر رہے ہیں اور رات دن زبان لٹکائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں نہ ان پر نصیحت کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دھتکار کا۔ ایسی ہی حالت میں یہ لوگ آخر کار اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بچائیو ! ہمارے قدم مضبوط کیجیو۔ اور ہم پر صبر کی بارش کیجیو اور ہمیں اہل اسلام کے ساتھ موت اور خیر نصیب کیجیے۔
۔۔۔۔
قرآن کریم نے ایک شخص کے بارے جو خبر ایک تمثیل کی صورت میں دی ہے ہمیں چاہے کہ ہم اس پر قدرے طویل اور دوبارہ غور کریں۔
یہ ایک ایسے صاحب علم کی تمثیل ہے ، جس پر خواہشات نفس اور لذات دنیاوی اس قدر بوجھ ڈال دیں کہ وہ اس بوجھ کو نہ سہار سکے اور زمین پر گر جائے اور ان شہوات کی جاذبیت کی وجہ سے وہ براہ راست ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائے اور شیطان اس کے پیچھے پڑجائے اور اسے اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کردے اور اس کے منہ میں خواہشات نفسانیہ کی لگام پڑی ہو۔
چونکہ صرف علم انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لیے قرآنی منہاج تربیت نفس انسانی کی تربیت اور اسلامی زندگی کی ترویج کے لیے ایک خاص منہاج وضع کرتا ہے۔ اسلام صرف علم پیش نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک زندہ اور متحرک شکل دیتا ہے تاکہ اسلامی مقاصد ذہنی اور فکری دنیا میں بھی سامنے آئیں اور عملی زندگی میں بھی سامنے آئیں۔
اسلامی منہاج یہ نہیں ہے کہ اسلامی عقائد کو محض نظریات کی شکل میں پیش کرے۔ محض تحقیق و توفیق کے لیے۔ اور انسان کے فکر و نظر اور اس کے عمل اور تگ و دو پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس قسم کی مجرد تحقیقات محض جامہ علم ہوتی ہیں ، ایسا علم انسان کو اپنی خواہشات نفسانیہ کی زد سے نہیں بچا سکتا۔ نہ دنیا میں اسے سربلند کرسکتا ہے ، خصوصا سفلی جذبات و خواہشات سے۔ ایسا علم شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شیطان کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔
اسلام دین کے بارے میں محض تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاً اسلامی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلامی فقہ کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے اقتصادی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے سائنسی نظریات کے بارے میں تحقیقات ، علوم نفس کے بارے میں اسلامی تحقیقات وغیرہ وغیرہ۔
اسلام عقائد اسلامی کو ایک متحرک ، ترقی پذیر ، زندہ اور بیدار اور غالب اور سربلند ہونے والے عقائد کی شکل میں لاتا ہے۔ عقل و نظریہ پر چھانے کے بعد یہ عقائد فوراً ایک مسلمان کو اسلام مقاصد پورے کرنے کے لیے متحرک کردیتے ہیں۔ جب کسی مردہ ضمیر آدمی کے قلب و نظر میں بھی یہ عقائد جاگزیں ہوتے ہیں تو اسے زندہ کردیتے ہیں اور یہ عقائد قبول کرنے والا اپنے آپ کو جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ اس کی فطرت فوراً پہلے فطری عہد کی طرف لوٹ جاتی ہے اور یہ شخص بلند مقاصد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور اسے دنیا کی آلودگیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں۔ یہ کبھی فسق وفجور کے کیچڑ میں لت پت نہیں ہوتا۔ قرآن اسلام کو ایک منہاج فکر و تدبر کی صورت میں پیش کرتا ہے اور یہ دنیا کے تمام مناہج سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہ آیا ہی اس لیے ہے کہ دنیا کے بوجھ اتار دے اور انہیں شیطان کی گمراہیوں سے نجات دے۔
قرآن اسلام کو حق و باطل کے لیے ایک معیار اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس معیار کے ذریعہ لوگوں کے ذرائع ادراک اور ان کی عقلوں کو پرکھا جاتا ہے ، لوگوں کی حرکات ، ان کے رجحانات اور ان کے تصورات کو اس کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں کوئی ایسا معیار نہ تھا کہ اسے کام میں لایا جاتا اور یہ میزان اور معیار جسے رد کردے وہ ردی ہوگا اسے پھینک دیا جائے گا۔
اسلام انسانیت کو ترقی دے کر ایک نہایت ہی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے لیکن شاہراہ ترقی پر اسلام اسے نہایت ہی دھیمی رفتار سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کام وہ اپنے منصوبے اور اپنے اندازوں کے مطابق کرتا ہے ، ترقی کی اس شاہراہ پر چلنے کے لیے اسلام لوگوں کو اپنا ایک مفصل نظام زندگی دیتا ہے۔ ان کو ایک مفصل نظام قانون دیتا ہے ، ان کو ایک مستقل نظام اقتصاد دیتا ہے ، ان کے لیے سوسائٹی کے اصول اور سیاست کے اصول منضبط کرتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کو وضع اصول کے بعد آزادی دیتا ہے کہ ان اصول کی روشنی میں وہ اپنے لیے تفصیلی نظام وضع کریں۔ یہ اس دنیا میں رات و دن ترقی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں حرارت ایمان موجود رہتی ہے۔ وہ ایک حقیقی نظام قانون وضع کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنی تمام ضروریات کا حل نکالتے ہیں۔
اس طرح سلامی نظام حیات ، اسلامی زندگی کی شکل میں نفس انسان کی قیادت کرتا ہے ، رہی وہ تحقیقات جو محض نظری قیل و قال تک محدود ہوتی ہیں تو ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ نہ تو شیطان کے مقابلے میں ایک فرد کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اسلامی خطوط پر انسانی زندگی کو عملاً منظم کرسکتا ہے ، نہ انسانی زندگی کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اس منظر میں جو مثال دی گئی ہے ، اب اس پر یہاں ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر)
Ayah 7:178اس شخص کی مثال جسے اللہ نے اپنی ہدایات دیں مگر وہ ان سے نکل گیا ، تبصرہ یہ ہے کہ ہدایت در اصل وہی ہوتی ہے جو من جانب اللہ ہو ، جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑجاتا ہے۔ اب وہ کسی معاملے میں بھی نفع نہیں کما سکتا۔
اور اللہ تعالیٰ صرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہمارے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔ اور دوسری جگہ ہے۔ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کے بدلنے کی سعی نہ کرے اور دوسری جگہ ہے۔ ونفس و ما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواھا قد افلح من زکاھا و قد خاب من دساھا۔ اور وہ نفس کی اور یہ جو اسے برابر کیا اور اسے برائی اور خدا خوفی سے آگاہ کیا۔ وہ کامیاب ہوا جس نے اس نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے ناپاک کیا "۔
جو شخص دلائل ہدایت کو ترک کرکے اپنے لیے راہ ضلالت کو پسند کرلیتا ہے۔ اللہ بھی اسے گمراہ کردیتا ہے کیونکہ ایسا شخص اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو ہدایت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسی سیاق وسباق میں درج ذیل آیت اسی مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے۔
اور دوسری جگہ فرمایا گیا فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا۔ ان کے دل میں بیماری ہے ، پس اللہ نے بھی ان کی بیماری کو زیادہ کردیا "۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے۔ ان الذین کفروا و ظلموا لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیھدیہم طریقا الا طریق جھنم خالدین فیہا " وہ لوگ جنہوں نے کفر کو اختیار کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اللہ بھی ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں صحیح راستے کی ہدایت دیتا ہے ، ما سوائے جہنم کے راستے کے جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے "۔
ان تمام آیات پر غور وفکر کرنے کے بعد جن میں ہدایت و ضلالت کا ذکر ہے اور ان کے مفہوم کے اندر تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے بعد صرف ایک ہی تشریح و تطبیق ممکن ہے جس میں دل کا اطمینان بھی ہے اور وہ ان لاہوتی جدلیات سے بھی پاک ہے جن میں اسلامی متکلمین ، یہودی مسیحی اور دوسرے مذاہب فلسفہ ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں ، وہ یہ کہ اس کائنات میں اللہ کا نظام قضا و قدر اللہ کی مشیت کے ایک وسیع دائرے کے اندر کام کرتا ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور اس نظام قدر کے مطابق انسان کے اندر ہدایت اور ضلالت کی دہری صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔ انسان کی فطرت مخلوق کے اندر ہی یہ فطری عہد رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اللہ وحدہ کی معرفت حاصل کرے اور ربوبیت کا اعتراف کرے ، پھر انسان کو ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت کے ساتھ عقل کی قوت تمیزہ بھی دی گئی ہے جو ہدایت و ضلالت کو پہچانتی ہے۔ اس پر مستزاد اسے رسولوں کے ذریعے دلائل و نشانات ہدایت بھی سمجھا دیے گئے تاکہ اگر اس کی فطرت پر موٹی تہ جم گئی ہو تو اسے صاف کرتا جائے لیکن ان تمام انتظامات کے ساتھ ساتھ اس میں قبولیت ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت قائم رہتی ہے اور یہ تمام انتظام اللہ کے دائرہ مشیت ، وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہے۔
اللہ کی مشیت کے اندر اللہ کا نظام قضا و قدر جاری رہتا ہے اور اپنا کام کرتا ہے لہذا اس دائرے کے اندر جو شخص ہدایت کا انتخاب کرتا ہے وہ ہدایت کی راہ لیتا ہے ، تقدیر اسے ہدایت دیتی ہے اور اگر وہ دلائل ہدایت اور اشارات فطرت کے مطابق نہیں چلتا تو یہ تقدیر اسے راہ ضلالت پر ڈال دیتی ہے۔ اس لیے کہ اس شخص نے اس عقل سے کام نہ لیا جو اسے عطا ہوئی تھی۔ اپنی آنکھوں اور کانوں سے کام نہ لیا جو اس کائنات کے اندر بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اسے دی گئی تھی۔ پھر ان ہدایات میں بھی موجود تھیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں۔
لیکن کوئی شخص جو راہ بھی اختیار کرکے وہ اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر رہتا ہے اور جو واقعہ بھی ہوتا ہے اللہ کے نظام قضا و قدر کے اندر رہتا ہے اور اللہ کی قوت کے برعکس نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ کسی انسان کا کسی طرح کا علم بھی چلتا ہو اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہی رہتا ہے ، کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ کائنات میں صرف اللہ کی مشیت کام کرتی ہے اور تقدیر اس دائرے کے اندر ہے۔ کیونکہ اللہ کی قوت کے سوا کوئی اور قوت نہیں ہے جو اس قسم کے نظام و واقعات کو جود میں لا سکتی ہو۔ غرض انسان اس وسیع دائرے کے اندر متحرک ہے اور اسی دائرے کے اندر وہ جو راہ چلتا رہتا ہے۔
یہ ہے وہ تصور جو ان تمام آیات کے مطالعے سے ذہن میں آتا ہے بشرطیکہ ان آیات کو ایک دوسرے کے بالمقابل بطور مناظرہ نہ پیش کیا جائے اور انہیں یکجا پڑھ کر ان کی تطبیق کرکے ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی) آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے۔
من یہد اللہ فھو المہتد و من یضلل اللہ فاولئک ہم الخسرون۔ جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پر ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کردے وہی ناکام و نامراد ہوکر رہتا ہے۔
یعنی مذکورہ بالا تفسیر کے مطابق جو راہ ہدایت لیتا ہے تو اللہ اسے ہدایت دے دیتا ہے ، وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ اسے راستہ بھی معلوم ہوتا ہے ، وہ اسی راستے پر چلتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں فلاح پاتا ہے۔ اور جسے اللہ اپنی سنت کے اصولوں کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ وہ گمراہ ہوتا ہے۔ تو وہ ہمہ پہلو خسارے میں رہتا ہے اگرچہ وہ بظاہر مالدار نظر آئے۔ لیکن وہ خسارے میں ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی دولت بےحقیقت ہوتی ہے ، محض ہوا ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی ذات کو گنوا دیا ہے ، اور جس کی شخصیت گم ہوجائے ، اپنی ذات کو ہار جائے اسے کیا نفع ہوگا۔
مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
Ayah 7:179جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ کریں اور دوسری راہ اختیار نہ کریں بلکہ وہ خود اپنی صلاحیت اور ذات کی وجہ سے خود ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ فرماتے ہیں " ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں ، مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان کے ساتھ سنتے نہیں "۔
ان کو دل و دماغ اس لیے دئیے گئے تھے کہ وہ انہیں کھولیں اور بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، جبکہ پورا کائنات میں دلائل ایمان بکھیرے پڑے ہیں ، پھر رسولوں نے جو پیغام دیا اس میں بھی دلائل و معجزات موجود ہیں اگر دل بصیرت رکھتا ہو اور آنکھیں کھلی ہوں تو ہدایت پا سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور آیات الہیہ کو نہ دیکھا۔ انہوں نے کان بند کرلیے اور پیغمبروں کی دعوت کو نہ سنا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو معطل کرلیا۔ حالانکہ وہ ان کے فائدے کے لیے دی گئی تھیں۔ وہ حیوانات کی طرح غافل رہے لہذا وہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں "
وہ لوگ جو ان آیات و نشانات سے غفلت برتتے ہیں جو ان کے ارگرد کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، جو لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے واقعات اور عبرت آموز حادثات دیکھتے ہیں لیکن ان میں ان کو اللہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا ، یہ لوگ بیشک جانوروں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے کہ مویشیوں کے بھی کچھ فطری وظائف ہوتے ہیں اور ہر جانور انہیں پورا کرتا ہے۔ رہے جن و انس تو انہیں ایک سوچنے والا دل دیا گیا اور دیکھنے والی آنکھ دی گئی ، سننے والے کان دئیے گئے جب انہوں نے دلوں سے نہ سوچا ، آنکھوں سے نہ دیکھا ، اور کانوں سے نہ سنا اور اس پوری کائنات کی رفتار پر سے غافل ہوکر گزر گئے اور اس کے مقاصد و معانی نہ سمجھے ، ان کی آنکھوں نے ان اشارات کو نہ دیکھا جو یہاں ہیں ، ان کی سماعت پر اس پوری کائنات کی چیخ و پکار نے بھی اثر نہ کیا تو یقینا یہ لوگ اور اس قسم کے دوسرے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ٹھہرے جو کم از کم اپنے فطری وظائف تو سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ جہنم کے لیے پیدا ہوئے میں اور اللہ کی مشیت کے وسیع دائرے میں اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطالبہ پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہ راہ اختیار کریں بلکہ اللہ کو اس کے علم قدیم کے ذریعے اس کا علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے اور بھریں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 7:180توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے
الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔
اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔
یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔
Ayahs 7:181–183تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔
ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔
یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔
یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔
ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف پڑھایا جائے اور ایک علمی مشغلہ ہو ، یہ حق اس لیے بھی نہیں آیا کہ یہ محض وعظ اور نصیحت ہو ، بلکہ یہ اس لیے آیا ہے کہ حق لوگوں کے درمیان فیصلے کردے۔ پہلے وہ لوگوں کے اعتقادی تصورات اور نظریات کے فیصلے کرے کہ کیا عقیدہ درست ہے اور کیا نظریہ غلط ہے۔
چناچہ حق سب سے پہلے تطہیر افکار کا کام کرتا ہے اور لوگوں کی فکری اساس کو درست کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اجتماعی زندگی کو اس حق پر استوار کرکے اسے ایک نظام زندگی کی شکل میں قائم کرتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی زندگی اور ان کی سوسائٹی کو حق کے اصولوں پر قائم کرکے ، اس اجتماعی نظام میں حق کے قوانین اور شریعت کو نافذ کرتا ہے۔ چناچہ لوگوں کے اخلاق و عادات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے طرز عمل اور سلوک کو سچائی پر ، منظم اور استوار کیا جاتا ہے یہ سب کچھ درست تصورات اور عقائد کی اساس پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے طرز فکر ، ان کے علوام اور ان کی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اس نظام حق پر ترقی دی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ ڈیوٹی جو اس امت کو دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ امت ممتاز اور متعارف ہے اور یہ اس امت کی شناخت ہے۔
غرض اس دین کا مزاح بالکل واضح ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی یا التباس ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ٹھوس مزاج ہے اور یہ بدل ہی نہیں سکتا ، جو لوگ دین میں الحد کی مساعی کرنا چاہتے ہیں وہ بسیار سعی نامسعود کے ساتھ دین کے اس سخت مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں ان تھک مساعی کرتے ہیں ، مسلسل اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ہر قسم کے وسائل و ذرائع کام میں لا کر اس دین کے نقطہ نظر کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہیں ، اس پوری دنیا میں جو لوگ احیائے اسلام کا کام کرتے ہیں اور جو اس سچائی کو سینے سے لگا کر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہر حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو مٹانے کی سعی کرتے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کی تنظیمیں اور حکومتیں قائم کر رکھی ہیں ، پھر یہ لوگ ان علاقوں پر دین فروش علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ علماء دین اسلام کی تحریف کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کرتے ہیں ، اللہ کی شریعت کو نرم کرتے ہیں اور ہر قسم کے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، اور فحاشی کو رواج دیتے ہیں ، اور فحاشی اور فسق و فجور کو اسلامی عنوانات دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو جدید مادی ترقیات سے متاثر ہوں ، اور جدید نظریات سے مرعوب ہوں اور انہیں اپنے جھولوں میں بٹھا کر ورغلاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کو اپنی ٹھوس اساس سے ہٹا کر جدید نظریات کا رنگ دیتے ہیں یوں اسلام کے اندر جدید نظریات ، تہذیب جدید کے شعارات اور جدید رسوم اور قوانین اسلام کے نام سے داخل کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک تاریخی خادثہ تھا اور اسے کسی صورت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ اس حادثے کا اعادہ ممکن ہے۔ یہ لوگ اسلام کی عظمت رفتہ کو رفت و گزشت سے تعبیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو سن کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آج اسلام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایک عقیدے اور مراسم عبودیت تک محدود ہو کر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کا سیاسی اور قانونی نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام کے لیے عظمت رفتہ کے قصے کہانیاں ہی بہتر اور کافی و شافی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ ممکن ہے کہ اسلام کے اندر اس قدر تغیرات پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید دور کے حالات کے تابع ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کی خواہشات اور ان کی واقعی صورت حالات کے مطابق ڈھال لے ، اور عالم اسلام میں یہ لوگ خود جو لادینی نظریات رائج کر رہے ہیں ان کو وہ اسلام قرار دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جو قدیم قرآن میں متعارف نہ تھیں بلکہ خدا اور جبریل اور مصطفیٰ کو بھی ان کا پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ جس طرح قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اسی طرح اسلامی معاشروں کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ دین اسلام کو ایسے افراد کار ہی نہ ملیں جو اس کے کام کے ہوں۔ عالم اسلام میں یہ لوگ ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں جو جنسی بےراہ روی گندے کے تالاب میں غرق ہو اور لوگ فحاشی اور بدکاری اور بد اخلاقی میں غرق ہوں اور جنہیں دنیاوی عیش و مستی کے سوا کسی اور غرض سے سروکار نہ ہو اور وہ دنیا میں اس قدر غرق ہوں کہ انہیں حق و صلاحیت اور اصل قرآنی ہدایات سننے کے مواقع ہی نہ ہوں ، اس طرح کہ غلطی سے بھی ان کے کانوں تک اسلامی ہدایات نہ پہنچ سکیں۔
یہ وہ ہمہ گیر معرکہ ہے جو اس وقت امت کے خلاف اور اس دین کے خلاف چار دانگ عالم میں برپا ہے ، وہ امت جو اس دین سے ہدایت لیتی ہے اور اس کی داعی ہے اور جو اس کا نظام عدل دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ آرائی ہے جس میں دشمنان اسلام ہر قسم کا ہتھیار کام میں لا رہے ہیں۔ بےحد و حساب وسائل اس میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے دشمن اپنی تمام تر قوتوں کو منظر کرکے انہیں وسائل دے کر اور نشر و اشاعت کے تمام ذرائع اور جدید سے جدید ذرائع ابلاغ دے کر میدان میں لایا ہے۔ ان قوتوں کی پشت پر عالمی تنظیمیں اور ادارے ہیں ، اور یہ عالمی کفالت اور ضمانت نہ ہو تو دشمنان اسلام کے یہ ایجنٹ اور یہ ادارے اور حکومتیں اس امت کے داعیوں کے سامنے ایک دن بھی ٹک نہ سکیں۔
لیکن اس ہمہ گیر معرکہ آرائی اور وسیع و عریض مہمات کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہایت ہی سخت جان دین ہے۔ یہ امت جو اس دین کے لیے کوشاں ہے ، نہایت ہی سخت جان ہے۔ اپنی قلت تعداد اور اپنے قلت وسائل کے باوجود اور اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔
یہ لوگ اس قوت ، اس الہی قوت کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذکورہ بالا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، حالانکہ امت مسلمہ نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہ اسلام کی قوت پر مجتمع ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ آیات الہیہ کی تکذیب کرنے والے اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ وہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے ، اور یہ ڈھیل ایک مقررہ وقت تک ہے ، اور ان کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ کی تدبیر نہایت ہی مستحکم ہوتی ہے۔ ان دشمنان اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں گانٹھ رکھی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ان کا راج ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا کی قوت کبری کو دیکھ نہیں پا رہے۔ غرض جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ان کو ڈھیل دئیے رکھتا ہے اور سرکشی اور نافرمانی کے لیے انہیں طویل مہلت دیتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ اللہ کی اسکیم میں پوری طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ تدبیر عام شخص کی نہیں ہوتی کہ اللہ جیسے جبار اور صاحب قوت متین کی تدبیر ہوتی ہے۔ لیکن دشمنان اسلام غافل ہیں اس بات سے کہ آخری انجام ان لوگوں کا ہی ہوگا جو متقین ہیں اور جو حق پر ہیں اور حق کے داعی ہیں اور حق کا نظام عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 7:184قرآن کریم ان آیات میں ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس وقت مکہ میں اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن یہ آیت مکہ کے لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، ازمنہ مابعد میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اس کے دشمنوں کا یہی سلوک ہے اور ہوگا ، اللہ ان مخالفوں کو مہلت دیتا ہے لیکن اس کی تدبیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں آنکھیں کھول کر کریں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لیں اور اپنے آپ کو جہنمی مخلوق میں شامل نہ کریں۔ اسلام اہل مکہ کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں اپنے رویے پر اچھی طرح غور کریں ، کیا وہ دیکھتے نہیں کہ آپ حق کے حامل اور حق کے داعی ہیں۔ نیز اہل مکہ زمین و آسمان کی ساخت اور بادشاہت پر غور کریں۔ کیا اس میں سچائی تک پہنچانے والی آیات و معجزات بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ مہلت جو انہیں دی جا رہی ہے یہ بہت ابدی اور طویل نہیں ہے۔ اللہ کی تدبیر کے وقوع کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ وہ کیوں اس قدر غافل ہوگئے ہیں ؟
اسلام یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو مدہوشی سے ہوش میں لائے ، ان کو غفلت کے خواب گراں سے جگائے اور انسان کی فطرت کو ان تہوں کے نیچے سے نکال کر باہر لائے جو اس کے اوپر جمی ہوئی ہیں۔ انسانوں کے شعور کو تازہ کرے۔ قرآن انسان کی شخصیت اور انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور اس کی ان صلاحیتوں کو جگاتا ہے جن کے ذریعہ وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں۔ قرآن کریم محض جامد اور خشک قسم کا مناظرہ نہیں کرتا۔ وہ انسان کی حقیقی شخصیت کو گمراہی کی گہری تہوں کے نیچے سے نکالتا ہے۔
اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْن۔ اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے (جو برا انجام سامنے ٓنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
قریش کے پاس رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ وہ آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے اور اس پر دلیل یہ دیتے تھے کہ تم دیکھتے نہیں کہ وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو عربوں کے معروف اسالیب کلام سے بالکل مختلف ہے۔
قریش جو یہ پر پیگنڈہ کرتے تھے ، اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بک رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضور جس دعوت کے حامل ہیں وہ دعوت حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سننے کے لیے بےتاب رہتے تھے اور اپنے آپ کو کنٹرول نہ کرسکتے تھے کہ اس کے سننے سے باز رہیں۔ اس سماع کے ان پر گہرے اثرات پڑتے تھے۔ اخنس ابن شریق ، ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام ابوجہل کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ سب سے چھپ چھپ کر قرآن سنتے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ یہ تینوں حضرات چھپ کر قرآن سننے کے لیے آئے۔ اس واقعہ کو فی ظلال القرآن میں ہم ذکر کر آئے ہیں۔ نیز عتبہ ابن ربیعہ کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ اس نے خود حضور ﷺ سے سورة فصلت کی آیات سنیں اور انہوں نے اسے متزلزل کردیا۔ اور یہ واقعات بھی مشہور ہیں کہ یہ لوگ موسم حج میں لوگوں کو قرآن سے دور رکھنے کی تدبیر کرتے۔ ولید ابن مغیرہ لوگوں سے کہتے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام ، دعوت اسلام اور قرآن کی حقانیت میں شک نہ رکھتے تھے بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دعوت سے مقابلے میں بڑا سمجھتے تھے۔ پھر ان کو یہ خطرہ تھا کہ جب ہم لا الہ الا اللہ مھمد رسول اللہ کا اقرار کرلیں گے تو پھر محمد ہمارے حاکم اور مقتدر اعلی ہوں گے۔ کیونکہ اس کلمے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان انسانوں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں آجائیں اور تمام طاغوتی طاقتوں کو ختم کردیں۔
قرآن مجید ایک عجیب اور منفرد کتاب ہے ، اور اس کا اسلوب بھی لوگوں کے اندر مروج اسالیب کلام سے زیادہ منفرد ہے ، اس لیے قریش اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے۔ نیز عربوں میں پیشین گوئی کرنے والوں اور مجنونوں کے درمیان یک رنگی ہوتی تھی ، مثلاً مجذوب لوگ عربوں میں بھی اپنے آپ کو عالم بالا سے متعلق قرار دیتے تھے جو اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے جن کی تاویل وہ حسب منشا کرسکتے تھے ، ان روایات کی وجہ سے قریش حضرت نبی ﷺ کو بھی ایک مجذوب یا مجنون قرار دیتے تھے اور آپ کے کلام کو مجذوب یا مجنون کا کلام کہتے تھے۔
قرآن کریم ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا تھا اور یہ مشورہ دیتا تھا کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں غور و فکر کریں جنہیں وہ خوب جانتے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی ایسی مجذوبانہ باتیں نہیں کی تھیں۔ پھر وہ خود اس بات کے بھی گواہ تھے کہ آپ سچے اور زمین ہیں جبکہ آپ کی حکمت اور دانائی اور سنجیدگی کے بھی وہ قائل تھے۔ جب حجر اسود کے معاملے میں انہوں نے آپ کو حکم بنایا اور آپ نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے وہ ایک بہت ہی عظیم خانہ جنگی سے بچ گئے۔ پھر آپ کے پاس سب لوگ اپنی امانتیں رکھتے۔ اور یہ امانتیں اس وقت تک آپ کے پاس تھیں جب تک آپ مکہ میں تھے اور آپ کے چلے جانے کے بعد آپ کے ابن عم حضرت علی ؓ نے لوگوں تک پہنچائیں۔
قرآن مجید ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ حضرت محمد کا ماضی کھلی کتاب ہے ، تم آپ کی زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہو ، آخر وہ کیا بات ہے کہ جس کی وجہ سے تم ، آبے کو مجنون کہتے ہو ، آبے جس معیار کا کلام آپ پیش کر رہے ہیں کیا یہ مجنونوں اور پاگلوں کا کام ہوسکتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔
مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۔ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ، وہ ایک خبردار کرنے والا ہے جو صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
آپ کی عقل میں کوئی خلل نہیں ہے وہ تو واضح واضح بات کرنے والا ہے۔ آپ کا کلام مجنون کے کلام سے بالکل مختلف ہے۔ اور آپ کے حالات زندگی مجنونوں کے حالات زندگی سے مختلف ہیں۔