7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 7:189–198

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو

درس نمبر 82 ایک نظر میں اس سورة کے آخر میں یہ ربانی ہدایت ہیں ، اللہ کی جانب سے خاص اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کی جا رہی ہے۔ ان میں حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے خطاب ہے۔ اس وقت یہ لوگ ابھی مکہ ہی میں تھے۔ یہ ہدایات انہیں اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے دی جا رہی ہیں جو مکہ اور اس کے ارد گرد پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ ہدایات اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے خاص طور پر جاری ہوئی ہیں اور گمراہ انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو بحیثیت قائد دعوت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے لیے نہایت ہی یسر اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں اور ایسی باتوں کا حکم دیں جنہیں سلیم فطرت انسانی افعال خیر سمجھتی ہو۔ تمہارے احکام و ہدایات میں تعقید اور تشدید نہ ہو ، اور جہاں جاہلیت اصلاح پذیر نہ ہو وہاں اس کے ساتھ الجھنے کے بجائے اس سے پہلو تہی کیا جائے ، لوگوں سے مجادلہ نہ کیا جاے ، ان کی فضول محفلوں میں شریک نہ ہوں اور اگر اہل جاہلیت آپ کو غصہ دلائیں اور حدود پار کریں اور ضد وعناد کا مظاہرہ کریں اور شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے نتیجے میں آپ کو طیش آجائے تو آپ شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کریں اور تعوذ کے ذریعے اطمینان حاصل کرکے صبر کریں۔ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو ان جاہلوں کے مزاج سے متعارف کرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قوت کی وسوسہ اندازی ہے جو ان لوگوں کو سرکشی اور گمراہی پر ابھار رہی ہے اور حضور ﷺ سے وہ جو سلوک کر رہے ہیں اس کا ایک حصہ بھی یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ آپ سے خوارق عادت امور طلب کرتے ہیں چناچہ حضور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کے اس سلوک اور مطالبوں کا یہ جواب دیا جائے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟ رسول کا مقام کیا ہے ؟ تاکہ رسالت اور رسول کے مقام و ماہیت کے بارے میں ان کے تصورات کی اصلاح کردی جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ رسول اور رب العالمین کے تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ ۔ وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اے نبی ! جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟ ان سے کہو " میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ بذریعہ وحی قرآن کے نزول کی طرف آیت سابقہ میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اس مناسبت سے یہاں مسلمانوں کو وہ آداب سکھائے جاتے ہی جو تلاوت قرآن کے وقت ملحوظ رکھے جائیں گے۔ اللہ کے ذکر کے آداب اور یاد الہی پر دوام اور اسے عادت بنا لینے کی ہدایت اور کسی بھی وقت یاد الہی سے غافل نہ ہونے کی ہدایت ، بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ملائکہ ہر وقت اللہ کی یاد کرتے رہتے ہیں ، تسبیح کرتے ہیں اور سجدہ ریز ہوتے ہیں لہذا انسانوں کے لیے یہ ضروری اور بہتر ہے کہ وہ غفلت نہ کریں اور تسبیح و تہلیل اور رکوع و سجود میں مشغول رہیں۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جاے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔ اے نبی اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو ، دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آخر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں۔ درس نمبر 82: تشریح آیات 199 تا 206:۔ تفسیر آیت 99: خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو مطلب یہ ہے کہ ممکن حد تک لوگوں کے ساتھ نرمی کرو۔ معاشرت ، باہم میل جول میں لوگوں سے اخلاق عالیہ کا بدرجہ کمال توقع نہ کرو۔ اور ایسے اخلاق بھی ان پر مسلط نہ کرو جو ان پر شاق گزریں اور ان کے لیے ان کا مظاہرہ ممکن نہ ہو۔ ان کے اندر جو غلطیاں پائی جاتی ہوں۔ ان میں جو کمزوریاں اور جو نقائص پائے جاتے ہوں ان کے بارے میں عفو و درگذر سے کام لو۔ لیکن یہ عفو و درگذر کی پالیسی ذاتی اور شخصی معاملات کے اندر ہے۔ شرعی فرائض و واجبات میں عفو و درگذر کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اسلامی عقائد میں سے کوئی عقیدہ ایسا نہیں ہے جس سے چشم پوشی کی جاسکتی ہو۔ اور اسلامی شریعت میں کوئی قانون ایسا نہیں ہے جس سے چھوٹ دی جاسکتی ہو۔ ہاں لوگ لین دین کے معاملات می ایک دوسرے کے ساتھ میل و جول اور معاشرت میں نرمی اور تسامح کرسکتے ہیں۔ باہم معاشرت میں نرمی سے لوگوں کی زندگی بہت ہی اچھے اسلوب میں گزر سکتی ہے ، خصوصاً بڑے لوگوں کی جانب سے چھوٹ لوگوں کی غلطیوں سے چشم پوشی کرنا ، انسانی کمزوریوں سے درگزر کرنا اور ان پر رحم کرنا اور ان کے ساتھ دریا دلی کا رویہ اختیار کرنا ، ان کے فرائض میں شامل ہے اور ان کے شایان شان تصور ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک عظیم شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ معلم ، مر بھی ور مصلح بھی ہیں۔ اس لیے ان اوصاف حمیدہ کی رعایت کرنا ان کے شایان شان ہی نہیں ان کے فرائض میں سے ہے۔ حضور ﷺ اپنے ذاتی معاملات کبھی بھی کسی شخص پر طیش پر نہیں آئے ، لیکن اگر معاملہ دین کا ہوتا تو آپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا۔ یہی حکم ان تمام افراد کے لیے ہے جو دعوت دین کا کام کرتے ہیں ، ان کے لیے بھی وہی حکم ہے جو حضور ﷺ کے لیے ۔ اس لیے انسانی نفوس کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ان کے ساتھ وسعت قلبی کا سلوک ہونا چاہئے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ خوش اخلاقی اور نرمی کا برتاؤ ہونا چاہیے مگر شرط یہ ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں کی جاسکتی ، نہ اللہ کے دین میں افراط وتفریط سے کام لیا جاسکتا۔ وامر بالعرف۔ " معروف کی تلقین کر "۔ معروف سے مراد وہ کام ہے جو اچھا ہو ، جس کی بھلائی میں کوئی شبہ نہ ہو ، اور اس میں کسی کا اختلاف اور جھگڑا نہ ہو اور جس میں تمام سلیم الفطرت اور درست فکر و نظر رکھنے والے لوگوں کا اختلاف نہ ہو۔ جب نفس انسانی ان معروف امور کا عادی بن جائے تو پھر اس کی قیادت اور راہنمائی آسان ہوجاتی ہے اور وہ بغیر کسی مشقت کے اچھے کاموں کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ حققت یہ ہے کہ جب آغاز ہی میں نفس انسانی کو مشقت ، مشکلات اور شدت اور سختی سے دوچار کردیا جائے تو اس اچانک سخت صورت حالات سے نفس انسانی بدک جاتا ہے اور اس کی اصلاح کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔ نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ آغاز کار میں اسے آسان کام دئیے جائیں جو معروف اور مشہور ہوں تاکہ وہ خود مشکل کاموں کی طرف بڑھنے کا حوصلہ کرے اور بڑی سہولت سے وہ کام کر گزرے۔ و اعرض عن الجاھلین۔ " اور جاہلوں سے نہ الجھو "۔ جہالت رشد و ہدایت کے مقابلے میں ہے ، جہالت علم کے بالمقابل بھی ہے ، گمراہی اور بےعلمی گویا ہمسائے ہیں۔ اعراض کس طرح کریں ، یعنی جاہلوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ نیز جو باتیں وہ کرتے اور جو برے اعمال وہ کرتے ہیں ان کو اہمیت نہ دیں اور اگر ایسے حالات سامنے آجائیں تو شریفانہ انداز اختیار کرکے گزر جائیں۔ ان کے ساتھ بحث و تکرار نہ کریں جس کا نتیجہ ماسوائے کشیدگی کے اور کچھ نہیں ہوتا اور جس میں محض وقت اور قوت ضائع ہوتی ہے۔ بعض اوقات سکون اور اعراض کی وجہ سے ان کا نفسیاتی علاج بھی ہوجاتا ہے۔ یوں ان کے سرکش نفوس کی اصلاح ہوجاتی ہے اور یہ اصلاح بدکلامی اور بحث و مناظرے کے مقابلے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عناد اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ الجھاؤ کے نتیجے میں مخاطبین کی اصلاح ہوگی یا نہ ہوگی یہ بات مشکوک ہے البتہ الجھنے والا داعی بہرحال ان لوگوں سے دور ہوجاتا ہے جن میں اصلاح احوال اور قبولیت حق کا مادہ ہوتا ہے۔ اور جب داعی لغو اور بدکلام لوگوں سے اعراض کردے۔ تو وہ پروقارنظر آتا ہے اور لوگ دیکھتے ہیں کہ داعی کے مخالف لوگ جہالت میں مبتلا ہیں ، احمقانہ کام کرتے ہیں تو اس وجہ سے وہ عوام الناس کی نظروں میں گر جاتے ہیں۔ ہر صاحب دعوت کو چاہئے کہ وہ اللہ کی ان ہدایات پر اچھی طرح غور و فکر کرے کیونکہ رب العالمین انسانی نفسیات کی داخلیات سے بھی اچھی طرح واقف ہے اسی لیے اس نے یہ ہدایات دی ہیں۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

لیکن رسول اللہ ﷺ بہرحال بشر تھے۔ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے آپ غصہ ہوجاتے تھے۔ بعض احمق اور سفیہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کرتے تھے کہ وہ آپ کے لیے ناقابل برداشت ہوتے تھے ، اور اگرچہ آپ ان کو برداشت ہی کرلیتے لیکن آپ کے بعد آنے والے اصحاب دعوت ہوسکتا ہے کہ اس قدر برداشت کا مادہ نہ رکھتے ہوں ، ایسے حالات میں شیطان اکساتا اور ورغلاتا ہے۔ اور نفس انسانی جوش میں آکر بےقابو ہوجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ اور آپ کے بعد تمام داعیوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اعوذ باللہ کے ذریعے اپنے غضب اور جوش پر قابو پانے کی سعی کریں تاکہ شیطان اپنی راہ لے۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے اس آیت پر یہ تبصرہ کہ اللہ سمیع وعلیم ہے ، نہایت ہی بامعنی اور برمحل ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اللہ جاہلوں کے جہل اور ان کی حماقت کو سن رہا ہے اور ان کی جہالتوں اور حماقتوں کی وجہ سے تمہیں جو تکلیف ہو رہی ہے اس سے بھی اللہ واقف ہے۔ لہذا تم تسلی رکھ۔ تمہارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یا جو حالات تم کو پیش آ رہے ہیں اللہ انہیں جانتا ہے اس سے بڑی اور تسلی کیا ہوگی کہ ایک شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ داعی الی اللہ ہو اور اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہو اور اللہ کہہ دے کہ بہر حال ہم جانتے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے تسلی رکھو۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے

قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔ ۔۔۔۔ اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے " یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس آخری فقرے نے یہ بات بتائی کہ جب انسان کے احساس کو شیطانی خیال چھوتا ہے تو انسان کی فکر و نظر ایک مختصر وقت کے لیے معطل ہوجاتی ہے۔ لیکن تقویٰ ، خدا خوفی اور اللہ کی یاد اور خشیت الٰہی وہ گہرا رابطہ ہے جو دلوں کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور انہیں بار بار غفلت سے جگاتا ہے اور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ اہل تقوی کو جب حقیقت یاد آجاتا ہے تو ان کی فکر و نظر اور شعور سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ اچانک وہ راہ دیکھ لیتے ہیں جن پر انہیں چلنا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کا مس انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اللہ کی یاد انسان کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ مس شیطان ظلمت اور تاریکی ہے اور اللہ کی طرف رجحان نور اور روشنی ہے۔ مس شیطان کا علاج صرف تقوی اور یاد لۃٰ سے ہوسکتا ہے اور جن لوگوں میں تقوی اور ذکر الہی ہو ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب شیطان کے اثر سے برا خیال انہیں چھو بھی لے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور صحیح راہ دیکھنے لگتے ہیں۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے

یعنی شیاطین کے بھائی ان کو ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں ، اور بعض اوقات ان کے بھائی شیاطین انس بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ان کی گمراہی میں ان کو ترقی ہی دیتے ہیں ، نہ تھکتے ہیں ، نہ آرام کرتے ہیں اور نہ خاموش ہوتے ہیں اور یہ لوگ حماقت اور جہالت اور کج روی میں مسلسل آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔