7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔

درس نمبر 73 تشریح آیات : 10۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 25۔ یہاں سے انسانیت کے عظیم سفر کا آغاز ہوتا ہے اور نسل انسانی کو کرہ ارض کا چارج دیا جاتا ہے ۔ یہ فقرہ قصہ انسانیت کے لئے ایک تمہید ہے ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ آیت ” نمبر 10۔ اس زمین اور انسانوں کے خالق ہی نے یہاں انسانوں کو بسایا اور اسی نے زمین کے اندر وہ وسائل وخصائص پیدا کئے جو انسانی زندگی کے لئے سازگار ہیں جو انسانوں کے لئے قوت و ضروریات مہیا کرتے ہیں اور اس نگہداشت کرتے ہیں جن میں وسائل رزق ومعاش شامل ہیں۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے کرہ ارض کو ایک ایسے مقام پر رکھا جو انسانوں کی نشوونما کے لئے ساز گار ہے ۔ زمین اپنی ترکیب ‘ حجم اور سورج و چاند سے اپنے متعین فاصلے اور سورج کے گرد اپنی گردش ‘ اور اپنے طور پر ایک طرف جھکاؤ اور اپنی گردش کی رفتار وغیرہ کے اعتبار سے انسانی زندگی کے لئے مفید ہے ۔ پھر یہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے اندر بےحد و حساب خزانے ودیعت کئے ہیں اور اس میں اکثر چیزیں انسان کی خوراک اور استعمال کے لئے فراونی سے پیدا کی ‘ جو اس انسان کے لئے یہاں نشوونما پانے اور ترقی کرنے کا سبب ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جس نے جنس انسانی کو اس زمین کا سردار بنایا ہے ۔ وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان قوتوں کو تسخیر کرے اور انہیں اپنی آسائش کے لئے استعمال کرے پھر اللہ نے انسانوں کو ایسی عقلی قوت دی ہے جس کے ذریعے انہوں نے اس کائنات کے بعض پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرلی ہے ۔ اور اس علم کو پھر وہ اپنی ضروریات کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو یہ قوت نہ دیتا تو یہ ضعیف انسان اس کائناتی قوتوں کو ” تسخیر “ نہ کرسکتا (جس طرح قدیم وجدید جاہلیت کے علمبردار اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں) اور اس عظیم کائنات اور طویل و عریض دنیا کی قوتوں کا مقابلہ نہ کرسکتا ۔ دور جدید کی تہذیب پر رومی اور یونانی جاہلی افکار کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ یہ جاہلی تصورات کائناتی قوتوں کو انسان کی دشمن قوتیں سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ قوتیں انسان کے وجود اور اس کی سرگرمیوں کی دشمن ہیں ۔ ان تصورات کے مطابق انسان اور کائناتی قوتوں کے درمیان مسلسل جنگ ہے ۔ اس لئے انسان جب اس کائنات کے بھیدوں میں سے کسی بھید کو جان لیتا ہے تو یہ لوگ اسے ” تسخیر فطرت “ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ تصورات غلط ہیں اور پھر ان کے پس منظر میں خباثت بھی چھپی ہوئی ہے۔ اگر یہ کائناتی قوتیں انسان کی دشمن ہوتیں ‘ اس کی زندگی کا نقیض ہوتیں ‘ اس کے خلاف مورچہ زن ہوتیں ‘ اس کی مخالفت کرتیں ‘ اور ان کے پس منظر میں کسی مدبر ذات کا ارادہ کام نہ کر رہا ہوتا ‘ جس طرح ان لوگوں کا خیال ہے تو انسان سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا ۔ اگر پیدا ہوتا تو وہ اس کائنات کے اندر کسی طرح نشوونما نہ پاسکتا تھا ۔ کیونکہ ان تصورات کے مطابق یہ پورا جہان انسان کا دشمن ہے محض اس لئے کہ وہ وجود میں آگیا ہے ۔ لہذا وہ یہاں زندگی بسر کر رہا ہے ‘ یہ کوئی معقول توجیہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ پوری کائنات ہی انسان کی دشمن ہے تو وہ کس طرح یہاں چل سکتا ہے ۔ ان لوگوں کا تصور یہ تھا کہ یہ کائنات خود مختار ہے اور اس کے اوپر کوئی مقتدر اعلی نہیں ہے ۔ ان تصورات کے مقابلے میں اسلامی تصور کائنات ہی وہ حقیقی تصور ہے جو یہاں کائنات کے تمام اجزاء کی پوری پوری تشریح کردیتا ہے ۔ وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ۔ وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور یہ وہی اللہ ہے جس نے اس کائنات کے مزاج کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ اپنی ساخت کے اعتبار ہی سے انسان کے لئے ممدومعاون ہے ۔ انسان کے اندر اسی اللہ نے ایسی قوتیں ودیعت کی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کائنات کی قوتوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرپاتا ہے ۔ یہ موافقت اور یہ ہم آہنگی ہی وہ قابل لحاظ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر چیز کی تخلیق کو بہترین بنایا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ کائنات کی یہ قوتیں باہم دگر برسر جنگ ہیں۔ اس اسلامی تصور کے مطابق انسان اس کائنات کے ساتھ باہم دوست کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ ایک قوت مدبرہ یعنی باری تعالیٰ کی نگرانی میں ۔ اس کا قلب مطمئن ہے ۔ اس کا نفس خوش ہے ۔ اس کے قدم مضبوط ہیں اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کرہ ارض پر اپنے فرائض خلافت انسانی کو سرانجام دے رہا ہے ۔ وہ کائنات کا انیس وہم نشیں ہے اور اللہ کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس کائنات کا راز بخشا ہے ۔ جونہی وہ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ میں سے کوئی راز دریافت کرتا ہے ‘ جو اس کے فرائض کیلئے معاون ہوتا ہے تو اس کی ترقی آرام اور خوشحالی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں یہ تصور جو اسلام دیتا ہے انسان کو اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ اس کائنات کے مزید راز معلوم کرے ۔ یہ تصور اسکی اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے نہایت ہی اطمینان اور خود اعتمادی کی کیفیت دیتا ہے کیونکہ اس کی حرکت ‘ ایک ایسے دوست کی ہمرکابی میں ہوتی ہے جو بخیل نہیں ہے جو اسے اپنے راز نہ بتاتا ہو۔ وہ اپنے تعاون اور امداد سے بھی ہاتھ نہیں کھینچتا ۔ اس کی وجہ سے انسان کا کسی ایسے دشمن سے رابطہ نہیں ہوتا جو ہر وقت مخالفت کرتا ہے اور راستے میں روڑے اٹکاتا ہے اور اسکی آرزوؤں اور امیدوں پر پانی پھیرتا ہے ۔ فلسفہ وجودیت کا یہ عظیم المیہ ہے کہ اس کائنات کے بارے میں ایک برا اور خبیث تصور رکھتا ہے ۔ اس فلسفے کا تصور کائنات یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان کا اجتماعی نظام انسانی کے انفرادی وجود کا دشمن ہے اور اس کائنات کا بوجھ اور پھر انسان کی اجتماعیت کا بوجھ انسان کے لئے تباہ کن ہے ۔ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ اس پر یقین رکھنے والا انسان رجعت پسندی ‘ عزلت نسبتی بلکہ عدم کے دامن میں لوٹ جاتا ہے یا پھر اس کے نتیجے میں انفرادیت اور خود سری اور سرکشی جنم لیتی ہے ۔ دونوں حالتوں میں ایک انسان بےچینی اور قلق میں مبتلا ہوتا ہے جس کا بوجھ وہ برداشت نہیں کرسکتا عقل وخرد انسان کے لئے وبال بن جاتے ہیں۔ وہ عملی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے اور یا وہ سرکشی کی راہ اختیار کرلیتا ہے یاعدم کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوجاتا ہے اور یہ دونوں حالتیں ایک ہی طرح کی مصیبت ہیں۔ یورپی افکار کے شعبہ وجودیت ہی کا یہ المیہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے پورے فلسفے کا بھی یہی المیہ ہے ۔ یورپ کے تمام مکاتب فکر اور رجحانات اسی المیہ میں گرفتار ہیں بلکہ ہر قسم کا جاہلی نظام ہر دور میں اور ہر معاشرے میں اس المیے سے دوچار ہوتا ہے ۔ اس المیے کا مقابلہ صرف اسلامی نظام فکر وعمل ہی کرتا ہے کیونکہ اسلام ہی انسان کو اس کائنات کے بارے میں ایک دوست زاویہ فکر دیتا ہے ۔ بلکہ وہ و رائے کائنات بھی ایک معقول تصور دیتا ہے ۔ انسان اس زمین کا بیٹا ہے ‘ وہ اس کائنات کی پیداوار ہے ۔ وہ اس زمین سے پیدا کیا گیا ‘ اسی میں پروان چڑھا ۔ اس کی بودوباش اور نشوونما کا انتظام اسی زمین میں ہے اور اسے یہاں ایسی عقلی قوت دی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اس جہان کے پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور یہ راز اور قوتیں انسانی وجود کے لئے سازگار ہیں۔ جب ان رازوں تک انسان رسائل حاصل کرلیتا ہے تو یہ انسان کے معاون ہوتے ہیں اور اس کی زندگی کی تفسیر وتعبیر کرتے ہیں۔ لیکن انسان ! انسان کی اکثریت ناشکری ہے اس لئے کہ وہ اپنی جہالت اور جاہلیت میں گم گشتہ راہ ہے ۔ جو لوگ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ سے واقف ہوگئے ہیں وہ بھی حق شکر ادا نہیں کرتے ۔ وہ شکر وثنا بھی کیسے سکتے ہیں جب اللہ کو ان کی جانب سے یہ اعزاز قبول ہی نہیں ۔ (وہ انسانیت کے بجائے اپنی حیوانیت ثابت کرتے ہیں) آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ اب قصہ انسانیت کے دلچسپ واقعات بیان ہوتے ہیں ۔ ایک عظیم محفل میں انسانیت کی ولادت کی تقریب منعقد ہوتی ہے ۔ یہ ملاء اعلی میں ایک عظیم الشان تقریب ہے ۔ اللہ تعالیٰ جو ایک عظیم اور جلیل القدر بادشاہ ہے ‘ اس کی جانب سے تخلیق آدم کا اعلان ہوتا ہے ‘ خود بادشاہ کائنات اعلان کرتے ہیں ۔ یہ اس بندہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس محفل میں تمام ملائکہ حاضر ہیں ۔ ان میں حضرت ابلیس بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ دراصل فرشتہ نہیں تھا لیکن اس تقریب میں پوری کائنات اور اس کی مخلوقات موجود ہیں ‘ اس لئے کہ یہ نہایت ہی اہم واقعہ ہے اور عظیم الشان معاملہ ہے جس کی اہمیت پوری کائنات کی اسکیم میں مرکزیت کی حامل ہے ۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔

آیت ” نمبر 11 تا 18۔ یہ پہلا منظر ہے اس قصے کا ۔ نہایت ہی دلچسپ ‘ نہایت ہی اہم ۔ ہم اس قصے کے مناظر اس کی تفسیر سے پہلے پیش کریں گے ۔ ان مناظر سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس قصے کے اشارات واثرات پیش کریں گے ۔ آیت ” وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11) ” بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔ لفظ خلق کبھی تو محض وجود میں لانے کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح تصویر کا مفہوم کبھی یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو شکل و صورت اور خصائص دینا ۔ اس اعتبار سے خلق وتصویر کی تخلیق کے دو مرحلے نہیں ہوتے بلکہ بیک وقت کسی تخلیق میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ ثم کا لفظ ہمیشہ ترتیب زمانی کے لئے استعمال ہو ۔ یہ معنوی ترقی کے مفہوم میں بھی آتا ہے ۔ معنوی اعتبار سے محض وجود کے مقابلے میں مصور ہونا زیادہ ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ محض مادے پر بھی وجود کا اطلاق ہوتا ہے ۔ البتہ تصویر کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں مجرد وجود ہی نہیں بخشا گیا بلکہ ایک ترقی یافتہ مصور اور صاحب خصائص و کمالات وجود دیا گیا ہے ۔ دوسری جگہ آیت ” الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی “۔ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر ہدایت دی “۔۔۔۔ ۔۔ اس لئے کہ اللہ نے ہر چیز کو اس کے خصائص اور اس کے مقاصد وفرائض اسی وقت دے دیئے تھے جس وقت انہیں پیدا کیا تھا اور تخلیق کے وقت ہی ہدایت کردی تھی کہ اپنے ان وظائف وفرائض کے لئے کام کرو ‘ اور تخلیق اور ہدایت کے درمیان کوئی زمانی فاصلہ نہ تھا ۔ اگر ہدایت سے مراد رب کی طرف ہدایت لی جائے تب بھی مفہوم میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ تخلیق کرتے ہی اللہ نے انسان کو ہدایت کردی تھی ۔ اسی طرح آدم کو بھی خصائص انسانیت تخلیق کے وقت ہی دے دیئے گئے تھے ۔ اور ثم کا لفظ یہاں ترقی اور مرتبہ کی بڑائی کے معنوں میں ہے ۔ زمانہ ماقبل یا مابعد کے معنی میں نہیں ہے ۔ ہمارے خیال میں یہی مفہوم درست ہے ۔ بہرحال خلق آدم کے بارے میں جس قدر نصوص وارد ہیں اور اس کرہ ارض کے اوپر نسل انسانی کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ انسان کو اس کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے انسانی خصائص اور فرائض منصبی دے دیئے گئے تھے اور انسانی تاریخ میں جو ترقی نظر آتی ہے وہ صرف ان صلاحتیوں کے ظہور میں ہوئی ہے انسان کے تجربے اور اس کی مہارت میں اضافہ بہرحال ہوتا ہے ۔ یہ ترقی انسان کے وجود اور اس کی ذہنی صلاحیت میں نہیں ہوئی لہذا یہ فلسفہ بالکل غلط ہے جو ڈارون نے گھڑا ہے کہ انسان کی ساخت میں ترقی ہوتی رہی ہے۔ ڈارون کا یہ نظریہ کہ حیوانات کے انواع میں ترقی ہوتی رہی ۔ آثار قدیمہ اور پتھروں کی کھدائی پر مبنی ہے ۔ اور محض ظن وتخمین ہے ۔ طبقات الارض کے لحاظ سے بھی پتھروں اور پہاڑوں کی عمر کا تعین کوئی یقین امر نہیں ہے ۔ یہ محض ظنی اور تخمینی فیصلے ہیں۔ مثلا شعاعوں کے ذریعے ستاروں کی عمر معلوم کرنا ۔ یہ علوم جو محض ظن وتخمین اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرے مفروضے بھی ہوسکتے ہیں جو ان سے زیادہ معقول ہو سکتے ہیں ۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ پتھروں اور چٹانوں کی عمر یقینی طور پر متعین ہوگئی ہے تب بھی یہ ممکن ہے کہ قدیم زمانوں سے حیوانات کی مختلف اقسام اپنی موجودہ شکل میں تھیں ۔ ان ادوار میں ان کے لئے حالات ساز گار تھے لیکن بعد میں ان کے لئے حالات ساز گار نہ رہے اور ان کی نوع دنیا سے ختم ہوگئی ۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ان میں سے ایک نوع دوسری نوع کی ترقی یافتہ شکل ہے ۔ ہم دونوں کو مستقل انواع مان سکتے ہیں ۔ ڈارون کی کھدائیاں اور اس کے بعد دریافت ہونے والے انواع اس سے زیادہ کچھ ثابت نہیں کرسکتے ۔ ان چٹانی تصاویر سے صرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی ایک نوع سے زیادہ ترقی یافتہ نوع فلاں وقت میں موجود تھی اور اس بات کی تاویل کی جاسکتی ہے کہ اس وقت اس نوع کے وجود کے لئے حالات سازگار تھے اور بعد میں حالات ناساز گار ہونے کے باعث وہ نوع ختم ہوگئی اور اس کی جگہ دوسری قسم کے حیوانات وجود میں آگئے اور ترقی کر گئے ۔ اس لئے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نوع انسانی روز اول سے ایسی ہی ہے جس طرح کہ آج ہے اور اسے اللہ تعالیٰ زمین پر اس وقت وجود میں لائے جب یہاں کے حالات انسان کے لئے ساز گار بنا دیئے گئے ۔ تمام قرآنی نصوص اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انسانی طبیعیاتی ‘ عضویاتی اور عقلی و روحانی اعتبار سے اس قدر منفرد ہے کہ دور جدید کے ڈارونی بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں کہ انسان کسی دوسری نوع کی ترقی پذیر نوع نہیں ہے اور وہ کسی دوسری نوع کے ساتھ عضویاتی مماثلت نہیں رکھتا ۔ حالانکہ ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے ذات باری کے قائل ہی نہیں ہیں اور ان کی جانب سے یہ ایک قسم کا اعتراف ہے کہ انسان کا وجود اور اس کی نشوونما بالکل منفرد ہے ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان فرشتوں کے اجتماع میں کیا اور یہ اجتماع عالم بالا میں منعقد ہوا ۔ آیت ” ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11) پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔ ملائکہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مستقل مخلوق ہے اور ان کے اپنے خصائص وفرائض ہیں ۔ ہم ان کے بارے میں اسی قدر جانتے ہیں جس قدر اللہ نے ہمیں بتایا ہے ۔ ظلال القرآن میں ہم اس سے قبل فرشتوں کے بارے میں ایک نوٹ دے آئے ہیں ۔ اسی طرح ابلیس بھی ایک مستقل نوع کی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے ۔ قرآن میں کہا گیا ہے کان من الجن نفسق عن امر ربہ ” یہ جنوں میں سے تھا ‘ اس نے اپنے رب کی حکم عدولی کی “۔ جنات فرشتوں سے الگ ایک مخلوق ہیں۔ ان کے بارے میں بھی ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں اللہ نے بتایا ہے ۔ ان کے بارے میں بھی ہم نے ایک مجمل حاشیہ اسی پارے میں دے دیا ہے ۔ اس سورة میں آگے جا کر یہ بات آئے گی کہ ابلیس آگ سے پیدا ہوا اس لئے وہ ملائکہ سے الگ ایک مخلوق سے وابستہ ہے ۔ ابلیس کو بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا تھا اس لئے کہ یہ زمرہ ملائکہ میں شامل تھا اور اس وقت وہ عالم بالا کی اس محفل میں موجود تھا ‘ جہاں تخلیق آدم کی تقریب ہوئی ۔ رہے فرشتے تو وہ تو ایسی مخلوق ہیں جو اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور انہیں جو حکم دیا جائے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے مطیع فرمان ہو کر سجدہ کردیا اور اللہ کے حکم کی تعمیل کردی ۔ کیونکہ وہ کسی معاملے میں نہ تردد کرتے ہیں نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ وہ اللہ کی نافرمانی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ‘ چاہے کوئی سبب اور کوئی جواز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ان کا مزاج ہے ۔ یہ اطاعت شعاری ان کی خصوصیت ہے اور یہ انکے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت انسان کی ذات کس قدر مکرم ہے اور یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ فرشتے اللہ کے مطیع مطلق ہیں ۔ رہا ابلیس تو اس نے امتثال امرنہ کیا اور نافرمانی کردی۔ یہ بات آگے آرہی ہے کہ کس وجہ سے اس کے دل میں خلجان پیدا ہوا ۔ اس پر کیا خیالات چھاگئے جس کی وجہ سے اس نے نافرمانی کی جرات کی ؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اللہ رب العالمین ہے اور خود اس کا بھی خالق ہے ۔ وہ اس کے امور اور خود اس کے وجود کا بھی مالک ہے ‘ اسے ان معاملات میں کوئی شک نہیں تھا ۔ اس منظر میں اللہ کی مخلوقات کے تین نمونے پائے جاتے ہیں ۔ ایک نمونہ وہ ہے جو ہر لحاظ سے مطیع فرمان ہے اور اس کی فطرت میں تعمیل امر ہے ۔ دوسرا نمونہ ہے جو مکمل طور پر نافرمان ہے اور اس کی فطرت میں استکبار اور نافرمانی ہے۔ تیسری مخلوق انسانی مخلوق ہے ۔ اس کی صفات ‘ اس کی کمزوریوں اور کمالات پر بھی عنقریب بات ہوگی ۔ پہلی قسم کی مخلوق خالص الہی مخلوق ہے اور انہوں نے اپنا فرض اس محفل ہی میں پوری طرح ادا کردیا ۔ دوسری دو قسم کی مخلوقات کے بارے میں عنقریب تفصیلات آئیں گی کہ ان کے رجحانات کیا ہیں ؟
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔

آیت ” قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (12) ” پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ ابلیس کا قصور یہ تھا کہ نص صریح کے ہوتے بھی اس نے یہ سوچا کہ وہ اپنی رائے پر عمل کرسکتا ہے اور اگر حکم کے باوجود کوئی سبب اور علت اور علت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ جب نص صریح آجائے تو پھر فکر ونظر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ اب صرف یہ صورت رہتی ہے کہ اطاعت کی جائے اور حکم کو نافذ کیا جائے ۔ اب حضرت ابلیس ملعون کو دیکھئے کہ باوجود اس بات کے علم کے کہ اللہ خالق ومالک ہے ‘ وہی رازق اور مدبر ہے اور اس دنیا میں کوئی بات اس کے علم اور اذن کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا جو اس کے پاس پہنچ گیا ہے ۔ وہ اپنی منطق سامنے لاتا ہے ۔ ” میں اس سے زیادہ بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ اس کی اس حجت سازی پر اس کو فورا سزا ملتی ہے ۔
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا : ” تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔

آیت ” قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13) ” فرمایا : ” اچھا “ تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “ یہاں اب اس کا علم اس کے لئے نفع بخش نہیں رہا ‘ وہ اللہ کی ذات وصفات سے خوف واقف ہے ۔ لیکن یہ علم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہوگا جس تک اللہ کا حکم پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر اپنی فکر ونظر کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے ۔ ایک مسئلہ اس کے سامنے ہے جس کا فیصلہ اللہ کی عدالت سے ہوگیا ہے لیکن وہ اسے نہیں مانتا ‘ وہ اپنا فیصلہ خود کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ کے فیصلے کو رد کرتا ہے ۔ پس یہ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ کر کفر کا ارتکاب ہے ۔ ابلیس کے پاس علم ومعرفت کی کمی نہ تھی ‘ اس کا اعتقاد متزلزل نہ تھا۔ چناچہ وہ جنت سے بھگایا گیا ‘ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا اور اس پر لعنت لکھ دی گئی ۔ اس کے اوپر ذلت مسلت کردی گئی ۔ لیکن یہ شدید فطرت اس بات کو سمجھنے کی سعی ہی نہیں کرتی کہ اس آدم کی وجہ سے وہ راندہ درگاہ ہوا ۔ چناچہ اب وہ توبہ کرنے بجائے انتقام پر اتر اتا ہے ۔ اب وہ اپنے سر پر وہ ذمہ داریاں لیتا ہے جو اس شر کے ساتھ مناسب ہیں جس میں وہ مبتلا ہوگیا ہے ۔
Ayahs 7:14–17

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

“ فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

آیت ” قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْؤُوماً مَّدْحُوراً لَّمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنکُمْ أَجْمَعِیْنَ (18) ” فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ “ انسانوں میں سے بعض لوگ تو اللہ کو جانتے ہوئے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ ہمارا الہ ہے لیکن اس معرفت اور عقیدے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی اور اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکام پر نظر ثانی کرسکتے ہیں اور اللہ کے احکام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ یہ پھر شیطان ان کو اس قدر گمراہ کردیتا ہے کہ وہ سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ شیطان کے پیروکار ہیں اور جہنم کے مستحق ہوں گے ۔ اللہ نے ابلیس اور اس کی جماعت کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی آزادانہ سعی کرے اور آدم اور اس کی اولاد کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ اپنے اختیار سے جو راہ چاہے اختیار کرے ۔ دونوں کے لئے آزمائش کے مواقع ہیں اور یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا کہ وہ اس طرح انسان کو آزمائے ۔ اس طرح اسے اس کائنات کی ایک منفرد اور مکرم مخلوق کا مقام دے تاکہ یہ انسان نہ فرشتہ ہو اور نہ شیطان بلکہ وہ اپنا ہی کردار ادا کرے نہ شیطانی کردار اور نہ ہی فرشتوں کا کردار۔ اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعددوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ ابلیس کو جنت سے دھتکارنے کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدم اور ان کی بیوی سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیں صرف اس قدر بتایا جاتا ہے کہ آدم کی بیوی بھی تھی اور وہ اس کی ہم جنس تھی لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی تخلیق کس طرح ہوئی ۔ آیت زیر بحث اور اس جیسی دوسری آیات جو قرآن کریم میں وارد ہیں ‘ اس معاملے میں کوئی بات نہیں بتاتیں اور تخلیق حوا کے بارے میں جو روایات ہیں ان کے اندر اسرائیلیات کے اثرات ضرور ہیں اس لئے ہم اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتے کہ حوا کی تخلیق کسے ہوئی ؟ یہ بات یقینی ہے کہ اللہ نے آدم کی ہم جنس اس کی بیوی پیدا کی اور اس طرح وہ جوڑا ہوگئے ۔ اللہ نے اپنے تمام مخلوق میں جوڑے پیدا کئے ہیں۔ آیت ” ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون “۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو “۔ چناچہ یہ اللہ کی سنت جاریہ اور اس کائنات کا بنیادی اصول ہے ۔ جب ہم اس اصول کے مطابق رائے اختیار کریں تو پھر ہمیں یہ رائے اختیار کرنی ہوگی کہ خلق آدم کے بعد حوا کی تخلیق بھی جلد ہی کی گئی اور حضرت حوا کی تخلیق بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوئی ۔ بہرحال اب خطاب حضرت آدم اور آپ کی بیوی حضرت حوا سے ہے تاکہ سب سے پہلے ان کی زندگی کے بارے میں اللہ ان کو احکام دے ۔ انکی تربیت کی جائے اور زمین پر انہوں نے جو بنیادی کردار ادا کرنا ہے اس کے لئے انہیں تیار کیا جائے کیونکہ آدم کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت الہیہ انجام دے جب کہ سورة بقرہ کی آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔ آیت ” اذ قال ربلک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔ ” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم ‘ تو اور تیری بیوی دونوں اس جنت میں رہو جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے ۔

آیت ” نمبر 19۔ قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حیوان خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ اب ابلیس اپنا وہ کام شروع کرتا ہے جس کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کرلیا ہے ۔ یہ انسان جسے اللہ نے یہ اعزاز دیا اور جس کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی اس عظیم تقریب میں کیا گیا ‘ جسے تمام فرشتوں نے سجدہ ریز ہو کر سلامی دی اور جس کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کی بنا پر ابلیس کو عالم بالا سے خارج البلد کیا گیا ۔ یہ مخلوق اپنے اندر دو صلاحیتیں رکھتی ہے ۔ یہ دونوں جانب جاسکتی ہے اور اس مخلوق میں بعض کمزور یونٹ بھی ہیں جن سے اسے پکڑا جاسکتا ہے الا یہ کہ وہ امر الہی پر کاربند ہوجائے ۔ ان کمزور مقامات سے اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ان کمزور نکات میں سے ایک ہے شہوات نفسانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے شیطان ان نکات سے کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے ۔
Ayahs 7:20–21

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگائیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔

آیت ” نمبر 20 تا 21۔ معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان سے انسان صرف پختہ ایمان اور یاد الہی کے ذریعے سے بچ سکتا ہے اور ایمان اور ذکر کے بعد صورت یہ ہوجاتی ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ۔ اس کی سازشیں کمزور پڑجاتی ہیں اور انسان پر ان کا اثر نہیں ہوتا ۔ اس طرح شیطان نے ان کو بہکایا اور انکی شرمگاہیں جو ایک دوسرے پوشیدہ تھیں انکو ان پر ظاہر کردیا گیا اور یہ تھا اس کا اصل مقصد انکی شرمگاہیں تھیں اور انکو کسی دوسری مادی چیز سے چھپانے کی ضرورت تھی ۔ شیطان نے ان پر اپنی اسکیم ظاہر نہ کی تھی البتہ وہ انکی خواہشات کی راہ سے داخل ہوگیا ۔ اس نے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ “ یوں شیطان انسانی خواہشات کے ساتھ کھیلا ۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے یاطویل عرصے تک عمر پائے اور اسے خلود نصیب ہو ۔ اور اس کو ایسی سلطنت ملے جو محدود زندگی سے آگے ہو۔ بعض قراءتوں میں (ملکین ) لفظ ل کی زیر کیساتھ آیا ہے ۔ (ملکین) جس کے معنی دو بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔ سورة طہ کی آیت آیت ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک الایبلی “۔ (20 : 120) ” کیا میں خلود کا درخت نہ بتاؤں اور ایسی بادشاہت جو ختم ہونے والی نہ ہو ۔ “ اس صورت میں شیطان نے انہیں دائمی عمر اور دائمی حکومت کا لالچ دیا ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی خواہشات میں سرفہرست ہیں۔ جنسی خواہش کی اصل حقیقت بھی یہ ہے کہ جنسی تعلق واتصال کے ذریعے ایک انسان خلود ہی چاہتا ہے یعنی اسکی اولاد ہو اور نسلا بعد نسل وہ زندہ رہے اور اگر ملکین پڑھیں تو مراد یہ ہوگی کہ دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور انسان کی جسمانی ضروریات سے فارغ ہوجاؤ گے اور ملائکہ کی طرح زندگی بھی دائمی ہوگی لیکن پہلی قرات اگرچہ مشہور قرات نہیں ہے ‘ سورة طہ کی آیت سے زیادہ موافق ہے اور اس سورة میں شیطان کا دھوکہ بھی انسانی خواہشات کی حدود کے اندر رہتا ہے ۔ شیطان لعین چونکہ جانتا تھا کہ اللہ نے ان کو بصراحت اس درخت سے منع کردیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے ممانعت کی وجہ سے ان کے دل میں کھٹکا موجود ہے ۔ اور قوت مدافعت ان کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اس وسوسہ اندازی میں وہ انسانی خواہشات اور کمزوریوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ناصح مشفق بن کر اور قسمیں اٹھا کر کہتا ہے آیت ” وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21) ” اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ “ آدم اور ان کی بیوی اللہ کی اس تنبیہ کو بھول جاتے ہیں کہ شیطان انکا دشمن ہے ۔ یہ بھول ان کی شخصی خواہش اور شیطان کی قسموں کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ تم احکام الہیہ کی اطاعت کرو چاہے کسی حکم کی علت سمجھو یا نہ سمجھو ۔ یہ دونوں یہ بھی بھول گئے کہ اللہ کی تقدیر اور حکم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ نے ان کے لئے خلود نہیں لکھا اور دائمی حکومت نہیں لکھی تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ ؟
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پس دھوکہ دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا ۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔ تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

آیت ” نمبر 22۔ اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “ اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں جن کے ظاہر ہونے سے انسان فطرتا شرمندہ ہوتا ہے اور ان مقامات کو صرف وہی شخص ننگا اور ظاہر کرسکتا ہے جس کی فطرت ‘ کسی جاہلی سوسائٹی کی وجہ سے فساد پذیر ہوچکی ہو ۔ آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22) تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ ان دونوں نے اللہ کی جانب سے آنے والی یہ جواب طلبی سنی کیونکہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور نافرمانی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے آنے والی اس ندا کی کیفیت کیا تھی ؟ ویسی ہی طرح پہلی مرتبہ اللہ نے انہیں خطاب کیا تھا ‘ جس طرح فرشتوں کو خطاب کیا تھا ۔ جس طرح ابلیس کو خطاب کیا تھا ۔ یہ سب امور غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں ہم صرف گمان رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے ۔ اس پکار کے مقابلے میں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی اس منفرد مخلوق انسان کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ بھول بھی جاتا ہے اور اس سے غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس میں ایسی کمزوریاں بھی ہیں جن کے راستے سے شیطان اس پر انداز ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ یہ انسان نہ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ صحیح راستے پر ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی اور لغزش کا ادراک کرلیتا ہے اور اس ادراک کے بعد وہ طلب مغفرت کرتا ہے اور نادم ہوجاتا ہے ۔ واپس ہو کر توبہ کرتا ہے اور شیطان کی طرح معصیت اصرار نہیں کرتا ۔ وہ اپنے رب سے معصیت پر معاونت طلب نہیں کرتا ۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں بول اٹھے ” اے ہمارے رب ہم نے اپنے اوپر ستم کیا ‘ اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے ۔

آیت ” نمبر 23 یہ انسان کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اپنے رب سے ملائے رکھتی ہے ‘ اور رب تک رسانی کے دروازے کھلے رکھتی ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت و استغفار ۔ اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے طلب استعانت اور طلب رحمت اور یہ یقین کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کرسکتا ہے ۔ اگر اللہ کی رحمت ومعاونت نہ ہو تو انسان عظیم خسارے سے دوچار ہوتا ہے ۔ یہاں انسان کا پہلا تجربہ پورا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت کے بڑے بڑے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ خود انسان اپنی کمزوریوں اور اپنے کمالات وصلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے ‘ وہ صلاحیتیں جو اسے کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کیلئے دی گئی ہیں ۔ اس فریضے کا اہم حصہ یہ ہے کہ اس زمین پر انسان نے اپنے دشمن شیطان کے ساتھ ایک دائمی معرکہ سر کرنا ہے ۔