7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اے نبی جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟ ان سے کہو " میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور حمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں

مشرکین مکہ حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ ہر وقت کرتے رہتے تھے۔ یہاں ان کے بعض اقوال کو نقل کرکے دکھایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر جاہل تھے اور رسالت کی حقیقت سے کس قدر بیخبر تھے۔ وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا۔ اے نبی جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانیوں کیوں نہ انتخاب کرلی۔ یعنی تم نے اصرار رب العالمین کے سامنے کیوں نہ کیا کہ مجھے یہ نشانی اور معجزہ دیا جائے یا یہ مطلب تھا کہ تم نے از خود معجزے کا صدور کیوں نہ کیا۔ کیا تم نبی نہیں ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ رسالت کی ماہیت اور رسول کے فرائض منصبی سے واقف ہی نہ تھے۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ رب العالمین کے دربار میں حضور ﷺ کس قدر با ادب تھے اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اللہ کی جانب سے جو کچھ ملتا آپ اسے لے لیتے اور اگر کچھ نہ ملتا تو آپ از ٰخود مطالبہ نہ کرتے نہ کوئی تجویز دیتے۔ نہ آپ میں اس قدر طاقت تھی کہ کسی معجزے کا صدور وہ اپنی طرف ہی سے کرلیتے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے یہ اعلان کردیا جائے۔ قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۔ ان سے کہو میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ میں نہ تو رب العالمین کے سامنے کوئی تجویز دیتا ہوں ، نہ اپنی طرف سے کوئی معجزہ ایجاد کرتا ہوں۔ میرے بس میں وہی کچھ ہے جو اچھے لوگوں کی جو تصویر پیش کی تھی وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے تھی۔ حیقی رسالت اور رسول کے اصل منصب کی ماہیت کے ادراک کے لیے ان کے پاس کوئی علم نہ تھا۔ چناچہ حضور کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے سامنے وہ علمی حقائق پیش کریں جو ان کے لیے چشمہ بصیرت ہوں اور جن کو قرآن میں نازل کیا گیا ہے اور وہ ان سے جاہل ہیں۔ ان حقائق پر غور کرنے کے بجائے وہ معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ قرآن پڑھ کر ان حقائق کو پا سکتے ہیں۔ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ بیشک قرآن بصیرت کی روشنی ہے ، اور رحمت الہی ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اسے تسلیم کرلیں اور ایمان لائیں اور اس مال غنیمت کو لوٹ لیں کیونکہ یہ تو ہے ہی عامۃ الناس کی بھلائی کے لیے۔ وہ عرب جو جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے وہ اس قرآن سے روگردانی کرکے اس کے بجائے نبی ﷺ سے خارق عادت معجزات طلب کرتے تھے جس طرح اس وقت لوگ نبیوں سے معجزات طلب کرتے تھے جب انسانیت دور طفولیت میں تھی اور اس وقت لوگ اپنے اپنے علاقوں میں محدود تھے اور عالمی سطح پر لوگوں کے درمیان علم و حکمت کا تبادلہ نہ ہوا تھا۔ اس وقت کی رسالتیں بھی علاقوں اور مختصر زمانوں کے لیے ہوا کرتی تھیں اور ان کا خطاب بھی ان ہی لوگوں تک محدود تھا جو اس وقت موجود تھے۔ بعد کے آنے والوں پر ان رسالتوں کا اطلاق نہ ہوتا تھا جنہوں نے ان معجزات کو نہ دیکھا تھا۔ وہ معجزات صرف ان لوگوں ہی کے لیے مفید تھے ، بعد میں آنے والوں کے لیے مفید نہ تھے ، جنہوں نے ان کو نہ دیکھا تھا اور شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ قرآن کریم اس قدر معجزہ ہے کہ کوئی مادی معجزہ اس کے مقابلے میں معجزہ نہیں ہے۔ جس دور کو لیا جائے اور جس پہلو سے لیا جائے قرآن مجید حران کن ہے۔ یہ کسی وقت یا کسی دور کے لوگوں کے لیے ہی معجز نہیں ہے بلکہ تاقیامت معجزہ ہے۔ لفظاً و معناً معجز ہے۔ ذرا اس کا لفظی اور اس تعبیری پہلو ملاحظہ کیجیے۔ جاہلیت کے دور میں عربوں کے اندر جو فصاحت و بلاغت پائی جاتی تھی وہ ان کے اعتبار سے بالکل واضح معجزہ تھا وہ جس طرز ادا کے عادی تھے اور جس طرح وہ اپنے بازاروں اور تہواروں میں اس پر باہم فخر کیا کرتے تھے۔ ذرا دیکھیے کہ اس پہلو سے جس طرح وہ اس وقت معجز رہا تھا ، آج بھی ہے اور کوئی انسان آج تک ان بلندیوں کو نہیں چھو سکا حالانکہ قرآن نے ان کو اس وقت بھی چیلنج دیا تھا اور آج بھی دے رہا ہے۔ انسانوں میں سے جو لوگ تعبیرات کلامی سے واقف ہیں اور جن کو ادراک ہے کہ انسان کس قدر فصاحت و بلاغت تک پہنچ سکتا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اپنی طرز ادا کے اعتبار سے قرآن معجز ہے اور معجز رہے گا۔ اور یہ ماہرین اسلوب چاہے قرآن مجید پر ایمان لائے ہوں۔ چاہے نہ لائے ہوں وہ اس کے اعجاز کو مانتے ہیں کیونکہ یہ چیلنج جن اصولوں پر قائم ہے ان کے سامنے مومن اور کافر دونوں برابر ہیں۔ کبرائے قریش قرآن کریم کے ان چیلنجوں کو رات دن پڑھتے تھے ، لیکن ان کے پاس ان کے جواب کی کوئی سبیل نہ تھی حالانکہ وہ قرآن کریم کے منکر تھے اور اسے بالکل پسند نہ کرتے تھے۔ آج بھی ہر جاہل قرآن کریم کے ان چیلنجوں کو پاتا ہے مگر اس کے پاس جواب کی کوئی سبیل نہیں ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس لفظی اور اسلوبی اعجاز کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے فطرت انسانی پر معجزانہ اثرات ہیں۔ بشرطیکہ انسانی فطرت اور اس کتاب کے درمیان رکاوٹیں ایک لمحے کے لیے بھی دور ہوجائیں۔ وہ لوگ جن کے دل سیاہ ہوچکے ہیں اور جن کے دلوں پر تہ بہ تہ جاہلیت کی گرد پڑی ہوئی ہو ، ان کے دل بھی بعض اوقات گرد جھاڑ کر اٹھ جاتے ہیں اور جب وہ قرآن کو سنتے ہیں تو ان کے دل بھی تلملا اٹھتے ہیں اور ان کے دل قرآن کریم کے مسحور کن اثرات میں گھر جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ بات کرتے ہیں اور بعض لوگوں کے کلام میں اصول و مذاہب اور مختلف افکار اور رجحانات ہوتے ہیں لیکن انسانی فطرت پر قرآن مجید کا جو اثر ہوتا ہے وہ ایک منفرد اثر ہوتا ہے۔ انسانی دلوں پر اس کی تلاوت کے مخصوص اثرات پڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والوں کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ قریش اپنے دیر دست متبعین کو یہ مشورہ دیتے اور در اصل وہ خود اپنے آپ کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے۔ ' لاتسمعوا لہذا القران والغوا فیہ لعلکم تغلبون " اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو ، بلکہ اس میں شور مچاؤ شاید کہ تم غلبہ پا لو۔ وہ قرآن کریم کے اثرات خود اپنے نفوس کے اندر محسوس کرتے تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان اثرات کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ آج ہمارے دور جدید کے کبراء بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگوں کی توجہ قرآن کریم سے ہٹائیں لیکن قرآن کریم آج بھی غالب اور موثر ہے اور انسانی کلام کے اندر اگر قرآن کریم کی ایک یا دو آیات کو رکھ دیا جائے تو وہ واضح طور پر منفرد نظر آتی ہیں۔ ان کا اثر دوسرے کلام سے علیحدہ ہوتا ہے۔ انسانی احساس پر ان کا اثر گہرائیوں تک ہوتا ہے اور اس سے انسانی کلام بالکل جدا اور علیحدہ نظر آتا ہے۔ حالانکہ انسانی کلام بڑے تکلف اور نقش و نگار سے مزین کیا گیا ہوتا ہے۔ اب ذرا اس کتاب کے موضوع اور مواد پر غور کریں۔ قرآن کے مواد اور موضوعات پر کلام کے لیے ظلال القرآن کے مختصر صفحات میں کلام کی گنجائش نہیں ہے۔ کیوں کہ موضوع اور مفہوم کے اعتبار سے تو وہ بحر ناپید اکنار ہے۔ اس قدر مختصر صفحات میں کہاں کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال انسان اور انسانی شخصیت کے ہر پہلو کو قرآن نے موضوع بحث بنایا ہے۔ انسانی شخصیت کو قرآن نے ہر جہت سے لیا ہے۔ ایک ہی رو میں انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے۔ انسانی شخصیت کے ہر دروازے سے یہ کتاب اندر داخل ہوتی ہے۔ انسانی تفکرات میں سے ہر فکر اور انسانی جذبات میں سے ہر جذبے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرآن کریم جب ذات انسان کے مسائل پر بحث کرتا ہے تو اس کا منہاج بحث بڑا انوکھا ہوتا ہے۔ انسان کا دل و دماغ اور اس کی فطرت جس بات کو محسوس کرتی ہے ، قرآن اسے لیتا ہے ، اس کی واضح شکل سمانے لاتا ہے اور اس موضوع پر انسان کی فطری ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ انسان کی پوشیدہ قوتوں کو یہ کتاب جگاتی ہے اور ان کو صحت مند راستے پر ڈالتی ہے۔ پھر قرآن کا منہاج ایسا حکیمانہ ہے کہ وہ انسانی فطرت کو لے کر قدم بقدم ، مرحلہ وار ، نہایت ہی تدریج کے ساتھ ، نرمی اور سہولت کے ساتھ بلندی پر چڑھاتا جاتا ہے۔ انسان اس راستے پر نہایت ہی جوش اور پرجوش طریقے سے اگے بڑھتا ہے ، اسے اپنی راہ بالکل واضح اور صاف نظر آتی ہے اور وہ یوں ترقی کرتا ہے جس طرح ایک انسان بلندی پر ایک سیڑھی عبور کرکے چڑھتا ہے اور بلندیوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے ار اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اور اس راہ پر بڑھتے ہوئے وہ علم و نظر ، جوش و خروش ، استقامت اور یقین ، اعتماد اور امید اور آرام اور اطمینان کے ساتھ ، اس کائنات کے پورے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، آگے بڑھتا جاتا ہے۔ قرآن کا عجیب منہاج و انداز یہ ہے کہ وہ فطرت انسانی کو ایک ایسے مقام سے بیدار کرتا ہے جس کے بارے میں کوئی شخص یہ اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ یہ کس قدر بیدار اور حساس مقام ہے۔ یا یہ کہ اس زاویہ سے فطرت انسانی زیادہ قبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی فطرت اپنے اسی پہلو سے بیدار ہوتی ہے اور پرجوش انداز میں قرآنی ہدایات پر لبیک کہتی ہے ، اس لیے کہ جس ذات نے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ وہی تو اس فطرت کی خالق ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ اس قدر رکھتا ہے جو قربت انسان کی شہ رگ نہیں رکھتی۔ یہ منہاج یا یہ مواد جسے قرآن کریم اس اسلوب و منہاج میں پیش کرتا ہے ، اس کے اس قدر وسیع پہلو ہیں جن پر قول و کلام حاوی نہیں ہوسکت۔ اسی لیے کہا گیا ہے : قل لوکان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مدد۔ کہو کہ اگر اللہ کے کلمات کے لیے سمندروں کو سیاہی بنا دیا جائے تو یہ سمندر ختم ہوجائیں اور اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں ، اگرچہ ہم ان جیسے مزید سمندر ہی سے سیاہی بنائیں۔ اور دوسری آیت میں کہا گیا ہے : ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام ۔ اور سمندر سے سیاہی بنانے میں مزید سات سمندر استعمال کیے جائیں تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں۔ راقم الحروف ، اللہ کے فضل و کرم سے 15 سال تک قرآن کریم کا نہایت ہی گہرا مطالعہ کرتا رہا ہے۔ اس عرصے میں وہ اس کتاب کے موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر نگاہ دوڑاتا رہا ہے۔ انسان کے حاصل کردہ علوم کے مختلف میدانوں میں جہاں انسانی ذہن کی رسائی ہوئی ہے اور جہاں انسانی اذہان ابھی تک نہیں پہنچ سک کے۔ میں نے ان علوم کے بارے میں ان چیزوں کو مطالعہ بھی کیا جو انسانوں ان موضوعات کے بعض پہلوؤں کے بارے میں بطور انسانی کاوش پیس کی ہیں ، لیکن میں نے اس حقیقت کو پایا ہے کہ قرآن کریم کا فیض بہت ہی عام وسیع اور کھلا ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی علم ایک چھوٹا سا بحیرہ ہے ، بلکہ ایک چھوٹا سا کنوا یا سوراخ ہے بلکہ وہ ایک ایسا تالاب ہے جو مسلسل ٹھہراؤ کی وجہ سے بدبودار ہوگیا ہے۔ میں نے اس کائنات پر قرآن کی روشنی میں ایک کلی نگاہ ڈالی۔ اس کائنات کے مزاج ، اس کی ماہیت ، اس کی پیدائش و تخلیق اور اس کی ترقی اور اس کی پشت پر راز ہائے نہفتہ کو خوب پڑھا۔ اس کائنات کی خفیہ اور پشویشدہ صفات اور خصوصاً اس کی زندہ مخلوق پر غور کیا ، خصوصاً وہ تحریں بھی مطالعہ کیں جو اس کائنات کے بارے میں انسان نے اپنے علم و تجربے سے تحریر کیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے کتاب خصائص التصور الاسلامی وغیرہ) پھر انسان کے وجود ، اس کی نفسیات ، اس کی اصلیت ، اس کی نشوونما ، اس کی پوشیدہ صلاحیتوں ، اس کی سرگرمیوں کے دائروں ، اس کے وجود کی ساخت ، اس کے تاثرات ، اس کے میلانات اور دوسرے حالات اور راز جن کے بارے میں انسانوں نے بھی کچھ معلومات فراہم کی ہیں ، مثلاً علوم الحساب اور حیاتیات کے مختلف موضوع ، انسانی عقائد و ادیان اور اس کے اجتماعی فلسلفے ، ان موضوعات کا بھی میں نے بغور مطالعہ کیا۔ (دیکھئے الاسلام و مشکلات الحضار وغیرہ) پھر انسان کے وجود ، اس کی نفسیات ، اس کی اصلیت ، اس کی نشوونما ، اس کی پوشیدہ صلاحیتوں ، اس کی سرگرمیوں کے دائروں ، اس کے وجود کی ساخت ، اس کے تاثرات ، اس کے میلانات اور دوسرے حالات اور راز جن کے بارے میں انسانوں نے بھی کچھ معلومات فراہم کی ہیں ، مثلاً علوم الحساب اور حیاتیات کے مختلف موضوع ، انسانی عقائد و ادیان اور اس کے اجتماعی فلسفے ، ان موضوعات کا بھی میں نے بغور مطالعہ کیا۔ (دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضار وغیرہ) پھر میں نے انسانی نظام ہائے حیات کا بھی مطالعہ کیا۔ ان نظاموں میں انسان کی سرگرمیوں کا بھی مطالعہ کیا ، اس میں انسانوں کے باہم روابط اور اختلافات کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ انسانی روابط کی تجدید و اصلاح کی اسکیموں پر بھی غور کیا۔ اور ان کے بارے میں ان موضوعات پر مطالعہ کیا جن کے بارے میں بہت سے مکاتیب فکر میں اور جن پر انسانوں نے کام کیا ہے مثلاً سیاسی ، اقتصادی اور اجتماعی مسائل (تفصیلات کے لیے دیکیے میری کتاب نحو مجتمع اسلامی) ان تمام شعبوں میں اور ان تمام موضوعات پر انسانی علوم و فنون کے مطالعے کے بعد جب میں نے قرآن مجید کو غور سے پڑھا تو معلوم ہوا کہ ان موضوعات کے بارے میں بڑی کثرت سے آیات موجود ہیں جن میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں اور جو علم کا خزانہ قرآن میں ہے وہ نہایت ہی حقیقی ، ٹھوس اور وسیع ہے۔ ان موضوعات پر سالہا سال تک غور کرتے ہوئے میں نے کبھی بھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ قرآن سے باہر ، کسی حوالہ سے مدد لی جائے۔ ہاں رسول اللہ ﷺ کے احوال و احادیث کی ضرورت بہرحال پڑتی ہے کیونکہ وہ کلام بھی آثار کلام الہی میں سے ہے۔ قرآن و سنت کے سوا ان موضوعات پر انسانوں نے جو کہا ہے وہ نہایت ہی کمزور اور ناقص ہے۔ اگر صحیح بھی ہو تب بھی تشفی بخش نہیں ہے۔ راقم الحروف نے ہر انسانی تحریر کے مقابلے میں قرآن کو مفصل اور تشفی بخش پایا۔ میں جو بات کہہ رہا ہوں ، ایک طویل عرصہ تک قرآن پر غور و فکر کرنے اور انسانی مسائل کے حل میں قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کرنے کی ضرورت کے تحت عملاً قرآن کے سائے میں رہنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ میں قرآن کی خوبیاں بیان کرکے قرآن کے بارے میں آپ کی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کر رہا نہ تمام انسان قرآن کی تعریفیں کرکے اس کے کمال میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کا ایک نہایت ہی منفرد گروہ اور نسل گراں قدر ہے ، یعنی صحابہ کرام ، ان کی تربیت ، ان کے علم اور ان کی راہنمائی کا سرچشمہ یہی کتاب تھی۔ اسی کتاب نے ان کو بنایا تھا۔ اس کے بعد انسانوں میں کوئی گراہ اس معیار کا تیار نہیں ہوسکا ، نہ اس سے قبل انسانی تاریخ میں صحابہ کی ٹکر کا کوئی گروہ ہمارے علم میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے انسانی تاریخ میں ایک گہرا اور وسیع انقلاب برپا کیا۔ لیکن اس عظیم انقلاب اور اس عظیم واقعہ کا انسانوں نے فی الحقیقت گہرا مطالعہ نہیں کیا۔ انسانی تاریخ میں گروہ صحابہ کے ذریعے جو انقلاب برپا کیا گیا اور جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ہے ، در حقیقت وہ اسی کتاب یعنی قرآن کے سرچشمے سے پھوٹا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک تمام رسولوں کے ہاتھوں جن معجزات کا صدور ہوا ، یہ معجزہ یعنی انسانیت کے انقلاب عظیم کا معجزہ ان تمام معجزات سے برتر اور ان پر بھاری ہے ، کیونکہ یہ ایک حقیقی ، قابل ملاحظہ اور زیر مشاہدہ معجزہ ہے۔ غرض گروہ صحابہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد معجزہ تھے۔ اسلامی معاشرے کی پہلی ترکیب اس منفرد گروہ سے تھی ، اس کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اسلامی معاشرہ زندہ و تابندہ رہا اور اس میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ رہے۔ یہ معاشرہ اسلامی اقدار ، اسلامی حسن و قبح کے پیمانوں اور اسلامی ہدایات اور اشارات کا پابند رہا۔ یہ ہزار سالہ اسلامی معاشرہ بھی درحقیقت ایک دوسرا تاریخی معجزہ تھا خصوصاً جبکہ کوئی تاریخی مبصر اس اسلامی معاشرے اور دوسرے انسانی معاشروں کے درمیان تاریخی موازنہ کرے۔ یہ دوسرے جاہلی معاشرے مادی ترقی میں تو اسلامی معاشرے سے برتری کا دعوی کرسکتے ہیں لیکن انسانی تہذیب و تمدن میں وہ برتری کا دعوی نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ آج جدید جاہلیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی نفسیاتی ضروریات ، اپنی اجتماعی ضروریات اور اپنی زندگی کی بہبود قرآن کے بجائے کسی اور سرچشمے سے اخذ کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عرب جاہلیت کے پیروکار قرآن کریم کے علاوہ خوارق و معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ عرب کے سادہ جاہلوں کو تو قرآن مجید کا یہ عظیم معجزہ اس لیے نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہایت ہی گہری جاہلیت اور جہالت میں مبتلا تھے اور ان کے ذاتی مفادات بھی قرآنی تعلیمات سے متضاد تھے۔ لہذا وہ قرآنی عجائبات کو پانے سے محروم رہے۔ رہی جدید جاہلیت تو وہ جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے تعلیمی معیار کے غرور کی وجہ سے قرآنی عجائبات کے دیکھنے سے محروم ہے ، حالانکہ علم کے یہ دروازے ، ان پر اللہ ہی نے کھولے ہیں لیکن انہوں نے علم کو مادی دنیا کے اندر محدود کردیا ، نیز انسانی ضروریات کے تحت آج دنیا کو جو ضروریات لاحق ہیں ان ضروریات کے حصول کے لیے انسانی زندگی بہت زیادہ منظم ہوچکی ہے اور تنظیم و تشکیل کے زاویہ سے جدید جاہلیت کے پرستار نہایت ہی غرور میں مبتلا ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ زیادہ تجربات کی وجہ سے دور جدید کی زندگی نہایت ہی منظم اور پختہ ہوچکی ہے اور مختل ضروریات کی وجہ سے پیچیدہ بھی ہوچکی ہے۔ اور اس جدید زندگی کے دلدادہ لوگ غرور میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ نیز چودہ سو سال سے یہودی اور صیہونی لابی اسلام دشمنی میں مبتلا ہے اور اس نے ان چودہ سو سالوں میں اسلام اور قرآن کے خلاف اپنی سازشوں کو لمحہ بھر کے لیے بھی موقوف نہیں کیا۔ یہودیوں کی پالیسی یہ رہی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اس کتاب سے غافل کردیں۔ وہ اس کتاب سے ہدایات نہ لیں ، کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنے طویل تجربات کے ذریعے یہ بات معلوم ہچکی ہے کہ مسلمان جب تک قرآنی ہدایات کی پیروی کرتے رہیں گے یہ لوگ ان پر قابو نہیں پا سکتے۔ لیکن اس بات کے لیے ایک شرط ہے کہ مسلمان کتاب اللہ کو اس طرح پکڑیں جس طرح دور اول کی لاثانی جماعت ، جماعت صحابہ نے اسے پختہ طریقے سے پکڑا تھا۔ یہ نہ ہو کہ وہ اس کی آیات کو تو اچھی طرح گاتے ہوں اور خوش الحانی سے پڑتے ہوں لیکن ان کی عملی زندگی سو فیصد اس کی تعلیمات کے برعکس ہو۔ یہ یہودیوں کی نہایت ہی خبیث اور مذموم سازش ہے یہ مسلسل مسلمانوں کے خلاف بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ اس سازش ہی کا آخری نتیجہ وہ حالات ہیں جن میں وہ اقوام مبتلا ہیں جو اپنے نام مسلمانوں جیسے رکھتی ہیں ، حالانکہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں شریعت الہیہ کو نافذ نہ کردیں۔ غرض اسی سازش کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر جگہ اس دین کے آثار کو مٹایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ مواقع فراہم نہیں ہوتے کہ وہ اپنی زندگیوں کو قرآن کی ہدایات کے مطابق منظرم کریں اور اپنے تمام اختلافات و نزاعات میں بھی قرآن کو اس طرح حکم بنائیں جس طرح قرون اول کے مسلمان قرآن کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تھے اور اپنے لیے قوانین و اصول قرآن کی روشنی میں بناتے تھے۔ آج حالت یہ ہے کہ اہل قرآن نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ ماسوائے حسن قراءت ، ترتیل کے اس کا مطالعہ نہیں کرتے ، اوہام اور تعویذوں کے سوا اس کا استعمال نہیں کرتے۔ یہ حالت گہری اور مذموم صیہونی اور صلیبی سازش کی وجہ سے ہے ، مسلمانوں کی جہالت اور غرور علم کی وجہ سے ہے اور مسلمانوں کے فکر و نظر کے عمومی فساد کی وجہ سے ہے۔ دور قدیمہ میں جاہلیت کے پرستار لوگوں کو اس سے اسی طرح غافل کرتے تھے کہ وہ اسے سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے خوارق عادت واقعات کے صدور کا مطالبہ کرتے تھے۔ دور جدید کے جاہل اس قرآن سے مسلمانوں کو دور رکھتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں اپنے بنائے ہوئے قرآن دیتے ہیں اور ابلاغ اور میڈیا کے جدید وسائل کے ذریعے وہ اپنے بنائے ہوئے نظریات کو لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرتے ہیں اس قرآن کے بارے علیم وخبیر کا فیصلہ یہ ہے۔ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور حمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ اور قرآن کا مقام چونکہ یہی ہے ، اس لیے خود ہدایت دی جاتی ہے کہ تمہارا قرآن کے ساتھ رویہ یہ ہونا چاہیے۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے

اس آیت پر یہ سورة ختم ہوجاتی ہے اور سورة کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ اسی کتاب والا صفات کی طرف اشارہ تھا۔ کتاب انزل الیک فلا یکن فی صدرک حرف منہ لتنذر بہ و ذکری للمومنین۔ یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ، پس اے نبی ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ، اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو "۔ ۔۔ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس وقت خاموش رہنے کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ قرآن مجید ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے کہ امام جہراً قراءت کرتا ہے تو مقتدی پر فرض ہے کہ وہ خاموش رہے۔ جب وہ جہری نماز میں امام کو سن رہا ہو تو اس کے لیے پڑھنا منع ہے۔ لا ینازع الامام القرآن ، امام کے ساتھ قرآن میں تنازعہ نہ ہو۔ یہ روایت امام احمد اور اہل سنن نے نقل کی ہے۔ اور امام ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے اور ابو حاتم الرازی نے اسے حدیث صحیح کہا ہے۔ انہوں نے زہری ، ابو اکشمہ لیثی کے واسطہ سے ابوہریرہ سے نقل کیا کہ حضور جب ایک جہری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ ابھی میرے پیچھے تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ؟ ایک شخص نے کہا " ہاں " رسول خدا میں نے پڑھا۔ حضور نے فرمایا " میں کہتا ہوں کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن کے ساتھ تنازعہ کر رہا ہوں " اس کے بعد لوگ حضور کے ساتھ جہری نمازوں میں قراءت کرنے سے باز آگئے۔ کیونکہ انہوں نے حضور کی یہ ہدایت سن لی۔ اسی طرح ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں ابوداود ابن ابو الہند ، بشیر ابن جابر کی روایت سے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے سنا کہ بعض لوگ امام کے ساتھ پڑھتے ہیں ، تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : " کیا اب وقت نہیں آگیا کہ تم سمجھو ، کیا وقت نہیں آگیا کہ تم عقل سے کام لو ، اللہ کا حکم مانو ، اللہ فرماتے ہیں۔ " جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو "۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں در اصل مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشرکین کی طرح رویہ نہ اختیار کریں کہ حضور ﷺ جب نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو مشرکین آکر سنتے۔ اس لیے ان میں سے بعض لوگوں نے دوسروں سے کہا تم لوگ قرآن نہ سنو بلکہ جب تلاوت ہو رہی ہو تو اس میں خلل ڈالو شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ۔ لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون۔ " اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو ، بلکہ اس میں شور مچاؤ شاید کہ تم غلبہ پا لو " اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ " واذا قرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا " جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ نماز کے بارے میں ہوئی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ، ابن مسعود ، جابر ، زہری ، عبیداللہ ابن عمیر ، عطاء اور سعید بن مسیب سے اس سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ علامہ ابن جریر نے اس کی بھی شان نزول نقل کی ہے۔ اس نے ابوکریب ، ابوبکر بن عیاش عاصم ، مسیب ابن رافع کے سلسلے کے ذریعے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کو نماز میں سلام کرتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی واذا قرئ القران فاستعموا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہو ، غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ۔ شاید کہ تم پر حم کیا جائے۔ اس کی تفسیر میں امام قرطبی کہتے ہیں کہ محمد ابن کعب قرظی نے یہ کیا ہے کہ جب حضور قرآن مجید پڑھتے تھے تو لوگ اسے دہراتے تھے جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تو لوگ بھی اسی طرح کہتے۔ پوری فاتحہ اور سورت کی تلاوت میں لوگ ایسا ہی کرتے۔ ایک عرصہ تک یہی معمول رہا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ جہراً نہ پڑھا جائے جس طرح کہ وہ لوگ رسول اللہ کی اطاعت میں پڑھتے تھے۔ یہ تو تھی امام قرطبی کی رائے۔ اس آیت کے بارے میں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب نماز ہو رہی ہوتی تھی تو ایک شخص آتا اور نمازیوں سے پوچھتا تم نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور کتنی باقی ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ ایسی ہی روایت مجاہد سے منقول ہے کہ مسلمان نماز میں حسب ضرورت بات کرلیا کرتے تھے ، اس لیے یہ آیت اتری لعلکم ترحمون۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حکم صرف اس تلاوت پر موقوف ہے ، جو نماز میں ہوتی ہے تو ان کا استدلال ابن جریر کی روایت سے ہے۔ انہوں نے حمید ابن مسعدہ ، بشر ابن جریری ، طلحہ ابن عبیداللہ بن عمیر سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمیر اور عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مباحثہ کر رہے تھے اور قاری قراءت کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا۔ کیا تم کان نہیں دھرتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے ، اس کے مستحق نہیں بنتے یعنی لعلکم ترحمون کے۔ اس پر انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں ، میں نے دوبارہ اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسرے باری اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری بار اپنی بات کا اعادہ کیا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا " یہ تو نماز کے بارے میں ہے " وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ " علامہ ابن کثیر اس روایت کو نقل کرکے کہتے ہیں کہ سفیان ثوری ابوہاشم اسماعیل ابن کثیر نے ، انہوں نے مجاہد سے یہی روایت کی ہے کہ آیت وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ۔ نماز کے بارے میں ہے۔ کئی لوگوں نے مجاہد سے یہی روایت نقل کی ہے۔ عبدالرزاق نے ثوری سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر نماز کے علاوہ قراءت ہو رہی ہو اور کوئی بات کر رہا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جس طرح نماز میں یہ حکم ہے اسی طرح خطبہ جمعہ اور عیدین میں بھی یہی حکم ہے۔ یہ سعید ابن ابوجیر ، مجاہد عطاء ، عمرو ابن دینار ، یزید ابن اسلم ، قاسم ابن مخیرہ ، سلمہ ابن بسار ، شہر بن حوشب اور عبداللہ ابن مبارک بھی اسی طرف گئے ہیں لیکن قرطبی کہتے ہیں " یہ مذہب ضعیف ہے۔ اس لیے کہ خطبات میں قرآن مجید کا حصہ کم ہوتا ہے۔ اور خاموشی سب میں واجب ہے۔ علامہ ابن عربی اور نقاش نے کہا ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں نہ کوئی خطبہ تھا اور نہ جمعہ واجب تھا۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ اہل تفسیر کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کو کان لگا کر سننا اور خاموش رہنا جس طرح فرض نماز میں ہے ، اسی طرح غیر فرض میں بھی ہے۔ لغوی مفہوم کے اعتبار سے ہر معاملے میں قرآن کو سننا اور خاموش رہنا فرض ہے ، الا یہ کہ کوئی مخصوص دلیل ہو۔ اسباب نزول کے بارے میں اس سے قبل جو روایات دی گئی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ یہ آیت صرف نماز کے ساتھ مخصوص ہے یا فرض اور غیر فرض نماز میں فرق ہے۔ کیونکہ حکم تو آیت کے الفاظ کی عمومیت پر ہوتا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیت کس خصوصی موقعہ پر نازل ہوئی۔ اقرب بات یہ ہے کہ یہ آیت عام تصور ہو ، اور اس کے لیے کس نص کو مخصوص نہ سمجھا جائے ، قرآن کی عظمت اور احترام کے قرین قیاس اور قرین مرتبہ یہ ہے کہ جہاں بھی تلاوت قرآن ہو ، خاموشی اختیار کی جائے اور چونکہ اللہ کا کلام ہے ، اس لیے اللہ کا ادب بھی اسی میں ہے۔ جب خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہوں تو خاموشی اختیار کرو اور سنو اور اسی میں تمہارے لیے رحمت کی امید ہے۔ لہذا کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ اس عمل کو نماز کے ساتھ مخصوص کردیا جائے بلکہ جہاں بھی قرآن پڑھا جائے وہاں اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے۔ نفس انسان کو ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ ادب اور احترام اسبات کا ضامن ہے کہ انسان پر دنیا و آخرت میں رحم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے اعراض اور روگردانی کرکے لوگ عظیم خسارے میں جا پڑے ہیں۔ بعض اوقات انسان ایک آیت کو غور سے سنتا ہے اور اس کے نتیجے میں عجیب و غریب تاثرات اس کے دل و دماغ پر نقژ ہوجاتے ہیں اور اس پر عمل و ادراک کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان کو اطمینان قلبی ، خوشی اور روحانی کیفیات نصیب ہوتی ہیں اور اس کی سوچ اور عمل میں بڑی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور یہ تاثرات اور یہ خصوصیت صرف اس شخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں ، جس نے انہیں کبھی چکھا ہو۔ قرآن کریم کا مسلسل مطالعہ ، اس پر غور و فکر اور تدبر ، صرف ترنم کے ساتھ قراءت ہی نہیں ، بلکہ یہ انسان کے قلب و نظر پر گہرا غور و فکر اور تدبر پیدا کردیتا ہے۔ اور انسان کو نہایت ہی دور رس قوت مدرکہ عطا ہوجاتی اور اس پر نہایت ہی یقینی علوم کا القا ہوتے ہیں۔ ان سان کے اندر زندگی کی حرارت اور اقدامی قوت پیدا ہوجاتی ہے ، وہ پر عزم ، مثبت سوچ اور مصمم ارادے کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ علوم انسان کو تدبر قرآن کے علاوہ کسی اور مشق یا اور ذریعہ علم سے حاصل نہیں ہوتے۔ قرآنی تصورات کے بیچ میں سے انسان اس کائنات کے حقائق معلوم کرلیتا ہے۔ انسان زندگی کے بارے میں نئے نئے حقائق کا ادراک و انکشاف ہوتا ہے۔ انسان کو انسانی زندگی کے حقائق ، انسانی ضروریات ، انسان کے مزاج اور اس کی فطرت و طبیعت کا نہایت ہی واضح گہرا اور دقیق و عمیق شعور حاصل ہوجاتا ہے اور یہ شعور خالص قرآنی عبادات اور احکام کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کائنات اور انسانی زندگی کے ساتھ وہ انسان جس نے قرآن کا مطالعہ کیا ہو نہایت ہی مختلف روح کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اب انسان کا طرق عمل اس کائنات اور انسان کے ساتھ وہ نہیں ہوتا جو اس انسان کا ہوتا ہے جس کی تربیت محض انسانی علم و معرفت کی فضا میں ہوئی ہو۔ یہ فضا اللہ کی رحمت کی امیدواری کی فضا ہے اور یہ نماز اور غیر نماز میں برابر ہے۔ لہذا اللہ کی رحمت کی فضا کو ہم نماز کے ساتھ کسی وجہ سے بھی مخصوص نہیں کرسکتے اور وہی رائے درست ہے جو قرطبی نے نقل کی ہے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اے نبی ! اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

اس سورت کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ ذکر الہی کی طرف منہ موڑ لو۔ خواہ یہ ذکر نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ عام حالات میں ہو۔ ابن کثیر فرماتے ہیں " اللہ حکم دیتے ہیں کہ اسے دن کے شروع میں یاد کیا جائے ، دن کے آخر میں یاد کیا جائے اور بڑی کثرت سے یاد کیا جائے۔ اور دوسری جگہ حکم دیا ہے کہ ان اوقات میں اللہ تسبیح اور بندگی کرو۔ فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۔ پس اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے " یہ حکم اس وقت تھا جبکہ اسراء کی رات میں ابھی پانچ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن اس آیت میں لفظ غدو اور آصال استعمال ہوا ہے۔ غدو کے معنی دن کا اول حصہ ہے ، آصال اصل کی جمع ہے جس طرح ایمان جمع یمین ہے۔ تضرعا و خفیۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو اپنے دل میں نہایت ہی عاجزی اور خوف و رجا کی حالت میں یاد کرو۔ زبان سے بھی ذکر الٰہی کرو مگر جہراً نہ کرو۔ اس لیے دون الجہر من القول کہا گیا۔ یعنی ہلکی آوز میں۔ ذکر الہی کا مستحب طریقہ یہی ہے کہ یہ چیخ و پکار کی صورت میں نہ ہو اور جب صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے یہ دریافت کیا " کیا ہمارے رب قریب ہیں تاکہ ہم اس کو ہلکی آواز میں پکاریں یا دور رہیں تاکہ ہم اسے بلند آواز سے پکاریں ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ واذا سالک عبادی عنی فانی اقریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارے۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ سفروں میں سے کسی سفر میں لوگوں نے خدا تعالیٰ کو بلند آواز سے پکارنا شروع کردیا۔ ان سے حضور ﷺ نے کہا " اے لوگو ، ذرا اپنی آواز کو اپنے تک محدود رکھو ، تم نہ کسی غائب ذات کو پکار رہے ہو اور نہ کسی گونگی بہری ذات کو۔ جسے تم پکار رہے وہ سمیع بھی ہے اور قریب بھی ہے ، وہ تم میں سے ہر شخص کی سواری کی گردن سے زیادہ قریب ہے۔ ابن کثیر اس بارے میں ابن جریر اور عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم کی رائے کو قبول نہیں کرتے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو سن رہا ہو وہ ہلکی آواز سے اللہ کو یاد کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اس قول پر کوئی دلیل انہوں نے پیش نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد بندوں کی طرف سے صبح و شام مطلق ذکر الہی ہے تاکہ وہ غافل نہ ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں فرشتوں کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ رات اور دن ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔ اور وہ اپنی بندگی اور ذکر میں نکلتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ ۔ اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ مسلمان ان کی تقلید کریں اور اللہ کی اطاعت کریں اور کثرتے سے اسے یاد کریں اور بندگی بجا لائیں۔ امام ابن کثیر نے اس سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے اور جو احادیث نقل کی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دور اول کے مسلمانوں کی تربیت کس طرح کر رہا تھا۔ حضرت نبی ﷺ بھی عربوں کی نفسیاتی تربیت اور رب تعالیٰ کی معرفت میں انہیں نہایت ہی لطیف حقائق سے آگاہ کرتے رہے تھے نیز ان کو بتایا جاتا تھا کہ ان کے ارگرد پھیلی ہوئی کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ ان لوگوں کے سوالات اور اللہ کی جانب سے اور رسول اللہ کی جانب سے جوابات کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے فکر و عمل میں کس قدر عظیم اور دور رس انقلاب برپا کردیا گیا تھا اور یہ کتاب اللہ اور سنت رسول کا حیرت انگیز کارنامہ تھا۔ یہ ایک عظیم اور دور رس انقلاب تھا جو ان لوگوں کے لیے باعث رحمت تھا لیکن اے کاش کہ لوگ جانتے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ ان نصوص میں جس ذکر کے بارے میں کہا گیا ہے وہ صرف زبانی ذکر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قلبی ذکر ہے ، اس لیے کہ جس ذکر سے مومن اور ذاکر کا دل مرتعش نہ ہو ، جس سے اس کا وجدان اور شعور متاثر نہ ہو ، جس ذکر کا اثر انسان کی ذات اور اعمال پر نہ ہو اور وہ ذکر عاجزی ، تضرع اور خوف کے ساتھ نہ کیا جائے تو اسے ذکر نہ سمجھا جائے گا بلکہ بعض حالات میں تو وہ اللہ کی شان میں گستاخی تصور ہوگا ذکر کا مفہوم تو یہ ہے کہ انسان نہایت ادب ، نہایت عاجزی اور نہایت ہی خوف و رجا کی حالت میں اللہ کو یاد کرے اور اللہ کی یاد کے ساتھ ساتھ اللہ کی عظمت اور جلالت شان کا تصور بھی کیا جائے اور دعا کی جائے کہ انسان اللہ کے غضب سے محفوظ ہوں ، صرف اس ذکر سے انسان کو روحانی جلا نصیب ہوسکتی ہے۔ جب زبان ضمیر اور قلب کے ساتھ حرکت کرتی ہو ، اور ہونٹ جب روح کے ہمرکاب ہوں تو یہ اس صورت میں ہوں کہ خشوع اور خضوع میں فرق نہ آئے ، نہایت ہی دھیمی آواز میں ہو اور چیخ و پکار اور شور و شغب کی صورت میں نہ ہو اور نہ ترنم اور غنا کی صورت مناسب ہے۔ اور نہ پریڈ میں اور طربیہ انداز میں۔ ذرا آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ ۔ اے نبی اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو ، دل ہی دل میں ، زاری اور خوف کے ساتھ ، اور زبان سے بھی ہلکی آواز میں۔ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ " صبح و شام " یعنی دن طلوع ہوتے وقت اور دن کے آخری وقت ہیں ، اس طرح کہ دن کے دونوں حصوں میں۔ انسان کا قلب اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہو ، ذکر الہی ان اوقات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اللہ کی یاد تو ہر وقت قلب و نظر میں ہونا چاہیے۔ ہر وقت دل پر اللہ کی نگرانی قائم رہنا چاہیے ، ان اوقات کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ ان میں کائنات کے صفحات پر ایک نمایاں تغیر رونما ہوتا ہے ، رات سے دن اور دن سے رات نمودار ہوتی ہے۔ اور ایک حساس انسان کا دل اپنے ماحول میں اللہ کے عظیم کارناموں میں تغیرات اور انقلابات دیکھتا ہے۔ اس کائنات کے ظاہری احوال بدلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ان اوقات میں انسان کا دل اور اس کا نفس قبولیت کے قریب تر ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بکثرت ایسے اوقات میں ذکر الٰہی کی ہدایت کی گئی ہے جن میں انسان کے قلب و نظر پر یہ کائنات بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اس طرح انسان کا دل نرم ہوتا ہے۔ اور وہ باری تعالیٰ کی ذات سے تعلق قائم کرنے کے لیے خوب تیار ہوتا ہے۔ مثلا مشکلات کے وقت فاصبر علی ما یقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب و من اللیل فسبحہ وادبار السجود۔ جو باتیں یہ لوگ کرتے ہیں ان پر صبرو کرو ، اپنے رب کی تعریف کرو ، اس کی تسبیح کرو طلوع شمس اور غروب سے پہلے۔ رات کو بھی اللہ کی تسبیح کو اور سجدوں کے بعد بھی۔ ومن اللیل فسبح و اطراف النہار لعلک یرضی ۔ اور رات کے حصے میں تسبیح کرو۔ دن کے اطراف کے وقت بھی ، شاید کہ تم راضی ہوجاؤ۔ واذکر السم ربک بکرۃ واصیلا و من اللیل فاسجد لہ ، و سبحہ لیلا طویلا۔ اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو ، رات کے ایک حصے میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا کرو اور طویل رات میں اس کی تسبیح کرو۔ یہاں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان اوقات میں ذکر الٰہی کا حکم فرضیت صلوۃ سے پہلے نازل ہوا تھا ، جس کے اوقات معلوم ہیں اور اب ان اوقات میں ذکر الہی کی ضرورت یا حکم نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں جس ذکر کا بیان ہورہا ہے یہ نماز سے عام ہے اور اس ذکر کے اوقات فرض نمازوں کے اوقات کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ یہ ذکر نماز کی شکل کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے ، یہ قلبی ذکر ہے ، یا قلب اور زبان دونوں کے ساتھ ہوسکتا ہے ، بلکہ یہ ان صورتوں سے بھی زیادہ عام ہے۔ ہر وقت اللہ کا مستحضر رہنا اور ہر وقت اللہ کی جلالت کا قلب و نظر پر جاری رہنا اور خفیہ اور اعلانیہ ہر حالت میں ، چھوٹے معاملے میں یا بڑے معاملے میں حرکت میں اور سکون میں ، نیت میں اور اعمال میں ، غرض ہر حال میں اللہ کو یاد کرنا ان آیات کا ماحصل ہے۔ صبح و شام کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان اوقات میں انسان کا قلب اور نظر قبولیت کے لیے تیار ہوتی ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس وقت انسانی پر کائناتی اثرات ہوتے ہیں۔ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ۔ ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت کا شکار ہیں۔ یعنی ایسے لوگوں میں سے نہ بنو جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں۔ جن ہونٹوں پر اور جن کی زبان پر اللہ کا نام نہیں آتا ، نہ ان کے قلب و نظر میں تصور خدا ہوتا ہے۔ جواب ذکر نہیں کرتے جس کے ساتھ دل کی دھڑکن وابستہ ہو ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان راہوں پر نہیں چلتے جن پر اللہ تعالیٰ چلنے کو پسند نہیں کرتے جسے اللہ دیکھے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑے۔ وہ چھوٹی اور بڑی ہر بات میں اللہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ذکر ان آیات کا مفہوم ہے۔ اگر کسی ذکر کا اثر انسان کے اعمال اور اس کے طرز عمل پر نہیں ہوتا اور وہ اللہ کا اتباع نہیں کرتا تو وہ ذکر ذکر بھی نہین ہے اور نہ اس آیت کا مطلوبہ ذکر ہے۔ یعنی ایسے لوگوں میں سے نہ بنو جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں۔ جن ہونٹوں پر اور جن کی زبان پر اللہ کا نام نہیں آتا ، نہ ان کے قلب و نظر میں تصور خدا ہوتا ہے۔ جواب ذکر نہیں کرتے جس کے ساتھ دل کی دھڑکن وابستہ ہو ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان راہوں پر نہیں چلتے جن پر اللہ تعالیٰ چلنے کو پسند نہیں کرتے جسے اللہ دیکھے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑے۔ وہ چھوٹی اور بڑی ہر بات میں اللہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ذکر ان آیات کا مفہوم ہے۔ اگر کسی ذکر کا اثر انسان کے اعمال اور اس کے طرز عمل پر نہیں ہوتا اور وہ اللہ کا اتباع نہیں کرتا تو وہ ذکر ، ذکر بھی نہیں ہے اور نہ اس آیت کا مطلوبہ ذکر ہے۔ یعنی اللہ کو یاد کرو ، اور اس سے غفلت نہ کرو۔ تمہارا دل اس بات سے غافل نہ ہو کہ وہ مسلسل نگرانی کر رہا ہے انسان اس بات کا سخت محتاج ہے کہ ہر وقت اس کا جوڑ اللہ کے ساتھ رہے۔ صرف اس صورت میں وہ شیطانی وساوس سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اس سورة کے آغاز میں آدم و ابلیس کے معرکے کا تفصیلی بیان آیا تھا۔ پھر اس پوری سورة میں قافلہ ایمان کی کہانی بیان ہوتی رہی ہے۔ اور اس قافلے کی راہ میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین جو رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں ، مثلا اس شخص کی مثال کا بھی تفصیلی ذکر ہوا جسے اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ لیکن وہ ان سے نکل بھاگا۔ شیطان نے اس کا پیچھا کیا اور اسے گمراہوں کے ٹولے میں شامل کرکے چھوڑا۔ سورت کے آخر میں شیطان کے اکسانے کا ذکر ہوا اور حکم دیا گیا کہ ایسی حالت میں مداوا یہ ہے کہ تم اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ۔ وہ جاننے اور سننے والا ہے۔ غرض قرآن مسلسل اور مربوط کلام ہے اور اس کے آخر میں حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کو یاد کیا کرو۔ اور غفلت سے بچو۔ یہ حکم اس بات کے دوران آتا ہے جس میں اللہ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ عفو و درگزر کو اپنا شعار بناؤ۔ معروف باتوں کا حکم دو اور جاہلوں سے پہلو تہی کرو۔ لہذا یاد الہی در حقیقت اسلامی انقلاب کے نشانات منزل کا تکملہ اور آخری منزل ہے۔ اور یہ راہ رو منزل کے لیے وہ توشہ ہے جس کے ذریعے وہ مشکل ترین منازل طے کرسکتا ہے۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی انی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں

اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے سامنے ملائکہ مقربین کی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ جن پر شیطان کی اکساہٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے اندر تخلیقی اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہوتی نہ ان کے اندر شہوات ہوتی ہیں اور نہ میلانات ہوتے ہیں۔ وہ رات دن ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی میں نہ کوئی تقصیر کرتے ہیں اور نہ غرور کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی بندگی اور تسبیح کرنے کے معاملے میں انسان ان سے زیادہ محتاج ہے۔ انسان کی راہ میں زیادہ مشکلات ہیں اور اس پر شیطان کی اکساہٹ کا اثر بھی جلد ہوتا ہے۔ انسان تباہ کن غفلت کا ارتکاب بھی کرسکتا ہے۔ انسان کی سعی بھی محدود ہے ، اگر ذکر الہی کا توشہ نہ ہو تو اس کے لیے منزل تک پہنچنا ہی دشوار ہے۔ ۔۔۔ عبادت اور ذکر الہی دین اسلام کے اساسی طریقوں میں شامل ہیں۔ یہ محض علم و معرفت کا طریق کار نہیں ہیں نہ لاہوتی جدلیات سے ان کا تعلق ہے بلکہ ان کا تعلق سلوک و عمل اور عملی حرکت کے ساتھ ہے۔ اور اس کے ذریعے انسان کی عملی دنیا کو بدلنا مطلوب ہوتا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کی جڑیں لوگوں کے نفس کے اندر ہوتی ہیں ، عمل کی اساس کے خزانے انسان کے اندر ہوتے ہیں ، لوگوں کو عملاً جاہلیت سے نکالنا اور اسلامی منہاج میں داخل کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نہایت ہی مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس راہ کی مشکلات پر صبر ایوبی کی ضرورت ہے جبکہ داعی کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ اس لیے داعی کے لیے اس محدود قوت کے ساتھ اضافی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوت محض علم و معرفت اور دلیل وبرہان سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس کا سرچشمہ عبادت ، تعلق باللہ اور اللہ کی نصرت میں ہوتا ہے۔ یہی وہ توشہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ اور یہی سرچشمہ نصرت ہے جو اس طویل اور خطرناک راہ میں درکار ہوتا ہے۔ اس سورت کا آغاز ان الفاظ سے ہوا۔ کتاب انزل الیک " یہ کتاب ہے جو تمہاری جانب نازل کی گئی ہے۔ پس اے نبی تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے منکرین کو ڈراؤ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت ہو " پوری سورة میں قافلہ اہل حق کی کہانیاں بیان ہوئی اور اس قافلے کی قیادت رسل کرام اپنے اپنے اوقات میں کرتے رہے۔ راستے پر شیطان رجیم ان کی راہ بار بار روکتا رہا۔ جنوں اور انسانوں کے شیاطین ان کو اذیت دیتے رہے ، اس دنیا کے جبار وقہار ان پر مظالم ڈھاتے رہے اور طاغوتی نظاموں کے ہر کارے ان کے آڑے آتے رہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوکر ان کو غلام بنا رہے تھے۔ بیشک یہی ہے اس راستے کا توشہ اور یہی ہے اس راستے کے معزز مسافروں کا سازوسامان۔