7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں

یہ ہے وہ ایمان حقیقی کا حامل انسان ، جو نہ خائف ہوتا ہے اور نہ اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ نہ وہ جھکتا ہے اور نہ غلام ہے۔ جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور اس راہ پر راضی ہوگیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والا ہے اور وہ اس راہ کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔ قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ انہوں نے جواب دیا۔ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔ جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور طاغوتی نظام کے درمیان برپا معرکے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ کہ یہ معرکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے ، وہ پھر مداہنت نہیں کرتا اور نہ جنگی داؤ پیچ سے کام لیتا ہے نہ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔ خصوصاً ایسے دشمن کے مقابلے میں جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل ایمان اپنے ایمان اور نظرئیے سے دستبردار ہوجائیں۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۔ تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ جو شخص یہ جانتا ہو کہ وہ کس کے خلاف صف آرا ہے ، اور وہ کس کے مقابلے میں آگے بڑھ رہا ہے ، پھر وہ اپنے دشمن سے امن و عافیت کا سوال نہیں کیا کرتا۔ وہ صرف اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور وہ بھی اس ات کا کہ اسے اس فتنے میں صبر و استقامت عطا کی جائے اور یہ کہ وہ اسلام کا وفادار ہے۔ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ " اے رب ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں "۔ اب سرکشی ایمان کے مقابلے میں بےبس ہوجاتی ہے ، اسے ایک فہم سے اور اطمینان کے ایک پہاڑ سے واسطہ پڑتا ہے۔ سرکشی اور طغیان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اختیار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسے انسان کے جسم پر غلبہ اور کنٹرول حاصل ہے ، اس طرح اسے لوگوں کے دل و دماغ پر بھی تسلط حاصل ہے۔ اور جس طرح وہ لوگوں کے جسموں پر حکم چلاتے ہیں اسی طرح وہ لوگوں کے دماغوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ، لیکن یہ بات ان کے لئے انہونی ہوتی ہے کہ کوئی دل ان کی نافرمانی کرے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ، اس لیے کہ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور جب کسی دل کا رابطہ اللہ سے ہوجائے اور وہ سرکشی کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو یہ سرکشی بےبس ہوجاتی ہے۔ جب دل اللہ کے ہوجائیں اور ان کا ربط اللہ سے ہوجائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بےبس ہوجاتی ہے۔ ایمانی قوت کے مقابلے میں بڑے بڑے سلطان اور جبار عاجز آجاتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موقف ہے۔ ایک طرف فرعون ، اس کا طاغوتی نظام اور اس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب بےبس مومن جادوگر ہیں جو کبھی جادوگر تھے۔ اب وہ ایک تاریخی موقف کے حامل ہیں۔ ان کا نظریہ حیات زندگی پر فاتح ہوکر برتری حاصل کرچکا ہے۔ انسانی عزیمت نے جسمانی رنج والم پر برتری حاصل کرلی ہے۔ انسان شیطان پر غالب آگیا ہے۔ بیشک یہ انسانی تاریخ کا ایک دو ٹوک موقف ہے۔ اس موقف کے ذریعے ایک حقیقی آزادی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آزادی کی ماہیت کیا ہے ؟ آزادی یہ ہے کہ ایک انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر سرفراز ہوجائے اور جباروں اور سرکشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ اور اس مادی قوت کو ہیچ سمجھ لے جو انسانی جسموں پر تو کنٹرول کرتی ہے لیکن جسے انسان کی روح اور نظریات تک رسائی نہیں ہوتی ، اور جب مادی قوتیں دلوں کو مسخر کرنے سے عاجز آجائیں تو اس مقام سے حقیقی حریت اور آزادی کا جنم شروع ہوتا ہے اور یاد رہے کہ یہ جنم آزاد دلوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک دو ٹوک موقف ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ موقف واضح طور پر بتاتا ہے کہ مادی قوت بےکس و بےبس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ یہ جادوگر ابھی تو فرعون سے معمولی اجرت کے طلبگار تھے اور پھر یہ تمنا رکھتے تھے کہ اس کے دربار میں کرسی نشین ہوجائیں اور بادشاہ کے ساتھ انہیں قرب نصیب ہو۔ یہ حقیر گروہ ، ایمان کے بعد ، اب فرعون کے مقابلے میں سرفرازی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دار و رسن کے مقابل کے تیار کھڑا ہے۔ حالانکہ مادی اعتبار سے ان کے ماحول ہر چیز اسی حالت میں ہے جو تغیر ہوا ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ ایک حقیر ستارے کو خفیہ اجالا مل گیا ہے ، اور اب یہ حقیر ستارہ نہیں بلکہ حقیر ذرہ ایک مستحکم برج میں داخل ہوگیا ہے اور ایک فانی فرد ازلی اور ابدی قوت تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ قلب مومن پر ایک سوئی رکھ دی گئی ، اب دل مومن قدرت کے اثرات قبول کر رہا ہے ، اس کے ضمیر میں سے قدرتی آوازیں آرہی ہیں ، اور انسانی بصیرت پر انوار پڑتے ہیں ، یہ سوء قلب مومن کو احساس دلاتی ہے جبکہ عالم مادیت میں کچھ بھی تغیر پذیر نہیں ہوتا۔ لیکن انسان عالم مادیت سے سربلند ہوکر ایسے جہان نو میں چلا جاتا ہے جن کے بارے میں پہلے وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ اب دھمکی اپنا راہ لیتی ہے اور ڈراوا تلاش میں رہتا ہے لیکن ایمان اپنی راہ پر دور نکل چکا ہوتا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف دیکھا ہی نہیں ، اسے کوئی تردد نہیں ہوتا اور نہ وہ بےراہ ہوتا ہے۔ اس حد تک جب منظر چلتا ہے تو پردہ گر جاتا ہے اور مزید تفصیلات نہیں دی جاتیں کیونکہ یہاں اس منظر کی خوبصورتی اپنے عروج کو پہنچ کر ایک بات بھی مکمل ہوجاتی ہے اور ایک فنی خوبصورتی بھی اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے۔ قرآن کا فنی کمال یہاں پر بھی اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور قاری کا وجدان بھی قصے کے نفسیاتی مقاصد کو پا لیتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اور قرآن کریم کے مخصوص اسلوب اظہار میں۔ (دیکھیے میری کتاب التصویر الفنی) قرآن کے سائے میں اس دلچسپ منظر کے سامنے کھڑے ہو کر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور و فکر کریں۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے جادوگروں کی جانب سے ایمان اور رب موسیٰ اور ہارون کو تسلیم کرلینے کے فعل کو اپنے نظام حکومت کے خلاف ایک سازش سمجھا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اور اقتدار خطرے میں ہے۔ اس لیے کہ جس اصول پر ایمان کا نظام قائم ہوتا ہے وہ اصول فرعونی نظام کے اساسی اصول سے متضاد ہے۔ اس بات کی تشریح اس سے قبل ہم کرچکے ہیں۔ یہاں بطور تکرار و تاکید دوبارہ یہ بات لائی جاتی ہے ، کسی ایک دل ، کسی ایک ملک ، کسی ایک نظام میں یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ بھی رب العالمین ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی انسان بھی رب الناس ہو ، اور اس کے قوانین لوگوں میں رائج اور نافذ ہوں اس لیے کہ اللہ کا دین بھی ایک مکمل نظام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرعونی دین بھی ایک مکمل دین ہے۔ جب جادوگروں کے دلوں میں شمع ایمان روشن ہوگئی اور انہوں نے ایمان و کفر کی حقیقت کو پا لیا تو انہوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ ان کے اور فرعون کے درمیان ایسا نظریاتی اور اصولی اختلاف ہے ، اور یہ کہ فرعون جو انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے وہ محض اس لیے دے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اللہ کو رب العالمین تسلیم کرلیا ہے۔ اور اس انداز میں ایمان لانا فرعون کے نظام حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ اسی طرح فرعون کی حکومت کے اعلی ڈھانچے اور دستوری نظام کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے۔ یعنی فرعون کا نظام ربوبیت جس بت پرستانہ تصورات پر قائم تھا وہ جڑ سے اکھڑ گئے تھے۔ جو شخص بھی رب العالمین وحدہ لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ اس لئے کہ اس ادراک ہی کی وجہ سے اہل ایمان کے لیے تمام مصائب و شدائد قابل برداشت بن گئے۔ اب وہ دار و رسن کے لیے تیار ہوگئے اس لیے کہ انہوں نے ایمان کا دعوی کردیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا اور فرعون کا دین ان سے جدا ہے اس لیے کہ فرعون نے لوگوں کو غلام بنا کر اور اپنا قانون جاری کرکے اللہ کی رب العالمینی کا انکار کردیا ہے لہذا فرعون کافر ہے۔ اس طرح ہر داعی کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایمان کی طرف دعوت دے رہا ہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کافر ہیں اور فرعونی نظام کے داعی ہیں۔ اور یہ دشمنی محض (البغض فی اللہ) ہے۔ اس کی تہ میں کوئی اور داعیہ ، داعیہ ایمان کے سوا نہیں ہے۔ اس کے بعد اس منظر میں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایمان کے سامنے پوری زندگی اور اس کی آسائشوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ عزم و ارادے کے سامنے رنج والم کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ انسانی قوت شیطانی پر فتح یاب ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی فحت بخش اور حیران کن منظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منظر کی خوبصورتی کا بیان ممکن نہیں ہے۔ خود نصوص قرآن ہی کو پڑھیے۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "

اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن نے تصریح کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ سختی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے خلاف فرعون کو برانگیختہ کر رہے ہیں اور اسے ڈراتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ حکومت کا رعب جاتا رہے گا۔ جدید خطرناک نظریات پھیل جائیں گے۔ لوگ فرعون کے بجائے اللہ کو رب العالمین سمجھیں گے۔ چناچہ وہ تیار ہوجاتا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف شدید ایکشن لے اور قوت کا استعمال کرے اور اخلاقی شکست کے بعد پوری مادی قوت استعمال کرے۔ مادی قوت کے مالکان ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "۔ فرعون کا دعوی یہ نہ تھا کہ وہ اس کائنات کا الہ اور خالق اور اس کائنات کو وہ چلاتا ہے یا یہ کہ اسے اس کائنات کے طبیعی نظام پر قدرت حاصل ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنی کمزور پبلک پر الہ اور رب سمجھتا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ حاکم اور مقن ہے اور یہ کہ اس کا حکم اور ارادہ قانون ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور تمام حکام اور بادشاہوں کا بھی یہی دعوی ہوتا ہے کہ ان کا قانون چلتا ہے اور ان کے حکم سے امور طے ہوتے رہیں اور یہی مفہوم ہے ربوبیت کا ازروئے لغت۔ مصر میں لوگ فرعون کی بندگی اس معنی میں نہ کرتے تھے کہ وہ فرعون کی نمازیں پڑھتے تھے یا فرعون کے روزے رکھتے تھے بلکہ ان کے اپنے الہ تھے جس طرح فرعون نے اپنے لیے الہ بنا رکھے تھے اور یہ لوگ ان الہوں کی بندگی بجا لاتے تھے اور اس حقیقت کا اظہار درباریوں کے اس قول سے بھی ہوتا ہے۔ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے ہیں " اور یہ حقیقت مصر کی فرعونی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ فرعون کا الہ تھا۔ لہذا فرعون اس معنی میں ان کا رب اور الہ تھا کہ یہ لوگ اس کے اوامرو نواہی کے پابند تھے اور اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرسکتے تھے اور عبادت کا یہی لغوی ، حقیقی اور اصطلاحی مفہوم ہے بلکہ یہی واقعی مفہوم ہے جو شخص کسی انسان کے وضع کردہ قانون کی اطاعت کرے وہ گویا اس کی عبادت کر رہا ہے۔ اور حضور ﷺ نے یہی تشریح فرمائی ہے۔ اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کی تشریح کے بارے میں ایک صحابی عدی ابن حاتم نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت تو نہ کرتے تھے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ احبارو رہبان ان کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے تھے اور یہ لوگ اس میں ان کی اطاعت کرتے تھے ، یہی تو ان کی جانب سے ان کی عبادت ہے۔ (ترمذی) رہی یہ بات جو اس نے کہا ما علمت لکم من الہ غیری۔ میرے علم میں تمہارے لیے میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے ؟۔ تو اس کی تفسیر خود قرآن نے کردی ہے۔ قرآن نے فرعون کی زبانی یہ بات نقل کردی۔ (الیس لی ملک مصر و ھذہ الانھار تجری من تحتی افلا تبصرون۔ ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین۔ فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب او جاء معہ الملئکۃ مقترنین) " لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی (معیت) میں نہ آیا "۔ ظاہر ہے کہ وہ اس میں اپنا اور حضرت موسیٰ کا موازنہ پیش کر رہا تھا۔ اس کے پاس کنگن نہیں ہیں اور میں نے کنگن پہنے ہوئے ہیں یعنی میں بادشاہ ہوں اور زیب وزینت کا مالک ہوں اور موسیٰ کے پاس یہ خوبی نہیں۔ لہذا اس کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ میرے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں ہے۔ میں ہی حاکم ہوں اور جس طرح چاہتا ہوں اس مملکت کو چلاتا ہوں اور لوگ میری بات سے سرتابی نہیں کرسکتے اور اس مفہوم میں حاکمیت الوہیت کے مترادف ہے۔ اور فی الحقیقت الوہیت کا مفہوم ہی یہی ہے۔ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے۔ چاہے وہ الوہیت کا دعوی کرے یا نہ کرے۔ اس تفسیر کے مطابق ہم فرعون کے امراء کے اس قول کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں۔ ان لوگوں کے نقطہ نظر سے فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ کی ربوبیت اور حاکمیت کی طرف لوگوں کو بلائے ، کیونکہ جب کوئی اللہ رب العالمین کو الہ اور حاکم تسلیم کرتا ہے تو اس سے از خود تمام دوسرے نظاموں اور حاکموں کی نفی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ فرعونی نظام حاکمیت غیر اللہ کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نظام فرعون کی ربوبیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے اور یہ شخص اللہ کی ربوبیت کا داعی ہوتا ہے۔ لہذا اب ہر شخص فرعونیوں کی نظروں میں مفسد فی الارض ہوتا ہے۔ وہ باغی اور انقلابی ہوتا ہے اور ملک کے موجودہ قائم حالات کے اندر اکھاڑ پچھاڑ چاہتا ہے۔ اور موجود مستحکم حالات کی جگہ نئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جن میں ربوبیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہو کسی انسان کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں۔ لہذا ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ یہ مفسدین فی الارض ہیں اور فرعون اور اس کے الہوں کی بندگی کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل فرعون نے اپنے تمام حقوق اس دین سے اخذ کیے تھے جس کا وہ پیروکار تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ ان الہوں کا محبوب بیٹا ہے اور باپ بیٹے کے جس تعلق کا وہ داعی تھا وہ کوئی حسی اور طبیعی تعلق نہ تھا ، کیونکہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون جس ماں باپ سے پیدا ہوا تھا وہ مصری باشندے تھے اور انسان تھے۔ یہ ایک اشاراتی اور رمزی ابنیت تھی جس کے ذریعے وہ اپنے لیھے وہ تمام حقوق حاصل کرتا تھا ، جو اس نے اپنے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ جب موسیٰ اور آپ کی قوم نے رب العالمین کی براہ راست بندگی شروع کردی اور فرعونی الہوں کو ترک کردیا جن کی عبادت مصری لوگ کرتے تھے ، تو اس فعل سے وہ نظریاتی اساس ہی ختم ہوجاتی تھی جس پر فرعون کی مملکت کی تعمیر ہوئی تھی۔ پھر وہ اپنے نظام مملکت میں اپنی قوم کو کچھ حیثیت بھی نہ دیتا تھا اور وہ لوگ بھی اس کی اطاعت کرتے تھے وہ اللہ کے دین سے خارج تھے اور فاسق تھے۔ دوسری جگہ میں ہے (فاستخف قومہ فاطاعوہ۔۔ انہم کانوا قوم فاسقین) " اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔۔۔ بیشک یہ لوگ فاسق تھے " یہ تاریخ کی صحیح تفسیر ہے۔ اگر فرعون کی قوم ہلکے لوگوں پر مشتمل نہ ہوتی اور فسق و فجور کی عادی نہ ہوتی تو ہر گز فرعون کی اطاعت نہ کرتی۔ اللہ پر جو شخص ایمان لے آتا ہے طاغوت اسے ہلکا نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہ کوئی مومن طاغوت کی اطاعت کرسکتا ہے بشرطیکہ مومن یہ جانتا ہو کہ یہ معاملہ شریعت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون اور تمام لوگوں کو رب العالمین کی طرف دعوت دینا ، پھر میدان مبارزت میں جادوگروں کو شکست دینا اور ان کا ایمان لے آنا اور اس کے بعد قوم موسیٰ کی طرف سے رب العالمین پر ایمان لانا اور رب واحد کی عبادت کرنا یہ سب امور ایسے تھے جو فرعون کے نظام حکومت کے لیے نہایت ہی خطرناک تھے اور جہاں بھی کوئی ایسا نظام قائم ہو جس میں انسان انسان کا غلام اور مطیع ہو اور ایسے نظام کے اندر کوئی صرف رب العالمین کی بندگی اور اطاعت کی دعوت شروع کردے تو یہ اس نظام کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شہادت لا الہ الا اللہ کی طرف دعوت دے اور یہ دعوت اس کلمہ کے حقیقی مفہوم کی طرف ہو کہ لوگ پورے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ جزوی طور پر مراسم عبودیت اللہ کے سامنے بجا لائیں تو یہ دعوت کسی بھی موجود نظام کفر کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے اس صورت حالات میں سخت الفاظ میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کردیا کیونکہ اس کا پورا نظام مملکت خطرے میں تھا۔ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے " حضرت موسیٰ کی پیدائش کے دور میں بھی بنی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی یہ پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ فرعون اور اس کا نظام مملکت ان کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ سورة قصص میں اس کی تفصیلات یوں دی گئی ہیں :۔ ان فرعون علا فی الارض و جعل اھلھا شیعا یستضعف طائفھ منہم یذبح ابناءہم و یستحیی نساءہم انہ کان من المفسدین " واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقعہ وہ مفسد لوگوں میں سے تھا "۔ یہ سرکشی ہر دور میں رہتی ہے اور ہر جگہ رہتی ہے۔ آج بھی وہ یہی ذرائع و وسائل اختیار کرتی ہے اور صدیاں پہلے بھی اس کے یہی ذرائع تھے۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں "

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ یہ مشکلات انگیز کریں۔ صبر سے کام لیں اور اللہ سے ان مشکلات کی برداشت کے لیے مدد اور معاونت طلب کریں۔ آپ انہیں اس کائنات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری انجام ان لوگوں کا اچھا ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور جب وہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اے موسیٰ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم یہ مصائب تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم ان مشکلات سے دو چار ہیں اور یہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں تو آپ ان کو ان الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کرہ ارض کی خلافت تمہیں دے دے لیکن پھر تمہاری بھی آزمائش کا دور شروع ہوگا۔ قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں " اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "۔ نبی کی بصیرت دیکھ رہی ہے کہ اللہ کی قوتیں اس کائنات میں کس طرح متصرف ہیں۔ اور اللہ کی حقیقت اور قوت کس قدر عظیم ہے۔ اور اس کائنات میں سنت الہیہ کس طرح جاری وساری ہے اور اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں کیا کیا مراعات ہیں ؟ جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ان کے لیے جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ مامون محفوظ اور قابل بھروسہ جائے پناہ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی ولی اور آقا ہوتا ہے جو بڑی قوت والا اور ناقابل شکست ہے۔ لہذا ایسے لوگوں کو اس وقت تک صبر اور مصابرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک ان کا آقا ان کے لیے فتح و کامرانی کے احکام صادر نہیں کرتا ، انہیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ غیب میں اس کے لیے کیا کیا پوشیدہ ہے اور اس کی بھلائی کس چیز میں ہے ؟ یہ زمین اللہ کی ہے۔ فرعون اور اس کی قوم یہاں مسافرین ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ یہاں کس قوم کو لاتا ہے اور اسے اس زمین کا وارث بناتا ہے۔ یہ کام اللہ اپنے سنن جاریہ کے مطابق کرتا ہے ، لہذا جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کا جس طاغوتی طاقت سے مقابلہ ہے ، وہ اس سرزمین پر بظاہر بڑی مستحکم نظر آتی ہے اور اس کی بنیادوں میں کوئی تزلزل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس زمین کا مالک اللہ ہے اور وہ کسی مناسب وقت میں کسی سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے بندے کے حوالے کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری اچھا انجام بہرحال متقین کا ہوتا ہے ، چاہے طویل عرصے کے بعد یہ انجام ظاہر ہو یا جلدی ظاہر ہو۔ لہذا رب العالمین کی طرف دعوت دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دلوں سے اپنے انجام کے بارے میں ہر خلجان کو نکال دیں اور یہ گمان نہ کریں کہ آج جن اہل باطل کی زمین پر چلت پھرت ہے وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں گے۔ یہ تو نبی کی چشم بصیرت تھی جو اس کائنات میں ہونے والے واقعات کو دور تک دیکھ رہی تھی لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "

(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔ لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن جسے یہ مقام ملتا ہے وہ در اصل بڑی آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ اس نے جواب دیا۔ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ حضرت موسیٰ نبوت کے دل و دماغ اور بصیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ، آپ سنت الہیہ کو مٹآ مٹآ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنت حسب وعدہ صابرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ، اسی طرح منکرین حق کے لیے بھی اس کے فیصلے وقت پر ہوتے ہیں۔ آپ کو صاف صاف نظر آتا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے تباہ و برباد ہونا ہے اور ان کی جگہ صابرین و مجاہدین نے لینی ہے ، لہذا آپ اپنی قوم کو راہ مصابرت پر آگے بڑھاتے ہیں تاکہ سنت الہیہ ان کے حق میں فیصلے کردے۔ آپ کو تو آغاز ہی سے معلوم ہے کہ بنی اسراء یل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے یہ آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل اپنے بارے میں زعم رکھتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ، اس لیے کہ یہ دنیا یونہی بےمقصد بھی نہیں بنائی گئی اور نہ یہ ازلی اور ابدی ہے بلکہ یہاں ہر قوم کا عروج انسان کے لیے ہے۔ فینظر کیف تعملون۔ تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ اللہ تو کسی چیز کے واقعہ ہونے سے بھی پہلے جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی جانب سے ارتکاب جرم سے پہلے سزا نہیں دیتا۔ جب تک کہ وہ بات ان سے واقعہ نہیں ہوجاتی جس کا اللہ کو پہلے سے عالم الغیب ہونے کی حیثیت سے علم ہوتا ہے۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے

اب سیاق کلام موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ اب ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر میں فرعون اور اس کی قوم نظر آتے ہیں۔ فرعون اپنی قوم پر انتہائی ظلم کرتے ہوئے نظر آتا ہے اور حضرت موسیٰ کا وہ وعدہ سچ ہوجاتا ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا اور جس کی انہیں امید تھی۔ اب رسول کی تمام باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ قصہ یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ منظر نہایت ہی معمول کے حالات میں شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے فضا میں تندی اور تیزی آتی جاتی ہے اور پردہ گرنے سے پہلے ہم فضا میں ایک خوفناک طوفان دیکھتے ہیں۔ ہر چیز تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ روئے زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اب یہاں کوئی طاغوت و سرکش نہیں رہتا۔ اور نہ طاغوت کے اہالی و موالی کا کوئی اتہ پتہ نظرآتا ہے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل نے مشکلات پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جزائے خیر دے دی۔ فرعون اور اس کی پارٹی نے فسق و فجور کی راہ لی اور ظلم کیا اور وہ بھی اپنے کیے پر مناسب انجام تک پہنچ گئے۔ اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوا اور اس کی وعید نے بھی رنگ دکھایا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سنت الہیہ کے مطابق سلوک ہوا۔ اللہ نے انہیں نہایت ہی مشکل حالات میں مبتلا کیا۔ ذرا تفصیلا مطالعہ کریں۔ ( وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ) " ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے " یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ابتدائی تنبیہ تھی۔ ملک کو خشک سالی نے آ لیا اور ہر قسم کی فصلیں ضائع ہوگئیں اور پیداوار ختم ہوگئی۔ سنین عربی اصطلاح میں خشک سالوں اور قحط اور شدت کے لیے بولا جاتا ہے۔ قحط سالی مصر جیسے سرسبز اور گل گلزار ملک میں عذاب الہی تصور ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر اس سے خوف و ہراس پیدا ہوجاتا تھا اور وہ پریشان ہو کر عالم بالا کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ لیکن چونکہ طاغوتی قوتیں اور ان کے اہلکار لوگوں کو غافل کرتے ہیں ، دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں ، اس لیے وہ اس لائن پر نہیں سوچتے کہ یہ عذاب الہی ہے جو ان پر بصورت خشک سالی وغیرہ آیا ہے۔ طاغوتی قوتوں کی وجہ سے لوگوں کے اندر اس قدر غفلت اور لا پرواہی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی تنبیہات کو بھول جاتے ہیں اور یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ایمان اور روحانی اقدار اور طبیعی حالات کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور عالم الغیب کی نظر لوگوں کی اخلاقی زندگی اور ان کے طبیعی حالات دونوں پر ہوتی ہے۔ طاغوتی نظام کے تحت لوگوں کا دماغ اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ وہ محسوسات کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں سکتے اور وہ بہائم کی سطح تک اتر آتے ہیں کیونکہ بہائم بھی صرف محسوسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کچھ ایسے واقعات دیکھیں بھی جن کی وہ طبیعی تعبیر نہیں کرسکتے تو بھی ان اہم واقعات کو وہ اتفاقات اور مصاونات کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور ان واقعات کے پیچھے کام کرنے والی سنت الہیہ اور ناموس قدرت کو وہ نہیں سمجھ پاتے ، جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ (جب خروچیف کے دور میں روس خشک سالی کا شکار ہوا اور ہر قسم کی زرعی پیداوار ختم ہوگئی تو اس نے کہا کہ قدرت ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ لا مذہب کمیونزم کا قائل تھا اور کسی غیبی طاقت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ غرض یہ لوگ زبردستی اپنے آپ کو اندھا کرتے ہیں اور دست قدرت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ندرت کیا ہے جو ان کے خلاف جا رہی ہے ؟ یہی تو رب تعالیٰ ہے) ۔ غرض قوم فرعون کو اللہ نے متنبہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ کافر اور فاسق و فاجر تھے۔ بت پرستی کے خرافات نے ان کی فطرت کو تبدیل کردیا تھا اور اس کائنات میں جو ناموس قدرت جاری ہے اور جس کے مطابق خود انسانوں کی زندگی بھی رواں دواں ہے اس کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق نہ تھا۔ کیونکہ اس ناموس قدرت کا صحیح ادراک صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہیں صحیح ایمان اور نور ایمان نصیب ہوا ہو۔ اہل ایمان ہی یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ یہ کائنات یونہی پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہمیشہ کے لئے یونہی بےمقصد رہے گی بلکہ اس کے اوپر اللہ کے سچے قوانین حاوی ہیں۔ یہ ہے حقیقی علمی سوچ۔ یہ سوچ اللہ کے عالم مغیبات کا انکار نہیں کرتی۔ اس لئے کہ حقیقی علم و سائنس اور علم غیب کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ کائنات اور انسانی زندگی دونوں کے پیچھے اللہ ذات کام کرتی ہے جو (فعال لما یرید) ہے اور ذات الٰہی کا مطالبہ یہ ہے کہ بندے ایمان لائیں اور اللہ خلافت فی الارض کا منصب ان کے سپرد کردے۔ اور جس نے ہمیشہ انسانوں کے لئے ایسی شریعتیں تجویز کی ہیں جو ان قوانین فطرت اور نوامیس قدرت سے ہم آہنگ رہی ہیں اور انہوں نے اس کائنات میں انسانی زندگی اور اخلاق زندگی کے درمیان توازن پیدا کیا ہے۔ فرعون اور اس کے اہالی و موالی یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے کفر و فسق اور آل موسیٰ پر ان کے مظالم اور قحط سالی کے عذاب کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ خصوصاً مصر میں جہاں ہمیشہ تازگی ، سرسبزی اور بہار رہتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں اور زرعی پیداوار کی کثرت اور فراوانی ہوتی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ مشکلات ان کے فسق و فجور کی وجہ سے ان پر نازل ہو رہی ہیں۔ غرض اہل فرعون مصر میں عظیم خشک سالی کے مہلک آثار کو دیکھ کر بھی متنبہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب کبھی ان پر اچھے دن آتے تو کہتے کہ یہ تو ان کا حق ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں لیکن جب خشک سالی اور مشکلات در پیش ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ سب کچھ موسیٰ کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی وجہ سے یہ مشکلات ان پر آرہی ہیں۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں ، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھہراتے ، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ، مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے

جب انسانی فطرت جادۂ مستقیم سے منحرف ہوجاتی ہے تو اسے نظر نہیں آتا کہ اس کائنات کو دست قدرت چلا رہا ہے۔ ان کو اللہ کا نظام قضا و قدر نظر نہیں آتا جس کے تحت تمام چیزیں پیدا ہو رہی ہیں اور تمام واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جب یہ فطرت اس حد تک خراب ہوجائے تو پھر وہ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس قدرت کا ادراک نہیں کرسکتی۔ حالانکہ یہ قوانین قدرت مستقلاً یہاں رواں دواں ہیں۔ ایسے لوگ پھر کائنات کے واقعات کی تفسیر اور تشریح انفرادی واقعہ کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اس واقعہ کا کسی کلی اصول کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ ایسے لوگ دفتر خرافات لئے ہوئے بےآب وگیاہ وادیوں میں سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ کسی اصول پر متفق نہیں ہوتے اور یہ کسی ایک راہ و رسم کے قائل نہیں ہوتے ، ان کی سوچ منطقی نہیں ہوتی۔ خروشیف جیسے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ " طبیعت " ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مادہ کس طرح ان کے خلاف جا رہا ہے۔ لیکن وہ (فعال لما یرید) کا قائل ہی نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ بعض لوگ اصول الدین کا انکار کرتے ہوئے اور خدا اور خدا کی غیبی قدرت کا انکار کرکے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ فرعون اور اس کے ساتھی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی ایسی تشریح کرتے تھے کہ اگر دنیا کے حالات اچھے ہوں تو کہتے کہ بس یہ ہمارا حسن کار کردگی ہے اور ہم اس سکے مستحق ہیں۔ اور اگر حالات خراب ہوں تو وہ کہتے کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں ، یعنی ان سے بدشگونی لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بدشگونی کیا چیز ہے۔ اس کے لئے یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ وطیرہ ہے۔ اس کے لغوی معنی پرندے کا اڑنا ہیں۔ اہل جاہلیت کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی تھی کہ اس کائنات میں سنت الہیہ جاری ہے اور قدرت کے بعض ضوابط کے مطابق یہاں واقعات رونما ہوتے ہیں ، وہ ظاہری حالات کو دیکھ کر اور بت پرستی کے زیر اثر بعض عجیب توہمات پر یقین رکھتے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرتا تو کسی پرندے کے گھونسلے کے قریب جاتا اور گھونسلے سے پرندے کو اڑاتا۔ اگر پرندہ اس کے دائیں جانب سے اڑتا تو اسے " سانح " کہتے۔ اس سے وہ خوش ہوتے اور اس کام کو کر گزرتے ۔ اگر پرندہ بائیں جانب سے اڑتا تو اسے وہ " بارح " کہتے اور اسے بدشگونی سمجھ کر اس کام سے باز آجاتے۔ تو اسلام نے اس خرافاتی سوچ کو کالعدم کردیا۔ اور اس کی جگہ غور و فکر کا سائنٹیفک انداز دیا۔ اور نتائج کو اللہ کے سنن جاریہ پر چھوڑ دیا کہ نتائج جو بھی نکلیں گے وہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق ظاہر ہوں گے۔ اسلام نے تمام معاملات کو سائنسی اور علمی انداز پر چھوڑ دیا جس میں اہمیت انسان کے ارادے اور اس کی نیت ، اس کی حرکت اور اس کی جدوجہد کو دی گئی۔ اور اللہ کے دائرہ قضا و قدر پر اللہ کی مشیت محیط ہے۔ (اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) " حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ، مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے " اس دنیا میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان کا سبب واحد یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے واقع ہوتے ہیں اور اللہ ہی کے ہاں سے ان کو اچھی بات نصیب ہوتی ہے جس میں ان کے لئے آزمائش ہے اور اللہ ہی کی طرف سے ان پر مصائب آتے ہیں اور یہ بھی آزمائش کے لیے ہیں۔ و نبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون " اور ہم خیر و شر میں مبتلا کرکے انہیں آزمائیں گے اور یہ آزمائش بڑا فتنہ ہے اور تم ہماری جانب لوٹوگے " انسان پر جو مشکلات آتی ہیں وہ اس کی شامت اعمال ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور اکثر تو ایسے ہیں جو سرے سے تقدیر الٰہی کے قائل ہی نہیں ہیں وہ اپنے نظریات کا اظہار سائنٹیف سوچ کے لفظ سے کرتے ہیں اور بعض اسے " قدرت کا عدم تعاون " کہتے ہیں مثلاً اشتراکی لوگ لیکن یہ سب حضرات حقیقت سے جاہل اور لا علم ہیں
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ " تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں "

ذرا آگے بڑھیے : فرعون اور اس کے حواری اپنی سرکشی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، عزت نفس کے مجروح ہوجانے کی وجہ سے بہت ہی طیش میں ہیں اور غصے اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کہتے ہیں : وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ ۔ انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ " تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں " یہ وہ حیوانی خود سری ہے جسے سدھایا نہیں جاسکتا ، جس پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، جسے کسی دلیل سے رد نہیں کیا جاسکتا ، وہ نہ فکر و نظر جانتی ہے اور نہ غور و تدبر سے کام لیتی ہے ، دلیئل کا سانا کرنے سے بھی پہلے وہ بات کو رد کردیتی ہے ، وہ دلیل کا راستہ ہی روک دیتی ہے۔ یہ وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ہر وہ شخص مبتلا ہوجاتا ہے جو جابرانہ انداز میں اور اپنی مصلحتوں کے لیے اقتدار میں ہوتا اور جسے دلیل نے شکست دے دی ہوتی ہے بلکہ دلیل وبرہان اس کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنی مصلحتوں کی وجہ سے سچائی دلیل اور ثبوت کا سامنا نہیں کرسکتا۔ جب ایسے حالات ہوں تو پھر قادر مطلق اپنے خاص وسائل کام میں لاتا ہے
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ، ٹڈی دل چھوڑے ، سرسریاں پھیلائیں ، مینڈک نکالے اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کیے چلے گئے۔ اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے

یہ تھا ڈرامہ " ابتلاء "۔ آیات متصلات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نشانیاں واضح واضح طور پر بتا رہی تھیں۔ ایک کے بعد ایک ابتلا آرہی تھی ، اور پچھلی آنے والی اگلی کا منطقی نتیجہ تھی۔ قرآن کریم نے ان تمام آیات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے حالانکہ یہ مصائب ان پر یکے بعد دیگرے آئے تھے۔
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

جب کبھی ان پر بلا نازل ہوجاتی تو کہتے " اے موسیٰ ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بناء پر ہمارے حق میں دعا کر ، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے "

جب بھی کوئی مصیبت آتی تو مشکلات کے دباؤ کے تحت وہ حضرت موسیٰ کے آگے جھکتے اور وعدہ کرتے کہ اگر تمہاری دعا سے ہمیں اس سے نجات ملی تو بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ لیکن جب بھی عذاب ٹلتا تو ان کی روش وہی رہتی۔ ہر بار وہ وعدہ خلافی کرتے ، اور دوبارہ وہ اسی حالت میں چلے جاتے جو ان کے لیے ایک مہلت تھی اور ان کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے ، ہٹا لیتے تھے تو وہ یککت اپنے عہد سے پھر جاتے

سیاق کلام میں ان تمام نشانیوں کو ایک جگہ لایا گیا ، اس طرح کہ گویا بیک وقت ان سب کا ظہور ہوا ، اور ان کے بعد جب اللہ نے ان مشکلات کو رفع فرمایا تو ایک ہی بات فرعونیوں نے بد عہدی کی ، یہ انداز اس لیے اختیار کیا گیا کہ جب بھی کوئی نشانی آئی اور دور ہوئی تو انہوں نے پھر عہد وفا نہ کیا۔ یہ انداز بیان قرآن کے اسالیب میں سے ایک ہے ، چونکہ واقعات ایک ہی جیسے تھے ، اس لیے ایک ہی جگہ ان کے آغاز کی طرف اشارہ کردیا گیا گویا ایک ہی دل کے ساتھ یہ تمام تجربات پیش آئے اور وہ دل اس قدر سخت ہوچکا تھا کہ کسی تجربے نے بھی اس کے اندر راہ نہ پایا۔ اور کسی نے عبرت نہ حاصل کی۔ یہ تمام نشانیاں جن تفصیلات کے ساتھ آتی رہتی ہیں ، قرآن کریم نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ احادیث مرفوع میں بھی ان کا تذکرہ نہیں آیا۔ ہم بھی فی ظلال القرآن میں اختیار کیے ہوئے اسلوب کے مطابق ان کو یونہی مجمل چھوڑتے ہیں اس لیے کہ قرآن کی تشریح یا قرآن سے ہوگی یا سنت ثابتہ سے۔ یہ اسلوب ہم نے اسرائیلیت سے بچنے کے لیے اپنایا ہے کیونکہ اسرائیلی روایات بےاصل روایات ہوتی ہیں۔ اس قسم کی اسرائیلی روایات تمام سابقہ تفاسیر کا حصہ بن گئی ہیں۔ کوئی ایسی تفسیر نہیں ہے جو ان سے خالی ہو۔ امام طبری کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ ایک نفیس تفسیر ہے اور نہایت ہی قیمتی تفسیر ہے ، ابن کثیر کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ قابل قدر کی تفسیر ہے ، دونوں اسرائیلیت سے خالی نہیں ہیں۔ اس بارے میں حضرت ابن عباس بہت سے بھی روایات منقول ہیں۔ ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ اور تفسیر دونوں میں ذکر کی ہیں اور ان میں سے ایک روایت یہ ہے۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ جب موسیٰ فرعون کے دربار میں آئے تو انہوں نے اس سے یہ مطالبہ کیا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ اس نے انکار کردیا۔ تو اللہ نے ان پر طوفان بھیجا ، یعنی سخت بارش ہوئی۔ جب یہ بارش طویل عرصے تک برستی رہی تو یہ لوگ ڈر گئے کہ شاید یہ کوئی عذاب نہ ہو ، اہل فرعون نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ اپنے خدا کے سامنے سوال کریں کہ وہ اس بارش کو بند کردے۔ اگر یہ بند ہوجائے تو ہم تم پر ایمان لائیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ سے دعا کی لیکن وہ ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ تو اس سال ان کے ہاں فصلیں ، پھل اور چارہ اس قدر ہوا کہ اس سے قبل نہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تو ہماری تمنا تھی۔ تو اللہ نے ان پر ٹڈی دل بھیج دیے۔ ٹڈی دلوں نے گھاس کو صاف کردیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ٹڈی دل نے گھاس کو چاٹ لیا ہے تو اب ظاہر ہے کہ یہ فصل کو بھی نہ چھوڑے گی۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ رب تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ ہمیں اس بلا سے نجات ملے۔ اگر نجات مل گئی تو ہم ایمان بھی لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے ٹڈی دل کو بھی ختم کردیا اور یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے فصل کاتی اور گھروں میں ڈال دی اور کہا اب تو ہم نے فصل گھروں تک پہنچا دی ہے۔ اس پر اللہ نے ان پر سرسریاں پھیلا دیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص دس پیمانے دانے لے کر پن چکی پر جاتا اور جب آتا واپس ہوتا تو وہ صرف تین پیمانے ہوتا۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ اے موسیٰ اللہ سے سوال کریں کہ اگر وہ سرسریوں کو دفع کردیں تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ حضرت نے دعا کی اور ان سے یہ عذاب بھی دور ہوگیا۔ اب بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجنے سے انکار کردیا۔ یوں ہوا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے مینڈک کی آواز سنی۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا " تم اور تمہاری قوم کو اس سے تکلیف پہنچنے والی ہے "۔ فرعون نے کہا کہ یہ مینڈک کیا سازش کرسکتے ہیں ؟ شام ہونے سے پہلے اس قدر مینڈک امنڈ آئے کہ جب کوئی بات کرتا تو منہ میں مینڈک سے گر جاتا ہے۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ اللہ ہم سے اس عذاب کو دور کرے۔ ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ لیکن اہل فرعون نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا۔ اب اللہ نے ان پر خون بھیج دیا۔ اب ان کی نہروں میں ، کنوؤں میں ، برتنوں میں تازہ بہ تازہ خون تھا۔ لوگوں نے فرعون کے پاس شکایت کی کہ اب تو آزمائش کی حد ہوگئی ہے ، ہمارے پینے کے لیے بھی پانی نہیں رہا تو فرعون نے کہا کہ درحقیقت موسیٰ نے جادو کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر سحر کہاں سے ہوا ، ہمارے برتنوں میں جو پانی تھا وہ بھی تازہ خون ہے۔ اب پھر وہ حضرت موسیٰ کے پاس آئے کہا اے موسیٰ اپنے رب کو پکارو ، اگر یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے تو ہم ضرورت تم پر ایمان لائیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ کو پکارا ، اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ انہوں نے پھر بھی یہی کیا کہ نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا "۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا واقعات ہوئے ، بہرحال اس حدیث میں جو واقعات ذکر ہوئے وہ قرآن سے متضاد نہیں ہیں۔ یہ عذاب اللہ نے بیشک ان پر نازل کیے تاکہ ان کو آزمائے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کی روش ایسی ہی ہوتی ہے بار بار آزماتا ہے تاکہ وہ مان جائیں۔ فرعون کی قوم ، اپنی بت پرستی اور جاہلیت کے باوجود اور فرعون کی جانب سے ان پر ظلم و تشدد اور ان کی ذلت و خواری کے باوجود ، حضرت موسیٰ کے دامن میں پناہ لیتی تھی کہ وہ اپنے رب سے سوال کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ دعا قبول کرے گا اور آپ یہ دعا کریں کہ ان سے یہ مصیبت دور ہو۔ اگرچہ ، مصر کے حکام وعدہ خلافی کرتے اور ایمان نہ لاتے کیونکہ اس وقت کا نظام حکومت اس نظریہ پہ قائم تھا کہ فرعون ان کا رب اور حاکم ہے۔ یہ لوگ فرعون کی جگہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کے قیام سے خوف کھاتے تھے۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ فرعون کا نظام حکومت ختم ہوجائے اور ملک کے اندر صرف اللہ کی حاکمیت قائم ہوجائے۔ رہے وہ لوگ جو جاہلیت جدیدہ کے داعی ہیں تو اللہ تعالیٰ بار بار ان کے رزق پر آفات و بلیات نازل کرتا ہے لیکن وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔ اور جب زمیندار اور اہل دیہات اس بات کو محسوس کریں اور اللہ کے سامنے دس بدعا ہوں جس طرح کافروں کے تحت الشعور میں بھی اللہ کی جانب رجوع کا داعیہ ہوتا ہے تو آج کل کے جاہلیت زدہ اور اپنے آپ کو سائنٹیفک کہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خرافات میں یقین رکھنا ہے اور جہالت ہے اور یہ کام اہل جاہلیت جدیدہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان لوگوں کی یہ حرکت قدیم بت پرستوں سے زیادہ بری ہے۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے

اب اللہ کی سنت کے مطابق قدرتی انجام سامنے آتا ہے۔ ان لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرکے بھی آزمایا گیا ، انہیں فراوانی دے کر بھی آزمایا گیا لیکن وہ باز نہ آئے۔ اب وہ واقعہ پیش آتا ہے جو یقین بنا۔ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین ہلاک ہوتے ہیں۔ اب ان کی مہلت ختم ہے اور جس انجام تک انہوں نے پہنچنا تھا ، وہ قریب آگیا ہے۔ اور ضعفاء اور صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا جو عہد ہوتا ہے اس کا وقت بھی آپہنچا ہے لہذا سر کشوں اور جابروں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے " یہاں سیاق کلام میں فرعون کی غرق یابی کے واقعہ کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور اس کی وہ تفصیلات نہیں دی گئیں جو دوسرے مقامات میں دی گئی ہیں۔ اس لیے کہ یہاں مضمون صرف یہ ہے کہ اللہ سرکشوں کو مہلت کے بعد پکڑتا ہے۔ لہذا اس موضوع کو قصوں کی تفصیلات کی ضرورت نہیں تھی اور ایسے موقعے میں محض اشارات زیادہ اثر انگیز ہوتے ہیں اور احساس پر ایسے واقعات کا زیادہ اچھا اثر ہوتا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ ۔ " تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا " ایک ہی وار میں ان کا کام تمام کردیا۔ وہ سرکش ، دست دراز اور متکبر تھے۔ اللہ نے انہیں سمندر کی تہہ میں ڈال کر یہ دکھایا کہ تم اب پستیوں سے بھی پست ہو۔ اور یہ تمہارے لیے مناسب جزا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے بانہم کذبو بایتنا وکانو عنہا غافلین کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے "
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے "

اس فیصلہ کن انداز کی مناسبت سے تصویر کا دوسرا رخ بھی اختصار کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں دے دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی دوسرا جابر آگیا بلکہ مستضعفین نے ملک میں اپنا اقتدار قائم کردیا یعنی بنی اسرائیل حکمران بن گئے۔ اس لیے کہ اس وقت وہ اصلاح کے معیار پر پورے اترے تھے۔ لیکن اس کے بعد جلد ہی وہ بگڑ گئے۔ اور اللہ نے ان پر ذلت اور جلا وطنی مسلط کردی۔ بنی اسرائیل کا یہ استخلاف مصر میں نہ تھا کہ وہ فرعون کے تخت پر بیٹھ گئے ، ان کا نظام حکومت شام میں برپا ہوا اور فرعون کی غرقابی کے بعد کئی سال کے بعد۔ اس وقت حضرت موسیٰ فوت ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل تیہ کے صحرا میں چالیس سال خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرچکے تھے جیسا کہ قرآن نے دوسرے مقامات پر دیا ہے۔ یہاں قصے کے بیان میں ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے اور فرعون کی غرقابی کے بعد جلد ہی ، موقعہ و موضوع کی مناسبت سے بنی اسرائیل کے اقتدار کے قیام کا ذکر کردیا گیا۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے " یعرشون کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تعمیرات کرتے تھے ، اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ انگوروں کی بیلیں اپنی چھتوں پر چڑھاتے تھے۔ ہم انسان صرف زمان و مکان کے حدود کے اندر ہی سوچ سکتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ واقعہ فلاں کے بعد یا اس سے پہلے ہوا کیونکہ ہم واقعات کو وقوع اور مرور کے بعد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا عروج اور ان کا اقتدار فرعون کی غرقابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن اللہ علیم وخبیر اور ماکان و ما یکون اس کے سامنے کھلے صفحات میں ہے۔ علم الٰہی مکان و زمان سے وراء ہے۔ اس کا عالم مثال بھی بلند ہے اور عالم علم تو اس کے عالم مثال تک بھی ایسا نہیں ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، ایک طرف ہلاکت و بربادی کے مناظر تھے ، دوسری جانب ضعفاء مسند اقتدار پر براجمان ہورہے تھے۔ ایک سرکش اور متکبر اور گردن فراز سمندر میں سرنگوں تھے۔ ان سے وہ تمام برتریاں ، تعمیرات اور سہولیات حیات چھوٹ گئیں۔ تمام باغ و راغ نظروں سے اوجھل ہوگئے ، چشم زدن میں سب کچھ ان کی نظروں میں نابود تھا ، اور اس منظر کشی میں قرآن نے چند الفاظ استعمال کیے اور اسے آڈیو کردیا۔ یہ مثال اللہ تعالیٰ مکہ کی ایک قلیل جماعت کے سامنے رکھتے ہیں۔ اہل شرک ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں ، شہر بدر کر رہے ہیں۔ چناچہ ان کے لیے شمع امید روشن کی جا رہی ہے۔ آج دنیا میں جہاں جہاں بھی لوگ اسلامی انقلاب کے لیے کام کر رہے ہیں ان کے لیے یہ شمع امید ہے۔ آج جو عواقب وہ جھیل رہے اور دار و رسن کو چوم رہے ہیں تو یقیناً اللہ اس دنیا کے مشرق و مغرب کو ان کے اقتدار میں دینے والا ہے کیونکہ انہوں نے صبر کیا مگر انعام کے طور پر نہیں آزمائش کے طور پر کہ دیکھا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟