7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ اس طرح ہم اپنی نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے شکر گزار ہونے والے ہیں۔

آیت ” نمبر 58۔ اچھے دل کو قرآن وسنت میں زرخیز مٹی اور صالح زمین سے مشابہت دی جاتی ہے ‘ اور برے دلوں کو بیکار مٹی اور بنجر زمین سے۔ اس لئے اچھی زمین میں اچھی فصل پیدا ہوتی ہے اور وہ پھل پھول لاتی ہے اور اسی طرح اچھے دل میں صالح خیالات اور اچھے تصورات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ ایک پاکیزہ شعور و تصورات کا مسکن ہوتا ہے ۔ اس کے اندر انسانی رجحانات میلانات اور ادارے اور عزائم جاگزیں ہوتے ہیں جو بعد میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں بعینہ اس طرح جس طرح زمین سے ہر قسم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے اور مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں کے پھل نمودار ہوتے ہیں۔ آیت ” وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِیْ خَبُثَ لاَ یَخْرُجُ إِلاَّ نَکِداً “۔ (7 : 58) ” جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ “ اچھی زمین وہ ہوتی ہے جو نرم اور آسان ہوتی ہے اور جو بری ہوتی ہے وہ اذیت دہ ‘ سخت مشقت خیز اور تنگ ہوتی ہے ۔ ایک اچھے دل پر ہدایت ‘ نصیحت اور یاد دہائی کی بارش نازل ہوتی ہے ‘ جس طرح اچھی زمین پر بادلوں سے بارش برستی ہے ۔ اگر دل پاکیزہ ہو ‘ ایک اچھی اور زرخیز زمین کی طرح تو وہ کھل جاتا ہے ۔ وہ ہدایت اور نصیحت کو قبول کرتا ہے اور مزید پاکیزہ ہو کر کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اگر دل فاسد ہو ‘ جس طرح خبیث اور بنجر زمین ہوتی ہے تو اس دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں ‘ وہ سخت ہوجاتا ہے اور شروفساد کی راہ لیتا ہے ۔ یقین کے بجائے اس دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں جس طرح بنجز زمین میں جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں۔ آیت ” کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ (58) ” اس طرح ہم اپنی نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے شکر گزار ہونے والے ہیں۔ “ شکر کا پودار پاکیزہ دل ہی میں اگ سکتا ہے ‘ اور اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ دل پر نصیحت کا اثر ہوگیا ہے اور وہ قبولیت کی راہ لے رہا ہے ۔ ایسے دل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور دلائل بار بار ور مختلف انداز میں بیان کرتا ہے ۔ کیونکہ صرف ایسے ہی لوگ ان بیانات سے نفع اٹھاتے ہیں اور اپنے شب وروز کو درست کرتے ہیں ۔ شکر الہی ‘ اس سورة کا خاص مضمون ہے ۔ اس سورة میں انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا خصوصا ذکر ہوا ہے اس سے پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور آئندہ بھی اسی سورة کی دوسری خصوصیات یعنی انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا ذکر کریں گے ۔ درس نمبر 77 ایک نظر میں : اس سبق میں ہم قافلہ ایمان کے ہمرکاب ہیں ۔ یہ ہیں اس کے لیڈر اور یہ ہیں اس کے جھنڈے اور یہ ہیں ان کے نشانات رہ ۔ یہ قافلہ اس کرہ ارض کی تاریخ کے طویل میدانوں میں رواں دواں ہے ۔ اور پوری انسانیت کے ساتھ ہمکلام ہے۔ اس طویل سفر میں انسانیت جب بھی بےراہ روی اختیار کرتی ہے ‘ یہ قافلہ اہل حق اس کی راہ روکتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ انسانیت راہ مستقیم سے اس وقت ہٹ جاتی ہے کہ جب اس پر شیطانی خواہشات کا غلبہ ہوجائے ۔ شیطان ہر وقت اس تاک میں لگا رہتا ہے کہ انسانیت کو بدراہ کرکے اپنے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرتا رہے اور انسانیت کے منہ میں شہوات نفسانیہ کی لگام ڈال کر اسے جہنم رسید کر دے ۔ جب شیطان یہ اسکیم شروع کرتا ہے پیغمبروں کا قافلہ ایمان نمودار ہوجاتا ہے پیغمبر اور ان کے پیروکار انسانیت کے سامنے روشنی کے مینار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور انسانیت کے لئے جنت کی باد نسیم کے جھونکے کھل جاتے ہیں ۔ یہ پروقار قافلہ جہنم کی گرم لو سے انہیں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ اور شیطان رجیم کے وسوسوں سے اسے نجات دیتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا ازلی دشمن ہے ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت منظر ہے ۔ ایک طویل شاہراہ حیات پر حق و باطل کی گھمسان کی جنگ جاری ہے حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ نہایت ہی پیچیدہ انداز می گزر رہی ہے ‘ اس لئے کہ انسان تو تاریخ بناتا ہے جو بذات خود ایک پیچیدہ مخلوق ہے ۔ یہ دو عناصر سے بنا ہے ایک تو وہ خاکی مادہ ہے جس سے اس کا خمیر تیار ہوا اور دوسرا عنصر وہ روح ہے جو اس جسد خاکی کے اندر پھونکی گئی اور اس نفخ روح کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ۔ اس طرح دو متضاد عناصر کا یہ اتحاد ازواج اللہ کے دست قدرت کے ذریعے تکمیل کو پہنچا ۔ اس لئے حضرت انسان تاریخ میں بڑی پیچیدگی سے آگے بڑھتا ہے ۔ اس کی ذات اور اس کے اعمال ونظریات بھی پیچیدہ ہیں۔ انسان اپنی اس مخصوص طبیعت اور مزاج کے ساتھ اس وسیع کائنات اور اس کے آفاق کے تعلق کا ایک خاص زاویہ رکھتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے قصہ آدم وابلیس میں دے دی ہیں ۔ یہ ایک طرح حقیقت الہیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اللہ کی تقدیر ‘ اس کی مشیت ‘ اللہ کی قدرت اس کی طاقت اور اس کے رحم وکرم کا موضوع بنتا ہے ۔ وہ عالم بالا اور ملائکہ کے ساتھ بھی مربوط ہے ۔ پھر وہ ابلیس اور شیطان اعظم کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے وہ اس قابل مشاہدہ کائنات اور اس کے قوانین فطرت کے ساتھ بھی ملحق ہے ۔ وہ اس کرہ ارض کی تمام چیزوں کے ساتھ بھی طرز عمل اختیار کرتا ہے اور دوسرے ہم جنس انسانوں کے ساتھ بھی اس کے روابط قائم ہوتے ہیں اور یوں وہ اپنی اس طبیعت کے ساتھ پورے عالم مشہود کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے ۔ اس کائنات کی ہم آہنگ قوتوں کے ساتھ بھی اس کا واسطہ ہے اور اسکی مخالف اور متضاد قوتوں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ ہے ۔ غرض تاریخ کے اس باہم متلاطم اور پیچیدہ سمندر میں انسانی تاریخ دنیا کا سفر طے کرتی ہے ۔ کبھی اس کی ذات قوی نظر آتی ہے اور کبھی گم کردہ راہ کبھی وہ متقی اور ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور کبھی ضعیف ہوتا ہے کبھی وہ عالم غیب سے جڑ جاتا ہے ۔ اور کبھی عالم مشاہدہ میں ہی گم رہتا ہے ۔ کبھی وہ عالم مادیات میں سرگرم رہتا ہے اور کبھی عالم روح اور دل کی دنیا میں پھرتا ہے لیکن آخر کار وہ اللہ کی تقدیر کے سامنے بےبس نظر آتا ہے ۔ یہ سب رنگ اس کی تاریخ میں نظر آتے ہیں ۔ لہذا انسانی تاریخ کی تشریح صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ اس کے یہ متضاد عناصر ترکیبی پیش نظر رہیں۔ آج کل بعض لوگ انسانی تاریخ کی تشریح محض اقتصادی زاویہ سے کرتے ہیں ۔ بعض اس کی تاریخ محض سیاسی زاویہ سے لکھتے ہیں ‘ بعض لوگ اس کی تاریخ بیالوجی اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے لکھتے ہیں ۔ بعض لوگ محض روح اور بعض دوسرے محض نفس اور بعض دوسرے محض عقل کے اعتبار سے تاریخ لکھتے ہیں ۔ جو لوگ انسان کا مطالعہ نہایت ہی سطحی ہوتا ہے حالانکہ انسان کا ہمہ گیر مطالعہ ضروری ہے ۔ اسی طرح اس کی تاریخ کی تشریح بھی ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہونا چاہئے ۔ انسانیت کی تاریخ کی اسلامی تشریح ہی وہ ہمہ جہت تشریح ہے جس کا مؤرخ انسانیت کے وسیع سمندر میں گہرائی تک غوطے لگاتا ہے اور ہر حقیقت نکال لاتا ہے ۔ اسلامی مؤرخ اس ہمہ گیر اور گہرے مطالعے کے بعد اس کے واقعات پر نظر ڈالتا ہے ۔ (دیکھئے اسلامی تصور حیات کے بنیادی عناصر کی فصل حقیقت انسان) ۔ یہاں ہم اب ایک عظیم تاریخی سمندر کے سامنے کھڑے ہیں ۔ اس سے قبل ہم تخلیق انسانیت کے مناظر دیکھ چکے ہیں ۔ اس منظر میں تمام جہانوں کا اکٹھ تھا ۔ وہ تمام مخلوقات جمع تھی جس کے ساتھ انسان کا واسطہ پڑنامقرر تھا ۔ تمام آفاق اور تمام مخلوق وعناصر ظاہر تھے یا خفیہ ‘ سب کے ساتھ حاضر مجلس تھے ۔ اس محفل میں پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ اس نئی مخلوق کی صلاحیت کیا ہے اور اس کی اساسی خصوصیات کیا ہیں ۔ عالم بالا کی یہ مجلس اس کے اعزاز میں منعقد ہوئی ہے اور اس میں اسے آخری اعزاز ملا یعنی ملائکہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسے سجدہ کریں ۔ اس وقت اللہ نے اعلان کیا کہ یہ ہے جدید مخلوق ۔ پھر ہم نے اس منظر کی ایک دوسری جھلک بھی دیکھی جس میں اس کی کمزوری سامنے آئی اور وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گیا ۔ پھر کیا ہوا ؟ وہ جو ہونا تھا کہ اسے زمین پر اتار دیا گیا اور آزاد چھوڑ دیا گیا کہ وہ اس کرہ ارض کے تمام عناصر کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت متعین کرے ۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت انسان اس کرہ ارض پر بطور مومن اتر رہا ہے ۔ وہ اپنی کوتاہی اور لغزش پر اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہے اس سے عہد لیا جاتا ہے کہ وہ فرائض خلافت فی الارض پورے کرے گا اور اللہ کی جانب سے جو احکام آئیں گے ان کی پیروی کرے گا ۔ شیطان یا نفسانی خواہشات کے تابع نہ ہوگا اور اس سلسلے میں اسے جنت سے نکلنے کا جو تجربہ ہوا اسے زاد راہ بنائے گا ۔ اب صدیاں گزر گئی ہیں اور تاریخ کے ناپیدا کنار سمندر کی متلاطم امواج کے تھپیڑوں نے اسے اچھا خاصا تجربہ کار بنا دیا ہے ۔ اس پوری کائنات اس کے ماحول اور اس میں باہم برسرپیکار متضاد عوامل میں رہتے ہوئے اسے ایک عرصہ گزر گیا ہے ۔ وہ اپنے ضمیر اور اپنے میلانات کے ساتھ بھی کشمکش میں رہا ہے ۔ چناچہ اس سبق میں حضرت انسان کی طویل تاریخ کی بعض جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں کہ وہ کس طرح اس کرہ ارض کے متضاد میلانات کی کشاکش میں زندگی بسر کرتا رہا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھول جاتا ہے ۔ بارہا وہ اپنا سبق بھول گیا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے بارہا کمزوریاں سرزد ہوتی رہیں اور ہوئیں ۔ شیطان اس پر غالب آجاتا ہے اور بارہا ایسا ہوتا ہے ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ بار بار اس کی راہنمائی کی جائے اور اسے مصیبتوں سے نجات دلائی جائے ۔ جب وہ اس کرہ ارض پر اتارا تو وہ توبہ کرچکا تھا ‘ ہدایت یافتہ تھا اور عقیدہ توحید پر قائم تھا لیکن اگلے ہی منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ پھر گمراہ ہوگیا ہے ‘ مشرک بن گیا ہے اور اللہ پر افتراء باندھ رہا ہے ۔ لیکن تاریخی امواج کے اس تلاطم میں اس کے لئے ایک نشان راہ اور ارادہ رسالت کا انتظام کردیا گیا ہے ۔ اسے بار بار اپنے رب کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور یہ اللہ کا عظیم رحم وکرم ہے کہ اس نے اسے بےسہارا نہیں چھوڑا ۔ اس سورة میں ہم قافلہ ایمان کے طویل سفر کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔ اس قافلے کی ہدایت کے لئے انبیاء ورسل نے ہدایت کے جھنڈے بلند کر رکھے ہیں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ہود (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ حضرت شعیب (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت محمد ﷺ انسان کی ہدایت کے لئے تشریف لائے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حضرات اللہ کی ہدایات کے مطابق ہاتھ پکڑ پکڑ کر انسان کو اس راہ سے روکتے ہیں جس راہ پر چلا کر شیطان انہیں وارد جہنم کرنا چاہتا ہے ۔ شیطان کے ساتھ اس کے مددگار بھی اس کام میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ مستکبرین ہیں جو ہر زمانے میں اپنے آپ کو حق سے بالا سمجھتے رہے ہیں۔ پھر ہم ہدایت وضلالت کے درمیان جو مسلسل کشمکش برپا ہے ‘ اس کی جھلکیاں بھی ان مناظر میں دیکھتے ہیں۔ ایک طرف حق ہے اور دوسری جانب باطل ‘ حق کے لیڈر انبیاء رسل ہیں اور باطل کے لیڈر شیاطین جن وانس ہیں ۔ اس سفر کے آخری مرحلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جھٹلانے والے کس طرح مار کھاتے ہیں ‘ ان کے لاشے ہر طرف بکھرے نظر آتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اہل ایمان کامیاب اور پر مسرت ہیں۔ یادہانی اور تذکیر کا یہ ایک طویل سلسلہ ہے جو اس سبق میں نظر آتا ہے ۔ قرآن میں قصص کا بیان لازما تاریخی ترتیب کے مطابق نہیں ہوتا ‘ لیکن اس سورة میں قصص کی تاریخی ترتیب کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے ‘ اس لئے کہ اس سورة میں انسانیت کے طویل سفر کو بھی پیش نظر رکھنا مطلوب ہے ۔ یہ بھی مطلوب ہے کہ نظر آئے کہ کس طرح اس طویل انسانی سفر میں انبیاء ورسل بار بار انسان کو ہدایت فراہم کرتے ہیں ۔ جب بھی وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے یہ لوگ اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں ۔ جب بھی شیطان نے انسانیت کی قیادت سنبھالی ہے اور اسے جہنم کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ہے انبیاء ورسل نے اسے روکنے کی سعی کی ہے ۔ اس سبق میں جو نشانانت راہ دکھائے گئے ہیں ان کا خلاصہ ہم یوں پیش کرتے ہیں : یہ کہ انسانیت کا آغاز ایک مومن ہدایت یافتہ اور عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والے انسان کے ساتھ ہوا ۔ بعد کے ادوار میں انسان بھٹک کر مشرکانہ عقائد کا حامل بن گیا ۔ انسان کے بھٹکنے کا سبب وہ عوامل اور رجحانات ومیلانات بنے جو اسن کی ذات کے اندر اللہ نے ودیعت کئے تھے یا وہ عناصر اور اسباب اس کی گمراہی کا سبب بنے جو اس جہان میں پنہاں تھے ۔ جب بھی انسان گمراہی میں مبتلا ہوا ایک رسول دنیا کی اسٹیج پر نمودار ہوا اور وہ وہی دعوت اس کے سامنے پیش کرنے لگا جس کا یہ گمراہ انسان اپنی گمراہی سے قبل ماننے والا اور اس کا حامل تھا ۔ رسول کی دعوت آنے کے بعد لوگ ہمیشہ دو گرہوں میں بٹ گئے ۔ ایک گروہ نے ہلاکت کی راہ لی اور دوسرا گروہ از سرنو زندہ ہوگیا ۔ زندہ وہ لوگ ہوئے جو راہ ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور انہوں نے جان لیا کہ ان کا الہ الہ واحدہ ہے اور وہ پوری طرح اس الہ وحد کے سامنے سرتسلیم خم کرنے لگے ۔ انہوں نے اس رسول کی پکار کو سنا جو انہیں کہہ رہا تھا ” اے میری قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی اور حاکم نہیں ہے ۔ “ پس یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر اللہ کا پورا دین قائم ہے اور انسان کی طویل تاریخ میں تمام رسولوں نے صرف اسی عقیدے کی طرف دعوت دی ہے ۔ جو رسول بھی آیا اس نے قوم کے سامنے یہی کلمہ پیش کیا ۔ ایسے حالات میں جب اس کی قوم کو شیطان نے گمراہی کے جال میں پھنسا لیا تھا ۔ وہ اصل عقیدے کو بھول گئے تھے اور گمراہ ہوچکے تھے ۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ بیشمار شریک ٹھہرائے ہوئے تھے ۔ مختلف جاہلیتوں کے اندر یہ شریک مختلف نوعیت کے تھے ۔ ان بت پرستیوں کی اساس پر انسانی تاریخ میں حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی قائم رہی ہے اور اسی معرکہ آرائی کی اساس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ جھٹلانے والوں کو پکڑا اور ایمان لانے والوں کو نجات دی ہے ۔ قرآن کریم نے ان دعوتوں کو ایک ہی جیسے الفاظ میں منضبط کیا ہے حالانکہ انبیاء مختلف زبانوں میں دعوت دیتے چلے آئے تھے ۔ انہوں نے مختلف ادوار اور مختلف زبانوں میں جو دعوت دی ‘ قرآن نے اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے ۔ ” اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارا اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ۔ “ اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی ایک ہی رہی ہے بلکہ اسے ایک جیسے الفاظ ہی میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ عبارت اور یہ الفاظ اس عقیدے کو پوری طرح اور جامع ومانع انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ جس طرح سیاق کلام سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک کے بعد ایک رسول اسٹیج پر آتا ہے اور وہی الفاظ دہراتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے اسلامی نظریہ حیات کے بیان کے لئے کیا منہاج اسٹیج پر آتا ہے اور وہی الفاظ دہراتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے اسلامی نظریہ حیات کے بیان کے لئے کیا منہاج اختیار کیا ہے ؟ اس بات سے یہ حقیقت خود بخود سامنے آجاتی ہے کہ جدید دور میں ادیان کا تقابلی مطالعہ کرنے والے مفکرین اور قرآن کے منہاج کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ قرآنی منہاج یہ ہے کہ رسول جو عقائد لے کر آئے ان کے اندر کوئی ترقی یا تغیر وتبدیلی نہیں ہونی ہے نہ ان عقائد کے اندر غور وفکر کے کوئی ابتدائی یا انتہائی مدارج رہے ہیں ۔ جو لوگ ادیان کے بنیادی عقائد کی ارتقائی اور تدریجی ارتقائی سوچ بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسلامی نظریات کو بھی رتقانی شکل میں پڑھتے ہیں اور ایسی بات کرتے ہیں جو اللہ نے قرآن کے اندر نہیں کی ہے ۔ جس طرح قرآن کریم واضح طور پر اظہار کرتا ہے کہ انبیاء نے ہمیشہ ایک ہی دعوت دی ہے ۔ قرآن اس دعوت کو ایک ہی عبارت میں بیان کرتا ہے یعنی ” اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی اور حاکم نہیں ہے ۔ “ آیت ” ِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 59) اور یہ الہ جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ‘ وہ رب العالمین ہے اور لوگوں سے ایک عظیم دن حساب و کتاب لے گا ۔ رسولوں میں سے کوئی ایک رسول بھی ایسا نہیں گزرا جس نے لوگوں کو اپنے قبیلے کی طرف دعوت دی ہو ‘ یا کسی قوم یا کسی نسل کے رب کی طرف لوگوں کو بلایا ہو ۔ نہ رسولوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا گزرا ہے جس نے دو الہوں کی طرف دعوت دی ہو یا متعدد الہوں کا پرچار کیا ۔ رسولوں میں سے کسی رسول نے بھی سورج ‘ چاند ‘ ستاروں ‘ ارواح یا بتوں کی پوجا اور غلامی کی طرف نہیں بلایا ۔ اسی طرح اللہ کی جانب سے کوئی ایسا نظام وضع نہیں ہوا جس میں آخرت کا تصور نہ ہو جس طرح بعض وہ لوگ کہتے ہیں جو اپنے آپ کو ماہرین ادیان کہتے ہیں اور جو دنیا کی مختلف جاہلیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ جن نتائج تک پہنچے ہیں وہی اس دنیا کے معروف ادیان تھے اور اس کے علاوہ کوئی اور دین ان ادوار میں نہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر پے درپے رسول آتے رہے اور انہوں نے صرف اور صرف عقیدہ توحید اور خالص توحید کا عقیدہ پیش کیا ۔ انہوں نے یہ نظریہ دیا کہ صر اللہ رب العالمین ہے ‘ اور وہ لازما قیامت کے دن سب سے حساب لے گا ۔ لیکن ہر رسالت کے خاتمے کے بعد جاہلیت دوبارہ دنیا پر چھا گئی اور اس کے چھانے کے اسباب کچھ تو انسانوں کے اندر تھے اور کچھ وہ عوامل ودواعی تھے جو انسان کو فراہم کردہ ماحول میں نہایت ہی پیچیدہ شکل میں موجود تھے ۔ یہ انحرافات مختلف تصورات و عقائد کی صورت میں سامنے آئے اور آج کل کے ماہرین ادیان درحقیقت اصل دین کو چھوڑ کر ان ہی منحرف ادیان کا مطالعہ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انکے اخذ کردہ خطوط پر دنیا میں دین اور مذہب نے بتدریج ارتقائی سفر کے ذریعے موجودہ شکل اختیار کی ہے ۔ بہرحال اللہ کا فرمان زیادہ قابل تقلید ہے ‘ خصوصا ان لوگوں کے لئے جو دین کے موضوع پر لکھتے ہیں جو اسلام کے حق میں کہتے ہیں اور اس کی جانب سے دفاع کرتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو سرے سے قرآن پر ایمان ہی نہیں لاتے تو ہم ان سے مخاطب ہی نہیں ہیں ‘ اللہ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ تمام رسول جب بھی وہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی قوم کو دعوت دی ہے ۔ انہوں نے قوم میں دعوت اسلامی کا کام اس وقت شروع کیا ہے جب قوم صراط مستقیم اور اس عقیدے سے منحرف ہوگئی جس پر سابقہ رسول نے انہیں چھوڑا تھا ۔ چناچہ پہلے انسان اہل توحید تھے اور وہ رب العالمین کو تسلیم کرتے تھے ۔ ان کا عقیدہ وہی تھا جو آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کا تھا ۔ اس کے بعد مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اور ان اسباب کی وجہ سے جن کا تذکرہ ہم نے کیا وہ اس عقیدے سے منحرف ہوگئے ۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) تشریف لائے ۔ انہوں نے لوگوں کو دوبارہ رب العالمین کے عقیدہ توحید پر قائم ہونے کی دعوت دی ۔ ان کی دعوت کے اختتام پر ایک عظیم طوفان آیا اہل ایمان نے نجات پائی اہل تکذیب کو طوفان میں غرق کردیا گیا ۔ اس کرہ ارض پر اہل توحید نے قبضہ کیا اور اسے آباد کردیا ۔ دنیا کی اس تعمیر نو کی تعلیم ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے واسطے سے دی تھی ۔ جب مزید وقت گزرا تو یہ لوگ پھر گمراہ ہوگئے اور اس کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) تشریف لائے اور انکی دعوت کے اختتام پر انہیں ایک سخت ہوائی طوفان نے آلیا یوں یہ قصہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا اور تاریخ کا سفر جاری رہا ۔ ان رسولوں میں سے ہر رسول اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا ۔ اس نے یوں خطاب کیا ” اے برادران قوم ‘ صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ “ اور ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا آیت ” انا لکم ناصح امین “۔ میں تمہارے لئے ناصح امین ہوں ۔ “ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کو اپنی عظیم ذمہ داریوں کا کس قدر شدید احساس تھا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ جس صورت حالات میں پھنسے ہوئے ہیں دنیا اور آخرت میں اس کا انجام کس قدر برا ہونے والا ہے ۔ رسولوں کے دلوں میں شدید خواہش تھی کہ ان کی قوم ہدایت پائے اس لئے کہ وہ قوم میں سے تھے اور قوم ان سے تھی مگر اس وقت قوم کے سرداروں نے ان کی راہ روکی اور حکم حق کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اللہ رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کردیا ۔ ان سرداروں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ نظام زندگی صرف اللہ کا جاری ہو اور اس نظام میں صرف اللہ کی بندگی ہو ۔ یہی وہ اساس ہے جس کے اوپر تمام رسالتوں کا مدار رہا اور اسی کے اوپر اللہ کے ہاں سے تمام ادیان استوار ہوئے ۔ لیکن رسولوں نے تمام طاغوتی طاقتوں اور تمام سرداروں کے منہ پر کلمہ حق نہایت ہی وضاحت اور صاف گوئی کے ساتھ بلند کیا اور ہر بار انکی قوم دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوئی ۔ لوگوں کے درمیان قومیت اور رشتہ داری کے روابط کٹ گئے اور ان کی جگہ ایک نظریہ کی اساس پر اخوت استوار ہوگئی ۔ جو لوگ ایک قوم کے افراد تھے وہ دو امتوں کی شکل اختیار کرگئے اور یوں نظر آنے لگے کہ ان کے درمیان نہ تو کوئی قرابت ہے اور نہ ہی متحدہ قومیت کا کوئی تعلق ہے ۔ اس کشمکش کے بعد فتح آتی ہے اور اس کے ذریعے دونوں امتوں کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ امت ہدایت اور امت ضلالت کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اب جھٹلانے والے مستکبرین اور سردار پکڑے جاتے ہیں اور مطیع فرمان اور سرتسلیم خم کرنے والے نجات پاتے ہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی قوم نظریاتی اعتبار سے بٹی نہ ہو اور اللہ کی جانب سے فتح آگئی ہو ۔ ہمیشہ یہی ہوا کہ کوئی قوم نظریاتی اعتبار سے بٹ جاتی ہے ۔ اور پھر دونوں میں سے اہل حق فتح پاتے ہیں اہل اللہ ‘ اللہ کی بندگی اور غلامی میں خالص ہوجاتے ہیں ۔ وہ طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں اور خود اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہ وہ مشاہدہ ہے جو دعوت انبیاء کی تاریخ کے مطالعے کے دوران واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ ان تمام رسالتوں میں ایک بات پر فوکس کیا گیا ہے ۔ یہ کہ تمام لوگ رب واحد کی بندگی اور غلامی اختیار کریں اس لئے کہ صرف رب العالمین ہی بندگی کا مستحق ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم بندگی اور اقتدار اعلی کا حق دوسری تمام مخلوق سے لے کر رب العالمین کو دے دیں ۔ انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی اس کے عقیدے کے بغیر اصلاح پذیر نہیں ہوسکتا ۔ تمام رسالتوں کے اس مشترکہ اصول کے بیان کے بعد قرآن کریم نے ان رسالتوں کی دعوت کی تفصیلات نہیں دی ہیں اس لئے کہ تمام رسولوں کے ادیان کی تفصیلات اسی مرکزی اصول پر مبنی تھیں ۔ کوئی بات اس عقیدے سے خارج نہ تھی ۔ یہ اصول چونکہ نہایت ہی اہم اور اساسی تھا اس لئے قرآن کریم نے اس پاس قدر زور دیا ہے کہ اسے علیحدہ بیان کیا ہے ۔ جس طرح ہم نے سورة انعام پر تبصرے میں کہا کہ تمام مکی قرآن کا اصل مبحث ہی یہی ہے لیکن مدنی حصے میں بھی جہاں جہاں موقع آیا ہے اس کی مناسبت سے اس موضوع پر بات ہوئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک ٹھوس حقیقت ہے ایک نظام ہے اور اس حقیقت کو پیش کرنے کے لئے ایک منہاج اور طریقہ کار ہے ۔ اور منہاج اسلام دین اسلام سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہئے کہ وہ عظیم حقیقت کیا ہے جسے یہ دین لے کر دنیا میں آیا ہے ؟ اسی طرح ہمیں دین اسلام کو سمجھنے کے لئے اور اس کے قیام کے لئے وہی منہاج اپنانا چاہئے جس میں اس حقیقت کو پیش کیا گیا ہے ۔ اور اس منہاج کا خلاصہ یہ ہے کہ عقیدہ توحید کو مکرر مؤکد اور منفرد انداز میں پیش کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورة میں اس منہاج کو بار بار مؤکد سے مؤکد الفاظ میں اور نہایت ہی واضح اور سادہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے اور یہ منہاج اس سورة کے تمام قصص میں واضح ہے ۔ اس سورة میں جو قصص بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا مزاج کیا ہوتا ہے اور کفر کا مزاج کیا ہوتا ہے اور نفس انسانی پر دونوں کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ یہاں بتکرار بتایا جاتا ہے کہ جو قلوب ایمان کے لئے مستعد ہوتے ہیں وہ کس قسم کے ہوتے ہیں اور جو دل کفر اور انکار پر آمادہ ہوتے ہیں وہ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ جن لوگوں نے رسولوں کی دعوت کو قبول کیا ان کے دلوں میں کبر و غرور نہ تھا اور وہ رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرتے تھے ۔ ان کو یہ بات انوکھی نہ لگتی تھی کہ اللہ ان میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیج دے جو ان تک اس کا پیغام پہنچائے اور انہیں انجام بد سے خبردار کرے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کسی بھی رسول کو ماننے سے انکار کیا ‘ وہ ہمیشہ اس قسم کے لوگ رہے ہیں جنہوں نے گناہ کی راہ اس لئے اختیار کی کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے اور صاحب مرتبہ لوگ تھے ۔ انہوں نے اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے بجائے خود اپنا اقتدار لوگوں پر مسلط کردیا تھا اور کسی صورت میں بھی اس غاصبانہ اقتدار سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے ۔ نہ اس کے لئے تیار تھے کہ وہ خود اپنے ایک عام آدمی کی سمع و اطاعت کریں ۔ یہی لوگ تھے جن کے لئے قرآن کریم ” ملاء “ کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔ یہ حکام بڑے لوگ صاحب قوت اقتدار لوگ تھے اور یہیں سے اس دین کا اصل راز معلوم ہوتا ہے ۔ یہ راز اللہ کا اقتدار اعلی اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کا مسئلہ ہے ۔ یہ بڑے لوگ رسول کے ان الفاظ کے نتائج کو اچھی طرح سمجھتے تھے ” اے بردران قوم ! صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا اور کوئی حاکم نہیں ہے ۔ “ اور ” میں تو رب العالمین کا فرستادہ ہوں “۔ وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار اور حاکمیت اللہ کی ہوجائے اور اللہ کا رسول یہ شخص ہو تو ظاہر ہے کہ ان کی تمام بڑائی ختم اور ان کے تمام اختیارات از خود اس شخص کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں جو رب العالمین کا نمائندہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دعوت کے لئے سد راہ بن گئے تھے اور نتیجۃ ان لوگوں میں شامل ہوگئے تھے جو ہلاک ہونے والے تھے ۔ یہ لوگ اس اقتدار اعلی کے شیدانی ہوگئے تھے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی انہی کی راہ پر چلتی تھیں اور انہی کی طرح جہنم کی راہ پر پڑگئی تھیں جس کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہ تھا ۔ غرض جھٹلانے والوں کی مقتل گاہوں کے جو نقشے ان قصص میں کھینچے گئے ہیں وہ اللہ رب العالمین کی اس سنت کے مطابق ہیں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کو یکسر بھلا دیتے تھے اور اللہ کی راہ سے انحراف کرلیتے تھے ۔ اللہ کی جانب سے رسولوں کے ذریعے ڈراوا آتا تھا اور وہ اللہ کی بندگی کے اقرار کو اپنے لئے ہتک سمجھتے تھے ۔ وہ اپنی خوشحالی پر فخر کرتے اور مطالبہ کرتے کہ جلدی عذاب لاؤ ۔ اس کے برعکس وہ رسول اور اہل ایمان کو دھمکیاں دیتے اور ایذا پہنچاتے ‘ جس کے مقابلے میں اہل ایمان ثابت قدم رہتے اور اپنے نظریات پر جم جاتے ۔ اس کے بعد پھر عذاب الہی آجاتا ۔ یہ ہے تاریخ انسانیت ۔ سب سے آخری بات یہ ہے کہ باطل کی سرکش قوت کا مزاج ہی یہی ہے کہ وہ سچائی کے وجود ہی کو برداش کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ سچائی اگر باطل کے مقابلے میں گوشہ نشین ہو کر حق و باطل کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دے تو بھی باطل اسے برداشت نہ کرے گا ۔ بلکہ باطل اس کا پیچھا کرے گا اور اسے آخری حدوں تک بھگانے کی سعی کرے گا ۔ اسے شکست دینے کی کوشش کرے گا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا : ” تم میں سے اگر ایک گروہ اس دعوت پر ایمان لایا ہے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا تو تم صبر کرو کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ‘ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ لیکن انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا اور وہ اس بات کو برداشت نہ کرسکے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے سچائی موجود ہو اور وہ پھلے پھولے نہ کوئی باطل یہ برداشت کرسکتا ہے کہ کوئی ایسی جماعت میدان میں موجود رہے جو صرف اللہ کی بندگی کرتی ہو اور تمام طاغوتی طاقتوں کے اقتدار اعلی کی منکر ہو ۔ “ شیعب (علیہ السلام) کی قوم سے ان لوگوں نے جو مستکبرین تھے ‘ انہوں نے یہ کہا ” اے شعیب ہمیں تو تم کو اور ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لے آئے ہیں اپنے اس گاؤں سے نکالنا پڑے گا ۔ یا تمہیں ہمارے نظام وملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی ان کی اس تجویز کو صاف صاف رد کردیتے ہیں ۔ ’ انہوں نے کہا ‘ تب بھی کہ ہم ایسا نہ چاہ رہے ہوں ۔ اگر ہم تمہارے نظام اور ملت میں واپس لوٹ آئیں گے تو ہم تو اللہ پر افتراء پردازی کر رہے ہوں گے جبکہ اس سے اللہ نے ہمیں نجات دے دی ہے ۔ “ یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ اہل دعوت پر طاغوتی طاقتوں کے ساتھ یہ معرکہ آرائی فرض ہے اور انہیں اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ۔ کوئی اٹکل اور کوئی حکمت حاملین دعوت اسلامی کو اس معرکے سے بچا نہیں سکتی اس لئے کہ طاغوتی طاقتیں تب آرام کریں گی جب وہ دعوت اسلامی کو اپنے نظریات سے منحرف کرلیں گی یہ قوتیں تب دم لیں گی جب تک داعیان حق واپس ان کی گمراہ ملت کی طرف لوٹ نہ آئیں گے حالانکہ اللہ نے انکے دل سے یہ منحرف ملی نظریات نکال کر ان کے دل میں صرف اللہ کے اقتدار اعلی کے نظریات بٹھا دیئے ہیں ۔ لہذا ان دونوں قوتوں کے درمیان معرکہ آرائی لابدی ہے اور اس سے نہیں بچا جاسکتا ۔ جب معرکہ لابدی ہے تو پھر اس کی مشکلات کو برداشت کرنا بھی لابدی ہے ۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فتح نصیب نہیں ہوجاتی اور جب تک وہ کشتیاں جلا کر شعیب (علیہ السلام) کا یہ نغمہ نہیں الاپتے ۔ ” ہم نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے ۔ اے اللہ اب تو ہی ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما کیونکہ تو بہترین فیصلے کرنے والا ہے ۔ “ (علی اللہ توکلنا “۔ (7 : 89) اب اللہ کی سنت چلتی ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ چلتی رہی ہے ۔ ان قصص پر یہ تبصرہ کافی ہے ۔ اب آیات قرآن تفصیلات کے ساتھ ۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔

درس نمبر 77 تشریح آیات : 59۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 93۔ انسانی تاریخ میں قافلہ انسانیت کے اس سفر کے بیان سے پہلے ‘ ایسے ہی ایک کائناتی مومن قافلے کا ذکر تھا ‘ جو اس کائنات میں رواں دواں نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں ایسے مومنین کا ذکر جو امر الہی سے ذرا بھی سرتابی نہیں کرتے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ۔ ” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ رب العالمین “۔ قرآن کریم میں بسا اوقات اس حقیقت کو کہ یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے اور یہ حقیقت کہ تمام انسانوں پر اللہ کا امر جاری ہونا چاہئے ایک ساتھ لایا جاتا ہے ۔ یعنی جس طرح وہ کائنات مطیع فرمان ہے جس میں انسان بستے ہیں اسی طرح انہیں بھی اللہ کا مطیع فرمان ہونا چاہئے ۔ تمہارا اسلام اس طرح ہونا چاہئے جس طرح کا اس پوری کائنات کا ہے ۔ اور جس کے قوانین میں وہ جکڑی ہوئی ہے ۔ اس طرح اس پوری کائنات کے مسلم ہونے کے اثرات قلب مومن پر پڑتے ہیں ‘ اسے خوب جھنجوڑتے ہیں اور اسے آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت کے لئے آمادہ ہوجائے اور یہ کہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے اردگرد یہ پھیلی ہوئی کائنات تو اللہ کی مطیع فرمان ہو اور اس کائنات میں وہ اللہ وحدہ کے مقابلے میں سرکشی کرے ۔ غرض رسولوں کی دعوت کوئی ایسی دعوت نہیں ہے جو انوکھی ہو ‘ بلکہ وہ تو اس حقیقت کی طرف بلاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس پوری کائنات کے ضمیر میں رچی بسی ہے اور یہی حقیقت خود انسان کی فطرت کے اندر بھی موجود ہے ۔ جب بھی انسان کی فطرت پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے یہ فطرت ضمیر کے اندر اسے پکارتی ہے اور اس طرح شیطان انسان کو گمراہ کر کے اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس سبق کے تمام قصوں میں مختلف پیرائیوں میں بیان کی گئی ہے ۔ آیت ” نمبر 59 تا 64۔ یہاں اس قصے کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے ‘ جبکہ دوسرے مقامات پر جہاں تفصیلات کی ضرورت تھی اس کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ مثلا سورة ہود اور سورة نوح میں ‘ اس لئے کہ یہاں صرف ان نشانات راہ کی طرف اشارہ کرنا مطلوب تھا جن کے بارے میں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے اور اور اس کے پھیلانے اور دعوت اسلامی کا طریقہ تفہیم کیا ہے اور اس دعوت کے آغاز کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟ اس کے داعی کے جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہاں ہم صرف انہی نشانات رہ کی طرف اشارہ کریں گے جن کے لئے اس قصے کو یہاں لایا گیا ہے ۔ آیت ” لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ “۔ (7 : 59) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ اللہ ہر قوم کی طرف رسول اس کی قوم سے بھیجتے ہیں ۔ وہ ان سے ان کی زبان میں بات کرتا ہے ۔ یہ رعایت اللہ نے ہر قوم کی تالیف قلب کے لئے دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ ان کے پیغام کو سمجھنا آسان ہو اور ان کا باہم تعارف ہو لیکن یہ سہولتیں بھی ان لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں کی فطرت بگڑ نہ چکی ہو ۔ رہے وہ لوگ جن کی فطرت بگڑی ہوئی ہوتی ہے انہیں یہ انتظام بھی عجیب لگتا ہے ۔ وہ دعوت کو قبول نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اس مقام سے اونچا سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور اطاعت کریں ‘ اس لئے وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملائکہ اور فرشتے آکر انہیں تبلیغ کریں ۔ یہ بات محض بہانہ سازی ہے ۔ اگر فرشتے بھی آتے تب بھی یہ لوگ مان کر نہ دیتے ۔ چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا جاتا وہ ماننے والے نہ تھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب رسول بنا کر بھیجا گیا تو انہوں نے دعوت کا آغاز انہی کلمات سے کیا جن کے ساتھ بعد میں آنے والے تمام رسولوں نے کیا ۔ آیت ” فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (8 : 59) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ کلمات آخر تک نہیں بدلتے ۔ یہ وہ اصولی قاعدہ ہے جس کے سوا اسلام متحقق نہیں ہو سکتا ۔ یہ انسانی زندگی کا بنیادی پتھر ہے اور اس کے بغیر انسانیت کی عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی ۔ یہی قاعدہ کلیہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ لوگوں کا نقطہ نظر ایک ہو ‘ ان کے مقاصد ایک ہوں اور ان کے درمیان رابطہ ایک طرح کا ہو ‘ یہی اصول ہے جس کے ذریعے کوئی انسان ہوا وہوس کی غلامی سے آزاد ہو سکتا ہے اور خود اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی آزاد ہو سکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے انسان بےپناہ انسانی خواہشات کو کنٹرول کرسکتا ہے اور انعام وسزا کو منضبط کرسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ اس کا اساسی قاعدہ یہ ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی کے اندر اللہ کی حاکمیت اور بادشاہت کو قائم کیا جائے ۔ یہی ہے مفہوم اس بات کا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور یہی مفہوم ہے اس فقرے کا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (حاکم) نہیں ہے ۔ اللہ کی بادشاہت جس طرح کائنات کی تخلیق میں ہے ‘ اس کی ربوبیت ‘ تدبیر اور تقدیر میں ہے اور جس طرح یہ بادشاہت انسان کی تخلیق ربوبیت اور اس کی تقدیر اس کے عناصر ترکیبی میں ہے اسی طرح یہ بادشاہت انسان کی عملی زندگی میں بھی قائم ہونا چاہیے اور اس کی عملی زندگی کو اللہ کی شریعت کے مطابق استوار ہونا چاہئے ۔ مثلا مراسم عبودیت میں اور زندگی کے تمام دوسرے معاملات میں بطور پیکیج اللہ کی بندگی ہونا چاہئے ۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو پھر انسان شرک کا مرتکب ہوگا اور عملا وہ اس بات کا قائل ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم بھی ہیں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ مختصر بات کی اور انہیں ان کے انجام بد سے ڈرایا ۔ انہوں نے اس طرح نصیحت کی جس طرح ایک مشفق بھائی بھائی کو کرتا ہے ‘ اور جس طرح ایک مشفق سربراہ اپنی قوم اور خاندان کو کرتا ہے کہ اگر تم نے تکذیب کی تو انجام بہت ہی بھیانک ہوگا ۔ آیت ” إِنِّیَ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (59) ” میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ “ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ترین دین دین نوح میں بھی تصور آخرت اپنی مکمل شکل میں موجود ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں یوم الحساب میں تمہارے برے انجام سے کانپ رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اور دینی عقائد کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے اور ان نام نہاد ماہرین ادیان کا کیا تصور ہے جو تاریخ ادیان کو بھی ارتقائی انداز میں مرتب کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قرآنی منہاج سے بیخبر ہیں۔
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا :” ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریحر گمراہی مبتلا ہو ۔

آیت ” قَالَ الْمَلأُ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (60) ” قوم کے سرداروں نے جواب دیا : ” ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ “ یہی بات مشرکین عرب نے حضور ﷺ کے بارے میں کہی تھی ۔ انہ صباء ” یہ کہ آپ بےدین ہوگئے ہیں۔ “ اور آپ نے دین ابراہیم سے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ جب کوئی شخص گمراہی کی حدیں پار کرلیتا ہے تو وہ ان لوگوں کو گمراہ سمجھتا ہے جو اسے راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور جب کسی کی فطرت مسخ ہوجاتی ہے تو وہ بھی خود سری کے اس مقام تک جا پہنچتا ہے ۔ یوں اقدار بدل جاتی ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے ۔ انسان نفسانی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ الا یہ کہ انسان اللہ کی اقدار اور پیمانوں کو نہیں اپنا لیتا اس لئے کہ یہ اقدار اور پیمانے غیر متبدل ہوتے ہیں اور ان کے اندر کبھی انحراف نہیں ہوتا ۔ جو لوگ آج کے دور میں ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ان کو دور جدید کی جاہلیت گمراہ کہتی ہے اور جو محض جاہلیت جدید سے ہدایت اخذ کرے ‘ مغربی تہذیب کے گندے نالے میں گر جائے اور اس کریہہ ماحول میں اتر ائے اسے وہ ہدایت یافتہ اور ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ آج جو عورت اپنے گوشت کو ننگا نہیں کرتی ‘ اپنے جسم کو عریاں نہیں کرتی ‘ اور جو اس پست حالت کو قبول نہیں کرتی اس کے بارے میں جدید جاہلیت کیا کہتی ہے ؟ یہ دنیا جدید دور کی اس پاک وصاف اور صالح عورت کو رجعت پسند کہتی ہے اسے پسماندگی اور دیہاتی پن کا طعنہ دیا جاتا ہے اور جاہلیت جدید نے اپنے پورے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کو اس مقصد کے لئے مصروف کر رکھا ہے کہ وہ ہماری عورت کی اس پاکیزگی نظافت اور سربلندی کو ختم کرکے اسے جنسیت کے اس گندے تالاب میں گرا دے جو نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ جن لوگوں کو ترجیحات کھیل کود سے بلند ہیں ‘ جو فلموں ‘ سینماؤں اور ٹیلی ویژن کے جنون سے سربلند ہیں اور جو لوگ رقص و سرود اور جام وسبو کی فحاشیوں اور عیاشیوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتے ہیں ‘ یہ جاہلیت ان کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟ یہ کہتی ہے کہ یہ لوگ جامد اور کوڑ مغز ہیں ‘ اپنے آپ کو گم ‘ غیر مہذب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ۔ یہ جاہلیت ہر وقت اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس گندگی میں ڈال دے اور لوگ سب کے سب عیاشی اور فحاشی میں زندگی بسر کریں ۔ غرض جاہلیت ہر دور میں جاہلیت ہوتی ہے وہ اشکال وظروف تو بدلتی ہے مگر اس کی ماہیت وہی رہتی ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ گمراہ نہیں ہیں ۔ وہ ان کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کیا ہے اور اس دعوت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہوں نے اپنی سوچ اور فکر سے اس دعوت کو نہیں شروع کیا نہ انکی شروع کیا نہ ان کی یہ ذاتی خواہش ہے ۔ وہ تو رب العالمین کے رسول ہیں اور حامل رسالت ہیں۔ وہ نہایت ہی امانت و دیانت سے اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق نصیحت کرتے ہیں اور وہ جو تعلیمات دیتے ہیں وہ بھی رب العالمین کی طرف سے ہیں ۔ یہ تعلیمات ان کے قلب پر اترتی ہیں اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے جبکہ تم لوگ اللہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتے ۔
Ayahs 7:61–64

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز کرو گے ۔ ؟

آیت ” نمبر 65 تا 74۔ یہ وہی رسالت اور وہی پیغام بری ہے وہی معاملہ اور وہی انجام ہے۔ وہی سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہی قانون الہی ہے جس کے مطابق یہ کائنات قائم ہے ۔ ایک ہی قانون ہے اور ایک ہی ضابطہ ہے ۔ قوم عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے ‘ یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی تعداد تیرہ ‘ ظاہر ہے کہ یہ سب لوگ دین نوح (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور نوح (علیہ السلام) کا دین ‘ دین اسلام تھا ۔ یہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کسی اور کو الہ نہ بناتے تھے ‘ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی رب العالمین ہے ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں یہی تعلیم دی تھی ۔ آیت ” وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) ” میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں “۔ لیکن جب طویل زمانہ گزر گیا اور یہ لوگ زمین کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تو شیطان نے انہیں اچھی طرح گمراہ کردیا اور انہیں اپنی خواہشات اور شہوات کے مطیع بنا دیا اور انسان کی سب سے بڑی خواہش ملکیت اور سازو سامان کی خواہش ہوتی ہے ۔ اور یہ مال و دولت اور سازو سامان وہ شریعت کے قانون کے علی الرغم جمع کرتے ہیں ‘ تو اس وجہ سے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد نے اس دعوت کو بہت ہی نابسندیدہ سمجھا کہ وہ اب صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں ۔ آیت ” وَإِلَی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (65) ” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز کرو گے ۔ “ اور یہ وہی بات ہے جو اس سے قبل حضرت نوح نے کہی تھی ‘ اور جس پر قوم نوح نے انکی تکذیب کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان پر جو عذاب آیا وہ معلوم ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا خلیفہ بنایا تاھ ۔ یہاں قرآن کریم نے قوم عاد کے مسکن کی نشاندہی نہیں فرمائی لیکن دوسری سورتوں میں یہ تصریح آئی ہے کہ یہ احقاف میں تھے ۔ یہ یمامہ اور حضر موت کے درمیان بڑے بڑے ٹیلے ہیں ۔ غرض یہ لوگ اسی راہ پر چل نکلے جس پر اس سے قبل قوم نوح چل رہی تھی ۔ چناچہ انہوں نے نہ تو نصیحت پر کان دھرا اور نہ ہی واقعات نوح سے عبرت پکڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اپنے خطاب میں مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے ؟ یہ ان کے رویے پر نکیر ہے ‘ اور انہیں اس خوفناک انجام بد سے ڈرایا جارہا ہے ۔ غرض اس قوم کے سرداروں کو یہ بات بہت ہی ناگوار گزری کہ ان میں سے ایک عام آدمی اٹھ کر انہیں ڈرائے اور یہ ہے اور ہمارے مقام ومنصب کا صحیح خیال نہیں رکھ رہا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی کی طرف یہ باتیں منسوب کیں کہ وہ احمق اور جھوٹے ہیں اور اس قسم کے الزام لگانے میں انہوں نے ذرا بھر شرم محسوس نہ کی ۔
Ayahs 7:66–68

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

‘ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “ آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔ یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔ آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔ اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ‘ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔

آیت ” وَاذکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَسْطَۃً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (69) ” بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ‘ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ “ انہیں زمین میں جو اقتدار اعلی عطا کیا گیا تھا اور جو جسمانی توانائی عطا ہوئی تھی اس کی وجہ سے ان کا فرض یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈرتے اور اس برے انجام سے خوف کھاتے جو ان سے پہلے آنے والی اقوام کا ہوا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے ایسا کوئی عہد تو نہیں کیا تھا کہ اللہ کی سنت کا اجراء ان پر نہ ہوگا ۔ کیونکہ اللہ کی ناقابل تغیر سنت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کے جاری کردی ضابطے کے مطابق چلتی رہتی ہے ۔ نعمتوں کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا مطلوب ہے کہ ان پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور شکر ادا کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کے اسباب کو قائم ودائم رکھا جائے کیونکہ دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے ۔ لیکن جب انسان کی فطرت میں فساد اور انحراف پیدا ہوجاتا ہے تو پھر وہ غور وفکر اور تدبر سے کام نہیں لیتا ‘ چناچہ یہ دعوت سن کر وہ آمادہ انکار وسرکشی ہوگئے اور برے طرز عمل کو اپنانے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ انہوں نے اب بات کو کاٹ کر مکالمہ ہی بند کردیا اور جلد ہی نزول عذاب چاہنے لگے ‘ ان کے لئے نصیحت بوجھل بن گئی اور ڈراوے کے ساتھ وہ مذاق کرنے لگے ۔