7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ " تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ " ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں "

ان لوگوں کے خیال کے مطابق ان حیلہ سازوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ اس کا فائدہ ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لیے ہلاکت و بربادی کا فیصلہ کرلیا ہے اس لیے کہ انہوں نے احکام الٰہی کو مذاق بنایا ہے۔ لیکن منع کرنے والے گروہ نے جواب دیا کہ یہ ان پر ایک فریضہ ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور لوگوں کو انجام بد سے ڈرانا پیغمبروں کا فریضہ ہے اور اگر ہم نہ ادا کریں تو ہم قیامت میں معقول عذر پیش نہ کرسکیں گے۔ ایک تو یہ ہوگا کہ اللہ کے ہاں ہم سرخرو ہوں گے۔ دوسرے یہ امکان بھی ہے کہ شاید یہ لوگ راہ راست پر آجائیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوجائے۔ یو اس ساحلی بستی کے لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے یا تین جماعتیں بن گئیں۔ اسلامی تصورات کے مطابق امت " لوگوں کا وہ مجموعہ ہے جو ایک نظریہ رکھتا ہو ، جس کی سوچ ایک جیسی ہو ، جس کی قیادت ایک ہو " امت سے مراد وہ قدیم جاہلی دور کی امت نہیں ہے اور نہ جدید جاہلی تصورات کے مطابق امت ہے ، جاہلی تصورات کے مطابق امت " لوگوں کا وہ مجموعہ ہے ، جو کسی ایک علاقے میں رہتا ہو ، اور اس پر ایک حکومت ہو " یہ مفہوم امت کا اسلامی مفہوم نہیں ہے۔ یہ قدیم یا جدید جاہلیت کی اصطلاح ہے۔ امت کا لفظ عربی لغت میں محض آبادی یا لوگوں کے ایک گروہ کے لیے بھی آتا ہے۔ مثلا (ولما ورد ماء مدین وجد علیہ امۃ من الناس یسقون) جب وہ مدین کے پانی کے پاس آئے تو انہوں نے لوگوں کے ایک گروہ کو پانی پلاتے ہوئے پایا "۔ اور امت بمعنی قیادت اور امامت کے معنی میں بھی مستعمل ہے (ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ایک علیحدہ امت تھے یعنی قائد تھے۔ لیکن یہ لغوی مفہوم اس لفظ کے اصطلاح مفہوم کے متضاد نہیں ہیں " یعنی لوگوں کا وہ مجموعہ جس کا عقیدہ ایک ہو اور تصور ایک ہو " غرض اس گاؤں کے لوگ تین جماعتوں میں بٹ گئے ، ایک جماعت سرکشی اختیار کرنے والی ، دوسری جماعت اس کا راہ روکنے والی جو اصلاح اور نصیحت کا فریضہ انجام دے رہی تھی ، تیسری جماعت غیر جانبدار تھی ، وہ نہ تو سرکشوں کا ساتھ دیتی تھی اور نہ ہی امر بالمعروف کرنے والوں کا ساتھ دیتی تھی۔ خیالات و سرگرمیوں کے ان تین طریقوں کو یہاں تین امتوں سے تعبیر کیا گیا۔ جب نصیحت اور وعظ سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور گمراہی کی راہ پر چلنے والے چلتے ہی رہے تو ان پر اللہ کا عذاب آنا ہی ٹھہرا۔ اور اللہ نے جو ڈراوا ان تک پہنچایا تھا اس کا وقت آپہنچا۔ صرف وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل رہے جو ینھون عن السوء برائیوں سے روکنے والے تھے اور جو سرکش تھے ان کو عذاب نے آ لیا۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ رہی وہ تیسری جماعت جو غیر جانبدار تھی اس کے بارے میں قرآن نے کچھ نہیں کہا۔ شاید ان غیر جانبداروں کو اس لیے یہاں نسیاً منسیا کردیا کہ ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اور یہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کا یہاں ذکر کیا جائے۔ اس لیے کہ انہوں نے مثبت رویہ اختیار نہ کیا۔ محض منفی انکار کا کمزور موقف اختیار کیا۔ لہذا اللہ نے بھی ان کا تذکرہ نہ کیا۔ اگرچہ وہ سزا سے بچ گئے ہوں۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

آخر کار جب وہ ان ہدایات کو بالکل ہی فراموش کرگئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے ، اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا

ان لوگوں کو یہ سخت سزا اس لیے دی گئی تھیں کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی میں ڈوب گئے تھے اور قرآن نے اسے کفر سے تعیر کیا ہے۔ کبھی اسے ظلم کہا گیا ، کبھی فسق کہا گیا اور قرآن کریم میں بارہا یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کو ظلم اور فسق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ انداز تعبیر اس فقہی اور قانونی انداز تعبیر سے مختلف ہے جو ازمنہ مابعد میں اختیار کیا گیا۔ لہذا قرآنی انداز تعبیر اس فقہی اصطلاح کا پابند نہیں ہے کیونکہ اصطلاحات کا تعین بعد میں ہوا اور یہ شدید عذاب کیا تھا ؟ یہ کہ آدمیون کی شکل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا ، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو مرتبہ انسانیت سے گرا دیا تھا ، اس لیے کہ انسانیت کی مخصوص ترین خصوصیت یعنی قوت ارادی کا انسانی خواہشات پر غالب رہنا انہوں نے ترک کردیا تھا اور وہ حیوانات کی طرح خواہشات کے پابند ہوگئے تھے ، لہذا ان سے کہا گیا کہ اچھا تو پھر حیوان ہی بن جاؤ، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جو تم نے اپنے لیے پسند کیا ہے۔ یہ کہ وہ کس طرح بندر بن گئے ، ان کی شکل کس طرح بدل گئی۔ کیا وہ بذات خود بدل کر بندر بن گئے یا ان سے بندر پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ اس سلسلے میں تفاسیر میں متعدد روایات ہیں اور اس نکتے کے بارے میں قرآن خاموش ہے ، اور اس سلسلے میں حضور اکرم ﷺ سے بھی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ لہذا ہم اس معاملے میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا ، تو ہم نے کہا بندر ہوجاؤ ذلیل اور خوار

انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔ اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے اعلان کردیا کہ وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے " یقینا تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقینا وہ درگزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے۔

یہ ایک دائمی اعلان (Standing Order) ہے اور جب سے یہ صادر ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ وقفے وقفے سے یہودیوں کی سرکوبی کے لیے کسی نہ کسی طاقت کو بھیجتا رہا ہے۔ اور عمومی اعتبار سے یہ حکم آئندہ بھی رد بعمل ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ایسی قوتوں کو مسلط کرتے رہیں گے۔ اور یہ قوتیں ان کو ایسا ہی عذاب دیتی رہیں گی جب بھی وہ پھلیں پھولیں گے اور سرکشی کا رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ ان پر ایسی ہی قوتوں کو بھیجتے رہیں گے۔ اور وہ ان پر اچھی ضرب لگاتے رہیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا باغی اور سرکش گروہ ہے کہ جب یہ ایک نافرمانی سے نکلتا ہے تو دوسری میں داخل ہوجاتا ہے ، ان کی ایک ٹیڑھ کو اگر درست کردیا جائے تو ان کے اندر دوسری ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات اس طرح نظر آتا ہے کہ ان پر یہ مسلسل لعنت شاید ختم ہوگئی ہے اور شاید یہودی اب باعزت اور صاحب قوت ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ کے وقفوں میں سے بعض وقفے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر کس کو مسلط کرتا ہے اور سابقہ ادوار ذلت کے بعد ان پر کون سی قوم مسلط ہوتی ہے۔ اللہ نے تو ان کے لیے یہ آرڈر قیامت تک کے لیے نافذ کردیا ہے اور قرآن میں اپنے نبی کو اور اس کی امت کو اس کی اطلاع بھی کردی ہے لیکن اس دائمی فیصلے کے باوجود اللہ کی صفت رحمت ور عفو و درگذر اپنی جگہ قائم ہے۔ ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم اپنی صفت سرعت عذاب کی وجہ سے وہ ان لوگوں کو پکڑ لیتا ہے جن پر نزول عذاب برحق ہوچکا ہے۔ جیسا کہ ساحلی بستی والوں کو اس نے پکڑا۔ اور اپنی صفت رحمت و مغفرت کی وجہ سے وہ ہر اس شخص کو معاف کرتا ہے جو تائب ہوگیا مثلاً بنی سرائیل میں سے وہ لوگ جو نبی آخر الزمان کو تسلیم کرتے ہوئے ایمان لائے کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخر الزمان کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی سے انتقام نہیں لیا جاتا اور نہ اس دربار میں کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ وہاں تو سب کے ساتھ انصاف ہوتا ہے ، بلکہ وہاں تو معافی اور رحمت کے لیے بہانہ درکار ہے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں

اس کے بعد یہ قصہ تاریخی خطوط پر آگے بڑھتا ہے۔ حضرت موسیٰ آپ کے خلفاء انبیاء اور آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آنے والے لوگوں سے آگے بڑھ کر اب اس نسل سے بات ہو رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود ہے اور جماعت مسلمہ اور اس کے درمیان مقابلہ ہے یہ آیات بھی مدنی ہے اور ان کو یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے قصے کو مکمل کردیا جائے۔ یہ اس وقت کے حالات ہیں جب یہودی اس کرۂ ارض پر دور تک پھیل گئے تھے۔ ان کی مختلف جماعتیں بن گئی تھیں اور انہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد اپنا لیے تھے۔ ان کے مسلک اور مشرب مختلف ہوگے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ عام لوگ تھے ، کہیں ان کی آزمائشیں ہوتی رہیں ، کبھی خوشحال بن کر انہیں آزمایا جاتا اور کبھی بد حال بنا کر ، تاکہ وہ راہ راست کی طرف لوٹ آئیں اور راہ ہدایت پا لیں اور سیدھے راستے پر چلیں۔ وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ایک قسم کی رحمت ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی وجہ سے انسان مسلسل اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور انسان غافل نہیں رہتا ، کیونکہ غافل لوگ ہلاکت میں جا پڑتے ہیں
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کردیا جائے گا ، اور اگر وہی متاع دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے ، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ہو ؟

بعد میں آنے والوں کی صفات یہاں یہ دی گئی ہیں کہ یہ لوگ کتاب کے وارث تھے ، اسے پڑھتے تھے ، لیکن وہ اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق نہ ڈھالتے تھے ، اور ان کے دل اور ان کا طرز عمل اس کتاب سے متاثر نہ ہوتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کا ایمان ان کی ثقافت بن گیا تھا۔ ایک علم تھا جسے وہ پڑھتے تھے لیکن جب وہ مقاصد دنیاوی میں سے کوئی بھی مقصد دیکھتے تو اس کی طرف لپکتے چاہے جائز ہوتا یا ناجائز اور خوش فہمی یہ رکھتے تھے کہ امید ہے کہ اللہ ہمیں معاف کردے گا۔ لیکن عفو کی امیدواری کے بعد پھر اگر کوئی دنیاوی اغراض ان کے سامنے آتیں تو پھر ان کی طرف لپکتے۔ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ ۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ کیا کتاب میں ان سے وعدہ نہ لیا گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ میں بےجا دلیل اور حجت نہ کریں گے اور نصوص کے تقاضوں سے بچنے کے لیے حیلہ سازی نہ کریں گے اور اللہ کی جانب سے سوائے سچائی کے اور کوئی بات نہ کریں گے۔ اس کے برعکس ان کا طرز عمل تو یہ ہے کہ دنیاوی مفادات دیکھتے ہی ان کی طرف لپکتے ہیں اور امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید اللہ ہمیں بخش دے۔ اور وہ جو اللہ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اس میں اپنے آپ کو حق بجانب اس لیے قرار دیتے ہیں کہ وہ مغفرت کے بےجا امیدوار ہیں حالانکہ ان کو اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بیشک معاف فرماتا ہے لیکن صرف ان لوگوں کو جو فی الحقیقت تائب ہوگئے ہوں اور انہوں نے عملاً معصیت کو چھوڑ دیا ہو جبکہ ان کا طرز عمل ایسا نہیں ہے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ کوئی ناجائز مفاد سامنے آتے ہی یہ لوگ بےچین ہوجاتے ہیں اور اس کی طرف لپکتے ہیں حالانکہ انہیں کتاب اللہ کے احکام اور تقاضوں کا اچھی طرح علم ہوتا ہے۔ ہاں ! وہ پڑھتے ہیں لیکن پڑھنا صرف اس شخص کے لیے مفید ہوتا جس کے دل میں تعلیم اتر جائے ، کئی ایسے پڑھنے والے ہیں جن کے دلوں سے قرآن بہت دور ہے۔ یہ لوگ کتاب اللہ کی تدریس اس لیے کرتے ہیں کہ اس کی تاویل بھی کریں۔ اور اس کے مفہومات کو بدل دیں اور اپنے مطلب کے فتویٰ کے ذریعے دنیاوی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دین کو محض پڑھنے کی خاطر پڑھیں ، اسے اپنا نظریہ اور عقیدہ نہ بنائیں نہ وہ اللہ سے ڈریں اور اس کی سزا سے خائف ہوں۔ وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے ، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟ ہاں یہ اصل بات دار آخرت کی ہے ، جو اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ صرف ان کی روش میں آخرت کی بات ہوتی ہے اور یہی لوگ دنیاوی مفادات کی کشش کے دائرے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ کوئی دل اور کوئی نظام زندگی اس کے سوا درست نہیں ہوسکتا۔ انسان کے نفس اور اس کی نفسیات اور اس کی عملی زندگی کی اصلاح بھی صرف فکر آخرت سے ہوسکتی ہے۔ ورنہ بتایا جائے کہ وہ کون سا جذبہ ہوسکتا ہے جو انسان کو وہ تمام اغراض گھیر لینے سے روک سکتا ہے۔ وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو انسان کو طمع اور لالچ سے روک دے اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے روک دے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو دل کو مرغوبات روکے اور نفس انسانی شہوتوں پر کنٹرول کرے۔ زندگی کی اس ہیجان خیز کشمکش میں انسان کو ایک اطمینان بخش سکے۔ صرف اجر اخروی کی امید ہے جس کی وجہ سے انسان اخروی مفاد کی خاطر دنیا کی محرومیاں برداشت کرسکتا ہے مزید یہ کہ حق و باطل کے معرکے میں ، خیر و شر کی جنگ میں ، دنیوی اغراض اور اخروی مفادات کے درمیان فیصلے میں انسان ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ جبکہ شر سرکشی میں مبتلا ہو اور باطل حد سے آگے بڑھ رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی اس ہیجان خیز کشمکش میں صرف فکر آخرت اور عقیدہ آخرت انسان کے لیے یقین اور سکون کا سبب بن سکتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے یہ نہایت ہی مفید ہے۔ ایسے لوگ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں ، آلودگیوں سے بالا رہتے ہیں اور جادہ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں ، قدم پھسلا دینے والے اور جھنجھوڑنے والے فتنے صرف اس شخص پر اثر انداز نہیں ہوتے جو متقی اور آخرت پر ایمان لانے والا ہو۔ ایسے لوگوں کے دل مطمئن اور ثابت قدم ہوتے ہیں اور یہ لوگ کامیابی کا پوری طرح یقین رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں اشتراکیت کے داعی اس غائبانہ حقیقت کو ہمارے دلوں کے پردے سے محو کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے عقائد و نظریات سے آخرت کے تصور کو مٹانا چاہتے ہیں اور یہ ہمارے دلوں میں جنون کی وہ آگ کا روشن کرنا چاہتے ہیں جو صرف یقین آخرت سے بجھ سکتی ہے۔ کفر آخرت کے سوا رشوت ، فساد ، لالچ ، ظلم اور لاپرواہی کی بیماریاں زیادہ ہی ہوتی ہیں اور ایسے لوگ جہاں بھی ہوں خائن اور چور ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ عالم غیب اور الم مشاہدہ ، یعنی سائنس اور عالم غیب کے درمیان مکمل تضاد ہے۔ یہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی جہالت کی وبا ہے جہاں تک حقیقی سائنس دانوں اور اہل علم کا تعلق ہے انہوں نے تو اس نظریے کو ایک عرصے سے رد کردیا ہے۔ صرف بیسویں صدی کے جاہل کبھی کبھار اس کا ورد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جہالت ہے جو انسانی فطرت سے موڑ نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس جہالت کے شکار لوگوں کی زندگی میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور یہ اب ہمہ گیر بگار ہے۔ جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کی تباہی کا خطرہ ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ نہایت ہی عیارانہ صیہونی منصوبہ ہے۔ صیہونی کے اس منصوبے کی پشت پر یہ عرض کار فرما ہے کہ تمام دنیا کے انسانوں سے وہ اصلی قوت سلب کرلی جائے جو انسانوں کی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے تاکہ یہ صیہونی پوری دنیا کو اپنے مقاصد کے مطیع بنا سکیں اور صیہونی منصوبہ سازوں کے اس منصوبے کو یہ لوگ جگہ جگہ اپنے ڈھنڈورچیوں کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔ پوری دنیا میں صیہونیوں نے جو صورت حال پیدا کردی ہے اس میں تمام لوگ خود بخود اس منصوبے کو عملاً چلا رہے ہیں۔ فکر آخرت اور خدا خوفی ، انسانی زندگی کے دو نہایت ہی اہم مسئلے ہیں ، جو لوگ دنیاوی مفادات کے پیچھے سرپٹ بھاگ رہے ہیں قرآن کریم ان کو یہ تصور دیتا ہے کہ وہ عقل کے ناخن لیں " آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے " اگر فیصلہ کرنے کا موقعہ عقل کو دیا جائے اور خواہشات نفسانیہ کا اس میں دخل نہ ہو۔ اگر علم اور سائنس کو حققی معنوں میں لیا جائے اور جہالت کا نام علم نہ رکھا جائے تو آخری فیصلہ حتماً یہی ہو کہ اس دنیائے دنی کے مقابلے میں آخرت ہی بہتر ہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی مومنین کے لیے دنیا و آخرت کا توشہ بن جائے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے ، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے

وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭاِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ ۔ جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے ، یقیناً ایسے نیک لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے " یہ ان لوگوں پر ایک طنز ہے جن سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں اور اسے پڑھیں اور انہوں نے عہد کے باوجود کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا حالانکہ وہ اسے پکڑ تو لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کر تھے اور اپنے نظریہ و عمل میں اسے نافذ نہیں کرتے ، نہ اپنے نظام زندگی میں اسے جاری کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک تعریض ہے لیکن آنے والی تمام نسلوں کے لیے اس میں طے کردہ اصول باقی ہے۔ تمسک کے لفظ سے ایسے مفہوم کا اظہار ہوتا ہے جو ذہن کے سامنے ایک عملی نقشہ اسکرین پیش کردیتا ہے۔ ایک معنوی چیز کو قرآن نے تمسک کے ذریعے حسی بنا دیا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ قوت کے ساتھ اس کتاب کو پکڑ لو اور سختی اور سنجیدگی کے ساتھ اس کے اصولوں کو رائج کرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی کتاب کو لیا جائے ، بغیر ہٹ دھرمی کے ، بغیر شکن کے اور بغیر گھٹن کے۔ اس لیے سنجیدگی ، قوت اور پختگی اور چیز ہے اور ہٹ دھمری اور گھٹن اور دل گرفتگی اور چیز ہے۔ سنجیدگی ، قوت اور پختگی یسر کے متضاد نہیں ہے البتہ سہل انگاری اور کردار کے بودے پن سے متضاد ہے۔ یہ صورت حال وسعت قلبی کے متضاد نہیں ہے۔ البتہ بےدینی کے متضاد ہے ، حالات کی رعایت اور حکمت کے متضاد نہیں البتہ وہ حالات اور واقعات کی رو میں نہیں بہتی۔ واقعات کو شریعت کے مطابق ہونا تو پالیسی ہے۔ یہ پالیسی نہیں ہے کہ ہم شریعت کو واقعی صورت حالات کے مطابق بناتے چلے جائیں۔ کتاب اللہ کو پختگی سے پکڑ لینا ، نماز اور دوسرے مراسم عبودیت کی پابندی کرنا یہ اسلامی نظام حیات کے دو اہم پہلو ہیں۔ یہاں تمسک بالکتاب کو ایک خاص رنگ یعنی مراسم عبودیت کے ساتھ معتین کیا گیا یعنی پورے اسلامی نظام حیات کے ساتھ ساتھ مراسم عبودیت کو لوگوں کی اصلاح کے لیے لازم کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام معاشرے کی اصلاح اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس میں تمسک بالکتاب ہو اور اس میں عبادات کی پابندی ہو ، اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں ہے۔ لا نضیع اجر المصلحین۔ ہم نیک اور مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ یعنی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا پوری کتاب کو اور عبادات پر عمل پیرا ہونا ہی اصلاح معاشرہ کا ذریعہ ہے۔ کسی معاشرے میں ان دو باتوں میں سے کوئی ایک مفقود ہوجائے تو وہ بگاڑ کا شکار ہوجات ہے۔ یعنی اس میں کتاب اللہ کو مضبوطی سے نہ پکڑا جائے اور لوگ اپنے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق نہ کریں۔ دوسرے یہ کہ اس سے عبادت الٰہی مفقود ہوجائے جو دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اگر دل صاف نہ ہوں تو لوگ اللہ کے احکام کے ساتھ یہودیوں جیسی حیلہ سازی کریں گے۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی نہ ہوگی۔ اسلامی نظام ایک مکمل نظام ہے ، وہ باہم مربوط ہے۔ عبادات کے ذریعے دلوں کا زنگ صاف ہوتا ہے اور پھر انسانی جسم احکام کتاب کو درستگی سے مانتے ہیں یوں عملی اور روحانی اصلاحی مکمل ہوتی ہے۔ یہ اللہ کا طریقہ اصلاح ہے اور اس کے سوا ہم اصلاح کا کوئی اور طریقہ اختیار نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو بدبختی اور عذاب اس کی قسمت میں ہوگا۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جب کہ ہم نے پہاڑ کو بلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آپڑے گے اور اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو ، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے

اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔ ۔۔۔ وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔ یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور پسپائی اختیار نہ کرو ، کتاب اللہ کی ہدایات کو یاد رکھو۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح تمہارے دل پسیج جائیں اور تمہارا تعلق باللہ قائم رہے۔ لیکن بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل ہی رہے۔ ان پر اللہ کی بات سچ ثابت ہوگئی تھی ، اللہ نے انہیں اپنے وقت کی سپر پاور بنا دیا تھا۔ ان پر نعمتوں کی بارش کردی تھی۔ لیکن انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ کے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا۔ ان کو میثاق الٰہی یاد ہی نہ رہا اس لیے وہ اس انجام تک پہنچے ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے "

درس نمبر 81 ایک نظر میں اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔ لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ، اقرار ربوبیت کو فطرت انسانی میں ودیعت کردیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بشریت انسانی وجود کی گہرائیوں میں اپنے خالق اور رب کے وجود کا شعور رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد رسول کیوں آئے ہیں تو رسولوں کی آمد محض تذکیر کے لیے ہوتی ہے اور ایک رسول بشیر و نذیر کی حیثیت سے آتا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے جو فطرت سے انحراف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید در اصل ایک میثاق ہے جو فطرت انسانی اور خالق فطرت کے درمیان انسان کے ابتدائی دور کے وقت سے طے شدہ ہے۔ لہذا اس عہد کے توڑنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرچہ تذکیر اور یاد دہانی کے لیے ان کے پاس کوئی رسول نہ آیا ہو ، لیکن یہ اللہ کی خالص رحمت اور احسان ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے منحرفین کی اصلاح کے لیے رسولوں کو ارسال کیا اور لوگوں کو محض ان کے عقول پر نہیں چھوڑ دیا گیا کیونکہ عقل غلطی کرسکتی ہے۔ چناچہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت ہی نہ رہے کہ فطرت کے تقاضے کے علاوہ اب تو رسول بھی آگئے۔ اس سبق میں مسئلہ توحید کو اس زاویہ سے لیا گیا ہے اور اس زاویہ سے کئی خطوط کھینچے گئے ہیں۔ ایک تاریخی لکیر ہے۔ اس میں ایک شخص کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا تعلق بھی تاریخ بنی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس کا کسی خاص اور متعین واقعہ یا خاص زمان و مکان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ یہ در اصل ایک نفسیاتی حالت کی تصویر کشی ہے جو بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہے تو اس علم کا تقاضا اور اس سے توقع یہی ہے۔ یہ شخص ہدایت یافتہ ہو اور حق پر قائم ہونے والا ہو۔ لیکن اچانک یہ غیر متوقع صورت حالات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے علم کے تقاضوں سے بھاگ نکلتا ہے۔ وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اور وہ راہ ضلالت پر اس شخص کے دوش بدوش چلتا ہے جو بالکل بےعلم ہے۔ بلکہ یہ عالم شخص اس بےعلم سے بھی زیادہ شر پسند ، گمراہ اور بدبخت ثابت ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ علم کو ایمان کی چاشنی نہ دی گئی ہو۔ کیونکہ ایمان کے رنگ سے ہی یہ علم کا چراغ روشن بن جاتا ہے۔ اور مسافر کے لیے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔ ایک دوسرا خط یا دوسری لکیر ملاحظہ ہو۔ اس میں انسانی فطرت کے انحراف کا ایک دوسرا قصہ یا نمونہ بتایا گیا ہے کہ انسان کس ڈھٹائی کے ساتھ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا ہے وہ اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے کہ اگر انہیں ایک صالح بچہ دیا گیا تو وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ یہاں تک تو فطرت کے تقاضوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی خلاف توقع بچے کی پیدائش کے عمل میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کی فطرت میں کجی آجاتی ہے۔ ایک تیسری لائن خود انسانی وجود کے اندر پائے جانے والی ادراکی قوتوں کے بارے میں ہے کہ اگر ان قوتوں کو صحیح طرح کام میں نہ لایا جائے تو ایک معقول انسان انسانیت کے مرتبہ اور مقام سے گر کر حیوانی سطح پر اتر آتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم کا مستحق ہو کر اس کا ایندھن بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی کہ وہ دل رکھتے ہیں لیکن اس کے اندر جذبہ ادراک نہیں ہوتا۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن بینائی نہیں ہوتی ، وہ کان رکھتے ہیں لیکن سنتے ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ضلالت کے پیچھے اس طرح بھاگتے ہیں کہ نہ واپسی ہوتی ہے اور نہ واپسی کا موقع رہتا ہے۔ ایک اشاراتی لائن ہے ، ہدایت کی جاتی کہ دل و دماغ کو بیدار رکھو اور ہر معاملے میں غور و فکر کرتے رہو ، اس زمین و آسمان کے نظام مملکت کو دیکھو۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا پیدا کیا ہے اور پھر ہر چیز کے خاتمے کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ اس لیے تم رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر توجہ کرو اور غور کرو کہ اس دعوت کے حامل کو مجنون اور گمراہ کہا جاتا ہے۔ ایک لائن میں ان پر سخت تنقید لی گئی ہے اور یہ تنقید ان الہوں کے بارے میں ہے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ حالانکہ وہ جن کو پکارا جاتا ہے الہیت کی ابتدائی خصوصیات سے بھی عاری ہیں بلکہ ان میں تو زندگی کے معمولی آثار بھی ناپید ہیں۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ انہیں اور ان کے خداؤں کو چیلنج دیں کہ وہ کچھ تو پکاریں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ان سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان فرما دیں اور ان کے معبودوں اور عبادت سے علیحدہ ہوجائیں اور اس مولیٰ کے ہاں پناہ لیں جس کے سوا کوئی مولی نہیں۔ الذی نزل الکتب وھو یتولی الصالحین۔ میرا ناصر وہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں بنی اسرائیل کے اور پہاڑ کو چھتری کرکے ان سے عہد لیا گیا تھا ، اور اس سبق کا آغاز انسانیت کے ساتھ میثاق اکبر کے ذکر سے کیا گیا جو فطرت انسانی کے ساتھ طے پایا تھا۔ یہ عہد بھی ایسے منظر کی شکل میں ہے کہ اپنی خوبصورتی اور جلالت کے اعتبار سے اس منظر سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ ۔۔۔۔ درس نمبر 81 ۔ تشریح آیات 172 تا 198 ۔ ۔۔۔ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ۔ اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے " یہ ایک حیران کن کائناتی منظر ہے۔ ہم تک تمام زبانوں کے اندر جو تصورات منتقل ہوئے ہیں اس تصور کی کوئی مثال کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ جب انسانی تصورات اور قوائے مدرکہ اس تصور کا صحیح طرح احاطہ کرلیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجیب تصور ہے۔ انسانی خلیے تمام کائنات سے اخذ کرلیے گئے ہیں۔ اور ان سے اس طرح بات ہو رہی جس طرح ایک مکمل انسان سے بات ہوتی ہے اور وہ بھی ایک عقلمند انسان کی طرح بات کرتے ہیں ، کیونکہ ان میں بات کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے۔ یہ خلیے اعتراف کرتے ہیں اور شہادت توحید دیتے ہیں اور اس عظیم میثاق پر دستخط کرتے ہیں اور ہیں وہ انسانوں کے صلب میں۔ جب انسان اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو دیکھتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کی گہرائیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ باریک خلیوں کے اندر انسانی نسل کے ذرات کو دیکھ رہا ہے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ ہر ذرہ اس وقت زندہ ہے اور ہر ایک میں مکمل استعداد موجود ہے ، ہر ذرے کے اندر مکمل انسانی صفات موجود ہیں صرف وہ نشوونما کی اجازت کا منتظر ہے۔ اس کائنات کی نامعلوم وسعتوں سے وہ ظہور اور شہادت کا منتظر ہے۔ یہ ذری موجودات اس میثاق کو قبول کرتی ہے۔ اگرچہ ہماری نظروں میں آنے والے عالم معلوم ہیں یہ موجود ذرہ ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آیا۔ قرآن کریم نے اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو اس عظیم حقیقت کے ذہن نشین کرانے کے لیے پیش کیا جو اس کائنات کی حقیقت میں نہایت ہی گہرائی پر موجود اور مستحکم ہے۔ یہ منظر قرآن کریم نے آج سے 1400 سو سال قبل پیش کیا۔ اس وقت انسانوں کو اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں کچھ زیادہ سائنسی معلومات نہ تھیں۔ اس موضوع پر انسانی معلومات چند اوہام پر مشتمل تھیں۔ انسانی مزاج اور تخلیق انسانیت کے بارے میں زمانہ مابعد میں انسان نے کچھ حقائق دریافت کیے۔ چناچہ ان سائنسی انکشافات نے کہ جین کے اندر وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کسی انسان میں بعد کے ادوار میں نمودار ہوتی ہیں اور ان میں ایک مکمل فرد کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں جو بعد میں فرد کی صورت میں سامنے آتا ہے حالانکہ یہ خلیے کی شکل میں ہوتا ہے۔ ان خلیوں میں تین ہزار ملین انسانوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے جس میں ان کی تمام خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ ان خلیوں کا حجم ایک مکعب سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا یعنی سوئی کے ناکے کے برابر اور یہ وہ معلومات ہیں کہ اگر اس وقت لوگوں کو یہ بتائی جائیں تو لوگ کہتے کہ یہ شخص مجنوں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سچ کہا سنریہم ایاتنا فی الافاق و فی انفسہم حتی یتبین لہم انہ الحق۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ حق ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ " حضور نے فرمایا تمہارے رب نے آدم کی پشت کو چھوا ، اس سے وہ تمام جرثومے برآمد ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا ، اب اللہ نے ان سے پختہ وعدہ لیا اور انہیں خود ان کے خلاف گواہ ٹھہرایا اور سوال کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو ان سب نے جواب دیا ہاں ! یہ روایت حضرت ابن عباس سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح سے مروی ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کی موقوف روایت زیادہ قوی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منظر کیسے تھا ، اور اللہ نے کس طرح تمام پیدا ہونے والی مخلوقات کو نکال لیا اور ان کی گواہی خود ان کے خلاف ثبت کرلی۔ اور ان کو مخاطب کرنے کا انداز اور سوال و جواب کس طرح تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ افعال الہی کی کیفیت بھی غیوب میں سے ایک غیب ہے ، جب تک انسان کے اندر ذات باری کے ادراک ذہنی کی قوت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک انسان کے لیے افعال الہیہ کی کفیت کا ادراک بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جب کسی ماہیت کا ادراک نہیں ہوسکتا تو اس کے فروعات یعنی کیفیات کا ادراک کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اور وہ تمام افعال جن کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے مثلا ثم استوی الی السماء وھی دخان۔ " پھر اللہ آسمانوں پر متمکن ہوا اور یہ ایک دھواں تھا "۔ ثم استوی علی العرش " پھر عرش پر متمکن ہوا "۔ یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت " اللہ جسے چاہتا ہے ، مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹھہراتا ہے "۔ والسموات مطویات بیمینہ " اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے "۔ وجاء ربک والملک صفا صفا " تمہارا رب آئے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے "۔ وما یکون من نجوی ثلاثۃ الا ھو رابعہم " جو تین آدمیوں کا مشور ہو ، ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے "۔ وغیرہ ، یہ سب آیات جو افعال الہیہ کے بارے میں وارد ہیں ، یہ افعال تو لازماً صادر ہوئے اور ہوں گے لیکن ان کی کیفیت کا ادراک مشکل ہے۔ اس لیے کہ کیفیت کا تصور بھی ماہیت کے تصور کا فرع ہوتا ہے۔ اور اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس جیسی کوئی ذات نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ماہیت اور اس کے افعال کی کیفیت کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تشبیہ لازم آتی ہے اور اس کے مشابہ کوئی نہیں ہے۔ اللہ کے افعال کو انسانی افعال کے ذریعے سمجھنے کی جو کوشش بھی کی گئی وہ گمراہی پر منتج ہوئی ہے۔ کیونکہ اللہ اور مخلوق اللہ کی ماہیت میں فرق ہے۔ فلاسفہ اور سائنس دانوں نے انسانی افعال کے رنگ میں اللہ کے افعال کی کیفیات کو سمجھنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ نامراد ثابت ہوئی ہیں۔ نیز اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد فطرت انسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر اعتراف ربوبیت الٰہی ودیعت کردیا ہے اور فطرتاً ایک شخص اعتراف رب کرتا ہے ، البتہ بعض خارجی عوامل اسے فطرت کی راہ مستقیم سے بد راہ کرتے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں " سلف اور خلف کے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے جیسا کہ اس سے قبل حضرت ابوہریرہ اور عیاض ابن حمار المجاشعی کی حدیث میں منقول ہے۔ ان سے حسن بصری نے روایت کی ہے۔ جس نے اس آیت کی تفسیر اس کے مطابق کی ہے۔ ان لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے آدم کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ بنی آدم کا لفظ استعمال کیا ہے اور من ظھرہ نہیں کیا بلکہ من ظہورہم " ان کی پشتوں سے " کیا ہے۔ (ذریاتہم) کے لفظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد لوگ ہیں جو نسلاً بعد نسل اس دنیا میں مختلف زمانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا وھو الذی جعلکم خلفاء الارض " اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا۔ جعلکم خلفاء الارض " وہ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے " اور دوسری آیت میں ہے کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین " جیسا کہ تمہیں دوسری قوم کی پشت سے پیدا کیا "۔ پھر اللہ نے فرمایا واشھدہم علی انفسہم " انہیں اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا ہاں ! یعنی ان کو جود میں لا کر ان سے پوچھا اور انہوں نے اسے تسلیم کیا یعنی پیدائش کے وقت۔ علماء کہتے ہیں کہ شہادت کبھی تو قولی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے قالوا شہدنا علی انفسنا و غرتہم الخیاۃ الدنیا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " انہوں نے کہا ہمہ اپنے اوپر شہادت دیتے ہیں اور ان وک دنیا کی زندگی نے غرے میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے اپنے اوپر شہادت دی کہ وہ کافر تھے " اور کبھی حالاتی شہادت ہوتی ہے مثلاً قالوا شھدنا علی انفسنا و غرتہم الحیاۃ الدنیا و شھدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں۔ در آں حالیکہ وہ اپنے کفر کی شہادت دے رہے ہیں " یعنی ان حالات میں کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ زبان سے اپنے آپ کو کافر نہیں کہتے۔ و انہ علی ذلک لشہید " اور وہ اس پر گواہ ہے " اسی طرح سوال بھی کبھی تو قولی ہوتا ہے اور کبھی حالاتی ہوتا ہے۔ واتاکم من کل ما سالتموہ " اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جس کا تم نے سوال کیا " مفسرین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو عملاً اٹھا کر ان سے اقرار لیا گیا تھا اور یہ اقرار ان کے خلاف بائنڈنگ تھا تو پھر چاہئے کہ لوگوں کو وہ یاد بھی ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ کی جانب سے اس واقعہ کی اطلاع ہی کافی ہے تو جواب یہ ہے کہ مشرکین تو اس حدیث کے ساتھ حضور اکرم کے تمام اخبار کو جھٹلاتے ہیں اور یہ ان کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ توحید کا اقرار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد تمام انسانوں کو کہا ان تقولوا یہ نہ ہو کہ تم کہو۔ یعنی قیامت کے دن تم یہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔ یا یہ نہ کہو انما اشرک اباؤنا " در اصل ہمارے آباء مشرک تھے " بعض احادیث میں بھی اس فطرت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے " (بعض روایات میں ہے کہ ملت پر پیدا ہوتا ہے " بعد میں اس کے باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا مجوسی جیسا کہ تمام جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اس میں کوئی کان کٹا ہوتا ہے ؟ صحیحین میں عیاض ابن حمار کی روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو سیدھا پیدا کیا ، اس کے بعد شیاطین آئے اور انہوں نے بندوں کو ان کو دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ باتیں حرام کردیں جو حلال تھیں۔ ابن جریر نے اسود ابن سریع کی حدیث نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے حضور اکرم کے ساتھ چار غزوات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جنگ کے بعد بچوں کو بھی قتل کیا۔ یہ بات رسول اللہ تک پہنچی اور یہ ان پر بہت ہی گراں گزری۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کیا حال ان لوگوں کا ، جو بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ حضور کیا یہ لوگ مشرکین کے بچے نہیں ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر سے بہتر لوگ بھی تو مشرکین کے بچے ہیں ، جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اس فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد والدین اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی۔ حسن نے کہا " اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورہم ذریتہم " جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا " الی الی آخرہ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس آیت کو اپنے حقیقی معنوں میں بھی مستبعد نہیں سمجھتا ، کیونکہ جس طرح اللہ نے فرمایا ہے اسی طرح اس کا وقوع ممکن ہے " اور لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا تھا " اور کوئی بات بھی اس میں خلاف عقل نہیں ہے لیکن اوپر جن مفسرین نے اسے حالات فطرت کے معنوں میں لیا ہے وہ تفسیر بھی مستبعد نہیں ہے۔ ابن کثیر ، حسن بصری وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ بات پیش نظر رہے کہ انسانی فطرت نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اللہ کو وحدہ لا شریک ٹھہرائے گی۔ حقیقت توحید انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ ہر بچہ جب زندگی پاتا ہے تو یہ عہد اس کی فطرت کے ساتھ آتا ہے وہ اس وقت تک اس فطرت پر قائم رہتا ہے جب تک کوئی خارجی عامل اسے اس فطرت سے پھیر نہیں دیتا۔ اور یہ خارجی عوامل انسان کی فطری استعداد کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے جس طرح فطرت میں توحید و ودیعت کی ہے اسی طرح فطرت کو یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا ضلالت۔ اور جن حالات میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ حالات اور ظروف احوال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حقیقت توحید صرف فطرت انسانی کے اندر ہی ودیعت نہیں کی گئی بلکہ نظریہ توحید اس پوری کائنات کے اندر بھی رکھا ہوا ہے کیونکہ انسانی فطرت بہرحال اس وسیع فطری نظام ہی کا ایک حصہ ہے۔ انسانی وجود اس کائنات کے وجود سے منقطع نہیں ہے۔ یہ بھی اسی قانون کے مطابق چل رہا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے۔ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کے احکام اور اشارات قبول کرتی ہے اسی طرح اس چھوٹے سے انسان کی فطرت بھی تکوینی اثرات کو قبول کرتی ہے۔ وہ ناموس توحید جو اس کائنات پر حکمران ہے وہ اس کائنات کی شکل و صورت میں بالکل نمایاں ہے۔ اس میں کائنات کی ہم آہنگی ، اس کے اجزاء کا باہم ربط اور تناسب ، اس پوری کائنات اور اس کے اجزاء کی حرکت کا نظام ، اس کے قوانین کا تسلسل اور پوری کائنات کا ان قوانین کے مطابق مسلسل رواں دواں ہونا اور پھر ان قلیل معلومات کے مطابق جن تک انسان اب تک پہنچ سکا ہے کہ وہ ذرات جن سے یہ کائنات مرکب ہے اور ان ذرات کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں نکلنے والی شعاعیں یہ سب کچھ اس کائنات کے خالق کی وحدت پر دلیل ہیں۔ اس ہمہ گیر وحدت کے راز ہائے نہفتہ کو انسان رات دن کھول رہا ہے جن سے اس کائنات کے مزاج کی وحدت معلوم ہوتی ہے ، اس کے قوانین کی یک رنگی معلوم ہوتی ہے اور یہ یک رنگی آٹومیٹک نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اس کے نظام تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہم بہر حال انسانی انکشافات پر بھی بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ انسان کا علم بہرحال ظن وتخمین پر مبنی ہے۔ اور انسان کا علم یقینی علم نہیں ہے ، اس لیے کہ انسان کو جو ذرائع ادراک دئیے گئے ہیں وہ بھی یقینی نہیں ہیں اور ہم یقینا یہ نہیں معلوم کرسکتے کہ ناموس الہی کیا ہے ؟ جہاں تک انسانی علم اور ذرائع علم کا تعلق ہے انسان صرف حقیقت سے مانوس ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس اس کائنات کے ناموس اکبر کے بارے میں بھی حقیقی ذریعہ اطلاع اور ذریعہ علم صرف خالق کائنات کا پیغمبر ہے۔ قرآن کریم بہرحال یقینی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک قانون توحید جاری وساری ہے۔ اور اس قانون توحید کو اللہ رب العزت نے جاری کیا ہے اور یہ کائنات اور اس کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات صرف اسی رب واحد کی غلام ہے۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ رب کی بندگی کرے۔ جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے تو ہم صرف اس کائنات کے جاری وساری نظام ہی کو دیکھ سکتے ہیں جو ایک قاعدے کے مطابق چل رہا ہے۔ یہ ناموس اکبر جو اس عظیم کائنات کے اندر اللہ کی مشیت اور تقدیر نے جاری کیا ہے ، یہی خود انسان کے اس چھوٹے سے وجود میں بھی جاری ہے ، کیونکہ انسان بھی اس کائنات کا ایک کارکن ہے۔ یہ بھی اپنی فطرت میں جھگڑا ہوا ہے جسے اپنی فطری حرکات کا عقلی احساس بھی ضروری نہیں ہے کہ ہو ، اس لیے وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ادارک رکھتا ہے اور یہ ادراک حقیقت اس کی فطرت کی گہرائیوں میں ہے اس کی ذات اس کا شعور بھی رکھتی ہے۔ وہ اس کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ جب تک کہ خلل و فساد اس پر طاری نہ ہوجائے۔ اس خلل و فسادگی کی وجہ سے اس کا ذاتی ادراک ماند پڑجاتا ہے اور انسان عارضی حالات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ اور اب وہ بیرونی عوامل کے مطابق چلتا ہے۔ اور اس کا اندرونی عامل اپنا کام چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ناموس فطرت بذات خود اللہ اور بندے کے درمیان ایک عقد ہے اور یہ عقد انسان کے وجود کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت سے وہ ہر خلیے میں رکھ دیا جاتا ہے اور یہ عقد آدم (علیہ السلام) کے وقت سے آج تک جاری وساری ہے۔ انسان کا ہر حلیہ ربوبیت کا اقرار کرتا ہے اور اسی اقرار اور عقد یعنی ناموس قدرت کے مطابق دنیا میں آتا ہے۔ لہذا اس فطری عقد کے بعد مزید کسی دلیل وحجت کی انسان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چاہے یہ دلیل بلسان الحال ہو یا بلسان القول ہو۔ لہذا اب انسان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ وہ کہے کہ میں تو غفلت کا شکار ہوگیا تھا اور میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات سے لاپرواہی برتی تھی۔ یا کوئی شخص یہ بہانہ نہیں پیش کرسکتا کہ جب وہ کائنات میں وارد ہوا تو میرے آباء و اجداد اور ماحول میں شرک ہی شرک تھا اور عقیدہ توحید کی قبولیت کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ لہذا وہ اپنے عقائد و اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صاف صاف وضاحت فرما دی۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ نہ کہنے لگو کہ " شرک کی ابتداء تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے ، پھر کیا آپ ہمیں اس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا ؟ "

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ فطرت کے اوپر چڑھے ہوئے زنگ کو اتاریں۔ اسے صیقل کریں اور انسان کو خواہشات اور شہوات کی بندگی سے چھڑائیں۔ اگرچہ اللہ کو معلوم تھا کہ رسولوں اور دعوتوں کے بغیر بھی انسان کی ہدایت کے لیے اس کی فطری استعداد اور عقلی قوت کافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے حساب و کتاب کا مدار رسالت اور دعوت پر رکھا ہے۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

دیکھو اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔ اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں

یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔