7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے ۔

آیت ” قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّہَ وَحْدَہُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ (70) ” انہوں نے جواب دیا ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے ۔ “ یہ روایات اور ان کے موجودہ حالات کی ذلت آمیز غلامی کی ایک تصویر ہے۔ انسان کے دل و دماغ حالات کے اسیر ہیں ۔ یہ ایسی غلامی اور قید ہے جس میں انسان سے اس کے اعلی ترین خصائص گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ آزادانہ غور وفکر سے محروم ہوجاتا ہے ۔ چناچہ وہ لوگ بھی آزادی رائے اور آزادی اعتقاد کے حق سے محروم ہوگئے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنی عادات ورسومات کے غلام ہیں ۔ تقلید آباء ان پر حکمران ہے اور ذاتی خواہشات اور شہوات نفسانیہ کے وہ اسیر ہیں اور ان لوگوں نے اپنے اوپر علم ومعرفت اور روشنی کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ سچائی سے فرار اختیار کرنے کے لئے خود کشی پر آمادہ ہیں اور عذاب کو جلدی سے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ سوچنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ کس قدر حماقت میں مبتلا ہیں اور جہالت کے اسیر ہیں ۔ چناچہ اپنے ناصح اور امین نبی کو کہتے ہیں ” اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس سے ہمیں ڈراتے ہو ؟ “ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد انہیں اپنے رسول کی طرف سے دو ٹوک جواب دلواتے ہیں ۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

‘ اس نے کہا ” تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا ۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں ‘ جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔

آیت ” قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِیْ فِیْ أَسْمَاء سَمَّیْْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَآؤکُم مَّا نَزَّلَ اللّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِیْنَ (71) اس نے کہا ” تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا ۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں ‘ جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اس انجام بد سے خبردار کردیا جس کی اطلاع انہیں ان کے رب نے دی تھی اور جس کا فیصلہ ان کے بارے میں ہوچکا تھا اور اب وہ ٹلنے والا نہ تھا ۔ یہ اللہ کا غضب تھا اور اللہ کا غضب جس پر آجائے وہ کبھی ٹلتا نہیں ۔ پھر کہا کہ تم تو جلدی عذاب چاہتے ہو لیکن اپنے معتقدات پر غور نہیں کرتے کہ وہ کس قدر بودے تصورات ہیں لیکن عذاب جلدی چاہتے ہو۔ ” کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باب دادا نے رکھ چھوڑے ہیں جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ “ تم نے اللہ کے ساتھ جو شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں وہ تو محض نام ہی نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور یہ نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے از خود گھڑ لیے ہیں ۔ محض اپنی طرف سے ‘ اللہ کی طرف سے اس پر تو کوئی سند نازل نہیں ہوئی ۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی اور نہ تمہارے پاس کوئی دلیل وبرہان ہے ۔ قرآن کریم اس ضمن میں بار بار یہ کہتا ہے کہ ” جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے “ ۔ یہ تعبیر ایک عظیم حقیقت کا اظہار کر رہی ہے ۔ یعنی ہر وہ بات ‘ ہر وہ قانون ‘ ہر وہ رواج غرض ہر وہ فکر وتصور جس کی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی برہان نہ ہو ‘ وہ بےحقیقت ہلکا ‘ بےاثر ‘ زائل ہونے والا اور کالعدم ہے اور انسانی فطرت ایسی چیز کو ہلکا تصور کرتی ہے ۔ لیکن جب کوئی بات منجانب اللہ ہوتی ہے تو وہ بھاری ‘ نافذ العمل اور گہری ہوتی ہے اس لئے کہ اس کی پشت پر اللہ کی دلیل ہوتی ہے ۔ دنیا میں ہم نہایت ہی زرق وبرق الفاظ سنتے ہیں ‘ بیشمار مذاہب ونظریات پڑھتے ہیں ‘ بیشمار کھوٹے اور بےحقیقت تصورات دیکھتے ہیں اور بیشمار رسومات اور عادات کو دیکھتے ہیں ، جنہیں دنیا والوں کے لئے مزید مستحکم کیا جاتا ہے لیکن جب اللہ کا کلمہ آتا ہے تو یہ تمام چیزیں برف کی طرح پگھل جاتی ہیں اس لئے کہ اللہ کے کلمے کے اندر ایسی قوت و حرارت ہوتی ہے کہ اس کی تپش تو یہ چیزیں برداشت ہی نہیں کرسکتیں ۔ یہ وجہ ہے کہ حضرت ہود نہایت ہی اہتمام ‘ وثوق ‘ اطمینان اور چیلنج کے انداز میں جواب دیتے ہیں ۔ ” اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ جو لوگ بھی اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ‘ ان کے اندر یہ اطمینان اور قوت ہوتی ہے ‘ انہیں یقین ہوتا ہے کہ باطل کمزور ‘ ہلکا اور بےوزن ہوتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آئے ‘ اگرچہ بہت عظیم نظر آئے ۔ داعی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ار اس کو تائید ایزدی حاصل ہے ۔ چناچہ مزید انتظار کئے بغیر کہا جاتا ہے ۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے ۔

آیت ” َأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَمَا کَانُواْ مُؤْمِنِیْنَ (72) ” آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے ۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ کہا گیا کہ ہم نے انکی جڑ کاٹ دی ۔ (دابر) عربی میں اس آخری شخص کہا جاتا ہے جو قافلے کے آخری سرے میں ہوتا ہے ۔ غرض جھٹلانے والوں کی تاریخ کا یہ دوسرا صفحہ بھی اب الٹ دیا جاتا ہے اور ایک بار پھر تاریخ دیکھتی ہے کہ جن لوگوں نے نصیحت سے استفادہ نہ کیا ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ ان لوگوں کی ہلاکت کی وہ تفصیلات یہاں نہیں دی گئیں جو قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر دی ہیں ‘ لہذا ہم بھی اس سرسری نظر میں قرآن کے انداز کا اتباع کرتے ہوئے یہاں ہی رک جاتے ہیں اور مزید تفصیلات وہی دیں گے جہاں اس قصے کی دوسری تفصیلات دی گئی ہیں ۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آگئی ہے ۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے ‘ لہذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا ۔

آیت ” نمبر 73 تا 79۔ قصہ انسانیت کی کتاب کا اب ایک اور صفحہ الٹا جاتا ہے ۔ اس صفحہ میں تاریخ کے ناپیدار کنار سمندر کی گہرائیوں کی ایک عظیم لہر اٹھی ہے ۔ انسانیت کی کشتی ایک بار پھر منحرف ہو کر پیچھے چلی گئی ہے اور اب وہ مکمل جاہلیت کے چنگل میں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان کشمکش کا ایک نیا منظر سامنے ہے اور مکذبیں اور جھٹلانے والوں کی ایک نئی قتل گاہ منظر پر آنے والی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحاً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 73) ” اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ وہی کلمہ ہے جس سے اس جہان کا آغاز ہو اور اسی پر اس کا اختتام ہوگا ۔ اعتقاد طرز عمل اور نقطہ نظر کی وہی سمت ہے جو دعوت وتبلیغ میں اختیار کی جا رہی ہے ۔ وہی انداز کلام وگفتگو ہے جو روز اول سے جاری ہے ۔ تمام انبیاء کے ہاں یہی طرز تبلیغ ہے ۔ ہاں یہاں ایک عنصر کا اضافہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کی پشت پر اب استدلال کے ساتھ ساتھ ایک معجزہ بھی نظر آتا ہے اور یہ معجزہ خود قوم ثمود کے مطالبے کے نتیجے میں اللہ کی قدرت کاملہ کا مظہر ہے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کی تصدیق و تائید کے لئے ہے ۔ آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ ہَـذِہِ نَاقَۃُ اللّہِ لَکُمْ آیَۃً “ (7 : 73) ” تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آگئی ہے ۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے “۔ یہاں سیاق کلام سے اصل مطلوب یہ ہے کہ دعوت اسلامی اپنے اصولوں کے اعتبار سے ایک ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو لوگ انکار کرتے ہیں اور اس دعوت کو جھٹلاتے ہیں ان کا حشر کیا ہوتا ہے ۔ اس لئے قصوں کی اہم اہم جھلکیاں دی گئی ہیں ۔ یہاں یہ تفصیل اس لئے نہیں دی گئی کہ انہوں نے اس طرح معجزے کا مطالبہ کیا اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں معجزہ دکھایا بلکہ صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کو دعوت دی گئی اور اس کے بعد معجزہ دکھایا گیا ۔ ناقہ کے بارے میں بھی صرف اسی قدر کہا گیا کہ وہ اللہ کی جانب سے ایک نشانی تھی ۔ یہ اللہ کی ناقہ تھی اور ایک معجزہ تھی ۔ اس انداز کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی ناقہ تھی یا اس ناقے کی پیدائش معجزانہ انداز میں ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نشانی کہلائی ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ” اللہ کی اونٹنی “ کے الفاظ سے پکارا گیا اور وہ نشانی تھی اس بات کی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت برحق ہے ۔ اس ناقہ کے بارے میں بس ہم اتنی ہی معلومات پر اکتفاء کرتے ہیں جو یقینی ہیں اور اس قدر اشارات ہی ان روایات سے بہتر ہیں جو یقینی نہیں ہیں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ آیت ” فَذَرُوہَا تَأْکُلْ فِیْ أَرْضِ اللّہِ وَلاَ تَمَسُّوہَا بِسُوَء ٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73) ” لہذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا ۔ “ یہ اللہ کی ناقہ ہے اور اسے اللہ کی زمین میں آزادنہ چرنے دو اور اگر تم نے اسے برے ارادے سے چھوا بھی تو تم پر عذاب الہی نازل ہوگا ۔ یہ معجزہ پیش کرنے اور اس نشانی کے بارے میں خبردار کرنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) قوم کو نصیحت اور یاد دہانی شروع کردیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ انکی دعوت پر غور کرو اور ذرا انسانی تاریخ پر بھی نگاہ ڈالو ۔ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے دوسری اقوام کو ہلاک کرکے تمہیں مواقع دیئے ہیں۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین یہ منزلت بخشی کہ آج تم ان کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو ۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

آیت ” وَاذْکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَکُمْ فِیْ الأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُہُولِہَا قُصُوراً وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتاً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ وَلاَ تَعْثَوْا فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (74) ” یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین یہ منزلت بخشی کہ آج تم ان کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو ۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ قوم ثمود کا مسکن کہاں تھا ؟ لیکن دوسری سورة میں ہے کہ یہ الحجر میں رہتے تھے ‘ جو حجاز اور شام کے درمیان کا علاقہ ہے حضرت صالح (علیہ السلام) ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ذرا دیکھو کہ اللہ نے تم پر کس قدر انعام کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمین پر نہایت ہی ترقی یافتہ اور سیاسی اعتبار سے ایک قوت تھے ۔ ان کے جغرافیہ کی طرف جو اشارہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پہاڑ بھی تھے اور ہموار علاقے بھی تھے ۔ وہ ہموار علاقوں میں عالیشان محل بناتے تھے اور پہاڑوں کو بھی تراش کر مکانات بناتے تھے ۔ گویا اس مختصر آیت میں ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) یہ بھی بتاتے تھے ۔ گویا اس مختصر آیت میں ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) یہ بھی بتاتے ہیں کہ عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج حاصل ہوا ۔ اگرچہ یہ لوگ قوم کی سر زمین میں نہ رہتے تھے ۔ ہاں یہ حقیقت واضح ہے کہ وہ عاد کی تہذیب کے بعد نمودار ہونے والی تہذیب کے حامل تھے اور حجر سے باہر بھی دور دراز علاقوں تک ان کی مملکت پھیلی ہوئی تھی ۔ اس طرح وہ خلیفۃ اللہ فی الارض کے منصب پر فائز تھے اس لئے حضرت صالح ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارا کام فساد فی الارض نہیں ہے اور تمہیں اپنی شان و شوکت پر غرور نہیں کرنا چاہئے ۔ تمہیں چاہیے کہ ذرا پچھلی اقوام کے انجام کو نگاہ میں رکھو ۔ یہاں سیاق قصہ میں ایک دوسرا خلا بھی ہے جس کا ذکر نہیں ہوا ‘ یہ کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو بعض لوگوں نے قبول کرلیا اور مطیع فرمان لوگ تھے اور بعض لوگوں نے تکبر کرکے اسے رد کردیا ۔ کسی علاقے کے بااثر لوگ ہمیشہ دعوت اسلامی کو سب سے آخر میں قبول کرتے ہیں کیونکہ اس دعوت کا منشا یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بڑائیاں اور خدائیاں چھوڑ کر صرف الہہ واحد کو بڑا اور بادشاہ تسلیم کرلیں جو رب العالمین ہے ۔ اس سے قبل یہ بڑے لوگ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جن ضعفاء نے اپنی گردنوں سے طاغوت کی غلامی کا جوا اتار پھینکا ہے اور اللہ کے سوا تمام غلامیوں سے آزاد ہوگئے ہیں ان پر تشدد کریں ۔۔۔۔۔۔۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے اور بااثر لوگ ان ضعفاء پر تشدد کرتے ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے نئے قسم قسم کا فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں ۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “ انہوں نے جواب دیا ” بیشک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

ان بڑائی کے مدعیوں نے کہا ” جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحاً مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّہِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) ” اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “ بااثر لوگوں کی طرف سے یہ سوال تہدید اور ڈرانے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس بات کو بہت ہی برا سمجھا کہ یہ غریب لوگ بھی صالح کے جنبہ دار بن گئے ہیں اور یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تصدیق کر رہے ہیں ؟ ۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ضعیف لوگ جب ایمان لے آتے ہیں تو وہ ضعیف نہیں رہتے ۔ ایمان ان کے دلوں کو قوت اور جرات سے بھر دیتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر اطمینان اور یقین پیدا ہوجاتا ہے ‘ انہیں اپنے نظریات پر اعتماد ہوتا ہے ‘ لہذا اب دنیاوالوں کی تہدید و تخویف اور ڈراوے دھمکاوے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ نہ مذاق اور استہزاء کان ان پر اثر ہوتا ہے ۔ اب وہم مستکبرین کو خاطر میں نہیں لاتے اور ایمان کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اور جواب میں یہ مستکبرین بھی تہدید آمیز لہجے میں یہ بتا دیتے ہیں کہ اچھا ہم تو اس دعوت کا صاف صاف انکار کر رہے ہیں ۔ آیت ” قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِیَ آمَنتُمْ بِہِ کَافِرُونَ (76) ” انہوں نے جواب دیا ” بیشک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ۔ “ ان بڑائی کے مدعیوں نے کہا ” جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ “ حالانکہ صالح (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آئے تھے ‘ ان دلائل ومعجزات کے بعد پھر شک کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ اکابرین قوم اس لئے انکار نہ کر رہے تھے کہ انکے سامنے دلائل ومعجزات کی کوئی کمی تھی بلکہ وہ اس لئے منکر تھے کہ وہ ایک ایسے نظام مملکت کو تسلیم نہ کرنا چاہتے تھے جس میں صرف رب العالمین کی اطاعت ہوتی ہو ۔ مسئلہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دل میں حاکمیت واقتدار کی ایک اعلی اور گہری خواہش پائی جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے شیطان انسان پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے قولی انکار کے بعد کافرانہ کاروائی کی اور اللہ کی اس ناقہ پر دست درازی کی جو درحقیقت نبی وقت کی تائید کیلئے بطور معجزہ لائی گئی تھی اور جس کے بارے میں نبی وقت نے قبل از وقت ان کو متنبہ کردیا تھا کہ وہ اس رپ دست درازی سے باز رہیں ورنہ وہ ایک دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے ۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کیخلاف ورزی کر گزرے اور صالح سے کہہ دیا کہ ” لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے ۔

آیت ” فَعَقَرُواْ النَّاقَۃَ وَعَتَوْاْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُواْ یَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (77) ” پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کیخلاف ورزی کر گزرے اور صالح سے کہہ دیا کہ ” لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے ۔ “ معصیت اور نافرمانی کے بعد یہاں ان کی خود سری بھی عیاں ہے ۔ یہاں ان کی معصیت اور خود سری کے لئے لفظ ” عتو “ استعمال ہوا ہے تاکہ انکی نفسیاتی حالت کی تصویر بھی اچھی طرح سامنے آجائے جس کی وجہ سے وہ عذاب کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر کو حقیر جانتے ہیں۔ بغیر کسی تاخیر کے اب ان کے خاتمے کا اعلان کردیا جاتا ہے ۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

‘ آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (78) ” آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “ چناچہ دہلا دینے والی مصیبت آگئی اور اس کے نتیجے میں ان کو اوندھا اس لئے گرایا گیا تاکہ انکی اکڑ اور سرکشی کے لئے مناسب سزا ان کو دے دی جائے کیونکہ کڑک اور جھنجوڑنے کے نتیجے میں وہ خوفزدہ ہوئے اور بےحس و حرکت اوندھے منہ گرے ۔ انکی یہ حالت ان کی سرکشی اور اکڑ کے لئے مناسب سزا تھی ۔ الفاظ کی نفسیاتی تصویر کشی قابل دید ہے ۔ اب ان کو اسی طرح اوندھے پڑے چھوڑ کر بات کا رخ حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف مڑ گیا ‘ جس کی انہوں نے تکذیب کی تھی اور چیلنج دیا تھا ۔ آپ کا تبصرہ یہ رہا ۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے میری قوم ‘ میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیرخواہی کی مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں ۔

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِن لاَّ تُحِبُّونَ النَّاصِحِیْنَ (79) ” اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے میری قوم ‘ میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیرخواہی کی مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں ۔ “ یہ شہادت دے دی گئی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے پیغام پوری طرح پہنچا دیا تھا اور سرکشی اور نافرمانی کرکے انہوں نے خود اپنے آپ کو ان انجام کا مستحق بنایا تھا ۔ یہاں مکذبین کی تاریخ کا ایک دوسرا صفحہ لپیٹ دیا جاتا ہے ۔ اور کسی ڈرانے والے کی توہین وتکذیب کرنے والے برے انجام کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔ اب تاریخ کی گاڑی آگے بڑھتی ہے اور ہم عہد ابراہیم (علیہ السلام) میں پہنچ جاتے ہیں ۔ لیکن یہاں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان نہیں کیا جاتا کیونکہ یہاں ان سرکش نافرمانوں کا ذکر مطلوب ہے جنہیں ہلاک کردیا گیا ۔ یہ اس آیت اور موضوع کی تفصیل ہے جسے آغاز سورت میں لایا گیا تھا ۔ آیت ” وکم من قریۃ اھلکنھا “۔ ”’ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا “۔ یہ قصص گویا اس موضوع کی تفصیلات کے طور پر آ رہے ہیں جبکہ قوم ابراہیم کو ہلاک نہ کیا گیا چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی ہلاکت کے لئے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اور ان کی بت پرستی کو چھوڑ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ اس لئے یہاں قصہ لوط کو لایا جاتا ہے ۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور آپ کے معاصر تھے ۔ اس قصے میں ڈراوا ہے ‘ اور لوگوں کی طرف سے تکذیب ہے اور انجام میں قوم کی ہلاکت ہے اور یہ اس سلسلہ قصص اور موضوع سے مناسبت رکھتا ہے ۔
Ayahs 7:80–81

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔

آیت ” نمبر 80 تا 84۔ قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔ یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔ قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔ آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔ عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے بھی مقصد صرف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ اس ملاپ کے نتیجے میں رحمت اور نعمت بھی حاصل ہوتی ہے ‘ اس طرح کہ اس ملاپ کے نتیجے میں سنت الہیہ کے مطابق سلسلہ حیات کی بقاء کا انتظام ہورہا ہے ۔ رہا یہ کہ مرد اور مرد کے درمیان جو عضویاتی یکسانیت ہوتی ہے تو اس سے کوئی صحت مند لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اس میں گندگی کا احساس ہوتا ہے اس لئے فطرت سلیمہ اس ملاپ کو قبول نہیں کرتی ۔ اس سلسلے میں انسان کے اعتقادات اور تصورات کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں یورپ میں جو جاہلیت مروج ہے ‘ وہ اس جنسی بےراہ روی کو بڑی بےحیائی کے ساتھ پھیلاتی ہے اور یہ بےراہ روی محض نظریاتی بےراہ روی کے نتیجے میں ہے ۔ ہمارے دور میں یہودی تمام غیر یہودی اقوام کو اخلاقی اعتبار سے برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نشرواشاعت کے ادارے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نظریاتی اور اخلاقی طور پر غیر یہودی اقوام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے رہے کہ یہ جنسی انتشار اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ عورت پردہ کرتی ہے ۔ لیکن واقعات اس کے برعکس بتاتے ہیں ‘ اس لئے کہ یورپ وامری کہ کے اندر کسی مرد اور عورت کے ملاپ کے لئے کوئی ضابطہ یا کوئی قید نہیں ہے ‘ بعینہ اسی طرح جس طرح بہائم بوقت ضرورت ملتے ہیں ۔ لیکن ان کھلے معاشروں میں خلاف وضع فطرت فعل بھی دوسرے معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ ہم جنسی پرستی صرف مردوں کے اندر ہی نہیں عورتوں کے درمیان بھی یہ فعل رائج ہے ۔ اگر کسی کو شبہ ہے تو وہ مسٹر کنزی کی کتابیں پڑھیں ۔ ” مردوں کے درمیان جنسی تعلقات “ اور ” عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات “۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ جھوٹے ذرائع ابلاغ اپنی اس جھوٹی بات کو دہراتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فعل بد عورتوں کے پردے کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں پھیلتا ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ وہ ان مقاصد کے لئے کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے اکابرین یہود کے پروٹوکول میں کیا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ قرآنی قصے کی طرف آئیے اور سنئے کہ وہ اپنی نبی کو کیا جواب دیتے ہیں۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔

آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82) ” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “ عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور مرد کی آزادی کا نام دیتے ہیں یہ جاہلیت آج کے دور میں ایسے پاکباز لوگوں پر رزق کے دورازے بند کررہی ہے انکا زندہ رہنا اس نے مشکل کردیا ہے ۔ ان کی دولت کے ذرائع سکیڑ دیئے گئے ہیں ‘ ان کے افکار و تصورات کو دبایا جاتا ہے ۔ جاہلیت اس بات کو دیکھ ہی نہیں سکتی کہ کوئی پاکبازی اختیار کرے کیونکہ اس جاہلیت کو صرف وہی لوگ قبول ہیں جو گندے ناپاک اور برائیوں میں ملوث ہوں ‘ پاک لوگوں کے لئے اس کا دل تنگ ہے ۔ ہر دور میں جاہلیت کی ذہنیت یہی رہی ہے ۔ چناچہ انکو جلدی اپنے انجام سے دو چار کردیا جاتا ہے اور تمام دوسری تفصیلات کو یہاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
Ayahs 7:83–84

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84) ” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔ اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔ ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔ اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔
Ayahs 7:85–86

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔

آیت ” نمبر 85 تا 93۔ یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85) ” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔ آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85) ” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “ سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔ آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86) لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “ اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں قائم کرو اور زندگی کے تمام امور میں اس کے دین اور حکم کو نافذ کرو ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس اصولی اور بنیادی بات سے اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے تمام معاملات کا دارومدار اسی اصول پر ہے اور انسان کے اخلاق اور اس کا باہمی طرز عمل اسی قاعدے اور سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور جب تک یہ اصول قائم و استوار نہ ہو ‘ انسان کا کوئی عمل قائم و استوار نہیں رہ سکتا ۔ اللہ وحدہ کی بندگی کی دعوت اور اپنی پوری زندگی کو توحید کے جادہ مستقیم پر قائم کرنے کی دعوت اور شریعت الہیہ کے نفاذ اور فساد فی الارض کو چھوڑنے کی دعوت کے ساتھ ساتھ ان کو حضرت شعیب (علیہ السلام) اس طرف بھی متوجہ فرماتے ہیں کہ تم پر اللہ کا جو فضل وکرم ہے اور اس نے جو انعامات تم پر کیے ہیں ان پر اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ ” یاد کرو وہ زمانہ جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر تم ان انعامات پر شکر ادا نہیں کرتے اور بدستور آمادہ فساد رہنے پر مصر ہو تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ان کی قوم عدل و انصاف اور وسعت قلبی کا رویہ اختیار کرے ۔ ان لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالے جو ایمان لا کر اللہ کی ہدایت کے پیروکار بن گئے ہیں اور جن کو اللہ نے اپنے دین کی طرف ہدایت کردی ہے ۔ یہ لوگ ہر طرف سے ان لوگوں کی راہ روکنے کی کوشش نہ کریں ۔ نہ ان پر زندگی کے دروازے بند کریں اور نہ انکو ڈرائیں دھمکائیں ۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اہل ایمان اور اہل کفر کی اس کشمکش میں کم از کم غیر جانبدار ہو کر نتائج کا انتظار کریں ۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔

آیت ” وَإِن کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنکُمْ آمَنُواْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ وَطَآئِفَۃٌ لَّمْ یْْؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ حَتَّی یَحْکُمَ اللّہُ بَیْْنَنَا وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ (87) ” اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو منصفانہ منصوبے کو اپنانے کا مشورہ دیا اور یہ آخری حد تھی جہاں تک وہ انکورعایت دے سکتے تھے ‘ اس سے پیچھے وہ ایک قدم بھی نہ ہٹ سکتے تھے ۔ وہ یہ کہ ان کی قوم کفر واسلام کی اس کشمکش میں غیر جانبدار ہو کر انتظار کرے اور مسلمانوں کو اذیت نہ دے ۔ قوم جس دین کو چاہے اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ خود کوئی فیصلہ کردے ۔ لیکن طاغوتی قوتیں اس بات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتیں کہ اس کرہ ارض پر ایمان کا معمولی وجود بھی ہو اور وہ ایسی جماعت کی شکل میں ہو جو طاغوت کی اطاعت نہ کرتی ہو ۔ اس کرہ ارض پر ایسی جماعت مسلمہ ‘ جو صرف اللہ کی غلام ہو ‘ جو اللہ کے اقتدار اعلی کے سوا کسی اور اقتدار کو نہ تسلیم کرتی ہو ‘ اپنی زندگی میں اللہ کے قانون کے سوا کسی اور کا قانون نہ مانتی ہو اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے نظام کے سوا کسی اور نظام کی قائل نہ ہو ۔ ایسی جماعت کا مجرد پایا جانا ہی طاغوت کے وجود کے لئے خطرہ ہوتا ہے ۔ اگرچہ اس قسم کی جماعت خود اپنے دائرے کے اندر ہی محدود کیوں نہ ہو ‘ طاغوتی قوتوں کو فی الحال نہ بھی چھیڑتی ہو اور طاغوت کو وہ اپنی طبعی انجام تک پہنچنے کیلئے انتظار کررہی ہو۔ حقیقت یہ ہے طاغوتی قوتوں نے اپنے اوپر از خود یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اسلامی قوتوں کے خلاف برسرجنگ رہیں گے اگرچہ اسلامی قوتیں جنگ سے بچنا چاہیں کیونکہ حق کا وجود ہی ان قوتوں کے لئے خوفناک ہوتا ہے اور طاغوت ہر وقت حق سے کانپتا رہتا ہے ۔ حق کا وجود ہی اس کشمکش کے آغاز کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ اگر کوئی سمجھے کہ حق ہے اور باطل اس کے خلاف نہ اٹھ رہا ہو ‘ تو ایسے اہل حق کو غور کرنا چاہئے کہ وہ حق پر ہیں بھی کہ نہیں ؟ آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْْبُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَکَ مِن قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا “۔ (7 : 88) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ یہ ہے طاغوت کی ننگی خود سری ۔ اسے اصرار ہے کہ وہ حق کے ساتھ یہ معرکہ جاری رکھے گا اور یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ حق اور باطل باہم زندہ رہ سکیں یا ان کے درمیان فائز بندی ہو سکے۔ لیکن نظریاتی قوتوں پر باطل کی دھمکیوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا ۔ حق کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آتی اور وہ بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس مقام سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کی جانب سے یہ آخری رعایت تھی کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو عقیدہ چاہیں اختیار کریں ‘ جس کے اقتدار میں چاہیں اپنے آپ کو داخل کردیں اور دونوں حریف اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ یہ وہ مقام ہے جس سے مزید پیچھے کوئی حامل حق داعی نہیں ہٹ سکتا ۔ چاہے طاغوتی قوتوں کی طرف سے شدید دباؤ کیوں نہ ہو ۔ اگر کوئی داعی اس مقام سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ گویا اس سچائی کو خیر باد کہہ دیتا ہے جس کا وہ نمائندہ ہے بلکہ اس سے خیانت کرتا ہے ۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان مستکبرین کی طرف سے یہ دھمکی ملتی ہے کہ وہ یا تو اپنے نظریات کو ترک کرکے واپس ہماری ملت میں آجائیں ورنہ پھر ہمارے حلقے سے نکلنے کے لئے تیار ہوجائیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) صاف اعلان فرما دیتے ہیں کہ وہ ہر گز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ نے انہیں جس برے دن سے نجات دی وہ پھر اسی میں داخل ہوجائیں ۔ اب وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان اب تو ہی فیصلہ کردے ۔ اور ہماری مدد فرما ۔ کیونکہ تو ہی مدد کرنے والا ہے ۔