4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے ایسے رسول بھیجے جن کا ہم نے آپ سے اس سے پہلے حال بیان کیا اور بہت سے ایسے رسول بھیجے جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا، اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے خاصل طور پر کلام کیا

(1) عبد بن حمید والحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں وابن حبان نے اپنی صحیح میں والحاکم وابن عساکر ابوذر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ انبیاء کتنے ہیں ؟ فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار، پھر میں نے پوچھا یا رسول اللہ ان میں کتنے رسول تھے ؟ آپ نے فرمایا تین سو تیرہ جو ایک بڑی جماعت ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اے ابو ذر ! چار سریانی تھے آدم، شیث، نوح اور خنوخ اور وہ ادریس (علیہ السلام) ہیں اور وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے قلم سے لکھا۔ اور چار عرب میں تھے۔ ھود، صالح، شعیب (علیہم السلام) اور تمہارے نبی ﷺ بنی اسرائیل میں انبیاء میں سے سب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) تھے اور ان کے آخری عیسیٰ (علیہ السلام) تھے نبیوں میں سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) تھے اور ان کا آخری تمہارا نبی ہے۔ (2) ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کتنے انبیاء ہیں ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں سے تین سو پندرہ تھے جو جم غفیر ہے۔ (3) ابو یعلی وابو نعیم نے الحلیہ میں (ضعیف سند کے ساتھ) انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے جو میرے بھائی گزر چکے ہیں وہ آٹھ ہزار نبی تھے آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں سے تین سو پندرہ تھے جو جم غفیر ہے۔ (4) حاکم نے (ضعیف سند کے ساتھ) انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آٹھ ہزار انبیاء کے بعد بھیجے گئے ان میں سے چار ہزار بنی اسرائیل میں سے تھے۔ (5) ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے لفظ آیت ” ورسلا قد قصصہم علیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی غلام کو بھی نبی بنا کر بھیجا تھا اور وہ ان نبیوں میں سے ہے جن کو محمد ﷺ پر بیان نہیں کیا گیا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ حبشیوں میں سے بھی ایک نبی بھیجا گیا۔ محمد ﷺ کا نام آسمان پر ہر جگہ مکتوب ہے (6) ابن عساکر نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) پر انبیاء ومرسلین کی تعداد کے بارے میں وحی کی پھر آدم اپنے بیٹے شیث (علیہ السلام) پر متوجہ ہوئے اور فرمایا اے میرے بیٹے ! تو میرے بعد میرا خلیفہ ہے اسے تقویٰ اور مضبوط کرنے کے ساتھ پکڑ جب تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ساتھ ہی محمد ﷺ کا ذکر بھی کر۔ کیونکہ میں نے ان کا نام عرش کے پایہ پر لکھا ہوا دیکھا ہے۔ اور میں (ان دنوں) روح اور مٹی کے درمیان تھا پھر میں نے آسمان کا چکر لگایا کوئی جگہ میں نے آسمان میں نہیں دیکھی جس میں محمد ﷺ کا نام نہ لکھا ہو میرے رب نے مجھ کو جنت میں ٹھہرایا میں نے جنت میں کوئی محل اور کوئی بالاخانہ ایسا نہیں دیکھا جس میں محمد ﷺ کا نام نہ لکھا ہو اور میں نے محمد ﷺ کے نام کو حورعین کی گردنوں میں لکھا ہوا دیکھا اور جنت کے درختوں کے پتوں پر اور طوبیٰ درخت کے پتوں پر اور سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر اور پردوں کے کناروں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا دیکھا حضور ﷺ کا ذکر کثرت سے کر کیونکہ فرشتے ہر گھڑی ان کا ذکر کرتے ہیں۔ (7) الطبرانی اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) یونس کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو عبس میں سے ایک آدمی تھا جس کو خالد بن سنان کہا جاتا تھا اس نے اپنی قوم سے کہا میں تم سے حدثان کی آگ کو ٹھنڈی کرسکتا ہوں عمارہ بن زید نے اسے کہا جو اس کی قوم میں سے ایک آدمی تھا اللہ کی قسم ! اے خالد ! تو نے ہم کو جو بھی بات کہی وہ سچی ہوتی ہے تیرا اور حدثان کی آگ کا کیا معاملہ ہے۔ تو اس کے بارے میں خیال کرتا ہے کہ تو اس کو بجھا دے گا۔ سماک بن حرب نے کہا وہ چلا اور اس کے ساتھ عمارہ بھی چلا اپنی قوم میں سے تیس آدمیوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ اس (آگ) کے پاس آئے اور وہ نکل رہی تھی پہاڑ کے دامن سے حرۃ (کے مقام) سے۔ اس کو حرۃ اشجمع کہا جاتا تھا۔ خالد نے ان کے لئے ایک خط کھینچا اور ان لوگوں کو اس میں بٹھا دیا اور کہا اگر میں دیر لگاؤں تم پر (واپس آنے سے) تو مجھ کو میرے نام کے ساتھ نہ پکارنا وہ آگ نکلی اس حال میں کہ وہ ایک سرخی مائل گھوڑے ہیں جو بعض، بعض کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ خالد ان کے آگے آیا اور ان کو اپنی لاٹھی سے مارنا شروع کیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ ظاہر ہوئی ظاہر ہوئی ظاہرہوئی ایک ہدایت۔ ابن راعیہ معزی نے خیال کیا کہ میں اس دائرہ سے باہر نہیں نکلتا تھا اور میرے کپڑے بھیگ جاتے یہاں تک کہ ان میں پھٹن واقع ہوگئی اس نے (یعنی خالد نے) ان پر دیر لگائی عمارہ نے کہا اللہ کی قسم ! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہوتا تو وہ تمہاری طرف ضرور نکلتا انہوں نے کہا اس نے ہم کو اپنے نام کے ساتھ بلانے سے منع کیا تھا۔ عمارہ نے کہا اس کو اس کے نام کے ساتھ پکارو۔ اللہ کی قسم ! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہے تو وہ تمہاری طرف نکلے گا انہوں نے اس کو اس کے نام کے ساتھ پکارا اس نے اپنے سر کو ان کی طرف نکالا اور کہا کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا مجھ کو میرے نام کے ساتھ نہ پکارنا اللہ کی قسم تم نے مجھے قتل کردیا ہے اب مجھے دفن کردو جب تمہارے ساتھ گدھے گزریں تو ان میں سے ایک گدھا دم کٹا ہوگا۔ تو مجھے قبر سے نکال لینا تم مجھ کو زندہ پاؤ گے انہوں نے اس کو دفن کردیا ان کے پاس سے گدھے گزرے جن میں ایک گدھا دم کٹا ہوا تھا انہوں نے کہا اس کی قبر کو اکھیڑو کیونکہ اس نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم اس کی قبر کو اکھیڑیں۔ عمارہ نے کہا مضر ہمارے بارے میں یہ باتیں نہ شروع کردیں کہ ہم مرد اکھیڑتے ہیں اسے کبھی نہ اکھیڑو۔ اور خالد نے ان کو یہ بتا رکھا تھا کہ اس کی بیوی کی زرہ میں دو تختیاں ہیں جب تم پر معاملہ پیچیدہ ہوجائے تو ان دونوں کو دیکھنا بیشک تم دیکھ لو گے کہ جس کے بارے میں تم سوال کرو گے اور کہا ان دونوں کو حائضہ عورت نہ چھوئے جب وہ اس کی بیوی کے پاس لوٹ آئے تو انہوں نے اس سے ان دونوں کے بارے میں سوال کیا تو اس نے ان دونوں کو نکالا اس حال میں کہ وہ حائضہ تھی اور تختیوں سے وہ علم ضائع ہوگیا۔ ابو یونس (رح) نے کہا کہ سماک بن حرب (رح) نے فرمایا کہ نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ نبی تھے اس کی قوم نے ان کو ضائع کردیا اس کا بیٹا نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا مرحبا اے میرے بھائی کے بیٹے ! حاکم نے کہا یہ بخاری کی شرط پر روایت صحیح ہے کیونکہ ابو یونس ہی حاتم بن صغیرہ ہے ذہبی نے کہا یہ روایت منکر ہے۔ آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ادریس (علیہ السلام) ہیں (8) ابن سعد والزبیر بن بکار نے موفقیات میں وابن عساکر نے کلبی (رح) سے فرمایا کہ پہلے نبی جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں بھیجا وہ ادریس (علیہ السلام) تھے اور یہی اخنوع بن یرد ہے اس کا نسب یوں ہے یارد بن مھلا یبل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم پھر رسولوں (کا سلسلہ) منقطع ہوگیا یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) بن لمک بن متوشلخ بن اخنوح بن یارد مبعوث ہوئے اور سام بن نوح بھی نبی تھے۔ پھر رسولوں (کا سلسلہ) منقطع ہوگیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو نبی بنا کر بھیجا ان کا نسب یہ ہے ابراہیم بن تارح اور تارح ہی آزر ہے) ۔ بن ناحور بن شاروح بن ارغو بن فالغ (اور فالغ ہی فالغ ہے جنہوں نے زمین کو تقسیم کیا) بن عامر بن شالح بن ارفخشد بن سام بن نوح۔ پھر اسماعیل بن ابراہیم کو مبعوث فرمایا جو مکہ میں فوت ہوئے اور وہی دفن ہوئے پھر اسحاق بن ابراہیم کے جو شام میں فوت ہوئے اور لوط بن ھاران بن تارح کے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) اس کے چچا تھے اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے پھر اسرائیل اور وہ یعقوب بیٹے اسحاق کے ہیں پھر یوسف بن یعقوب پھر شعب بن بوبب بن عنقاء بن مدین بن ابراہیم پھر ھود بن عبد اللہ بن الخلود بن عاد بن بن عوض بن ارم بن سام بن نوح، پھر صالح بن آسف بن کماشج بن اروم بن ثمود بن جابر بن ارم بن سام بن نوح پھر موسیٰ اور ہارون جو عمران بن فاھت بن لاوی بن یعقوب کے بیٹے تھے پھر ایوب بن رازخ بن امور بن لیغزر بن العیص پھر داؤد بن ایشاء بن عوید بن ناخر بن سلمون بن نجشون بن خادب بن رام بن خضرون بن یہود بن یعقوب۔ پھر سلیمان بیٹے داؤد تھے پھر یونس بیٹے متی بنیامین کی اولاد میں سے جو یعقوب کی اولاد میں سے تھے اور الیاس بن بشیر بن العاذر بن ہارون بن عمران اور ذالکفل ان کے نام عویدیا تھا جو یہود بن یعقوب کی اولاد میں سے تھے سوائے ادریس کے اور نوح اور لوط اور ہود اور صالح (علیہم السلام) اور عرب میں سے کوئی نبی نہیں تھا سوائے پانچ کے ہود صالح (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، شعب (علیہ السلام) اور محمد ﷺ ان کو عرب اس لئے کہتے ہیں کیونکہ ان کے علاوہ کوئی نبی عربی میں بات نہیں بات کرتا تھا اس وجہ سے ان کو عرب کہتے ہیں۔ (9) ابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دس کے علاوہ سب نبی اسرائیل میں سے تھے نوح، ہود، صالح، لوط، ابراہیم، اسحاق، اسماعیل، یعقوب وشعب (علیہم السلام) اور محمد ﷺ ۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا ج کے دو نام ہوں سوائے عیسیٰ و یعقوب (علیہم السلام) کے کہ یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا اور عیسیی کا دوسرا نام مسیح تھا۔ (10) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آدم اور نوح کے درمیان ہزار سال کا عرصہ تھا اور نوح اور ابراہیم کے درمیان بھی ہزار سال کا عرصہ تھا اور ابراہیم اور موسیٰ کے درمیان بھی ہزار سال کا عرصہ تھا اور موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان چار سو سال کا عرصہ تھا اور عیسیٰ اور محمد ﷺ کے درمیان چھ سو سال کا عرصہ تھا۔ (11) ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے درمیان ایک ہزار نبی ہوئے۔ (12) الحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم کی عمر ہزار سال تھی اور ابن عباس نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزار سال کا عرصہ تھا نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کے درمیان ہزار سال کا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان سات سو سال کا، موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پندرہ سو سال کا عیسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی کے درمیان چھ سو سال کا عرصہ تھا۔ (13) ابن المنذر نے وائل بن داؤد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “ سے مراد ہے کئی مرتبہ (اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی ہوئی) ۔ (14) ابن مردویہ و طبرانی نے عبد الجبار بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابوبکر بن عیاش (رح) کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے ایک آدمی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “ انہوں نے فرمایا نہیں کہا اس کو مگر کافر نے (پھر فرمایا) میں نے اعمش (رح) پر پڑھا اور اعمش نے یحییٰ بن وثاب پر پڑھا اور یحییٰ بن وثاب نے ابو عبد الرحمن سلمی پر پڑھا اور ابو عبد الرحمن نے علی بن ابی طالب ؓ پر پڑھا۔ اور علی نے رسول اللہ ﷺ پر پڑھا ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “ ھیثمی نے کہا اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عبد الجبار کے کہ میں اس کو نہیں پہچانتا اور جس نے ابن عباس سے روایت کی ہے احمد بن جبار بن میمون وہ ضعیف ہے۔ (15) عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں ثابت (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو فرشتے آسمانوں میں بعض، بعض کی طرف گھومے اور اپنے ہاتھوں کو گالوں کے نیچے رکھا اور آواز لگا رہے تھے کہ موسیٰ کلیم اللہ وفات پاگئے پھر کون سی مخلوق ہے جو نہیں مرے گی۔
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

ہم نے رسول بھیجے جو خوشخبری سنانے والے تھے اور ڈرانے والے تھے تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے، اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے

(1) احمد و بخاری و ترمذی و نسائی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کو کوئی زیادہ غیرت مند نہیں ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور چھپی ہوئی برائیوں کو حرام فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ایسا نہیں ہے جس کو تعریف محبوب ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی خود ہی تعریف فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کے ہاں عذر محبوب نہیں اس وجہ سے نبیوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھجا۔ (2) احمد و بخاری ومسلم والحکیم الترمذی نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر ایسا نہیں ہے جو عذر کو قبول کرنے کو محبوب رکھتا ہو اسی لئے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں اس لئے جنت کا وعدہ فرمایا۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “ تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ تو نے ہماری طرف رسول نہیں بھیجے۔
Ayahs 4:166–170

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو آپ کی طرف اتاری، اس کو اپنے علم کے ساتھ اتاری ہے اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت ہی کافی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا بیشک وہ بڑی دور کی گمراہی میں جاپڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا اللہ ان کو نہیں بخشے گا اور نہ جہنم کی راہ کے علاوہ انہیں کوئی راہ بتلائے گا

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے رسول آگیا سو تم ایمان لاؤ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم کفر کرو سو بلاشبہ اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اللہ جاننے والا ہے اور حکیم ہے

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک جماعت یہودیوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ہوں اور بلاشبہ تم بھی جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم گواہوں پر کوئی تہمت نہیں۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب غلونہ کرو اپنے دین میں اور مت کہو اللہ کی شان میں مگر حق بات، مسیح جو عیسیٰ ابن مریم ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ کا کلمہ ہیں جس کو اللہ نے مریم تک پہنچایا اور اللہ کی طرف سے ایک روح ہے، سو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور مت کہو کہ تین خدا ہیں اس سے باز آجاؤ یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ معبود صرف اللہ ہی ہے جو اکیلا ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ کارساز ہونے کے کافی ہے

(1) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت فرمایا ” لا تغلوا “ سے مراد ہے (نئی باتیں) یعنی بدعتیں نہ بناؤ۔ (2) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکلمتہ القھا الی مریم “ یعنی اس کا کلمہ تھا ” کن فکان “ یعنی ہوجا پس وہ ہوگیا۔ (3) عبد بن حمید وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے دلائل میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ نجاشی نے جعفر سے کہا تیرا ساتھی (یعنی تیرے نبی ﷺ ابن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا آپ وہی فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح ہیں اور اس کا کلمہ ہیں اور ان کو ” بتول العذراء “ (کے پیٹ) سے نکالا ہے۔ (اس حال میں) کہ کوئی بشر ان کے قریب نہیں گیا (یہ سن کر) نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اس کو بلند کیا اور کہا اے جماعت علماء کی اور درویشوں کی انہوں نے کوئی بات زیادہ نہیں کی جو تم ابن مریم کے بارے میں کہتے ہو یہ لوگ اس میں اتنا اضافہ بھی نہیں کرتے جتنا اس لکڑی کا وزن ہے۔ مہاجرین حبشہ سے نجاشی کی گفتگو (4) البیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم اسی آدمی تھے ہمارے ساتھ جعفر بن ابی طالب تھے قریش مکہ نے عمارہ اور عمرو بن عاص کو تحائف دے کر نجاشی کے پاس بھیجا جب یہ دونوں اس کے پاس گئے تو اس کو سجدہ کیا اور اس کو ہدیہ بھی دیا اور ان دونوں نے کہا قوم میں سے کچھ لوگ ہمارے دین کو چھوڑ کر تیرے ملک میں مقیم ہوگئے ہیں نجاشی نے ان کو بلوایا جب یہ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے سجدہ نہیں کیا ان لوگوں نے کہا تم نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا جعفر نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس اپنے نبی کو بھیجا ہے اور ہم کو حکم فرمایا ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کریں۔ عمرو بن عاص نے کہا یہ لوگ عیسیٰ اور اس کی ماں کے بارے میں بھی تم سے مختلف رائے رکھتے ہیں بادشاہ نے کہا تم لوگ عیسیٰ اور اس کی ماں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم وہی کہتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی روح ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جس کو اس نے کنواری پاکدامن مریم کی طرف القاء کیا جس کو کسی بشر نے نہیں چھوا نجاشی نے ایک تنکا اٹھا کر کہا اور اس تنکے کے برابر بھی تم اس میں اضافہ نہیں کرتے میں تم کو خوش آمدید کہتا ہوں اور اس کو بھی کہ تم جس کی طرف سے آئے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ نبی ہیں اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اس کے پاس ہوتا اور میں ان کے جوتے اٹھاتا میری زمین میں (یعنی میرے ملک میں) جہاں تم چاہو رہو۔ (5) البخاری نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری تعریف حد سے زیادہ نہ کرو جیسے نصاری نے عیسیٰ کی تعریف حد سے زیادہ کردی (کہ ان کو خدا بنا دیا) بلاشبہ میں بندہ ہوں اور تم یوں کہو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ (6) مسلم نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے گواہی دی کہ لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ “ اور اس بات کی کہ عیسیٰ بھی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو انہوں نے مریم کی طرف القا فرمایا اور اللہ کی روح ہونے اور جنت اور دوزخ کے حق ہونے کی گواہی دی اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہونے کی اجازت دے گا جس دروازہ سے وہ داخل ہوجائے اگرچہ اس کا باطن کیسا ہی ہو (جنت میں داخل ہوگا) ۔
Ayahs 4:172–173

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح ہرگز اس کو عار نہیں سمجھے گا کہ اللہ کا بندہ بنے اور نہ مقرب فرشتے، اور جو کوئی شخص عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو ان کو عنقریب اپنے جمع فرمائے گا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کو پورے پورے بدلے عطا فرمائے گا اور فضل سے اور زیادہ دے گا اور جن لوگوں نے عار کی اور تکبر کیا سو ان کو دردناک عذاب دے گا اور یہ لوگ اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی یار اور مددگار نہ پائیں گے

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لن یستنکف “ سے مراد ہے کہ وہ ہرگز تکبر نہیں کریں گے۔ (2) ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں واسماعیل نے اپنی معجم میں (ضعیف سند کے ساتھ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” فیوفیہم اجورہم ویزیدہم من فضلہ “ میں ” اجورہم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے (اور فرمایا) ” ویزیدہم من فضلہ “ کہ وہ شفاعت کرے گا ان لوگوں کے بارے میں کہ جن کے لئے آگ واجب ہوچکی تھی۔ جنہوں نے ایمان والوں سے دنیا میں حسن سلوک کیا ہوگا۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک آئی ہے تمہارے پاس دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور ہم نے اتارا ہے تمہاری طرف واضح نور

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑا تو عنقریب ان کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل فرمائے گا اور ان کو اپنی طرف سے سیدھے راستہ پر پہنچا دے گا

(1) ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ رات کو حرکت کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے لفظ آیت ” یایھا الناس قد جاء کم برھان من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا “۔ (2) ابن عساکر نے سفیان ثوری (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا نام ان کو یاد نہیں رہا کہ لفظ آیت ” قد جاء کم برھان من ربکم “ سے محمد ﷺ مراد ہیں (اور) ” الیکم نورا مبینا “ سے کتاب مراد ہے۔ (3) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” برھان من ربکم “ میں ” برھان “ سے حجت مراد ہے۔ (4) ابن جریر ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قد جاء کم برھان من ربکم “ میں ” برھان “ سے گواہ مراد ہے اور ” وانزلنا الیکم نورا مبینا “ سے یہ قرآن مراد ہے۔ (5) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ” واعتصموا بہ “ سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

لوگ آپ سے فتوی طلب کرتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے، اگر کوئی شخص مرجائے اس کے کوئی اولاد نہیں اور اس کی ایک بہن ہے تو اس کے لئے اس مال میں کا آدھا ہے جو مرنے والے نے چھوڑا اور بہن کے پورے مال کا وارث ہوگا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو پس اگر دو بہنیں ہیں تو ان کے لئے اس مال میں سے دو تہائی ہے جو مرنے والے نے چھوڑا۔ اور اگر یہ لوگ بہن بھائی ہوں تو ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، اللہ تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

(1) ابن سعد واحمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میں مریض تھا اس حال میں کہ میری عقل ٹھکانے نہیں تھی آپ نے وضو فرمایا پھر مجھ پر پانی ڈالا تو مجھے عقل آگئی میں نے عرض کیا میرا کلالہ کے سوا کوئی وارث نہیں تو میراث کیسے تقسیم ہوگی تو یہ آیت فرائض (میراث) نازل ہوئی۔ (2) ابن سعد وابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ (3) ابن راھویہ وابن مردویہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کلالہ کی وراثت کیسے تقسیم ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ اتارا لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ آخر تک۔ گویا حضرت عمر ؓ اس کو اچھی طرح نہ سمجھ سکے تو انہوں نے حفصہ ؓ سے فرمایا کہ جب تو رسول اللہ ﷺ کو ہشاش بشاش دیکھے تو ان سے پوچھ لینا۔ جب انہوں نے آپ کو ہشاش بشاش دیکھا تو ان سے پوچھ لیا آپ ﷺ نے فرمایا تیرے باپ نے تجھ سے یہ کہا تھا میرا خیال نہیں کہ وہ اسے جانتا ہے حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ خیال نہ تھا کہ میں اس کو جانتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا۔ (4) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن مردویہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے (اپنی بیٹی) حفصہ کو حکم فرمایا کہ وہ نبی ﷺ سے کلالہ کے بارے میں پوچھے میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اس کو ایک کندھے کی ہڈی پر لکھ دیا آپ نے پوچھا تجھے اس کا کس نے کہا تھا کیا عمر نے ؟ میں نہیں خیال کرتا ہوں کہ وہ اس کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ کیا اس کو آیۃ الصیف کافی نہیں ہے ؟ سفیان نے کہا آیۃ الصیف جو سورة نساء میں ہے یعنی لفظ آیت ” وان کان رجل یورث کللۃ “ (النساء آیت 2) ” او امراہ “ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آیت نازل ہوئی جو سورة نساء کے آخر میں ہے۔ (5) مالک ومسلم وابن جریر و بیہقی نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے زیادہ کبھی کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کیا جتنا میں نے کلالہ کے بارے میں سوال کیا یہاں تک کہ آپ نے میرے سینے میں اپنی انگلی چھبو دی اور فرمایا تجھ کو آیۃ الصیف کافی ہے جو سورة نساء کے آخر میں ہے۔ کلالہ کا حکم (7) عبد بن حمید وابو داؤد (مراسیل میں) اور بیہقی نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کلالہ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کیا تو نے وہ آیت نہیں سنی جو سورة صیف میں نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ یعنی جو کوئی شخص نہ اولاد چھوڑے اور نہ والد چھوڑے تو کلالہ اس کا وارث ہوگا۔ (8) عبد الرزاق و بخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں اس میں ہیں کہ جن کے بارے میں، میں پسند کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو حتمی حکم ارشاد فرماتے جس پر ہم عمل کرتے یعنی دادا اور کلالہ اور سود کے دروازوں میں سے دروازے (یعنی سود کی صورتیں) ۔ (9) احمد نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تجھ کو آیۃ الصیف کافی ہے اور میں اس بات کو زیادہ محبوب رکھتا تھا کہ میں آپ سے اس کے بارے میں سوال کروں اس بات سے بھی زیادہ محبوب کہ (اس کے بدلے میں) میرے لئے سرخ اونٹ ہوجائیں۔ (10) عبد الرزاق والمدنی وابن المنذر حاکم نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں چند باتوں کو نبی ﷺ سے دریافت کروں یہ میرے نزدیک سرخ اونٹون سے بھی زیادہ محبوب تھا آپ کے بعد خلیفہ (کون ہوگا) اور اس قوم کے بارے میں جو یہ کہتی کہ ہم پہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے مالوں میں زکوٰۃ فرض ہے لیکن ہم تم کو نہیں دیں گے کیا ان کے ساتھ قتال کرنا حلال ہے ؟ اور کلالہ کے بارے میں۔ (11) الطیالسی وعبد الرزاق وابن ماجہ والنسائی وابن جریر وحاکم و بیہقی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے بارے میں نبی ﷺ کو وضاحت فرماتے تو یہ میرے لئے دنیا اور مافیھا سے بہتر ہوں خلافتہ کلالہ اور سود۔ (12) الطبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کلالہ کے بارے میں فتوی لینے کے لئے آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے خبر دیجئے کیا کلالہ سے مراد اس کی ماں باپ کی طرف سے بھائی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو کچھ نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ اس پر آپ نے کلالہ کی آیت پڑھی جو سورة نساء میں ہے پھر آدمی نے اپنے سوال کو دہرایا جب بھی اس نے سوال تو آپ نے اس آیت (کلالہ والی) کو پڑھ دیا یہاں تک کہ جب اکثر مرتبہ ایسا ہوا تو وہ آدمی شور مچانے لگا اور اس کا شور سخت ہوا اور حرص کی وجہ سے کہ نبی ﷺ اس کے لئے مزید کچھ بیان فرمائیں گے مگر آپ نے (پھر بھی) اس پر وہی آیت پڑھی اور اس سے فرمایا اللہ کی قسم ! جو میں نے تجھے دے دیا اس پر میں زیادہ نہیں کروں گا۔ (13) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وحاکم و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں وہ آخری آدمی ہوں عمر کے لحاظ سے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا (میرا وہی قول ہے جو میں نے کہا۔ میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا آپ نے فرمایا میں نے کہا کلالہ وہ ہوتا ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ (14) ابن جریر نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے کندھا پکڑا اور نبی ﷺ کے اصحاب کو جمع فرمایا پھر فرمایا میں کلالہ کے بارے میں ضرور فیصلہ کروں گا ایسا فیصلہ کہ جس کو عورتیں اپنے پردہ میں بیان کریں گی اس وقت ایک سانپ گھر سے نکل پڑا تو سب لوگ متفرق ہوگئے تو حضرت عمر ضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اس کام کو پورا کرنے کا ارادہ فرماتے تو میں اس کو ضرور پورا کرتا۔ کلالہ کے بارے میں حضرت عمر ؓ کی تحقیق (15) عبد الرزاق نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے جد اور کلالہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی پھر وہ یونہی ٹھہرے رہے تاکہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کریں اور یوں دعا کرتے تھے اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ اس میں خیر ہے تو اسے جاری کرتے جب آپ کو زخمی کیا گیا تو آپ نے اس کتاب کو منگوایا اور مٹا دیا کسی نے نہیں جانا کہ اس میں انہوں نے کیا لکھا تھا اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے دادا اور کلالہ کے بارے میں لکھا تھا اور میں اللہ تعالیٰ اس بارے میں استخارہ کرتا رہا تو میں اس رائے پر پہنچا کہ میں تم کو اسی حال پر چھوڑدوں جس پر تم ہو۔ (16) عبد الرزاق وابن سعد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں پہلا آدمی تھا جو عمر کے پاس آیا جب ان کو زخمی کیا گیا تو عمر نے فرمایا مجھ سے تین باتیں یاد کرلو بلاشبہ میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو لوگ نہیں پائیں گے کہ میں فوت ہوجاؤں گا۔ (1) میں نے کلالہ کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ (2) میں نے لوگوں پر کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا۔ (3) میرا ہر غلام آزاد ہے۔ (17) احمد نے عمر والقاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سعد کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کو شدید درد تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس مال ہے میرا ورثہ کلالہ کی صورت تقسیم ہوگا میں اپنے مال کے بارے میں کوئی وصیت کر جاؤں یا میں اس کو صدقہ کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر میں نے عرض کیا کیا میں دو تہائی وصیت کروں ؟ فرمایا نہیں پھر میں نے عرض کیا کیا آدھے مال کی وصیت کروں ؟ فرمایا نہیں پھر میں عرض کیا کیا ایک تہائی کی وصیت کروں آپ نے فرمایا ہاں (یہ ٹھیک ہے) اور یہ بھی زیادہ ہے۔ (18) ابن سعد و نسائی وابن جریر و بیہقی نے اپنی سنن میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں بیمار ہوا تو نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی بہنوں کے لئے ایک ثلث کی وصیت کروں آپ نے فرمایا اچھی بات ہے میں نے عرض کیا کیا آدھی وصیت کروں ؟ آپ نے فرمایا اچھی بات ہے۔ پھر آپ باہر تشریف لے گئے پھر آپ اندر تشریف لائے اور فرمایا میرا خیال نہیں ہے کہ اس تکلیف میں فوت ہوگا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا اور تیری بہنوں کے حصے کی وضاحت کردی اور وہ دو ثلث ہے جابر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ یہی آیت میرے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “۔ (19) العدی والبزار نے اپنی مسندوں میں وابو الشیخ نے الفرائض میں (صحیح سند کے ساتھ) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ کلالہ کی آیت نبی ﷺ پر سفر میں نازل ہوئی نبی ﷺ ٹھہر گئے تو حذیفہ ؓ حاضر تھے آپ نے آیت پڑھ کر سنائی حذیفہ نے دیکھا تو عمر کھڑے تھے تو وہی چیز عمر کو بتائی جب عمر خلیفہ ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے کلالہ کے بارے میں غور کیا حذیفہ کو بلوایا اور اس بارے میں ان سے پوچھا حذیفہ نے فرمایا حذیفہ نے عرض کیا رسول اللہ نے وہ آیت مجھے عطا فرمائی جس طرح آپ نے مجھے عطا فرمائی میں نے آپ کو پڑھ کو سنائی اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہ کہوں گا۔ (20) ابو الشیخ نے فرائض میں براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جس کی اولاد اور والد نہ ہو (یعنی فوت ہوگئے ہوں) ۔ (21) ابن ابی شیبہ والدارمی وابن جریر نے ابو الخیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عقبہ بن عامر سے کلالہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کیا تم کو تعجب نہیں کہ یہ آدمی مجھ سے کلالہ کے بارے میں پوچھتا ہے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کسی چیز نے اتنا مشکل میں نہیں ڈالا جتنا کلالہ نے مشکل میں ڈالا۔ (22) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ والدارمی وابن جریر وابن المنذر و بیہقی نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا عنقریب میں اس میں اپنے رائے سے کہوں گا اگر وہ ٹھیل ہوگی تو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے ہوگی اگر وہ غلط ہوگی تو مجھ سے اور شیطان کی طرف سے ہوگی اللہ تعالیٰ اس سے بری ہیں میرا خیال ہے کلالہ اسے کہتے ہیں جس کا والد اور اولاد نہ ہو جب عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا جو اولاد سے خالی ہو۔ جب عمر ؓ کو زخمی کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہوں کہ میں ابوبکر ؓ کی مخالفت کروں۔ (23) عبد بن حمید نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ جس آدی کا لڑکا اور والد نہ ہو کلالہ اس کے وارث ہوں گے پھر حضرت علی ؓ نے آپ سے اختلاف کیا پھر ابوبکر ؓ نے علی ؓ کے اس قول کی طرف رجوع کرلیا۔ (24) عبد الرزاق نے عمرو بن شرحبیل (رح) سے روایت کیا کہ میرا خیال یہ ہے کہ صحابہ نے اس بات پر اتفاق کرلیا تھا کہ کلالہ اسے کہتے ہیں جس کی اولاد اور والد نہ ہو۔ (25) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ والدارمی وابن جریر وابن المنذر و بیہقی نے اپنی سنن میں حسن بن محمد بن حنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس کی اولاد اور والد نہ ہو میں نے ان سے کہا لفظ آیت ” ان امرؤا اھلک لیس لہ ولد ولہ “ تو اس پر وہ غضبنا ہوئے اور مجھ کو جھڑک دیا۔ (26) ابن جریر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کلالہ وہ ہے جو اپنے پیچھے والد اور اولاد نہ چھوڑے۔ (27) ابن ابی شیبہ نے سمیط (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ فرماتے تھے کلالہ سے مراد بچے اور والد کے علاوہ رشتہ دار ہیں۔ (28) ابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ کلالہ سے وہ وارث مراد ہیں جو والد اور لڑکے کے علاوہ ہو بھائی یا دوسرے عصبہ میں سے اسی طرح علی بن مسعود اور زید بن ثابت ؓ نے فرمایا۔ (29) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کلالہ سے مراد خود میت ہے۔ (30) ابن جریر نے معدان بن ابی طلحہ العمری (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا مجھ سے رسول اللہ ﷺ کبھی غصے نہیں ہوئے یا میں رسول اللہ ﷺ سے کسی معاملہ میں نہیں جھگڑا مگر میں نے کلالہ کی آیت میں جھگڑا کیا یہاں تک کہ میرے سینے کو مار کر فرمایا تجھ کو آیت الصیف کافی ہے۔ لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ میں عنقریب اس بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ جس کو پڑھنے والا اور نہ پڑھنے والا جان لے گا یہ وہ آدمی ہے جس کا پرورش کرنے والا اور پرورش پانے والا نہ ہو۔ (31) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابن سیرین رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ جب نازل ہوئی تو نبی ﷺ سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ حذیفہ بن یمان ؓ تھے تو نبی ﷺ نے یہ آیت حذیفہ کو پہنچائی (پھر) حذیفہ نے یہ خبر عمر بن خطاب ؓ کو پہنچائی اور وہ آپ کے پیچھے چل رہے تھے جب حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو اس بارے میں حذیفہ ؓ سے پوچھا یہ امید رکھتے ہوئے کہ ان کے پاس اس کی تفسیر ہوگی حذیفہ ؓ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر آپ نے یہ گمان کیا کہ آپ کی امارت مجھے ایسی بات کرنے پر مجبور کر دے گی کہ میں تجھ کو وہ بات بیان کروں گا وہ چیز جو میں نے اس روز نہیں کہی تھی تو آپ عاجز رہیں گے حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے کوئی ارادہ نہیں کیا اللہ تجھ پر رحم کرے۔ (32) ابن جریر (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں کلالہ کو جاننے والا ہوجاتا یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میرے پاس شام کے محلات کا جزیہ پہنچے۔ کلالہ کے متعلق تفصیلی علم (33) ابن جریر نے حسن بن مسروق (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ سے سوال کیا اس حال میں کہ وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اپنے ان قریبی رشتہ داروں کے بارے میں کلالہ کے وارث بنیں گے آپ نے فرمایا الکلالہ الکلالہ الکلالہ اور آپ نے اپنی داڑھی مبارک کو پکڑ کر فرمایا اللہ کی قسم اس کا علم مجھے زمین میں موجود ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تو نے اس آیت کو نہیں سنا جو موسم گرما میں اتری ہے اور اس بات کو حضور ﷺ نے تین مرتبہ لوٹایا۔ (34) ابن جریر نے ابو سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کلالہ کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا کیا تو نے اس آیت کو نہیں سنا جو موسم گرما میں اتری یعنی لفظ آیت ” وان کان رجل یورث الکللۃ “ آیت کے آخر تک۔ (35) احمد نے (جید سند کے ساتھ) زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ ان سے شوہر اور سگی بہن کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے شوہر کو آدھا اور بہن کو آدھا دیا اس بارے میں گفتگو کی کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ نے ایسے ہی فیصلہ فرمایا۔ (36) عبد الرزاق و بخاری حاکم نے اسود (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ایک بیٹی اور ایک بہن کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کے لئے آدھا اور بہن کے لئے آدھا ہوگا۔ (37) عبد الرزاق و بخاری وحاکم و بیہقی نے ھذیل بن شرحبیل (رح) سے روایت کیا کہ ابو موسیٰ اشعری سے بیٹی بیٹے کی بہن اور سگی بہن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا بیٹی کے لئے آدھا اور بہن کے لئے آدھا تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میری موافقت کرے گا ابن مسعود ؓ سے اس بارے میں پوچھا گیا اور ابو موسیٰ اشعری ؓ کا قول بھی بتایا گیا ابن مسعود ؓ نے فرمایا اگر میں بھی ایسی ہی بات کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں گا میں اس بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ کے فیصلہ کے مطابق ہوگا کہ بیٹی کے لئے آدھا اور بیٹے کی بیٹی کے لئے چھٹا حصہ ہوگا اس طرح دو ثلث مکمل ہوگیا جو باقی ہے وہ بہن کے لئے ہے ہم نے ابن مسعود ؓ کے قول کی ان کو خبر دی تو انہوں نے فرمایا مجھ سے نہ پوچھا کرو جب تک تمہارے اندر یہ عالم موجود ہیں۔ نرینہ اولاد ہو تو بہن کو میراث نہیں ملتی (38) عبد الرزاق وابن المنذر وحاکم و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہوگیا اور اس نے اپنی بیٹی اور سگی بہن چھوڑی انہوں نے فرمایا بیٹی کے لئے آدھا اور بہن کے لئے کوئی چیز نہیں اور جو باقی ہے وہ عصبات کے لئے ہے کہا گیا کہ مرد نے بہن کے لئے آدھا مقرر فرمایا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ما ترک “ اور تم کہتے ہو بہن کو آدھا ملے گا اگرچہ اس کی اولاد ہو۔ (39) ابن المنذر وحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک ایسی چیز ہے کہ تم اس کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے ہو اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلے میں بھی نہیں پاتے مگر تمام لوگوں میں یہ پاتے ہو کہ بیٹی کے لئے آدھا اور بہن کے لئے آدھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ما ترک “۔ (40) الشیخان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرائض کو ملا دو ان کے اہل کے ساتھ (یعنی حصے ان کے مستحقوں کے حوالے کرو) جو باقی بچے وہ قریبی مرد کو دے دو ۔ (41) ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یستفتونک “ سے مراد ہے کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” یبین اللہ لکم ان تضلوا “ یعنی میراث کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا۔ (42) ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن الضریس وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے دلائل میں براء ؓ سے روایت کیا کہ جو پوری سورت آخر میں نازل ہوئی وہ سورت برات ہے اور سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ سورة نساء کی یہ آیت ہے لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “۔ (43) ابن جریر وعبد بن حمید و بیہقی نے اپنی سنن میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا خبردار وہ آیت جو سورة نساء کے آخر میں نازل ہوئی فرائض کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد اور والد کے بارے میں نازل فرمایا اور دوسری آیت کو شوہر بیوی اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں نازل فرمایا اور وہ آیت کہ جس سے سورة نساء ختم ہوئی وہ بھائیوں اور سگی بہنوں کے بارے میں نازل ہوئی اور وہ آیت جس سے سورة انفال ختم ہوئی وہ اولی الارحام کے بارے میں نازل ہوئی کہ بعض بعض سے کتاب اللہ میں قریبی ہیں جس طرح رحم میں بعض بعض سے قریبی ہیں۔ (44) الطبرانی نے الصغیر میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ قباء کی طرف (جانے کے لئے) گدھے پر سوار ہوئے تاکہ استخارہ فرمائیں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ ان دونوں کے لئے میراث نہیں۔ (45) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابن سیرین (رح) نے فرمایا کہ عمر بن خطاب ؓ جب (یہ آیت) پڑھتے لفظ آیت ” یبین اللہ لکم ان تضلوا “ تو فرماتے اے اللہ ! کس کے لئے آپ نے کلالہ کی وضاحت کی میرے لئے تو یہ واضح نہیں۔ (46) احمد نے عمر والقاری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سعد کے پاس تشریف لائے اور وہ شدید درد میں مبتلا تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس مال ہے جبکہ میرا ورثہ کلالہ میں تقسیم ہوگا کیا میں اپنے مال کی وصیت کر جاؤں یا میں اس کو صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر انہوں نے عرض کیا کیا میں دو تہائی کی و صیت کروں ؟ فرمایا نہیں پھر انہوں نے عرض کیا کیا میں آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ فرمایا نہیں پھر عرض کیا کیا میں ایک تہائی کی وصیت کردوں فرمایا ہاں۔ اور یہ بھی زیادہ ہے۔ (47) الطبرانی نے خارجہ بن زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ زید بن ثابت ؓ نے معاویہ ؓ کو خط لکھا جس میں یہ لکھا ہوا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے معاویہ امیر المؤمنین کے لئے ہے زید بن ثابت ؓ کی طرف سے سلام علیک امیر المؤمنین ورحمۃ اللہ۔ بلاشبہ میں تیرے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اما بعد آپ نے مجھ سے دادا اور بھائیوں کی میراث کے بارے میں پوچھا تھا بیشک کلالہ اور وراثت کے بہت سارے فیصلے ان کی حقیقت سے تو اللہ ہی واقف ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے بعد ہم یہ معاملات خلفاء پر پیش کرتے تھے جن کو ہم نے یاد رکھنا چاہا وہ ہم نے یاد رکھا ہم سے اس بارے میں جو فتویٰ پوچھتا ہے ہم اس کا فتویٰ دے دیتے ہیں (واللہ اعلم ) ۔ الحمد للہ سورة النساء کے ساتھ دوسری جلد مکمل ہوئی