4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 4:145–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کے لئے کوئی مددگار نہ پائے گا

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور اللہ پر مضبوط بھروسہ رکھا اور اپنا دین اللہ کے لئے خالص کردیا، تو یہ لوگ مؤمنین کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ مؤمنین کو اجر عظیم عطا فرمائے گا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لاؤ اور اللہ قدردان ہے جاننے والا

(1) الفریابی و ابن ابی شیبہ وھناد و ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے صفۃ النار میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ سے مراد ہے کہ لوہے کے صندوق میں ان کو بند کردیا جائے گا اور دوسرے لفظ میں ” مبھمۃ علیہم “ یعنی وہ اس طرح بند ہوں گے ان کو کھولنے کی جگہ کو بھی نہیں پائیں گے۔ (2) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ میں ” الدرک الاسفل “ سے لوہے کے ایسے گھر مراد ہیں کہ ان کے دروازے ان پر فٹ کر دئیے جائیں گے (جو نہیں کھلیں گے) اور ان کے نیچے اور ان کے اوپر آگ جلائی جائے گی۔ (3) ابن جریر و ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ سے مراد ایسے صندوق ہیں جو ان پر بند کر دئیے جائیں گے۔ (4) ابن جریر و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی الدرک الاسفل “ یعنی آگ کے سب سے نچلے حصے۔ (5) ابن جریر ابن المنذر نے عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سنا کہ جہنم میں طبقات اور منزلیں ہیں بعض بعض کے اوپر ہیں۔ منافقین کو سخت عذاب ہوگا (6) ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود نے فرمایا دوزخ والوں کو سخت عذاب ہوگا ایک آدمی نے کہا منافقوں کو (سخت عذاب ہوگا) ابن مسعود نے فرمایا تو نے سچ کہا کیا تو جانتا ہے کہ وہ کس طرح عذاب دئیے جائیں گے اس نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا ان کو لوئے کے صندوقوں میں رکھ کر ان پر ڈاٹ لگا دی جائے گی (یعنی ان کو بند کردیا جائے گا) پھر ان کو سب سے نچلے طبقہ میں رکھ دیا جائے گا ان تنوروں میں سے نیزوہ کنوؤں سے بھی تنگ ہوں گے اس کو کہا جاتا ہے غم کا کنواں (ان منافقوں کو ڈالنے کے بعد) اس کنویں کو بند کردیا جائے گا ہمیشہ ان کے لئے ان کے برے اعمال کے بدلے میں۔ (7) ابن ابی الدنیا نے کتاب الاخلاص میں و ابن ابی حاتم والحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کیا مجھ کو نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا اپنے دین کو خالص رکھ تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائے گا۔ (8) ابن ابی الدنیا نے الاخلاص میں اور بیہقی نے شعب میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مخلص لوگوں کے لئے خوشخبری ہے یہ لوگ ہدایت کے چراغ ہیں ان سے تمام تاریک فتنے چھٹ جاتے ہیں۔ (9) البیہقی نے اسلم قبیلہ میں سے ایک آدمی نے ابو فراس سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے سوال کرو جس چیز کے بارے میں چاہو ایک آدمی نے آواز دی یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز قائم کرنا زکوٰۃ ادا کرنا پھر اس نے کہا ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اخلاص پھر اس نے کہا یقین کیا ہے ؟ فرمایا قیامت کی تصدیق کرنا۔ (10) البزار نے (حسن سند کے ساتھ) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے (یعنی خوش و خرم رکھے) جس نے میری گفتگو سنی پھر اس کو یاد رکھا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فقہ پڑھنے والا فقیہ نہیں ہوتا (پھر فرمایا) تین باتیں ہیں جن سے مؤمن کا دل نہیں بھرتا عمل کو خالص اللہ کے لئے کرنا مسلمانوں کے حکمران کے لئے خیر خواہی کرنا اپنی جماعت کو لازم پکڑنا ان کی دعائیں پیچھے سے ان کی حفاظت کرتی ہیں۔ (11) النسائی نے مصعب بن سعید سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ان کو نبی ﷺ کے کمزور صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت کی امت اللہ تعالیٰ مدد فرماتے ہیں ان کے ضعیفوں کے ساتھ ان کی دعاؤں ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔ (12) ابن ابی شیبہ والمروزی نے زوائد الزھد میں و ابو الشیخ ابن حبان نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بندہ چالیس دن تک اللہ کے لئے اخلاص کرتا ہے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ کامیاب کی شرائط (13) احمد و بیہقی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کردیا۔ اور اس کا دل سلامتی والا ہوگیا اور اس کی زبان سچائی والی ہوگئی اور اس کا نفس مطمئنہ بن گیا اس کی طبیعت ماننے والی بن گئی اور اس کا کان سننے والا بن گیا اور اس کی آنکھ دیکھنے والی ہوگئی مگر کان (گویا) قیف ہے (کہ حق کی باتیں اس میں انڈیل دی گئیں) اور آنکھ اس کو ثابت کرتی ہے جبکہ دل اس کو یاد کرنے والا ہوتا ہے اور وہ آدمی کامیاب ہوگیا جس نے اپنے دل کو یاد رکھنے والا بنایا (14) الحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا جنت میں داخل ہوگیا کہا گیا یا رسول اللہ ! اس کا اخلاص کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو حرام کاموں سے روک دے۔ (15) ابن ابی شیبہ و احمد نے الزھد میں والحکیم الترمذی و ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ حواریوں نے عیسیٰ سے عرض کیا اے روح اللہ ! اللہ کے لئے کون مخلص ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا جو شخص اللہ کے لئے عمل کرتا ہے اور وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس بات پر اس کی تعریف کریں۔ (16) ابن عساکر نے ابو ادریس (رح) سے روایت کیا کہ کوئی بندہ اخلاص کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ اس بات کو ناپسند کرے کہ کوئی اس کے کسی عمل پر اس کی تعریف کرے۔ (17) عبد بن حمید و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ما یفعل اللہ بعذابکم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شکر کرنے والے مؤمن کو عذاب نہیں دیتے۔
Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا سوائے اس شخص کے جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم خیر کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا برائی کو معاف کرو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا قدرت رکھنے والا ہے

(1) ابن جریر و ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ کوئی آدمی کسی کے لئے بددعا کرے مگر یہ کہ وہ مظلوم ہو کیونکہ اس کے لئے اجازت دی گئی کہ وہ ظال کے لئے بددعا کرے اگر وہ صبر کرے گا تو اس کے لئے بہتر ہے۔ (2) ابن جریر و ابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی جو ظلم کر رہا ہے اس کے لئے بددعا نہ کرے لیکن اس کو چاہئے کہ یوں کہے اے اللہ ! اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے اللہ ! میرے لئے میرا حق اس سے نکلوا دے میرے اور اس کے زیادتی کے درمیان حائل ہوجا۔ (3) عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو معذور قرار دیا ہے کہ وہ بددعا کرے جسے تم سنتے ہو۔ (4) ابو داؤد نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کی ایک چیز چرائی گئی تو وہ بددعا کرنے لگیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس چیز سے فارغ نہ ہوجا۔ اپنی بددعا کے ساتھ۔ (5) ترمذی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ظالم کے لئے بددعا کی اس نے اپنا انتقام لے لیا۔ مظلوم کے لئے اپنی مظلومیت بیان کرنا جائز ہے (6) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے زمین کے ایک جنگل میں ایک آدمی سے مہمانی طلب کی اس نے اس کی مہمانی نہیں کی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الا من ظلم “ تو مہمان ضرور یہ ذکر کرے کہ اس نے میری مہمانی نہیں کی اس پر زیادہ یہی بات نہ کرے۔ (7) الفریابی و عبد بن حمید و ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کسی آدمی کے پاس اترا تو اس نے اس کی اچھی طرح سے مہمان نوازی نہیں کی ار وہ اس کے پاس سے باہر نکلتا ہے اور وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے اچھی مہمان نوازی نہیں کی اس نے میرے ساتھ برا سلوک کیا۔ (8) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی سے اعلانیہ بدگوئی پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم کیا گیا وہ یہ کہہ سکتا ہے اس نے جس قدر ظلم کیا اس سے اتنا بدلہ تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ (9) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ میرے والد نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “ اور فرماتے تھے جو شخص اس نفاق پر قائم رہا تو اس کی بدگوئی کرنا درست ہے یہاں تک کہ وہ نکل جائے (اپنے نفاق سے) (10) ابن المنذر نے اسماعیل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “ کے بارے میں ضحاک بن مزاحم (رح) فرمایا کرتے تھے کہ اس میں تقدیم اور تاخیر ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” یفعل اللہ بعدابکم ان شکرتم ثم وامنتم “ (پھر فرمایا) ” الا من ظلم “ اور وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے پھر فرمایا لفظ آیت ” لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول “ یعنی کسی حال میں بھی (اللہ تعالٰٰ بری بات کو زبان پر لانے کو پسند نہیں فرماتے)
Ayahs 4:150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ تجویز کرلیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو یقیناً کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر اور ان میں کسی کے درمیان میں فرق نہیں کرتے یہ وہ لوگ ہیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجور عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یہودی اور نصرانی اللہ کے دشمن ہیں یہودی تورات اور موسیٰ پر ایمان لائے اور انجیل اور عیسیٰ کا انکار کیا (اسی طرح) نصرانی انجیل اور عیسیٰ پر ایمان لائے اور قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کیا انہوں نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنا لیا جو (دونوں کی اپنی طرف سے) اختراع ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور لوگوں نے اسلام کو چھوڑا حالانکہ یہی اللہ کا دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ امام ابن جریر (رح) نے سدی اور ابن جریج رحہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayahs 4:153–156

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

اہل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتار دیں۔ سو وہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا سوال کرچکے ہیں انہوں نے یوں کہا کہ تو ہمیں آمنے سامنے اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، سو ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے بجلی نے پکڑ لیا، پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس دلائل آچکے تھے، پھر ہم نے اس کو معاف کردیا، اور ہم نے موسیٰ کو صریح غلبہ دے دیا

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں پر طور کو اٹھا لیا ان سے مضبوط عہد لینے کی وجہ سے، اور ہم نے اس سے کہا کہ دروازہ میں داخل ہوجاؤ جھکے ہوئے، اور ہم نے اس سے کہا کہ زیادتی نہ کرو سنیچر کے دن میں اور ہم نے ان سے لے لیا تھا بہت مضبوط عہد

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

سو ہم نے اس وجہ سے (ان پر لعنت کی) کہ انہوں نے عہد شکنی کی اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا۔ اور نبیوں کو ناحق قتل کیا۔ اور انہوں نے یوں کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔ سو وہ ایمان نہ لائیں گے مگر تھوڑے سے لوگ

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور (اس وجہ سے بھی ان پر لعنت کی) کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور انہوں نے مریم پر بہت بڑا بہتان لگایا

(1) ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس اللہ کی طرف سے تختیاں لے کر آئے تھے آپ بھی اللہ کی طرف سے تختیاں لے آئیں تب ہم آپ کی تصدیق کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السماء “ سے لے کر ” وقولہم علی مریم بھتانا عظیما “ تک (2) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری نے محمد ﷺ سے کہا تو ہم کو بلاتا ہے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب لائے (اور اس میں یہ لکھا ہو) اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لئے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” یسئلک اہل الکتب “ آخر تک۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اگر تو اس بات میں سچا ہے کہ اللہ کا رسول ہے تو ہمارے پاس کتاب لکھی ہوئی آسمان سے لے آ جیسے موسیٰ لاتے تھے۔ (4) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ان تنزل علیہم کتبا من السماء “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی خاص کتاب اور ” جھرۃ “ سے مراد ہے آنکھوں کے سامنے۔ (5) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” فقالوا ارنا اللہ جھرۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ بلاشبہ انہوں نے جب اسے دیکھا تو انہوں نے اعلانیہ کہا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ دکھا۔ تو اس میں تقدیم اور تاخیر ہے۔ (6) سعید بن منصور و عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاخذتھم الصعقۃ “ پڑھا۔ (7) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاخذتھم الصعقۃ “ میں ” صاعقہ “ سے مراد ہے موت اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ان کو موت دیدی ان کی اس (گستاخانہ) بات کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو جتنا عرصہ ان کی موت دیدی پھر ان کو زندہ کر کے اٹھا دیا۔ (8) عبد بن حمید و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ورفعنا فوقھم الطور “ کے بارے میں روایت کیا کہ طور سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں یہ لوگ تھے اللہ تعالیٰ نے اس کو اٹھایا اور سائبان کی طرح ان کے اوپر کردیا اور فرمایا کہ تم لوگ ضرور میرے حکم کو اپناؤں گے یا میں ضرور اس کو تم پر گرا دوں گا تو کہنے لگے ہم اس کو اپنائیں گے (یعنی اس پر عمل کریں گے) اور اللہ تعالیٰ نے ان سے (اس پہاڑ کو) ہٹا دیا۔ (9) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” وقلنا لہم ادخلوا الباب سجدا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بات بیان کرتے تھے کہ یہ دروازہ بیت المقدس کے دروازوں میں سے تھا۔ اور فرمایا لفظ آیت ” وقلنا لہم لا تعدوا فی السبت “ یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ ہفتہ کے دن مچھلی نہ کھاؤ اور نہ مچھلی کو چھیڑو اور اس کے علاوہ (سب دنوں میں) ان کے لئے حلال کردی گئی اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فبما نقضہم “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے عہد کو توڑنے کی وجہ سے فرمایا لفظ آیت ” وقولہم قلوبنا غلف “ یعنی ہم کچھ نہیں سمجھتے (کیونکہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے) فرمایا لفظ آیت ” بل طبع اللہ علیہا “ یعنی جب قوم نے اللہ کا حکم چھوڑ دیا تو اپنے رسولوں کو قتل کردیا اور اس کی آیات کا انکار کردیا اور اس وعدہ کو توڑ دیا جو انہوں نے کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان پر لعنت کی جب انہوں نے (ایسی نافرمانیاں) کیں۔ (10) البزار و بیہقی نے الشعب میں (اور اس کو ضعیف کہا) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مہر لگانے والا عرش کے پایہ کے ساتھ معلق ہے جب حرمت کو پامال کیا جائے نافرمانیاں کی جائیں اور اللہ تعالیٰ پر جرأت کی جائے تو اللہ تعالیٰ مہر لگانے والے کو بھیج کر اس بندے پر مہر لگا دیتا ہے اس کے بعد کوئی چیز اس سے قبول نہیں کی جاتی۔ (11) ابن جریج و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقولہم علی مریم بھتانا عظیما “ سے مراد ہے کہ انہوں نے (مریم علیہ السلام) پر زنا کی تہمت لگالی۔ (12) بخاری نے اپنی تاریخ میں اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) علی ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تیرے لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہے یہودیوں نے ان سے بغض رکھا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر تہمت لگائی اور نصاری نے ان سے محبت کی (اور محبت میں اس قدر آگے بڑھے) یہاں تک کہ ان کو ایسا مقام دیا جو ان کے لائق نہیں تھا (یعنی ان کو خدا کا بیٹا بنا دیا) ۔
Ayahs 4:157–158

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور انہوں نے یوں کہا کہ بلاشبہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کردیا جو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا، اور بلاشبہ جن لوگون نے ان کے بارے میں اختلاف کیا وہ ضرور ان کے بارے میں شک میں ہیں، اٹکل پر چلنے کے سواء ان کو ان کے بارے میں کوئی علم نہیں اور یقیناً انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے

(1) عبد بن حمید و نسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے ساتھیوں کی طرف نکلے اور گھر میں حواریوں میں سے بارہ آدمی تھے آپ ان کے پاس دوسرے گھر سے آئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا انہوں نے فرمایا تم میں سے کون شخص ہے ؟ جو بارہ مرتبہ کفارہ ادا کرے مجھ پر ایمان لانے کے بعد پھر فرمایا تم میں سے کون ہے جس پر میری شبیہ ڈال دی جائے (یعنی میرے جیسا بنا دیا جائے) اور وہ قتل کردیا جائے میرے بدلے میں اور میرے ساتھ ہو میرے درجے میں ان میں سے سب سے کم عمر نوجوان اٹھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا بیٹھ جا پھر آپ نے وہی بات دہرائی تو پھر وہی نوجوان اٹھ کھڑا ہوا انہوں نے فرمایا بیٹھ جا پھر آپ نے اسی بات دہرایا تو پھر بھی وہی نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا تو ہی وہ ہے تو اس کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں بنا دیا گیا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اسی گھر کے روشندان میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے یہودیوں کے جاسوس آئے انہوں نے ان کے ہم شکل کو پکڑ کر اس کو قتل کرد یا پھر اس کو سولی پر لٹکا دیا ان حواریوں میں سے بعض نے بارہ مرتبہ آپ کا کفارہ دیا ان پر ایمان لانے کے بعد یہ لوگ تین جماعتوں میں بٹ گئے ایک جماعت نے کہا خود اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان رہے جب تک انہوں نے چاہا پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے یہ لوگ یعقوبیہ ہیں اور ایک جماعت نے کہا ہمارے درمیان اللہ کے بیٹے تھے جب تک چاہا وہ رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا یہ لوگ نسطوریہ ہیں اور ایک جماعت نے کہا ہمارے درمیان اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے یہ لوگ مسلمان دونوں کافر جماعتیں ان مسلمانوں پر غالب آگئیں اور ان کو قتل کیا اسلام مٹا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل “ یعنی وہ جماعت جو ایمان لائی تھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اور ایک جماعت نے کفر کیا جو عیسیٰ کے زمانہ میں تھی انہوں نے کفر کیا پھر فرمایا ” فایدنا الذین امنوا “ یعنی جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایمان لائے تھے ان کی مدد اس طرح کی کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے ان کے دین کو کفار کے دین پر غلبہ عطا فرما دیا۔ یہود کا زعم باطل ہے (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ” وقولہم انا قتلنا المسیح “ سے مراد یہودی ہیں جو اللہ کے دشمن ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر فخر کرتے ہیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے قتل کردیا اور ان کو سولی پر لٹکا دیا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم میں سے کون ہے جس پر میری شبیہ ڈال دی جائے (یعنی میرا ہم شکل بنا دیا جائے) کیونکہ وہ قتل کردیا جائے گا تو ان کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا میں حاضر ہوں اے اللہ کے نبی ! تو وہ آدمی قتل کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو (قتل ہونے سے) محفوظ رکھا اور ان کو اپنی طرف اٹھایا۔ (3) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” شبہ لہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ دوسرے آدمی کو سولی پر لٹکا دیا جو عیسیٰ کے مشابہ تھا اور لوگوں نے اسی کو عیسیٰ (علیہ السلام) خیال کیا اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ اپنی طرف اٹھالیا۔ (4) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما قتلوہ یقیناً “ یعنی انہوں نے قتل نہیں کیا یقینی طور پر جس کا انہوں نے گمان کیا تھا۔ (5) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا یعنی انہوں نے قتل نہیں کیا یقینی طور پر جس کا انہوں نے گمان کیا تھا۔ ابن جریر (رح) نے جویبر اور سدی رحمۃ اللہ علیہما سے اسی طرح روایت کیا۔ (6) عبد الرزاق واحمد نے فی الزھد میں وابن عساکر نے ثابت بنانی کے طریق سے ابو رافع (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس حال میں اٹھائے گئے کہ ان پر کتان کا ایک جبہ تھا اور بکریاں چرانے والوں کے موزہ پہنے ہوئے تھے اور ایک غلیل تھی کہ جس سے پرندے کا شکار کرتے تھے۔ (7) احمد نے الزھد میں وابو نعیم وابن عساکر نے ثابت بنانی کے طریق سے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کچھ نہیں چھوڑا جب ان کو (آسمان پر) اٹھایا گیا مگر ایک کتان کا جبہ اور بکریاں چرانے والا موزہ اور ایک غلیل تھی کہ جس سے پرندے شکار کرتے تھے۔ (8) ابن عساکر نے عبد الجبار بن عبد اللہ بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اس رات اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے جس میں ان کو (آسمان پر) اٹھایا گیا آپ نے ان سے فرمایا کتاب اللہ کے بدلہ میں اجر کا مطالبہ نہ کرنا اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو پتھر کے مقبروں پر بٹھائیں گے اس میں سے ایک پتھر بھی دنیا وما فیھا سے بہتر ہے۔ عبد الجبار نے فرمایا اور یہ وہ بیٹھنے کی جگہیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا یعنی لفظ آیت ” فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “ (القمر آیت 55) اور (اس کے بعد) ان کو (آسمانوں پر) اٹھالیا گیا۔ (9) عبد بن حمید وابن جریر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ وہ دنیا سے جانے والے ہیں تو وہ موت سے گھبرا گئے اور یہ بات ان پر بہت بھاری ہوئی انہوں نے حواریوں کو بلایا اور ان کے لئے کھانا تیار کیا اور فرمایا آج رات میرے پاس حاضر ہوجاؤ تمہاری طرف میری ایک جماعت ہے جب یہ لوگ رات کو ان کے پاس جمع ہوگئے تو ان کو رات کا کھانا کھلایا اور ان سے گفتگو کرنے لگے جب حواری کھانے سے فارغ ہوگئے تو خود ان کے ہاتھ دھلائے اپنے ہاتھ سے ان کو وضو کرایا اور ان کے ہاتھوں کو اپنے کپڑوں سے خشک کرنے لگے ان لوگوں نے اس عمل کو عظیم جانا اور باعث شرف سمجھنے لگے عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مگر وہ آدمی جو مجھ پر آج رات کسی چیز کو لوٹائے گا تو ان چیزوں میں سے جس کو میں کروں گا تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں سب نے اقرار کرلیا یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس عمل سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے فرمایا آج کی رات جو میں نے تمہارے ساتھ معاملہ کیا ہے ان کاموں میں سے جو میں نے تمہاری خدمت کی تو اس پر تم ایک دوسرے سے عظمت نہ جاننا بلکہ ایک دوسرے کی اس طرح خدمت کرنا جس طرح میں نے تمہاری خدمت کی میری موت مؤخر ہوجائے۔ جب انہوں نے دعا کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا اور اس میں خوف کی کوشش کا ارادہ کیا تو ان کو نیند نے پکڑ لیا یہاں تک کہ وہ دعا نہ کرسکے عیسیٰ ان کو جگانے لگے اور کہتے سبحان اللہ تم نے میرے لئے ایک رات بھی صبر نہیں کیا کہ جس میں تم میری مدد کرتے ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے ہم کو کیا ہوا اور ہم رات بھر باتیں کرتے رہتے تھے اور ہم آج رات باتیں نہیں کرسکے اور ہم جب دعا کا ارادہ کرتے تھے مگر ہمارے اور دعا کے درمیان کوئی چیز حائل ہوجاتی ہے فرمایا چرواہے کو لے جایا جاتا ہے اور ریوڑ بکھر جاتا ہے۔ اس طرح آپ ایسی باتیں کرنے لگے جس میں اپنی موت کی خبر دینے لگے پھر فرمایا ضرور تم میں سے کوئی میرا کفارہ دے بلکہ اس کے مرغ تین دفعہ چیخے اور تم میں سے کوئی ضرور مجھ کو ایک درہم کا بدلہ میں پہنچے گا اور میری قیمت کو کھائے گا حواری آپ کے پاس سے نکلے اور متفرق ہوگئے اور یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں تھے اور انہوں نے حواریوں میں سے ایک آدمی شمعان کو پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ یہ ان کے ساتھیوں میں سے ہے اس نے انکار کیا اور کہا میں اس کے ساتھیوں میں سے نہیں ہوں تو اس کو چھوڑ دیا پھر اسی طرح اور لوگوں کو پکڑ لیا پھر انہوں نے مرغ کی آواز سنی اور تو وہ رونے لگا اور سخت غمگین ہوگیا جب صبح ہوئی حواریوں میں سے ایک یہودیوں کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھ کو کیا دو گے اگر میں صبح پر دلالت کروں ؟ انہوں نے اس کو تیس درہم دینے کا وعدہ کیا اس حواری نے تیس درہم لے لئے اور ان کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ بتادیا اس سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس پر ڈالی جا چکی تھی انہوں نے اس کو پکڑا اور اس کو ایک رسی سے باندھ دیا اور اس کو ہانکے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے تو میت کو زندہ کرتا تھا اور مجنون کو اچھا کردیتا تھا اب اپنے آپ کو اس رسی سے چھڑا لے اور اس پر تھوکتے تھے اور اس پر کانٹے ڈالتے تھے یہاں تک کہ وہ اس کو ایک لکڑی پر لے آئے جس کا انہوں نے ارادہ کیا تھا اس پر ان کو پھانسی دیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا اور انہوں نے اس آدمی کو سولی پر لٹکا دیا جس پر عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ ڈالی گئی تھی اور وہ سات دنوں تک لٹکا رہا۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اور جو عورت جسے عیسیٰ (علیہ السلام) دوا دیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے جسے جنون سے اچھا کردیا تھا یہ دونوں روتی رہیں اور اس سولی پر لٹکائے ہوئے کے پاس آئیں تو ان دو نوں کے پاس عیسیٰ (علیہ السلام) آئے اور فرمایا تم کیوں روتی ہو انہوں نے کہا تم پر روتی ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور خیر کے علاوہ کوئی چیز مجھے نہیں پہنچی اور یہ وہ شخص ہے جو ان سے ملاقات کرنے گیا یہ لوگ اس جگہ پر ان سے ملے اور یہ گیارہ آدمی تھے اور وہ آدمی جس نے ان کو بھیجا تھا اور یہودیوں کو بتلایا تھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر نادم تھا جو اس نے کہا اور اس کا گلا بند ہوگیا اور وہ مرگیا آپ نے فرمایا اگر وہ توبہ کرلیتا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے پھر آپ نے ان لوگوں سے اس لڑکے کے بارے میں پوچھا جو اس کے پیچھے چلا کرتا تھا جس کو یوحنا کہا جاتا تھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ تمہارے ساتھ ہے اب تم جاؤ تم میں سے ہر ایک انسان ایک زبان میں بات کر رہا ہوگا پس اسے چاہئے کہ اس قوم کے لوگوں کو تلاش کرلے اور اسے دعوت دے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیشن گوئی (10) ابن المنذر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سیرو سیاحت کرنے والے تھے ایک عورت پر گزرے اور اس سے پانی مانگا اور فرمایا مجھے اپنے ایسے پانی میں سے پلا کہ جو آدمی اس کو پیتا ہے مرجاتا ہے اور میں تجھ کو پلاؤں گا ایسا پانی کہ جو شخص اس میں سے پیئے گا وہ زندہ ہوجائے گا آپ ایک حکیم عورت سے ملے اس عورت نے ان سے کہا کیا تجھ کو اپنا پانی کافی نہیں کہ جو اس میں سے پیئے زندہ ہوجائے اس پانی سے کہ جو اس میں سے پیئے مرجائے ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تیرا پانی عاجل (دنیا) ہے اور میرا پانی آجل (آخرت) ہے۔ اس عورت نے کہا شاید یہ وہی آدمی ہے جس کو عیسیٰ بن مریم کہا جاتا ہے۔ فرمایا بیشک میں وہی ہوں اور میں تجھ کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں۔ اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی تو عبادت کرتی ہے ان کو چھوڑنے کی طرف بلاتا ہوں اس عورت نے کہا جو تو کہتا ہے اس پر کوئی دلیل میرے پاس لے آ فرمایا اس کی دلیل یہ ہے کہ جب تو اپنے شوہر کی طرف لوٹ کر جائے گی تو وہ تجھ کو طلاق دے دے گا عورت نے کہا اس میں کھلی ہوئی نشانی ہے بنی اسرائیل میں کوئی عورت مجھ سے بڑھ کو اپنے خاوند پر زیادہ عزت والی نہیں ہے اگر ایسا ہوا جیسے تو کہتا ہے تو میں پہچان لوں گی کہ تو سچ بولنے والا ہے (اس کے بعد) وہ اپنے شوہر کی طرف لوٹ کرگئی اس کا شوہر نوجوان غیرت مند آدمی تھا اس نے پوچھا تو نے دیر کیوں لگائی عورت نے کہا مجھ پر ایک آدمی گزرا میں نے ارادہ کیا کہ تجھ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی خبر دوں اس آدمی پر اتنی غیرت سوار ہوئی کہ اس نے اس کو طلاق دے دی عورت نے کہا کہ اس آدمی نے مجھ سے سچ کہا تھا۔ وہ عورت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ڈھونڈتے ہوئے نکلی اور وہ ایمان لا چکی تھی عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے سائیس حواریوں کے ساتھ تشریف لائے کہ گھر میں اور ان کو گھیر لیا گیا وہ لوگ ان پر داخل ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان سب کی صورتیں عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی بنا دیں وہ لوگ کہنے لگے کہ تم نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ تم ضرور ہمارے لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ظاہر کرو ورنہ ہم تم سب کو قتل کردیں گے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم میں سے کون اپنی جان کے بدلہ جنت خریدے گا ؟ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا ان لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اس کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا اس وقت اس کو شبہ ہوگیا اور انہوں خیال کیا کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے اور سولی پر لٹکا دیا نصاری نے بھی اسی طرح گمان کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسی دن ان کو اوپر اٹھالیا تھا۔ عورت کو یہ بات پہنچی کہ عیسیٰ کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا وہ آئی اور اس نے ایک مسجد اس درخت کی جڑ میں بنائی وہ اس میں نماز پڑھنے لگی اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر رونے لگی۔ اچانک اس نے اپنے اوپر سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی آواز سنی جو انجانی نہیں تھی اے فلانی ! اللہ کی قسم ان لوگوں نے نہ مجھے قتل کیا اور نہ مجھے سولی پر لٹکایا لیکن ان پر شبہ پڑگیا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ آج رات حواری تیرے گھر میں جمع ہوں گے۔ وہ لوگ بارہ جماعتوں میں بٹ جائیں گے ہر جماعت ایک قوم کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دے گی جب شام ہوئی تو حواری اس کے گھر میں جمع ہوئے اس عورت نے ان سے کہا میں نے اس رات ایک چیز سنی ہے میں تم کو بیان کرتی ہوں اور قریب ہے تم مجھ کو جھٹلاؤ گے حالانکہ وہ بات سچی بات ہے میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی آواز سنی اور وہ فرما رہے تھے اے فلانی اللہ کی قسم نہ میں قتل ہوا اور نہ میں سولی دیا گیا یہ بات کہنے کے لئے ہم تیرے گھر میں جمع ہوئے ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہم زمین میں دعوت کے لئے نکل جائیں گے جو حواری روم کی طرف گیا وہ نسطور تھا اور نسطور کے دو ساتھی بھی تھے اس کے دو ساتھی نکلے لیکن نسطور کو کسی حاجت نے روک لیا۔ اس نے ان دونوں سے کہا نرمی اختیار کرنا سختی نہ کرنا اور کسی معاملہ میں مجھ سے پہل نہ کرنا جب یہ دونوں کورۃ (مقام) پر پہنچے کہ جس کا انہوں نے ان کے عید کے دن آنے ارادہ کیا تھا ان کے بادشاہ اور اس کے ساتھ ملک کے عمائدین بھی باہر نکلے دونوں آدمی بادشاہ کے پاس آئے اور اس کے سامنے کھڑے ہوگئے ان دونوں نے کہا اللہ سے ڈرو بلاشبہ تم گناہوں کا ارتکاب کرتے ہو اور تم اللہ کی حرمتوں کو پامال کرتے ہو۔ اور انہوں نے وہ باتیں کیں جو اللہ نے چاہا۔ بادشاہ نے افسوس کیا اور ان دونوں کے قتل کا ارادہ کیا اہل مملکت میں سے کچھ لوگ اس کی طرف کھڑے ہوگئے تو انہوں نے کہا یہ ایسا دن ہے کہ اس میں خون نہیں بہایا جاتا تو نے اپنے ان ساتھیوں کو قبضے میں نہیں لے لیا تھا اگر تو اس کو پسند کرے تو ان دونوں کو قید کر دو یہاں تک کہ ہماری عید گزر جائے پھر ان دونوں کے بارے میں جو آپ کی رائے گی ویسے ہی کرلینا تو بادشاہ نے ان کو قید کرنے کا حکم کردیا۔ پھر وہ ان دونوں کو بھول گیا یہاں تک کہ نسطور آپہنچا ان دونوں کے بارے میں پوچھا اس کو ان کا حال بتایا گیا کہ وہ دونوں قید میں ہیں نسطور ان کے پاس آیا اور ان سے کہا میں نے تم کو نہیں کہا تھا نرمی اختیار کرنا سختی نہ کرنا اور کسی معاملہ میں مجھے پیچھے نہ چھوڑنا کیا تم جانے ہو تم دونوں کی کیا مثال ہے تمہاری مثال اس عورت کی طرح ہے جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بوڑھی ہو کر اس عمر کو پہنچ گئی پھر بڑھاپے میں اس کا لڑکا پیدا ہوگیا اس نے یہ کہا کہ یہ جلدی سے جوان ہوجائے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائے تو اس نے اس کے معدے میں ایسی غذا کو پہنچائی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تھا تو وہ عورت بچے کو مار ڈالتی ہے پھر ان دونوں سے کہا اب تم کسی چیز میں جلدی نہ کرنا پھر وہ نکلا اور بادشاہ کے دروازے پر آیا بادشاہ کا طریقہ یہ تھا جب لوگ بیٹھ جاتے تو اس کی چار پائی کو رکھ دیا جاتا اور لوگ اس کے اردگرد صف بستہ بیٹھ جاتے۔ جب وہ لوگ کسی حلال یا حرام میں مبتلا ہوتے تو یہ معاملہ بادشاہ کی سوال کرتے یہاں تک کہ یہ مسئلہ مجلس کے آخر والوں کی طرف پہنچ جاتا نسطور آیا اور قوم کے آخر میں بیٹھ گیا جب وہ لوگ بادشاہ کو جواب دینے لگے اور انہوں نے نسطور کا جواب بھی بادشاہ کو پہنچایا اس نے اس میں سے ایسی چیز سنی جس میں حلاوت تھی اور اس نے اپنے کانوں میں مٹھاس پائی۔ بادشاہ نے کہا یہ بات کس نے کی ہے ؟ کہا گیا اس آدمی کا جواب ہے جو قوم کے آخر میں (بیٹھا) ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لے آؤ نسطور آیا تو بادشاہ نے کہا تو نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں (میں نے کہا ہے) بادشاہ نے کہا اس معاملہ میں تو کیا کہتا ہے اس نے کہا میں یہ کہتا ہوں یعنی کسی چیز کے بارے میں اس سے پوچھا جاتا تو نسطور اس کی وضاحت کردیتا بادشاہ نے کہا تیرے پاس یہ علم ہے اور تو قوم کے آخر میں بیٹھا ہے میری چار پائی کے ساتھ اس کے بیٹھنے کی جگہ بنا دو پھر کہا اگر تیرے پاس میرا بیٹا آئے تو اس کے لئے کھڑا نہ ہونا پھر نسطور پر متوجہ ہوا اور لوگوں کو چھوڑ دیا جب نسطور نے دیکھ لیا کہ اس کی قدر ومنزلت ثابت ہوچکی تو اس نے کہا میں بادشاہ سے طریقہ سے بات کروں گا۔ نسطور نے کہا اے بادشاہ ! میرا گھر اور بہت دور ہے اگر تو پسند کرے تو مجھ سے اپنی حاجت کو پورا کر اور مجھ کو اجازت دے کہ میں نے اپنے اہل و عیال کی طرف چلا جاؤں بادشاہ نے کہا اے نسطور ایسا کرنے کی تو گنجائش نہیں اگر تو چاہے تو اپنے گھر والوں کو ہمارے پاس لے آ تیرے لئے ہمدردی ہوگی اور اگر تو چاہے تو بیت المال میں سے اپنی ضرورت کے مطابق لے لے اور اپنے گھر والوں کی طرف بھیج دے تو ایسا کرے (یہ سن کر) نسطور خاموش ہوگیا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ان کا ایک آدمی فوت ہوگیا نسطور نے کہا اے بادشاہ ! مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ دو آدمی آئے تھے جو تیرے دین کو عیب لگا رہے تھے بادشاہ نے ان کو یاد کیا اور ان کو بلا بھیجا اور کہا اے نسطور تو ہی میرے ان کو درمیان فیصلہ کرنے والا ہے جو تو کہے گا میں راضی ہوں نسطور نے کہا اے بادشاہ ! ٹھیک ہے یہ میت ہے جو نبی اسرائیل میں فوت ہوا ان دونوں کو حکم کرو کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ان کی دعا کے صدقہ اسے زندہ کر دے تو یہ ایک کھلی ہوئی نشانی ہوگی میت کو لایا گیا اور اس کے سامنے کردیا گیا وہ دونوں کھڑے ہوئے وضو کیا اور اپنے رب سے دعا کی تو اس پر روح لوٹ آئی اور اس نے بات کی نسطور نے کہا اے بادشاہ اس میں کھلی ہوئی نشانی ہے لیکن ان دونوں کو ایسی بات کا حکم دیں جو اس سے مختلف ہو جس پر آپ کی مملکت کے لوگ متفق ہیں پھر تو اپنے معبودوں سے کہہ اگر وہ قادر ہیں کہ ان دونوں کو نقصان پہنچا سکیں تو ان کی بات کا کوئی وزن نہیں دین جھوٹا ہے اور اگر یہ دونوں قادر ہوگئے کہ وہ تیرے معبودوں کو نقصان پہنچا سکیں تو ان دونوں کا معاملہ قوی ہے۔ بادشاہ اور اس کی مملکت کے لوگ بتوں کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور نسطور بھی سجدے میں گرپڑا اور کہا اے اللہ ! میں تیرے لئے سجدہ کر رہا ہوں اور ان بتوں کے بارے میں ایک تدبیر کرتا ہوں تاکہ تیرے سوا ان کی عبادت نہ کی جائے پھر بادشاہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا یہ دونوں ارادہ کرتے ہیں کہ تمہارا دین بدل دیں اور وہ تمہارے علاوہ دوسرے معبود کی طرف بلاتے ہیں ان کی آنکھیں پھوڑ دو ان کو شل کر دو یا ان کے اعضا کاٹ دو معبودون نے اسے جواب نہ دیا نسطور نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ دونوں کلہاڑا اٹھالو اور کہا اے بادشاہ ان دونوں سے کہو کیا یہ دونوں تیرے معبودوں کو نقصان پہنچانے پر قادر ہیں اس نے کہا کیا تم ہمارے معبودوں کو نقصان پہنچانے پر قادر ہو ؟ انہوں نے کہا ہمارے اور ان کے درمیان راستہ چھوڑ دے یہ دونوں ان جھوٹے معبودوں (یعنی بتوں) کے پاس آئے اور ان کو توڑ دیا نسطور نے کہا میں ان دونوں کے رب پر ایمان لے آیا بادشاہ نے کہا میں بھی ان دونوں کے رب پر ایمان لے آیا اور سب لوگوں نے کہا ہم بھی ان دونوں کے رب پر ایمان لے آئے نسطور نے کہا اپنے ساتھیوں سے کہا نرمی اس طرح ہوتی ہے۔ (11) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک یہودی نے ان سے کہا تم یہ کہتے ہو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ عزیزو حکیم تھا آج وہ کیا ہے ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ اپنی ذات سے عزیز و حکیم ہے۔