4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 4:51–53

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو، اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لائے ان کی بنسبت یہ کافر زیادہ راہ راست پر ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

ایسا کہنے والے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اللہ لعنت کر دے تو اس کے لئے کوئی مددگار نہ پائے گا

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کا ملک میں کچھ حصہ ہے سو ایسی صورت میں لوگوں کو وہ ذرا سی چیز بھی نہ دیتے

مشرکین کی تعریف باعث لعنت ہے (1) الطبرانی و بیہقی نے دلائل میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے حلف لیا رسول اللہ ﷺ سے لڑائی لڑنے پر قریش نے ان سے کہا تم لوگ قدیم علم والے ہو اور اہل کتاب ہو ہم کو ہمارے بارے میں اور محمد ﷺ کے بارے میں بتاؤ یہودیوں نے کہا بتاؤ تمہارے کیا کام ہیں اور محمد ﷺ کے کیا کام ہیں قریش نے کہا ہم بڑی کو ہانوں والے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ہم پانی پر دودھ پلاتے ہیں ہم غلام آزاد کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں یہودیوں نے پوچھا محمد ﷺ کیا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ لاوارث آدمی ہے۔ ہمارے رشتہ داروں کو کاٹ دیا اور اس کی پیروی کی حاجیوں کی چوری کرنے والے بنو غفار نے تو یہودیوں نے کہا بلکہ تم ان سے بہت بہتر ہو اور ہدایت والے راستے پر ہو تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یؤمنون بالجبت والطاغوت “ آخر آیت تک۔ (2) احمد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب کعب بن اشرف (یہودیوں کا سردار) مکہ آیا قریش نے اس سے کہا تو اہل مدینہ میں سے بہترین لوگوں میں اور ان کا سردار ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو پھر قریش نے کہا کیا تو نے اس لاوارث اور اپنی قوم سے کٹے ہوئے آدمی کو نہیں دیکھا جو گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر اور ہم حاجیوں کی خدمت کرنے والے ہیں بیت اللہ کے خادم اور حاجیوں کو پانی پلانے والے ہیں تو کعب نے کہا تم اس سے بہتر ہو تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ان شأنئک ھو الابتر “ اور یہ آیت نازل ہوئی ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یؤمنون بالجبت والطاغوت “ سے لے کر ” نصیرا “ تک۔ (3) عبد الرزاق اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ کعب بن اشرف مشرکین مکہ کے پاس گیا اور ان سے نبی ﷺ کے خلاف سرکشی پر ابھارا اور ان سے کہا کہ حملہ کریں ہم تمہارے ساتھ ہوں گے قریش نے کہا تم اہل کتاب ہو اور وہ صاحب کتاب ہے ہم کو اطمینان نہیں کہ یہ تمہاری طرف سے کوئی دھوکہ ہو اگر تو اس بات کا ارادہ کرتا ہے کہ ہم تیرے ساتھ نکلیں تو ان دو بتون کو سجدہ کر اور ان پر ایمان لے آ تو اس نے ایسا کرلیا پھر انہوں نے کہا ہم زیادہ ہدایت والے ہیں یا محمد ﷺ اور ہم بڑی کوہانوں والے اونٹوں کو ذبح کرتے ہیں۔ اور پانی پر دودھ کو پلاتے ہیں اور ہم صلہ رحمی کرتے ہیں اور مہمان کی ضافت کرتے ہیں اور ہم اس گھر کا طواف کرتے ہیں اور محمد ﷺ نے قطع رحمی کی، اور اپنے شہر سے نکل گیا اس نے کہا بلکہ تم بہتر ہو اور زیادہ ہدایت والے ہو تو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یؤمنون بالجبت والطاغوت “۔ (4) ابن جریر نے مجاہد (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی جس نے یہ کہا کہ کفار قریش زیادہ ہدایت والے ہیں محمد ﷺ سے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر نے سدی سے روایت کیا اور انہوں نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ اور یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا معاملہ تھا جب آپ ان کے پاس عامریوں کی دیت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لئے تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے ارادہ سے مطلع کردیا جو انہوں نے پروگرام بنایا تھا رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ واپس لوٹ آئے تو کعب بن اشرف بھاگا یہاں تک کہ مکہ آگیا اور اس نے محمد ﷺ کے خلاف معاہدہ کیا ابو سفیان نے اس سے کہا اے ابو سعید ! تم ایسی قوم ہو جو کتاب کو پڑھتے ہو۔ اور تم جانتے ہو اور ہم ایسی قوم ہیں جو نہیں جانتے ہم کو بتائیے کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا ؟ کعب نے کہا اپنا دین مجھ پر پیش کرو ابو سفیان نے کہا ہم ایسی قوم ہیں جو بڑے کو ہانوں والے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور ہم اپنے رب کے گھر کی حفاظت کرتے ہیں اور ہم اپنے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو ہمارے آباؤ اجداد کرتے تھے اور محمد ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم ان کو چھوڑدیں اور ہم اس کی پیروی کریں کعب نے کہا تمہارا دین محمد ﷺ کے دین سے بہتر ہے تو اس پر ثابت قدم رہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ محمد ﷺ نے یہ گمان کیا ہے کہ تواضع کے ساتھ بھیجے گئے ہیں حالانکہ وہ عورتوں سے نکاح کرتا ہے جو چاہتا ہے اور ہم کوئی ایسا بادشاہ نہیں جانتے کہ بادشاہ سے بڑھ کر ہو تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا “۔ (6) ابن اسحاق وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ احزاب میں قریش غطفان بنو قریظہ کو جن لوگوں نے شریک کیا وہ حی بن اخطب، سلام بن ابی عقیق، ابو رافع، ربیع بن ابی الحقیق، عمارہ، وحوح بن عامر اور ھودہ بن قیس تھا لیکن وحوح بن عامر اور ھودہ یہ بنو وائل میں سے تھے اور باقی سارے بنو نضیر میں سے تھے جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا یہ لوگ یہودیوں کے علماء میں سے ہیں اور پہلی کتابوں کے عالم ہیں ان سے سوال کرو کیا تمہارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین تو قریش نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا بلکہ تمہارا دین بہتر ہے اس کے دین سے اور تم زیادہ ہدایت والے ہو ان سے اور ان لوگوں سے جو اس کی پیروی کرتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب “ سے ” ملکا عظیما “ تک۔ (7) بیہقی نے دلائل میں وابن عساکر نے اپنی تاریخ میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے ساتھ قبیلہ بنو نضیر کا معاملہ ہوا تو کعب بن اشرف بھاگا اور مکہ جا پہنچا اور وہیں رہنے لگا اور کہنے لگا میں اس کے خلاف کسی کی مدد نہیں کروں گا نہ ان سے خود قتال کروں گا مکہ میں اس سے کہا گیا اے کعب ! ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین اور اس کے صحابہ کا تو اس نے کہا تمہارا دین بہتر ہے اور قدیم ہے اور محمد ﷺ کا دین نیا ہے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب “۔ (8) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت کعب بن اشرف اور حی بن اخطب ان یہود کے دونوں آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بنو نضیر میں سے تھے یہ دونوں حج کے موقعہ پر قریش کے پاس آئے تو مشرکوں نے ان سے کہا کیا ہم ہدایت والے ہیں یا محمد ﷺ اور اس کے صحابہ ؓ اور ہم کعبہ کی خدمت کرنے والے پانی پلانے والے اور حرم والے ہیں تو ان دونوں نے کہا بلکہ تم ہی محمد اور اس کے صحابہ سے زیادہ ہدایت والے ہو اور دونوں جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بولنے والے ہیں ان کو محمد اور ان کے صحابہ کے حسد نے اس بات پر آمادہ کیا۔ (9) عبد الرزاق وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جبت اور طاغوت دو بت ہیں۔ (10) الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور رستہ فی الایمان میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جیت جادوگر ہے اور طاغوت شیطان ہے۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ایک طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (11) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبت حی بن اخطب اور طاغوت کعب بن اشرف ہے ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (12) ابن جریر وابن ابی ھاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا جبت سے مراد بت ہیں اور طاغوت سے مراد جو بتوں کے سامنے ہوتا ہے وہ جھوٹ کو اسی سے تعبیر کرتے ہیں۔ (13) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبت حبشی زبان میں شیطان کا نام ہے اور طاغوت سے مراد عرب کے کاہن ہیں۔ (14) عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جبت حبشی زبان میں شیطان کو کہتے ہیں اور طاغوت کاہن کو کہتے ہیں۔ (15) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جبت جادوگر ہے حبشی زبان میں اور طاغوت کا ہن ہے۔ (16) ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ طاغوت جادوگر ہے اور جبت کا ہن ہے۔ (17) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ جبت شیطان ہے اور طاغوت کاہن ہے۔ (18) ابن جریر وابن ابی حاتم نے لیث کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جبت کعب بن اشرف اور طاغوت شیطان ہے جو انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ ” جبت “ کی ایک اور تفسیر (19) عبد الرزاق احمد وعبد بن حمید و ابوداؤد والنسائی وابن ابی حاتم نے قبیصہ بن مخارق ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جانوروں کو اڑا کر فال لینا، زمین پر کنکریاں مار کر فال لینا، بدشگونی لینا جبت میں سے ہیں۔ (20) رستہ فی الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویقولون للذین کفروا ھؤلاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “ سے مراد ہے کہ یہود نے اس بات کو کہا اور کہتے تھے کہ قریش زیادہ ہدایت والے محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب سے (21) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام لہم نصیب من الملک “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے کوئی حصہ نہیں اگر ان کے لئے کوئی حصہ ہوتا تو وہ لوگوں کو گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی نہ دیتے۔ (22) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر ان کے لئے بادشاہت میں سے کوئی حصہ مقرر ہوتا تو اس وقت محمد ﷺ کو ذرہ برابر چیز نہ دیتے۔ (23) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے پانچ طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نقیر وہ نقطہ ہے جو گٹھلی کی پیٹھ پر ہوتا ہے۔ (24) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے نقیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ گٹھلی کی پشت پر جو گڑھا ہوتا ہے اس کو نقیر کہتے ہیں اور اسی سے کھجور کا درخت اگتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو شاعر کا قول نہیں سنا۔ ولیس الناس بعدک فی نقیر ولیسوا غیر اصداء وھام ترجمہ : تیرے بعد لوگ معمولی حالت میں نہیں ہیں اور صدائے بازگشت اور کھوپڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (25) ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فاذا لا یؤتون الناس نقیرا “ کے بارے میں بتائیے کہ نقیر کیا چیز ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا گٹھلی کی پشت پر جو نشان ہوتا ہے اسے نقیر کہتے ہیں اور اس کے بارے میں شاعر نے کہا۔ لقد رزحت کلاب بنی زبیر فما یعطون سائلہم نقیرا ترجمہ : یقیناً بنی زبیر کے کتے کمزوری کی وجہ سے زمین پر گرے پڑے ہیں وہ اپنے سائل کو معمولی چیز بھی نہیں دیتے۔ (26) ابن جریر وابن المنذر نے ابو العالیہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ نقیر ہے اور اپنے انگوٹھے کے سرے کو شہادت کی انگلی کے اندرونی حصہ پر رکھا پھر اس سے چٹکی بجائی۔
Ayahs 4:54–55

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

کیا وہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے، سو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی اور ہم نے ان کو بڑا ملک عطا کیا

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

سو ان میں بعض اس پر ایمان لائے اور بعض نے اس سے روگردانی کی، اور کافی ہے دوزخ کا دہکتی ہوئی آگ ہونا

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے مراد یہودی ہیں۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب نے کہا محمد ﷺ کا گمان ہے کہ ان کو ان کی تواضع کا حکم دیا گیا حالانکہ ان کو تو عورتیں ہیں اور ان کا مقصد ہی نکاح کرنا ہے کون ان سے بڑا بادشاہ ہوگا تو اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے لے کر ” ملکا عظیما “ تک اور اس سے مراد سلیمان (علیہ السلام) کا ملک ہے۔ (3) ابن المنذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا تم گمان کرتے ہو کہ محمد ﷺ تواضع کا حکم دیا گیا حالانکہ ان کے پاس نو عورتیں ہیں کون بڑا بادشاہ ہے ان سے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (4) ابن المنذر والطبرانی نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت میں ” الناس “ سے مراد ہم لوگ ہیں دوسرے لوگوں کے علاوہ۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے ” ام یحسدون الناس “ کے بارے میں روایت کیا اس جگہ میں لوگوں سے مردا خاص کر نبی ﷺ ہیں۔ (6) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ مراد ہیں۔ (7) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو کچھ اوپر ستر جوانوں کے برابر طاقت دی گئی اور اس پر یہود نے حسد کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ام یحسدون الناس علی ما اتہم اللہ من فضلہ “۔ (8) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ محمد ﷺ پر حسد کرتے ہیں جب وہ ان میں سے نہ ہوئے (اس لئے) ان لوگوں نے ان کا انکار کردیا۔ (9) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے یہی یہودی مراد ہیں انہوں نے عرب کے اس قبیلہ پر حسد کیا ” علی ما اتہم من فضلہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر سے نبی بھیج دیا اس لئے وہ لوگ اس پر حسد کرنے لگے۔ (10) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” علی ما اتہم من فضلہ “ سے نبوت مراد ہے۔ (11) ابوداؤد اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ ایمان اور حسد ایک شخص میں جمع نہیں ہو سکتے (12) بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بندے کے پیٹ میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے۔ (13) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقد اتینا ال ابراہیم “ سے سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) مراد ہیں اور ” الکتب والحکمۃ “ سے نبوت مراد ہے (اور) ” واتینہم ملکا عظیما “ سے مراد ہے عورتوں میں بادشاہت ہے اور داؤد (علیہ السلام) کے لئے یہ حلال ہوا کہ وہ ننانوے عورتوں سے شادی کریں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے یہ حلال تھا کہ وہ سو عورتوں سے شادی کریں۔ لیکن محمد ﷺ کے لئے یہ حلال نہ ہوا کہ وہ ایسے نکاح کریں جیسے انہوں نے نکاح کیا۔ (14) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی پشت میں سو مردوں کی قوت تھی اور ان کی تین سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھیں۔ (15) الحاکم نے مستدرک میں محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو عورتیں اور سات سو باندیاں تھیں۔ (16) عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ہمام بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واتینہم ملکا عظیما “ کہ ان انبیاء کی مدد کی گئی فرشتوں اور لشکروں سے۔ (17) عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واتینہم ملکا عظیما “ سے نبوت مراد ہے۔ (18) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فمنہم من امن بہ “ سے مراد ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ قرآن مجید پر ایمان لائے۔ (19) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمنہم من امن بہ “ سے مراد ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور لفظ آیت ” ومنہم من صد عنہ “ یعنی کچھ نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دیا اور ان کی پیروی نہ کی۔ (20) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم خلیل الرحمن نے کھیتی بوئی اور لوگوں نے بھی کھیتی بوئی اس سال میں لوگوں کی کھیتی ہلاک ہوئی ابراہیم (علیہ السلام) کی کھیتی خوب پھلی پھولی لوگ اس وقت آپ کی طرف محتاج ہوگئے لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان سے سوال کرتے تو وہ ان کو فرماتے جو ایمان لائے گا اس کو دوں گا اور جو انکار کرے گا اس کو نہیں دوں گا سو جو ان میں سے ایمان لاتا اس کو غلہ عطا فرماتے اور ان میں سے جو انکار کرتا تو اس کھیتی میں سے کچھ نہ لے سکا اسی لئے اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” فمنہم من امن بہ ومنہم من صد عنہ وکفی بجہنم سعیرا “۔ (21) عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقد اتینا ال ابراہیم الکتب والحکمۃ “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ آل ابراہیم میں سے تھے۔ (22) الزبیر بکار نے موفقیات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت معاویہ نے فرمایا اے بنو ہاشم تم اس بات کا ارادہ کرتے ہو کہ تم خلافت کے مستحق بن جاؤ جیسا کہ تم نبوت کے مستحق ہو اور یہ دونوں چیزیں کسی ایک کے لئے جمع نہیں ہوتیں اور تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے لئے بادشاہی ہوگی ابن عباس ؓ نے ان سے فرمایا تمہارا یہ کہنا کہ ہم خلافت کے مستحق ہیں نبوت کی وجہ سے اگر ہم نبوت کی وجہ سے اس کے مستحق نہ بنیں تو کس وجہ سے مستحق بنیں۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ نبوت اور خلافت کسی ایک کے لئے جمع نہیں ہوسکتی تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہاں گیا۔ لفظ آیت ” فقد اتینا ال ابراہیم الکتب والحکمۃ واتینہم ملکا عظیما “ اس میں کتاب سے مراد نبوت ہے حکمت سے مراد سنت ہے اور ملک سے مراد خلافت ہے ہم سب ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ہی حکم فرمایا ہے اور سنت ہمارے لئے اور ان کے لئے جاری ہے۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ ہم نے گمان کیا ہے کہ ہمارے لئے بادشاہی ہوگی تو کتاب اللہ میں گمان شک کرنا ہے اور ہر ایک گواہی دیتا ہے کہ ہمارے لئے حکومت ہے تم ایک دن کو بھی مالک نہیں بنتے مگر ہم دو دن مالک بن جاتے ہیں اور تم ایک مہینہ کو بھی مالک نہیں بنتے اور ہم دو ماہ مالک بن جاتے ہیں اور تم ایک سال مالک نہیں بنتے اور ہم دو سال مالک بن جاتے ہیں (واللہ اعلم) ۔
Ayahs 4:56–57

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے ہماری آیات کے ساتھ کفر کیا عنقریب ہم ان کو آغ میں داخل کریں گے جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی تو ہم ان کھالوں کے علاوہ ان کی دوسری کھالیں پلٹ دیں گے تاکہ عذاب چکھیں، بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے عنقریب ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان میں ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

کافروں پر عذاب کی شدت (1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ثوبر کے طریق سے ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ان کی کھالیں بدل دیں گے جو کاغذ کی طرح سفید ہوں گی۔ (2) طبرانی نے اوسط میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ نافع کے طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کے پاس یہ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب “ پڑھی گئی تو معاذ نے فرمایا میرے پاس اس کی تفسیر ہے یعنی ایک گھڑی میں سو مرتبہ ان کی کھال بدل جائے گی۔ عمر ؓ نے فرمایا میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ (3) ابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی عمر کے پاس یہ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ تلاوت کی تو کعب ؓ نے فرمایا میرے پاس اس آیت کی تفسیر ہے میں نے اس کو اسلام سے پہلے بھی پڑھا عمر ؓ نے فرمایا اے کعب اس کو (اس تفسیر کو) لے آ، اگر تو اسے لایا جیسے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تو ہم تیری تصدیق کریں گے کعب نے فرمایا بیشک میں اس کو اسلام سے پہلے یوں پڑھا۔ لفظ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ ایک ہی گھڑی میں ایک سو ایک بیس مرتبہ تبدیل ہوگی حضرت عمر ؓ نے فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔ (4) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ جلایا جائے گا (اور فرمایا) لفظ آیت ” کلما نضجت “ یعنی (جب) ان کی کھالیں بک جائیں گی اور ان کا گوشت کھالیا جائے گا کہا جائے گا لوٹ جاؤ تو وہ لوٹ آئیں گے۔ (5) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آگ پکڑے گی اور ان کی کھالوں کو کھاجائے گی یہاں تک کہ ان کو گوشت سے جدا کر دے گی اور آگ ہڈیوں کی طرف پہنچے گی تو ان کی کھالیں بدل جائیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو سخت عذاب چکھائیں گے یہ ان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہوگا ان کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور اللہ کی آیات کا انکار کرنے کی وجہ سے۔ ہر کافر کی سو کھالیں ہوں گی (6) ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن یزید حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ کے بارے میں بات پہنچی ہے کہ ہر کافر کی سو کھالیں بنا دی جائیں گی ہر دو کھالوں کے درمیان عذاب کی ایک قسم ہوگی۔ (7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے سنا کہ وہ لکھا ہوا ہے پہلی کتاب میں ان میں سے ہر ایک کی جلد چالیس ہاتھ ہوگی اور اس کا دانت ستر ہاتھ ہوگا اور ان کا پیٹ اتنا بڑا ہوگا کہ اگر اس کے پیٹ کے اندر پہاڑ رکھ دیا جائے تو اس کو کافی ہوجائے جب آگ ان کے چمڑوں کو کھالے گی تو ان کے چمڑے بدل دئیے جائیں گے۔ (8) ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے مجھ کو راز کی بات کی فرمایا اے حذیفہ جہنم میں آگ کے درندے ہوں گے اور آگ کے کتے ہوں گے اور آگ کے آ ٹکڑے ہوں گے اور آگ کی تلواریں ہوں گی اور فرشتوں کو بھجیا جائے گا کہ وہ دوزخ والوں کو ان آنکڑوں سے بالوں کے ساتھ لٹکائیں گے اور ان تلوارون سے ان کو عضو عضو کر کے کاٹیں گے اور ان درندوں اور کتوں کی طرح ان کے سامنے پھینک دیں گے جب بھی وہ عضو کاٹیں گے تو ایک نیا عضو پیدا ہوجائے گا۔ (9) ابن ابی شیبہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ ابو مسعود ؓ نے ابوہریرہ ؓ سے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ کافر کی جلد کتنی موٹی ہوگی ؟ انہوں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا کہ کافر کی جلد بیالیس ہاتھ موٹی ہوگی۔ (10) ابن ابی شیبہ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ کافر کی کھال چالیس ہاتھ موٹی ہوگی۔ (11) ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ والے آگ میں بڑے کر دئیے جائیں گے یہاں کہ ان میں سے ایک اتنی اتنی مسافت تک پھیل جائے گا اور ان میں ہر ایک داڑھ احد جنتی ہوگی۔ (12) ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے لفظ آیت ” وندخلہم ظلا ظلیلا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عرش کا سایہ ایسے ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تمہیں حکم فرماتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں دے دیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلے کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس چیز کی تمہیں نصیحت فرماتا ہے وہ بہت اچھی ہے، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

(1) ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو فتح فرمایا تو عثمان بن ابی طلحہ کو بلایا جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا چابی مجھے دو تو وہ اس کو لے آیا جب اس نے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عباس آگے بڑھے اور کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ چابی مجھے دیجئے پانی پلانے کی خدمت کے ساتھ عثمان ؓ نے اپنے ہاتھ کو روک لیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان چابی مجھ کو دو انہوں نے دینے کے لئے اپنے ہاتھ کو بڑھا یا تو عباس نے پہلے کی طرح پھر کہا (کہ چابی مجھے دیجئے) عثمان نے اپنے ہاتھ کو روک لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے تو چابی مجھ کو دے دو اس نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کی امانت کے ساتھ آپ کھڑے ہوئے اور کعبہ کا دروازلہ کھولا آپ نے کعبہ میں ابراہیم کی تصویر کو پایا جس کے پاس جوئے کے تیر تھے جن کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) جوا کھیل رہے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا مشرکین کو اللہ ان کو ہلاک کرے ابراہیم کہاں اور ان تیروں کی کیا حیثیت پھر آپ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا پہلے ان تیروں کو صاف کیا پھر اس نے پانی کے ساتھ اس تصویر کو صاف کیا پھر آپ مقام ابراہیم کی طرف نکلے وہ کعبہ میں تھا پھر فرمایا اے لوگوں یہ قبلہ ہے پھر آپ باہر نکلے اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ پر جبرئیل نازل ہوئے چابی کو لوٹانے کے بارے میں آپ نے عثمان بن طلحہ کو بلایا اور اس کو چابی عطا فرمائی یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ یہاں تک کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔ امانت کی واپس فرض ہے (2) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ نے ان سے کعبہ کی چابی لے لی تھی اور فتح مکہ کے دن بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے جب آپ باہر تشریف لائے تو یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے آپ نے عثمان کو بلوایا اور اس کو چابی واپس دے دی اور عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ کعبہ سے باہر آئے تو یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس سے پہلے میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ (3) الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنی طلحہ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لے لو (یعنی یہ ہمیشہ تیرے پاس ہی رہے گی) اس کو تم سے ظالم کے علاوہ کوئی نہیں چھینے گا۔ (4) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت امور مملکت چلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی اور ان لوگوں کے بارے میں جو لوگوں کے امور کے بارے میں کسی چیز کے نگران ہوتے ہیں۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے شھر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ خاص کر امراء یعنی حکمرانوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (6) سعید بن منصور والفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ امام پر حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے اس حکم کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اور امانت کو ادا کرے اگر اس نے ایسا کیا تو لوگوں پر یہ حق ہے کہ اس کی بات سنیں اور اطاعت کریں اور اس کا کہا مانیں جب وہ بلائے جائیں۔ (7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں امانت سے مراد حکومت ہے جو تم لوگوں کے سپرد کرتے ہو۔ (8) ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نیک اور بد دونوں کو شامل ہے۔ (9) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ امانات ہیں جو تیرے اور لوگوں کے درمیان ہیں مال میں اور اس کے علاوہ دوسرے معاملات میں۔ خیانت کا گناہ معاف نہ ہوگا (10) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے راستے میں شہادت سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت (کہ وہ معاف نہیں ہوتی) ایک آدمی قیامت کے دن لایا جائے گا اگرچہ وہ شہید ہوگیا اللہ کے راستے میں اس لئے کہا جائے گا اپنی امانت کو ادا کر وہ کہے گا میں کہاں سے ادا کروں جبکہ امانت ختم ہوچکی کہا جائے گا (فرشتوں سے) کہ اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ وہ جائے گا تو اس کی امانت کی ایک شکل بنا دی جائے گی جیسے اس دن اس کی شکل تھی جب اس کو امانت دی گئی تھی جہنم کی گہرائی میں وہ (گہرائی میں جا کر) اس کو اٹھائے گا اور اس کو لے کر اوپر چڑھے گا یہاں تک کہ وہ گمان کرے گا کہ وہ اس کو لے کر باہر نکلنے والا ہے تو امانت اس کے کاندھے سے گرجائے گی اور وہ اس کے ساتھ یہ بھی نیچے گرجائے گا یہی سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ذاذان نے کہا کہ میں براء بن عازب کے پاس آیا اور میں نے کہا کیا تو نے سنا کہ تمہارے بھائی ابن مسعود ؓ نے کیا کہا ؟ انہوں نے فرمایا سچ کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ اور امانت ہے نماز میں اور امانت ہے جنابت سے غسل کرنے میں اور امانت ہے بات کرنے میں اور امانت ہے ناپ اور وزن میں اور امانت ہے قرض میں اور یہ سب سے زیادہ سخت امانت ہے ودیعتوں میں۔ (11) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ میں رخصت نہیں دی گئی کسی وسعت والے کے لئے اور نہ کسی تنگ دست کے لئے (سب کو امانت ادا کرنے کا حکم فرمایا) ۔ (12) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے امانت کو ادا کر اس کی طرف جس نے تیرے پاس امانت رکھی اور خیانت نہ کر جس نے تیری خیانت کی۔ (13) ابوداؤد ترمذی اور حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو صالح کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا امانت کو ادا کر اس شخص کی طرف جس نے تیرے پاس امانت رکھی اور خیانت نہ کر جس نے تیری خیانت کی۔ (14) مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں جس میں ہوں گی وہ منافق ہے اگرچہ وہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (15) سدی نے شعب میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانتدار نہیں اور اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں۔ چار عمل نجات دہندہ ہیں (16) بیہقی نے شعب میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا چار چیزیں اگر تیرے اندر ہوں گی تو تجھ پر کوئی پکڑ نہیں جو دنیا میں سے کوئی چیز فوت ہوگئی امانت کی حفاظت بات کی سچائی۔ اچھا اخلاق اور لقمہ پاکیزہ (یعنی حلال کھانا) ۔ (17) بیہقی نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلی چیز جو لوگوں سے اٹھائی جائے گی وہ امانت ہے اور آخری چیز جو باقی رہے گی وہ نماز ہے اور کتنے نماز پڑھنے والے ہیں جن میں خیر نہیں۔ (18) بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی چیز جو اس امت سے اٹھائی جائے گی وہ حیا اور امانت ہوگی اللہ تعالیٰ سے ان دونوں کے بارے میں سوال کرو۔ (19) عبد الرزاق و بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کسی کی نماز کی طرف مت دیکھو اور نہ اس کے روزے کی طرف دیکھو اس کی بات کی سچائی کی طرف دیکھو جب وہ بات کرے اور اس کی امانت کی طرف دیکھو جب اس کے پاس امانت رکھی جائے اور اس کی پرہیزگاری کی طرف دیکھو جب اسے شفا نصیب ہو۔ (20) میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر نیک اور بد کو دی جائیں صلہ رحمی کی جائے خواہ رشتہ دار نیک ہو یا بد۔ امانت ادا کی جائے گی خواہ نیک کی ہو یا ان فاجر کی ہو وعدہ پورا کیا جائے وہ نیک کے لئے ہو یا گناہ گار کے لئے ہو۔ (21) سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا جس کے پاس کوئی مال نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ امانت کو راس المال بنا لے۔ (22) انس ؓ رنہ سے روایت کیا کہ وہ گھر جس میں خیانت ہو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ (23) ابو داؤد وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم نے ابو یونس (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ سے لے کر ” کان سمیعا بصیرا “ تک اور وہ اپنے انگوٹھے اپنے دونوں کانوں پر اور ساتھ والی انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھتے اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا۔ اور اپنی انگلیوں کو رکھتے ہوئے دیکھا۔ (24) ابن ابی حاتم نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور وہ اس آیت کو تلاوت فرما رہے تھے لفظ آیت ” سمیعا بصیرا “ یعنی ہر چیز کو دیکھنے والا۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی، اور ان لوگوں کی فرمانبرداری جو اولو الامر ہیں تم میں سے، پس اگر تم آپس میں کسی چیز کے بارے میں جھگڑنے لگو تو اس کو لوٹا دو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت خوب تر ہے۔

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رسول کی اطاعت اور کتاب وسنت کی اتباع لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے مراد حاجت فقہ اور صاحب علم ہیں۔ اطاعت رسول ﷺ کا اہم واقعہ (2) بخاری ومسلم وابی داؤد اور ترمذی و نسائی ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے دلائل میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اطیعوا الرسول واولی الامر منکم “ یہ آیت عبد اللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی کے بارے میں نازل ہوئی جب ان کو نبی ﷺ نے ایک جنگ میں بھیجا۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید کو ایک لشکر میں بھیجا اس میں عمار بن یاسر بھی تھے۔ یہ لوگ اس قوم کی طرف چل دئیے جس قوم کا ارادہ تھا جب قریب پہنچے تو رات کو آرام کے لئے اتر گئے۔ ایک آدمی قوم کے پاس آیا ان کو (لشکر کے آنے کی) خبر دی تو وہ سب لوگ سوائے ایک آدمی کے بھاگ گئے صبح ہوتے ہی اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا انہوں نے اپنا سامان اکٹھا کیا پھر رات کے اندھیرے میں آیا یہاں تک کہ خالد کے لشکر میں پہنچا اور عمار بن یاسر کے بارے میں پوچھا اور ان کے پاس آکر کہنے لگا اے جاگنے والوں کے باپ (یہ اس آدمی نے عمار بن یاسر سے کہا) میں مسلمان ہوچکا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میری قوم نے جب تمہارے بارے میں سنا تو وہ بھاگ گئے اور میں باقی ہوں کیا میرا مسلمان ہونا مجھے نفع دے گا ورنہ کل کو میں بھی بھاگ جاؤں گا عمار نے فرمایا بلکہ وہ تجھ کو نفع دے گا پس تو ٹھہر جا تو وہ ٹھہر گیا جب صبح ہوئی تو حضرت خالد نے حملہ کیا تو ایک آدمی کے سوا کسی کو نہ پایا تو انہوں نے اس کو بھی اور اس کے مال کو بھی لے لیا یہ خبر عمار ؓ کو پہنچی تو وہ خالد کے پاس آئے اور کہا اس آدمی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ مسلمان ہوچکا ہے اور وہ میری امان میں بھی ہے خالد نے فرمایا تم اس کو کس طرح امان دے سکتے ہو دونوں نے ایک دوسرے کو سخت الفاظ کہے اور معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا آپ نے عمار کی امان کو جائز رکھا اور ان کو دوسری مرتبہ کسی کو امان دینے سے منع فرمایا کسی امیر کی اجازت کے بغیر نبی ﷺ کے پاس دونوں نے آپس میں سخت الفاظ کہے اور خالد نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بےنسل غلام کو اجازت دیں گے کہ وہ مجھے برا بھلا کہتا رہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے خالد ! عمار کو برا نہ کہو جو آدمی عمار کو برا کہے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو برا کہیں گے اور جو آدمی عمار سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھیں گے اور جو آدمی عمار کو لعنت کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو لعنت کریں گے تو عمار بھی غصہ ہوگئے اور کھڑے ہوگئے خالد نے (یہ سن کر) اس کے پیچھے گئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے کو پکڑ لیا اور ان سے معذرت کی تو وہ راضی ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن عساکر نے سدی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ (4) ابن جریر نے میمون بن مہران سے لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد نبی ﷺ کے زمانہ میں لشکروں کے امیر ہیں۔ (5) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے وہ امراء مراد ہیں جو تم میں سے ہیں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ لشکروں کے امیر مراد ہیں۔ (6) ابن جریر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے اس آیت والے مراد ہیں جو اس سے پہلے تھی یعنی لفظ آیت ” ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ آخر آیت تک۔ (7) ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابن جریر وابن حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی گویا اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی گویا اس نے میری نافرمانی کی۔ (8) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ابی ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد سلاطین ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر اطاعت لازم ہے تم پر اطاعت لازم ہے۔ اور اطاعت میں آزمائش ہے اور فرمایا اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو حکومت کو انبیاء میں رکھتا یعنی لوگوں کے لئے حکمران اور انبیاء ساتھ ساتھ بھیجتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے جب حکمران نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے قتل کا حکم دیا۔ امیر کی اطاعت لازم ہے (9) البخاری نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حکمرانوں کا حکم سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر ایک حبشی کو حکمران بنا دیا جائے جس کا سر کشمش کے دانے جتنا ہو۔ (10) احمد و ترمذی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو اور پانچ نمازیں پڑھو۔ اور مہینہ بھر کے روزے رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (11) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے مراد ہیں غصہ اور دین والے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے جو لوگون کو اپنے دین کے معانی کو جانتے ہیں اور ان کو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور ان کو برائی سے روکتے ہیں تو اللہ نے ان کی اطاعت بندوں پر واجب کردی۔ (12) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے فقہاء اور نیک لوگ مراد ہیں۔ (13) ابن عدی نے الکامل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” واولی الامر منکم “ سے علم والے مراد ہیں۔ (14) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” واولی الامر “ سے فقہا اور علماء مراد ہیں۔ (15) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” واولی الامر “ سے اصحاب محمد ﷺ اور فقہا اور دین والے مراد ہیں۔ (16) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” واولی الامر “ سے مراد ہے علم والے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ (17) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر “ سے مراد ہے اصحاب رسول اللہ ﷺ کیونکہ وہی لوگ دین کی دعوت دینے والے روایت کرنے والے ہیں۔ (18) عبد بن حمید وابن جریر ابن ابی حاتم وابن عساکر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر “ سے ابوبکر وعمر ؓ مراد ہیں۔ (19) عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واولی الامر “ سے ابوبکر و عثمان وعلی وابن سعد ؓ مراد ہیں۔ (20) سعید بن منصور نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے امہات الاولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ آزاد ہیں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس دلیل سے یہ فرماتے ہیں انہوں نے فرمایا قرآن سے لوگوں نے کہا کس آیت سے ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “ اور حضرت عمر اولی الامر میں سے تھے پھر فرمایا وہ لونڈی آزاد ہے جس کا حمل گرگیا تھا۔ گناہ کے کام میں امیر کی اطاعت جائز نہیں (21) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان آدم پر لازم ہے کہ امراء کی بات کو سنے اور اطاعت کرے۔ وہ بات پسند کرے یا ناپسند کرے مگر یہ کہ وہ کسی گناہ کا حکم دیا جائے (تو اطاعت نہ کرے) جو شخص کسی گناہ کا حکم کرے تو اس کو نہ سنے اور نہ اطاعت کرے۔ (22) ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد عنقریب تم پر حکمران ہوں گے اور تم سے ملے گا نیک آدمی کے ساتھ اور برا آدمی اپنی برائی کے ساتھ ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو ہر اس کام میں جو حق کے موافق ہو اور ان کے پیچھے نماز پڑھو اگر وہ نیک کام کریں تو وہ ان کے لئے اور تمہارے لئے فائدہ ہے اور اگر وہ برا کام کریں تو تمہارے لئے فائدہ ہوگا ان پر وبال ہوگا۔ (23) احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ بتائیے اگر ہم پر ایسے آدمی حاکم ہوں کہ جو آپ کے طریقے پر نہ چلیں اور آپ کے حکم کو نہ اپنائیں تو آپ کیا حکم فرماتے ہیں ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔ (24) ابن ابی شیبہ واحمد وابو یعلی وابن خزیمہ وابن حبان والحاکم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علقمہ بن بجزر کو ایک مہم پر روانہ کیا اس لشکر میں میں بھی تھا جب ہم روانہ ہوئے تو انہوں نے لشکر میں سے ایک طائفہ کو اجازت دی اور ان پر عبد اللہ بن خزامہ بن قیس سہمی کو امیر بنایا گیا جو بدر والوں میں سے تھے اور ان میں دعا یہ بھی تھے ہم بعض راستوں پر اترے اور قوم نے آگ جلائی تاکہ اپنے لئے کھانا تیار کریں امیر صاحب نے ان سے فرمایا کیا تم پر لازم نہیں میرا پیغام سننا اور اس کی اطاعت کرنا ؟ صحابہ نے کہا کیوں نہیں ؟ امیر صاحب نے کہا پس میں تم کو اگر چیز کا حکم دیتا ہوں کیا تم اس کو کرو گے صحابہ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ پھر انہوں نے کہا میں تم کو اپنے حق اور اپنی اطاعت کی قسم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے پر اس آگ میں کود کر دکھاؤ لوگ کھڑے ہو کر تیاری کرنے لگے یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ خیال کرلیا کہ وہ کودنے والے ہیں تو امیر صاحب نے فرمایا اپنے آپ کو روک لو میں تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی گئی واپس آنے کے بعد تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو۔ (25) ابن الضریس نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ بات پہلی کتاب میں لکھی ہوئی تھی جو شخص کسی کو اللہ کی نافرمانی میں دیکھے جبکہ اس پر دیکھنے والے کی اطاعت لازم تھی۔ تو دیکھنے والے کا عمل اللہ تعالیٰ قبول نہ کرے گا جب تک وہ اسی حال میں رہے گا اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر راضی ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول نہیں کرے گا جب تک وہ اس حالت میں رہے گا۔ (26) ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں خالق کی نافرمانی میں۔ (27) ابن ابی شیبہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں (مخلوق) کی کوئی اطاعت نہیں۔ (28) ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ جب کسی آدمی کو گونر بناتے تھے تو اس کے عہد نامہ پر لکھتے تھے اس کے حکم کو سنو اور اس کی اطاعت کرو جب تک وہ تمہارے اندر عدل و انصاف کرے۔ (29) ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہارے اوپر ایک حبشی ناک کٹے ہوئے غلام کو امیر بنا دیا جائے۔ اگر وہ مجھ کو نقصان پہنچائے اور وہ تم کو کسی چیز سے محروم کردے تو صبر کرو اور اگر وہ ایسے کام کا ارادہ کرے جس سے تیرے دین میں نقصان آتا ہے تو کہہ دے میرا خون میرے دین سے کم مرتبہ ہے آزمائش میں ڈالے گئے۔ (30) ابن ابی شیبہ نے ابو سفیان ؓ سے روایت کیا کہ ابن زبیر ؓ نے ہم کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا ہم آزمائش میں ڈالے گئے جو تم دیکھ رہے ہو سو جو کچھ ہم تم کو حکم کریں اللہ کے حکم کے ساتھ تو تم پر لازم ہے اس کا سننا اور اطاعت کرنا اور جو ہم تم کو اللہ کے حکم کے ساتھ حکم نہ کریں تو تم پر اس کا نہ سننا لازم ہے اور نہ اطاعت کرنا۔ حبشی غلام کی بھی اطاعت لازم ہے (31) ابن ابی شیبہ و ترمذی نے ام الحصین حمیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اور آپ پر ایک چادر تھی جس میں آپ لپٹے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے اگر تم پر ایسا حبشی غلام امیر بنا دیا جائے جس کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں تو اس کے حکم کو سنو اور اطاعت کرو جب تک وہ تم کو اللہ کی کتاب کے ساتھ تمہاری قیادت کرے۔ (32) ابن ابی شیبہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ (امیر کی بات کو) سنیں اور اطاعت کریں اور اس کی دعوت کو قبول کریں جب وہ دعوت دے۔ (33) ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ (34) ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کسی بشر کی اطاعت جائز ہے۔ (35) ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر انصار میں سے ایک آدمی کو امیر بنایا اور ان کو حکم فرمایا کہ امیر کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ حضرت علی اللہ عنہ نے فرمایا ان لوگوں نے امیر کو کسی بات پر ناراض کردیا تو امیر نے کہا میرے لئے لکڑیاں اکٹھی کرو انہوں نے لکڑیاں اکٹھی کیں پھر اس نے کہا آگ جلاؤ انہوں نے آگ جلائی اس نے (پھر) کہا اگر میں تم کو حکم کروں تو تم سنو گے اور اطاعت کرو گے سب نے کہا ہاں تو اس نے کہا اس آگ میں داخل ہوجاؤ تو بعض بعض کی طرف دیکھنے لگے۔ اور کہنے لگے ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف آگ سے بھاگے تھے۔ تو امیر کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور آگ بجھ گئی جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کو ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو اس سے نہ نکلتے بلاشبہ اطاعت نیک کاموں میں ہے (برے کاموں میں نہیں ) ۔ (36) الطبرانی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ زیاد نے ایک لشکر پر حکم بن عمرو غفاری کو امیر بنایا تو اس نے عمران بن حصین سے ملاقات کی اور فرمایا کیا تو جانتا ہے کس لئے میں تیرے پاس آیا ہوں کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تھی کہ امیر نے حکم دیا ہے کہ کھڑا ہوجاؤ اور آگ میں کود جاتو وہ آدمی کھڑا ہوا تاکہ اس میں کود جائے میں نے اس کی رہنمائی کی تو وہ رک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا اگر وہ اس میں واقع ہوجاتا تو دوزخ کی آگ میں داخل ہوجاتا۔ اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں (یہ سن کر) اس نے کہا ہاں پھر عمران بن حصین نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں تم کو یہ حدیث سناؤں۔ (37) بخاری نے اپنی تاریخ و نسائی و بیہقی نے شعب میں حارث اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو ان کا حکم فرمایا جماعت کے ساتھ ہو (یعنی مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہو) (امیر کی بات کو) سنو اور اطاعت (دین کے لئے) ہجرت کرو اور جہاد فی سبیل اللہ کرو اور جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹ گیا تو اس نے اسلام کے پھندے کو اپنی گردن سے نکال دیا مگر یہ کہ وہ پھر لوٹ آئے (جماعت کی طرف) ۔ (38) بیہقی نے مقدام ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے امراء کی اطاعت کرو اگر وہ تم کو حکم دیں اس دین کے ساتھ جس کو میں تمہارے پاس لا یا بلاشبہ وہ اس پر اجر دئیے جائیں گے اور تم بھی ان کی اطاعت پر اجر دئیے جاؤ گے اور اگر تم کو حکم دیں اس دین کے ساتھ جس کو میں تمہارے پاس نہیں لایا تو اس کا گناہ ان پر ہوگا اور تم اس سے بری ہوگے جب تم اللہ سے ملاقات کرو تو کہنا آج کوئی ظلم نہیں ہے اور وہ بھی فرمائیں آج کوئی ظلم نہیں ہے پھر تم کہو گے اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس رسول بھیجا ہم نے اس کی اطاعت کی آپ کی اجازت سے اور آپ نے ہم پر خلفاء بھیجے ہم نے ان کی اطاعت کی آپ کی اجازت سے اور تو نے ہم پر امیر بنائے ہم نے ان کی اطاعت کی تیرے حکم سے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے سچ کہا اس کا وبال انہیں پر ہے۔ اور تم اس سے بری ہو۔ (39) احمد و بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر ایسے حکمران ہوں گے کہ ان کی طرف دل مطمئن ہوں گے اور ان کے لئے کھالیں نرم ہوں گی پھر تم پر ایسے حکمران ہوں گے کہ دل ان سے نفرت کریں گے اور جن سے کھالیں کانپیں گی ایک آدمی نے کہا کیا ہم ان سے قتال کریں یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز کو قائم کرتے رہیں۔ (40) البیہقی نے عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد ایسی چیزیں دیکھو گے جن کو تم ناپسند کرو گے ہم نے کہا پھر ہمارے لئے کیا حکم ہے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا حق ادا کرتے رہو جو تم پر ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس چیز کا سوال کرو جو تمہارا حق ہے۔ امیر کو ذلیل کرنا بڑا گناہ ہے (41) احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا میرے بعد بادشاہ ہوں گے ان کو ذلیل کرنا جو شخص اس کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس نے اسلام کے پھندے کو اپنی گردن سے اتار دیا اور اس سے کوئی عمل مقبول نہیں ہوگا یہاں تک کہ اس رخنے کو بند کر دے جو اس نے رخنہ ڈالا ہے اور وہ ایسا کرنے والا نہ ہوگا پھر وہ اپنے رویے پر لوٹ جائے گا اور ان لوگوں میں ہوجائے گا جو اس کی عزت کرتے ہیں ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم تین چیزوں کے بارے میں مغلوب نہ ہوں کہ ہم نیکی کا حکم کریں۔ برائیں سے روکیں اور ہم لوگوں کو سنتوں کی تعلیم دیتے رہیں۔ (42) احمد نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہوا اور امارت کو ذلیل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ ان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ (43) احمد نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بادشاہ کو گالی مت دو کیونکہ وہ اللہ کا سایہ ہے اس کی زمین میں۔ (44) ابن سعد والبیہقی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو محمد ﷺ کے اکابر صحابہ نے حکم فرمایا کہ ہم اپنے حکمرانوں کو گالیان نہ دیں اور نہ ان کو دھوکہ دیں اور نہ ان کی نافرمانی کریں اور ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور صبر کریں کیونکہ امر (یعنی قیامت) قریب ہے۔ (45) البیہقی نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں کے معاملات نیک امیر یا برا امیر ہی درست کرسکتا ہے لوگوں نے کہا نیک حکمران تو ٹھیک ہے اور برا کیسے (درست کرے گا) تو انہوں نے فرمایا برے حکمران کے ذریعہ اللہ تعالیٰ راستوں کو پر امن بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن سے جہاد کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ مال غنیمت لایا جاتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ حدود قائم کئے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ بیت اللہ کا حج کیا جاتا ہے اور اس کی حکومت میں مسلمان امن کے ساتھ عبادت کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ (46) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان تنازعتم فی شیء “ یعنی اگر علماء تنازعہ کریں (تو فرمایا) لفظ آیت ” فردوہ الی اللہ والرسول “ یعنی تو (اس فیصلہ کو) اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹا دو ۔ پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “۔ (47) ابن جریر وابن المنذر نے میمون بن مھران (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد ہے اللہ کی کتاب کی طرف لوٹانا اور لوٹانا اس کے رسول کی طرف جب تک وہ زندہ رہیں جب وہ وفات پاجائیں تو ان کی سنت کی طرف۔ ابن جریر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا۔ (48) ابن جریر وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ذلک خیر واحسن تاویلا “ سے مراد ہے (کہ یہ طریقہ) اچھا ہے ثواب کے لحاظ سے اور بہتر ہے انجام کے لحاظ سے۔ (49) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحسن تاویلا “ سے مراد ہے اچھا ہے جزا کے لحاظ سے۔ (50) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحسن تاویلا “ سے مراد ہے اچھا ہے انجام کے لحاظ سے۔