Ayahs 4:60–63(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو برزہ سلمی کا ہن تھا یہود کے درمیان فیصلے کیا کرتا تھا ان معاملات میں کہ جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اس کی طرف فیصلہ کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا “ سے لے کر ” احسانا وتوفیقا “ تک۔
(2) ابن اسحاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جلاس بن صامت اپنی توبہ سے پہلے اور مقیب بن مشتیر اور رافع بن زید اور بشر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کی قوم کے مسلمانوں نے ایک جھگڑے میں حضور ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا جبکہ انہوں نے مسلمانوں کو کاہنوں کے پاس جانے کے لئے کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون “ (الآیہ) ۔
(3) ابن جریر وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک آدمی اور منافقین میں سے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا اور دوسرے لفظ میں وہ آدمی جو اپنے آپ کو مسلمان گمان کرتا تھا تو یہودی نے اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا اس وجہ سے کہ وہ جانتا تھا کہ وہ کوئی رشوت نہیں لیں گے فیصلہ میں تم دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ دونوں اپنا فیصلہ کاہن کی طرف لے جائیں گے جو جہینہ قبیلہ میں سے تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا “ سے لے کر ” ویسلموا تسلیما “ تک۔
مسلمان کو قرآن کا فیصلہ ماننا چاہئے
(4) ابن جریر نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ حضرمی نے گمان کیا کہ ایک آدمی یہود میں سے اسلام لا چکا تھا اور اس کے اور یہود کے آدمی کے درمیان جھگڑا تھا حق کے بارے میں یہود نے اس سے کہا اللہ کے نبی کے پاس چلو اور وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے خلاف فیصلہ دیں گے تو اس نے انکار کردیا تو دونوں کاہن کے پاس گئے اس کی طرف اپنا فیصلہ کرایا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون “ (الآیہ) ۔
(5) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت انصار میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی اور ایک آدمی یہود میں سے تھا جن کے درمیان ایک حق کے بارے میں آپس میں جھگڑا تھا وہ دونوں کاہن کے پاس جھگڑا لے گئے جو مدینہ میں تھا اور دونوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دیا اس بات پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عیب لگایا۔ اور ہم کو بیان کیا گیا کہ یہودی اس کو نبی ﷺ کی طرف بلاتا تھا اور جانتا تھا کہ فیصلہ اس کے خلاف نہیں ہوگا۔ اور انصاری اس پر انکار کرتا تھا وہ جو گمان کرتا تھا کہ میں مسلمان ہوں ان دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جو سنتے ہو اس بات کا عیب لگایا اس شخص پر جو گمان کرتا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور صاحب کتاب پر بھی عیب لگایا۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کچھ لوگ یہودیوں میں سے اسلام لا چکے تھے اور بعض (ان میں سے) فیاض تھے۔ اور زمانہ جاہلیت میں قریضہ اور نضیر کا یہ حال تھا کہ اگر کوئی آدمی نضیر میں سے قتل ہوجاتا اور اس کو بنو قریظہ نے قتل کیا تھا تو بنو نضیر مقتول کے بدلے میں قتل کردیتے اور جب کوئی آدمی بنی قریظہ میں سے قتل ہوجاتا جس بنی نضیر نے قتل کیا ہوتا تو وہ اس کے ساٹھ وسق کھجور بطور دیت کے دے دیتے جب کچھ لوگ قریظہ اور نضیر میں سے مسلمان ہوگئے تو بنو نضیر میں سے ایک آدمی نے بنی قریظہ کے آدمی کو قتل کردیا۔ دونوں نبی ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے نضیری نے کہا یا رسول اللہ ہم ان کو جاہلیت میں دیت دیا کرتے تھے اور ہم آج بھی ان کو دیت دیں گے۔ قریظی نے کہا نہیں لیکن (اب) ہم نسب اور دین میں تمہارے بھائی ہیں ہمارا خون تمہارے خون کی طرح ہے لیکن تم ہم پر غالب آجاتے تھے جاہلیت میں اب اسلام آگیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور ان کو عار دلائی جو انہوں نے کام کیا اور لفظ آیت ” وکتبنا علیہم فیھا ان النفس بالنفس “ (المائدہ آیت 45) پھر ان کو عار دلائی۔ پھر نضیری کا قول نقل کیا کہ ہم ان کو جاہلیت میں ساٹھ وسق دیا کرتے تھے اور ہم ان کے افراد کو (قصاص میں) قتل کردیتے تھے اور وہ ہم میں سے کسی کو قتل نہ کرتے تھے پھر فرمایا لفظ آیت ” افحکم الجاہلیۃ یبغون “ (المائدہ آیت 50) نضیری پکڑا گیا۔ اور اپنے ساتھی کے بدلے میں اسے قتل کردیا۔
بنو نضیر اور بنو قریظہ نے آپس میں فخر کیا بنو نضیر نے کہا ہم تم سے زیادہ قریبی ہیں قریظہ نے کہا ہم تم سے زیادہ عزت والے ہیں یہ سب لوگ مدینہ میں داخل ہو کر ابو برزہ اسلمی کاہن کے پاس گئے قریظہ اور نضیر میں منافقوں نے کہا ہم کو ابو برزہ کے پاس لے چلو وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے انہوں نے اس کے پاس جانے کے لئے ایک دوسرے کو بلایا یہ سب لوگ ابو برزہ کی طرف چلے اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا بڑا کرو لقمہ کو (یعنی مجھے بہت سا مال دو جب میں فیصلہ کروں گا پھر کہتا اعظموا الخطہ انہوں نے کہا کہ تیرے لئے دس وسق (کھجور) ہے اس نے کہا نہیں بلکہ میری دیت سو وسق ہے اور میں خوف کرتا ہوں کہ میں نضیر کے حق میں فیصلہ کرو تو قریظہ والے مجھے قتل کردیں گے یا قریظہ کے حق میں فیصلہ کرو اور نضیر والے مجھے قتل کردیں گے انہوں نے دس وسق سے زیادہ دینے سے انکار کردیا اور اس نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “ سے لے کر ” ویسلموا تسلیما “ تک۔
(7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “ میں الطاغوت ایک آدمی تھا یہود میں سے جس کو کعب بن اشرف کہا جاتا تھا جب ان کو بلایا جاتا تھا کہ آجاؤ اس چیز کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اور رسول کی طرف تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے تو انہوں نے کہا بلکہ ہم اپنا فیصلہ کعب کے پاس لے جائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “۔
(8) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ منافقین میں سے ایک آدمی اور یہود میں سے ایک آدمی نے آپس میں جھگڑا کیا منافق نے کہا کعب بن اشرف کے پاس چلو یہودی نے کہا نبی ﷺ کے پاس چلو تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” الم تر لی الذین یزعمون انہم امنوا “۔
(9) ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) وسلم سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا تھا ان میں سے ایک مومن تھا اور دوسرا منافق تھا مومن نے اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا اور منافق نے اس کو کعب بن اشرف کی طرف بلایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔
منافق کے حکم رسول سے روگردانی
(10) الثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” الم تر لی الذین یزعمون انہم امنوا “ منافقین میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو بشر کہا جاتا تھا ایک یہودی سے اس کا جھگڑا تھا یہودی نے اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا اور منافق نے اس کو کعب بن اشرف کی طرف بلایا پھر وہ دونوں نبی ﷺ کی طرف بلایا اور منافق نے اس کو کعب بن اشرف کی طرف بلایا پھر وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دیا منافق راضی نہیں ہوا۔ پھر اس نے کہا آجاؤ ہم عمر بن خطاب ؓ کے پاس اپنا فیصلہ لے جاتے ہیں یہودی نے عمر سے کہا ہمارا فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کردیا ہے۔ تو یہ آدمی آپ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے منافق سے پوچھا کیا ایسے ہی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! عمر نے فرمایا اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ عمر ؓ گھر میں گئے اور اپنی تلوار اٹھا کرلے آئے اور باہر آکر اس منافق کی گردن اڑا دی یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر انہوں نے فرمایا میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں اس آدمی کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو۔
(11) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “ سے کعب بن اشرف مراد ہے۔
(12) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طاغوت سے مراد انسان کی صورت میں شیطان ہے جس کے پاس وہ اپنے فیصلے لے جاتے وہ ان کے حاکم ہوتے ہیں۔
(13) ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن عبد اللہ سے طواغیت کے بارے میں پوچھا جن کے پاس لوگ فیصلے لے کر جاتے تو انہوں نے فرمایا ایک جہینہ میں سے ایک بنو اسلم قبیلہ میں سے ایک ہلال قبیلہ میں سے اور ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی ہوتا اور وہ کاہن تھے جن کے پاس شیاطین آتے۔
(14) ابن جریر ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” واذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول “ کے بارے میں روایت کیا کہ سلمان نے منافق کو بلایا رسول اللہ ﷺ کی طرف تاکہ وہ فیصلہ فرمائیں۔
(15) ابن المنذر نے عطا (رح) سے لفظ آیت ” یصدون عنک صدودا “ کے بارے میں روایت کیا کہ صدود سے مراد ہے اعراض کرنا۔
(16) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فکیف اذا اصابتہم مصیبۃ “ سے مراد ہے جب ان کو ان کے جانوں کے بارے میں مصیبت پہنچی اس نے قرآن میں موجود امر کو بیان کیا یہ قرآن مجید کی وعید میں سے ہے۔
(17) ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” اذا اصابتہم مصیبۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ ان کے ہاتھوں نے اپنی جانوں کے بارے میں آگے بھیجا تھا اور اس کو بیان کیا جو کچھ اس کو بیان کیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وقل لہم فی انفسہم قولا بلیغا “۔
(18) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فکیف اذا اصابتہم مصیبۃ بما قدمت ایدیہم “ سے مرا ہے کہ یہ سزا ان کے لئے ان کے نفاق اور اللہ کے حکم کو ناپسند کرنے کی وجہ سے ہے۔
(19) ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاعرض عنہم “ ان سے اس بات کی وجہ سے اعراض کریں لفظ آیت ” وقل لہم فی انفسہم قولا بلیغا “ اور ان سے اس بارے میں اچھی بات کریں۔
Ayah 4:64(1) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے واجب ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں جن کو اللہ چاہتے ہیں (یعنی رسولوں کی) اور وہ کسی ایک بھی اطاعت نہیں کرتا مگر اللہ کے حکم سے اطاعت کرتا ہے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولو انہم اذ ظلموا انفسہم “ ایک یہودی اور ایک مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنا فیصلہ کعب بن اشرف کے پاس لے گئے۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ استغفار دو طرح پر ہیں ایک کلام میں اور ایک عمل میں کلام میں استغفار اس لئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول “ اور عمل والے استغفار کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” وما کان معذبہم وہم یستغفرون “ (الانفال آیت 33) یہاں یہی مراد ہے کہ وہ ایسا عمل کریں جو مغفرت طلب کرنے والا ہے جبکہ تو جانتا ہے کہ عنقریب لوگ آگ میں داخل ہوں گے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہوں گے اپنی زبانوں سے ان لوگوں میں سے جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مساوی ملتوں میں سے (جو مسلمان نہیں ) ۔
Ayah 4:65رسول کے فیصلہ سے اعراض کرنا حرام ہے
(1) عبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابو داؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان والبیہقی نے زھری کے طریق سے عروہ بن زبیر (رح) نے زبیر بن عوام کی طرف سے یہ بیان فرمایا کہ ان کا ایک بدری صحابی سے چشمہ کے پانی کے بارے میں جھگڑا ہوا اور ہم نے اپنا معاملہ رسول اللہ ﷺ (اس چشمے سے) یہ دونوں حضرات کھجوروں کو پانی پلایا کرتے تھے انصاری نے کہا کہ سیلابی پانی کو گزرنے دے۔ تو زبیر نے اس پر انکار کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے زبیر (اپنی کھجوروں کو) پانی پلالے پھر اپنے پڑوس کی طرف پانی کو چھوڑ دو انصاری اس پر غضب ناک ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ ہے رسول اللہ ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا پھر آپ نے فرمایا اے زبیر ! پانی پلا (کھجوروں کو) پھر روک لے پانی کو یہاں تک کہ پانی باغ کی دیواروں تک جا پہنچے۔ پھر چھوڑ دے پانی کو اپنے پڑوسی کی طرف اور رسول اللہ ﷺ نے زیبر کے لئے ان کے حق کی رعایت فرمائی۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلے زبیر ؓ کو اپنے رائے سے مشورہ دیا تھا جن میں آپ نے واضح انداز میں زبیر کو ان کے حق میں رعایت فرمائی زبیر نے فرمایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ یہ آیت اسی معاملہ میں نازل ہوئی لفظ آیت ” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک قیما شجر بینہم “۔
(2) الحمیدی نے اپنی سند میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے الکبری میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ زبیر نے رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی کے بارے میں شکایت کی تو آپ نے زبیر کے حق میں فیصلہ فرمایا اس آدمی نے کہا آپ نے اس کے لئے اس لئے فیصلہ فرمایا کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک “۔
(3) ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے ” فلا وربک لا یؤمنون “ یہود کے بارے میں نازل ہوا۔
(5) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے ” فلا وربک “ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ایک یہودی اور ایک مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنا جھگڑا کعب بن اشرف کے پاس لے گئے۔
(6) ابن جریر نے شعبی (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ مگر انہوں نے یہ فرمایا کہ کاہن کی طرف معاملہ لے گئے۔
(7) ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن الہیعہ کے طریق سے روایت کیا کہ ابو الاسود ؓ نے فرمایا کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے آپ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے کہا ہم کو حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے ؟ دونوں عمر ؓ کے پاس چلے جب عمر ؓ کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا اے ابن خطاب میرے لئے رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا ہے اس معاملہ میں اس نے کہا ہم عمر ؓ کے پاس جائیں گے تو ہم آپ کے پاس آگئے عمر ؓ نے پوچھا (اس آدمی سے) کہا ایسے ہی ہے ؟ اس نے کہا ہاں عمر ؓ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں تمہارے درمیان فیصلہ کروں حضرت عمر اپنی تلوار لے کر آئے اس پر تلوار سے وار کیا جس نے کہا تھا کہ ہم عمر کے پاس جائیں گے اور اس کو قتل کردیا اور دوسرا پیٹھ پھیر کر بھاگا اور رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا یا رسول اللہ اللہ کی قسم عمر ؓ نے میرے ساتھی کو قتل کردیا اگر میں بھی وہاں رکا رہتا تو وہ مجھے بھی قتل کردیتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا گمان یہ نہیں تھا۔ کہ عمر ؓ ایمان والوں کو قتل کی جرات کریں گے تو اس پر یہ آیت اتری لفظ آیت ” فلا وربک لا یؤمنون “ تو اس آدمی کا خون باطل ہوگیا اور عمر ؓ اس کے قتل سے بری ہوگئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس طریقہ کو ناپسند کیا تو بعد والی آیات نازل فرمائی اور فرمایا لفظ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ سے لے کر ” واشد تثبیتا “ تک (النساء آیت 66) ۔
(8) الحافظ وحیم نے اپنی تفسیر میں عتبہ بن ضمرہ (رح) سے اور کہ انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ دو آدمی نبی ﷺ کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے آپ نے حق والے کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ راضی نہ ہوا اس کے ساتھ نے کہا تیرا کیا ارادہ ہے اس نے کہا میں تجھ کو ابوبکر صدیق ؓ کے پاس لے جاؤں گا۔ دونوں ان کی طرف گئے انہوں نے فرمایا تم دونوں کے لئے وہی فیصلہ ہے جو نبی ﷺ نے فیصلہ فرما دیا ہے۔ تو اس آدمی نے راضی ہونے سے انکار کردیا دوسرے آدمی نے کہا ہم عمر کے پاس جائیں گے وہ دونوں حضرت عمر کے پاس آئے عمر ؓ اپنے گھر میں گئے اور اپنے ہاتھ میں تلوار لے کر نکلے اور اس کے سر پر وار کیا جس نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا تھا اور اس کو قتل کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” فلا وربک “ پوری آیت۔
(9) الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں مکحول (رح) سے روایت کیا کہ ایک مسلمان اور ایک منافق کا آپس میں جھگڑا تھا کسی چیز کے بارے میں دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے منافق کے خلاف فیصلہ فرمایا پھر دونوں ابوبکر ؓ کے پاس چلے انہوں نے فرمایا مجھے ان کے درمیان فیصلہ کرنا زیب نہیں دیتا جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ سے اعراض کرتے ہیں پھر دونوں عمر کے پاس گئے اور ان کو سارا قصہ سنایا عمر نے فرمایا تم دونوں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس نہ آؤں وہ گھر میں داخل ہوئے اور تلوار لے آئے اور اس منافق کو قتل کردیا پھر فرمایا میں اس کا فیصلہ اسی طرح کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہ ہو رسول اللہ ﷺ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور عرض کیا کہ عمر نے ایک آدمی کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کو جدا کردیا حضرت عمر کی زبان پر اس لئے ان کا نام فاروق ہوگیا۔
(10) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قیما شجر بینہم “ کے بارے میں بتائیے فرمایا شجر کا معنی اشکل ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو پہنچانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے زبیر کو نہیں سنا اور وہ کہتا :
متی تشجر قوم تقل سراتہم ہم بیننا فہم رضا وہم عدل
ترجمہ : جب قوم باہم لڑتی ہے تو اس کے سردار کم ہوجاتے ہیں وہ ہمارے درمیان اسی طرح ہوتے ہیں کہ وہ راضی ہونے والے ہوتے ہیں اور انصاف کرنے والے ہوتے ہیں۔
(11) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” حرجا “ سے مراد ہے شک کرنا۔
(12) ابن جریر وابن المنذر نے ابن المنذر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حرجا “ سے گناہ مراد ہے۔
(13) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا جس نے زبیر سے جھگڑا کیا تھا اور وہ انصار میں سے تھا اس نے کہا میں نے فیصلہ تسلیم کرلیا۔
(14) ابن المنذر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ایک انصاری نے ” الماء من الماء “ (یعنی غسل جنابت) کے بارے میں تنازعہ کیا انہوں نے ان سے فرمایا تم بتاؤ اگر میں اس بات کو مان لوں جو تم کہتے ہو حکم اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو اس کے باوجود میں غسل کروں ؟ تو انصاری نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! یہاں تک کہ تیرے سینے میں کوئی تنگی نہ ہو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے بارے میں (واللہ اعلم ) ۔
Ayahs 4:66–68(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ سے مراد یہودی ہیں (جن کو آپس میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا) اگر عربوں کو بھی اس کے حکم دیا جاتا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو خنجروں سے قتل کریں۔
(2) عبد بن حمید وابن المنذر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بارے میں یہ بھی نازل ہوئی ” واتوا حقہ یوم حصادہ “ نازل ہوئی۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) وسلم اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس اور ایک یہود آدمی نے آپس میں فخر کیا یہودی نے کہا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے ہم پر لکھ دیا کہ اپنی جانوں کو قتل کریں تو ہم نے اپنی جانوں کو قتل کیا ثابت نے کہا اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ ہم پر لکھ دیں (یعنی فرض کریں) کہ اپنی جانوں کو قتل کرو تو ہم اپنی جانوں کو قتل کردیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ولو انہم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لہم واشد تثبیتا “۔
(4) ابن جریر نے ابن اسحاق سبیعی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا اگر ہم کو حکم ہوا تو ہم کر گزریں گے اور سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو عافیت دی یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ایمان ان کے دلوں میں مضبوط پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔
(5) ابن المنذر نے اسرائیل کے طریق سے زہد بن حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ ہم پر لکھ دیتے تو ہم قبول کرلیتے ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو عافیت دی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے ان لوگوں میں ایمان مضبوط پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔
(6) ابن ابی حاتم نے ہشام کے طریق سے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ نازل ہوئی تو صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا اگر ہمارے رب ایسا حکم فرما دیتے تو ہم پورا کرتے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہے۔
(7) ابن ابی حاتم نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ جب نازل ہوئی تو ابوبکر صدیق نے فرمایا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم اگر مجھ کو حکم ہوتا کہ اپنی جان کو قتل کرو تو ایسا کرلیتا آپ نے فرمایا اے ابوبکر تو نے سچ کہا۔
عبد اللہ بن رواحہ ؓ کی فضیلت
(8) ابن ابی حاتم نے شریح بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منہم “ رسول اللہ ﷺ نے تلاوت فرمائی تو اپنے ہاتھ سے عبد اللہ بن رواحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم فرماتے تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے۔
(9) ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر یہ حکم نازل ہوتا ابن ام عبد اللہ علیہ ان میں سے ہوتے۔
(10) ابن المنذر نے مقاتل بن حبان (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عبد اللہ بن مسعود ان تھوڑے لوگوں میں سے ہوتے جو اپنی جان کو قتل کردیتے۔
(11) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر ان تھوڑے لوگوں میں سے ہوتے۔
(12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کہ ” واشد تثبیتا “ سے مراد ہے تصدیق کرنے والا۔
Ayahs 4:69–70(1) الطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں والضیاء المقدسی نے صفہ الجنۃ میں (اور اس کو حسن کہا) حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں اپنی جان سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں میں اپنی اولاد سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہ لوں۔ اور جب میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں تو میں اس بات کو جانتا ہوں کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے تو نبیوں کے ساتھ بلند مرتبہ میں ہوں گے اور جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو نہ دیکھ سکوں نبی ﷺ نے ابھی اس بات کا جواب نہیں دیا تھا کہ جبرئیل (علیہ السلام) اس آیت کو لے کر نازل ہوئے لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم “۔
ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا
(2) الطبرانی وابن مردویہ نے شعبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں یہاں تک کہ میں آپ کو یاد کرتا ہوں پھر میں آجاتا ہوں اور آپ کی طرف دیکھ لیتا ہوں۔ پھر میں یہ خیال کرتا ہوں کہ میری روح نکل جائے گی (یعنی موت آئے گی) تو میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ درجہ میں رہوں۔ ابھی آپ نے اس کا جواب نہیں دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلایا اور اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
(3) سعید بن منصور وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی انصار میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میرے نزدیک آپ زیادہ محبوب ہیں میری جان سے میری اولاد سے میرے گھر والوں سے اور میرے مال سے اور جب میں آپ کے پاس آتا ہوں تو آپ کو دیکھ لیتا ہوں پھر میں یہ خیال کرتا ہوں کہ عنقریب میں مرجاؤں گا اور انصاری رونے لگے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیوں روتے ہو ؟ اس نے عرض کیا کہ میں اس بات کو یاد کرتا ہوں کہ آپ بھی اور ہم بھی عنقریب مرجائیں گے اور آپ نبیوں کے ساتھ بلند درجہ میں چلے جائیں گے اور ہم جنت میں آپ سے کم مرتبہ میں ہوں گے (تو وہاں ملاقات کیسے ہوگی نبی ﷺ نے ابھی کوئی جواب عنایت نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم “ سے لے کر ” علیما “ تک آپ نے فرمایا اے فلاں تجھے بشارت ہو۔
(4) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی انصار میں سے نبی ﷺ کے پاس آئے اور غمگین تھے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے فلانے ! میں تجھ کو غمگین کیوں دیکھ رہا ہوں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک چیز کا مجھ فکر ہے۔ آپ نے فرمایا وہ کیا ہے عرض کیا ہم صبح کو اور شام کو آکر آپ کے چہرہ مبارک کی زیارت کرلیتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھ لیتے ہیں کل کو جب آپ نبیوں کے ساتھ بلند میں ہوں گے۔ اور ہم آپ تک پہنچ نہیں سکیں گے (تو پھر کیا ہوگا) نبی ﷺ نے ابھی اس کو کوئی جواب نہ دیا تھا کہ جبرئیل یہ آیت لے کر آئے لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ سے لے کر ” رفیقا “ تک تو نبی ﷺ نے اسے بھیجا اور اس کو خوشخبری دی۔
(5) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب محمد ﷺ نے فرمایا یا رسول اللہ ! ہم نہیں چاہتے کہ ہم آپ سے دنیا میں جدا ہوجائیں گے اگر آپ ہم سے پہلے (اس دنیا سے) چلے گئے اور آپ ہم سے مرتبہ میں بہت ہوں گے) تو ہم آپ کو نہ دیکھ سکیں گے (تو پھر کیسے ہوگا) تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ (الآیہ) ۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک نوجوان نبی ﷺ کے پاس آکر اے اللہ کے نبی ! دنیا میں تو ہم آپ کو دیکھ لیتے ہیں اور قیامت کے دن ہم آپ کو نہیں دیکھ پائیں گے اس لئے کہ آپ جنت میں اونچے درجوں میں ہوں گے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” ومن یطع اللہ “ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا تو انشاء اللہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ کچھ لوگوں نے کہا یہ اللہ کے نبی جن کو ہم دنیا میں دیکھ لیتے ہیں لیکن آخرت میں اپنی فضیلت کی وجہ سے بلند مرتبہ پر ہوں گے تو ہم ان کو نہ دیکھ سکیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ سے لے کر ” رفیقا “ تک۔
(8) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالیٰ آپ کے مشتاق ہیں تو ہم کس طرح کریں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ (الآیہ) ۔
(9) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب نے عرض کیا ہم نے جان لیا کہ نبی ﷺ کے لئے فضیلت ہوگی ہر اس شخص پر جو آپ پر ایمان لایا جنت کے درجات میں ان لوگوں نے جنہوں نے آپ کی تابعداری کی اور آپ کی تصدیق کی پھر کس طرح ہوگا جب ہم لوگ جمع ہوگے جنت میں تو کیسے ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس بارے میں نازل کی (اور) نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اونچے درجات والے لوگ ان میں سے نیچے والوں پر اتریں گے اور ان کے باغات میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ یاد کریں گے ان چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا اور اس بات پر اس کی ثناء بیان کریں گے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت ذریعہ نجات ہے
(10) مسلم وابو داؤد والنسائی نے ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس رات گزارا کرتا تھا اور میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لایا کرتا تھا آپ نے فرمایا مجھ سے سوال کر میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں جنت میں آپ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں آپ نے فرمایا اس کے علاوہ دوسرا سوال کر، میں نے کہا وہی سوال ہے آپ نے فرمایا پھر میری مدد کر اپنی جان پر سجود کی کثرت کے ساتھ (یعنی نفل نمازوں کی کثرت کر) ۔
(11) احمد نے عمرو بن مرہ جہنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوں اور اس بات کی بھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں میں پانچ نمازیں پڑھتا ہوں، زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، رمضان کے روزے رکھتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ان اعمال پر مرے گا تو وہ نبیوں، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا قیامت کے دن اسی طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو کھڑا جب تک وہ والدین کی نافرمانی نہ کرے۔
(12) احمد واحاکم نے (اس کو صحیح کہا) معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے تو قیامت کے دن لکھا جائے گا نبیوں صدیقوں اور شہداء اور صالحین کے ساتھ اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں (ان شاء اللہ ) ۔
(13) بخاری ومسلم وابن ماجہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت کا اختیار دیا جاتا ہے۔ اور آپ اسی بیماری میں تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی آپ کو گلے کی تکلیف ہوئی میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا۔ لفظ آیت ” مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدقین والشھداء والصلحین “ تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔
(14) ابن جریر نے مقداد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ میرے بعد ان کے لئے صدیقین ہوں گے پھر فرمایا تمہاری مراد صدیقین سے کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہمارے وہ اولاد جو چھوٹی عمر میں فوت ہوگئیں آپ نے فرمایا نہیں لیکن صدیقین سے مراد ہے تصدیق کرنے والے۔
Ayahs 4:71–76(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا حذرکم “ سے مراد ہے تم تیاری کرلو ہتھیاروں سے (یعنی اپنا اسلحہ لے لو) ۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ ہو کر چھوٹے لشکروں کی صورت میں نکلو۔ ” او انفروا جمیعا “ یا سب اکٹھے نکلو۔
(3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فانفروا اثبات “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے دس اور جو اس سے اوپر ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عمرو بن کلثوم ثعلبی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ؟
فاما یوم خشیتنا علیہم فتصبح خیلنا عصبا ثباتا
ترجمہ : ان کے خلاف ہماری جنگ کے دن ہمارے گھوڑے دس دس کی ٹولیوں میں نکلتے ہیں۔
(4) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نساء میں (یہ آیت) ” خذوا حذرکم فانفروا اثبات او انفروا جمیعا “ سے مراد ہے جماعت بنا کر بھی اور متفرق بھی نکلو یا سب نکلو پھر فرمایا اس حکم کو اس آیت ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ “ (الانعام آیت 141) نے منسوخ کردیا۔
(5) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ثبات “ سے مراد ہے چھوٹی جماعتیں۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے جماعت یا گروہ (پھر فرمایا) ” او انفروا جمیعا “ یعنی نبی ﷺ کے ساتھ سب نکلو۔
(7) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” او انفروا جمیعا “ یعنی جب نبی ﷺ روانہ ہوں تو کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ پیچھے رہ جائے۔
(8) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” وان منکم لمن لیبطئن “ سے لے کر ” فسوف نؤتیہ اجرا عظیما “ تک کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ منافق کے بارے میں ہے۔
(9) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان منکم لمن لیبطئن “ کے بارے میں یہ بات ہم کو پہنچی ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن ابی سلول منافقین کا سردار مراد ہے، اور ” لیبطئن “ یعنی تم میں سے وہ بھی ہیں جو جہاد سے بیٹھ رہتے ہیں ” فان اصابتکم مصیبۃ “ یعنی جب کوئی تکلیف دشمن کی طرف سے یا زندگی میں مشقت پہنچتی ہے (پھر کہتا) ” قال قد انعم اللہ علی اذ لم اکن معہم شھیدا “ کہ (اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا) میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا اگر ان کے ساتھ ہوتا تو مجھے بھی ویسی ہی تکلیف پہنچتی جیسی ان کو تکلیف پہنچی (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولئن اصابکم فضل من اللہ “ یعنی اگر فتح ہوجاتی یا غنیمت یا رزق میں وسعت مل جاتی (پھر) فرمایا ” لیقولن “ یعنی وہ منافق کہتا اور وہ نادم ہوتا پیچھے رہ جانے میں ” کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ “ یعنی وہ کہتا تھا گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی محبت کا فرشتہ موجود نہیں اور وہ کہتا ہے ” یلیتنی کنت معہم فافوز فوزا عظیما “ یعنی تو وہ کہتا ہے ہائے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا اور غنیمت سے وافر حصہ پاتا۔
(10) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم نے قتادہ (رح) وسلم سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان منکم لمن لیبطئن “ سے مراد ہے کہ تم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو جہاد سے اور اللہ کے راستے میں جنگ کرنے سے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں لفظ آیت ” فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذ لم اکن معہم شھیدا “ فرمایا یہ جھوٹ بولنے والے کا قول ہے (اور) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن “ فرمایا یہ قول ہے حسد کرنے والے کا۔
(11) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان منکم لمن لیبطئن “ سے مراد ہے کہ منافق جو مسلمان کے جہاد فی سبیل اللہ سے دیر لگاتا ہے ” فان اصابتکم مصیبۃ “ یعنی اگر تم کو مصیبت پہنچ جائے کسی دشمن سے مسلمان کے قتل ہوجانے سے تو ” قال قد انعم اللہ علی اذ لم اکن معہم شھیدا “ فرمایا یہ قول ہے دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونے والے کا (اور) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ “ کہ اگر مسلمان غالب ہوتے اپنے دشمنوں پر اور ان کو غنیمت کا مال مل جاتا ” لیقولن “ فرمایا یہ قول حاسد کا ہے۔
(12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین یشترون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ “ کہ وہ بیچ ڈالتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں۔
مجاہد غازی ہو یا شہید اجر کا مستحق ہے
(13) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” فیقتل “ یعنی وہ مشرکوں سے لڑتے ہیں لفظ آیت ” فی سبیل اللہ “ یعنی اللہ کی اطاعت میں لفظ آیت ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل “ یعنی وہ اس کو قتل کر دے ” او یغلب “ یعنی دشمن غلبہ پالے مشرکین میں سے ” فسوف نؤتیہ اجر عظیما “ یعنی وافر بدلہ جنت میں پھر قاتل اور مقتول مسلمان میں سے مشرکین کے جہاد میں دونوں اجر میں شریک ہوں گے۔
(14) ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین “ یعنی کمزوروں کی راہ میں کیوں جہاد نہیں کرتے۔
(15) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” المستضعفون “ سے مراد مسلمانوں کے لوگ جو مکہ میں تھے وہ وہاں سے کہیں نکل سکتے ہیں۔
(16) البخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کہ میں اور میری ماں ضعیف لوگوں میں سے تھے۔
(17) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ایمان والوں کو حکم کیا گیا کہ وہ ان ضعیف لوگوں کی طرف سے قتال کریں جو مکہ میں تھے۔
(18) ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا “ میں قریۃ سے مراد مکہ ہے۔
ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(19) ابن ابی حاتم نے مجاہد اور عکرمہ (رح) سے دونوں حضرت سے روایت کیا کہ ” واجعل لنا من لدنک نصیرا “ سے مراد ہے حجت ثابت۔
(20) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل اللہ الطاغوت “ سے مراد ہے شیطان کے راستے میں۔
(21) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب تم شیطان کو دیکھو تو اس سے خوف نہ کرو اور اس پر حملہ کر دو (کیونکہ فرمایا) ” ان کید الشیطن کان ضعیفا “ مجاہد (رح) نے فرمایا کہ شیطان مجھے نماز میں دکھائی پڑتا ہے تو میں ابن عباس کا قول یاد کرلیتا ہوں اور اس پر حملہ کردیتا ہوں تو وہ مجھ سے بھاگ جاتا ہے۔
Ayah 4:77قتال کا حکم نازل ہونے کے بعد اعراض پر وعید
(1) نسائی وابن جریر وابن ابی حاتم نے (اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے اپنی سنن میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد الرحمن بن عوف اور اس کے دوسرے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ہم عزت والے اور غالب تھے جب ہم مشرک تھے ہم جب ایمان لے آئے تو ہم ذلیل ہوگئے آپ نے فرمایا میں درگزر کا حکم دیا گیا ہوں کسی قوم سے نہ جنگ کرو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ میں پہنچا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ( کافروں سے) لڑنے کا حکم فرمایا تو وہ رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم “
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں کچھ لوگ مکہ میں ہجرت سے پہلے جلدی کرتے تھے (کافروں سے) لڑنے میں انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو اجازت دیجئے ہم کدالیں بنا لیتے ہیں اور ان کے ساتھ مشرکین سے جنگ کریں گے ہم کو یہ بتایا گیا کہ عبد الرحمن بن عوف ان میں سے ہیں جنہوں نے ایسا کہا تھا نبی ﷺ نے ان کو اس سے منع فرمایا ہم کو تو اس بات کا حکم نہیں دیا گیا جب ہجرت ہوئی اور لڑنے کا حکم دیا گیا تو ان لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور وہ کچھ کیا جو تم سنتے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” قل متاع الدنیا قلیل والاخرۃ خیر لمن اتقی ولا تظلمون فتیلا “۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم “ سے لے کر ” لا تبعتم الشیطن الا قلیلا “ تک یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلما کتب علیہم القتال اذا فریق منہم “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ان جیسا کام کرنے سے منع فرمایا۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الی اجل قریب “ سے موت مراد ہے۔
(7) ابن المنذر نے وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ” الی اجل قریب “ سے مراد ہے یعنی مرنے تک۔
(8) ابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ہشام (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) نے یوں پڑھا لفظ آیت ” قل متاع الدنیا قلیل “ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ایسے بندے پر کہ جس نے اس (دنیا) سے دوستی لگائی دنیا اول سے آخرتک اس آدمی کی مانند ہے جس نے اپنی نیند میں بعض ایسی چیزوں کو دیکھا جن کو وہ پسند کرتا ہے پھر اس کے بعد بیدار ہوا تو کوئی چیز نہ تھی۔
(9) ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ دنیا قلیل ہے اور اس قلیل کا اکثر حصہ گزر چکا ہے اور اب قلیل میں بھی قلیل رہ گیا۔
Ayahs 4:78–79(1) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” این ما تکونوا “ یعنی زمین میں تم جہاں کہیں بھی ہو۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “ یعنی مضبوط محلات میں۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد ہے ایسے محلات جن پر پلستر کیا گیا ہو۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد آسمان دنیا میں بنائے ہوئے سفید محل۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” فی بروج مشیدۃ “ سے آسمان میں محلات مراد ہیں۔
(6) عبد بن حمید وابن المنذر نے سفیان (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دیکھیں گے کہ یہ محل آسمان میں ہیں۔
(7) ابن جریر وان ابی حاتم وابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک عورت تھی اس کا ایک خادم تھا اس عورت نے ایک بچی کو جنم دیا اس نے اپنے خادم سے کہا جاؤ اور میرے لئے آگ کا ایک انگارہ لے آؤ خادم چلا تو اچانک دو آدمی دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے اپنی ساتھی سے کہا اس عورت نے کیا جنا ؟ اس نے کہا ایک بچی جنی ہے ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا یہ بچی نہیں مرے گی یہاں تک کہ سو مردوں سے بدکاری کرے گی اور پھر خادم سے شادی کرے گی اور اس کی موت مکڑی سے آئے گی خادم نے کہا لیکن اللہ کی قسم میں تم دونوں کی بات کو ضرور جھٹلاؤں گا اور جو اس کے ہاتھ میں تھا اس کو پھینک دیا۔ اور ایک چھری لے کر اس کو تیز کیا اور کہا کیا یہ وہ خیال کرتے ہیں کہ میں اس بچی سے شادی کروں گا جب وہ سو مردوں سے بدکاری کرچکی ہوگی تو اس نے چھری اس کے سینہ میں گھونپ دی پھر چھری پھینک دی اور یہ گمان کیا کہ اس نے اس کو قتل کردیا ہے بچی نے چیخ ماری اس کی ماں کھڑی ہوئی اس کے پیٹ کو دیکھا جو پھٹ چکا تھا تو اس نے اس کو سی دیا اور دوا کرتی رہی یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہوگئی اور وہ خادم سر پٹ دوڑا اور جب تک اللہ پاک نے چاہا وہ ٹھہرا رہا۔ خادم کو مال (کثیر) مل گیا تو اس نے ارادہ کیا تو وہ اپنا علاقہ دیکھے کہ کون ان میں سے مرگیا اور کون ان میں سے باقی ہے۔ وہ ایک بڑھیا کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک خوبصورت عورت کو اس شہر میں چاہتا ہوں کہ میں اس سے جماع کروں اور اس کو میں (بہت مال) عطا کروں۔ وہ بڑھیا اسی عورت کے پاس گئی (جس بچی کو اس نے چھری سے چاک کیا تھا) اور وہ اس شہر میں سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی بوڑھی نے اس کو اس مرد کی طرف بلایا اور اس سے کہا کہ تو اس سے بہت زیادہ مال پائے گی لڑکی نے انکار کیا اور بولی وہ برا کام ہے جو گزشتہ زمانہ میں مجھ سے ہوتا رہا۔ لیکن آج کے دن مجھے یہ مناسب لگا کہ میں ایسا کام نہ کروں وہ بڑھیا اس آدمی کے پاس واپس آئی اور اس کو یہ بات بتائی تو اس نے کہا اس کو میری طرف سے نکاح کا پیغام دے دے اس نے پیغام دیا اور اس سے شادی ہوگئی۔ مرد اس عورت سے شادی کر کے بہت خوش ہوا جب مرد اس عورت سے مانوس ہوگیا تو اپنا واقعہ سنایا اور کہنے لگی اللہ کی قسم ! اگر تو سچا ہے تو تحقیق میری ماں نے تیری بات مجھ کو بتادی۔ اور بلاشبہ میں وہی لڑکی ہوں اس نے کہا تو ہے ؟ کہنے لگی میں ہوں اس نے کہا اللہ کی قسم ! ان دونوں آدمیوں نے مجھ سے سچ کہا تھا۔ اللہ کی قسم تو نے سو مردوں سے بدکاری بھی کی ہوگی اور میں وہی خادم ہوں اور میں نے تجھ سے شادی کی ہے اور تیری بات بھی پوری ہوگئی اور تیر موت ضرور مکڑی سے ہوگی اس عورت نے کہا اللہ کی قسم ! مجھ سے یہ فعل صادر ہوتا ہے۔ لیکن میں نہیں جانتی کہ وہ سو تھے یا تھوڑے تھے یا زیادہ تھے اس نے کہا اللہ کی قسم ایک کم ہوگا اور نہ ایک زیادہ ہوگا پھر وہ بستی کے کنارے چلا گیا وہاں اس نے گھر بنوایا مکڑی سے ڈرتے ہوئے جب تک اللہ نے چاہا وہ وہاں رہا یہاں تک کہ جب موت کو وقت قریب آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک مکڑی اس کے گھر کی چھت میں ہے جبکہ وہ عورت اس کے ساتھ تھی اس نے کہا اللہ کی قسم میں مکڑی کو گھر کی چھت میں دیکھ رہا ہوں کہنے لگی یہ وہی ہے جس کے بارے میں تو خیال کرتا ہے کہ یہ مجھ کو مار ڈالے گی اللہ کی قسم میں اس کو مار ڈالوں گی پہلے اس سے کہ یہ مجھے مار ڈالے وہ آدمی کھڑا ہوا اس کو تلاش کیا اور اس کو نیچے گرا دیا وہ کہنے لگا اللہ کی قسم ! میرے علاوہ اس کو کوئی نہیں مارے گا اپنی انگلی کو اس پر رکھ دیا اور اس کے سر کو کچل دیا زہر اڑا یہاں تک کہ ناخن اور گوشت کے درمیان واقع ہوگیا اس کا پاؤں سیاہ ہوگیا اور وہ مرگئی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ حکم نازل فرمایا جب وہ مبعوث ہوا یعنی لفظ آیت ” این ما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “۔
(8) عبد الرزاق اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وان تصبہم حسنۃ “ سے نعمت مراد ہے اور ” وان تصبہم سیءۃ “ سے مصیبت مراد ہے (اور فرمایا) ” قل کل من عند اللہ “ یعنی نعمتیں اور مصائب (اللہ کی طرف سے ہیں) ۔
(9) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وان تصبہم حسنۃ یقولوا ھذہ من عندہ اللہ وان تصبہم سیءۃ یقولوا ھذہ من عندک “ یعنی یہ خوشحالی اور تنگدستی کے بارے میں اور ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک “ یہ نیکیوں اور برائیوں کے بارے میں ہے (یعنی وہ نیکیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور برائیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تیری وجہ سے ہے) ۔
(10) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تصبہم حسنۃ “ کہ یہ آیات جنگ کی حالت میں نازل ہوئیں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” قل کل من عند اللہ “ یعنی فتح اور شکست (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے) ۔
(11) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل کل من عند اللہ “ یعنی نیکی اور برائی اللہ کی طرف سے ہے لیکن نیکی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تجھ پر انعام ہے اور برائی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تجھے آزمائش میں ڈالا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ “ یعنی بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی اور مال غنیمت حاصل ہوا (اور فرمایا) ” وما اصابک من سیءۃ “ یعنی جو کچھ آپ کو احد کے دن تکلیف پہنچی آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا اور سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔
(12) ابن ابی حاتم نے مطرف بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ تم جو تقدیر کو جاننا چاہتے ہو تو تمہارے لئے وہ آیت کافی ہے۔ جو سورة نساء کی ہے لفظ آیت ” ما اصابک من حسنۃ “ (الآیہ ) ۔
(13) ابن ابی حاتم نے عطیہ العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اللہ وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک “ یعنی اس سے احد کا دن مراد ہے جو مصیبت تم کو پہنچی وہ تمہارے گناہ کی وجہ سے تھی اور میں نے اس کو تم پر مقدر کردیا تھا۔
(14) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) وسلم سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک “ اور میں نے تجھ پر اس کو مقدر کردیا تھا۔
(15) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک “ یعنی اے ابن آدم یہ تیرے گناہ کی سزا ہے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کسی آدمی کو (کوئی تکلیف مثلاً ) لکڑی کی خراش قدم کی ٹھوکر یا رگ کا پھڑکنا ہوتا ہے تو اس کے گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو معاف فرمادیتے ہیں اس کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔
(16) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک “ یعنی تیرے گناہ کی وجہ سے جیسا کہ احد والوں کے لئے فرمایا لفظ آیت ” اولما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم “ (سورۃ آل عمران آیت 165) یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے تم کو یہ مصیبت پہنچی۔
(17) ابن المنذر وابن الانباری نے مصاحف میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قرات اس طرح ہے لفظ آیت ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک وانا کتبتھا علیک “۔
(18) ابن المنذر نے مجاہد کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک وانا کتبتھا علیک “ مجاہد (رح) نے فرمایا اور اسی طرح ابی اور ابن مسعود کی قرات میں ہے۔
Ayah 4:80رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے
(1) ابن المنذر والخطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا اے لوگو ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ نازل فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی صحابہ نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کی اطاعت گویا آپ کی اطاعت ہے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں سے یہ ہے کہ میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں سے یہ ہے کہ اپنے ائمہ کی اطاعت کرو اگر وہ نماز بیٹھ کر پڑھیں تو تم بھی سب بیٹھ کر پڑھو۔
(2) عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ حرف کیا ہے یعنی لفظ آیت ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ معاملہ آپ کی طرف سپرد کردیا گیا آپ ان کو نہیں حکم فرماتے مگر خیر کا۔
(3) ابن جریر سے روایت کیا کہ ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فما ارسلنک علیہم حفیظا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ابتداء میں یہی حکم تھا جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے (اور فرمایا) آپ پر صرف پہنچا دینا ہے پھر اس کے بعد حکم آیا کہ آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں اور ان پر سختی کریں یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔