4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کرنے کے موقعہ پر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین حاضر ہوجائیں تو اس میں میں سے ان کو بھی کچھ دے دو ، اور ان سے اچھے طریقہ پر بات کرو

(1) ابن ابی شیبہ و بخاری وابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ” واذا حضر القسمۃ اولوا القربی والیتمی والمسکین “ محکم ہے اور منسوخ نہیں ہے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے مقسم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا حضر القسمۃ “ (یہ آیت) محکم ہے اور اس پر عمل کیا جائے گا۔ (3) ابن ابی شیبہ نے وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حطان بن عبدا اللہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو موسیٰ ؓ نے اس آیت کے مطابق فیصلہ کیا۔ (4) سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” تین آیات جو مدنی ہیں اور محکم ہیں بہت لوگوں نے ان کو ضائع کردیا (پہلی آیت) ” واذا حضر القسمۃ “ اور آیت استئذان ” والذین لم یبلغوا الحلم منکم “ اور تیسری آیت ” انا خلقنکم من ذکر وانثی “۔ (5) سعید بن منصور وعبد بن حمید والبخاری و ابوداؤد نے اپنی ناسخ میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ کردی گئی یعنی لفظ آیت ” واذا حضر القسمۃ “ اور یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اللہ کی قسم ! لیکن ان حکموں میں سے ہے جن کے ساتھ (عمل کرنے میں) لاپروائی کرتے ہیں۔ والی دو قسم پر ہیں ایک وہ والی ہے جو وارث ہوتا یہ وہ ہے جو کچھ کھانا اور کپڑے دے دیتا ہے اور دوسرا وہ والی ہے جو وارث نہیں ہوتا وہ اچھی بات کرتا ہے وہ کہتا ہے یہ یتیم کا مال ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں۔ (6) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن جریر اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا حضر القسمۃ اولوا القربی “ سے مراد ہے کہ کچھ مال ان کو دے دیا جائے اگر مال میں کچھ کمی ہے تو ان سے معذرت کرلی جائے اور یہی ” قولا معروفا “ ہے۔ (7) ابن المنذر نے عمر بنت عبد الرحمن بن عبد اللہ عبد الرحمن بن ابی بکر (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب ان کے باپ کی میراث تقسیم کرنے لگے تو انہوں نے ایک بکری کا حکم فرمایا جو بن مال سے خریدی گئی کھانا پکایا گیا یہ بات حضرت عائشہ ؓ کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا انہوں نے کتاب پر عمل کیا یہ آیت منسوخ نہیں کی گئی۔ غیر وارث رشتہ دار کو کچھ دے دیا جائے (8) ابن جریر وابن ابی حاتم ونحاس نے اپنی ناسخ میں علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ جب میراث تقسیم کریں تو اپنے رشتہ داروں پر اور اپنے یتیموں پر اور اپنے مسکینوں پر صلہ رحمی کریں اگر ان کے لیے وصیت کی گئی ہو اور اگر ان کے لیے وصیت نہیں کی گئی تو وراثت میں سے ان کو کچھ دے دیں۔ (9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم فرائض کے نازل ہونے سے پہلے تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرائض کو نازل فرمایا تو ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا اور صدقہ صرف اس کے لیے مخصوص کردیا گیا جس کا متوفی نام لے۔ (10) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن ابی حاتم نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا حضر القسمۃ “ کا حکم میراث والی آیت سے منسوخ ہے اب ہر انسان کے لیے ایک حصہ مقرر کردیا گیا ترکہ میں سے تھوڑا ہے یا زیادہ۔ (11) عبد الرزاق وعبد بن حمید و ابوداؤد نے اپنی ناسخ میں ابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی اور ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ اسماء بنت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق اور قاسم بن محمد ابی بکر ؓ سے ان کو خبر دی کہ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکر (رح) نے اپنے والد عبد الرحمن کی میراث تقسیم کی اور حضرت عائشہ ؓ زندہ تھیں دونوں نے بیان کیا کہ انہوں نے گھر میں موجود نہ کسی مسکین کو چھوڑا نہ کسی رشتہ دار کو چھوڑا مگر اس کو اپنے باپ کی میراث میں سے عطا کردیا اور یہ آیت پڑھی ” واذا حضر القسمۃ “ قاسم نے فرمایا کہ میں نے یہ بات ابن عباس ؓ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا جو انہوں نے کیا ہے حکم اس طرح نہیں ہے بلکہ یہ حکم وصیت کی صورت میں ہے بلاشبہ یہ آیت وصیت کے بارے میں ہے وصیت سے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ان کے لیے وصیت کرے۔ (12) نحاس نے اپنی ناسخ میں مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس (آیت ) ” واذا حضر القسمۃ “ (کے حکم کو) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “ نے منسوخ کردیا۔ (13) عبد الرزاق، ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ونحاس اور بیہقی نے سعید بن المسیب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے فرائض (کی آیت) سے پہلے (اس کا حکم) تھا جو آدمی ترکہ میں مال چھوڑتا ہے (اس کے) مال میں سے یتیم، فقیر، مسکین اور رشتہ داروں کو دیا جاتا تھا جب وہ تقسیم کے وقت حاضر ہوتے تھے پھر اس (آیت کے حکم) کو میراث والی آیت نے منسوخ کردیا اب اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کے حق کو مقرر فرمادیا اب اس کی وصیت ہوگی اس کے مال میں سے کہ جس کے ساتھ وہ وصیت کر جائے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے اگر چاہے۔ (14) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اگر حاضر ہونے والے بڑے ہوں تو کچھ مال ان کو دے دیا جائے اگر وہ چھوٹے ہیں تو ان سے معذرت کرلی جائے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” قولا معروفا “۔ (15) عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ لوگ کچھ مال اپنے قریبی رشتہ داروں کو دے دیتے تھے یہاں تک کہ فرائض کے احکام نازل ہوگئے۔ (16) ابن ابی شیبہ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس کو میراث کی آیت نے منسوخ کردیا۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہئے کہ وہ لوگ ڈریں جو اپنے پیچھے ضعیف بچوں کو چھوڑ جاتے اور ان پر خوف ہوتا سو یہ لوگ اللہ سے ڈریں اور ٹھیک بات کریں

(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولیخش الذین لو ترکوا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جو ایک آدمی کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوا تو اس نے مریض کو ایسی وصیت کرتے ہوئے سنا جو اس کے وارثوں کو نقصان دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو حکم فرمایا جس نے اس کو سنا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور وصیت کرنے والے کی صحیح بات کی طرف رہنمائی کرے اور چاہیے کہ وہ دیکھے اپنے وارثوں کو اور جب اسے اپنے وارثوں کے ضائع ہونے کا ڈر ہو تو جو وہ اپنے وارثوں کے لیے پسند کرتا ہے تو ان کے لیے بھی وہی پسند کرے۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ آدمی جس کی موت کا وقت قریب ہے تو اسے کہا جاتا ہے اپنے مال میں سے صدقہ کرو غلام آزاد کرو اور مال میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دو ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا یعنی اگر تم میں سے کوئی مریض کے پاس حاضر ہو موت کے وقت تو اس کو حکم نہ کرے کہ وہ خرچ کرے اپنے مال میں سے یا غلام آزاد کرے یا صدقہ کرے یا اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرے لیکن اس کو حکم کرے کہ وہ اپنے مال کو بیان کرے اور جو اس پر قرضہ ہے (اس کو بھی بیان کرے) اور وصیت کرے اپنے مال میں سے ان رشتہ داروں کے لیے جن کو میراث نہیں ملتی ان کے لیے وصیت کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب وہ مرجائے اور اس کی چھوٹی اولاد ہو تو ان کو بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں پر بوجھ بن جائیں اور تمہیں یہ لائق نہیں کہ تم ایسے کام کا حکم کر جاؤ کہ جس سے تمہارے گھر کے لوگ اور تمہاری اولاد راضی نہ ہو لیکن ان کو اس بارے میں حق بات کہو۔ (3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کو موت آتی ہے اس حال میں کہ اس کی چھوٹی کمزور اولاد ہے کہ ان پر وہ ڈرتا ہے غریبی سے اور ضائع ہونے سے اور اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ اس کے بعد ان کے ساتھ وہ لوگ اچھا سلوک نہیں کریں گے جو ان کے ساتھ (پڑوسی) ملے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ والی بنے اس کی کمزور اور یتیم اولاد کا اس کو چاہیے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کا مال نہ کھائے فضول خرچی سے اور جلدی کرتے ہوئے کہیں وہ بڑے نہ ہوجائیں (پہلے ہی ان کا مال نبٹا دو ) ۔ (4) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب کوئی آدمی موت کے قریب ہو تو اسے کہا جاتا ہے کہ فلاں کے لیے وصیت کر فلاں کے لیے وصیت کر اور ایسا کر اور ایسا کر یہاں تک ورثاء کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولیخش الذین لو ترکوا من خلفہم ذریۃ ضعفا خافوا علیہم “ تو فرمایا چاہیے کہ وہ لوگ دیکھیں میت کے ورثاء کو جیسا کہ وہ دیکھتا ہے اپنے ورثاء کو (اور) چاہیے کہ وہ ڈریں اللہ تعالیٰ سے اور چاہیے کہ وہ اس کو حکم کریں انصاف اور حق کے ساتھ۔ (5) سعید بن منصور وآدم والبیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب کوئی آدمی وصیت کے وقت حاضر ہو تو اس کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اپنے مال کے لیے وصیت کر بیشک اللہ تعالیٰ تیری اولاد کو رزق دینے والا ہے لیکن اس کو یہ کہنا چاہیے اپنے لئے آگے بھیج اور اپنی اولاد کے لیے بھی چھوڑ دجاؤ یہ ٹھیک بات ہے بلاشبہ جو آدمی اس بات کا حکم کرتا ہے وہ ڈرتا ہے اپنے اوپر محتاج سے۔ (6) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولیخش الذین لو ترکوا من خلفہم “ یعنی ان کی موت کے بعد چھوڑ جائیں ” ذریۃ ضعفا “ یعنی ایسے عاجز جن کے پاس وقت گذرنے کا کوئی حیلہ نہ ہو لفظ آیت ” خافوا علیہم “ یعنی میت کی ضعیف اولاد کے بارے میں ڈریں جس طرح انہیں اپنے بارے میں خوف ہے لفظ آیت ” فلیتقوا اللہ ولیقولوا “ یعنی ڈریں میت کی اولاد کے بارے میں ان کے پاس بیٹھیں ” قولا سدیدا “ یعنی انصاف کریں اس کی میت میں اور زیادتی نہ کریں۔ (7) ابن جریر نے شیبانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم قسطنطنیہ میں تھے مسلمہ بن عبدالمالک کے دنوں میں اور ہم میں ابن محدیر اور ابن الدیلمی اور ھانی بن کلثوم رحمۃ اللہ علیہم بھی موجود تھے ہم آپس میں تذکرہ کر رہے تھے جو آخر زمانہ میں ہوگا میں ان باتوں سے تنگ پڑگیا جو میں نے سنیں میں ابن الدیلمی (رح) سے کہا اے ابو بشر میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری کبھی اولاد نہ ہو اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور کہا اے میرے بھتیجے ! ایسا نہ کر کوئی روح ایسی نہیں ہے کہ جس کے نکالنے کا اللہ نے فیصلہ کردیا کہ وہ کسی آدمی کی پشت سے نکلے تو وہ ضرور نکلے گی (ان شاء اللہ) اگرچہ آدمی انکار کرے پھر انہوں نے کہا کیا میں تم کو ایسا کام نہ بتاؤں کہ اگر تو اس کو پائے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو اس سے نجات دیں گے اگر تو اپنے بعد اولاد چھوڑے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائیں گے میں نے کہا کیوں نہیں تو پھر آپ ﷺ نے مجھ پر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ولیخش الذین لو ترکوا من خلفہم ذریۃ ضعفا “۔ (8) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ان ضعیفوں کے بارے میں یعنی یتیم عورت کے بارے میں یتیم بنایا اس کے لیے وصیت کی اس کو مبتلا کیا اور دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کیا۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ظلم کے طریقے پر یتیموں کا مال کھاتے ہیں بات یہی ہے کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور عنقریب دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

(1) ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں، ابو یعلی و طبرانی وابن حبان نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک قوم اپنی قبروں سے اٹھائی جائے گی کہ ان کے مونہوں میں آگ بھڑکتی ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! یہ کون ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی اثما یاکلون فی بطونہم نارا “ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم نبی ﷺ نے معراج کی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا میں نے دیکھا اچانک ایک ایسی قوم تھی جن کے بڑے بڑے ہونٹ اونت کے ہونٹوں کی طرح اور ان پر ایسے افراد مسلط کئے گئے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑے ہوئے تھے ان کے مونہوں میں آگ کے بڑے بڑے پتھر ڈال رہے تھے ان میں ایک ذکار اور چیخ و پکار تھی میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ لوگ ہیں لفظ آیت ” الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما اثما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا “۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب ایک آدمی یتیم کا مال کھائے گا غلم کرتے ہوئے تو قیامت کے دن وہ اس حال میں اٹھے گا کہ آگ کا شعلہ اس کے منہ سے اس کے کانوں سے اس کی ناک سے اور اس کی آنکھوں سے نکل رہا ہوگا جو بھی اس کو دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے۔ (4) ابن ابی حاتم نے عبید اللہ بن ابی جعفر (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے یتیم کا مال کھایا تو اس کو اس کے ہونٹوں سے پکڑاجائے گا اور اس کے منہ میں جلتے ہوئے انگارے بھر دئیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا اسے بھی کھاؤ جیسے تو نے اس (یتیم کا مال) کو دنیا میں کھایا تھا پھر بڑی آگ میں اس کو داخل کردیا جائے گا۔ (5) ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت مشرکوں کے لیے ہے کیونکہ وہ یتیموں کے وارث نہیں بناتے تھے اور ان کا مال کھا جاتے تھے۔ (6) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے لفظ آیت ” سعیرا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد وہ آگ دہل رہی ہوگی۔ (7) ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” سعیرا “ جہنم میں ایک وادی ہے جس میں (جہنم کی آگ) جوش مارتی ہے۔ (8) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ان کو جنت میں داخل نہ کرے نہ ان کو نعمت کا مزہ چکھائے شراب میں مدہوش رہنے والے سود کھانے والا ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، لڑکے کے لیے اتنا حصہ ہے جتنا دو لڑکیوں کا ہے، سو اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لئے مال کا دو تہائی ہے جو مرنے والے نے چھوڑا، اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور اس کے ماں باپ کے لئے یعنی ہر ایک کے لئے چھٹا چھٹا حصہ ہے اس مال میں سے جو مرنے والے نے چھوڑا بشرطیکہ اس کے اولاد ہو، پس اگر اس کے لئے اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے، سو اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ اس وصیت کے نافذ کرنے کے بعد جو مرنے والے نے کی ہو یا اس قرض کی ادائیگی کے بعد جو میت پر ہو، تمہارے باپ اور بیٹے ہیں تم نہیں جانتے کہ ان میں سے تم کو کون شخص نفع پہنچانے میں زیادہ قریب تر ہے، یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے

بھائیوں کا حصہ میراث بہنوں سے دوگنا ہے (1) عبدبن حمید، بخاری ومسلم و ابوداؤد اور ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ نے پیدل چل کر میری عیادت کی بنو سلمہ قبیلہ میں نبی ﷺ نے مجھے اس حال میں پایا کہ میں کوئی عقل نہیں رکھتا تھا آپ ﷺ نے پانی منگوایا پھر اس سے وضو فرمایا پھر مجھ پر چھڑک دیا تو مجھے افاقہ ہوگیا میں نے عرض کیا مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں اپنے مال میں کیا کروں۔ اے اللہ کے رسول تو (اس پر یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ (2) عبد بن حمید اور حاکم نے جابر بن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت فرمائی اور میں مریض تھا میں نے کہا میں کس طرح اپنے مال کو اپنی اولاد میں تقسیم کرو ؟ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا تو (یہ آیت) نازل ہوئی ہوئی لفظ آیت ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “۔ (3) ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد وابو داؤد و ترمذی وابن ماجہ ومسدود والطیالسی وابن ابی عمر وابن منیع وابن ابی اسامہ وابو یعلی وابن ابی حاتم والحاکم وابن حبان والبیہقی نے اپنی سنن میں جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ سعد بن ربیع (رح) کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ دو بیٹیاں ہیں سعد بن ربیع کی ان دونوں کا باپ آپ کے ساتھ احد میں شہید ہوگئے اور ان کے چچا نے سارا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا اور ان کا نکاح نہیں ہوتا مگر یہ کہ ان کے مال ہو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائیں گے تو (اس پر) آیت میراث نازل ہوئی لفظ آیت ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “ رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو بلوایا اور سعد کی بیٹیوں کو دو تہائی ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ عطا فرمایا اور (اس کے چچا سے فرمایا) جو کچھ باقی ہے وہ تیرے لیے ہے۔ (4) عبد بن حمید و بخاری وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مال لڑکے کے لیے اور وصیت والدین اور رشتہ داروں کے لیے ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں جو چاہا منسوخ کردیا اور فرمایا لفظ آیت ” للذکر مثل حط الانثیین “ مذکر کے لیے مؤنث کے مقابلہ میں دو گناہ اور والدین دونوں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے بچے کے ہوتے ہوئے اور بیوی کے لیے آٹھواں اور چوتھائی حصہ ہے اور شوہر کے لیے آدھا یا چوتھائی حصہ۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب فرائض کی آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے مذکر مونث اور والدین کے لیے حصہ مقرر فرما دیا جو (بعض) لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہا ہم بیوی کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ دیں اور بیٹی کو آدھا دیں اور ہم چھوٹے بچے کو بھی دیں اور ان میں کوئی بھی نہ دشمن سے جنگ کرسکتا ہے اور نہ ہی غنیمت کا مال اکٹھا کرسکتا ہے ؟ اور اسی طرح زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے میراث کا مال نہیں دیتے تھے مگر اس آدمی کو جو (کسی) قوم سے لڑنے والا ہوتا تھا اور بڑے کو پھر بڑے کو دیتے تھے (چھوٹے بچوں کو نہ دیتے تھے) ۔ (6) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” للذکر مثل حظ الانثیین “ میں چھوٹے اور بڑے سب مراد ہیں۔ دور جاہلیت میں عورتوں کو حصہ میراث نہیں دیا جاتا تھا (7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے لڑکوں کو میراث نہیں دیتے تھے کوئی آدمی اپنی والدہ سے میراث نہیں پاتا تھا مگر جو جنگ کی طاقت رکھتا ہو۔ عبد الرحمن حسان شاعر کے بھائی فوت ہوگئے اور انہوں نے بیوہ چھوڑی جس کو ام کحہ کہا جاتا تھا اور پانچ بچیاں چھوڑیں وارث آئے اور اس کا مال لے لیا ام کحہ ؓ نے نبی ﷺ کا شکایت کی تو اس پر یہ آیت ” فان کن نساء فوق اثنتین فلہن ثلثا ما ترک وان کانت واحدۃ فلھا النصف “ نازل ہوئی پھر ام کحہ ؓ کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ” ولہن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلہن الثمن “۔ (8) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان کن نساء “ یعنی بیٹیاں ” فوق اثنتین “ یعنی دو سے زیادہ یا دو ہوں اور ان کے ساتھ مرد (یعنی بھائی) نہ ہو ” فلہن ثلثا ما ترک “ یعنی جو میت چھوڑی گئی اور باقی عصبہ کے لیے لفظ آیت ” وان کانت واحدۃ “ یعنی ایک ہی بیٹی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے ” ولابویہ “ یعنی میت کے ماں باپ ” لکل واحد منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد “ یعنی اگر ان کا بیٹا ہو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں اور ان کے ساتھ لڑکا نہ ہو اور اگر اولاد صرف ایک بیٹی ہو تو اس کے لیے آدھا مال ہے یعنی چھ میں سے تین حصے اور باپ کے لیے چھٹا حصہ ہے اور والدہ کا بھی چھٹا حصہ ہوگا باقی ایک سدس رہ جائے گا وہ بھی باپ کو دیا جائے گا کیونکہ وہ حصہ ہے ” فان لم یکن لہ ولد “ یعنی لڑکا ہو نہ کہ لڑکی ” وورثہ ابوہ فلامہ الثلث “ تو ماں کا تیسرا حصہ ملے گا اور باقی مال باپ کے لیے ہے ” فان کان لہ “ یعنی میت کے لیے ” اخوۃ “ دو بھائی یا اس سے زیادہ بہنیں یا ایک بھائی اور ایک بہن ” فلامہ السدس “ تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا اور جو باقی ہوگا وہ باپ کے لیے ہے اور بھائیوں کے لیے باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں لیکن انہوں نے ماں کو ثلث سے محروم کردیا جبکہ وصیت پہلے ادا کی جائے گی جو غیر وارثوں کو ثلث تک ہوگی۔ اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ” اودین “ یا اس کے ذمہ کوئی قرض ہو اگر میت پر قرض ہو تو یہ وارثوں کو میراث سے محروم کردیتا ہے لفظ آیت ” فریضۃ من اللہ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حصے مقرر کر دئیے گئے ہیں لفظ آیت ” ان اللہ کان علیما حکیما “ اور یہ وہ تقسیم کو خوب جانتا ہے۔ (9) حاکم نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ کوئی آدمی یا عورت مرجائے اور ایک بیٹی چھوڑ جائے تو اس کے لیے آدھا ہے اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہیں تو ان کے دو تہائی ہے اور اگر ان کے ساتھ لڑکا بھی ہے تو ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی کوئی حصہ مقرر نہیں اور اگر کوئی حصہ والا شریک ہو تو پہلے اسے دیا جائے گا۔ (10) سعید بن منصور وحاکم و بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ اگر عمر بن خطاب ؓ ہم کو ایک راستہ پر چلائے تو ہم اس کی تابعداری کرتے اور ہم اس کو آسان پاتے۔ اور آپ سے پوچھا گیا بیوی اور والدین کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا عورت کے لیے چوتھائی اور ماں کے لیے باقی ماندہ کا ثلث اور باقی سب باپ کے لیے ہوگا۔ (11) عبد الرزاق اور بیہقی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھے ابن عباس ؓ نے زید بن ثابت ؓ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے خاوند اور والدین کا حصہ پوچھوں کہ (ان کو کیا حصہ ملے گا) زید (رح) نے کہا باقی سب مال ہے پھر ان کی طرف ابن عباس ؓ نے پیغام بھیجا کیا اللہ کی کتاب میں یہ حکم ہے انہوں نے فرمایا نہیں لیکن میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ ماں کو فضیلت دوں باپ پر راوی نے کہا کہ ابن عباس ؓ ماں کو ایک تہائی دیتے تھے سارے مال میں سے۔ (12) ابن جریر اور حاکم نے صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ حضرت عثمان ؓ کے پاس داخل ہوئے تو فرمایا بلاشبہ دو بھائی کو ثلث سے نہیں روک سکتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فان کان لہ اخوۃ “ پس دو بھائیوں کو آپ قوم کی زبان میں اخوہ نہیں کہتے عثمان ؓ نے فرمایا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ جو طریقہ پہلے سے چلا آرہا ہے اس کو تبدیل کر دوں اور تمام شہروں میں یہی طریقہ جاری ہے اور لوگ اس کے ذریعہ ایک دوسرے کے وارث بنتے آرہے ہیں۔ (13) حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ ماں کو محجوب کرتے تھے بھائیوں کی وجہ سے ان لوگوں نے کہا اے ابو سعید ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فان کان لہ اخوۃ “ یعنی جمع کا صیغہ ذکر کرتے ہیں جبکہ آپ دو بھائیوں کی وجہ سے اسے محجوب کردیتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ عرب کے لوگ اخوین کو اخوہ کہتے ہیں۔ (14) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بھائی اس کی ماں کے حصہ میں کمی کریں گے لیکن خود وارث نہ ہوں گے اور ایک بھائی اس (ماں) کو ثلث سے محروم نہیں کرے گا ایک سے زیادہ ہو تو محروم کردیں گے اور علم والوں کی یہ رائے تھی ان بھائیوں نے ماں کو تیسرے حصے سے اس لئے محروم کیا کیونکہ ان کے والد ان کے ساتھ نکاح کئے ہوئے ہے اور ان پر خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے ان کی ماؤں کے ذمہ دار نہیں۔ (15) عبد الرزاق وابن جریر والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ چھٹا حصہ ماں کو ملے گا جیسے بھائیوں نے تیسرے حصہ سے محروم کردیا جب وہ ماں کو اس سے محروم کر رہے ہیں تو دوسروں کو بدرجہ اولی ایسا کریں گے۔ (16) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و ترمذی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وحاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ تم اس آیت کو پڑھتے ہو لفظ آیت ” من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین “ اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے قرض کی ادائیگی وصیت سے پہلے فرمائی اور ماں کے سگے بیٹے آپس میں وارث ہوں گے ان کے ہوتے ہوئے سوتیلوں کو کچھ نہیں ملتا۔ قرض کی ادائیگی تقسیم میراث پر مقد م ہے (17) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین “ مراد ہے کہ وارثت کی تقسیم قرض کی ادائیگی سے شروع کی جائے وصیت سے پہلے (یعنی وصیت کا معاملہ اس کے بعد ہوگا) ۔ (18) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” اباؤکم وابناؤکم لا تدرون ایہم اقرب لم نفعا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ قیامت کے روز اس کا درجہ بلند ہوگا جو تمہارے آباء اور بیٹوں میں سے اللہ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں میں سے بعض لوگوں کو بعض کا سفارش کرنے والا بنایا ہے۔ (19) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ایہم اقرب لکم نفعا “ سے دنیا میں نفع دینا مراد ہے۔ (20) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ایہم اقرب لکم نفعا “ سے مراد ہے کہ بعض نے کہا کون آخرت میں نفع دینے میں زیادہ قریب ہے اور بعض نے کہا دنیا میں کون زیادہ نفع دینے والا ہے۔ (21) عبد الرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میراث اولاد کے لیے ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکال کر خاوند اور والد صاحب کو حصہ دے دیا۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارے لئے اس مال میں سے آدھا ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اگر ان کے اولاد نہ ہو، سو اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس مال کا چوتھائی ہے جو کچھ انہوں نے چھوڑا، اس وصیت کے نافذ کرنے کے بعد جو وہ وصیت کر گئیں اور اس قرضے کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہے، اور ان کے لئے اس مال کا چوتھائی ہے جو تم نے چھوڑا اگر تمہارے اولاد نہ ہو، سو اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کے لئے آٹھواں ہے اس میں سے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے نافذ کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا اگر تمہارے اولاد نہ ہو، سو اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کے لئے آٹھواں ہے اس میں سے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے نافذ کرنے کے بعد جو تم وصیت کر گئے ہو، یا قرض کی ادائیگی کے بعد جو تمہارے ذمہ ہو۔ اور اگر مرنے والا کوئی مرد یا کوئی عورت ہو جس کو مورث بنایا جارہا ہو اور حال یہ ہے کہ اس کے ماں باپ میں سے کوئی نہ ہو اور نہ کوئی بیٹا بیٹی ہو اور نہ پوتا پوتی ہو اور اس نے کوئی بھائی یا بہن چھوڑی ہو، تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، سو اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی مال میں شریک ہوں گے اس وصیت کے نافذ کرنے کے بعد جس کی وصیت کی گئی ہو اور ادائے قرض کے بعد، اس حال میں کہ نقصان پہنچانے کی نیت نہ کی ہو، یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ علیم ہے اور حلیم ہے

(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولکم نصف ما ترک ازواجکم “ یعنی مرد کے لیے آدھا ہے جو اس کی بیوی نے ترکہ چھوڑا ہو مرنے کے بعد اگر اس کی اولاد نہ ہو اسی خاوند سے اور نہ کسی اور خاوند سے اور اگر اس عورت کا لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو خاوند کے لئے چوتھائی ہے جو وہ چھوڑ جائے مگر وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد اور قرضہ وصیت سے پہلے ادا کیا جائے گا ” ولہن الربع “ اور خاوند کی اولاد نہ ہو اس عورت سے نہ ہی کسی اور عورت سے اور اگر خاوند کی اولاد ہے لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو اس عورت کے لیے آٹھواں حصہ ہے اس مال میں جو خاوند چھوڑ گیا اور اگر مرد یا عورت کلالہ ہو اور کلالہ وہ میت ہے جس کا نہ لڑکا ہو اور نہ والد ہو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” فان کانوا اکثر من ذلک “ یعنی اگر وہ ایک سے زیادہ ہیں دو سے لے کر دس تک یا اس سے بھی زیادہ۔ (2) سعید بن منصور وعبد بن حمید والدارمی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” وان کان رجل یورث کللۃ ولہ اخ او اخت من ام “۔ (3) بیہقی نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کے بھی دادا کے موجود ہوتے ہوئے ماں کی طرف سے بھائیوں کو کوئی چیز عطا نہیں کی۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے ” ولہ اخ او اخت “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان سے ماں شریک بھائی مراد ہیں اور وہ سب ایک تہائی مال میں شریک ہوتے ہیں اور فرمایا کہ ان کے مرد اور ان کی عورتیں اس میں برابر شریک ہوں گی۔ (5) ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فیصلہ فرمایا کہ ماں شریک بہن بھائیوں میں وراثت برابر تقسیم فرمائی۔ راوی نے کہا کہ میں دیکھتا اس کے بعد کیا ہوگا اور اسی لئے یہ آیت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فان کانوا اکثر من ذلک فہم شرکاء فی الثلث “۔ (6) حاکم نے حضرت عمر وعلی وابن مسعود وزید ؓ سے ماں اور خاوند اور سگے بھائیوں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں روایت کیا کہ حقیقی بھائی شریک ہوں گے ماں شریک بھائیوں سے ان کے ایک تہائی حصہ میں اس وجہ سے کہ یہ سب ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں اور ان کو ماں نے قرابت میں زیادہ کردیا اور وہ سب شریک ہیں تہائی مال میں۔ (7) حاکم نے زید بن ثابت ؓ سے مشرکوں کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بھاگ جاؤ ان کا باپ گدھا تھا باپ نے ان کی قرابت میں اضافہ کردیا ہے اور ان سب کو ایک تہائی میں شریک کیا۔ ” ان احادیث کا ذکر جو فرائض کے بارے میں وارد ہوئیں “ (1) حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرائض کو سیکھو اور اس کو لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ آدھا علم ہے اور وہ بھلا دیا جائے گا اور وہ سب سے پہلے میری امت میں سے اٹھا لیا جائے گا۔ (2) حاکم اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرائض کو سیکھو اور اس کو لوگوں کو سکھاؤ میں ایک آدمی ہوں جس کو اٹھا لیا جائے گا عنقریب یہ علم بھی اٹھالیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ جب دو آدمیوں میں فرائض کے بارے میں اختلاف ہوگا تو ان کے درمیان کوئی فیصلہ کرنے والے کو نہیں پاؤ گے۔ (3) حاکم نے ابن المسیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ابو موسیٰ ؓ کی طرف لکھا جب تم کھیل کود کرو تو تم تیر اندازی کھیلو اور جب تم آپس میں بات چیت کرو تو فرائج کو بیان کرو۔ (4) سعید بن منصور و بیہقی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرائض کو سیکھو اور لہجے کو (سنت طریقے) سیکھو جیسے تم قرآن کو سیکھتے ہو۔ (5) سعید بن منصور و بیہقی نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرائض کو سیکھو کیونکہ وہ تمہارے دین میں سے ہے۔ (6) حاکم اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص تم میں سے قرآن کو پڑھے تو اس کو چاہیے کہ فرائض کو سیکھے پس اگر دیہاتی اس سے ملے اور کہے اے مہاجر ! کیا تو قرآن پڑھتا ہے پس وہ کہے ہاں ! میں پڑھتا ہوں تو دیہاتی کہے گا میں بھی قرآن پڑھتا ہوں پس دیہاتی کہے کیا تو نے فرائض کو سیکھا ہے ؟ اگر کہا ہاں تو دیہاتی کہے گا تو نے خیر زیادہ کیا اگر کہا نہیں تو دیہاتی کہے گا تیری کیا فضیلت ہے مجھ پر اے مہاجر !۔ (7) بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرائض کو حج کو اور طلاق کے مسائل کو سیکھو کیونکہ یہ تمہارے دین میں سے ہے۔ (8) حاکم اور بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سب سے زیادہ علم فرائض کے جاننے والے زید بن ثابت ؓ ہیں۔ (9) بیہقی نے زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ اگر زید بن ثابت ؓ فرائض کو نہ لکھتے تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ وہ لوگون سے چلا جاتا (یعنی علم الفرائض ختم ہوجاتا) ۔ (10) سعید بن منصور و ابوداؤد نے مراسیل میں اور بیہقی نے عطاء بن سیار ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قباء کی طرف سواری پر تشریف لے گئے کہ آپ استخارہ کرنا چاہتے تھے پھوپھی اور خالہ کی میراث میں تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ ان دونوں کے لیے کوئی میراث نہیں۔ (11) بیہقی نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے تعجب کی بات پھوپھی کے معاملہ میں کہ رشتہ دیتی ہے لیتی نہیں۔ وادی اور نانی کا چھٹا حصہ ہے (12) حاکم نے قبیصہ بن ذویب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک دادی آئی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس اور ان سے کہا کہ میرا حق ہے پوتے کے مال میں یا نواسے کے مال میں جو مرگیا ہے آپ ؓ نے فرمایا میں اللہ کی کتاب میں تیرے لئے کوئی حق نہیں جانتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے بھی اس بارے میں کوئی چیز نہیں سنی اور عنقریب میں (صحابہ کرام ؓ سے سوال کروں گا (پھر) مغیرہ بن شعبہ ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھٹا حصہ دیا تھا ابوبکر ؓ نے پوچھا تیرے ساتھ اس بات پر کون گواہ ہے تو محمد بن سلمہ ؓ نے اس بات پر گواہی دی تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان کو چھٹا حصہ دے دیا۔ (13) حاکم نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ نے جب ان سے دادا اور بھائیوں کی میراث کے بارے میں مشورہ لیا تو حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ میرے رائے یہ ہے کہ بھائی زیادہ حق دار ہیں میراث کے اور حضرت عمر ؓ کی اس وقت کہ دادا کو زیادہ حق دار سمجھتے تھے بھائیوں سے پھر میں نے آپ سے اس بارے میں بحث کی اور اس کے لیے مثالیں بیان کیں اور حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی مثالیں بیان کیں یہ دونوں حضرات زید ؓ کی طرح مثالیں پیش کر رہے تھے سیلاب کی طرح (یعنی سیلاب کی تیزی کی طرح مثالیں پیش کر رہے تھے ) ۔ (14) حاکم نے عبادہ بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دو دادیوں کو میراث میں سے چھٹا حصہ عطا فرمایا ان کے درمیان برابری کرتے ہوئے۔ (15) حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر ؓ کو علم فرائض کی ضرورت پڑی آپ پر مسائل کی بھیڑ ہوگئی اور حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا میں تمہارے ساتھ کیسے کروں اللہ کی قسم میں نہیں پاتا جو اس سے بہتر ہو کہ میں تم میں تقسیم کردوں حصوں کے مطابق پھر ان عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر آگے کردو جس کو اللہ تعالیٰ نے آگے کیا ہے اور پیچھے کردو جس کو اللہ تعالیٰ نے پیچھے کیا تو اس کے فریضہ میں کوئی فرق نہ آتا اللہ کی قسم ! اگر آگے کر دو جس کو اللہ تعالیٰ نے آگے کیا ہے اور پیچھے کردو جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے حصہ کی طرف بھی کم کیا تو یہ وہ حصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آگے کیا اور ہر وہ حصہ جب وہ حصہ کم ہوا اور اس کے لیے باقی ماندہ بچا تو وہ حصہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مؤخر کردیا پس جن کو مقدم کیا وہ زوجین اور ام ہے اور جن کو موخر کیا گیا وہ بہنیں اور بیٹیاں ہیں جب وہ وارث جمع ہوجائیں جن کو مقدم کیا گیا اور جن کو موخر کیا گیا تو وارثت تقسیم کرنا شروع کی جائے جن کو مقدم کیا گیا اور اس کو مکمل حق دیا جائے اور اگر کوئی چیز بچ جائے تو دوسرے کو مل جائے گی اور اگر کچھ بھی نہ بچے تو ان کے لیے کوئی چیز نہ ہوگی۔ (16) سعید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کیا تم یہ رائے رکھتے ہو جو ذات عالج کے پہاڑ کے ریت کے ذرات کو جانتی ہے تو وہ مال میں نصف ثلث اور ربع بنائے گی بلکہ یہاں نصف کی صورت میں کل مال کو دو حصوں میں ثلث کی صورت میں کل مال کو تین حصوں میں ربع کی صورت میں چار حصوں میں تقسیم کریں گے۔ (17) سعید بن منصور نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ بلاشبہ لوگ نہ میرے قول کو لیتے ہیں اور نہ آپ کے قول کو اگر میں اور آپ مرجائیں تو یہ لوگ میراث کو تقسیم نہیں کریں گے جس طرح آپ کہتے ہیں (اس پر) انہوں نے فرمایا چاہیے کہ وہ سب لوگ جمع ہوں اور ہم اپنا ہاتھ رکن (یعنی حجر اسود) پر رکھیں پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت کریں اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں فرمایا جو وہ کہتے ہیں۔ میراث میں عول کا قاعدہ (18) سعید بن منصور اور بیہقی نے اپنی سنن میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ پہلے آدمی ہیں جس نے فرائض میں عول کا قاعدہ جاری کیا اور اکثر جو چیز کے عول کو پہنچتی ہے وہ ہوتی ہے جب دو ثلث راس الفریضہ ہو۔ (19) سعید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے جو شخص چاہے میں مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں حجر اسود کے پاس بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دادے اور دادی کو ذکر نہیں فرمایا مگر وہ (ہمارے) آباء ہیں پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” واتبعت ملۃ اباء ی ابراہیم واسحق و یعقوب “ ( یوسف آیت 38) ۔ (20) سعید بن منصور نے سعید بن مسیب سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری جرات کرنا دادا کے حصہ کے بارے میں (گویا) تمہاری جرات کرنا آگ پر۔ (21) عبد الرزاق نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ تمہاری جرات کرنا دادا کے بارے میں (گویا کہ) تمہاری جرات کرنا ہے جہنم کے جراثیم پر۔ (22) عبد الرزاق و سعید بن منصور نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ وہ دوزخ کے جراثیم میں گھسے اس کو چاہیے کہ فیصلہ کر دے دادا اور بھائیوں کے درمیان۔ (23) مالک و بخاری و مسلم نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا اور نہ مسلمان کسی کافر کا وارث ہوسکتا ہے۔ (24) سعید بن منصور نے عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا ہے کہ کسی فیصلہ نے مجھے تعجب میں نہیں ڈالا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے فیصلہ کے بعد مگر حضرت معاویہ ؓ کے فیصلہ نے ہم لوگ ان کے وارث ہوتے ہیں اور وہ ہمارے وارث نہیں ہوتے جیسے کہ ان میں نکاح کرنا ہمارے لیے حلال ہے اور ان کے لیے ہم میں نکاح کرنا حرام ہے۔ (25) ابو داؤد اور البیہقی نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل کے لیے میراث میں سے کوئی چیز نہیں ملے گی۔ قولہ تعالیٰ : غیر مضار : (26) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے لفظ آیت ” من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیر مضار “ کے بارے میں روایت کیا ہے اور نہ اقرار کرے کسی کے حق کا جو اس پر لازم نہ ہو اور ثلث سے زیادہ کی وصیت نہ کرے کہ وارثوں کو تکلیف پہنچائے۔ (27) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” غیر مضار “ سے مراد ہے کہ اپنے اہل و عیال کی میراث میں تکلیف دینے والا نہ ہو۔ (28) النسائی وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وصیت میں (کسی وارث کو) نقصان پہنچانا بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (29) ابن جریر وابن ابی حاتم نے و بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وصیت میں (کسی وارث کو) نقصان پہنچانا بڑے گناہوں میں سے ہے۔ وصیت ایک تہائی مال تک ہوسکتی ہے (30) مالک وطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی وابن خزیمہ وابن الجار و دوابن حبان نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ بیمار ہوئے جس میں ان کو شفا ہوگئی نبی اکرم ﷺ ان کے پاس عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس مال بہت ہے اور میرا کوئی وارث نہیں مگر ایک بیٹی کیا میں دو تہائی مال صدقہ نہ کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں پھر میں نے عرض کیا آدھا مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا تہائی اور یہ بھی زیادہ ہے بلاشبہ تیرا بچوں کو مالداری کی حالت میں چھوڑ جانا یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو محتاجی کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں سے بھیک مانگتے پھریں۔ (31) ابن ابی شیبہ نے معاذ بن جبل ؓ روایت کیا ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی کے مال صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے تمہاری زندگی میں اضافہ کے لیے۔ (32) ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ لوگ تہائی حصہ کی بجائے چوتھائی حصہ صدقہ کیا کریں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تہائی زیادہ ہے۔ (33) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس وصیت میں ایک تہائی مال کا ذکر کیا گیا آپ نے فرمایا ایک تہائی (درمیانہ) ہے کم ہے نہ زیادہ ہے۔ (34) ابن ابی شیبہ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں پانچویں حصہ کی وصیت کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں تہائی حصہ کی وصیت کروں اور جس نے چوتھائی کی وصیت کی تو گویا اس نے (ورثاء کے لیے) نہیں چھوڑا۔ (35) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے جو آدمی پانچویں حصہ کی وصیت کرتا ہے یہ افضل ہے اس آدمی سے جو چوتھے حصہ کی وصیت کرتا ہے اور جو آدمی چوتھے حصہ کی وصیت کرتا ہے یہ افضل ہے اس آدمی سے جو ایک تہائی کی وصیت کرتا ہے۔ (36) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ کہا جاتا تھا چھٹا حصہ بہتر ہے تہائی سے وصیت کرنے میں۔ (37) ابن ابی شیبہ نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے وصیت کی نہ اس میں ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے لیے ایسا اجر ہوگا گویا اس نے اپنی زندگی اور صحت کے زمانہ میں صدقہ کیا ہو۔ (38) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ میراث کی آیت نازل ہونے سے پہلے لوگ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی وصیت کرنے سے پہلے مرجائے۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی حد بندیاں ہیں، اور جو شخص اطاعت کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اسے اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے آگے نکل جائے وہ اسے آگ میں داخل فرمائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تلک حدود اللہ “ یعنی اللہ کی اطاعت یعنی میراث کے حصہ جو مقرر کئے گئے یہ اللہ کی حدود ہیں (اور) ” ویتعد حدود اللہ “ یعنی جو شخص اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں اور (اللہ تعالیٰ کے حکم کی) زیادتی کی جو اس کے لیے یہ سزا ہے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” تلک حدود اللہ “ یعنی سنۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کا حکم ہے میراث کی تقسیم میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن یطع اللہ ورسولہ “ یعنی میراث کو تقسیم کرے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (پھر فرمایا) ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ یعنی میراث کی تقسیم میں اس کی مخالفت کی لفظ آیت ” یدخلہ نارا خالدا فیھا “ یعنی جو شخص (اللہ تعالیٰ ) کے حکم کا انکار کرے گا میراث کے بانٹنے میں تو وہ منافق ہیں کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کے لیے میراث میں حصہ کو شمار نہیں کرتے تھے۔ (4) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن یطع اللہ ورسولہ “ یعنی جو میراث کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تلک حدود اللہ “ سے مراد ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ حدود ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لیے مقرر کیں اور میراث اور تقسیم کرنے میں حصے مقرر فرمائے ان کے مطابق عمل کر اور اس کے علاوہ (کسی اور طرف) تجاوز نہ کرو۔ (6) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن یطع اللہ ورسولہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص ان فرائض پر ایمان رکھتا ہے اور لفظ آیت ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص ان فرائض پر ایمان نہیں رکھتا۔ (7) احمد وعبد بن حمید و ابوداؤد و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن ماجہ اور لفظ اسی کے ہیں اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی ستر سال تک نیک لوگوں جیسے عمل کرتا ہے اور جب وہ وصیت کرتا ہے تو اپنی وصیت میں ناانصافی کرتا ہے اور اس برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ آگ میں داخل ہوجاتا ہے (اس کے برعکس) ایک آدمی ستر سال تک برے لوگوں جیسے عمل کرتا ہے اور جب وہ وصیت کرتا ہے تو اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے (کسی کو حق سے محروم نہیں کرتا) اور اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت ” تلک حدود اللہ “ سے لے کر ” عذاب مھین “ تک کو پڑھ لو۔ (8) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں و سعید بن منصور نے سلیمان بن موسیٰ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے (کسی وارث کی) میراث کو کاٹ دیا جس کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کو میراث کو جنت میں سے کاٹ دیں گے۔ حق میراث دبانے والا جنت سے محروم ہوگا (9) ابن ماجہ نے (وجہ آخر سے) انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کو کاٹ دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں اس کی میراث کو کاٹ دیں گے۔ (10) بیہقی نے (البعث میں وجہ ثالث میں) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میراث کو کاٹ دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فرمایا کیا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے جنت میں سے اس کی میراث کو کاٹ دیں گے۔ (11) حاکم سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ میراث کو تقسیم نہیں کیا جائے گا اور نہ دشمن کی غنیمت (کے مال سے خوش ہوں گے) ۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بےحیائی کا کام کریں سو ان پر چار آدمیوں کی گواہی طلب کرلو جو تم میں سے ہوں، سو اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں روکے رکھو یہاں تک کہ اللہ ان کو موت دے یا ان کے لئے کوئی راہ تجویز فرمادے

(1) الفریابی، ابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں والبزار والطبرانی نے مجاہد (رح) کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” والتی یاتین الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب عورت برا کام کرے تو اسے گھر میں قید کرلیا جاتا اگر مرتی تو مرجاتی اگر زندہ رہتی تو زندہ رہ جاتی یہاں تک کہ یہ آیت ” الزانیۃ والزنی “ سورة نور میں نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ طریقہ (سزا کا) مقرر فرمایا پس اب جو کوئی ایسا کام کرے تو اس کو کوڑے مارے جائیں اور چھوڑ دیا جائے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر ونحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عورت جب زنا کرتی تھی تو اس کو گھر میں قید کردیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تھی پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ جلدۃ “ نازل فرمائی اگر وہ شادی شدہ ہیں تو ان کو رحم کیا جائے گا یہ بھی وہ راستہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لیے نکالا۔ (3) ابواؤد نے اپنی ناسخ میں اور ابن ابی حاتم نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ” والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم “ اور ” لا تخرجھن من بیوتہن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ “ (اور) ” ولا تعضلوہن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “ کہ ان آیات میں فاحشہ عورت کی سزا سورة النور کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے جس میں کوڑے مارنے اور رجم کرنے کا ذکر ہے پس اگر کوئی عورت کھلے عام برے کام کا ارتکاب کرے تو اس کو نکالا جائے گا اور رجم کیا جائے گا تو ان آیات کے حکم کو اس آیت ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منہما ماءۃ جلدۃ “ نے منسوخ کردیا اور (سزا کا) طریقہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنایا وہ ہے کوڑے مارنا اور رجم کرنا (یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردینا) ۔ (4) ابو داؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم “ تک اس (آیت) میں مرد کو عورت کے بعد ذکر فرمایا پھر دونوں کو جمع کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” والذین یاتینھا منکم فاذوہما “ پھر اس کو منسوخ کردیا کوڑے مارنے والی آیت نے یعنی لفظ آیت ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منہما ماءۃ جلدۃ “۔ (5) آدم و بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم “ میں ” فاحشہ “ سے مراد زنا ہے اور حکم دیا گیا تھا کہ اس کو قید رکھو پھر (اس حکم کو) ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا “ (کے حکم) نے منسوخ کردیا۔ (6) آدم ابو داؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” سبیل “ سے حد مراد ہے۔ غیر شادی شدہ کے زنا کی سزا سو کوڑے (7) عبد بن حمید وابو داؤد نے اپنی ناسخ میں ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” والتی یاتین الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ شروع میں زنا کی یہ سزا تھی کہ عورت کو قید کردیا جاتا تھا اور دونوں کو اکھٹے سزا دی جاتی اور دونوں کو عار دلائی جاتی باتوں اور گالیوں سے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں اور سزا کو تجویز فرمایا پس یہ طریقہ ہوگیا شادی شدہ کے بارے میں پتھر مار مار کر ہلاک کردینا اور غیر شادی شدہ کے بارے میں سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردینا۔ (8) عبد الرزاق وعبد بن حمید اور النحاس نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس آیت (کے حکم) کو حدود (والی آیات) نے منسوخ کردیا۔ (9) بیہقی نے اپنی سنن میں حسن (رح) سے ” والتی یاتین الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ پہلے عورتوں کی سزا یہ تھی کہ ان کو گھروں میں قید کردیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ آیت نازل ہوئی جو سورة نور میں ہے (جس میں اللہ تعالیٰ نے شادی شدہ کو رجم کرنے اور غیر شادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم فرمایا گویا اس طرح سے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا) ۔ (10) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والتی یاتین الفاحشۃ “ کے بارے فاحشہ سے زنا مراد ہے (اور) ” من نسائکم “ یعنی شادی شادہ عورتیں مسلمانوں میں (اور) ” فاستشھدوا علیہن اربعۃ منکم “ یعنی آزاد مسلمان گواہ ہوں (اور) ” فان شھدوا “ یعنی زنا کی گواہی دیں ” فامسکوہن “ یعنی ان کو قید کرلو ” فی البیوت “ یعنی گھروں میں، اور یہ حکم اسلام کے شروع میں تھا کہ عورت پر جب چار عادل مسلمان گواہ زنا کی گواہی دیں تو عورت کو قید خانہ میں قید کردیا جاتا۔ اگر اس کا خاوند ہوتا تو اس سے مہر واپس لے لیتا لیکن بغیر طلاق کے اس پر خرچ کرتا اور نہ اس پر حد ہوتی اور مرد عورت سے جماع بھی کرتا لیکن اس کو قید خانہ میں قید کردیتا ” حتی یتوفہن الموت “ یعنی حتی کہ عورت اسی حال میں مرجاتی ” او یجعل اللہ لہن سبیلا “ (یا اللہ ان کے لئے کوئی راہ نکالے گا) یعنی قید سے نکلنے کا راستہ اور وہ نکلنے کا راستہ حد ہے۔ (11) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورتیں جن کا نکاح ہوچکا اور شادی شدہ ہوگئیں۔ جب (اس میں سے) کوئی عورت زنا کرلے تو اس کو گھروں میں بند رکھو اور اس کا خاوند اس سے مہر لے لے گا جو اسی کا ہوگا اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتموہن شیئا الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “ (یعنی ان سے کوئی چیز لینا حلال نہیں مگر وہ زنا کرلیں تو واپس لے سکتے ہیں) اور پھر حدود کا حکم آیا تو اس حکم کو منسوخ کردیا گیا۔ اب اسے کوڑے مارے گئے اور اسے رجم کہا گیا اور اس کی مہر میراث تھی اور ” السبیل “ سے مراد حد ہے۔ (12) عبد الرزاق شافعی وطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والدارمی ومسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جارود والطحاوی وابن المنذر وابن ابی حاتم، والنحاس وابن حبان نے زیاد بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو اس سے آپ کو سخت تکلیف ہوتی تھی اور آپ کا چہرہ مبارک بدل جاتا تھا ابن جریر کے الفاظ یوں ہیں آپ کو غشی کی حالت طاری ہوجاتی تھی جب آپ وحی کا بوجھ پاتے تھے تو ایک دن اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی کی جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا مجھ سے لے لو اللہ تعالیٰ نے ان (عورتوں) کے لئے راہ پیدا فرما دی شادی شدہ کے لئے سو کوڑے اور پتھروں کے ساتھ رجم کرنا اور غیر شادی شدہ کے لئے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی۔ (13) احمد نے سلمہ بن محبق ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے لے لو مجھ سے لے لو تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ پیدا فرما دی غیر شادی شدہ جب غیر شادی شدہ کے ساتھ بدکاری کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور جب شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ بدکاری کرے تو سو کوڑے اور رجم کرنا۔ (14) الطبرانی والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة نساء میں فرائض نازل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة نساء (کے اترنے) کے بعد عورتوں کو قید نہ کیا جائے۔