4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو نماز کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جان لو کہ کیا کہہ رہے ہو، اور نہ اس حالت میں نماز کے پاس جاؤ جبکہ تم پر غسل فرض ہو، مگر یہ کہ راستہ گذرنے والے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو۔ اگر تم مریض ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو پھر پانی نہ پاؤ تو ارادہ کرو پاک مٹی کا، سو مسح کرلو اپنے چہروں کا اور ہاتھوں کا بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا مغفرت فرمانے والا ہے

نماز کے لئے طہارت ضروری ہے (1) عبد بن حمید وابو داؤد والترمذی نے (اس کو حسن کہا) والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے لئے عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کھانا تیار کیا ہم کو دعوت دی اور شراب بھی پلائی ہم کو نشہ ہوگیا نماز کا وقت ہوگیا تو مجھے آگے کھڑا کردیا میں نے لفظ آیت ” قل یا ایھا الذین لا اعبدو ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یایھا الذین امنو لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اور عبد الرحمن اور ایک اور آدمی تھا جنہوں نے شراب پی اور عبد الرحمن نے ان کو نماز پڑھائی اور لفظ آیت ” قل یایھا الکفرون “ پڑھا اس میں خلط ملط کردیا (تو یہ آیت) نازل ہوئی ” لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “۔ (3) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت کہ یہ آیت ابو بکر، عمر، علی، عبد الرحمن بن عوف سعد کے بارے میں نازل ہوئی حضرت علی ؓ نے ان کے لئے کھانا اور شراب تیار کی تو ان لوگوں نے کھایا اور شراب بھی لی۔ پھر حضرت علی نے ان کو نماز پڑھائی اور اس میں لفظ آیت ” قل یایھا الکفرون “ پڑھی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا اور (یوں کہا) ” لیس لی دین ولیس لکم دین “ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “۔ (4) عبد بن حمید و ابوداؤد والنسائی والنحاس والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “ اس کو ” انما الخمر والمیسر “ کی آیت نے منسوخ کردیا۔ (5) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے یہ حکم تھا۔ (6) عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا گیا کہ وہ نشہ کی حالت میں نماز پڑھیں پھر اس کو تحریم الخمر (والی آیت) نے منسوخ کردیا۔ (7) عبد بن حمید وابن ابی حاتم والنحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “ (کے حکم کو) اس آیت ” یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوہکم وایدیکم “ نے منسوخ کردیا۔ (8) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “ (کے حکم کو) اس آیت ” اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلو وجوھکم وایدیکم “ نے منسوخ کردیا۔ (9) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “ سے مراد ہے نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشہ کی حالت میں ہو ” حتی تعلموا ما تقولون “ یعنی جو کچھ تم اپنی نماز میں پڑھتے ہو (اس کو جان لو کہ تم کیا پڑھ رہے ہو) ۔ (10) الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے شراب مراد نہیں ہے بلکہ اس سے نیند کی بےہوشی مراد ہے۔ (11) عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانتم سکری “ سے اونگھ مراد ہے۔ (12) بخاری نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اونگھ آنے لگے اور نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو چاہئے کہ نماز چھوڑ دے اور نیند کرلے یہاں تک کہ وہ جان لے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ (13) الفریابی وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ یہ آیت مسافر کے بارے میں نازل ہوئی جس کو جنابت پہنچ گئی تو وہ تیمم کرلے اور نماز پڑھ لے اور دوسرے لفظ میں فرمایا نماز کے قریب نہ جائے مگر یہ کہ وہ مسافر ہو اور اس کو جنابت پہنچ گئی ہو پانی نہ پائے تو تیمم کرلے اور نماز پڑھ لے یہاں تک کہ پانی کو پالے۔ پانی پر قدرت نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے (14) عبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ سے مراد ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم جنبی ہو جب تم پانی کو پالو اور جب پانی کو نہ پاؤ تو تمہارے لئے حلال ہے کہ تم مٹی سے تیمم کرلو۔ (15) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ سے مراد ہے کہ وہ مسافر ہے جس کو پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔ (16) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جنبی اور حائضہ مسجد میں سے نہ گزرے یہ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ مسافر کے لئے ہے وہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔ (17) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ سے مراد وہ مسافرین ہیں جن کو پانی نہ ملے۔ (18) الحسن بن سفیان نے (اپنی سند میں) والقاضی اسماعیل نے الاحکام میں والطحاوی نے مشکل الآثار میں والباوردی نے الصحابہ میں والدار قطنی والطبرانی وابو نعیم نے المعرفہ میں وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں والضیاء المقدسی نے المختارہ میں اسلع بن شریک ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کی اونٹنی تیار کرتا تھا مجھے ایک ٹھنڈی رات میں جنابت پہنچ گئی (یعنی ناپاک ہوگیا) رسول اللہ ﷺ نے روانہ ہونے کا ارادہ فرمایا میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں جنبی حالت میں سواری کو تیار کروں اور میں اس بات سے بھی ڈرا کہ اگر میں نے ٹھنڈے پانی سے غسل کیا تو میں مرجاؤں گا یا بیمار ہوجاؤں گا تو میں نے انصار میں سے ایک آدمی کو کہا تو اس نے آپ کی اونٹنی کو تیار کیا پھر میں نے پتھروں کو گرم کیا اور اس کے ذریعہ پانی کو گرم کیا تو پانی گرم ہوگیا۔ اور اس پانی سے میں نے غسل کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا الا عابری سبیل “ تک۔ (19) ابن سعید وعبد بن حمید وابن جریر والطبرانی نے اپنی سنن میں (وجہ آخر سے) اسلع ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا اور آپ کی سواری کو تیار کیا کرتا تھا ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا اے اسلع ! کھڑے ہوجاؤ اور میرے لئے سواری کو تیار کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے جنابت پہنچ گئی آپ کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) تیمم والی آیت لے آئے آپ ﷺ نے فرمایا کھڑا ہوجا اے اسلع اور تیمم کرلے پھر مجھ کو دکھایا اسلع نے کہ کس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ نے تیمم کرنا سیکھایا تھا فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا اور اپنے چہرے کو مسح کیا پھر ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ پکڑا پھر ان دونوں کو پھونکا اور اپنے بازؤں کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر مسح کیا۔ (20) ابن ابی حاتم نے عطاء الخراسانی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقربوا الصلوۃ “ سے مراد ہے کہ مسجدوں کے قریب نہ جاؤ۔ (21) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں عطاء بن یسار کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ کچھ انصار کے دروازے مسجد میں (کھلتے تھے) ان کو جنابت پہنچ جاتی اور پانی ان کے پاس نہ ہوتا وہ پانی لانے کا ارادہ کرتے تھے مگر گزرنے کا راستہ نہیں پاتے تھے سوائے مسجد میں سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (23) ابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ کے بارے میں روایت کیا اس سے مراد مسجد میں سے گزرنا ہے کہ وہ مسجد سے گزر سکتا ہے۔ (24) ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی حائضہ عورت اور جنبی کے لئے مسجد میں سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں نہ بیٹھیں۔ (25) ابن ابی شیبہ نے ابو عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ جنبی آدمی مسجد میں سے گزرے گا لیکن اس میں نہیں بیٹھے گا پھر (یہ آیت) پڑھی ” ولا جنبا الا عابری سبیل “۔ (26) ابن ابی شیبہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ سے مراد ہے کہ جنبی آدمی مسجد میں سے گزر سکتا ہے۔ (27) عبد الرزاق والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنبی آدمی کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ مسجد میں سے گزر جائے اور فرمایا لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “۔ (28) بیہقی نے انس ؓ سے لفظ آیت ” ولا جنبا الا عابری سبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ گزر جائے اور نہ بیٹھے۔ (29) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر والبیہقی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم میں سے کوئی مسجد میں گزر جاتا ہے اس حال میں کہ وہ جنبی ہوتا تھا۔ (30) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کہ لفظ آیت ” وان کنتم مرضی “ (یہ آیت) انصار میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی وہ بیمار تھا اور کھڑا نہیں ہوسکتا تھا وہ وضو نہیں کرتا لیکن ہم میں سے کوئی اس کا خادم نہیں تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات آپ کو بتائی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (31) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وان کنتم مرضی “ یہاں مریض سے مراد چیچک کا مریض ہے یا وہ آدمی جس کا زخم یا پھوڑا ہو کہ وہ جنبی ہوجائے اور غسل کرنے سے موت کا ڈر ہو تو تیمم کرلے۔ بیمار کے لئے تیمم جائز ہے (32) الحاکم اور بیہقی نے المعرفہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان کنتم مرضی “ سے مراد ہے کہ اگر ایک آدمی اللہ کے راستے میں زخمی ہوجائے یا پھوڑا نکل آئے یا چیچک کا مرض ہو اور وہ جنبی ہوجائے غسل کرنے سے موت کا ڈر ہو تو تیمم کرلے۔ (33) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان کنتم مرضی “ (کا حکم) مریض کے لئے ہے اگر اس کو جنابت پہنچ جائے۔ اور غسل سے موت کا خوف ہو تو اس کو تیمم کی اجازت ہے جیسے مسافر جب اس کو پانی نہ ملے (تو تیمم کرلے) ۔ (34) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مریض چیچک کے مرض میں مبتلا ہو اور اس طرح کے دوسرے مریض کے لئے رخصت ہے کہ وہ وضو نہ کرے (تیمم کرلیں) اور (یہ آیت) ” وان کنتم مرضی او علی سفر “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا یہ قرآن حکیم کا مخفی معنی ہے۔ (35) ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو زخم آئے پھر وہ پھیل گئے پھر ان کو جنابت لاحق ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو اس بات کی شکایت کی تو (یہ آیت ) ” وان کنتم مرضی۔۔ الخ “ نازل ہوئی۔ (36) ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان کنتم مرضی “ (اس آیت میں) اس مریض کو تیمم کی رخصت دی گئی ہے جس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو یا زخمی ہوگیا ہو جب اسے جنابت پہنچ جائے تو وہ زخم کو نہ کھولے مگر جس کے بارے میں کوئی خوف ہو۔ (37) ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہما دونوں سے روایت کیا کہ وہ مریض جس کو جنابت پہنچ گئی ہو اور اس کو اپنی جان پر خوف ہو وہ اس مسافر کی طرح ہے جس کو پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرلے۔ (38) ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایسا مریض کہ جس کو کوئی آدمی پانی لانے والا نہ ملے اور وہ خود اس پر قادر نہ ہو اور اس کا کوئی خادم یا دمدد گار بھی نہ ہو تو وہ تیمم کرلے اور نماز پڑھ لے۔ (39) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوجاء احد منکم من الغائط “ میں الغائط سے مراد وادی ہے۔ (40) عبد الرزاق و سعید بن منصور ومسدد وابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم و بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولمستم النساء “ سے مراد چھونا ہے سوائے جماع کے اور اسی سے بوسہ بھی لینا ہے اور اس میں وضو ہے۔ (41) طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت ” اولمستم النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اس میں ملامسہ سے مراد ہے ہاتھ سے ٹٹولنا۔ (42) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ عورت کے بوسہ سے وضو کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ چھوتا ہے۔ (43) الشافعی نے الام میں، عبد الرزاق وابن المنذر والبیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مرد کو اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اس کو ہاتھ لگانا یہ چھونے میں سے ہے کوئی آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے یا ہاتھ لگائے تو اس پر وضو ہے۔ (44) الحاکم والبیہقی نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ بوسہ لینا چھونے میں سے ہے اس لئے اس سے وضو کرے۔ (45) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ” لمس “ سے جماع مراد ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے کنایہ فرمایا۔ (46) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” او لمستم النساء “ سے جماع مراد ہے۔ (47) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابن عباس ؓ کے حجرہ میں تھے اور ہمارے ساتھ عطا بن ابی رباح اور عجمیوں کی ایک جماعت اور عبید بن عمیر اور ایک جماعت عرب میں سے تھی ہم نے آپ میں لماس یعنی (چھونے کا) تذکرہ کیا میں نے اور عطا کو عجمیوں نے کہا کہ لمس بالید یعنی ہاتھ کے ساتھ چھونا مراد ہے (اس سے جماع مراد نہیں) لیکن عبید اللہ بن عمر اور عرب کے لوگوں نے کہا اس سے جماع مراد ہے۔ میں ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور ان کو یہ بات بتائی انہوں نے فرمایا موالی (یعنی عجمی مغلوب ہوگئے اور عربوں نے صحیح کہا) پھر فرمایا المس مس اور مباشرہ کی معنی جماع ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کنایہ سے بیان کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ (48) الطستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” او لمستم النساء “ کے بارے میں بتائیے پھر فرمایا ” او جا معتتم النساء “ یعنی یا تو عورتوں سے جماع کرو اور ہذل کہتا ہے لمس بالید (یعنی ہاتھ سے چھونا) مراد ہے انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کا قول نہیں سنا جیسے وہ کہتا ہے۔ یلمس الاخلاس فی منزلہ بیدیہ کالیہودی المصل ترجمہ : وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ گھر میں کملی سے جماع کرتا ہے جیسے یہودی نماز پڑھنے والا۔ ورادعۃ صفراء بالطیب عندنا للمس الندامی من ید الدزر مفتق ترجمہ : وہ ہمارے وہاں اپنے زیورات کو خوشبو لگاتی ہے تاکہ مجلس شراب میں شریک لوگوں کو اپنی قیمض کے ہاتھ سے چھوئے جس پر خوشبو لگی ہے۔ (49) سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” اولمستم النساء “ یعنی جماع سے کم عمل۔ (50) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبیدہ سے لفظ آیت ” اولمستم النساء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور اپنی انگلیوں کو ملایا گویا کہ وہ کسی چیز کو لے رہے ہیں اور اس کو پکڑ رہے ہیں۔ محمد (رح) نے فرمایا کہ مجھے ابن عمر کی طرف سے یہ خبر دی جب وہ اپنی شرم گاہ کو چھوتے تھے تو وضو فرماتے تھے تو میں نے گمان کیا کہ ابن عمر اور عبیدہ کا قول ایک ہی چیز ہے۔ (51) ابن ابی شیبہ نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ لمس بالید یعنی ہاتھ سے چھونا مراد ہے۔ (52) ابن ابی شیبہ نے ابو عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ ملامسہ سے مراد ہے جماع سے کم فعل۔ (53) ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ الملامسہ سے مراد ہے جماع سے کم کوئی فعل۔ (54) ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ الملامسہ سے مراد ہے جماع۔ (55) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے لفظ آیت ” فتیمموا صعیدا طیبا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد کہ وہ پاک مٹی کا ارادہ کریں۔ (56) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صعیدا “ سے مراد وہ مٹی ہے جس میں درخت اور سبزہ نہ ہو۔ (57) ابن جریر نے عمرو بن قیس الملالی (رح) سے روایت کیا کہ صعید سے مٹی مراد ہے۔ (58) ابن ابی حاتم نے سعید بن بشیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ طیب سے مراد وہ مٹی ہے جس پر بارشیں آئیں اور اس کو پاک کردیں۔ (59) ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صعیدا طیبا “ سے مراد ہے کہ وہ تمہارے لئے حلال ہے۔ (60) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے عمدہ زمین کھیتی باڑی والی زمین ہے۔ (61) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز کہ جس پر تو اپنا ہاتھ رکھ دے وہ صعید ہے یہاں تک کہ تیرے بدن پر جو غبار ہے تو اس سے تیمم کرلے۔ (62) الشیرازی نے الکتاب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی زمین سب سے زیادہ پاکیزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کھیتی والی زمین۔ (63) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب تیمم کی آیت نازل ہوئی میں نہیں جانتا تھا کہ کیسے کروں میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو نہ پایا میں آپ کو ڈھونڈنے کے لئے چل پڑا آپ میرے سامنے آگئے جب آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے پہچان لیا جس ارادہ سے میں آپ کے پاس آیا تھا آپ نے قضائے حاجت کی پھر دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان دونوں کو اپنے چہرہ مبارک اور ہتھیلیوں پر پھیرلیا۔ (64) ابن عدی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا اور ان دونوں کے ساتھ اپنے چہرے پر مسح کیا پھر دوسری دفعہ ہاتھوں کو زمین پر مارا اور اپنے ہتھیلیوں پر مسح کرلیا۔ (65) ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی و نسائی ابن ماجہ نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ میں سفر میں تھا اور جنبی ہوگیا پھر زمین پر لوٹ پوٹ ہوا اور نماز پڑھ لی پھر میں نے اس چیز کا نبی ﷺ سے کہا تو آپ نے فرمایا تجھ کو اتنا ہی کرنا کافی تھا پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا اور ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور اپنی ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ (66) الطبرانی والحاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں ایک ضرب چہرہ کے لئے اور ایک ضرب ہاتھوں سے لے کر کہنیوں تک۔ تیمم کا مسنون طریقہ (67) الحاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا تو ہم نے اپنے ہاتھوں کو پاک مٹی پر مارا پھر ہم نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور ان کے ساتھ اپنے چہروں کا مسح کیا پھر ہم نے دوسری ضرب لگائی اور ہم نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سے ہتھیلیوں تک جہاں بال ہوتے ہیں ان کے ظاہر اور باطن پر مسح کیا۔ (68) ابن جریر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ عمار نے تیمم کیا اور انہوں نے اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں پر مسح کیا اور بازؤں پر مسح نہیں کیا۔ (69) مکحول (رح) سے روایت کیا کہ تیمم یہ ہے کہ ایک ضرب چہرہ کے لئے اور ہتھیلیوں کے لئے کلائی تک کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں فرمایا لفظ آیت ” وایدیکم الی المرافق “ (المائدہ آیت 6) اور تیمم میں فرمایا ” ایدیکم “ اور اس میں استثناء نہیں کیا جیسا کہ وضو میں کہنیوں تک استثناء کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما “ (المائدہ آیت 38) اس لئے چور کا ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جاتا ہے۔ (70) ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ تیمم بغلون تک ہے۔ (71) ابن جریر والبیہقی نے اپنی سنن میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے حضرت عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ رکے رہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوگئی۔ ابو بکر، عائشہ ؓ پر غصہ ہوئے تو اس پر مٹی کے ساتھ مسح کرنے کی رخصت نازل ہوئی ابوبکر ان کے پاس آئے اور فرمایا اے عائشہ تو بڑی بابرکت ہے تیری وجہ سے رخصت کا حکم نازل ہوا پس ہم نے اپنے ہاتھوں پر مٹی ایک ضرب لگائی اپنے چہروں کے لئے اور دوسری ضرب لگائی ہمارے ہاتھوں کے لئے کندھوں اور بغلوں تک۔ شافعی نے فرمایا یہ حکم منسوخ ہے کیونکہ پہلا تیمم وہ تھا جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تھی اس کے بعد جو تیمم ہوا اس کے خلاف ہوا وہ پہلے کے لئے ناسخ ہے۔ (72) ابن ابی شیبہ واحمد وحاکم والبیہقی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ غنیمت کے جانور جمع ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ان کو جنگل میں لے جاؤ میں ان کو اندر لے گیا اور مجھے جنابت پہنچ گئی میں پانچ اور چھ دن رہا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ نے فرمایا پاکیزہ مٹی مسلمان کا وضو ہے اگرچہ دس سال گزر جائیں جب پانی پالے تو اپنی جلد کو دھو ڈالے (یعنی غسل کرلے) ۔ (73) ابن ابی شیبہ ومسلم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے مٹی کو پاک بنا دیا گیا جب ہم پانی کو نہ پائیں۔ (74) ابن ابی شیبہ ومسلم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے مٹی کو پاک بنا دیا گیا جب ہم پانی کو نہ پائیں۔ (75) ابن ابی شیبہ نے ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس زمین کے ساتھ مسح کرتے رہو کیونکہ یہ زمین تمہارے ساتھ نیکی کرنے والی ہے۔ (76) الطبرانی والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سنت میں سے یہ ہے کہ آدمی تیمم سے صرف ایک نماز پڑھے۔ پھر دوسری کے لئے (دوسرا) تیمم کرے۔ (77) ابن ابی شیبہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ہر نماز کے لئے تیمم کیا جائے گا۔ (78) ابن ابی شیبہ نے عمرو بن عاص ؓ سے نقل فرمایا ہر نماز کے لئے تیمم کیا جائے گا۔
Ayahs 4:44–46

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور یہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم راہ سے بھٹک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جاننے والا ہے اور اللہ کافی ہے ولی ہونے کے اعتبار سے اور اللہ کافی ہے مددگار ہونے کے اعتبار سے

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

جو لوگ یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کلمات کی تحریف کرتے ہیں ان جگہوں سے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور انہیں مانیں گے اور کہتے ہیں کہ سن لے اس حال میں کہ تو سننے والا نہ ہو، اور اپنی زبانوں کو موڑتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہوئے۔ لفظ راعنا کہتے ہیں اور اگر وہ یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور آپ سن لیجئے اور ہم پر نظر فرمائیے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور لیکن اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی سو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے سے آدمی۔

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفاعہ بن زید بن تابوت یہود کے بڑے لوگوں میں سے تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ سے بات کرتا تو اپنی زبان کو مروڑ کر کہتا اے محمد ! ہمارے بات توجہ سے سنئے تاکہ ہم آپ کو بات سمجھائیں پھر وہ اسلام میں طعن کرتا اور عیب جوئی کرتا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ “ سے لے کر ” فلا یؤمنون الا قلیلا “ تک۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب “ سے لے کر ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “ تک زید بن تابوت یہودی کے بارے میں نازل ہوئی (واللہ اعلم ) ۔ (3) ابن ابی حاتم نے وھیب بن ورد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابن آدم ! مجھ کو یاد کر جب تو غصہ میں ہو میں تجھ کو یاد کروں گا جب میں غصہ میں ہوں گا اور تجھ کو ہلاک نہیں کروں گا ان لوگوں کے ساتھ جن کو ہلاک کرتا ہوں اور جب تو ظلم کیا جائے تو صبر کر اور میری مدد کے ساتھ راضی ہوجاؤ بلاشبہ میری مدد تیرے لئے بہتر ہے تیری اپنی مدد سے جو تیری ذات کے لئے ہو۔ (4) ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “ یعنی وہ تحریف کرتے ہیں اللہ کی حدود میں جو تورات میں ہے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “ یعنی یہودی تورات کو تبدیل کردیتے تھے لفظ آیت ” ویقولون سمعنا وعصینا “ یعنی انہوں نے کہا ہم نے سن لیا جو آپ کہتے ہیں اور ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے لفظ آیت ” واسمع غیر مسمع “ یعنی غیر مقبول ہے جو تو کہتا ہے ” لیا بالسنتہم “ یعنی اس کے خلاف ان الفاظ کو اپنی زبان سے مروڑ کر کہتے تھے اور وہ یوں کہتے ” واسمع وانظرنا “ یعنی سنئے اور ہماری رعایت کیجئے آپ ہم کو بات سمجھائیں ہم پر جلدی نہ کیجئے۔ (6) ابن ابی حاتم نے ابن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “ سے مراد ہے کہ جس معنی میں اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا ہے وہ اس معنی میں اسے نہیں رکھتے۔ (7) ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واسمع غیر مسمع “ یعنی وہ کہتے تھے سنیے نہ سنا جائے اور راعنا یعنی وہ لوگ نبی ﷺ سے کہتے تھے ” راعنا سمعک “ ہمارے سماعت کی رعایت کیجئے (تاکہ) ہم آپ کو سن لیں اور ” راعنا “ سے مراد ہے جیسے آپ کا کہنا ” واطعنا “ ہم کو (کوئی چیز) عطا کیجئے۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول ” لیا بالسنتہم “ سے مراد جھوٹ بولنا ہے۔ (8) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان میں سے بعض لوگ کہتے تھے لفظ آیت ” واسمع غیر مسمع “ یعنی ہماری سنو نہ سنائے جاؤ جیسے تیرے کہنا اسمع غیر مستمع ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” لیا بالسنتہم “ یعنی ایسی کلام کے ساتھ (بات کرتے تھے) کہ اس سے مذاق کا شبہ ہوتا تھا ” وطعنا فی الدین “ یعنی محمد ﷺ کے دین میں طعن کرتے ہوئے۔ (9) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ان کا اپنی زبانوں سے حرکت دینا ہے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں پھر ان کو الٹی جانب کی طرح بنا دیں یا ان پر لعنت کردیں جیسا کہ ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی، اور اللہ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ نے یہود کے بڑے علماء سے گفتگو کی ان میں عبد اللہ بن صوریا اور کعب بن اسد تھے آپ نے ان سے فرمایا اے یہود کے گروہ اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ اللہ کی قسم ! تم جانتے ہو اس بات کو کہ تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں۔ وہ کہنے لگے اے محمد ! ہم اس کو نہیں جانتے تو اس بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یایھا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا “۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے ” یایھا الذین اوتوا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) مالک بن صیف اور رفاعہ بن زید بن تابوت کے بارے میں نازل ہوئی جو قبیلہ بنو قینقاع میں سے تھے۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من قبل ان نطمس وجوھا “ یعنی ان (کے چہروں) کو مٹا دیں گے کہ وہ اندھے ہوجائیں گے ” فنردھا علی ادبارھا “ یعنی ہم ان کے چہروں کو گدی کی طرف کردیں گے پھر وہ الٹے پاؤں چلیں گے اور ان میں سے ہر کسی کی آنکھیں ان کی گدی کی طرف کردیں گے۔ (4) الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” من قبل ان نطمس وجوھا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے اس کے کہ ہم اس کو کسی اور مخلوق کی صورت میں مسخ کردیں گے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امیر بن صلت کا قول نہیں سنا۔ من یطمس عینیہ فلیس لہ نوز یبین بہ شمسا ولا قمرا ترجمہ : جس کی آنکھوں کو اللہ تعالیٰ مٹادے تو اس کا نور نہیں رہتا جس سے سورج یا چاند کو دیکھے۔ (5) ابن ابی حاتم نے ابو ادریس خولانی (رح) سے روایت کیا کہ ابو مسلم خلیلی کعب کے معلم تھے جب دیکھے اس کو ملامت کیا کہ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں جاتے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں انہوں نے تحقیق کرنے میں دیر لگائی تو وہ ان کی ملامت کیا کرتے تھے۔ راوی نے کہا کہ ابو مسلم خلیلی نے ان کو بھیجا تاکہ وہ دیکھے کیا وہ وہی نبی ہیں (جن کے بارے میں ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے) کعب نے کہا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آیا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ قرآن کی یہ آیت تلاوت کر رہے ہیں۔ لفظ آیت ” یایھا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا مصدقا لما معکم من قبل ان نطمس وجوھا “ میں جلدی سے پانی لایا اور غسل کیا اور میں اپنے چہرہ کو ہاتھ لگاتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میرا چہرہ بھی مسخ نہ کردیا جائے۔ پھر میں اسلام لے آیا۔ (6) ابن جریر نے عیسیٰ بن مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابراہیم کے پاس کعب کے اسلام لانے کا ذکر کر رہے تھے تو ابراہیم نے کہا کہ کعب حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں مسلمان ہوئے وہ اس طرف آئے اور بیت المقدس کا ارادہ رکھتے تھے مدینہ منورہ سے گزرے تو حضرت عمر ؓ ان کے پاس آئے اور فرمایا اے کعب ! مسلمان ہوجاؤ تو کعب نے کہا کیا تم اپنی کتاب میں نہیں پڑھتے ہو لفظ آیت ” مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارا “ (جمعہ آیت 5) اور کہا کہ میں حامل تورات ہوں تو عمر ؓ نے اس کو چھوڑ دیا پھر کعب چلا گیا یہاں تک کہ حمص تک پہنچا تو ایک آدمی کو اپنے گھر والوں میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” یایھا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا مصدقا لما معکم من قبل ان نطمس وجوھا “ تو کعب نے (یہ آیت سن کر) کہا اے میرے رب میں ایمان لے آیا اے میرے رب میں مسلمان ہوگیا اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اس آیت میں عذر کا عذاب اس پر نہ آپڑے پھر میں لوٹا اور اپنے گھر والوں کے پاس یمن واپس آیا پھر ہم ان کو مسلمان کی حیثیت سے مدینہ منورہ لے آئے۔ 7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من قبل ان نطمس وجوھا “ سے مراد ہے کہ پہلے اس سے کہ ہم تم کو حق کے راستہ سے اندھا کردیں ( اور فرمایا) ” فنردھا علی ادبارھا “ یعنی گمراہی کے راستہ کی طرف پھیر دیں۔ (8) ابن المنذر نے ضحاک (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الطمس “ سے مراد ہے کہ وہ کفر کی طرف لوٹ جائیں گے اور پھر کبھی بھی ہدایت نہیں پائیں گے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” او نلعنہم کما لعنا اصحب السبت “ یعنی یا ہم ان کو بندر اور سور بنا دیں گے۔ (9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” فنردھا علی ادبارھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ابی کہا کرتے تھے کہ وہ شام کی طرف لوٹ گئے جہاں سے آئے تھے یہاں شام کی طرف ان کو لوٹانا مراد ہے۔ (10) عبد الرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم ان کو حق سے اندھا کردیں گے لفظ آیت ” فنردھا علی ادبارھا “ ان کو گمراہی کی طرف لوٹا دیں ” او نلعنہم “ ان کو بندر بنا دیں۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے بخش دے گا اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا

(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میرا ایک بھتیجا ہے جو حرام سے نہیں رکتا، آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس نے کہا وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس سے اس کا دین ہبہ کے طور پر لے لو اگر وہ انکار کرے تو اس سے خرید لو۔ آدمی نے جا کر اس سے مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا میں نے اسے اپنے دین پر حریص پایا تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم والبزار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی ﷺ کے صحابہ تھے کہ ہم قاتل یتیم کا مال کھانے والے اور جھوٹی گواہی دینے والے اور قطع رحمی کرنے والے کے بارے میں جہنمی ہونے کا شک نہ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ (یہ آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ نازل ہوئی تو ہم یہ شہادت دینے سے رک گئے۔ (3) ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم شک نہیں کرتے تھے ان لوگوں کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ نے جن کے حق میں جہنم کا فیصلہ فرمایا اللہ کی کتاب میں یہاں تک کہ ہم پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ جب ہم نے (یہ آیت) سنی تو ہم (کسی کے بارے میں) گواہی دینے سے رک گئے اور ہم نے اپنے سارے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دئیے۔ (4) ابن الضریس وابو یعلی وابن المنذر وابن عدی نے صحیح سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم بڑے گناہوں والوں کے لئے استغفار کرنے سے رکے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ سے (یہ آیت) سنی ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ اور آپ نے فرمایا میں نے ذخیرہ کرلیا ہے اپنی دعاؤں کا اور اپنی شفاعت کا اپنی امت کے بڑے گناہ کرنے والوں کے لئے ہم ان بہت سی باتوں سے رک گئے جو ہمارے دلوں میں تھیں۔ پھر بعد میں ہم نے (اس طرح) باتیں کیں اور (اللہ تعالیٰ سے) امید رکھنے لگے (کہ اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہگاروں کو بھی معاف فرما دیں گے) ۔ (5) ابن المنذر نے المعتمر بن سلیمان کے طریق سے سلیمان بن عتبہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اسماعیل بن ثوبان نے بیان فرمایا کہ میں مسجد میں داخل ہوا میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ (یہ آیت) ” من قتل نفسا۔۔ الخ “ (المائدہ آیت 32) پڑھ رہے تھے تو مہاجرین اور انصار نے کہا اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی جب یہ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ نازل ہوئی تو صحابہ نے کہا اللہ جو چاہیں گے ان کے ساتھ سلوک ہوگا۔ (6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم “ (الزمر آیت 42) تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا اور شرک (کا کیا ہوگا) اے اللہ کے نبی اس بات کو نبی ﷺ نے ناپسند فرمایا پھر یہ آیت پڑھی ان اللہ لا یغفر ان یشرک “۔ (7) ابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” یعبادی الذین اسرفوا “ (الزمر آیت 53) نازل ہوئی تو نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس آیت کو لوگوں پر پڑھا تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اور اللہ کے ساتھ شرک کرنا (اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ دو یا تین مرتبہ خاموش رہے تو یہ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ نازل ہوئی وہ آیت سورة زمر میں اور یہ آیت سورة نساء میں ثابت ہوئی۔ (8) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مغفرت کو حرام کردیا ہے ایسے شخص پر جو کافر ہو کر مرے مسلمانوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے سپرد کردیا اور ان کو مغفرت سے مایوس نہیں کیا۔ (9) ابن ابی حاتم نے بکر بن عبد اللہ مزنی سے ” ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت قرآن مجید میں مستثنیٰ ہے اس مغفرت سے جو ذکر کی گئی۔ (10) الفریابی والترمذی (نے اس کو حسن کہا) اور علی ؓ سے روایت کیا کہ میرے نزدیک قرآن میں یہ آیت زیادہ محبوب ہے۔ لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “۔ (11) ابن جریر نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کی خدمت میں تیرہ سال تک حاضر ہوتا رہا کوئی چیز قرآن میں ایسی نہیں تھی کہ اس کے بارے میں میں نے ان سے سوال نہ کیا ہو جبکہ میرا قاصد حضرت عائشہ ؓ کے پاس حاضر ہوتا تھا یہ میں نے ابن عباس ؓ سے سنا اور نہ میں نے سنا علی میں نے سنا علی میں سے کسی ایک سے جو یہ کہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی گناہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوں کہ میں اس کو معاف نہیں کروں گا۔ مشرک کی مغفرت نہ ہوگی (12) ابو یعلی وابن ابی حاتم نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی بندہ اس حال میں مرتا ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا تو اس کے لئے مغفرت حلالت ہوگئی اگر چاہیں گے تو اس کی مغفرت فرما دیں گے اگر چاہیں گے تو اس کو عذاب دیں گے اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “۔ (13) ابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس عمل پر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے تو وہ اسے پورا کرے گا اور جس عمل پر اللہ تعالیٰ نے سزا کا وعدہ فرمایا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہوگا (اگر چاہیں گے تو معاف فرمادیں گے اور اگر چاہیں گے تو سزا دیں گے) ۔ (14) الطبرانی نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک وہ گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اور ایک وہ گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دیتے ہیں اور ایک وہ گناہ ہے جس کی مغفرت کردی جاتی ہے وہ گناہ جس کو نہیں بخشا جاتا وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور وہ گناہ جس کی مغفرت کردی جاتی ہے وہ گناہ جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے وہ گناہ جس کو اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑتا وہ بندوں کا آپس میں ظلم ہے (اس کا بدلہ ضرور دلوایا جائے گا) ۔ (15) احمد وابن المنذر وابن ابی حاتم وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک تین قسم کے دفتر یعنی اعمال نامے ہوں گے ایک وہ دفتر ہوگا جس کی اللہ تعالیٰ پرواہ نہ کرے گا ایک وہ دفتر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس میں سے کوئی چیز نہ چھوڑیں گے اور ایک وہ دفتر ہوگا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں بخشے گا۔ وہ شرک والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ “ (المائدہ آیت 72) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “ اور وہ دفتر جس کی اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں فرمائیں گے وہ بندہ کا ظلم ہوگا اپنی ذات پر یہ وہ معاملات ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہیں (جیسے) روزہ نماز کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے اور اگر چاہیں گے تو اس سے درگزر فرمائیں گے اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے وہ بندوں کا ظلم ہوگا ان کے بعض کا بعج پر اس میں لا محالہ قصاص ہوگا۔ (16) احمد و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا جس بندہ نے لا الہ الا اللہ کہا پھر اسی پر مرگیا تو جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا چوری کیا ؟ آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زیا کیا چوری کی۔ میں نے پھر کہا اگر اس نے زنا کیا اور چوری کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی تین مرتبہ آپ نے ایسا فرمایا پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا ابوذر کی ناک مٹی میں ملے۔ (17) احمد وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے تو نے میری عبادت کی ہے اور تو نے مجھ سے امید رکھی بلاشبہ میں تجھ کو بخشنے والا ہوں تیرے اندر جو کچھ بھی (گناہ) تھے۔ اور اے میرے بندے تو مجھے زمین بھر کے گناہوں کے ساتھ ملے لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملاقات کروں گا۔ (18) ابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا تھا۔ پھر اس پر ریت کے ذرات کے برابر گناہ ہوں تو اس کی مغفرت کردوں گا۔ (19) احمد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا۔ (20) الطبرانی والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا جو شخص یہ جانتا ہو کہ میں گناہوں کی مغفرت کرنے پر قادر ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں (کہ اس کی مغفرت کردوں گا) جب تک وہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو۔ (21) احمد نے سلمہ بن نعیم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا۔ اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی۔ (22) احمد نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “ کہا جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی۔ آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی میں نے پھر کہا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی۔ آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی میں نے پھر کہا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی اگرچہ ابو درداء کی ناک خاک آلود ہو۔ ابو درداء نے کہا پھر میں نکلا تاکہ لوگوں میں اعلان کردوں مجھ کو حضرت عمر ؓ ملے اور کہا واپس لوٹ جاؤ کیونکہ لوگ اگر اس کو جان لیں گے تو اس پر بھروسہ کرلیں گے میں لوٹ گیا اور آپ ﷺ کو بتایا تو آپ نے فرمایا عمر ؓ نے سچ کہا۔ (23) ھناد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ چار آیات اللہ کی کتاب میں مجھے سرک اور سیاہ اونٹون سے زیادہ محبوب ہے۔ سورة نساء میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “ اور اللہ کا قول ” ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک “ اور اللہ تعالیٰ کا قول ” وکیلا (109) ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “۔
Ayahs 4:49–50

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی جانوں کو پاکیزہ بتاتے ہیں، بلکہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ بناتا ہے اور لوگوں پر کھجور کی گٹھلی کے تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو کہ یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کا یہ افتراء صریھ گناہ ہونے کے لئے کافی ہے

(1) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود نے کہا ہمارے بیٹے جو فوت ہوچکے ہیں وہ ہم کو قریب کرنے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور عنقریب وہ ہماری سفارش کریں گے اور ہم کو پاک کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ (الآیہ) ۔ (2) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود اپنے بچوں کو آگے رکھنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور اپنی قربانیوں کے قریب رکھنے اور یہ خیال کرتے تھے کہ اب ان کی کوئی خطا (باقی) نہیں ہے اور نہ کوئی گناہ (باقی ہے) اور انہوں نے جھوٹ بولا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں گناہ والے کو پاک نہیں کروں گا دوسرے کے بدلے میں جس پر کوئی گناہ نہ ہو پھر اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “۔ (3) عبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہود اپنے بچوں کو آگے کھڑا کردیتے تھے اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ اب ان کا کوئی گناہ باقی نہیں رہا اور یہی تزکیہ ہے یعنی گناہوں سے پاک ہونا ہے۔ (4) ابن جریر نے ابو مالک (رح) سے لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) یہود کے بارے میں نازل ہوئی وہ اپنے بچوں کو امام بناتے اور پھر کہتے کہ ان کے گناہ نہیں۔ (5) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل کتاب (اپنے) بچوں کو آگے کردیتے تھے (نماز میں) جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے ان کے کوئی گناہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “۔ (6) عبد الرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ سے مراد یہودی و نصاری ہیں (وہ کہتے ہیں) ” نحن ابناء اللہ واحباؤہ “ (ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں) ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصری “ (جنت میں یہود و نصاری کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا) ۔ (7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ یہود کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر میں تو رات سکھاتے ہیں تو ان کے کوئی گناہ نہیں ہوتے جبکہ ہمارے گناہ ہمارے بیٹون کے گناہ کی طرح ہیں جو ہم دن کے وقت عمل کرتے ہیں وہ رات کے وقت ان کو ہم سے مٹا دیا جاتا ہے۔ (8) ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی البتہ دھوکہ کرتا تھا اپنے دین کے ساتھ پھر رجوع کرتا تو اس کے ساتھ دین میں سے کوئی چیز نہ ہوتی وہ کسی آدمی سے ملاقات کرتا تھا کہ وہ اس کے نفع اور نقصان کا مالک نہ ہوتا تھا اور وہ کہتا تھا اللہ کی قسم بلاشبہ تو اس شان کا حامل ہے شاید کہ وہ لوٹے جبکہ وہ اسے اس کی ضرورت میں کچھ فائدہ نہ دے حال یہ ہے کہ اس نے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرلیا پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “۔ (9) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا یظلمون فتیلا “ کے بارے میں روایت کیا کہ فتیل وہ چیز ہے جو دو انگلیوں کے درمیان سے نکلے۔ (10) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا فقیل وہ ہے کہ تو اپنی دو انگلیوں کو رگڑے تو جو چیز ان دونوں میں سے نکلے وہ فتیل ہے۔ (11) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر ابن عباس ؓ سے روایت کیا نقرہ میں ہوتا ہے جس میں کھجور اگتی ہے اور فتیل جو گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے اور قطمیر وہ چھلکا جو گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔ (12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو اس شق میں ہوتا ہے جو گٹھلی کے پیٹ میں ہے۔ (13) الطستی وابن الانباری نے الوقف والا بتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے کہا مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ولا یظلمون فتیلا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ کمی نہیں کرتے خیر سے اور شر سے مثل فتیل کے اور فتیل گٹھلی کے شق میں ہوتی ہے۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی ذبیان کا قول نہیں سنا : یجمع الجیش ذالالوف وتغرفوا ثم لا یرزء الا عادی فتیلا ترجمہ : لشکر جمع کرتا ہے لاکھوں کا اور جنگ کرتا ہے دشمنوں کا ذرہ برابر بھی نقصان نہیں دیتا اور یہ بھی فرمایا اعاذل بعض لو مک لا تلحی فان اللیوم لا یغنی فتیلا ترجمہ : میں تیری بعض ملامتوں سے جدا ہوجاتا ہوں جو قابل ملامت کاموں پر نہیں ہوتی کیونکہ ملامت فتیلہ برابر فائدہ نہیں دیتی۔ (14) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فتیل وہ گڑھا ہے جو گٹھلی کے وسط میں ہوتا ہے اس کی پشت پر اور اسے فتیل کہتے ہیں اور قطمیر وہ ہے جو گٹھلی کا لفافہ یا انڈے کی جھلی یا سرکنڈے کی جھلی۔ (15) عبد بن حمید نے عطیہ جدلی (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں گٹھلی میں ہیں قطمیر وہ گٹھلی کا چھلکا ہے اور نقیر گٹھلی کا وسط گڑھے کو کہتے ہیں اور فتیل وہ ہے جو گٹھلی کے درمیان شق میں ہوتا ہے۔ (16) ابن جریر نے وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہود نے کہا ہمارے لئے کوئی گناہ نہیں مگر ہماری اولاد کا گناہ جس دن ان کی پیدائش ہوتی ہے اگر ان کے گناہ ہوں گے تو ہمارے بھی گناہ ہوں گے اور ہم ان کی طرح ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا “۔