Ayah 4:81(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویقولون طاعۃ “ (الآیہ) یہ وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس تو کہتے تھے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر تاکہ ان کے خون اور ان کے مال امن میں ہوجائیں لفظ آیت ” فاذا برزوا “ یعنی جب رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے جاتے تھے ” بیت طائفۃ “ تو وہ اس بات کے مخالف ہوجاتے تھے جو انہوں نے آپ کے پاس کہی تھی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عیب لگائے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” بیت طائفۃ منہم غیر الذی تقول “ یعنی وہ اس بات کو بدل ڈالتے تھے جو نبی ﷺ سے کہتے تھے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویقولون طائفۃ “ یعنی یہ منافق لوگ جب نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور آپ ان کو کوئی حکم دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں آپ کی اطاعت کریں گے جب باہر نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت اس بات کو بدل ڈالتی ہے۔ جو نبی ﷺ فرماتے ہیں لفظ آیت ” واللہ یکتب ما یبیتون “ یعنی جو وہ کہتے ہیں (اللہ تعالیٰ ان کی سب باتوں کو لکھ رہے ہیں) ۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بیت طائفۃ منہم “ اس سے اہل نفاق مراد ہیں۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بیت طائفۃ منہم غیر الذی تقول “ یعنی وہ لوگ بدل ڈالتے ہیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے معاہدہ کیا تھا۔
(7) ابن ابی حاتم نے عثمان بن عطاء (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت ” واللہ یکتب ما یبیتون “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ بدل ڈالتے ہیں ان باتوں کو جو نبی ﷺ نے فرمائیں۔
Ayah 4:82(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” افلا یتدبرون القران “ سے مراد ہی کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ کے قول میں اختلاف نہیں ہوتا اور وہ حق ہوتا ہے اس میں باطل نہیں ہوتا اگرچہ لوگوں کے قول مختلف ہوتے ہیں۔
(3) ابن ابی حاتم نے عبد الرحمن بن زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن المنذر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے (یہ آیت) ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “ پڑھی اور فرمایا کہ اختلاف لوگوں کے دلوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔
(4) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں اس کا بعض (حصہ) بعض کو نہیں جھٹلاتا اور نہ اس کا بعض (حصہ) بعض کی تکذیب کرتا ہے جو لوگ اس کے حکم سے ناواقف ہوتے ہیں تو یہ ان کے عقلوں کی کوتاہی اور ان کی جہالت ہے اور (یہ آیت) پڑھی ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “ پھر فرمایا مومن پر یہ حق ہے کہ وہ یوں کہے ہر ایک (حکم) اللہ کی طرف سے ہے اور وہ ایمان لائے متشابہ آیات پر اور بعض آیات کو بعض کے ساتھ نہ ٹکرائے جب وہ کسی حکم سے جاہل ہو اور اس کو نہ جانتا ہو تو یوں کہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا حق ہے اور یہ پہچان لے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی کہ جس میں کوئی نقص ہو اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی حقیقت پر ایمان لائے جو اللہ کی طرف سے آئی۔
Ayah 4:83(1) عبد بن حمید ومسلم وابن ابی حاتم نے ابن عباس کے طریق سے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ نے اپنی بیویوں سے جدائی اختیار کرلی تو مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریان زمین پر مار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر زور سے آواز لگائی کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تو یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” واذا جاء ہم امر من الامن والخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ میں اس امر کا استنباط کرنے والا تھا۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا جاء ہم امر من الامن او الخوف اذاعوا بہ “ یعنی اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اس میں (خوب) کوشش کرتے ہیں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ یعنی اگر اسے رسول اللہ ﷺ اور صاحب امر لوگوں کے پاس لے جاتے تو وہ اسے جان لیتے۔
(3) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا جاء ہم امر من الامن اوالخوف اذاعوا بہ “ یہ حکم اخبار کے بارے میں جب کوئی لشکر مسلمانوں کا جنگ کے لئے جاتا تو لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے اور کہتے کہ مسلمانوں نے اتنے دشمنوں کو مار ڈالا اور دشمنوں نے فلاں فلاں مسلمان کو مار ڈالا تو آپ میں (باتوں کو) پھیلا دیتے نبی ﷺ کی طرف خبر دئیے بغیر ابن جریج نے کہا ابن عباس نے فرمایا کہ اذاعوا بہ یعنی اس کا اعلان کردیتے اور اس کو افشا کردیتے لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول “ اگر وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف معاملہ لوٹاتے یہاں تک کہ آپ خود اس بات کی خبر دیتے ” والی اولی الامر “ یعنی دین میں سمجھ رکھنے والے اور صاحب عقل لوگوں کو بتاتے۔
(4) ابن جریج وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا جاء ہم امر من الامن او الخوف “ یعنی جب ان کے پاس کوئی خبر آجاتی کہ وہ اپنے دشمن سے امن میں ہوگئے ہیں یا وہ ان سے ڈر رہے ہیں تو بات کو پھیلا دیتے یہاں تک کہ یہ بات ان کے دشمن کو بھی پہنچ جاتی لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول “ یعنی اگر وہ خاموش رہتے اور بات کو نبی ﷺ کی طرف لوٹا دیتے ” والی اولی الامر منہم “ اور اپنے امراء کی طرف پھیر دیتے یہاں تک کہ وہ خود بات کرتے لفظ آیت ” لعلمہ الزین یستنبطونہ منہم “ تو صاحب علم لوگ خبر کی حقیقت کو جان لیتے اور وہ لوگ خبر کا جانچ لیتے ہیں۔
(5) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” واذا جاء ہم امر “ سے اہل نفاق مراد ہیں۔
(6) ابن جریر نے ابو معاذ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(7) ابن زید (رح) سے لفظ آیت ” اذاعوا بہ “ یعنی وہ اس کو عام کردیتے ہیں اور فرمایا یہ لوگ جو خبر کو پھیلا دیتے ہیں یا تو منافق تھے یا کمزور مسلمان تھے۔
(8) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم “ یعنی اپنے علماء کی طرف۔
(9) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ الولاۃ (یعنی امیر) جو جنگ میں ان پر مقرر ہوتے ہیں وہ غوروفکر کرتے ہیں جب ان کے پاس کوئی خبر آتی ہے کہ وہ جھوٹ ہے یا سچ ہے۔
(10) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ سے مراد ہے کہ وہ اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس میں تجسس کرتے ہیں (کہ وہ خبر صحیح ہے یا غلط ہے) ۔
(11) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اس میں تجسس کرتے ہیں۔
(12) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لعلم الذین یستنبطونہ منہم “ یعنی وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی بات کیا تھی اور تم نے کیا سنا۔
(13) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید کے طریق سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ یعنی اولی الامر اس کی چھان بین کرلیتے ہیں اور یہ چیز ان کو پریشان کرتی ہے مگر تھوڑے لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن “۔
(14) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے معمر کے طریق سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا “ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تو تم سب کے سب شیطان کی اتباع کرتے اور اللہ کا یہ قول ” الا قلیلا “ یہ اس قول کے لئے ہے ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ مگر یہ لوگ تھوڑے ہیں حقیقت حال کو جاننے والے۔
(15) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن “ پر کلام ختم ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” الا قلیلا “ یعنی قلیل سے مراد مومن ہے۔
(16) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے کلام یوں ہے لفظ آیت ” اذاعوا بہ الا قلیلا منہم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لم ینج قلیل وکثیر “ (وہ سب اس خبر کو پھیلا دیتے ہیں مگر تھوڑے اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے اور نہ زیادہ نجات پاتے) ۔
(17) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا “ یہ نبی ﷺ کے صحابہ ہیں جو اپنے پاس سے شیطان کی باتوں میں کوئی بات بیان کردیتے تھے مگر ایک جماعت ان میں سے (ایسا نہیں کرتے تھے) ۔
Ayah 4:84(1) ابن سعد نے خالد بن معدان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اگر وہ لوگ نہ مانیں تو عربوں کی طرف وہ لوگ نہ مانیں تو قریش کی طرف اگر وہ لوگ نہ مانیں تو بنی ہاشم کی طرف اور وہ لوگ بھی نہ مانیں تو صرف اپنی ذات کی طرف۔
(2) احمد وابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے براء کو کہا ایک آدمی مشرکین پر ہتھیار اٹھاتا ہے کیا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا لفظ آیت ” فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک “ بلاشبہ یہ نفقہ کے بارے میں ہے۔
(3) ابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک وحرض المؤمنین “ نبی ﷺ پر نازل ہوئی تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا مجھے اپنے نے قتال کا حکم دیا ہے پس تم لڑو (کافروں سے) ۔
(4) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو سنان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وحرض المؤمنین “ سے مراد ہے ان کو نصیحت کیجئے۔
(5) ابن المنذر نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا خبردار کیا کوئی جنت کی تیاری کرنے والا ہے کیونکہ جنت ایسی چیز ہے اس جیسی کوئی شان والی چیز نہیں رب کعبہ کی قسم یہ چمکتا ہوا نور ہے جھومتا ریحانہ ہے۔ اور مضبوط محل ہے اور بہتی نہر ہے اور بہت پھل ہیں پکے ہوئے اور خوبصورت بیوی ہے کپڑوں کے بہت جوڑے ہیں ہمیشہ رہنے کے مقام ہیں اس میں خیر ہے تروتازگی ہے اور نعمت ہے اس میں اونچے گھر ہیں سلامتی والے خوبصورت صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں آپ نے فرمایا تم کہو انشاء اللہ پھر آپ نے جہاد کا ذکر فرمایا اس پر آمادہ فرمایا۔
(6) ابن ابی حاتم وابن عبد البر نے التمہید میں ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ان کو سنا کہ وہ اس کو یوں پڑھ رہے تھے لفظ آیت ” عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا “ سفیان نے فرمایا اور یہ اس طرح ابن مسعود کی قرات میں ہے یعنی ” عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا “۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ اشد باسا واشد تنکیلا “ سے مراد ہے سزا۔
Ayahs 4:85–86(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من یشفع شفاعۃ حسنۃ “ یعنی بعض لوگوں کی سفارش کرنا بعض کے لئے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا جو شخص کسی کے حق میں اچھے کام کی سفارش کرے گا تو اس کے لئے اجر ہوگا اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” من یشفع شفاعہ حسنۃ یکن لہ نصیب منھا “ اور ” یشفع “ نہیں فرمایا۔
خیر کے کام میں سفارش باعث اجر ہے
(3) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص اچھی سفارش کرے گا اس کے لئے اس وقت تک اجر لکھا جاتا رہے گا جب تک سفارش کی منفعت جاری رہتی ہے۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یکن لہ نصیب منھا “ میں نصیب سے مراد ہے حصہ اور کف سے مراد ہے گناہ۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی اور ربیع (رح) دونوں سے روایت کیا کہ ” کفل منھا “ سے حصہ مراد ہے۔
(6) ابن جریر نے ابن زہد (رح) سے روایت کیا کہ ” کفل “ اور ” نصیب “ کا معنی ایک ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یؤتکم کفلین من رحمتہ “
(7) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وکان اللہ علی کل شیء مقیتا “ میں مقیتا سے مراد ہے حفاظت کرنے والا۔
(8) ابوبکر بن الانباری نے الوقف والا بتداء میں و طبرانی نے الکبیر میں اور الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ہے۔ قادر اور مقتدر پوچھا گیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اجیحہ بن انصاری کا قول نہیں سنا۔
وذی ضغن کففت النفس عنہ وکنت علی مسا عتہ مقیتا
ترجمہ : کتنے ہی کینہ کرنے والے ہیں جن سے میں نے نفس کو روک لیا جبکہ میں تکلیف پہچانے پر قادر تھا۔
(9) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عیسیٰ بن یونس کے طریق سے اسماعیل سے اور انہوں نے ایک آدمی سے اور انہوں نے عبید اللہ بن رواحہ ؓ سے روایت کیا کہ آدمی نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وکان اللہ علی کل شیء مقیتا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے عمل کے مطابق اجر دیتا ہے۔
(10) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مقیتا “ کا معنی ہے شھیدا (گواہ) ” حسیبا “ (حساب لینے والا) ” حفیظا “ (حفاظت کرنے والا) ۔
(11) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کہ ” مقیتا “ کا معنی قادر (یعنی قدرت والا ) ۔
(12) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” المقیت “ سے مراد ہے ” القدیر “ (یعنی ہر کام پر قدرت رکھنے والا) ۔
(13) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” مقیت “ سے مراد رزاق (رزق دینے والا) ۔
Ayah 4:87سلام کا جواب دینا واجب ہے
(1) احمد نے الزھد میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے (حسن سند کے ساتھ) سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا السلام علیک یا رسول ورحمۃ اللہ ! آپ نے فرمایا وعیک السلام ورھمۃ اللہ وبرکاتہ پھر اور آدمی آیا اور کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کے پاس فلاں اور فلاں آیا انہوں نے آپ پر سلام کیا تو آپ نے ان دونوں کو زیادہ کلمات کے ساتھ جواب دیا آپ نے فرمایا تو نے ہمارے لئے کوئی چیز نہیں چھوڑی اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا “ فرمایا ہم نے انہی کلمات کو تجھ پر لوٹا دیا۔
(2) بخاری نے الادب المفرد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ مجلس میں تشریف فرما تھے اس نے کہا سلام علیک آپ نے فرمایا دس نیکیاں دوسرا آدمی گزرا تو اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے فرمایا بیس نیکیاں پھر تیسرا آدمی گزرا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا تیس نیکیاں (اس کو ملیں گیں) ۔
(3) بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کیا اور کہا السلام علیکم نبی ﷺ نے فرمایا دس نیکیاں دوسرا آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے فرمایا بیس نیکیاں تیسرا آیا تو اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں گی۔
سلام کے ہر لفظ پر دس نیکیاں ملتی ہیں
(4) بیہقی نے سہل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص السلام علیکم کہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے تیس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔
(5) احمد ودارمی وابو داؤد ترمذی نے اس کو حسن کہا و نسائی و بیہقی نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا السلام علیکم آپ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا (دس نیکیاں) پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا آپ نے فرمایا بیس پھر تیسرا آدمی آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا آپ نے فرمایا تیس نیکیاں۔
(6) ابو داؤد و بیہقی نے معاذ بن انس جہنی ؓ سے روا یت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور معنی میں روایت کیا اور وہ یہ الفاظ زیادہ کئے کہ پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ آپ نے فرمایا چالیس نیکیاں پھر فرمایا اسی طرح فضائل ہوتے ہیں۔
(7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا “ یعنی تم پر کوئی سلام کرے تو تو کہہ وعلیک السلام ورحمۃ اللہ یا جیسے اس نے کہا ویسے ہی کہہ دو ۔
(8) ابن جریر وابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا “ یہ سب (سلام) اہل اسلام میں ہیں۔
(9) بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی کسی کو سلام کرے تو اس کو لوٹا دو جیسے اس نے کہا اگر وہ کہتا ہے السلام علیکم تو اللہ کا بندہ کہے السلام علیکم۔
(10) بیہقی نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عروہ نے کہا کیا تو نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا کیونکہ سلام وبرکاتہ پر ختم ہوجاتا ہے۔
(11) بخاری نے الادب المفرد میں سالم (رح) سے روایت کیا کہ جو عبد اللہ بن عمر کے غلام تھے ابن عمر کو جب کوئی سلام کرتا تو آپ زیادہ الفاظ سے جواب دیتے میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا السلام علیکم تو انہوں نے فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ پھر میں دوسری مرتبہ آیا میں نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو انہوں نے فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پھر میں تیسری مرتبہ آیا تو میں نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وطیب صلواتہ۔
(12) بیہقی نے المبارک میں فضالہ کے طریق سے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فحیوا باحسن منھا “ کہ یعنی جب تیرا مسلمان بھائی تجھ کو سلام کرے اور کہے السلام علیک تو تو کہہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ لفظ آیت ” اور دوھا “ اگر تو اسے السلام علیک ورحمۃ اللہ نہیں کہتا تو وہی الفاظ اس پر لوٹا دے جیسے اس نے کہا السلام علیکم اور صرف وعلیک نہ کہہ۔
(13) ابن المنذر نے یونس بن عبید کے طریق سے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” باحسن منھا “ مسلمانوں کے لئے ہے ” اور دوھا “ اہل کتاب کے لئے ہے اور حسن نے فرمایا یہ احکام مسلمانوں کے لئے ہے۔
(14) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص تجھ پر سلام کرے اللہ کی مخلوق میں سے تو اس کو جواب دے دو اگرچہ وہ یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا “۔
(15) بخاری نے الادب المفرد میں ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون مجھے یہ کہتا کہ اللہ تجھ میں برکت دے تو میں بھی کہتا ہوں اور تجھ میں بھی اللہ تعالیٰ برکت دے۔
(16) بخاری نے الادب المفرد میں وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ سلام کرنا مستجب ہے اور جواب دینا فرض ہے۔
(17) ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں رکھا اسے باہم پھیلایا جب کوئی آدمی کسی قوم سے گزرے تو سلام کرے تو وہ لوگ اس کا جواب دیں سلام کرنے والے کو ایک درجہ فضیلت حاصل ہے کیونکہ اس نے ان کو سلام یاد دلایا۔ اگر وہ اسے جواب نہ دیں تو اسے وہ جواب دے گا جو ان میں سے بہتر اور افضل ہے۔
امام بخاری (رح) نے الادب المفرد میں ابن مسعود ؓ سے موقوف روایت نقل کی ہے۔
(18) بخاری نے الادب المفرد میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر رکھا آپس میں اس کو پھیلاؤ۔
(19) بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر رکھا۔ آپس میں پھیلاؤ۔
(20) بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اگر تو اس کی کثرت کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرے گا۔
” السلا “ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے
(21) ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا جب کوئی مسلمان کو سلام کرے تو اس پر لازم ہے کہ اس کا ذکر اچھے طریقے سے کرے۔
(22) ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں سلام کو پھیلاؤ کیونکہ یہ اہل جنت کا سلام ہے۔ جب کوئی آدمی کسی آدمی کسی آدمی پر گزرے تو ان پر سلام کرے تو اس کے لئے ان پر ایک درجہ ہوگا اگر وہ اس کو جواب دیں اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو ان سے بہتر مخلوق فرشتے اس کا جواب دیں گے۔
(23) الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ سلام کرنا اللہ کی امان ہے زمین میں۔
(24) الحکیم الترمذی نے ابو امامہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرے تو وہ افضل ہے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک۔
(25) بخاری نے الادب میں وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہود نے تم سے کسی چیز میں حسد نہیں کیا جو حس انہوں نے تم سے سلام اور آمین کے بارے میں کیا اور ابن مردویہ کے الفاظ یہ ہیں فرمایا کہ یہود حسد کرنے والی قوم ہے اور انہوں نے مسلمان پر سلام سے بڑھ کر کسی چیز سے حسد نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا میں عطا فرمایا اور وہ قیامت کے دن جنت والوں کا تحفہ ہے اور اسی طرح امام کے پیچھے آمین کہنے پر بھی انہوں نے حسد کیا۔
(26) البیہقی نے حارث بن شریح ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جب اس سے ملاقات کرے تو سلام کا اس طرح جواب دے جیسا اس نے سلام کیا یا اس سے بہتر کوئی کلمات کہے۔ جب کوئی اس سے مشورہ مانگے تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب وہ اس سے اپنے دشمنوں پر مدد مانگے تو مدد کرے اور جب وہ راستے کے بارے میں پوچھے تو اس کے لئے سہولت عطا کرے اور اس کے لئے وضاحت کر دے اور جب وہ کسی سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے کہے تو اس پر حملہ کرے اور جب وہ کسی مسلمان کے خلاف غارت گری کا مطالبہ کرے تو اس کی مدد نہ کرے اور جب وہ ڈھال مانگے تو اس کو عاریت پردے دے اور اس سے ماعون کو نہ روکے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی ! ماعون کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا عون میں پتھر پانی اور لوہا شامل ہے عرض کیا لوہا کونسا ہے ؟ فرمایا تانبے کی دیگچی، لوہے کا کلہاڑا، جس سے تم محنت مزدوری کرتے ہو پھر عرض کیا یہ پتھر کیا ہے فرمایا پتھر کی دیگچی۔
(27) البیہقی نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو مؤمن آپس میں ملیں تو ان دونوں میں سے ہر ایک سلام کرے اپنے ساتھ پر اور دونوں مصافحہ کریں ان دونوں پر سو رحمتیں نازل ہوں گی شروع کرنے والے کے لئے نوے اور مصافحہ کرنے والے کے لئے دس۔
(28) البیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ میں سے یہ بھی ہے کہ تو لوگوں کو ہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ سلام کرے۔
(29) الطبرانی اور بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے سلام کو ہماری امت کا سلام بنا دیا اور اہل ذمہ کے لئے امان بنا دیا۔
سلام کے اداب
(30) البیہقی نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا سوار پیدل چلنے کو سلام کرے اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور تھوڑے زیادہ پر اور چھوٹا بڑے پر سلام کرے اور جب کسی قوم پر گزرے تو ان میں سے ایک نے سلام کردیا تو ان سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا اور ایک بھی جواب دے دے تو ان سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
(31) حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور وہ دو سرخ کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کو جواب نہیں دیا۔
(32) البیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں خط کا جواب حق سمجھتا ہوں جس طرح تم سلام کا جواب حق خیال کرتے ہو۔
(34) ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا “ کہ تم (اس حکم کو) صرف سلام میں خیال کرتے ہو (حالانکہ) یہ ہر چیز میں ہے جو تیرے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کر اور اس کا بدلہ دو اگر کوئی چیز نہ پاؤ (جو بدلہ دے سکو) تو اس کے لئے دعا کرو یا اس کے بھائیوں کے پاس اس کی تعریف کرو۔
(35) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ کان علی کل شیء “ کہ اللہ تعالیٰ سلام اور دوسری چیزوں کا گواہ ہے۔
(36) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” حسیبا “ سے مراد ” حفیظا “ حفاظت کرنے والا۔
Ayahs 4:88–89(1) الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والبیہقی نے دلائل میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ احد کی طرف نکلے کچھ لوگ لوٹ آئے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ان کے بارے میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت وہ تھی جو کہتی تھی کہ ہم ان سے قتال کریں گے اور ایک جماعت کہتی تھی ہم قتال نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ اتاری رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ پاکیزہ شہر ہے اور یہ میل کچیل کو دور کردیتا ہے جیسا کہ آگ چاندی کی میل کو دور کردیتی ہے۔
(2) سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبد العزیز بن محمد کے طریق سے زید بن اسلم سے اور انہوں نے سعد بن معاذ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسہم بما کسبوا “ ہمارے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے خطبہ فرمایا جو مجھے اذیت دیتا ہے کون مجھے اس سے چھٹکارا دلائے گا اور کون اس کو روکے گا جو جمع کرتا ہے اپنے گھر میں مجھے اذیت دینے والوں کو۔ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور کہا اگر وہ ہم میں سے ہے تو ہم اس کو قتل کردیں گے اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج میں سے ہے آپ ہم کو حکم دیں گے تو ہم آپ کی اطاعت کریں گے سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہوئے اور کہا اے ابن معاذ تو منافق ہے تو منافقوں کو پسند کرتا ہے۔ محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگوں چپ ہوجاؤ ہمارے درمیان رسول اللہ موجود ہیں وہ ہم کو حکم دیں گے تو ہم آپ کے حکم کو نافذ کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین (الآیہ) ۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عون کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم مکہ میں تھی انہوں نے زبانی اسلام قبول کرلیا تھا جبکہ وہ مدد کرتے تھے مشرکین کی جب وہ لوگ مکہ سے نکلے اپنی جانب کے لئے تو کہنے لگے اگر ہم محمد ﷺ کے صحابہ سے ملے تو ہم کو ان سے کوئی خطرہ نہیں جب مؤمنین کو ان کے بارے میں خبر ملی کہ وہ مکہ سے نکل چکے ہیں تو ایمان والوں میں سے ایک جماعت نے کہا ان خبیث لوگوں کی طرف نکلو اور ان کو قتل کردو اس لئے کہ وہ تمہارے دشمن کی مدد کرتے ہیں اور ایمان والون میں سے ودسری جماعت نے کہا سبحان اللہ ! تم قتل کرو گے ایسی قوم کو کہ جنہوں نے وہی بات کی جو تم نے بات کی تم ان کو اس لئے قتل کرتے ہو کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھروں کو نہ چھوڑا تو تم حلال کرتے ہو ان کے خونوں کو اور ان کے مالوں کو اس طرح پھر صحابہ کی دو جماعتیں ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان موجود تھے آپ کیسی جماعت کو منع نہ کرتے تھے یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ سے لے کر ” حتی یھاجروا فی سبیل اللہ “ تک ! پھر فرمایا حتی کہ وہ کریں گے جیسا تم نے کہا ” فان تولوا “ اگر وہ ہجرت سے منہ پھیر لیں۔
منافقین کو مدینہ پسند نہیں
(4) احمد نے ایسی سند سے جس میں انقطاع ہے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ عرب میں سے ایک قوم رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آئی وہ مسلمان ہوگئے لیکن ان کو مدینہ منورہ میں وبا یعنی بخار لگ گیا تو وہ واپس لوٹے اور مدینہ سے نکل گئے صحابہ کی ایک جماعت ان کے سامنے آئی اور ان سے کہا تم کس لئے لوٹے ہو انہوں نے کہا ہم کو مدینہ کی وبا لگ گئی تو صحابہ نے کہا رسول اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لئے کوئی طریقہ موجود نہیں (کہ جس کی تم پیروی کرتے) ان کے بعض نے کہا یہ منافق ہوگئے اور بعض نے کہا منافق نہیں ہوئے یہ لوگ مسلمان ہیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “۔
(5) ابن ابی حاتم نے (وجہ آخر سے) عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگوں نے عرب کی جماعتوں میں سے ہجرت کی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک جماعت سے ملے انہوں نے ان کو پہچان لیا اور ان سے پوچھا کیوں لوٹ رہے ہو ؟ انہوں نے صحابہ کے سامنے عذر پیش کیا صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ان کے لئے کہ تم منافق ہوگئے یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ یہ بات ان میں پھیل گئی تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ سے وہ قوم مراد ہے جو مکہ سے نکلے اور مدینہ منورہ میں آئے وہ گمان کرتے تھے کہ وہ ہجرت کرنے والے ہیں پھر اس کے بعد دین سے پھرگئے انہوں نے نبی ﷺ سے اجازت لی مکہ کی طرف جانے کی تاکہ وہ اپنا سامان لے آئیں تجارت کریں ان کے بارے میں مومنین نے اختلاف کیا کچھ کہتے یہ منافق ہیں کچھ کہتے وہ مومن ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان فرمایا اور ان کو قتل کا حکم فرمایا وہ اپنا سامان لے آئے اس سے مراد بلال بن عویمر اسلمی لیتے اس کا محمد ﷺ سے معاہدہ تھا اور اس کا سینہ تنگ ہوگیا کہ مومنین کو قتل کرے یا اپنی قوم کو قتل کرے اس کا یہ طرز عمل اس چیز کو رد کردیتا ہے کہ وہ اس سے مراد حلال لیتے اور اس کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ تھا۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” فمالم فی المنفقین فئتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ قریش میں سے دو آدمی تھے اور یہ دونوں مکہ میں قریش کے ساتھ رہتے تھے اور انہوں نے زبانی اسلام قبول کرلیا تھا اور نبی ﷺ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ چلے اور وہ مکہ کی طرف جارہے تھے بعض صحابہ نے کہا ان کے خون اور ان کے مال حلال ہیں اور بعض نے کہا تمہارے لئے حلال نہیں ہیں ان میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” فمالکم فی المنفقین فئتین “ یہاں تک پہنچے ” قومہم ولو شاء اللہ لسلطہم علیکم فلقتلوکم “۔
(8) ابن جریر نے معمر بن راشد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے مکہ والوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کو لکھا کہ وہ اسلام لے آئے یا ان کی طرف سے جھوٹ تھا صحابہ کرام ان سے ملے تو ان کے بارے میں اختلاف کیا ایک جماعت نے کہا ان کے خون حلال ہیں اور ایک جماعت نے کہا ان کے خون حرام ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” فما لکم فی المنفقین فئتین “
(9) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ تھے جو اللہ کے نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور یہ لوگ مکہ میں ٹھہر گئے اور ایمان کا اعلان کیا مگر ہجرت نہ کی تو ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے اختلاف کیا رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے ان سے دوستی کی اور کچھ صحابہ نے ان کو دوستی سے برات کا اظہار کیا اور کہنے لگے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہے اور ہجرت بھی نہیں کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو منافقین کہا ہے اور ایمان والے ان کی مدد سے آزاد ہوگئے اور ان کو حکم دیا کہ تم ان سے دوستی نہ کرو حتی کہ وہ ہجرت نہ کریں۔
(10) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ سے نکلنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے مومنین سے کہا ہم مدینہ میں بیمار ہوگئے ہیں اور ہمارے پیٹ خراب ہوگئے ہیں شاید ہم کھلی فضا کی طرف نکل جائیں تو ٹھیک ہوجائیں تو پھر ہم واپس آجائیں گے بلاشبہ ہم جنگلوں میں رہنے والے ہیں وہ لوگ چلے گئے تو ان کے بارے میں نبی ﷺ کے اصحاب میں اختلاف ہوا۔ ایک جماعت نے کہا یہ اللہ کے دشمن منافق ہیں اور ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو اجازت دیں تو ہم ان سے جنگ کریں دوسری جماعت نے کہا نہیں ! بلکہ یہ ہمارے بھائی ہیں مدینہ منورہ کی آب وہوا نے ان کے پیٹ خراب کر دئیے ہیں تو وہ بیمار ہوگئے ہیں وہ کھلی فضا کی طرف نکل گئے جب ٹھیک ہوگئے تو واپس لوٹ آئیں گے اللہ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “۔
(11) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے مشرکوں سے مال لیا اور یمامہ کی طرف سے تجارت کرنے کے لئے گئے ان کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا ایک جماعت نے کہا اگر ہم ان سے ملے تو ہم ان کو قتل کردیں گے اور جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے وہ لے لیں گے اور ان کے بعض لوگوں نے کہا تمہارے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے تمہارے بھائی ہیں جو تجارت کے لئے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “۔
(12) ابن جریر نے ابن وھب کے طریق سے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (منافق) ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اس نے حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں نازیبا باتیں کی تھیں تو اس کے قول کی طرف (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” فلا تتخذوا منہم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ “ سعد بن معاذ نے فرمایا کہ میں اس کی دوستی سے اللہ اور اس کے رسول کی جانب برات کا اظہار کرتا ہوں وہ اس بات سے عبد اللہ بن ابی سلول کا ارادہ کررہے تھے۔
(13) ابن ابی حاتم نے زید بن عبد الرحمن بن زید بن اسلم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اس آدمی کے بارے میں تم کیا جانتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے درمیان ذلیل ورسوا ہوا ہو اور رسول اللہ ﷺ کے اہل و عیال کے بارے میں بری باتیں کہتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کو (یعنی عائشہ ؓ کو) بری کردیا۔ پھر اس کو پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے عائشہ ؓ کی برات کے بارے میں نازل فرمایا۔ اور اسی بارے میں قرآن نازل ہوا۔ لفظ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ (الآیہ) اس آیت کے بعد کوئی بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
(14) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ ارکسہم “ سے مراد ہے کہ اللہ ان کو گرا دیتا ہے۔
(15) ابن جریر وابن المنذر نے عطا خراسانی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ارکسہم “ یعنی اللہ نے ان کو رد کردیا۔
(16) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” ارکسہم “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جہنم میں قید کردیں پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کا یہ شعر نہیں سنا۔
ارکسوا فی جھنم انہم کانوا عتاۃ یقولوا امینا وکذبا وزورا
ترجمہ : ان کو محبوس کردیا گیا جہنم میں یقیناً وہ سرکش تھے کہ بکواس جھوٹ موٹ کہا کرتے تھے۔
(17) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کہ لفظ آیت ” ارکسہم بما کسبوا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کے بدلے ان کو ہلاک کردیا۔
(18) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ارکسہم “ یعنی (اللہ نے) ان کو گمراہ کردیا۔
Ayah 4:90(1) ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ سراقہ بن مالک مدلجی نے ان کو بیان کیا کہ جب نبی ﷺ بدر اور احد والوں پر غالب ہوگئے اور مدینہ کے ارد گرد کے لوگ بھی مسلمان ہوگئے تو سراقہ نے کہا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ خالد بن ولید ؓ کو میری قوم بنوں مدلج کی طرف بھیج رہے ہیں میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ کو نعمت کی قسم دیتا ہوں صحابہ نے کہا کہ آپ رک جائیں آپ نے فرمایا ان کو بلا لو وہ کیا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جبکہ میں چاہتا ہوں آپ انہیں اس حال میں رہنے دیں اگر آپ ان کی قوم مسلمان ہوگئی تو وہ بھی مسلمان ہوجائیں گے اور اسلام میں داخل ہوجائیں اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو آپ ان پر اپنی قوم کے دلوں کی وجہ سے سخت نہ ہوں گے رسول اللہ ﷺ نے خالد کا ہاتھ پکڑا ور فرمایا اس کے ساتھ جاؤ تو ایسا ہی کرو جو وہ چاہتا ہے تو خالد نے ان سے صلح کرلی اس بات پر کہ وہ رسول اللہ ﷺ نے خالد کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اس کے ساتھ جاؤ تو ایسا ہی کرو جو وہ چاہتا ہے تو خالد نے ان سے صلح کرلی اس بات پر کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کریں گے اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوجائیں گے اور جو لوگ مدلج کے ساتھ ملیں گے تو وہ بھی ان کے عہد میں شامل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ودوا لو تکفرون “ سے لے کر ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینہم میثاق “ تک پس جو آدمی ان کی طرف ملتا تھا تو وہ بھی ان کے ساتھ ان کے عہد میں ہوتا تھا۔
عہد شکنی اسلام میں حرام ہے
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینہم میثاق “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ اپنے کفر کو ظاہر کریں تو ان کو قتل کر دو جہاں ان کو پاؤ اگر کوئی ان میں سے ایسی قوم میں داخل ہوجائے کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو ان کو پناہ دو جیسے کہ تم نے اہل ذمہ کو پناہ دی۔
(3) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو منسوخ کردیا سورة براۃ کی آیت ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم “ نے۔
(4) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حصرت صدورہم “ یعنی ان کے سینے تنگ ہوگئے۔
(6) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” حصرت صدورہم “ یعنی ان کے دل نفرت کرتے ہیں۔
(7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ ” والقوا الیکم السلم “ یعنی صلح۔
(8) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان اعتزلوکم “ (اس حکم کو) منسوخ کردیا سورة توبہ کی آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم “ نے۔
(9) ابن جریر نے حسن اور عکرمہ رحمۃ اللہ علیہما دونوں حضرات سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت (کے حکم) کو براہ والی آیت نے منسوخ کردیا۔
Ayah 4:91(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ستجدون اخرین “ کے بارے میں روایت کیا کہ کہ والوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور وہ دکھاوے کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے پھر قریش کی طرف لوٹ جاتے تھے اور بتوں کی عبادت شروع کردیتے اس سے وہ یہ ارادہ کرتے تھے کہ یہاں بھی امن سے رہیں اور وہ ان بھی امن سے رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا اگر وہ (بتوں کو) نہ چھوڑیں اور وہ (مسلمانوں سے) صلح نہ کریں تو ان سے جنگ کرو۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم کلما ردوا الی الفتنۃ ارکسوا فیھا “ سے مراد ہے جب بھی وہ فتنہ سے نکلنے کا ارادہ کرتے تھے تو پھر اس میں لئے منہ گرپڑتے ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے ایک آدمی کو پایا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے کا دعوی کرتا پھر وہ مکڑی اور پتھر اور بچھو اور گبریلے کی طرف دیکھے تو مشرک اس مسلمان سے کہتے تو کہہ دے یہ گبریلا اور بچھو میرا رب ہے۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے ” ستجدون اخرین “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ ایک قبیلہ تہامہ میں تھا انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ہم آپ سے قتال نہیں کریں گے اور نہ اپنی قوم سے قتال کریں گے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اللہ کے نبی سے امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کا انکار فرمایا اور فرمایا لفظ آیت ” کلما ردوا الی الفتنۃ ارکسوا فیھا “ یعنی جب بھی ان کی کوئی آزمائش سامنے آتی ہے تو وہ اس میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر انہوں نے نعیم بن مسعود اشجعی کا ذکر فرمایا کہ وہ امان سے تھا مسلمانوں میں اور مشرکوں میں کیونکہ وہ سفارت کا کام کر رہا تھا نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم کلما ردوا الی الفتنۃ “ یعنی شرک کی طرف۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابوا لعالیہ (رح) سے ” کلما ردوا الی الفتنۃ ارکسوا فیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب بھی ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا تو اس میں اوندھے منہ گرپڑتے تھے۔