Ayah 4:94(1) عبد الرزاق و سعید بن منصور، عبد بن حمید و بخاری و نسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک آدمی سے ملے جس کے پاس اپنی بکریاں تھیں اس نے کہا السلام علیکم انہوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریوں کو لے لیا۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “ سے لے کر ” عرض الحیوۃ الدنیا “ تک فرمایا اس سے مراد مال غنیمت ہے ابن عباس نے السلام پڑھا ہے۔
(2) ابن ابی شیبہ واحمد و طبرانی اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وعبد بن حمید (نے اس کو صحیح کہا) وابن جریر وابن المنذر وحاکم نے (اس کو صحیح کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی بنو سلیم میں سے نبی ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا وہ اپنی بکریوں کو ہانک رہا تھا اس نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہم کو اس لئے سلام کر رہا ہے تاکہ ہم سے بچ جائے انہوں نے اس کو قتل کردیا اور نبی ﷺ کے پاس غنیمت کا مال لے آئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم “۔
بلا تحقیق کوئی فیصلہ کرنا بڑا گناہ ہے
(3) ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد وابن جریر و طبرانی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نعیم و بیہقی دونوں نے دلائل میں عبد اللہ بن ابی سلول حدرد اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے اصنم (ایک جگہ کا نام) کی طرف بھیجا میں بھی مسلمانوں کی اس جماعت میں نکلا کہ ان میں حرث بن ربعی، ابو قتادہ اور محلم بن جثامہ بن قیس اللیثی بھی تھے ہم نکلے یہاں تک کہ ہم بطن اصم میں تھے تو ہمارے ساتھ عامر بن اصبط اشجعی اپنی سواری پر گزرا اس کے ساتھ اپنا سامان اور ایک دو دھ کا برتن بھی تھا۔ جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو ہم کو اس نے سلام کیا ہم اس سے رک گئے اور محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کردیا کسی باہمی ناراضگی کی وجہ سے جو اس کے اور اس کے درمیان تھی اور اس کو قتل کردیا اور اس کا اونٹ اور اس کا سامان لے لیا جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور ان کو یہ خبر سنائی تو ہمارے بارے میں یہ قرآن نازل ہوا۔ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔
(4) ابن اسحاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبغوی نے اپنی معجم میں یزید بن عبد اللہ بن قسیط کے طریق سے ابو حدرد اسلمی ؓ نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اس کو قتل کردیا اس کے کہنے کے بعد کہ اللہ پر ایمان لے آیا تو قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
(5) ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے محلم بن جثامہ کو ایک لشکر میں بھیجا ان کو عامر بن اضبط ملا اس نے اسلام کے مطابق ان کو سلام کیا اور جاہلیت کے زمانہ میں ان کے درمیان کوئی رنجش تھی محلم نے عامر کو تیر مارا اور اس کو قتل کردیا یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی محلم دو چادروں میں آئے اور نبی ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے تاکہ ان کے لئے استغفار کریں آپ نے فرمایا اللہ تجھے نہ بخشے وہ کھڑا ہوگیا اور اس کے آنسوں اس کی چادر پر گر رہے تھے کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ مرگیا لوگوں نے اسے دفن کیا زمین نے اس کو باہر پھینک دیا لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا آپ نے فرمایا بلاشبہ زمین قبول کرلیتی ہے جو اس تمہارے ساتھ سے بھی زیادہ برا ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو نصیحت کرنے کا ارادہ فرمایا ہے پھر اس کو پہاڑ میں پھینک دیا گیا اس پتھر ڈال دئیے گئے یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم “ (الآیہ) ۔
(6) البزار ودارقطنی نے الافراد میں اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا جس میں مقداد بن اسود بھی تھے جب وہ دشمن قول کے پاس آئے تو ان کو اس حال میں پایا کہ وہ سب لوگ بھاگ چکے تھے صرف ایک آدمی باقی تھا جس کے پاس بہت مال تھا وہ اپنی بستی ہی میں رہا اس نے کہا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ مقداد ؓ اس کی طرف جھکے اور اس کو قتل کردیا ان کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا کیا تو نے ایسے آدمی کو قتل کردیا جس نے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دی ؟ اللہ کی قسم میں ضرور اس بات کو نبی ﷺ سے ذکر کروں گا جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک آدمی نے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دی مگر مقداد نے اس کو قتل کردیا آپ نے فرمایا مقداد کو میرے پاس بلاؤ (جب وہ آئے) تو آپ نے اس سے فرمایا کیا تو نے ایسے آدمی کو قتل کردیا جو ” لا الہ الا اللہ “ کہتا تھا کل قیامت کے دن کو ” لا الہ الا اللہ “ کا کیا جواب دے گا اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ “ سے لے کر ” کذلک کنتم من قبل “ تک رسول اللہ ﷺ نے مقداد سے فرمایا وہ آدمی مومن تھا کفار قوم کے ساتھ تھے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے پھر اس نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا تو اس کو تو نے قتل کردیا اور اسی طرھ تم بھی اس سے پہلے مکہ میں اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔
(7) ابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم “ مرد اس کے بارے میں نازل ہوئی۔
(8) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی جو اسلام کا اظہار کرتا تھا اور اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا تھا اور وہ اپنی قوم میں رہتا تھا جب رسول اللہ ﷺ کا لشکر آیا تو اپنی قوم کو اس کی خبر دیتا تو وہ آدمی وہی ٹھہرا رہتا اور مومنین سے نہ ڈرتا کیونکہ وہ ان کے دین پر تھا یہاں تک کہ جب وہ ایمان والوں سے ملتا تو ان کو سلام کرتا صحابہ کہنے لگے کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ اس نے سلام کیا تھا مگر انہوں نے اس کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “ سے لے کر ” تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا “ تک یعنی تم نے اس کو قتل کیا اس ارادے سے کہ تمہارے لئے وہ مال حلال ہوجائے گا جو تم نے اس کے پاس پایا تھا اور یہ دنیا کا سامان ہے جبکہ میرے پاس غنیمتیں بہت ہیں اور اللہ کے فضل کو تلاش کرو اور وہ آدمی جس کا نام مرداس تھا اس کی قول لشکر کی وجہ سے بھاگ گئی جو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اس لشکر میں بنو لیث کا ایک آدمی تھا اس کا نام قلیب تھا یہاں تک کہ جب وہ گھوڑا سوار پہنچے تو اس نے ان پر سلام کیا مگر انہوں نے اس کو قتل کردیا رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر والوں کو دیت دینے کا حکم فرمایا اور اس کا مال ان کی لوٹا دیا اور مومنین کو ایسا کرنے سے منع کردیا گیا۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حدیث مرداس کے بارے میں جو غطفان میں سے ایک آدمی تھا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک لشکر بھیجا ان پر غالب لیثی امیر تھے فدک والوں کی طرف سے اور اس کے ساتھ کچھ لوگ غطفان والوں میں سے تھے اور مرداس ان میں سے تھا اس کے ساتھی بھاگ گئے تو مرداس نے کہا میں مومن ہوں اور تمہارے دین پر ہوں صبح سویرے جب گھوڑا سوار پہنچے اور اس سے ملے تو اس نے ان کو سلام کیا لیکن نبی ﷺ کے صحابہ ؓ نے اس کو قتل کردیا اور جو سامان اس کے پاس تھا اس کو لے لیا اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “ اس لئے کہ مسلمان کا تحفہ سلام ہے اس کے ساتھ وہ پہنچانے جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ مسلمان ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔
ایک کلمہ گو کا قتل بڑا گناہ ہے
(10) ابن جریر نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا بنو ضمرہ کی طرف اس پر اسامہ بن زید امیر تھے ان میں سے وہ ایک آدمی کو ملے جس کو مرد اس بن ٹھیک کہا جاتا تھا اس کے پاس بکریاں تھیں اور سرخ تھا جب اس نے ان کو دیکھا تو ایک پہاڑ کی غار میں چھپ گیا اسامہ اس کے پیچھے لگے جب مرداس تک پہنچا تو اس نے اپنی بکریاں اس میں چھوڑ دیں اور صحابہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا السلام علیکم میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اسامہ نے اس پر حملہ کردیا اور اس کے اونٹ اور اس کی بکریوں کی وجہ سے اس کو قتل کردیا اور نبی ﷺ جب اسامہ ؓ کو بھیجتے تو اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ اسامہ ؓ کی تعریف کی جائے اور اس کے ساتھیوں سے اس کے بارے میں پوچھتے جب یہ لوگ واپس لوٹے تو آپ نے ان لوگوں سے اس (یعنی اسامہ) کے بارے میں نہ پوچھا تو لوگوں (یعنی ان کے ساتھیوں نے) نبی ﷺ کو یہ بتانا شروع کیا اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ اسامہ کو اس وقت دیکھتے جبکہ ان کو ایک آدمی نے کہا : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (لیکن) اسامہ نے اس پر حملہ کردیا اور اس کو قتل کردیا جبکہ رسول اللہ ﷺ ان صحابہ سے اعراض کر رہے تھے جب انہوں نے زیادہ باتیں کیں تو آپ نے اسامہ کی طرف سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تیرا اور لا الہ الا اللہ کا کیا معاملہ ہوگا ؟ اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے یہ جملہ جان بچان کے لئے کہا کہ وہ اس کے ساتھ بچ جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل کو کیوں نہیں چیر لیا تاکہ تو دیکھ لیتا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور خبر دی کہ انہوں نے اس کو اس کے اونٹ اور اس کی بکریوں کی وجہ سے قتل کیا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ اسامہ نے قسم اٹھائی کہ وہ آئندہ کسی آدمی کو قتل نہیں کرے گا جو لا الہ الا اللہ کہے گا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد انہوں نے یہ رویہ نہ دیکھا۔
(11) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ کے صحابہ راستہ تلاش کر رہے تھے دشمن میں سے کچھ لوگوں سے ملے صحابہ نے ان پر حملہ کیا اور ان کو شکست دی ان میں سے ایک آدمی بھاگ کھڑا ہوا تو ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا جو اس کے سامان کا ارادہ رکھتا تھا۔ جب اس کو نیزہ گھونپ دیا پھر اس کو قتل کردیا اور اس کا سامان لے لیا یہ بات رسول اللہ ﷺ کی طرف لے جائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے قاتل سے فرمایا تو نے اس کو قتل کردیا بعد اس کے کہ اس نے کہا میں مسلمان ہوں ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اس نے صرف جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا آپ نے فرمایا کہ تو نے اس کے دل کیوں نہیں چیر لیا اس نے کہا کس لئے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تاکہ تو جان لیتا کہ وہ سچ بولنا والا تھا یا جھوٹ بولنے والا تھا اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں اس بات کو جان سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی زبان بتارہی تھی۔ راوی نے کہا کچھ دنوں کے بعد قاتل مرگیا اس کے ساتھیوں نے اس کے لئے قبر کھودی (تاکہ اس کو دفن کیا جائے) تو قبر نے اسے باہر پھینک دیا پھر انہوں نے دوبارہ دفن کیا پھر وہ صبح کو کیا دیکھتے ہیں کہ زمین نے اسے قبر سے باہر ایک جانب پھینک دیا ہے حسن (رح) نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کو کتنی مرتبہ دفن کیا دو یا تین مرتبہ ہر دفعہ زمین نے اس کو قبول نہ کیا جب ہم نے دیکھا کہ زمین اس کو قبول نہیں کرتی تو ہم نے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر اس کو پہاڑ کی گھاٹی میں پھینک دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “ حسن (رح) نے فرمایا اللہ کی قسم اس سے بھی زیادہ شریر لوگوں کو زمین چھپا لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قوم کو یہ نصیحت فرمائی کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
(12) عبد الرزاق وابن جریر نے معمر کے طریق سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “ کے بارے میں روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے مشرکین میں سے ایک آدمی پر حملہ کیا تو مشرک نے اس سے کہا میں مسلمان ہوں لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوں اس کے کہنے کے بعد بھی مسلمان نے اس کو قتل کردیا یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس سے فرمایا جس نے قتل کیا تھا کیا تو نے اس کو قتل کردیا حالانکہ اس نے لا الہ الا اللہ کہا تھا قاتل نے معذرت کرتے ہوئے کہا اے اللہ کے نبی اس نے صرف بچاؤ کے لئے کہا تھا حقیقت میں اس نے کلمہ نہیں پڑھا تھا نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا تھا پھر وہ قاتل مرگیا اور دفن کردیا گیا (لیکن) زمین نے اس کو باہر پھینک دیا یہ بات نبی ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے اس کو دفن کرنے کا حکم فرمایا پھر اس کو زمین نے باہر پھینک دیا حتی کہ یہ معاملہ تین دفعہ ہوا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ زمین نے اس کو قبول کردیا اس کو ایک غار میں ڈال دو معمر نے کہا کہ ان میں سے بعض صحابہ نے فرمایا کہ زمین اس سے زیادہ شریر لوگوں کو قبول کرلیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس کو عبرت بنا دیا۔
(13) ابن جریر نے ابو الاضحی کے طریق سے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت ایک مشرک آدمی سے ملے اور اس کے پاس بکریاں تھیں اس نے کہا السلام علیکم میں مومن ہوں انہوں نے یہ سمجھا کہ اس سے بچاؤ کر رہا ہے اس کو قتل کردیا اور اس کا ریوڑ لے لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) اتار دی لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا “ یعنی مال کو (تم نے طلب کیا) ۔
(14) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ مقداد بن اسود ؓ ایک لشکر میں گئے جس کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کے پاس اپنی بکریاں تھیں اس نے کہا میں مسلمان ہوں ابن اسود نے اس کو قتل کردیا جب وہ واپس آئے تو نبی ﷺ کو یہ بات بتائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا “ یہاں عرض سے مراد مال غنیمت ہے۔
(15) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو ابو درداء نے قتل کردیا تھا پھر اس طرح کا واقعہ ذکر کیا جس طرح کا واقعہ اسامہ بن زید کے بارے میں ذکر کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطئا “ یہاں تک پہنچے ” ان اللہ کان بما تعلمون خبیرا “۔
(16) عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک بکری چرانے والے سے مومنین کی ایک جماعت ملی انہوں نے اس کو قتل کیا۔ اور اس کے ساتھ جو مال تھا وہ بھی لے لیا اور انہوں نے اس سے ” السلام علیکم انی مؤمن “ کو قبول نہیں کیا۔
(17) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین پر یہ حرام کردیا جیسا کہ ان پر مردار کو حرام کردیا کہ یوں نہیں کہیں کہ جو آدمی لا الہ الا اللہ کی گواہی دے اس کو کہو تو مومن نہیں ہے۔ پس وہ اپنے مال اور خون کے بارے میں محفوظ ہے اس کا قول رد نہ کرو۔
(18) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابو رجاء والحسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم “ سین کے کسرہ کے ساتھ۔
(19) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مجاہد اور ابو عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ دونوں ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم “ پڑھتے تھے۔
(20) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” کذلک کنتم من قبل “ سے مراد ہے کہ تم بھی تو اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے جیسے اس گڈریا نے اپنے ایمان کو چھپایا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے تم اپنے ایمان کو مشرکین سے چھپایا کرتے تھے ” فمن اللہ علیکم “ پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا کہ تم نے اسلام کو ظاہر کیا اور اپنے ایمان کا اعلان کیا ” فتبینوا “ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو دفعہ وعید ہے۔
(21) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے ” کذلک کنتم من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم بھی تو کافر تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر اسلام کے ذریعہ سے احسان فرمایا اور اس کی تم کو ہدایت دی۔
(22) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ ” کذلک کنتم من قبل “ سے مراد ہے تم بھی (پہلے) مومن نہیں تھے۔
(23) عبد بن حمید نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہذیل میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔
(24) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ ” فتبینوا “ یاء کے ساتھ پڑھا۔
(25) ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابو داؤد و نسائی نے اسامہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا ہم صبح کے وقت جہینہ قبیلہ کے مضافات میں پہنچے میں نے ایک آدمی کو پایا اس نے کہا لا الہ الا اللہ میں نے اس کو نیزہ مارا (اور قتل کردیا) میرے دل میں کوئی بات واقع ہوئی تو میں نے اس کو نبی ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اس نے لا الہ الا اللہ کہا اور تو نے اس کو قتل کردیا میں نے کہا یا رسول ! اس نے ہتھیار سے ڈر کر ایسا کہا آپ نے فرمایا کہ تو اس کے دل کو چیر کو دیکھ لیتا یہاں تک کہ اس کے کہنے کو جان لیتا کہ اس نے دل سے کہا یا نہیں آپ برابر اس بات کو فرماتے رہے حتی کہ میں نے یہ تمنا کی میں آج کے دن ہی مسلمان ہوا ہوتا۔
دل چیر کر کیوں نہ دیکھا ؟
(26) ابن سعد نے جعفر بن یرقان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اہل یمانہ میں سے ایک حضرمی آدمی نے یہ بیان کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسامہ بن زید کو ایک لشکر پر امیر بنا کر بھیجا اسامہ نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو یہ بات بتائی کہ جب قوم شکست کھا گئی تو میں نے ایک آدمی کو گھیر لیا اور میں نے نیزہ مارنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا لا الہ الا اللہ میں نے اس کو نیزہ مارا اور قتل کردیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ تبدیل ہوگیا اور فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے اسامہ تیرا کیا حال ہوگا لا الہ الا اللہ کے مقابلہ میں افسوس ہے تجھ پر اے اسامہ ! تیرا کیا حال ہوگا کہ لا الہ الا اللہ والے مقابلے میں آپ برابر یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ میں ہر عمل سے نکل چکا ہوں جو میں نے کئے اور میں آج کے دن نئے سرے سے اسلام لایا ہوں اللہ کی قسم ! اب میں کسی لا الہ الا اللہ کہنے والے کو قتل نہیں کروں گا بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سن لی۔
(27) ابن سعد نے ابراہیم تیمی (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اسامہ بن زید ؓ نے فرمایا میں لا الہ الا اللہ کہنے والے کو کبھی قتل نہیں کروں گا سعد بن مالک میں فرمایا اللہ کی قسم ! میں کبھی کسی لا الہ الا اللہ کہنے والے آدمی کو قتل نہیں کروں گا ان دونوں کو ایک آدمی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ “ (البقرہ آیت 93) دونوں نے کہا ہم نے قتال کیا یہاں تک کہ فتنہ نہیں رہا اور سارا دین اللہ کے لئے ہوگیا۔
(28) ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد نسائی نے عقبہ بن مالک لیثی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا لشکر میں سے ایک مجاہد نے تلوار کو سونتتے ہوئے ایک آدمی کے پیچھے لگ گیا دشمن کے بھاگنے والے آدمی نے کہا میں مسلمان ہوں اس نے جو کہا مجاہد نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اس کو قتل کردیا یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ نے اس بارے میں سخت بات فرمائی قاتل کو یہ بات پہنچی تو اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک اس قاتل نے کہا اللہ کی قسم اس نے قتل سے بچنے کے لئے یہ بات کہی تھی رسول اللہ ﷺ نے اس سے اس طرف کے لوگوں سے منہ پھیرلیا اور آپ خطبہ ارشاد فرماتے رہے پھر اس قاتل نے کہا کہ اس نے قتل سے بچنے کے لئے یہ بات کہی تھی آپ نے اس سے اس طرف کے لوگوں سے منہ پھیرلیا اور اپنا خطبہ ارشاد فرماتے رہے پھر اس نے صبر نہیں کیا اور تیسری مرتبہ وہی کہا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! اس نے قتل سے بچنے کے لئے یہ بات کہی تھی رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرہ مبارک میں ناراضگی کے آثار پہچانے جاتے تھے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے (اس کی توبہ قبول کرنے پر) انکار فرمایا ہے اس شخص کے لئے جو کسی مومن کو قتل کر دے تین مرتبہ آپ نے ایسا فرمایا۔
(29) شافعی وابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابو داؤد اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مقداد بن اسود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ بتائیے اگر میں اور مشرکین میں سے ایک آدمی آپس میں لڑیں اور وہ میرا ہاتھ کاٹ دیں اور جب میں اس پر تلوار کو اونچا کروں تو وہ کہہ دے لا الہ الا اللہ اس کو ماروں یا چھوڑدوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو میں نے عرض کیا اس نے میرا ہاتھ کاٹا (اس سے بدلہ نہ لوں) آپ نے فرمایا اگر تو اس کو مارے گا اس کے کلمہ کہنے کے بعد تو وہ تیری حالت جیسا ہوجائے گا پہلے اس سے کہ تو اس کو قتل کرے اور تو اس کی اس حالت جیسا ہوجائے گا جو اس کی تھی پہلے بھی اس کلمہ کے کہنے سے پہلے۔
(30) الطبرانی نے جندب بجلی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا آپ کے لشکر میں سے ایک خوشخبری دینے والا آیا اس نے آپ کو لشکر کے لئے اللہ کی مدد اور اس کی فتح کے بارے میں خبر دی۔ کہ اس نے ان کو فتح عطا فرمائی اس نے کہا یا رسول اللہ ! اس درمیان کہ ہم قوم کا پیچھا کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی تھی کہ میں نے تلوار لے کر ایک آدمی کا پیچھا کیا جب وہ ڈرا کہ تلوار اس پر واقع ہونے والی ہے تو وہ ڈرتے ہوئے کہنے لگا میں مسلمان ہوں بیشک میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا تو نے اس کو قتل کردیا ؟ میں عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے اپنا بچاؤ کرنا چاہا۔ آپ نے فرمایا تو اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا کہ وہ سچ بولنے والا ہے یا جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس نے کہا آپ نے فرمایا تو اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا کہ وہ سچ بولنے والا ہے یا جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس نے کہا آپ نے فرمایا تو اس کا دل کیوں نہیں چیز لیا کہ وہ سچ بولنے والا ہے یا جھوٹ بولنے والا ہے اس نے کہا اگر میں اس کے دل کو چیر لیتا تو بھی مجھے کوئی علم نہ ہوتا کیونکہ اس کا دل گوشت کا ایک لوتھڑا ہے آپ نے فرمایا نہ تو اس کے دل کی بات کو جانتا ہے اور نہ ہی تو اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے استغفار کیجئے آپ نے فرمایا میں تیرے لئے استغفار نہیں کروں گا وہ آدمی (یعنی قاتل) مرگیا اس کو دفن کیا تو صبح کو وہ زمین پر پڑا ہوا تھا پھر انہوں نے اس کو دفن کیا پھر صبح کو وہ زمین پر پڑا ہوا تھا تین مرتبہ ایسا ہوا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو شرمندہ ہوئے اور اس کی مصیبت سے رنجیدہ ہوئے انہوں نے اس کی لاش کو اٹھایا اور اس کو ایک گھاٹی میں ڈال دیا۔
Ayahs 4:95–96(1) ابن سعد وعبد بن حمید و بخاری و ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے مصاحف میں والبغوی نے اپنی معجم میں والبیہقی نے اپنی سنن میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “ نازل ہوئی تو نبی نے فرمایا فلان کو بلاؤ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے زید کو بلاؤ وہ آئے اور ان کے ساتھ ایک دوات ایک تختی اور ایک کندھا تھا آپ نے فرمایا لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ نبی اکرم ﷺ نے ابن ام کلثوم کو اپنا نائب بنایا انہوں نے عرض کیا رسول اللہ ! میں نابینا ہوں تو اس کی جگہ یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “۔
معذورین پر جہاد فرض نہیں
(2) ابن سعد واحمد وعبد بن حمید و بخاری ابو داؤد و ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابو نعیم نے دلائل میں والبیہقی نے ابن شہاب (رح) کے طریق سے فرمایا کہ مجھ کو سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ مروان بن حکم نے ان کو بتایا کہ زید بن ثابت ؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو یہ لکھوایا لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ ابن ام کلثوم آئے اور آپ مجھ لکھوا رہے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اگر جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرورجہاد کرتا اور وہ نابینا تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ پر وحی فرمائی اور آپ کی ران میری ران پر تھی اور مجھ پر اتنا بوجھ پڑھا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ میری ران ٹوٹ نہ جائے پھر آپ سے یہ کیفیت دور ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ آخری آیت تک۔ ابن ام کلثوم نے فرمایا اور وہ نابینا آدمی تھے جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت کو سنا تو کہا یا رسول اللہ صلی کس طرح ہوگا جو مومنین میں سے جہاد کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ جب اس کی بات ختم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ پر (دوبارہ) سکینہ چھا گیا آپ کی ران میری ران پر واقع ہوگئی دوسری مرتبہ بھی میں نے اس کا بوجھ پہلی مرتبہ کی طرح پایا پھر یہ کیفیت رسول اللہ ﷺ سے جاتی رہی تو آپ نے فرمایا : اے زید پڑھو تو میں نے پڑھا لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ بھی لکھو ” غیر اولی الضرر “ اور زید نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کو الگ نازل فرمایا میں نے اس آیت کے ساتھ ملا دیا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے گویا میں اس کے الحاق کو مونڈھے کی ہڈی پر جہاں شگاف تھا دیکھ رہا ہوں۔
(4) ابن فہر نے کتاب فضائل مالک میں وابن عساکر نے عبد اللہ بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ ہارون الرشید مدینہ منورہ میں آئے تو برمکی کو امام مالک کی طرف بھیجا اور ان سے (خلیفہ ہارون الرشید کی طرف سے پیغام دیتے ہوئے) کہا کہ میرے پاس وہ کتاب لے آئے جو آپ نے تصنیف کی ہے یہاں تک کہ آپ سے اس کو سن لوں امام ابن مالک نے برمکی سے کہا میرا ان کو سلام کہہ دیجئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ علم کی زیارت کی جاتی ہے علم زیارت کے لئے نہیں آتا اور علم کے پاس آیا جاتا ہے وہ خود چل نہیں آتا برمکی ہارون کے پاس واپس گئے اور ان سے کہا اے امیر المومنین اہل عراق کو یہ بات پہنچے گی کہ آپ نے مالک کو پیغام بھیجا مگر اس نے آپ کی مخالفت کی اس پر سختی کیجئے تاکہ وہ آپ کے پاس آجائے اچانک امام مالک (امیر المومنین کے پاس) داخل ہوئے اور ان کے ساتھ کتاب نہیں تھی اور آپ سلام کرنے کے لئے تشریف لائے تھے اور فرمایا اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام آپ کے علم کی وجہ سے عطا فرمایا ہے آپ ان لوگوں میں سے پہلے فرونہ بنیں جو کہ علم کو گرائے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بھی آپ کو گرا دے میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو حسب ونسب سے تعلق نہیں رکھتے وہ علم کی تعظیم کرتے ہیں تم اس کے زیادہ مستحق ہو کہ تم حضور ﷺ کے عطا کردہ غلام کی عزت کرو امام مالک لگاتار ایسی باتیں کرتے رہے اور یہاں تک کہ ہارون رو پڑے پھر فرمایا فرمایا مجھے زہری نے خبر دی خارجہ ابن زید کی طرف سے کہ زید بن ثابت نے فرمایا میں نبی ﷺ کے سامنے ہڈی پر آیت لکھ رہا تھا۔ لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون “ وابن ام مکتوم جو نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے جہاد کی فضیلت میں نازل فرمایا اور میں نابینا آدمی ہوں کیا میرے لئے رخصت ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا زید بن ثابت نے فرمایا میرا قلم (ابھی) خشک نہیں ہوا کہ نبی ﷺ کی غشی طاری ہوگئی اور آپ کی ران میری ران پر واقع ہوئی یہاں تک کہ قریب تھا کہ وحی کے بوجھ سے ٹوٹ جاتی پھر یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا اے زید لکھو لفظ آیت ” غیر اولی الضرر “ پس اے امیر المومنین ! اس ایک حرف کے لئے جبرئیل اور فرشتے پچاس ہزار سال کے سفر سے بھیجے گئے تاکہ وہ نبی ﷺ تک اسے پہنچائیں کیا مجھے یہ لائق نہیں کہ میں اس کی تعظیم کروں ؟
(5) ترمذی (نے اس کو حسن کہا) و نسائی وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں مقسم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر “ غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے والوں اور شریک ہونے والوں کے بارے میں نازل ہوئی جب غزوہ بدر ہوا تو عبد اللہ بن حجش اور ابن مکتوم ؓ دونوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم دونوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم دونوں نابینا ہیں کیا ہمارے لئے رخصت ہے ؟ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر “ اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو قاعدین پر ایک درجہ فضیلت عطا فرمائی۔ اور بیٹھنے والے بغیر عذر والے تھے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وفضل اللہ المجہدین علی القعدین اجرا عظمیا “ یعنی مجاہدوں نے معذوروں کے علاوہ گھر میں بیٹھے رہنے والوں پر کئی درجے فضیلت دی ہے۔
(6) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مقسم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “ کہ یہ آیت غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں اور شریک نہ ہونے والوں میں نازل ہوئی۔
(7) ابن جریر و طبرانی نے الکبیر میں اپنی سند کے ساتھ جس کے رجال ثقہ ہیں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میرے لئے رخصت ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا اے اللہ ! میں نابینا ہوں میرے لئے رخصت فرمائیے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” غیر اولی الضرر “ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو لکھنے کا حکم فرمایا۔
(8) عبد بن حمید والبزار وابو یعلی وابن حبان و طبرانی نے فلتان بن عاصم ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ ان پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور جب آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی نظر ایک جگہ ٹھہر جاتی اور آنکھیں کھلی ہوئیں اور آپ کے کان اور آپ کا دل (اس کے سننے کے لئے) خالی ہوجاتے جب یہ امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو ہم آپ سے پہچان لیتے (کہ آپ کے پاس وحی آرہی ہے) تو آپ نے کاتب سے فرمایا کہ لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ تو ایک نابینا کھڑا ہوگیا اور کہا یا رسول اللہ ! ہمارا کیا گناہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے پھر وحی فرمائی۔ اور ہم نے نابینا سے کہا کہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ وہ ڈرا کہ میرے معاملے میں پتہ نہیں کون سی چیز نازل ہوگی وہ کھڑا رہا اور کہتا رہا میں پناہ مانگتا ہوں رسول اللہ ﷺ کے غضب سے آپ نے کاتب سے فرمایا لکھو ” غیر اولی الضرر “۔
(9) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (جب یہ آیت نازل ہوئی) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ تو عبد اللہ بن ام مکتوم نابینا نے اس کو سنا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے جہاد کے بارے میں نازل فرمایا میں نے جان لیا اور میں نابینا آدمی ہوں جہاد نہیں کرسکتا میرے لئے اللہ کی طرف سے رخصت ہے اگر میں جہاد میں شرکت نہ کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں ملا۔ میں نہیں جانتا کہ تیرے اور تیرے ساتھیوں کے بارے میں رخصت ہوگی یا نہیں ابن ام مکتوم نے کہا اے اللہ ! میں آپ کو اپنی آنکھ کا واسطہ دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر “۔
(10) عبد بن حمید و طبرانی و بیہقی نے ابو نضرہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہوئی کہ جن کو امراج اور دوروں نے جہاد سے روک دیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عذر کو آسمان سے نازل فرمایا۔
(11) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ابن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی یعنی ” غیر اولی الضرر “ اور میں مسلمانوں کو بعض جگہوں میں دیکھا کہ ان کے اس جھنڈا ہوتا تھا۔
(12) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے عبد اللہ بن شداد ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “ نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نابینا ہوں جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ” غیر اولی الضرر “ کو نازل فرمایا۔
(13) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو عبد اللہ بن ام مکتوم نے کہا اے اللہ کے نبی ! میرا عذر ہے (اس کا کیا بنے گا) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ”” غیر اولی الضرر “۔
(14) ابن جریر نے سعید ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ نازل ہوئی تو نابینا آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں جہاد کو محبوب رکھتا ہوں لیکن میں جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو یہ نازل ہوا ”” غیر اولی الضرر “۔
(15) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم نے فرمایا یا رسول اللہ میں نابینا ہوں جہاد کی طاقت نہیں رکھتا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ”” غیر اولی الضرر “۔
(16) ابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر نے زیاد بن فیاض کے طریق سے ابو عبد الرحمن (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لا یستوی
القعدون “ نازل ہوئی تو عبد اللہ بن ام مکتوم نے فرمایا اے میرے رب ! میں تو آزمائش میں ڈالا گیا ہوں اب میں کیا کرو ؟ تو یہ نازل ہوا ”
” غیر اولی الضرر “۔
(17) ابن سعد وابن المنذر نے ثابت کے طریق سے عبد الرحمن بن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ “ نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم نے کہا اے میرے رب میرا عذر اے میرے رب میرے عذر کا کیا بنے گا تو یہ آیت نازل ہوئی ”” غیر اولی الضرر “ تو ان کو درمیان میں رکھ دیا گیا اس کے بعد وہ جنت میں شریک ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ مجھ کو جھنڈا دے دو اور مجھ کو کھڑا کر دو صفوں کے درمیان میں ہرگز نہیں بھاگوں گا۔
(18) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ چار آیات ابن مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی یعنی لفظ آیت ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر “ اور ان کے بارے میں نازل ہوا ” لیس علی الاعمی حرج “ (النور آیت 61) ان کے بارے میں نازل ہوا ” فانھا لا تعمی الابصار “ (الحج آیت 16) اور ان کے بارے میں نازل ہوا ” عبس وتولی “ نبی ﷺ نے ان کو بلایا اور ان کو اپنے قریب کر کے فرمایا کہ تو وہ ہے کہ تیرے بارے میں مجھے میرے رب نے عتاب فرمایا۔
(19) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ گھر میں بیٹھے والا دشمن کے مقابلہ میں مجاہد کے درجہ کے برابر نہیں ” وکلا “ اور سب یعنی المجاہد اور قائد معذور (اور) فرمایا ” وفضل اللہ المجہدین علی القعدین “ کہ وہ لوگ جن کا کوئی عذر نہیں تھا ” اجرا عظیما (95) درجت “ یعنی فضائل میں ” وکان اللہ غفورا رحمیا “ یعنی ستر درجوں کی فضیلت۔
(20) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” غیر اولی الضرر “ سے عذر والے مراد ہیں۔
(21) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ” فضل اللہ المجہدین باموالہم وانفسہم علی القعدین درجۃ “ یعنی عذر والوں پر مجاہدین کو فضیلت عطا فرمائی۔
(22) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وکلا وعد اللہ الحسنی “ یعنی جنت اور اللہ تعالیٰ ہر فضل والے کو اپنا فضل عطا فرماتے ہیں۔
(23) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وفضل اللہ المجھدین علی القعدین اجرا عظیما۔ درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو ان مومنوں پر فضیلت دی ہے جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں لفظ آیت ” غیر اولی الضرر “ یعنی جو معذور نہ ہوں۔
(24) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے ” درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کہا جاتا ہے اسلام ایک درجہ ہے اور ہجرت ایک درجہ ہے اسلام میں اور جہاد ہجرت میں ایک درجہ ہے اور جہاد میں (دشمن کو) قتل کرنا ایک درجہ ہے۔
(25) ابن جریر نے ابن وھب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وفضل اللہ المجھدین علی القعدین اجرا عظمیا (95) درجت منہ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا درجات سات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سورة براۃ میں ذکر فرمایا یعنی ” ما کان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسہم عن نفسہ ذلک بانہم لا یصیبہم ظما ولا نصب “ اس کو انہوں نے پڑھا اور یہاں تک کہ پہنچے ” احسن ما کانوا یعملون “ پوچھا کیا یہ سات درجات ہیں ؟ یہ پہلی چیز تھی جہاد کا درجہ مجمل تھا وہ شخص جس نے جہاد کیا اپنے مال کے ساتھ اس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ جب یہ درجات فضیلت کے ساتھ آئے تو ان سے اسے خارج کردیا گیا ان میں سے اس کا حصہ نفقہ رہ گیا پھر اس آیت میں ذکر ہے۔ جب یہ درجات فضیلت کے ساتھ آئے تو ان سے اسے خارج کردیا گیا ان میں سے اس کا حصہ نفقہ رہ گیا پھر یہ آیت تلاوت کی ” لا یصیبہم ظما ولا نصب “ اور فرمایا کہ صاحب نفقہ کے لئے نہیں ہے پھر یہ پڑھا ” وما انفقتم من نفقۃ “ اور فرمایا یہ قائد کا نفقہ ہے۔
(26) عبدبن حمید، وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن محیریز (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وفضل اللہ المجھدین علی القعدین اجرا عظیما (95) درجت “ کے بارے میں روایت کیا کہ درجات میں ستر درجے ہیں اور دو درجوں کے درمیان گھوڑے کے ستر سال کے دوڑنے کا فاصل ہے۔
(27) عبد الرزاق نے مصنف میں ابو مجلز (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وفضل اللہ المجھدین علی القعدین اجرا عظیما (95) درجت “ کے بارے میں روایت کیا کہ درجات میں ستر درجے ہیں اور دو درجوں کے درمیان گھوڑے کے ستر سال کے دوڑنے کا فاصلہ ہے۔
شہید کے لئے چھ بھلائیاں ہیں
(28) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ معاذ بن جبل ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں مقتول کے لئے چھ بھلائیاں ہیں خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے تمام گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے اور اس کو ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ پھر عذاب سے محفوظ کیا جاتا ہے پھر بڑی گبھراہٹ سے امن دیا جاتا ہے پھر جنت میں ٹھہرایا جاتا ہے پھر حورعین سے اس کی شادی کی جاتی ہے۔
(29) بخاری و بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے تیار فرمایا ہے دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین کا فاصلہ ہے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ سب سے بہترین اور اونچی جنت ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔
(30) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لئے تیار کیا ہے جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان آسمان زمین کا فاصلہ ہے۔
(31) مسلم، ابو داؤد و نسائی اور حاکم نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص راضی ہو اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ابو سعید نے تعجب فرمایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو دوبارہ بتائیے تو آپ نے ان کو دوبارہ بتایا پھر فرمایا ایک اور عمل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بندہ کے سو درجے جنت کے بلند کر دے گا اور دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین کا فاصلہ ہے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
(32) ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو ایک تیر اللہ کے راستہ میں پہنچا اس کے لئے درجہ ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! درجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا خبردار یہ تیر ماں کی چوکھٹ نہیں ہے بلکہ دو درجوں کے درمیان سو سال کا سفر ہے۔
(33) ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین کا فاصلہ ہے۔
(34) ابن ابی حاتم نے یزید بن ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا جنت میں دو سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے اس میں یا قوت ہیں، گھوڑے ہیں، ہر درجہ میں ایک امیر ہوگا وہ دیکھتے ہیں جس کی فضیلت اور سرداری کو لوگ دیکھیں گے۔
Ayahs 4:97–99(1) بخاری و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف مشرکوں کی جماعت میں اضافہ کرتے کوئی تیر پھینکا ہوا ان میں سے کسی کو لگ جاتا تو وہ قتل ہوجاتا یا اس پر تلوار کا وار کیا جاتا تو وہ مارا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ نازل فرمائی۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم مکہ والوں میں سے مسلمان ہوگئی تھی اور وہ اسلام کو چھپاتے تھے تو ان کو مشرک انہیں بدر کے دن اپنے ساتھ لے آئے کچھ گرفتار کر لئے گئے اور کچھ قتل ہوئے مسلمانوں نے کہا یہ مسلمان ہمارے ساتھ تھے ان کو مجبور کیا گیا تو ان کے لئے مسلمانوں نے استغفار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ آخری آیت تک اور مکہ مکرمہ میں جو مسلمان باقی تھے ان کو یہ آیت لکھ کر بھیجی کہ اب ان کے لئے کوئی عذر نہیں ہے تو وہ نکلے ان سے مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو آزمائش میں ڈال دیا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ “ (عنکبوت آیت 10) آیت کے آخرتک مسلمانوں نے ان کی طرف اس آیت کو لکھ بھیجا وہ غمگین ہوگئے اور ہر خیر سے مایوس ہوگئے ان کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی ” ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جھدوا وصبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم “ (سورۃ النحل) اس آیت کو انہوں نے ان کی طرف لکھ بھیجا۔ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکلنے کا راستہ بنا دیا تو وہ نکل پڑے ( جب وہ نکلے تو مشرکون نے ان کو پالیا اور ان سے لڑے یہاں تک کہ کچھ مسلمان بچ گئے اور کچھ قتل ہوگئے۔
ظالمین کے تعین میں مختلف اقوال
(3) عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم قالوا فیم کنتم “ سے لے کر ” وساءت مصیرا “ تک کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) قیس بن الفاکہ بن المغیرہ، الحارث بن رفعہ ابن الاسود، قیس بن الولید بن المغیرہ، ابو العاص بن منیہ بن الحجاج اور علی بن امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی جب قریش اور ان کے ساتھ ابو سفیان بن حرب قریش کے قافلے کی حفاظت کے لئے نکلے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے حملہ سے اسے بچائیں اور یوم نخلہ کو جو ان کے آدمی مارے گئے تھے ان کا بدلہ لیں۔ ان کے ساتھ کچھ نوجوان مجبورا بھی نکلے حالانکہ وہ اسلام لا چکے تھے اور یہ لوگ مقام جنگ کی بجائے ایک اور جگہ جمع ہوگئے پھر بدر میں کافر بن کر جنگ میں حصہ لیا اور اسلام سے پھرگئے اور یہ وہ لوگ تھے جن کا ہم نے نام لیا ہے۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قریش میں سے پانچ نوجوان تھے علی بن امیہ ابو قیس بن الفاکہ، رفعہ بن الاسود، ابو العاص بن منیہ بن الحجاج۔ راوی نے کہا کہ میں پانچویں کو بھول گیا۔
(5) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ وہ لوگ تھے جو نبی ﷺ کے بعد پیچھے رہ گئے تھے اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے نکلنا ترک کردیا تھا ان میں سے جو نبی ﷺ سے ملنے سے پہلے مرگیا تو فرشتوں نے ان کو منہ پر مارا اسے پیٹھ کی طرف پھیر دیا۔
(6) الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں اسلام لا چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی تو انہوں نے ہجرت کرنے کو ناپسند کیا اور ڈر گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ سے لے کر ” الا المستضعفین “ تک۔
(97) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ منافقین میں سے تھے مکہ مکرمہ ہی میں رہ گئے اور آپ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کی اور یہ لوگ قریش کے مشرکین کے ساتھ بدر کی طرف نکلے۔ اس موقع پر دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ بھی مارے گئے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب حضرت عباس عقیل اور نوفل قید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی طرف سے اور اپنے بھتیجے کی طرف فدیہ دیجئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز نہیں پڑھتے اور ہم آپ کی شہادت نہیں دیتے ؟ آپ نے فرمایا اے عباس ! بیشک تم نے جھگڑا کیا اس لئے تم سے جھگڑا کیا جائے گا پھر آپ نے ان پر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا فاولئک ماوہم جہنم وساءت مصیرا “ پس جس دن یہ آیت نازل ہوئی وہ مسلمان ہوچکے تھے مگر ابھی تک ہجرت نہیں کی تھی تو وہ کافر رہے جب تک ہجرت نہ کی۔ ” الا المستضعفین “ ” الی “” لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا “ مگر وہ کمزور لوگ جو کوئی حیلہ اور راستہ نہ پاتے، حیلہ سے مراد مال اور سبیل سے مراد راستہ ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا میں بھی انہیں بچوں میں سے ایک تھا (جو ضعیف تھے) ۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت میں روایت کیا کہ مجھ سے یہ بیان کیا گیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ والوں میں سے اسلام لے آئے تھے اور وہ اللہ کے دشمن ابو جہل کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے غزوہ بدر میں جنگ میں شریک ہوئے اور انہوں نے بغیر عذر کے معذرت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عذروں کو قبول کرنے سے انکار فرمایا اور فرمایا ” الا المستضعفین “ یعنی اہل مکہ میں سے وہ لوگ جن کے عذر کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا ان کو اس حکم سے مستثنیٰ کردیا ان عباس ؓ فرمایا کرتے تھے میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جو یہ حیلہ کی طاقت رکھتے تھے اور سفر کا راستہ معلوم تھا۔
(10) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب نبی ﷺ بھیجے گئے اور یہ لوگ ظاہر ہوئے اس کے ساتھ ایمان بھی ابھرا اور نفاق بھی ابھرا کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر ہم اس بات کا خوف نہ کرتے کہ (کافر) قوم ہم کو عذاب دے گی تو ہم ضرور اسلام لاتے لیکن ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے رسول ہیں اور یہ لوگ اس بات کو آپ سے کہتے رہتے تھے جب بدر کا دن ہوا تو مشرک کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا ہم سے کوئی پیچھے نہ رہے ورنہ ہم اس کے گھر کو گرا دیں گے اور اس کا مال لے لیں گے تو اس پر وہ لوگ (کافروں کے ساتھ) نکل کھڑے ہوئے جو نبی ﷺ کو یہ باتیں کرتے تھے ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور کچھ ان میں سے قید ہوئے جو لوگ قتل کئے گئے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ پھر فرمایا ” قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “ اور ان لوگوں کو چھوڑ دیتے جو تم میں سے کمزور جانتے ہیں (پھر فرمایا) ” فاولئک ماوہم جہنم وساءت مصیرا “ پھر اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے والوں کو عذر قبول فرمالیا۔ اور فرمایا ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا “ یعنی وہ لوگ اگر نکلنے کا ارادہ کرتے تو ہلاک ہوجاتے ” فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم “ یعنی مشرکین کے درمیان ان کے رہنے کو (معاف کردیں گے) اور جو لوگ قید ہوئے انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے اور ہم نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور ہم خوف کے مارے اس قوم کے ساتھ نکلے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری ان یعلم اللہ فی قلوبکم فی قلوبکم خیرا یؤتکم خیرا مما اخذ منکم ویغفر لکم “ (الانفال آیت 70) یعنی تمہارا یہ نکلنا مشرکین کے ساتھ نبی ﷺ کے خلاف اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے پھر فرمایا ” وان یریدوا خیانتک فقد خانوا اللہ من قبل “ (الانفال آیت 71) یعنی مشرکین کے ساتھ ان کا نکلنا اور ان میں رہنا۔
(12) عبد الرزاق وعبد بن حمید و بخاری وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں اور میری ماں کمزور لوگوں میں سے تھے میں بچوں میں سے تھا اور میری ماں عورتوں میں سے تھی۔
(13) عبد بن حمید و بخاری وابن جریر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان “ اور فرمایا میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا۔
(14) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! نجات دے الولید وسلم ہ بن ہشام و عیاش بن ابی ربیعہ اور ضعیف مسلمانوں کو مشرکین کے ہاتھوں سے جو نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں۔
(15) بخاری (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو نبی ﷺ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے جب آپ نے ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کہا تو سجدہ کرنے سے پہلے دعا کی اے اللہ کی نجات دے عیاش بن ابی ربیعہ کو اے اللہ نجات دے سلمہ بن ہشام کو اے اللہ نجات دے الولید کو اے اللہ نجات دے ایمان والوں میں سے کمزور لوگوں کو اے اللہ مضر کے لوگوں پر پکڑ سخت کر دے اے اللہ ان پر قحط کو مسلط کر دے یوسف (علیہ السلام) کے قحط کی طرح۔
(16) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” الا المستضعفین “ سے مراد بوڑھی عورتیں چھوٹی لڑکیاں اور چھو ٹے لڑکے ہیں۔
(17) ابن ابی شیبہ نے محمد بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ چالیس دن صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے رہے اور اپنی قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے اے اللہ ! نجات دے الولید بن الولید کو، عیاش بن ابی ربیعہ، العاص بن ہشام کو اور ان کمزور ایمان والوں کو جو مکہ میں ہیں وہ لوگ لفظ آیت ” لا یستطیعون حیلہ ولا یھتدون سبیلا “ (جو یہ حیلہ کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ راہ پاتے ہیں) ۔
(18) الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ سے لے کر ” وساءت مصیرا “ تک ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ مکرمہ میں رہتے تھے اور یہ لوگ مشرکین میں سے اپنی قوم کے ساتھ لڑائی میں نکلے اور ان کے ساتھ قتل کئے گئے پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان “ جو ان میں سے کمزور تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر قبول فرمایا اور جن کا عذر نہیں تھا وہ ہلاک ہوگئے ابن عباس نے فرمایا میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھی جن کا عذر تھا۔
(19) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ” لا یستطیعون حیلۃ “ سے قوت مراد ہے۔
(20) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا یستطیعون حیلۃ “ یعنی مدینہ منورہ کی طرف وہ جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ” ولا یھتدون سبیلا “ سے مراد ہے کہ نہ وہ راستہ کو جانتے تھے۔
(21) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یھتدون سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ کی طرف جانے کا راستہ ہی نہیں جانتے تھے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم) ۔