4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو بھی دو شخص تم میں سے بےحیائی کا کام کریں ان کو اذیت پہنچاؤ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو، بلاشبہ اللہ توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے

(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” والذن یاتینھا منکم “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی جب زنا کرتا تھا تو اس کو شرمندہ کیا جاتا اور جوتے مارے جوتے رو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ جلدۃ “ اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ان کر رجم کردیا جائے۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذن یاتینھا منکم “ یعنی دو آدمی برا کام کرنے والے۔ ابتدائے اسلام میں زنا کی سزا (3) آدم اور بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فاذوھما “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان دونوں کو قید کرلیا جائے۔ (4) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” والذن “ یعنی کنوارے جنہوں نے شادی نہیں کی ” یاتینھا “ یعنی انہوں نے جو برا کام اور وہ زنا ہے۔ ” منکم “ یعنی مسلمانوں میں سے ” فاذوہما “ یعنی زبان سے شرمندہ کر کے اور سخت الفاظ کہہ کر اذیت دو لیکن ان دونوں کو قید نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ دونوں کنوارے ہیں لیکن ان کو شرمندہ کیا جائے گا تاکہ وہ توبہ کریں اور نادم ہوں ” فان تابا “ یعنی اگر وہ برے کام سے توبہ کرلیں ” واصلحا “ اور اس برے عمل کی اصلاح کرلیں ” فاعرضوا عنہما “ یعنی پھر توبہ کے بعد ان کو تکلیف نہ دو لفظ آیت ” ان اللہ کان توابا رحیما “ شروع اسلام میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے ساتھ ایسا کیا جاتا تھا پھر زنا کی حد نازل ہوگئی تو قید کرنا اور تکلیف دینا منسوخ ہوگیا۔ اس کو منسوخ کردیا اس آیت نے جو سورة نور میں ہے۔ یعنی ” الزانیۃ والزانی “ (الآیہ) ۔ (5) ابن جریر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذن یاتینھا منکم “ سے مرد اور عورت مراد ہیں۔ (6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں اور مردوں کا ذکر کیا جنہوں نے نکاح نہیں کیا تو فرمایا لفظ آیت ” والذن یاتینھا منکم “ یعنی جب کنواری لڑکی اور لڑکا زنا کرلیں تو وہ دونوں پر سختی کی جائے اور عار دلائی جائے یہاں تک کہ وہ اس (برے کام) کو چھوڑ دیں۔ (7) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واصلحا فاعرضوا عنہما “ یعنی (توبہ کے بعد) ان کو عار دلانے سے اعراض کرو۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

پس اللہ کے ذمہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنا ہے جو حماقت کے ساتھ گناہ کرلیتے ہیں پھر قریب ہی وقت میں توبہ کرلیتے ہیں، سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا، اور اللہ علم والا حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو برے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت حاضر ہوجائے تو کہتا ہے کہ بیشک میں نے اب توبہ کی، اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کافر ہونے کی حالت میں مرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب تیار کیا ہے

(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انما التوبۃ علی اللہ “ یہ ایمان والوں کے لئے ہے (اور) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “ یہ منافق لوگوں کے لئے ہے (اور) لفظ آیت ” ولا الذین یموتون وہم کفار “ یہ شرک والوں کے لئے ہے۔ (2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت ایمان والوں کے بارے میں نازل ہوئی اور درمیانی آیت منافقین کے لئے نازل ہوئی اور آخری آیت کافروں کے لئے نازل ہوئی۔ (3) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر نے مردہ آخر سے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب فرمایا کرتے تھے ہر گناہ جو بندہ کرتا ہے وہ جہالت ہے۔ (4) عبد الرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ محمد ﷺ کے صحابہ اس بات پر اکٹھے ہیں کہ وہ امر جس میں نافرمانی ہو وہ جہالت ہے جان بوجھ کر ہو یا اس کے بغیر ہو۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بجھالۃ “ سے مراد ہے ہر وہ شخص جو اپنے رب کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے یہاں تک کہ وہ اس گناہ کو چھوڑ دے۔ (6) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انما التوبۃ علی اللہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص برا عمل کرے وہ جاہل ہے۔ اپنی جہالت سے برے عمل کی وجہ سے لفظ آیت ” ثم یتوبون من قریب “ پھر وہ توبہ کرے زندگی میں اور صحت میں۔ (7) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم یتوبون من قریب “ میں القریب سے مراد ہے اس وقت سے لے کر ملک الموت کے دیکھنے تک۔ (8) ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ آدمی توبہ کرسکتا ہے یہاں تک کہ فرشتوں کا معائنہ کرے۔ (9) محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ ” القریب “ سے مراد ہے جب تک اللہ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی یا موت نازل ہوجائے۔ موت کا فرشتہ نظر آنے تک توبہ ہوسکتی ہے (10) ضحاک (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز موت سے پہلے قریب ہے اسے توبہ کرنے کا حق ہے یا اس وقت کے اور موت کے فرشتے دیکھنے کے درمیان یہاں تک کہ ملک الموت کی طرف دیکھ لے تو اب اس کے لئے توبہ نہیں۔ (11) عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا ساری قریب ہے اور سب گناہ جہالت ہیں۔ (12) حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم یتوبون من قریب “ سے مراد ہے جب تک غر غر نہ ہو (یعنی سانس اکھڑ نہ جائے) ۔ (13) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مشرک اگر اسلام لاتا ہے سانس اکھڑنے کے وقت تب بھی خیر کثیر کی امید رکھتا ہوں۔ (14) حسن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابلیس نے جب آدم (علیہ السلام) کو اندر سے خالی دیکھا تو کہنے لگا آپ کی عزت کی قسم ! میں اس پیٹ سے نہیں نکلوں گا جب تک اس میں روح ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میری عزت کی قسم ! میں اس کے اور توبہ کے درمیان حائل نہیں ہوں گا جب تک اس میں روح ہے۔ (15) قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم انس بن مالک ؓ کے پاس بیٹھے تھے وہاں ابو قلابہ بھی تھے۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت بھیجی تو اس نے مہلت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک مہلت دے دی۔ اور شیطان نے کہا آپ کی عزت کی قسم میں آدم کے دل سے نہیں نکلوں گا جب تک اس میں روح ہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا میری عزت کی قسم ! میں اس سے توبہ کو نہیں روکوں گا (یعنی توبہ کو قبول کرلوں گا) جب تک اس میں روح ہے۔ ننانوے قتل کا گناہ توبہ سے معاف ہوگیا (16) ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابو یعلی وابن حبان نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو کسی بات کی خبر نہیں دوں گا مگر جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میری دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا کہ ایک آدمی نے ننانوے قتل کئے پھر توبہ کی طرف متوجہ ہوا۔ تو اس نے زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو ایک آدمی کے بارے میں اس کو بتایا گیا وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ننانوے قتل کئے کیا میرے لئے توبہ ہے ؟ اس نے کہا ننانوے قتل کرنے کے بعد (توبہ کرتا ہے) اس آدمی نے اپنی تلوار کو نکالا اور اس کو بھی قتل کردیا سو پورے ہوگئے۔ پھر توبہ کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے زمین پر موجود سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ایک آدمی کے بارے میں اس کو بتایا گیا وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میری توبہ ہوسکتی ہے ؟ اس نے کہا کون رکاوٹ بن سکتا ہے تیرے اور توبہ کے درمیان اس گندی بستی سے نکل کر نیک بستی کی طرف نکل جا۔ وہ بستی فلاں فلاں ہے اور اس میں اپنے رب کی عبادت کر۔ وہ اس نیک بستی کا ارادہ کرتے ہوئے نکلا راستہ ہی میں موت آگئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے آپس میں جھگڑا کیا ابلیس نے کہا میں اس کے زیادہ حقدار ہوں اس نے میری کبھی بھی نافرمانی نہیں کی رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ توبہ کرنے کے لئے نکلا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو بھیجا۔ انہوں نے اس کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا تو فرشتہ نے کہا دونوں بستیوں کی طرف دیکھو جو بستی اس سے زیادہ قریب ہو تو اسی کے ساتھ اس کو ملا دو ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نیک بستی والوں کے قریب کردیا اور گندی بستی والوں سے دور کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی والوں کے ساتھ ملا دیا۔ (17) احمد اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن ماجہ اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) شعب میں ابن جریر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غر غر نہ ہونے لگے (یعنی سانس نہ اکھڑ جائے) ۔ (18) بیہقی نے شعب میں صحابہ ؓ میں سے ایک صحابی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے سانس اکھڑنے سے پہلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتے ہیں۔ (19) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ توبہ پھیلی ہوئی ہوتی ہے بندہ کے لئے جب تک کہ جان کنی کی حالت نہ ہو۔ پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الئن “ پھر فرمایا قوت کا وقت آنا ہی سوء ہے۔ (20) ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الئن “ یعنی جب موت کا وقت قریب آئے تو اس سے (توبہ) قبول نہیں ہوتی۔ (21) ابن المنذر نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “ سے اہل شرک مراد ہیں۔ (22) ابن جریر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس سے روایت کیا کہ ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “ سے اہل شرک مراد ہیں۔ (23) ابن جریر نے کلبی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الئن “ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ توبہ نہیں ہے۔ جو موت کے وقت توبہ کرے۔ لفظ آیت ” ولا الذین یموتون وہم کفار “ یعنی جو کافر مریں ان کی توبہ ان لوگوں سے بھی دور ہے۔ (24) ابوداؤد نے اپنی ناسخ میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولیست التوبۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (النساء آیت 116) تو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمادیا مغفرت کو اس شخص پر جو کافر ہو کر مرا اور امید دلائی توحید والوں کو بہشت کی طرف اور ان کو مغفرت کی طرف مایوس نہیں فرمایا۔ (25) ابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس پر آسمان و زمین کے درمیان عمل کیا جائے اور (پھر) موت سے پہلے بندہ اس سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ (26) ابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے شعب میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص یہ توبہ کرلے موت کی ہچکی سے پہلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی کہا گیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا لفظ آیت ” ولیست التوبۃ یعملون السیات حتی اذا حضرت احدہم الموت قال انی تبت الئن “ تو انہوں نے فرمایا میں نے تجھ کو وہ بات سنائی ہے۔ جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ (28) احمد و بخاری نے تاریخ میں وحاکم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے یا اپنے بندے کی مغفرت فرماتا ہے۔ جب تک پردہ واقع نہ ہوجائے۔ کہا گیا پردہ کا واقع ہوجانا کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جان اس حال میں کہ وہ مشرک ہو۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث ہوجاؤ اور تم ان عورتوں کو اس غرض سے مقید مت رکھو کہ جو مال تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو، مگر یہ کہ وہ عورتیں کوئی صریح فحش کام کر بیٹھیں، اور تم ان کے ساتھ اچھے طریقہ پر زندگی گذارو، سو اگر تم کو وہ ناپسند ہیں تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کا ناپسند کرو اور اللہ اس میں زیادہ خیر رکھ دے

(1) بخاری و ابوداؤد و نسائی و بیہقی نے اپنی سنن میں وابن مردویہ نے وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تھا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے مالک کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مجاز ہوتے (یعنی مالک بن جاتے تھے) ان میں سے بعض اگر چاہتے تو اس سے شادی کرلیتے تھے اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح کہیں کرا دیتے تھے اور اگر چاہتے تو کسی سے بھی شادی نہ کرتے اور یہ لوگ اس کے حقدار یعنی مالک بن جاتے تھے اس کے اہل و عیال میں سے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (2) ابو داؤد نے (وجہ آخرت سے) عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی اس کے قریبی رشتہ داروں میں سے عورت کا وارث بن جاتا تھا اور اس کو نکاح سے روک دیتا تھا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تھی یا اس کا مہر اپنی طرف لوٹا لیتا (یعنی خود لے لیتا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا یعنی اس سے روک دیا۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تھا اور بیوی چھوڑ جاتا تھا تو (اس آدمی کا) قریبی رشتہ دار اس پر کپڑا ڈال دیتا تھا۔ اور اس کو (دوسرے) لوگوں سے روک دیتا تھا۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی تو اس سے شادی کرلیتا تھا اگر وہ بدصورت ہوتی تو اس کو روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور یہ مرد اس (کے مال) کا وارث بن جاتا۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” ولا تعضلوہن “ یعنی ان کو مجبور نہ کرو ” لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن “ کہ تم اس سے مہر لے لو یعنی ایک مرد کی بیوی ہو اور وہ مرد اس عورت سے صحبت کرنا ناپسند کرتا ہو حالانکہ اس (عورت) کے لئے اس پر مہر (لازم) ہے۔ اور یہ آدمی اس کو مارتا تاکہ وہ عورت (مہر) اسے دے دے۔ بیوہ عورت کو زبردستی روکنا جائز نہیں (4) ابن جریر وابن المنذر نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مرد فوت ہوجاتا تو اس مرد فوت ہوجاتا تو اس مرد کا باپ یا قریبی رشتہ دار میت کی بیوی کا زیادہ حقدار ہونا چاہتا تو اسے روک لیتا یا قید کرلیتا یہاں تک کہ مہر اسے دے دے یا مرجائے اور وہ اس کا مال لے جائے عطا بن ابی رباح نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی مرجاتا اور بیوی چھوڑ جاتا تو اس کے گھر والے اس کو بچے کی وجہ سے روک لیتے تو وہ عورت ان میں رہنے پر مجبور ہوتی تو اس پر یہ آیت ” لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “ نازل ہوئی۔ (5) نسائی وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ جب ابو قیس بن سلت فوت ہوگئے تو اس کے بیٹے نے ارادہ کیا کہ اس کی بیوی سے شادی کرلے۔ اور جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا۔ تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “۔ (6) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت کبشہ بنت معن بن عاصم ابو الاوس کے بارے میں نازل ہوئی وہ ابو قیس بن سلت کے عقد میں تھی وہ فوت ہوگئے تو اس کا بیٹا اس پر مائل ہوگیا وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی نہ میں اپنے شوہر کی وارث بنی اور نہ میں چھوڑی گئی کہ میں کسی سے نکاح کرلیتی ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (7) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مدینہ کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی کا قریبی رشتہ دار فوت ہوجاتا تو وہ اس کی بیوی پر کپڑا دال کر اس کے نکاح کا وارث بن جاتا اور اپنے علاوہ کسی اور سے اس کا نکا نہ کرتا اور اس کو اپنے پاس قید کرلیتا تاکہ وہ مہر اسے دے دے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “۔ (8) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو اس کا ولی آکر اس پر کپڑا ڈال دیتا اگر اس کے ساتھ چھوٹا بچہ یا بھائی ہوتا تو اس پر اس عورت کو روک لیتا یہاں تک کہ جب وہ جوان ہوجاتی یا مرجاتی تو یہ اس کے مال کا وارث بن جاتا اور اگر وہ (کسی طرح) چھوٹ جاتی اور وہ اپنے اہل و عیال میں آجاتی اور اس پر کوئی کپڑا نہ ڈالتا تو وہ نجات پاجاتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) ” لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “ نازل فرمائی۔ (9) عبد الرزاق وابن سعد وابن جریر نے زہری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت انصار کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب کوئی آدمی ان میں سے مرجاتا تو لوگ اس کی بیوی پر اس کے ولی کو وارث بنا دیتے۔ اور وہ اس کو روک لیتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور پھر وہ (اس کے مال کا) وارث بن جاتا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (10) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں یثرب والوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی آدمی مرجاتا تھا تو لوگ اس کی بیوی پر اس کے ولی کو وارث بنا دیتے۔ اور وہ اس کو روک لیتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور پھر وہ (اس کے مال کا) وارث بن جاتا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (10) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں یثرب والوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی آدمی مرجاتا تھا تو اس کی عورت کا وہی وارث بن جاتا تھا جو اس مرنے والے کے مال کا وارث بنتا تھا اور اس عورت کو نکاح سے روک دیتا تھا یہاں تک کہ اس سے خود شادی کرلیتا تھا یا جس کا ارادہ کرتا اس سے شادی کردیتا تھا اور تھامہ والے عورت کے ساتھ برا سلوک کرتے یہاں تک کہ اس کو طلاق دے دیتا تھا اور اس پر شرط لگاتا تھا کہ وہ اس مرد سے شادی کرے گی جس کے ساتھ وہ چاہے گا یہاں تک کہ وہ اس کا کچھ مہر اسے واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس سے منع فرمادیا۔ (11) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے عبد الرحمن بن سلمانی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا ولا تعضلوہن “ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں ایک ان میں سے ایک زمانہ جاہلیت کے بارے میں ہے اور دوسری زمانہ اسلام کے بارے میں ہے ابن مبارک (رح) نے فرمایا لفظ آیت ” ان ترثوا النساء کرھا “ زمانہ جاہلیت کے بارے میں ہے اور ” ولا تعضلوہن “ زمانہ اسلام کے بارے میں ہے۔ (12) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو مالک رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ ” ولا تعضلوہن “ سے مراد ہے کہ تو اپنی بیوی کو تکلیف نہ دے کہ تو اس سے مہر واپس لے لے۔ (13) عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعضلوہن “ یعنی (ان کو نہ روکو) کہ وہ اپنے خاوندوں سے (دوبارہ) نکاح کرلیں سورة بقرہ میں گزر گیا۔ طلاق کے بعد دوسرے خاوند سے روکنا گناہ ہے (14) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ نکاح سے روک دینا مکہ کے قریش میں تھا ایک آدمی کسی شریف عورت سے نکاح کرتا تھا۔ اور اس سے موافقت نہ ہوتی تھی تو اس کو اس شرط پر چھوڑ دیتا تھا کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی سے نکاح نہ کرے گی وہ گواہ لاتا اس کے خلاف تحریر لکھی جاتی اور گواہ بنائے جاتے جب کوئی نکاح کا پیغام بھیجتا اگر وہ عورت پہلے خاوند کو مال دیتی اور اسے راضی کرلیتی تو وہ اس کو اجازت دے دیتا ورنہ اسے روک دیتا۔ (15) ابن جریر نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “ سے مراد ہے بغض اور ناچاقی اگر یہ عمل عورت کی جانب سے ہو تو عورت کے لئے جائز ہے کہ اس سے فدیہ لے لے۔ (16) ابن جریر نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعضلوہن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن الا ان یاتین بفاحشۃ “ ابن مسعود ؓ کی قرات میں سے اور فرمایا اگر وہ عورت تجھے اذیت دے تو پھر تیرے لئے حلال ہے اس (مال) کا لینا جو اس نے تجھ سے لیا تھا۔ (17) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “ سے مراد نافرمانی اور ناچاقی ہے۔ ابن مسعود ؓ اور ابن بن کعب ؓ کی روایت میں ہے لفظ آیت ” الا ان یفحش “ ہے۔ (18) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” الفاحشۃ “ سے یہاں نافرمانی مراد ہے۔ (19) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ یہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جب اس کی عورت بدکاری کرتی تو مرد نے جو کچھ اس کو دیا تھا واپس لے لیتا اور اس کو نکال دیتا تو یہ حکم حدود سے منسوخ ہوگیا۔ (20) ابن جریر نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” الا ان یاتین بفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے زنا مراد ہے اگر وہ عورت ایسا کرلے تو اس کے خاوند کے لئے حلال ہے کہ وہ اس سے خلع کا سوال کرے۔ (21) ابن المنذر نے ابو قلالہ اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہما سے دونوں حضرات سے روایت کیا کہ خلع حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی آدمی کو دیکھ لے اپنی عورت کے پیٹ پر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الا ان یاتین بفاحشۃ “۔ (22) ابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے۔ اور ان پر یہ لازم ہے کہ اپنے بستروں پر کسی کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو مارو کہ اس کا اثر اس پر ظاہر نہ ہو۔ اور تم پر لازم ہے ان کا کھلانا ان کا پہنانا اچھے طریقے سے۔ خاوند وبیوی کے حقوق (23) ابن جریر نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! جو عورتیں تمہارے پا ہیں (یعنی تمہارے گھروں میں ہیں) وہ (تمہاری) مددگار ہیں تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے تمہارے ان پر حقوق ہیں اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی کو نہ آنے دیں اور وہ نیک کام میں تمہاری نافرمانی نہ کریں اور جب انہوں نے ایسا کرلیا (یعنی نافرمانی نہیں کی) تو ان کو کھلانا اور ان کو کپڑے پہنانا تمہارے ذمہ ہے اچھے طریقہ سے۔ (24) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعاشروہن “ سے مراد ہے ” خالطہن “ یعنی ان سے میل جول رکھو ابن جریر نے کہا بعض راویوں نے اس میں نصیحت کی انہوں نے کہا لفظ آیت ” خالقوہن “ بجائے ” خالطوہن “ کے۔ (25) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تم پر عورت کا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور ان کا پہنانا اور کھلانا بھی اچھے طریقے سے ہو۔ (26) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعاشروہن بالمعروف “ یعنی ان سے اچھا برتاؤ کرو (پھر فرمایا) ” فان کرھتموہن فعسی ان تکرھوا شیئا “ (اگر تم ناپسند کرو ان کو تو ممکن ہے تم کوئی چیز ناپسند کرو) تو طلاق کے بعد وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے گی تو اللہ تعالیٰ اس عورت سے نئے خاوند کا بچہ پیدا فرمادے اور اللہ تعالیٰ نے اس عورت سے نکاح کرنے میں خیر کثیر رکھ دیا ہے۔ (27) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا “ میں خیر کثیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت پر مہربانی فرمائیں گے اور آدمی کو اس عورت سے بچہ عطا فرما دے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس بچے میں بہت خیر رکھ دیں گے۔ (28) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کراہت میں خیر کثیر کو رکھ دیں گے۔ (29) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا “ سے مراد بچہ ہے۔ (30) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مرد اور عورت کے درمیان کوئی بات واقع ہوجائے تو اس کو طلاق دینے میں جلدی نہ کرے اور آہستگی اختیار کرے اور صبر کرے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس میں ایسی چیز دکھا دیں جو وہ پسند کرے گا۔ (31) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ بھی ممکن ہے اس (عورت) کو روک لو اگرچہ اس کا روکنا تمہیں ناگوار ہو۔ تو اللہ تعالیٰ اس میں خیر کثیر کردیں گے اور حسن (رح) فرمایا کرتے تھے قریب ہے کہ وہ اس کو طلاق دے پھر وہ کسی اور عورت سے شادی کرے تو اللہ تعالیٰ اس عورت کو بہت خیر رکھ دے۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور ایک ایک بیوی کو دوسری بیوی کی جگہ بدلنا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو۔ کیا تم اس کو واپس لو گے بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کا ارتکاب کر کے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اس کو کیسے لیتے ہو حالانکہ تم ایک دوسرے تک پہنچ چکے ہو اور انہوں نے تم سے خوب پختہ عہد لے لیا ہے

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے اگر تو ناپسند کرے اپنی عورت کو اور اس کے علاوہ دوسری عورت کو پسند کرے تو اس کو طلاق دے دے اور اس سے شادی کرلے۔ اور اس کو مہر دے دے اگرچہ بڑا مال ہو۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے کہ ایک عورت کو طلاق اور دوسری سے نکاح پھر مطلقہ کے مال میں سے وہ مرد کے لئے کوئی چیز حلال نہیں اگرچہ بہت مال ہو۔ (3) ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اوتیتم احدہن قنطارا “ سے مراد ہے دو ہزار۔ (4) سعید بن منصور وابو یعلی نے جید سند کے طریق کے ساتھ مسروق (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے منبر پر سوار ہوئے پھر فرمایا اے لوگو ! کیا وجہ ہے تم عورتوں کے مہر بہت زیادہ مقرر کرتے ہو۔ اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ایسے تھے کہ وہ چار سو درہم یا اس سے کم مہر مقرر کرتے تھے اور اگر مہر کی زیادتی اللہ کے نزدیک تقویٰ ہوتی یا عزت کی چیز ہوتی تو تم اس سے سبقت نہ لے جاتے میں کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتا جو اپنے بیوی کا مہر چار سو درہم سے زیادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ منبر سے نیچے اترے۔ تو ایک عورت آئی قریش میں سے کہا اے امیر المؤمنین ! کیا آپ نے منع کیا لوگوں کو کہ نہ زیادہ کریں عورتوں کے مہروں میں سے چار سو درہم پر انہوں نے فرمایا ہاں وہ عورت کہنے لگی کیا آپ نے نہیں سنا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” واتیتم احدہن قنطارا “ (اور تم نے بہت بڑا مال دیا ہو۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اے اللہ ! میں آپ کی بخشش کا امیدوار ہوں تمام لوگ عمر سے زیادہ جاننے والے ہیں پھر آپ لوٹے اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا اے لوگو بیشک میں نے تم کو منع کیا تھا کہ عورتوں کے مہر چار سو درہم سے زیادہ نہ کرو۔ پس جو شخص اپنے مال میں سے بطور مہر کے جتنا دینا چاہے دے دے۔ (5) عبد الرزاق وابن المنذر نے ابو عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا نہ غلو کرو عورتوں کے مہروں میں ایک عورت نے کہا اے عمر تجھے یہ حق حاصل نہیں ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لفظ آیت ” واتیتم احدہن قنطارا “ کہ تم عورتوں کو سونے کا خزانہ دو ۔ اور اسی طرح وہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا ایک عورت نے عمر سے جھگڑا کیا اور وہ عمر پر غالب آگئی۔ زیادہ مہر مقرر کرنا مناسب نہیں (6) زبیر بن بکار نے موفقیات میں عبد اللہ بن مصعب ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تم عورتوں کے مہروں کو چالیس اوقیہ سے زیادہ نہ کرو جس نے زیادہ کیا میں اس زیادتی کو بیت المال میں ڈال دوں گا۔ ایک عورت نے کہا آپ کو یہ حق حاصل نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کس لئے ؟ اس عورت نے کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واتیتم احدہن قنطارا “ (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ نے فرمایا عورت نے ٹھیک کہا اور مرد نے غلطی کی۔ (7) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے بکر بن عبد اللہ المزنی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں اس ارادہ سے نکلا کہ میں تم کو مہر کی کثرت سے منع کروں گا مگر کتاب اللہ کی یہ آیت ” واتیتم احدہن قنطارا “ میرے سامنے آگئی (تو میں رک گیا) ۔ (8) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” بھتانا “ کا معنی ہے ” واثما “ یعنی گناہ۔ (9) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” مبینا “ کا معنی ہے واضح۔ (10) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا ” افضی “ سے مراد ہے جماع لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ فرمایا۔ (11) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) وسلم سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقد افضی بعضکم الی بعض “ سے مراد ہے عورتوں سے جماع کرنا۔ (12) ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “ (اچھی طریقے سے روکنا یا اچھے طریقے سے آزاد کردینا) ۔ (13) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” میثاقا غلیظا “ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے مردوں سے لیا یعنی روک لینا اچھی طرح سے یا چھوڑ دینا اچھی طرح سے اور فرمایا کہ یہ عہد لیا جاتا تھا نکاح کے وقت لفظ آیت ” اللہ علیک لتمسکن بمعروف او لتسرحن باحسان “ یعنی اللہ کی قسم تم پر لازم ہے کہ تم کو چاہئے کہ روک لو (عورتوں) کو اچھی طرح سے یا چاہئے کہ تم ان کو چھو ڑدو (یعنی طلاق دے دو ) اچھی طرح سے۔ (14) ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عمر ؓ جب کوئی نکاح پڑھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے میں تیرا نکاح کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے ساتھ کہ لفظ آیت ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “ (15) ابن ابی شیبہ نے عوف (رح) سے روایت کیا کہ انس بن مالک ؓ جب اپنی بیٹی یا بعض گھر والوں کی عورتوں کا نکاح کرتے تھے تو اس کے شوہر سے یوں فرماتے ہیں تجھ سے نکاح کرتا ہوں۔ اس بات پر کہ تو اس کو اپنے پاس رکھے گا اچھے طریقے سے یا اس کو چھوڑ دے گا اچھی طریقے سے۔ (16) ابن ابی شیبہ نے حبیب بن ابی ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ جب کوئی نکاح پڑھاتے تو یوں فرماتے میں شرط لگاتا ہوں اس بات کی کہ لفظ آیت ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “۔ (17) ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “ کہ روکو تو اچھے طریقے سے یا چھوڑ دو تو اچھے طریقے سے۔ (18) ابن ابی شیبہ نے یحییٰ بن المنذر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ (19) ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے عقد نکاح لیا اور فرمایا تحقیق میں نے تیرا نکاح کردیا۔ (20) ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) اور مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے کہ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور تم نے ان کی شرم گاہوں کو اور اللہ کے کلام کے ساتھ حلال کیا ہے۔ (21) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے کہ یہ آدمی کا قول ہے کہ میں نے تیری ملک میں دیا۔ (22) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے نکاح کا کلمہ (نکاح کے الفاظ) کہ ذریعہ ان کی شرم گاہیں مردوں پر حلال ہوتی ہیں۔ (23) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” میثاقا غلیظا “ سے مراد ہے سخت وعدہ۔ (24) ابن جریر نے بکیر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے خلع کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ہم اس سے کوئی چیز لے سکتے ہیں فرمایا نہیں پھر یہ الفاظ پڑھے۔ لفظ آیت ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “ (کہ تم سے سخت وعدہ لیا گیا تھا) ۔ (25) ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ پھر اس کے بعد رخصت دے دی گئی اور فرمایا لفظ آیت ” فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ “ (البقرہ آیت 229) کہ اس آیت نے اس سابقہ حکم کو منسوخ کردیا۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں مگر جو پہلے گذر چکا۔ بیشک یہ بےحیائی کا اور غصہ کا کام ہے اور برا راستہ ہے

(1) الفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں عدی بن ثابت انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ابو قیس بن سلت ؓ وفات پاگئے جو انصار کے نیک لوگوں میں سے تھے قیس کے بیٹے نے ان کی بیوی کو نکاح کا پیغام دیا تو اس نے کہا میں تجھ کو اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں اور تو اپنی قوم کے نیک لوگوں میں سے ہے۔ لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں گی اور آپ سے رائے لوں گی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ابو قیس وفات پاگئے تو آپ نے اس کے لئے خیر کے کلمات ارشاد فرمائے اس کے بیٹے قیس نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے حالانکہ وہ اپنی قوم کا نیک آدمی ہے۔ اور میں اس کو اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں پس آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا لوٹ جا اپنے گھر کی طرف تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ بیہقی نے کہا یہ حدیث مرسل ہے۔ (2) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) نازل ہوئی ابو قیس بن سلت کے بارے میں اس نے عبیدہ بن حمزہ سے نکاح کیا جو اس کے والد کی سلت کی بیوی تھی اور یہ آیت اسود بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی اس نے بنت ابی طلحہ بن عبد العزی بن عثمان بن عبدار سے نکاح کیا جبکہ وہ پہلے اس کے باپ کے خلف کے نکاح میں تھی۔ اور فاختہ بنت اسود بن المطلب بن اسد کے بارے میں نازل ہوئی جو امیہ بن خلف کے نکاح میں تھی اور اس سے صفوان بن امیہ نے نکاح کیا اور منظور بن رباب کے بارے میں نازل ہوئی اس نے ملیکہ بن خارجہ سے نکاح کیا جبکہ وہ اس کے باپ رباب بن سیار کے نکاح میں تھی۔ نکاح کے وارث بننے کا غلط طریقہ (3) بیہقی نے اپنی سنن میں مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا تھا تو میت کا قریبی رشتہ دار اس کی بیوی کے پاس آتا اور اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور اس کے نکاح کا وارث بن جاتا۔ جب ابو قیس بن سلت فوت ہوا تو اس کے بیٹے اپنے باپ کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے شادی کرلی لیکن اس کے ساتھ دخول نہیں کیا وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور سب واقعہ ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے قیس کے بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء الا ما قد سلف “ تحریم سے پہلے یہاں تک کہ ماں اور بیٹوں کا حرام ہونے کا حرام ہونے کا بھی ذکر کیا (اور) فرمایا ” وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف “ تحریم سے قبل (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ان اللہ کان غفورا رحیما “ یعنی تحریم سے قبل جو گزر چکا (وہ معاف ہے) ۔ (4) ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب آدمی فوت ہوجاتا تھا تو اس کا بیٹا اس کی بیوی کا حقدار ہوتا تھا اگر وہ چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا تھا اگر وہ اس کی ماں نہ ہوتی یا جس سے چاہتا اس سے نکاح کردیتا تھا جب ابو قیس بن سلت ؓ وفات پاگئے تو اس کا بیٹا محض کھڑا ہوگیا اور اس کی بیوی کے نکاح کا وارث بن گیا (پھر) اس نے نہ تو اس عورت پر خرچ کیا اور نہ ورثہ میں سے کوئی چیز دی۔ وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو یہ ساری بات سنائی آپ نے فرمایا لوٹ جا شاید اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں کچھ نازل فرمائیں گے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ اور ” لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “۔ (5) ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ، جاہلیت میں لوگ تمام عورتوں کو حرام قرار دیتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا مگر باپ کی عورت کو (اور) دو بہنوں کو اکٹھے نکاح میں رکھنے کو حلال سمجھتے تھے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیتیں) اتاریں ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ (اور) ” وان تجمعوا بین الاختین “۔ (6) ابن جریر وابن المنذر وابن حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر وہ عورت جس سے تیرے باپ نے نکاح کیا ہو یا تیرے بیٹے نے، چاہے اس سے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو تو وہ تیرے اوپر حرام ہے۔ (7) عبد الرزاق وابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا کہ ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرتا ہے پھر اس کو دیکھتا بھی نہیں یہاں تک کہ اس کو طلاق دے دیتا ہے تو کیا یہ عورت اس کے بیٹے کے لئے حلال ہوگی ؟ فرمایا نہیں یہ روایت مرسل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ میں نے عطا سے پوچھا ” الا ما قد سلف “ کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں بیٹے اپنے باپ کی عورتوں سے نکاح کرلیتے تھے۔ (8) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اس نے عقد نکاح کیا ہو اور ابھی دخول نہ کیا ہو۔ (9) ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن ابو مریم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مشیخہ سے روایت کیا کہ کوئی آدمی اپنے دادا کی بیوی جو اس کے پاس کی ماں ہے نکاح نہ کرے اس لئے کہ وہ آباء میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “۔ (10) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا ما قد سلف “ یعنی مگر جو کچھ جاہلیت میں تھا۔ (11) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے ” الا ما قد سلف “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں اپنے باپ کی عورت سے نکاح کرلیتا تھا۔ (12) ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء الا ما قد سلف “ مگر جو گزر چکا یعنی جو ہوچکا۔ (13) ابن ابی حاتم نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انہ کان فاحشۃ ومقتا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتے ہیں (اور فرمایا) ” وساء سبیلا “ یعنی یہ راستہ برا ہے جو اس پر عمل کرتا ہے۔ (14) عبد الرزاق ابن ابی شیبہ واحمد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے اپنی سنن میں براء ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے خالو سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی (یعنی اپنی ماں) سے نکاح کرلیا ہے رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو حکم فرمایا ہے کہ میں اس کی گردن ماردوں اور اس کا مال لے لوں۔