4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:124

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مؤمن ہو تو یہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں، اور ان پر اتنا ظلم بھی نہ ہوگا جتنا گڑھا کھجور کی گٹھلی میں ہے

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لیس بامانیکم ولا امانی اہل الکتب “ نازل ہوئی تو اہل کتاب نے کہا تم اور ہم برابر ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ تو مسلمان ان پر غالب آگئے۔ (2) ابن المنذرو ابن جریر نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایمان کو قبول کرنے سے انکار فرمایا گیا مگر نیک عمل کے ساتھ۔ (3) ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن عمران سے ملے اور ان سے اس آیت لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے فرائض مراد ہیں۔ (4) عبد بن حمید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہودی نصرانی اور مشرک خیر کے عمل کرتے ہیں تو وہ ان کو دنیا میں بھیء نفع نہیں دیتے (آخرت میں کیا دیں گے) (5) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتے ہیں جو ایمان کے ساتھ ہو۔ (6) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نقیر وہ نکتہ ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے۔ (7) عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے اور فتیل وہ ریشہ ہے جو اس کے اندر کی جانب میں ہوتا ہے اور نقیر وہ سفید نقطہ ہے جو گٹھلی کے درمیان میں ہوتا ہے۔
Ayahs 4:125–126

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر دین کے اعتبار سے کون اچھا ہوگا جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لئے جھکا دیا، اور وہ اچھے کام کرنے والا ہے، اور اس نے ابراہیم کی ملت کا اتباع کیا جو سارے دینوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف مائل ہونے والے تھے، اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنا لیا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسلام والوں سے کہا اسلام کے سوا کوئی دین نہیں یہ کتاب ایسی ہے کہ جس نے ہر کتاب کو منسوخ کردیا اور ہمارے نبی نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ہمارے دین بہترین دین ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن “۔ (2) حاکم (نے اس کو صھیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ چن لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔ (3) ابن جریر و طبرانی نے السنۃ میں ابن عباس سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی خلت کے ساتھ اور موسیٰ کو کلام کے ساتھ چن لیا اور محمد ﷺ کو دیدار کے ساتھ چن لیا۔ (4) ابن ابی شیبہ و بخاری و ابن الضریس نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ یمن پہنچے اور ان کو صبح کی نماز پڑھائی تو اس میں (یہ آیت) ” واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “ پڑھی تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا البتہ تحقیق ابراہیم کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی۔ (5) حاکم (نے اسے صحیح کہا) اور جندب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو انہوں نے فرماتے ہوئے سنا وفات سے پہلے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنا لیا جیسے ابراہیم کو خلیل بنایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ تھے (6) الطبرانی و ابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو خلیل بنایا اور تمہارا ساتھی (یعنی محمد ﷺ بھی اس کا خلیل ہے اور محمد ﷺ قیامت کے دن بنی آدم کے سردار ہیں پھر (یہ آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا “ پڑھی۔ (7) الطبرانی نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ بلاشبہ انبیاء میں قیامت کے دن دو نبی آپس میں خلیل ہوں گے کوئی اور ان کو خلیل نہ ہوگا اس دن میرا خلیل ابراہیم خلیل اللہ ہوں گے۔ (8) الطبرانی و البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک محل موتی کا ہے اس میں نہ سوراخ ہے نہ ہی اس میں کمزوری ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمانی کے لئے تیار فرمایا ہے۔ (9) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم تعجب کرتے ہو کہ خلت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہے اور کلام موسیٰ کے لئے ہے۔ اور دیدار محمد ﷺ کے لئے ہے۔ (10) الترمذی و ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب نبی ﷺ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کا اتنظار کر رہے تھے آپ باہر تشریف لائے یہاں تک کہ ان کے قریب ہوگئے وہ آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے آپ نے ان کی باتیں سنیں اور جب ان میں سے بعض نے کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے خلیل کو بنایا پس ابراہیم (علیہ السلام) ان کے خلیل ہیں اور دوسرے نے کہا اس بات سے کیوں تعجب کرتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور دوسرے نے کہا عیسیٰ اللہ کی روح اور اس کا حکم ہے ایک اور نے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا آپ ان کے پاس تشریف لائے ان کو سلام کرکے فرمایا میں نے تمہارا کلام سن لیا ہے اور تمہاری بات کو ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں وہ اسی طرح ہے اور موسیٰ اس کے کلیم ہیں اور عیسیٰ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں اور آدم کو ان کے رب نے چن لیا یہ بھی اسیء طرح ہے خبردار بلاشبہ میں بھی اللہ کا حبیب ہوں اور کوئی فخر نہیں اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور میں پہلا آدمی ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں اور میں پہلا آدمی ہوں گا جو جنت کے تالے کو حرکت دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کو کھول دیں گے اور اس میں داخل ہوں گا اس حال میں کہ میرے ساتھ غریب مؤمن لوگ ہوں گے اور کوئی فخر نہیں اور میں پہلے لوگوں کا اور آخری لوگوں کا قیامت کے سن سب سے زیادہ عزت والا ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ (11) زبیر بن بکا (رح) نے (اپنی کتاب) ” موفقیات “ میں روایت کیا کہ ابراہیم کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھے خلیل کیوں بنایا ؟ عرض کیا اے میرے رب میں نہیں جانتا فرمایا میں نے تیرے دل کی طرف دیکھا تو میں نے تجھ کو پایا کہ تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تو سخاوت کرنا پسند کرتا ہے اور کچھ لینا پسند نہیں کرتا۔ (12) ابن المنذر نے ابن زہری (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر میں داخل ہوئے تو ان کے پاس ملک الموت ایک نوجوان کی شکل میں آئے کہ انہوں نے فرمایا اس گھر کے مالک کی اجازت سے تو ابراہیم (علیہ السلام) ان کو پہچان گئے ملک الموت نے ان سے فرمایا بلاشبہ تیرے رب نے اپنے بندوں میں سے ایک خلیل بنایا ہے ابراہیم نے فرمایا اور ہم اس کے لئے ہیں ملک الموت نے پوچھا تو اس کے ساتھ کیا کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا میں اس کا خادم ہوں گا یہاں تک کہ میری موت آجائے۔ ملک الموت نے کہا بیشک تو ہی ہے پھر انہوں نے پوچھا کہ کس چیز کی وجہ سے مجھے انہوں نے اپنا خلیل نبایا ؟ فرمایا آپ دینا پسند کرتے ہیں، لینا پسند نہیں کرتے۔ (13) بیہقی نے شعب میں عبد اللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے جبرئیل کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو کیوں خلیل بنایا ؟ فرمایا اے محمد ﷺ وہ کھانا کھلانا پسند کرتے ہیں۔ (14) الدیلمی نے (ایک بہت ضعیف سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت عباس سے فرمایا اے میرے چچا ! کیا تو جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو کیوں خلیل بنایا جبرئیل ان کی طرف نیچے اتر آئے اور فرمایا اے خلیل کیا تو جانتا ہے تجھے کیوں خلعت عطا کی گئی ؟ انہوں نے فرمایا اے جبرئیل میں نہیں جانتا تو فرمایا کہ آپ (لوگوں کو) عطا کرتے ہیں اور ان سے کچھ نہیں لیتے۔ رسول اللہ ﷺ حبیب اللہ ہیں (15) الحافظ ابو القاسم حمزہ بن یوسف السہمی نے فضائل العباس میں واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ابراہیم کو چنا اس کو خلیل بنایا پھر ابراہیم کی اولاد میں سے اسماعیل کو چنا پھر اسماعیل کی اولاد میں سے نزاد کو چنا پھر نزاد کی اولاد میں سے مضر کو چنا پھر مضر میں سے کنانہ کو چنا۔ پھر کنانہ میں سے قریش کو چنا پھر قریش میں بنو ہاشم میں سے عبد المطلب کو چنا پھر عبد المطلب میں سے مجھ کو چنا۔ (16) الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں و بیہقی نے شعب الایمان میں (اور اس کو ضعیف کہا) و ابن عساکر والدیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو خلیل بنایا موسیٰ کو نجیب بنایا اور مجھے حبیب بنایا پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! میں ضرور ترجیح دوں گا اپنے حبیب کو اپنے خلیل پر اور اپنے نجیب پر۔ (17) بیہقی نے الاسماء والصفات میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ابراہیم کو قطبی کپڑا پہنایا جائے گا اور نبی ﷺ کو خبرہ کا ایک جوڑا پہنایا جائے گا اور آپ عرش کے دائیں طرف ہوں گے (واللہ اعلم)
Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

اور وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتوی دیتا ہے اور وہ جو کتاب میں تم پر تلاوت کیا جاتا ہے ان یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو تم وہ حق نہیں دیتے ہو جو ان کے لئے مقرر کیا گیا اور تم رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرو اور ضعیف بچوں کے بارے میں بھی تم پر آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور یہ کہ تم یتیموں کے حق میں انصاف کے ساتھ قائم رہو۔ اور جو کوئی خیر کا کام کرو گے سو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے

(1) ابن جریر و ابن المنذر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ جاہلیت والے چھوٹے بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ بڑا نہ ہوجائے اور نہ عورت کو میراث دیتے ہیں جب اسلام آیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء، قل اللہ یفتیکم فیہن، وما یتلی علیکم فی الکتب “ یعنی شروع میں فرائض کے بارے میں۔ نابالغ کو میراث سے محروم کرنا بڑا گناہ ہے (2) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی مرد وارث نہیں ہوتا تھا مگر جو بالغ ہوجائے اور اپنے مال کی حفاظت کرسکے اور اس کی بہتری کے لئے کام کرسکے اور نہ وارث ہوتا تھا چھوٹا بچہ اور نہ عورت کسی چیز کے بھی جب سورة نساء میں میراث (کے مسائل) نازل ہوئے تو لوگوں پر یہ بھاری ہوا اور انہوں نے کہا کیا چھوٹا بچہ بھی وارث ہوگا جو اپنے مال کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا اور عورت بھی اسی طرح ہے (کہ اپنے مال کی حفاظت نہیں کرسکتی) کیا وہ لوگ (یعنی عورت اور بچے) وارث ہوں گے جیسے مرد وارث ہوتا ہے اور وہ امید رکھتے تھے کہ اس بارے میں آسمان سے کوئی حکم نازل ہوگا انہوں نے انتظار کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی نئی بات (یعنی نیا حکم) نہیں آتا تو کہنے لگے اگر یہ اسی طرح مکمل ہوگیا کہ یہ فرض ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا پھر انہوں نے کہا (اس بارے میں) سوال کرو انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء، قل اللہ یفتیکم فیھن، وما یتلی علیکم فی الکتب “ شروع سورت میں (پھر فرمایا) ” فی یتمی النساء التی لا تولونھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن “ سعید بن جبیر نے فرمایا جب عورت خوبصورت اور مال والی ہوتی ہے تو اس کا ولی اس میں رغبت کرتا ہے اور اس سے نکاح کرلیتا اور اس کو اپنے لئے خاص کرلیتا اگر وہ خوبصورت نہ ہوتی اور مال والی بھی نہ ہوتی تو اس سے نکاح نہیں کرتا تھا۔ (3) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جاہلیت والے عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ (عورتیں اور بچے) نہ تو جنگ کرتے ہیں نہ مال غنیمت لاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے میراث کا معین حق فرض فرما دیا۔ (4) عبد بن حمید و ابن جریر نے ابراہیم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (زمانہ جاہلیت میں) اگر یتیم بچی بدصورت ہوتی تو اس کو نہ دیتے تھے اور اس کو شادی سے بھی روک لیتے تھے یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور پھر اس کے (مال کے) وارث بن جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حکم اتارا۔ (5) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کوئی یتیم بچی کسی مرد کی گود میں ہوتی تو وہ اس بات میں رغبت رکھتا تھا کہ اس سے نکاح کرے اور اس کے مال میں سے اس کو کچھ بھی نہ دے اس امید پر کہ وہ مرجائے میں اس کے مال کا وارث بن جاؤں گا اگر اس کا کوئی قریبی مرجاتا تو میراث میں سے اسے کوئی چیز نہ دی جاتی اور یہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حکم کو واضح فرمایا اور یہ لوگ چھوٹے کو اور ضعیف کو اور وراثت میں کچھ بھی نہ دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ان کا حصہ دینے کا حکم فرمایا۔ مال کی خاطر نکاح کرنا درست نہیں (6) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جابر بن عبد اللہ کی ایک چچا کی نابینا بیٹی تھی اور وہ بدصورت بھی تھی اس کے باپ کی طرف سے اس کو مال میراث میں ملا تھا جابر اس سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتے تھے اور نہ اس کا نکاح (کسی اور سے) کرتے تھے اس ڈر سے کہ شوہر اس کا مال لے لے گا جابر نے نبی ﷺ سے اس بارے میں پوچھا اسی طرح کچھ لوگوں کی گود میں اجنبی بچیاں تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ (حکم) نازل فرمایا۔ (7) ابن ابی شیبہ نے سدی کے طریق سے ابو مالک (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء التی لا تؤتونھن ما کتب لہن وترغبون ان تنکحوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب ایک عورت ولی کے پاس ہوتی تھی جس کے ساتھ نکاح میں وہ کوئی رغبت نہ رکھتا تھا تو وہ اس سے شادی نہ کرتا تھا اور نہ کسی اور کو شادی کرنے دیتا پھر فرمایا لفظ آیت ” والمستضعفین من الولدان “ اور ضعیف (یعنی عورتوں اور بچوں کو) وارث نہیں بناتے تھے وہ لوگ صرف بڑے لڑکے پھر بڑے لڑکے کو ہی وارث بناتے تھے۔ (8) ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے لفظ آیت ” وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ پڑھا گیا تم پر شروع صورت میں میراث کے بارے میں اور وہ لوگ عورت اور بچے کو وارث نہیں بناتے تھے جب تک کہ وہ بالغ ہوجاتا۔ (9) ابن ابی شیبہ و بخاری و مسلم و نسائی و ابن جریر و ابن المنذر و بیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویستفتنونک فی النساء، قل اللہ یفتیکم فیمن “ سے لے کر ” وتزغبون ان تنکعوھن “ تک اس سے وہ شخص مراد ہے جس کے پاس یتیم بچی ہوتی تھی اور وہ اس کا ولی اور وارث ہوتا تھا وہ بچی اس کے مال میں حصہ دار ہوتی یہاں تک کہ کھجور کے پھل دار درختوں میں بھی حصہ دار ہوتی اور وہ اس سے نکاح کی رغبت رکھتا تھا اور وہ ناپسند کرتا تھا کہ کسی اور مرد سے اس کا نکاح کردیا جائے اور وہ جس مال میں وہ بچی شریک ہے کہیں وہ مرد اس مال میں شریک نہ ہوجائے تو وہ اس کو یوں ہی چھوڑے رکھتا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (10) بخاری و مسلم و ابن جریر و ابن ابی حاتم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کیا تو الہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء، قل اللہ یفتیکم فیہن، وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء “ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا وہ آیت جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ ذکر فرمایا ” وما یتلی علیکم فی الکتب “ سے وہ پہلی آیت مراد ہے جس میں یہ حکم ہے لفظ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النساء “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وتزغبون ان تنکحوھن “ سے مراد ہے کہ تم میں سے کوئی ایک رغبت نہیں رکھتا تھا اس یتیم بچی کے بارے میں جو اس کی گود میں ہوتی تھی جب وہ تھوڑے مال والی اور تھوڑے جمال والی ہوئی تھی تو منع کردیا گیا کہ تم نکاح کرو ان یتیم عورتوں سے رغبت کرتے ہوئے اس کے مال میں اور اس کے جمال میں مگر یہ کہ انصاف کو مدنظر رکھو کیونکہ تم ان سے اعراض کرتے ہو۔ (11) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت میں ایک آدمی کے پاس کوئی بچی ہوتی تھی تو وہ اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا تھا جب وہ ایسا کرلیتا تو پھر وہ اس سے شادی نہیں کرسکتا تھا وہ اگر خوبصورت ہوتی تھی تو اس سے نکاح کرکے اس کا مال کھا جاتا تھا اور اگر وہ بدصورت ہوتی تھی تو اس سے دوسرے لوگوں کو بھی نکاح کرنے سے روک دیتا تھا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تھی جب وہ مرجاتی تو اس کا وارث بن جاتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا اور اس سے منع فرمایا اور وہ چھوٹے بچوں اور بیٹوں کو میراث نہیں دیتے تھے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لا تؤتوھن ما کتب لہن “ تو اللہ تعالیٰ نے اسی سے منع فرمایا اور ہر حصے والے کے لئے اس کے حصہ کو بیان فرمایا چھوٹا ہو یا بڑا۔ (12) عبد الرزاق وعبد بن حمید و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو یتیم بچی کسی آدمی کی گود میں ہوتی تھی اور اس میں بد صورتی ہوتی تھی تو وہ اس سے نکاح کرنے سے اعراض کرتا تھا اور کسی اور سے بھی اس کا نکاح نہیں کرتا تھا اس کے مال کی لالچ میں۔ (13) القاضی اسماعیل نے احکام القرآن میں عبد المالک بن محمد بن حزم (رح) سے روایت کیا کہ عمرہ بنت حزم، سعد بن ربیع کے نکاح میں تھیں وہ احد میں شہید ہوگئے اور اس (بیوی) سے ان کی ایک بیٹی تھی وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی میراث طلب کی اس بارے میں یہ آیت ” ویستفتونک فی النساء “ نازل ہوئی۔ (14) ابن المنذر نے ابن عون کے طریق سے ابن سیرین (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک نے کہا تم اس سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو اور دوسرے نے کہا کہ تم ان سے نکاح کرنے میں رغبت نہیں رکھتے۔ (15) ابن ابی شیبہ و ابن جریر نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” وتزغبون ان تنکحوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم ان عورتوں سے نکاح کرنے میں رغبت نہیں رکھتے۔ (16) ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید نے عبیدہ رحمۃ اللہ سے لفظ آیت ” وتزغبون ان تنکحوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم اس سے نکاح کرنے سے اعراض کرتے ہو۔
Ayahs 4:128–134

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے بدمزاجی کا یا بےرخی کا اندیشہ کرے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی خاص طریقہ پر صلح کرلیں، اور صلح اچھی چیز ہے، اور انسانوں کے نفسوں میں کنجوسی حاضر کردی گئی ہے اور اگر تم اچھا برتاؤ رکھو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہو کہ عورتوں کے درمیان عدل قائم رکھو اگرچہ تم حرص کرو، لہٰذا تم بالکل ہی نہ ڈھل جاؤ، جس کی وجہ سے ایک عورت کو ادھر میں لٹکی ہوئی چھوڑ دو ، اور اگر تم اصلاح کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی عطا کی ہوئی وسعت کے ذریعے بےنیاز کر دے گا۔ اور اللہ کشایش والا اور حکمت والا ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، اور البتہ ہم نے ان لوگوں کو وصیت کی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تم کو بھی وصیت کی کہ اللہ سے ڈرو، اور اگر کفر کرو گے تو بلاشبہ اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ بےنیاز ہے لائق حمد و ستائش ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور کار ساز ہونے کے لئے اللہ کافی ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

اے لوگو اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور دوسروں کو لے آئے، اور اللہ کو اس پر قدرت ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو شخص ارادہ کرے دنیا کے ثواب کا تو اللہ کے پاس دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

شوہر سے صلح کرنا (1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔ (2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر بیوی کے پاس تشریف لے جاتے تھے جبکہ ان سے جماع نہ فرماتے یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچے جس کی باری ہوئی تو آپ اس کے پاس رات گزارتے اور آپ کی بیوی حضرت سودہ بنت رفعہ جب بوڑھی ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو چھوڑنے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا دن (یعنی میری باری والی رات) عائشہ کے لئے ہے اس بات کو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمالیا تو عائشہ ؓ نے فرمایا اس بارے میں اللہ تعالٰٰ نے (مذکورہ آیت) اتاری۔ (3) ابن ابی شیبہ و بخاری و ابن جریر و ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا او اعراضا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی کے پاس ایک عورت ہو اور وہ اسے مزید اپنے پاس رکھنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس کو جدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ عورت کہے میں اپنے حقوق سے آپ کو بری کرتی ہوں تو تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (4) ابن ماجہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” والصلح خیر “ ایک ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس کے نکاح میں ایک عورت تھی کہ اس کے ساتھ رہتے ہوئے لمبی مدت ہوگئی اور اس میں سے اولاد بھی پیدا ہوئی تو اس نے اس کو تبدیل کرنے کا ارادہ کیا تو وہ عورت اپنے خاوند کو اس بات پر راضی کرے کہ وہ مرد اس کے پاس ہی رہے مگر اس کے اخراجات سے بری الذمہ ہوجائے۔ (5) مالک و عبد الرزاق و عبد و ابن المنذر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور رافع بن خدیج (رح) سے روایت کیا کہ اس کے نکاح میں ایک عورت تھی اور وہ اپنی عمر سے گزر گئی (یعنی بوڑھی ہوگئی) تو میں نے اس پر ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کرلیا اور اس (نوجوان لڑکی) کو اس پر ترجیح دینے لگا تو پہلی بیوی نے اس کے پاس ٹھہرنے سے انکار کردیا تو انہوں نے اس کو ایک طلاق دیدی یہاں تک کہ تھوڑی مدت باقی رہ گئی تو اس مرد نے کہا اگر تو چاہے تو میں تجھ سے رجوع کروں اور تو اس (جوان عورت) کو ترجیح دینے پر صبر کرلے اور اگر تو چاہے تو میں تجھ کو چھوڑ دوں اس عورت نے کہا بلکہ میں رجوع کرتی ہوں تو اس نے اس سے رجوع کرلیا لیکن پھر بھی وہ ترجیح پر صبر نہیں کرسکتی تو اس نے اس کو دوسری طلاق دیدی اور اس پر نوجوان عورت کو ترجیح دینے لگا یہ وہ صلح ہے جس کے بارے میں ہم کو خبر پہنچی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ (6) الشافعی و سعید بن منسور و ابن ابی شیبہ و بیہقی نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی رافع بنب خدیج کے نکاح میں تھی اس نے اس سے کسی کام کو ناپسند کیا یا بڑھاپے کی وجہ سے یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے اور اس نے اس کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا مجھے طلاق نہ دو اور میرے لئے تقسیم کرلے (یعنی باری کو تقسیم کر دے) جیسے تو چاہے تو ان دونوں نے آپس میں صلح کرلی تو اس سے یہ طریقہ جاری ہوگیا۔ (7) ابن جریر نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے اس کو درہ مارا پھر دوسرے آدمی نے ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا یعنی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ تو فرمایا کہ اس طرح اور لوگوں نے بھی سوال کیا پھر فرمایا یہ عورت اس آدمی کے پاس تھی وہ اپنی عمر کو گزر گئی (یعنی بوڑھی ہوگئی) تو اس نے اولاد کی تلاش میں دوسری عورت سے نکاح کرلیا اب کسی چیز پر دونوں نے درمیان صلح ہوگئی تو یہ جائز ہے۔ (8) الطیالسی و ابن ابی شیبہ وابن راھویہ و عبد بن حمید و ابن کریر و ابن المنذر والبیہقی نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایک مرد کے پاس دو عورتیں ان میں سے ایک بوڑھی ہوگئی یا بدصورت ہوگئی اور اس نے اس کو جدا کرنے کا ارادہ کرلیا تو وہ عورت مرد سے اس بات پر صلح کرلے کہ مرد اس کے پاس ایک رات رہے دوسری کے پاس کئی راتیں رہے اور وہ اس کو جدا نہ کرے جتنا عرصہ وہ خوش رہے تو (ایسی صلح کرلینے میں) کوئی حرج نہیں اور اگر عورت اسی مصالحت سے رجوع کرلے تو مرد دونوں میں برابر ہی رجوع کرے۔ (9) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت جو کسی مرد سے نکاح میں ہو اور بوڑھی ہوجائے اور وہ مرد ایک عورت سے شادی کرنا چاہے اس عورت کے ہوتے ہوئے تو دونوں آپس میں صلح کرلیں اس بات پر یہ ایک دن اس کے لئے ہوگا اور دو دن یا تین دن دوسری کے لئے ہوں گے۔ میاں بیوی میں محبت کم ہوجائے تو صلح کرلے (10) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت جو کسی مرد کے نکاح میں ہو جو اس مرد سے بہت محبت کو نہیں پانی جب اس مرد کی ایک اور بیوی بھی ہو جو اس کی طرف زیادہ محبوب ہے اس سے اور وہ اس کو اس پر ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اگر ایسا ہو تو اس سے کہہ دے اے فلانی اگر تو چاہے تو میرے پاس مقیم رہے اس حال میں جو تو دیکھ رہی ہے کہ میں دوسری بیوی کو ترجیح دیتا ہوں تو میں تیرے ساتھ ہمدردی کروں گا اور میں تجھ پر خرچ کرتا رہوں گا پس تو میرے پاس قائم رہ اگر تو ناپسند کرے تو میں تیرا راستہ چھوڑ دوں (یعنی تجھ کو طلاق دیدوں) اگر وہ راضی ہوجائے اس مرد کے پاس رہنے پر جبکہ مرد نے اسے اختیار دیا تھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” والصلح خیر “ یعنی اختیار دینا مرد کے ساتھ رہے اور جدائی اختیار کرنے ایک عورت کو دوسری عورت پر لگاتار ترجیح دینے سے زیادہ بہتر ہے۔ (11) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی جس کے نکاح میں ایک بڑی عمر والی عورت ہے پھر اس نے اس پر ایک جوان عورت سے نکاح کرلیا اور وہ اس بچوں کی ماں کو جدا کرنے کو ناپسند کرتا ہے پس وہ عورت صلح کرلے عطیہ دینے پر اپنے مال سے اور اپنی جان سے پس اس کے لئے یہ صلح اچھی ہے۔ (12) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ابی السابل بن غضاک کے بارے میں نازل ہوئی۔ (13) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) رسول اللہ ﷺ اور ان کی بیوی (حضرت سودہ بنت زمعہ) کے بارے میں نازل ہوئی۔ (14) ابو داؤد، ابن ماجہ، حاکم اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک حلال میں سے سب سے بری چیز طلاق ہے۔ (15) الحاکم نت کثیر بن عبد اللہ بن عوف (رح) سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول الہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر صلح مسلمانوں کے نزدیک جائز ہے مگر ایسی صلح جو حلال کو حرام کر دے اور حرام کو حلال کر دے (تو یہ جائز نہیں) اور مسلمانوں کو انہی شرطیں پوری کرنی ہوں گی مگر ایسی شرطیں پوری کرنی ہوں مگر ایسی شرط کرنا (جائز نہیں کہ وہ حرام کر دے حلال چیزوں کو) (16) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ نے لفظ آیت ” واحضرت الانفس الشح “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے وہ عورت صلح کے وقت خاوند سے اپنا حصہ لینے میں بخل سے کام لیتی ہے۔ (17) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحضرت الانفس الشح “ سے مراد ہے کہ وہ دوسرے آدمی سے ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے جس پر دوسرا آدمی حرص کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء “ کہ تم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں سے محبت کرنے اور جماع کرنے میں عدل کرو اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ “ سے مراد ہے کہ تم ایک کی طرف یوں مائل نہ ہوجاؤ کہ دوسری کو اس طرح چھوڑ دو کہ بیوہ ہو اور نہ خاوند والی ہو۔ (18) ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء “ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی نبی ﷺ دوسری بیویوں سے زیادہ اس سے محبت فرماتے تھے۔ ایک سے زیادہ بیویوں میں باری مقرر کرنا (19) ابن ابی شیبہ و احمد و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اپنی عورتوں کے درمیان باری تقسیم فرمایا کرتے تھے اور انصاف فرماتے تھے پھر آپ فرماتے تھے اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے اس چیز کا جس کا میں مالک ہوں اور مجھے اس بارے میں ملامت نہ کیجئے جس کا تو مالک ہے اور میں اس کا مالک نہیں۔ (20) ابن ابی شیبہ و احمد و عبد بن حمید و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و ابن جریر و ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی دو عورتیں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف مائل ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔ (21) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و ابن المنذر (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام) اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ سوکنوں کے درمیان برابری رکھیں یہاں تک کہ خوشبو میں بھی وہ جس طرح ایک عورت کے لئے خوشبو لگاتے اسی طرح دوسری کے لئے بھی خوشبو لگاتے۔ (22) ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید و ابن المنذر نے جابر بن زید (رح) سے روایت کیا کہ میری دو بیویوں تھیں میں ان کے درمیان انصاف کرتا ہوں یہاں تک کہ بوسہ لینے میں بھی۔ (23) ابن ابی شیبہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ وہ آدمی جس کی دو عورتیں ہوں وہ اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ وہ ان میں سے ایک کے گھر وضو کرے دوسری کو چھوڑ کر۔ (24) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) نے فرمایا کہ وہ لوگ سوکنوں میں برابری کرتے تھے یہاں تک کہ جو باقی رہ جاتا تھا ان چیزوں میں سے جس کو کیل نہیں ہوسکتی ستو میں سے اور طعام میں سے تو اس کو ایک ایک ہتھیلی کرکے تقسیم کرتے تھے۔ (25) ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء “ یعنی تم عورتوں سے جماع کرنے میں برابری کی طاقت نہیں رکھتے۔ (26) ابن ابی شیبہ و بیہقی نے عبیدہ (رح) سے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء “ کہ تم محبت میں برابری کی طاقت نہیں رکھتے ” فلا تمیلوا کل المیل “ یعنی جماع کرنے میں ایک طرف مائل نہ ہوجاؤ ” فتدروھا کالمعلقۃ “ اس کو چھوڑ دو اس حال میں کہ نہ وہ بیوہ ہو اور نہ خاوند والی ہو۔ (27) ابن جریر و ابن المنذر و بیہقی نے مجاہد (رح) سے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء “ یعنی محبت میں برابر کی طاقت نہیں رکھتے (اور) ” فلا تمیلوا کل المیل “ تو ایک دوسرے کے ساتھ برائی کا ارادہ نہ کرو۔ (28) ابن جریر نے سدی (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ نہ تو اس طرف (اتنا) مائل ہوجائے اور نہ اس پر (یعنی دوسری بیوی پر) خرچ کرے اور نہ اس کے لئے کوئی دن تقسیم کرے۔ (29) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ تو ایک سے محبت رکھے اور دوسری سے بغض رکھے (بلکہ) تو ان کے درمیان انصاف کرے۔ (30) ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” فتذروھا کالمعلقۃ “ کہ تم اسے یوں چھوڑو کہ نہ تو وہ طلاق والی ہو اور نہ شوہر والی ہو (کہ درمیان میں لٹک جائے) (31) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن المنذر و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے فرمایا کہ ” کالمعلقۃ “ سے مراد ہے قید کی ہوئی۔ (32) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے فرمایا کہ ” وان یتفرقا “ سے طلاق مراد ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے دے۔ (33) ابن جریر و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” وکان اللہ غنیا حمیدا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے۔ اور ” حمیدا “ سے مراد ہے ان کے ہاں حمد کے لائق ہے۔ حضرت علی ؓ سے اسی طرح کی روایت ہے۔ (34) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے فرمایا لفظ آیت ” وکفی باللہ وکیلا “ سے مراد ہے حفاظت کرنے والا (نگہبانی) (35) عبد بن حمید و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے فرمایا کہ لفظ آیت ” ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین “ یعنی اللہ کی قسم ! ہمارے رب قادر ہیں اس بات پر کہ وہ اپنی مخلوق سے جس کو چاہیں ہلاک کردیں اور ان کے بعد دوسروں کو لے آئیں۔
Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! انصاف پر قائم ہونے والے اللہ ہی کے لئے گواہی دینے والے بن کر رہو اگرچہ تمہاری جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے، اگر غنی ہے یا فقیر ہے تو اللہ تعالیٰ کو دونوں کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق ہے سو تم انصاف کرنے میں خواہش نفس کا اتباع نہ کرو اور اگر تم کج بیانی کرو گے تو بلاشبہ اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے

(1) ابن المنذر و ابن ابی حاتم و البیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ حق بات کہیں اگرچہ وہ ان کے اپنے آباء یا ان کے اپنے بیٹوں کے خلاف ہو وہ مالدار سے اس کی مالداری کی وجہ سے نہ ڈریں اور نہ ہی مسکین پر اس کی مسکینی کی وجہ سے رحم کریں اور فرمایا لفظ آیت ” فلاتتبعوا الھوی “ یعنی خواہشات کی تابعداری نہ کرو کہ حق کو چھوڑ بیٹھو اور ظلم کرنے لگو اور فرمایا ” وان تلوا “ یعنی اپنی زبانوں کو دہرانہ کرو گواہی دیتے وقت یا اعراض نہ کرو گواہی دینے سے۔ (2) ابن ابی شیبہ و احمد فی الزھد وابن جریر وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و ابو نعیم نے الحلیہ میں ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” یایہا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھداء للہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی قاضی کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں دوسرے کی نسبت قاضی ایک کے لئے جھکتا ہے یا اعراض کرتا۔ انصاف کے ساتھ شہادت دینا (3) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) کے واسطہ سے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام سے روایت نقل کی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو پہلی سورة بقرہ نازل ہوئی پھر اس کے پیچھے سورة نساء نازل ہوئی ایک آدمی کے پاس شہادت ہوتی تھی اپنے بیٹے اپنے چچا اور اپنے رشتہ دار کے بارے میں وہ شہادت بیان کرتے ہوئے اپنی زبان کو پھیر لیتا ہے یا اس کو چھپا لیتا ہے اس کی وجہ اس آدمی کی تنگدستی ہوئی وہ خیال کرتے کہ خوشحال ہوجائے تو اس وقت اس کے خلاف دوں گا تو یہ حق ادا کر دے گا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ........... الخ “ یعنی وہ مالدار ہے یا فقیر تم اللہ کی رضا کے لئے گواہی دو ۔ (4) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نبی ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی ان کی طرف دو آدمیوں نے جھگڑا کیا ایک مالدار تھا ایک فقیر تھا آپ ﷺ کی ہمدردی اس فقیر کے ساتھ تھی اور آپ کی رائے تھی کہ فقیر غنی پر ظلم نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ نے انکار کیا مگر یہ کہ وہ انصاف کے ساتھ قائم رہیں غنی اور فقیر کے بارے میں۔ (5) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ شہادت کے بارے میں ہے یعنی صحیح گواہی دو اے ابن آدم ! اگرچہ وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین یا قریبی رشتہ داری یا اپنی قوم کے معززین کے خلاف ہو بلاشبہ شہادت اللہ کے لئے ہوتی ہے نہ کہ لوگوں کے لئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں اپنے بارے میں عدل و انصاف کے ساتھ اور عدل و انصاف اللہ تعالیٰ کے ترازو ہیں زمین میں اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ لوٹاتے ہیں قوی سے ضعیف پر صادق سے کاذب پر باطل پرست سے حق پرست پر اس انصاف کے ذریعہ سچ بولنے والے کی تصدیق کرتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کی تکذیب کرتا ہے اللہ تعالیٰ جو ہمارا باپ ہے اس کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو واپس لوٹاتا ہے اسی انصاف کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کرتا ہے اے ابن آدم اگر وہ غنی ہو یا فقیر ہو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ زیادہ شفقت کرنے والا ہے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ زیادہ شفقت کرنے والا ہے تمہارے مالدار اور تمہارے فقیر سے مالدار کو مالداری اور فقیر کو فقیری سے تمہیں اس بات سے نہ روکے کہ جو کچھ تو جانتا ہے اس کے بارے میں گواہی دے کیونکہ یہ حق ہے پھر فرمایا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میرے رب تو نے کونسی چیز زمین میں قلیل رکھی ہے ؟ فرمایا جو چیز میں نے قلیل رکھی ہے وہ عدل ہے۔ (6) ابن جریر نے ابن عباس ؓ لفظ آیت ” وان تلوا او تعرضوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ تیرا زبان کو ناحق موڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تو زبان کو حرکت تو دے مگر صحیح طور پر گواہی نہ دے اور اعراض سے مراد ہے ترک کرنا۔ (7) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” وان تلوا “ سے مراد تحریف کرنا ” او تعرضوا “ سے مراد ہے چھوڑ دینا۔ (8) آدم و بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے ” وان تلوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ تم شہادت کو بدل دو اور ” او تعرضوا “ سے مراد ہے اس گواہی کو چھپا دو ۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائی اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائیں۔ اور جو شخص منکر ہو اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ گمراہ ہو کر دور کی گمراہی میں جا پڑا

(1) ثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن سلام اسد اور اسید کعب کے بیٹے ثعلبہ بن قیس اور سلام عبد اللہ بن سلام کے بھانجے اور سلمہ بھتیجے اور یامین بن یامین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر موسیٰ پر توراۃ پر اور عزیر پر ایمان لے آئے اور ہم انکار کرتے رہے ان کے علاوہ کتابوں کا اور رسولوں کا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول محمد ﷺ پر اور اس کی کتاب قرآن پر اور ہر کتاب پر جو اس سے پہلے تھی انہوں نے کہا ہم ایسا تو نہیں کرتے اس پر یہ آیت ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل “ تو سب پر سب ایمان لے آئے۔ (2) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا امنوا بالہ ورسولہ “ یعنی یہ اہل کتاب سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا تھا تورات اور انجیل میں اور ان سے اقرار کرایا تھا کہ وہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا ان کو بلایا کہ وہ لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور قرآن حکیم پر بھی اور ان کو یاد دلایا جو ان سے پکا وعدہ لیا گیا تھا پس بعض ان میں سے وہ تھے جنہوں نے نبی ﷺ کی تصدیق کی اور اس کی تابعداری کی اور بعض ان میں سے وہ تھے کہ جنہوں نے انکار کردیا۔
Ayahs 4:137–139

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے تو اللہ ان کو نہیں بخشے گا اور نہ ان کو راہ دکھائے گا

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقین کو خوشخبری سنا دیجئے کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں بلاشبہ ساری عزت اللہ کے لئے ہے۔

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہودی اور نصاری مراد ہے یہود تورات پر ایمان لے آئے پھر انکار کردیا اور نصاری انجیل پر ایمان لائے پھر بعد میں اس کا انکار کردیا۔ (2) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ سے مراد یہودی ہیں تورات پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر نصاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ یعنی انجیل پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر فرمایا لفظ آیت ” ثم ازدادوا کفرا “ یعنی محمد ﷺ کا انکار کرنے سے کفر میں مزید اضافہ کیا پھر فرمایا لفظ آیت ” ولا لیھدیہم سبیلا “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت کے راستے پر نہیں چلاتے اور تحقیق وہ اللہ کی آیات کا انکار کرچکے ہیں۔ (3) ابن جریر نے ابن زیاد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ منافق لوگ جو دو مرتبہ ایمان لائے اور دو مرتبہ توبہ کافر ہوگئے لفظ آیت ” ثم ازدادوا کفرا “ (پھر کفر میں زیادہ ہوتے چلے گئے) (4) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ منافق مراد ہیں۔ (5) ابن جریر و ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے مرتد کے بارے میں فرمایا کہ تو اس سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کر پھر یہ آیت پڑھی ” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا “ (6) ابن المنذر و بیہقی نے اپنی سنن میں فضالہ بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ ان کے پاس مسلمانوں میں سے ایک آدمی لایا گیا اور وہ دشمن کی طرف بھاگ گیا تھا انہوں نے اس پر اسلام پیش کیا تو وہ مسلمان ہوگیا۔ پھر دوسری مرتبہ بھاگ گیا پھر اس کو لایا گیا آپ نے اس کو اسلام پیش کیا پھر وہ تیسری مرتبہ بھاگ گیا پھر اس کا لایا گیا آپ نے اس آیت کے ساتھ استدلال کیا لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا “ سے لے کر ” سبیلا “ تک پھر اس کی گردن اڑا دی۔ (7) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم ازداروا کفرا “ سے مراد ہے کہ وہ کفر میں مکمل ہوئے یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ (8) الحاکم نے تاریخ میں الدیلمی و ابن عساکر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر دن فرماتے ہیں میں تمہارا رب ہوں غالب زبردست پس جو شخص دو جہانوں کی عزت کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ اس ذات کی اطاعت کرے جو غالب ہے زبردست ہے۔
Ayahs 4:140–141

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور اللہ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق کیا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں۔ بلاشبہ تم اس حالت میں ان جیسے ہوجاؤ گے، بلاشبہ اللہ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو دوزخ میں جمع فرما دے گا

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہارے اوپر کوئی مصیبت آپڑے، سو اگر تمہارے لئے اللہ کی طرف فتح یابی حاصل ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے تو ان سے کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہ آگئے تھے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے نہیں بچایا، سو اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلے فرمائے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں غالب نہ فرمائے گا

(1) ابن المنذر و ابن جریر نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ایک کسی مجلس میں ایسی جھوٹی بات کہتا ہے اس کے ذریعہ اپنے ہم نشینوں کو ہنساتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتے ہیں یہ بات ابراہیم نخعی (رح) کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا ابو وائل نے سچ کہا کیا یہ اللہ کی کتاب میں نہیں ہے لفظ آیت ” فلا یقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “ (2) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سورة امام میں (یہ آیت) اتاری گئی لفظ آیت ” حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “ تم سورة نساء میں سخت حکم نازل ہوا۔ یعنی ” انکم اذا مثلہم “ (3) ابن المنذر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب مؤمنین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوتے اور قرآن نازل ہوتا تو مشرکین بد زبانی کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ (مذاق کے علاوہ) کوئی اور بات شروع نہ کریں۔ (4) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اہل مدینہ میں سے منافقین کو اور اہل مکہ میں سے مشرکین کو جو قرآن کا مذاق اڑاتے تھے سب کو جہنم میں جمع فرمائیں گے۔ (5) ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین یتربصون بکم “ یعنی منافق لوگ ایمان والوں کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرتے تھے پھر فرمایا لفظ آیت ” فان کان لکم فتح من اللہ “ یعنی اگر مسلمان کو ان کے دشمن سے غنیمت کا مال مل جائے تو منافق کہتے ہیں ” الم نکن معکم “ کہ ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اس لئے ہم کو بھی غنیمت میں سے دو جیسے تم لے رہے ہو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وان کان للکفرین نصیب “ یعنی اگر کافروں کو مسلمانوں سے کچھ مال جاتا تو منافق کافروں سے کہتے تھے لفظ آیت ” الم نستحوذ علیکم “ یعنی کیا ہم نے تم کو نہیں بتایا تھا اور ہم اسی (دین) پر ہیں جس پر تم ہو اور ہم نے ان کو تم سے روکا تھا (6) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الم نستحوذ علیکم “ یعنی کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے۔ (7) عبد الرزاق والفریابی و عبد بن حمید و ابن المنذر والحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا اس آیت ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “ کے بارے میں بتائیے۔ کہ کفار ہم سے لڑتے ہیں اور وہ غالب آتے ہیں اور وہ قتل بھی کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا قریب ہو قریب ہو ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے (اور فرمایا) لفظ آیت ” ولن یجعل اللہ علی المؤمنین سبیئلا “ (8) ابن جریر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولن یجعل اللہ علی المؤمنین سبیلا “ یعنی آخرت میں یہ فیصلہ ہوگا۔ (9) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولن تجعل اللہ علی المؤمنین سبیلا “ یعنی یہ قیامت کے دن فیصلہ ہوگا۔ (10) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولن یجعل اللہ علی المؤمنین سبیلا “ یہ فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ (11) سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سبیلا “ سے مراد ہے حجت۔
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ ان کی دھوکہ بازی کی ان کو سزا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا سا

(1) ابن جریر و ابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہر مؤمن اور منافق پر روشنی پھینکی جائے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن چلیں گے یہاں تک کہ جب پل صراط پر پہنچیں گے تو منافقین کا نور بجھ جائے گا اور مؤمن لوگ اس نور کے ساتھ چلتے رہیں گے یہ اللہ کی ان کے ساتھ خدیعہ ہوگی۔ (2) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وھو خادعھم “ سے مراد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو نور دے گا جس میں وہ مسلمانوں کے ساتھ چلیں گے جیسا کہ وہ دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے پھر ان کا یہ نور (اللہ تعالیٰ ) کھینچ لیں گے اور اس کو بچھا دیں گے تو وہ اپنے اندھیروں میں کھڑے رہ جائیں گے۔ ابن المنذر نے مجاہد و سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ (3) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور ابو عامر بن نعمان کے بارے میں نازل ہوئی۔ (4) ابن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن ابی الدنیا نے الصحت میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ ایک آدمی یوں کہے میں سست ہوں اور اس آدمی کی تاویل فرماتے تھے۔ (5) ابو یعلی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز کر پڑھتا ہے اور اس کو بری طرح پڑھتا ہے جب خلوت میں ہوتا ہے تو یہ استہانت ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنے رب کو حقیر جانتا ہے۔ (6) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یراء ون الناس “ یعنی اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ نہ ہوتے تو منافق نماز نہ پڑھتے تھے اور صرف دکھاوے اور شہرت کے لئے نماز پڑھتا ہے۔ (7) ابن ابی شیبہ و ابن جریر و ابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یذکرون اللہ الا قلیلا “ اس وجہ سے کہ وہ غیر اللہ کے لئے ہوتی ہے۔ (8) عبد بن حمید و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یذکرون اللہ الا قلیلا “ بلاشبہ منافق کا ذکر تھوڑا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں فرماتے اور ہر چیز جس کو اللہ تعالیٰ رد فرما دیں وہ تھوڑی ہوتی ہے اور ہر وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے وہ بہت ہوتی ہے۔ تقویٰ کے ساتھ عمل کرو (9) ابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ کوئی عمل تقوی کے ساتھ تھوڑا نہیں ہوتا اور کیسے تھوڑا ہوگا جو قبول کرلیا جائے۔ (10) مسلم و ابو داؤد و البیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی نماز ہے بیٹھ کر سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے مار لیتا ہے اور اس میں تھوڑا سا اللہ کو یاد کرلیتا ہے۔
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں اس کے درمیان، نہ ان لوگوں کی طرف نہ ان لوگوں کی طرف، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے تو ہرگز کوئی راستہ نہ پائے گا

(1) ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن منافق اور کافر کی مثال تین آدمیوں کی طرح ہے جو ایک وادی کی طرف گئے ان میں سے ایک اس میں داخل ہوگیا اور اس نے اس کو عبور کرکے (دوسرے کنارے پر) آگیا۔ پھر ان میں سے دوسرا اس میں داخل ہوا جب وادی کے نصف پر پہنچا تو اس کو آواز دی اس آدمی نے جو وادی کے کنارے پر تھا ہلاکت ہو تیرے لئے تو کہاں ہلاکت کی طرف جا رہا ہے۔ لوٹ آ جہاں سے تو چلا تھا اور وہ آدمی اس کو آواز دیتا ہے جو (وادی) کو عبور کرچکا تھا ادھر آجا نجات اس طرف ہے تو اس نے کبھی ادھر اور کبھی ادھر دیکھنا شروع کیا اس درمیان ایک سیلاب آیا اور وہ اس میں غرق ہوگیا جو عبور کر گیا وہ مؤمن ہے جو غرق ہوا وہ منافق ہے جو کنارے پر ٹھہرا رہا وہ ادھر ادھر تذبذب کا شکار رہا وہ کافر ہے۔ (2) ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” مذبذبین بین ذلک، لا الی ھؤلاء ولا الی ھؤلاء “ یعنی (یہ لوگ) یہ مخلص ایمان والے ہیں اور نہ مشرک ہیں کہ جن کا شرک واضح ہو پھر فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ مؤمن، کافر اور منافق کے لئے ایک مثال بیان فرماتے تھے جیسے مثال تین آدمیوں کی جو ایک نہر پر پہنچے مؤمن اس میں کور کر پار ہوگیا پھر منافق کو دا یہاں تک کہ قریب تھا کہ مؤمن کے پاس پہنچ جائے کافر نے اس کو آواز دی کہ میری طرف آجاؤ مجھے تجھ پر ڈر ہے کہیں ڈوب نہ جاؤ۔ مؤمن نے اس کو آواز دی کہ میری طرف آجاؤ میرے پاس تیرے لئے نجات ہے اور اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی طرف پھینکتا ہے منافق برابر ان دونوں کے درمیان متردد رہتا ہے یہاں تک کہ اس پر پانی آتا ہے اور وہ غرق ہوجاتا ہے منافق برابر شک اور شبہ میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس پر موت آجاتی ہے اور اس حال میں ہوتا ہے۔ (3) ابن جریر و ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مذبذبین بین ذلک “ سے منافق مراد ہے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” لا الی ھؤلاء “ یعنی نہ تو وہ اصحاب محمد ﷺ کی طرف ہیں اور نہ ان یہودیوں کی طرف ہے۔ (4) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مذبذبین بین ذلک “ یعنی متردد ہیں اسلام اور کفر کے درمیان۔ (5) عبد بن حمید و بخاری نے اپنی تاریخ میں و مسلم و ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن عمر رجی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں میں بھاگنے والے بکری کی طرح ہے کبھی اس طرف بھاگتی ہے کبھی دوسری طرف بھاگتی ہے۔ وہ نہیں جانتی کہ کس کے پیچھے چلے۔ (6) احمد و بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال قیامت کے دن اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان دوڑتی پھرتی ہے جب اس ریوڑ کے پاس آئے تو اسے سینگ مارتی ہے۔ اور جب دوسرے ریوڑ کے پاس جائے تو وہ اسے ٹکر مارتی ہے۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی صریح حجت قائم کرلو

(1) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا “ یعنی تمام مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی واضح دلیل موجود ہے۔ (2) عبد الرزاق و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی سلطان کا لفظ ہے اس سے مراد حجت ہے۔