4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں جس شخص کو اس کا مقدور نہ ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو آپس کی ایمان والی باندیوں سے نکاح کرلے جو تمہاری مملوکہ ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے ایمان کو، تم سب آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہو، سو تم مذکورہ باندیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو اور انہیں ان کے مہر بہتر طریقہ پردے دو ، یہ منکوحہ باندیاں نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ طریقہ پر دوست بنانے والی ہوں، پس جب وہ باندیاں نکاح میں آجائیں تو اگر کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں تو ان پر اس کی آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں پر ہے، یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رکھتا ہو، اور یہ بات کہ صبر کرو بہتر ہے تمہارے لئے، اور اللہ غفور ہے رحیم ہے

ایمان والی باندیوں سے نکاح کرنا (1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” ومن لم یستطع منکم طولا “ یعنی جو شخص آزاد عورتوں سے (نکاح کرنے کی) طاقت نہ رکھتا ہو لفظ آیت ” فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “ (یعنی اس کو چاہئے کہ ایمان والی باندیاں سے نکاح کرے۔” محصنت غیر مسفحت “ پاک دامن بنتے ہوئے کہ اعلانیہ یا خفیہ طریقے سے بدکاری کرتے ہوئے ” ولا متخذت اخدان “ یعنی نہ خفیہ دوست بناتے ہوئے لفظ آیت ” فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ “ یعنی جب وہ غلام عورتیں کسی مرد سے شادی کرنے کے بعد بدکاری کریں ” فعلیہن نصف ما علی المحصنت من العذاب “ یعنی کوڑے لگانے میں (باندیوں کے لئے آدھی سزا ہوگی) ” ذلک لمن خشی العنت “ یہ حکم آزاد مردوں کے لئے جو وہ صبر کرے باندیوں سے نکاح نہ کرے ” خیر کم “ تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ (2) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ وہ نکاح کرے باندی سے آزاد پر اور نکاح کرے آزاد سے باندی پر اور جو آدمی طاقت رکھے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی تو وہ باندی سے نکاح نہ کرے۔ (3) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن لم یستطع منکم طولا “ یعنی جو آدمی تم میں سے مالداری کو نہ پائے لفظ آیت ” ان ینکح المحصنت “ کے آزاد عورت سے نکاح کرے تو اس کو چاہئے کہ مومن باندی سے نکاح کرے ” وان تصبروا “ اور اگر صبر کرے کہ باندی سے نکاح نہ کرے تو فرمایا لفظ آیت ” خیر لکم “ یعنی یہ بہتر ہے تمہارے لئے۔ (4) ابن جریر وابن المنذر نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آزاد آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو باندی سے شادی کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا اگر وہ طاقت رکھتا ہو تو باندی سے شادی نہ کرے کہا گیا اگر وہ اپنے دل میں باندی کی محبت رکھتا ہو ؟ (تو پھر کیا کرے) تو انہوں نے فرمایا اگر بدکاری کا خوف ہو تو اس کو چاہئے کہ (باندی سے) شادی کرلے۔ (5) ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے باندی سے نکاح کو حلال کردیا ہے اگر وہ آزاد عورت سے نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اپنے آپ پر زنا ہوجانے سے ڈرتا ہو۔ (6) ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان چیزوں میں سے کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے وسعت دی اس امت کو وہ یہ ہیں کہ وہ باندی یہودی عورت اور نصرانی عورت سے نکاح کرسکتا ہو اگر وہ مالدار ہے۔ (7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من فتیتکم “ سے مراد ہے تمہاری باندیوں سے۔ (8) عبد الرزاق، سعید بن منصور وابن ابی شیبہ والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اہل کتاب کی باندیوں سے نکاح درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” من فتیتکم المؤمنت “۔ (9) ابن المنذر اور بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اس امت کے لئے رخصت ہے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے میں اور ان کی باندیوں کے بارے میں رخصت نہیں دی گئی۔ (11) ابن ابی شیبہ والبیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آزاد آدمی ایک لونڈی سے عقد نکاح کرسکتا ہے۔ (12) ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک لونڈی سے عقد نکاح کیا اجازت دی ہے اس کے لئے جو اپنے اوپر زنا سے ڈرتا ہو اور وہ آزاد عورت سے شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ (13) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پھر تقدیم کے بارے میں لفظ آیت ” واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض “۔ (14) ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانکحوہن باذن اھلہن “ یعنی ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو لفظ آیت ” واتوہن اجورہن “ یعنی ان کے مہر ان کو دے دو ۔ (15) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مسفحت “ یعنی اعلانیہ بدکاری کرنے والیاں لفظ آیت ” ولا متخذت اخدان “ یعنی دوست بنانے والیاں (پھر) فرمایا زمانہ جاہلیت میں جو اعلانیہ بدکاری کی جاتی اسے لوگ حرام کہتے اور جو چھپے ہوئے بدکاری کی جاتی اسے لوگ حلال خیال کرتے اور وہ کہتے تھے کہ جس عورت سے زنا ظاہر ہوجائے تو وہ ملامت والی ہے اور جس عورت کا زنا چھپا ہوا ہے تو اس کا کوئی حرج نہیں تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ ” ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا وما بطن “۔ (16) ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا احصن “ ان کے احصان سے مراد ان کا اسلام قبول کرنا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا ان کو کوڑے لگاؤ ابن ابی حاتم نے کہا یہ حدیث منکر ہے۔ (17) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا ایسی لونڈی کے بارے میں جس نے زنا کیا اور اس کا شوہر بھی نہ تھا تو فرمایا اس کو پچاس کوڑے لگاؤ سائل نے کہا اسے حیض نہیں آتا اور فرمایا اس کا مسلمان ہونا ہی اس کا احسان ہے۔ باندی زنا کرے تو پچاس کوڑے کی سزا ہے (18) عبد الرزاق نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے باندی کے بارے میں فرمایا جس کا شوہر نہیں تھا اس نے بدکاری کی اس کو کوڑے لگائے جائیں گے لفظ آیت ” نصف ما علی المحصنت من العذاب “ (یعنی آدھی سزا ملے گی آزاد عورتوں کے مقابلہ میں) ۔ (19) عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا احصن “ الف کے فتح کے ساتھ پڑھا اور فرمایا اس کا احسان اس کا مسلمان ہونا ہے۔ (20) ابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا احصن “ سے مراد ہے جب وہ مسلمان ہوجائیں۔ (21) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” فاذا احصن “ یعنی جب وہ مسلمان ہوجائیں اور مجاہدیوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” فاذا احصن “ یعنی جب وہ شادی کرلیں جب تک وہ شادی نہ کرے تو ان پر کوئی حد نہیں۔ (22) ابن المنذر وابن مردویہ والضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فاذا احصن “ یعنی الف کے رفع کے ساتھ وہ فرماتے تھے (جب) وہ شادی کر کے محصن ہوجائیں یعنی باندی کو کوڑے نہ لگاؤ یہاں تک کہ وہ شادی کرے۔ (23) سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیہن “ تو اس پر حد نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ شادی نہ کرے۔ (24) سعید بن منصور وابن خزیمہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ نے فرمایا باندی پر کوئی حد نہیں یہاں تک کہ وہ کسی مرد سے شادی نہ کرے جب وہ کسی مرد سے شادی کرلے تو اس پر آدھی سزا ہے آزاد عورت کے مقابلے میں (ابن خزیمہ اور بیہقی نے کہا اسے مرفوع نقل کرنا غلط ہے) صحیح یہ ہے کہ موقوف روایت ہے۔ (25) ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” فاذا احصن “ یعنی جب وہ شادی کرلے۔ (26) عبد الرزاق و سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ باندی پر کسی حد کو نہیں دیکھتے یہاں تک کہ وہ کسی آزاد مرد سے شادی نہ کرلے۔ (27) عبد الرزاق و بخاری ومسلم نے زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ بدکاری کرتی ہے اور شادی شدہ نہیں ہے۔ تو آپ نے فرمایا اس کو کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ پھر اس کو بیچ دو اگرچہ بالوں کی ایک چٹیا کے بدلے میں ہو۔ (28) سعید بن منصور وابن المنذر نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنی باندی کو حد لگایا کرتے تھے جب وہ زنا کرتی تھیں چاہے وہ شادی شدہ ہوتی تھیں یا غیر شادی شدہ ہوتی تھیں۔ (29) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان کی بعض قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” فاذا اتین بفاحشۃ “۔ (30) ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے لفظ آیت ” فعلیہن نصف ما علی المحصنت من العذاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہیں پچاس کوڑے۔ نہ جلا وطن نہ رجم کرنا۔ (31) عبد الرزاق وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو غلام آزاد پر تہمت لگاتا ہے اس کی حد چالیس کوڑے ہیں۔ (32) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غیبت سے مراد زنا ہے۔ (33) الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے الفت کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اس سے مراد گناہ ہے پھر انہوں نے پوچھا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا رایتک تبتغی عنتی وتسعی علی الساعی علی بغیر دخل ترجمہ : میں نے تجھے دیکھا تو میرے گناہ کا خواہشمند ہے اور بغیر وجہ کے میری چغلی کھانے والے تک باتیں پہنچاتا ہے۔ (34) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) نے فرمایا لفظ آیت ” وان تصبروا خیر لکم “ سے مراد ہے کہ باندیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرو تو یہ بہتر ہے۔ (35) ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تصبروا خیر لکم “ سے مراد ہے کہ باندیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے۔ (36) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تصبروا “ یعنی باندی سے نکاح نہ کرنے میں خیر ہے۔ تاہم وہ تمہارے لئے حلال ہیں کیونکہ ان کی اولاد غلام ہوگی۔ (37) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تم صبر کرو اور باندی سے نکاح نہ کرو یہ خیر ہے تیرے لئے ورنہ تیری اولاد غلام ہوگی۔ (38) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ باندیوں سے نکاح کرنے والا زنا کے قریب ہی ہوتا ہے۔ عبد الرزاق نے ابوہریرہ ؓ اور سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح کی روایت کی نقل کی ہے۔ (39) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی غلام نے کسی آزاد عورت سے نکاح کیا تو اس نے اپنے نصف کو آزاد کرلیا اور جب کسی آزاد مرد نے کسی باندی سے نکاح کیا تو اس نے اپنے نصف کو غلام بنا لیا۔ (40) ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ باندی سے نکاح کرنا مردار، خون اور سور کا گوشت کھانے کی طرح ہے یہ نکاح حلال نہیں مگر مجبور آدمی کے لئے۔
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ بیان فرمائے تمہارے لئے اور تم کو بتلا دے طریقے ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے اور یہ کہ وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے، اور اللہ علم والا ہے حکمت والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور جو لوگ خواہشات نفسانیہ کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ تخفیف کا ارادہ فرماتا ہے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

(1) ابن جریر وابن ابی الدنیا نے التوبہ میں اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آٹھ آیات جو سورة نساء میں نازل ہوئی اس امت کے لئے خیر ہیں ان چیزوں میں سے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوا ان میں پہلی لفظ آیت ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم “ اور دوسری ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “ اور تیسری ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “ اور چوتھی ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ اور پانچویں ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ اور چھٹی ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ “ اور ساتیوں ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر “ اور آٹھویں ” والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم “ (اور) ان لوگوں کے لئے جنہوں نے گناہ کئے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والے اور مہربان ہیں۔ محرمات کی فہرست بیان کرنے کا مقصد (2) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم “ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ تمہارے لئے ماؤں اور بہنوں کی حرمت کو بیان کرے یہی طریقہ تھا ان لوگوں کا جو تم سے پہلے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان تمیلوا میلا “ سے مراد یہ ہے کہ یہودی گمان کرتے تھے کہ ماں کی طرف سے بہن سے شادی کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال ہے۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت ” الذین یتبعون الشھوت “ سے یہودی اور نصاری مراد ہیں۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین یتبعون الشھوت “ سے زنا مراد ہے (اور) ” ان تمیلوا میلا عظیما “ کہ وہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم ان کی طرح سے ہوجاؤ تم بھی ایسے ہی زنا کرو جیسے وہ زنا کرتے ہیں۔ (5) ابن المنذر نے وجہ آخر سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویرید الذین یتبعون الشھوت “ سے زنا مراد ہے۔ (6) عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یرید اللہ ان یخفف عنکم “ کہ (اللہ تعالیٰ نے تم سے تخفیف فرما دی) باندی سے نکاح کرنے کے بارے میں اور ہر چیز میں جس میں آسانی ہے۔ (7) عبد الرزاق ابن جریر، ابن المنذر وابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وخلق الانسان ضعیفا “ یعنی عورتوں کے معاملہ میں اسے کمزور پیدا کیا گیا انسان عورتوں کے معاملہ سے بڑھ کر کسی اور معاملہ میں زیادہ ضعیف نہیں ہوتا وکیع (رح) نے فرمایا اس کی عقل عورتوں کے پاس جاتی رہتی ہے۔ (8) الخرائطی نے اعتلال القلوب میں طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وخلق الانسان ضعیفا “ یعنی جب کوئی مرد عورت کی طرف دیکھتا ہے تو صبر نہیں کرسکتا۔ (9) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یرید اللہ ان یخفف عنکم “ یعنی اجازت دی گئی ہے تمہارے لئے باندیوں سے نکاح کرنے میں جبکہ تم مجبور ہوجاؤ ان کی طرف (اور) ” وخلق الانسان ضعیفا “ اگر انسان کے لئے اس میں اجازت نہ دی جاتی (اور) جب آزاد عورت کو نہ پاتا تو پھر پہلے والا معاملہ ہوتا۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مالوں کو ناحق طریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی تجارت آپس کی رضا مندی سے ہو، اور مت قتل کرو اپنی جانوں کو، بیشک اللہ تم پر بہت بڑا مہربان ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو شخص زیادتی اور ظلم اختیار کرے گا سو عنقریب ہم اسے دوزخ میں داخل کردیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے

(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے (صحیح سند کے ساتھ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ محکم ہے منسوخ نہیں کی گئی اور نہ قیامت کے دن تک منسوک ہوگی۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا کھانا اپنے مالوں کا آپس میں باطل طریقے سے یہ ہے (جیسے) زنا کرنا، جوا کھیلنا، ناپ تول میں کمی کرنا اور ظلم کرنا (پھر فرمایا) ” الا ان تکون تجارۃ “ مگر تجارت کی صورت میں بڑھا لو۔ ایک درہم کو ہزار اگر طاقت رکھتے ہو۔ (3) ابن جریر نے عکرمہ اور حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی اس بات میں حرج محسوس کرتا تھا کہ لوگوں میں کسی ایک کے پاس کھائے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پھر اس آیت کو سورة نور کی آیت ” ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم “ (النور آیت 61) کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ہے۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی باہم رضا مندی سے مال اور تجارت میں یا کوئی دوسرے کو عطیہ دے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے سنن میں قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تجارت رزق ہے اللہ تعالیٰ کے رزق میں سے اور حلال ہے اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں سے اس شخص کے لئے جو اس کو طلب کرتا ہے اپنی سچائی کے ساتھ اور اپنی نیکی کے ساتھ ہم بیان کرتے تھے کہ سچا تاجر امانتدار ان سات لوگوں کے ساتھ ہوگا جو عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے قیامت کے دن۔ (6) ترمذی نے اس کو حسن کہا اور حاکم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تاجر بہت سچ بولنے والا اور امانتدار (قیامت کے دن) انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (7) ابن ماجہ والحکم اور بیہقی نے ابن عمر ؓ مرفوعا روایت کیا کہ بہت سچ بولنے والا تاجر جو امانتدار اور مسلمان ہو قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔ سب سے پاکیزہ کمائی ہاتھ کی کمائی ہے (8) الحاکم نے رافع بن خدیج (رح) سے روایت کیا کہ کہا گیا یا رسول اللہ ! کون سی کمائی پاکیزہ ہے آپ نے فرمایا آدمی کے اپنے ہاتھ کی کمائی اور یہ ایسی تجارت ہے جس میں دھوکہ اور فریب نہ ہو۔ (9) الحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سی کمائی پاکیزہ اور افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا انسان کے ہاتھ کی کمائی اور ایسی تجارت جو دھوکہ سے پاک ہو۔ (10) سعید بن منصور نے نعیم بن عبد الرحمن ازدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نو حصے رزق کے تجارت میں ہیں اور ایک حصہ جو پاؤں میں ہے۔ (11) الاصبہانی نے الترغیب میں صفوان بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو جان لے کہ اللہ کی مدد نیک تاجروں کے ساتھ ہے۔ (12) الاصبہانی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سچا تاجر قیامت کے دن عرش کے سایہ کے نیچے ہوگا۔ (13) الاصبہانی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ سب سے پاکیزہ کمائی تجارت کی کمائی ہے۔ وہ لوگ جب بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں جب وعدہ کریں تو خلاف ورزی نہ کریں۔ جب امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کریں جب چیز خریدیں تو اس کی مذمت نہ کریں جب بیچیں تو تعریف نہ کریں جب ان پر قرضہ ہو تو ٹال مٹول نہ کریں اور جب کسی سے قرض لینا ہو تو اسے تنگ نہ کریں۔ (14) الاصبہانی نے ابو امامہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تاجر میں جب چار خصلتیں ہوں تو اس کی کمائی پاکیزہ ہے جب وہ کسی چیز کو خریدے تو مذمت نہ کرے جب بیچے تو تعریف نہ کرے اور بیچنے میں عیب کو نہ چھپائے باہم معاملات پر قسم نہ کھائے۔ (15) حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تاجر گنہگار ہو کر اٹھیں گے مگر وہ تاجر جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور نیک کام کرنے والا اور سچ بولنے والا ہوگا۔ (وہ گنہگار ہو کر نہیں اٹھے گا) ۔ (16) احمد وحاکم نے (اس کو صحیح کہا) عبد الرحمن بن شبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ تاجر گنہگار ہیں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن وہ قسمیں کھاتے ہیں اور گنہگار ہوتے ہیں اور ماپ کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں۔ (17) حاکم نے اس کو صحیح کہا عمرو بن تغلب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مال بہا دیا جائے گا (یعنی مال کی کثرت ہوگی) اور جہالت بہت ہوجائے گی اور فتنے ظاہر ہوں گے اور تجارت درہم برہم ہوجائے گی۔ خریدو فروخت آپس کی رضا مندی سے ہوگی (18) ابن ماجہ وابن المنذر نے ابن سعد ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” عن تراض منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ خریدو فروخت باہم رضا مندی سے ہے۔ (19) ابن جریر نے میمون بن مہران ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خریدو فروخت باہم رضا مندی سے ہوئی ہے اور خیار عقد ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اور کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو دھوکہ دے۔ (20) عبد بن حمید نے ابو زرعہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک گھوڑا کسی کو بیچا اور اس خریدنے والے سے کہا اختیار لے لو پھر اس کو تین دن کا اختیار دے دیا پھر اس سے کہا مجھے اختیار دے دے تو اس نے اس کو تین دن کا اختیار دے دیا پھر اس نے کہا میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا یہ خریدو فروخت باہم رضا مندی کی ہے۔ (21) ابن ماجہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک دیہاتی نے پتوں کا بار خریدا جب بیع پوری ہوچکی تو آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا اختیار لے لو دیہاتی بولا اللہ تعالیٰ آپ کی تجارت کو آباد رکھے۔ (22) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ بیع کی پھر اس سے فرمایا اختیار لے لو اس نے کہا میں نے اختیار لے لیا آپ نے فرمایا اسی طرح خریدو فروخت ہوتی ہے۔ (23) ابن جریر نے ابو زرعہ ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ کسی کے ساتھ بیع کرتے تو اس سے کہتے مجھے اختیار دو پھر ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کرنے والے جدا نہ ہوں گے مگر آپس کی رضا مندی کے ساتھ۔ (24) ابن جریر نے ابو قلابہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بقیع والو ہرگز نہ جدا ہوں دو خریدو فروخت کرنے والے مگر رضا مندی سے۔ (25) بخاری، الترمذی و نسائی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو خریدو فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ان میں سے ایک دوسرے سے کہے تجھے اختیار ہے۔ (26) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح و عکرمہ رحمہما اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ یعنی ایک دوسرے کو قتل کرنے سے منع کردیا گیا۔ (27) ابن المنذر نے مجاہد نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ یعنی تم میں سے کوئی دوسرے کو قتل نہ کرے۔ ابن جریر نے عطا بن ابی رباح سے اسی طرح روایت کیا۔ (28) ابن جریر وابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ یعنی اپنے دینی بھائیوں کو قتل نہ کرو۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو (29) احمد وابو داؤد وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ذات السلاسل کی لڑائی والے سال میں مجھ کو بھیجا سخت ٹھنڈی رات میں مجھ کو احتلام ہوگیا میں نے خوف کیا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں مرجاؤں گا تو میں نے تیمم کیا پھر صحابہ کرام کو صبح کی نماز پڑھا دی۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے ان کو یہ بات بتائی آپ نے فرمایا اے عمرو تو نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی حالانکہ تو جنبی تھا میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! مجھے سخت ٹھنڈی رات میں احتلام ہوگیا میں ڈر گیا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں مرجاؤں گا۔ اور میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد کیا لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ اور میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا۔ (30) الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمرو بن عاص ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور وہ جنبی تھے جب رسول اللہ ﷺ کے پاس صحابہ آئے تو اس بات کو ذکر کیا آپ نے ان کو بلوایا اور اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا رسول اللہ ! میں اس بات سے ڈرا کہ سردی مجھے قتل کر دے گی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “ تو (یہ بات سن کر) رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔ (31) سعید بن منصور وابن سعید وابن المنذر نے عاصم بن بھدلہ (رح) سے روایت کیا کہ مسروق ؓ صفین میں آئے اور صفوں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا اے لوگو ! خاموش ہوجاؤ تم بتاؤ اگر ایک پکارنے والا تم کو آسمان سے پکارے پس تم اس کو دیکھو گے اور اس کی بات کو سنو گے پھر فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو منع کیا ہے۔ ان کاموں سے جن میں تم ہو کیا تم اس میں رکنے والے ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ کی ذات پاک ہے پھر فرمایا اللہ کی قسم ! جبرئیل (علیہ السلام) اس حکم کو لائے تھے محمد ﷺ پر اور میرے پاس اس سے زیادہ واضح کوئی چیز نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “ پھر وہ کوفہ کی طرف لوٹ گئے۔ (32) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن یفعل ذلک “ یعنی اموال اور جانوں میں ایسا عمل کیا لفظ آیت ” عدوانا وظلما “ یعنی تجاوز کرتے ہوئے اور ظلم کرتے ہوئے ناحق لفظ آیت ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “ یعنی اس کو عذاب دینا اللہ پر آسان ہے۔ (33) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطا سے کہا آپ بتائیے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں لفظ آیت ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا “ کہ یہ حکم ہر ایک کے بارے میں ہے یا اللہ تعالیٰ کے اس قول ” ولا تقتلوا انفسکم “ کے بارے میں ؟ تو انہوں نے فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ کے بارے میں۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

جن چیزوں سے تمہیں منع کیا جاتا ہے اگر ان میں سے بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو گے تو ہم تمہارے گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے

(1) ابو عبید سعید بن منصور نے اپنے فضائل میں، عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم والبیہقی نے شعب میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ سورة نساء میں پانچ آیات ایسی ہیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں لگی کہ اس کے بدلہ میں میرے لئے دنیا میں اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کچھ ہو اور میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ جب علماء ان آیات پر گزریں گے تو ان کو پہچان لیں گے وہ پانچ آیات یہ ہیں لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “ ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ (النساء آیت 64) ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “ (النساء آیت 110) ۔ (2) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید وابن جریر نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے رب کی جانب سے ہم کو جو پہنچا ہے ہم نے اس جیسا نہیں دیکھا پھر ہم اس کے لئے تمام اہل ومال سے نہیں نکلے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس نے ہم سے بڑے گناہوں کے علاوہ ہر گناہ سے تجاوز فرمایا (اب) ہمارے لئے اور ان کے لئے کوئی گناہ نہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ بڑے گناہوں سے اجتناب پر انعام (3) عبد بن حمید نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ آسان ہے جو تمہارے رب نے تم سے سوال کیا ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا) لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (4) عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا خبردار ! میری شفاعت میری امت میں سے بڑے گناہ کرنے والوں کے لئے ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (5) نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن خزیمہ وابن حبان اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) و بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ وابو سعید ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ نبی ﷺ منبر پر تشریف لائے پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جو بندہ پانچ نمازیں پڑھتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ اور سات بڑے گناہوں سے بچتا ہے تو اس کے لئے قیامت کے دن جنت کے آٹھ دروازے کھول دئیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ ہوا سے ہل رہے ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم “ (الآیہ) ۔ (6) ابن المنذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ کبیرہ گناہوں سے تمہارا کیا واسطہ جبکہ تم سے صغیرہ گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا۔ (7) ابن جریر نے حسن سند کے ساتھ حسن (رح) سے روایت کیا کہ لوگ عبد اللہ بن عمرو سے مصر میں ملے اور انہوں نے کہا ہم نے کچھ چیزوں کو اللہ کی کتاب میں دیکھا کہ جن میں حکم کیا گیا کہ ہم ان پر ساتھ عمل کریں اور ان پر عمل نہیں کیا جاتا ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اس بارے میں امیرا لمؤمنین سے ملیں (لہٰذا) آپ ہمارے ساتھ چلیں وہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور عمر ؓ سے ملے۔ انہوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! یہ لوگ مجھ سے مصر میں ملے اور انہوں نے کہا ہم نے اللہ کی کتاب میں کچھ ایسی چیزوں کو دیکھا ہے کہ جن میں حکم کیا گیا کہ ہم ان پر عمل کریں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا تو ان لوگوں نے اس بات کو پسند کیا کہ اس بارے میں وہ آپ سے ملاقات کریں حضرت عمر ؓ نے فرمایا ان سب چیزوں کو میرے لئے جمع کرو عبد اللہ نے ان کے لئے سب کو جمع کردیا انہوں نے ان میں سے سب سے قریب تر آدمی کو پکڑا اور فرمایا میں تجھے اللہ اور اسلام کا جو تجھ پر حق ہے اس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کیا تو نے سارا قرآن پڑھا ہے اس نے کہا ہاں ! پوچھا کیا تو نے اپنے دل میں محفوظ کیا ہے اس نے کہا نہیں کیا تو نے اسے اپنی آنکھ میں محفوظ کیا ہے ؟ کیا تو نے اپنے الفاظ میں اسے محفوظ کیا، کیوں تو نے اپنے اثر میں اسے محفوظ کیا ہے ؟ پھر یکے بعد دیگرے ان سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ان کے آخری آدمی پر آئے اور فرمایا عمر اس کی ماں روائے کہا تم عمر کو اس امر کا مکلف بناتے ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ کی کتاب کا پابند بنائے اور تحقیق ہمارے رب نے جان لیا کہ ہمارے گناہ بھی ہوں گے۔ اور (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ (پھر فرمایا) کیا مدینہ والے تمام اعمال کو جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں (پھر) آپ نے فرمایا اگر وہ جانتے ہوئے تو میں تم کو نصیحت کرتا۔ کبائر سے اجتناب کرنے والوں کے لئے بشارت (8) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے مغفرت کا اس شخص کے لئے جو بڑے گناہوں سے بچتا ہے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بڑے گناہوں سے بچو درست اعمال کرو اور خوش ہوجاؤ۔ (9) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی و بیہقی فی الشعب ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر وہ کام جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا وہ بڑا گناہ ہے ان میں ایک نظر کا ذکر کیا۔ (10) ابن جریر نے ابو الولید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہر وہ چیز جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی وہ بڑا گناہ ہے۔ (11) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر وہ کام جس پر اللہ تعالیٰ نے آگ کا وعدہ فرمایا وہ بڑا گناہ ہے۔ (12) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ گناہ کبیرہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آگ یا غصہ یا لعنت یا عذاب کا فیصلہ کیا ہے۔ (13) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہر وہ گناہ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ کی طرف منسوب فرمایا ہو تو وہ بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (14) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر وہ گناہ کہ جس کے کرنے والے پر اللہ تعالیٰ نے آگ کا فیصلہ کیا ہے اور ہر وہ کام جس پر حدقائم ہو تو وہ بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (15) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ سات ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا وہ ستر کے قریب ہیں۔ (16) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ بڑے گناہ کتنے ہیں کیا وہ سات ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا سات سو تک ہیں مگر ان میں سے زیادہ قریب سات ہیں۔ سوائے اس کے کہ کوئی گناہ استغفار کے ساتھ بڑا نہیں رہتا اور چھوٹا گناہ بار بار کرنے سے چھوٹا نہیں رہتا (بلکہ بڑا بن جاتا ہے) ۔ (17) بیہقی نے شعب میں قیس بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس نے فرمایا ہر وہ گناہ جس کو کوئی بندہ بار بار کرتا ہے بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ اور کوئی گناہ بڑا نہیں رہتا جس سے کوئی بندہ توبہ کرلے۔ (18) بخاری ومسلم وابو داؤد و نسائی وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو صحابہ نے عرض کیا وہ گناہ کون سے ہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو مگر حق کے ساتھ (قتل کرنا جائز ہے) اور جادو کرنا اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے بھاگ جانا اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا جو (بڑے کام سے) غافل ہوں اور ایمان والی ہوں۔ (19) البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑے گناہ سات ہیں اس کا پہلا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا پھر کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔ سود کھانا اور یتیم (بچے) کا مال کھانا اس کے بڑا ہونے سے پہلے۔ (یعنی بالغ ہونے سے پہلے) اور میدان جنگ سے بھاگ جانا۔ اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا اور ہجرت کے بعد (مرتد ہوکر) پھر بدوؤں کے پاس چلے جانا۔ (20) علی بن جعد نے الجعد یات میں طیسلہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ گناہ نو ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ پاکدامن عورت پر تہمت لگانا کسی مؤمن کو (ناحق) قتل کرنا میدان جنگ سے بھاگ جانا جادو کرنا سود کھانا یتیم کا مال کھانا والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت اللہ شریف میں گناہ کرنا جو تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔ (21) ابن راھویہ والبخاری الادب المفرد میں عبد بن حمید وابن المنذر القاضی اسماعیل نے احکام القرآن میں وابن المنذر نے صحیح سند کے ساتھ طیاسہ کے طریق سے طیسلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا بڑے گناہ نو ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کسی انسان کو ناحق قتل کرنا اور پاکدامن عورت پر تہمت لگانا اور میدان جنگ سے بھاگ جانا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا اور جو شخص (کسی پر) جادو کرائے اور مسجد حرام یعنی بیت اللہ میں گناہ کرنا اور والدین کی خدمت نہ کرنا نافرمانی میں سے ہے۔ (22) ابو داؤد و نسائی وابن جریر وابن ابی حاتم و طبرانی والحاکم وابن مردویہ نے عمیر اللیثی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ کے دوست نماز پڑھنے والے ہوتے ہیں اور جو شخص پانچوں نمازوں کو قائم کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور جو شخص اپنے مال میں سے اپنے دل کی خوشی سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور جو شخص ثواب کی نیت سے روزے رکھتا ہے۔ اور بڑے گناہ سے بچتا ہے صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بڑے گناہ کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ نو ہیں ان میں سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور مومن کو ناحق قتل کرنا اور میدان جنگ سے بھاگ جانا۔ اور پاکدامن عورت پر تہمت لگانا جادو کرنا یتیم کا مال کھانا سود کھانا اور مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت اللہ شریف میں گناہ کرنا جو تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔ (23) ابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص پانچوں نمازیں پڑھے اور سات بڑے گناہوں سے بچے تو اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ کہا گیا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے فرمایا ہاں (وہ یہ ہیں) والدین کی نافرمانی کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ (کے میدان) سے بھاگ جانا اور سود کھانا۔ (24) احمد و نسائی وابن جریر ابن المنذر وابن حبان اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی عبادت کی جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور رمضان کے روزے رکھے اور بڑے گناہوں کو چھوڑا اس کے لئے جنت ہے ایک آدمی نے سوال کیا کہ بڑے گناہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا۔ (25) ابن حبان وابن مردویہ نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن والوں کو فرائض سنن اور دیات کے بارے میں ایک خط لکھا اور عمرو بن حرام کو دے کر بھیجا راوی نے کہا اس خط میں یہ بھی تھا کہ سب سے بڑے گناہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن (یہ ہیں) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور کسی مومن کو ناحق قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا، والدین کی نافرمانی کرنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا۔ جھوٹ اور جھوٹی گواہی بڑا گناہ ہے (26) احمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن جریر وابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور فرمایا خبردار کیا میں تم کو گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں (پھر فرمایا) جھوٹ بولنا، یا جھوٹی گواہی دینا۔ (27) الشیخان و ترمذی وابن المنذر نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو بڑے گناہوں میں سے بڑے گناہ نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا، اور آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبردار جھوٹ بولنا، خبر دار جھوٹی گواہی دینا (بڑے گناہوں میں سے ہے) آپ بار بار اس کو فرماتے رہے یہاں کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ خاموش ہوجائیں۔ (28) ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ شراب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا یہ بڑے گناہوں میں سے ہے اور تمام برائیوں کی جڑ ہے جس نے شراب پی کر اس نے نماز کو چھوڑ دیا اور اپنی ماں اور اپنی خالی اور اپنی پھوپھی پر واقع ہوجاتا ہے۔ (29) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ شراب (پینے) کو بہت بڑے گناہوں میں شمار کرتے تھے۔ (30) عبدبن حمید نے کتاب الایمان میں ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام شعبہ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ حسن بن علی ؓ سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ بڑے گناہوں میں سے ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ (پھر) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا جب کوئی شراب پیتا ہے تو اسے نشہ ہوجاتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے نماز کو چھوڑ دیتا ہے یہ بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (31) احمد و بخاری و ترمذی و نسائی وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بڑے گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا کسی کی جان کو (ناحق قتل) کرنا شعبہ نے شک کیا اور جھوٹی قسم کھانا۔ (32) احمد وعبد بن حمید اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن ابی حاتم وابن حبان والطبرانی نے اوسط میں بیہقی نے عبد اللہ بن انیس جہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا جھوٹی قسم کھانا اور جو آدمی اللہ کے ساتھ جھوٹی قسم کھاتا ہے تو اس کے دل میں مچھر کے پر کے برابر ایک سیاہ نکتہ قیامت کے دن تک داخل کردیا جاتا ہے۔ (33) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، بخاری مسلم و ترمذی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو لعنت کرے صحابہ نے عرض کیا کہ ایک آدمی کس طرح اپنے والدین کو لعنت کرے گا آپ نے فرمایا کوئی آدمی کسی آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اسی طرح کوئی آدمی اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ (34) ابو داؤد ابن ابی حاتم ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بڑے گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی انسان کسی مسلمان کی غیرت کو ناحق پامال کرے۔ اور بڑے گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دے۔ بلا عذر دو نماز ایک وقت میں پڑھنا بڑا گناہ ہے (35) ترمذی وحاکم وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کیا تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر آگیا۔ (36) ابن ابی شیبہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کرنا بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (37) ابن ابی حاتم نے ابو قتادہ عدوی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر کا خط ہم پر بڑھ گیا (جس میں یہ تھا) کہ دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کرنا جنگ سے بھاگ جانا اور چغل خوری کرنا بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (38) البزار وابن ابی حاتم و طبرانی نے اوسط میں وابن ابی حاتم نے (حسن سند کے ساتھ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اللہ کی مدد سے ناامید ہوجانا۔ اور اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہوجانا۔ (39) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن ابی الدنیا نے توبہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی وحی سے ناامید ہوجانا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجانا، اور اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہوجانا۔ (40) ابن المنذر نے حضرت علی سے روایت کیا کہ ان سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی سزا سے امن میں ہوجانا اللہ کی وحی سے ناامید ہوجانا اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجانا۔ (41) ابن جریر نے (حسن سند کے ساتھ) ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے بڑے گناہوں کا ذکر کیا اور آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ نے کہا (بڑے گناہ یہ ہیں) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے بھاگ جانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا، جنگ کے میدان سے بھاگ جانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا، (پھر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “ (آل عمران آیت 77) آخر تک۔ کے بارے میں فرمایا تم اس پر عمل کو کیا حیثیت دیتے ہو ؟ (42) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ وصیت کرنے میں نقصان پہنچانا (کسی وارث کو) بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (43) ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ بڑے گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، میدان جنگ سے بھاگ جانا، ہجرت کے بعد اپنے علاقوں میں (مرتد ہوکر) بھاگ جانا، جادو کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہوجانا، اور خریدوفروخت کے بعد عقد کو توڑ دینا۔ (44) البزار وابن المنذر نے (ضعیف سند کے ساتھ) بریدہ اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑے گناہوں میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، زائد پانی کو روک لینا اور (مادہ کو گابھن کرنے کے لئے) سانڈ دینے سے منع کرنا ہیں۔ (45) ابن ابی حاتم نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ بڑے گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، زائد پانی نہ دینا۔ اور سانڈ کو مادہ پر کدوانے کے لئے نہ دینا مگر رشوت سے (یعنی جفتی کے لئے پیسے لے کر سانڈ دینا ) ۔ (46) ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جو عورتوں سے عہد کیا گیا تھا وہ کبیرہ گناہ میں سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ”(الممتحنہ آیت 12) (کہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کریں گے نہ چوری کریں گے اور نہ زنا کریں گے۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے (47) بخاری نے الادب المفرد میں والطبرانی والبیہقی نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم زانی چوری کرنے والے اور شراب پینے والے کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ برے کام ہیں اور ان میں سزا ہے (پھر فرمایا) کیا میں تم کو نہ بتاؤں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں ؟ (پھر فرمایا) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما “ (النساء آیت 48) ( یعنی جو آدمی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا تو اس نے گویا بڑے گناہ کا ارتکاب کیا) اور والدین کی نافرمانی کرنا پھر یہ آیت پڑھی۔ لفظ آیت ” ان اشکرلی ولوالدیک “ (لقمان آیت 14) المصیر تک اور آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبردار ! جھوٹ بولنا (بڑے گناہوں میں سے ہے ) ۔ (48) عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ کہ تو اپنے ساتھ سے یہ کہے اللہ تعالیٰ سے ڈر اور وہ (اس کا جواب میں) کہے کہ تیرے اوپر بھی یہ بات لازم ہے جس کا تو مجھ کو حکم کرتا ہے۔ (49) ابن المنذر نے سالم بن عبد اللہ التمار (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور دوسرے صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سب سے بڑے گناہ کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کے پاس حتمی بات نہ تھی جس پر وہ بات کو ختم فرماتے۔ ان حضرات نے مجھے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے پاس اس کے بارے میں سوال کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا گناہ شراب کا پینا ہے میں نے آکر ان کو یہ بات بتائی تو ان سب لوگون نے اس کا انکار کیا اور سب لوگ ان کی طرف دوڑ پڑے یہاں تک کہ ان کے گھر آگئے۔ عبد اللہ نے ان کو بتایا کہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ بات بیان کی تھی کہ بنی اسرائیل میں سے ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑا اور اس کو اختیار دیا کہ وہ شراب پی لے یا کسی جان کو قتل کر دے یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھالے یا وہ اس کو قتل کر دے گا اگر اس نے انکار کیا تو اس نے شراب پینے کو اختیار کرلیا اور جب اس نے شراب کو پیا تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں فرماتے اور اس حال میں اگر اس کی موت آگئی تو اس کے مثانہ میں اس میں سے کچھ موجود ہے تو اس پر جنت حرام کردی جائے گی اور اگر وہ ان چالیس دنوں میں مرگیا تو جاہلیت کی موت ( یعنی کفر کی موت) مرے گا۔ (50) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بڑے گناہوں میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “ (یوسف آیت 87) اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بےخوف ہونا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون “ (اعراف : 100) اور (بڑے گناہوں میں) والدین کی نافرمانی کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والے کو جابر اور نافرمان قرار دیا ہے اور بڑے گناہوں میں سے ناحق کسی جان کو قتل کرنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فجزاؤہ جھنم “ (النساء آیت 93) آخری آیت تک، اور پاکدامن عورتون پر تہمت لگانا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” لعنوا فی الدنیا والاخرۃ ولہم عذاب عظیم “ (النور آیت 23) اور یتیم کا مال کھانا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا “ (النساء آیت 10) اور میدان جنگ سے بھاگ جانا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لفظ آیت ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “ (الانفال آیت 16) سے لے کر ” وبئس المصیر “ تک، اور سود کھانا (بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” الذین یاکلون الربوا لا یقومون “ (البقرہ آیت 175) اور جادو کرنا (کبیرہ گناہوں میں سے ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” ولقد علموا لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق “ (البقرہ آیت 102) اور زنا کرنا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” یلق اثاما “ (الفرقان آیت 68) اور جھوٹی قسم کھانا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم “ (آل عمران آیت 77) اور خیانت کرنا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “ (آل عمران آیت 161) اور فرض زکوٰۃ کا روکنا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ “ اور شراب پینا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کو اس کے ہم پلہ رکھا ہے۔ اور نماز کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا (بڑا گناہ ہے) کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نماز کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے بری ہوگیا عہد کو توڑ دیا اور قطعی رحمی کرنا (دونوں بڑے گناہ ہیں) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (51) عبد بن حمید والبزار وابن جریر والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سورة نساء کے اول سے لے کر تیس آیات تک چھ چیزیں مذکور ہیں۔ جو اس میں شامل ہیں۔ (52) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بڑے گناہ وہ ہیں (جن کا ذکر) سورة نساء کے اول سے لے کر لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “ تک ہے۔ (53) عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سورة نساء کو شروع کر ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا یہاں تک کہ تم تیس آیات تک آجاؤ تو وہ بڑے گناہ ہیں پھر اس آیت کو ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “۔ (54) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سورة نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ اس میں سے تیس آیات تک پہنچے پھر یہ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “ پڑھی اور فرمایا کہ ان میں جن چیزوں کو ذکر کیا ہے وہ گناہ کبیرہ ہیں۔ (55) عبد بن حمید وابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ سورة نساء کے اول سے لے کر اس آیۃ یعنی ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “ تک گناہ کبیرہ کا ذکر ہے۔ (56) ابن جریر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبیدہ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ایسی جان کو ناحق قتل کرنا، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو اور میدان جنگ سے بھاگ جانا اور یتیم کا مال ناحق کھا جانا اور سود کھانا اور بہتان لگانا اور وہ کہتے ہیں ہجرت کے بعد دیہاتی پن اختیار کرنا ابن سیرین سے کہا گیا اور جادو (بھی تو بڑا گناہ ہے) تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ بہت سارے شر کو جمع کرلیتا ہے۔ شیخین ؓ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے (57) ابن ابی حاتم نے مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ کو برا کہنا بھی بڑے گناہوں میں سے ہے۔ (58) ابن ابی الدنیا نے التوبہ میں والبیہقی نے شعب میں اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ بات بڑے گناہوں میں سے ہے ایک آدمی کوئی گناہ کا کام کرے پھر اس کو حقیر جانے۔ (59) بیہقی نے شعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ استغفار کے ساتھ بڑا گناہ برا نہیں رہتا اور چھوٹے گناہ کو بار بار کرنے سے وہ چھوٹا نہیں رہتا بلکہ بڑا بن جاتا ہے۔ (60) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مغفرت کا وعدہ ہے جو بڑے گناہوں سے بچے۔ (62) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نکفر عنکم سیاتکم “ سے چھوٹے گناہ مراد ہیں اور ” وندخلکم مدخلا کریما “ میں ” الکریم “ سے مراد ہے جنت میں بہترین جگہ۔ (63) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کرتے تھے کہ ” مدخلا کریما “ سے جنت مراد ہے۔ (64) عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” مدخلا “ کو میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا۔