4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے وہ زمین میں جانے کی بہت جگہ پائے گا اور اسے بہت کشادگی ملے گی، اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی نیت سے نکل کھڑا ہو پھر اس کو موت آپکڑے تو یقینی طور پر اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ثابت ہوگیا اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے

مہاجر کے لئے کشادگی رزق کا وعدہ (1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے ” مرغما کثیرا وسعۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہوجانا اور ” سعۃ “ سے مراد ہے رزق۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے اس چیز سے بچنے کی جگہ جس کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ (3) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے ” مرغما “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ھذیل کی لغت میں ” مرغما “ کا معنی ہے کشادگی انہوں نے کہا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ واترک ارض جھرۃ ان عندی رجاء فی المراغم والتعادی ترجمہ : چھوڑ دے چہرہ کی زمین کو یقیناً میرے پاس آسودگی اور دشمنی میں امید ہے۔ (4) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے ہجرت کرنے والا۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے رزق کو ڈھونڈنے والا۔ (6) ابن ابی حاتم نے ابو صخر (رح) سے روایت کیا کہ ” مراغما “ سے مراد ہے کشادگی۔ (7) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یجد فی الارض مرغما کثیرا وسعۃ “ سے مراد ہے کہ گمراہی سے ہدایت کی طرف اور تنگدستی سے خوشحالی کی طرف نکلنے کی جگہ۔ (8) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ” وسعۃ “ سے مراد ہے رخاء یعنی آسودہ زندگی۔ (9) ابن القاسم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مالک سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وسعۃ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے مصیبت سے خلاصی۔ (10) ابو یعلی وابن ابی حاتم اور طبرانی نے (ایسی سند کے ساتھ روایت کیا جس کے رجال ثقہ ہیں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ضمرہ بن جندب ؓ اپنے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے نکلے انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے اٹھاؤ اور مجھے نکالو مشرکین کی زمین سے رسول اللہ ﷺ کی طرف وہ راستے میں گرگئے نبی ﷺ کے پاس پہنچنے سے پہلے تو وحی نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ “۔ (11) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے (وجہ آخر سے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ میں ایک آدمی تھا جس کو حمزہ بن بنی بکر کہا جاتا تھا اور وہ مریض تھا انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے مکہ سے لے چلو کیونکہ میں پہلی بار سخت گرمی محسوس کرتا ہوں انہوں نے کہا تمہیں کہاں لے کر چلیں اپنے ہاتھ سے مدینہ کے راستہ کی طرف اشارہ کیا اور مکہ سے دو میل پر فوت ہوگئے یہ آیت نازل ہوئی ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ و رسول ثم یدرکہ الموت “۔ (12) ابو حاتم استجستانی نے کتاب المعمرین میں عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اکثم بن صفی کے بارے میں نازل ہوئی میں نے کہا لیثی کہاں ہے ؟ فرمایا یہ تو لیثی سے بہت پہلے نازل ہوئی یہ خاص وعام ہے۔ (13) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے اپنی سنن میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی خزاعہ قبیلہ سے مکہ میں تھا وہ بیمار ہوگیا اس کا نام ضمر ابن العیض تھا یا العیص بن ضمرہ بن زنباع تھا جب ہجرت کا حکم دیا گیا تو وہ بیمار تھا اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میرے لئے چار پائی بچھاؤ انہوں نے چار پائی بچھائی اور اس کو اٹھا لیا اور مدینہ منورہ کی طرف چل دئیے جب تنعیم میں تھے تو وہ فوت ہوگئے اس پر (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ اخلاص نیت کے ساتھ گھر سے نکلنے والا مہاجر (14) ابن ابی حاتم نے (وجہ آخر سے) سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابو ضمرہ بن العیص الزرقی ؓ سے روایت کیا کہ یہ مکہ میں تھے اور نابینا تھے جب یہ آیت ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ “ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا بلاشبہ میں مالدار ہوں اور تدبیر والا بھی ہوں انہوں نے نبی ﷺ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مگر ان کو تنعیم کے مقام پر موت آگئی تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ (15) ابن جریر نے (وجہ آخر سے) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” لا یستوی القعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر “ نازل ہوئی تو اس میں رخصت دے دی گئی ان مسلمانوں کو جو مکہ میں تھے اور جو عذر والے بھی تھے یہاں تک کہ مجاہدین کی فضیلت بیٹھے رہنے والوں پر نازل ہوئی اور عذر والوں کے لئے رخصت دے دی گئی یہاں تک کہ یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ سے لے کر ” وساءت مصیرا “ تک نازل ہوئی صحابہ نے کہا کہ یہ آیت حکم کو واجب کرنے والی ہے یہاں تک کہ (یہ آیت) ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا “ نازل ہوئی تو ضمرہ بن العیص نے فرمایا جو بنو لیث کے ایک آدمی تھے اور آنکھ کی تکلیف والے تھے کہ میں تدبیر والا ہوں اور میرے پاس مال بھی ہے (گھر والوں سے کہا) پس تم مجھے اٹھالو وہ اس حال میں نکل کھڑے ہوئے کہ وہ بیمار تھے تنعیم کے مقام پر ان کو موت آگئی اور وہ مسجد تنقیم کے پاس دفن کر دئیے گئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت “۔ (16) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا تو ایمان والوں میں سے ایک آدمی جس کو ضمرہ کہا جاتا تھا اور دوسرے لفظ میں سبرہ کا غلام تھا یہ آدمی مکہ میں اس نے کہا اللہ کی قسم ! میرے پاس مال ہے جو مجھے مدینہ منورہ یا اس سے دور جگہ تک پہنچا سکتا ہے۔ اور میں مدینہ کی طرف راستہ پالوں گا اس نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے لے چلو حالانکہ وہ ان دنوں بیمار تھے جب حرم سے باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قبض کرلیا اور وہ مرگئے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “ (الآیہ) ۔ (17) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے (وجہ آخر سے) قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ نازل ہوئی تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا جو ان دنوں بیمار تھا اللہ کی قسم میرے لئے کوئی عذر نہیں ہے اور میں بلاشبہ راستے کو بھی جانتا ہوں اور میں مال والا بھی ہوں (گھر والوں سے کہا) مجھے اٹھاؤ انہوں نے اسے اٹھا لیا مگر ان کو راستے میں موت آگئی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ (18) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ تو ایک آدمی نے بنو ضمرہ میں سے کہا جو بیمار تھا مجھے روح کی طرف لے چلو وہ اسے لے چلے یہاں تک کہ جب وہ حصحاص مقام پر تھا تو اس کی موت آگئی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ (19) ابن جریر نے علباء بن احمر (رح) نے ” ومن یخرج من بیتہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت خزاعہ کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ (20) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب ضمرہ بن جندب الضمری نے یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ سنی تو اپنے گھو والوں سے فرمایا حالانکہ وہ بیمار تھے کہ میری سواری تیار کرو کیونکہ مکہ کے دونوں پہاڑوں نے مجھے غمگین کردیا ہے مجھے امید ہے کہ میں نکلوں گا تو مجھے راحت نصیب ہوگی وہ اپنی سواری پر بیٹھ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ میں ان کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا “ جب اس نے مدینہ کی طرف رخ کیا تو کہا اے اللہ ! میں ہجرت کرنے والا ہوں تیری طرف اور تیرے رسول کی طرف۔ (21) سنید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” ان الذین توفہم الملئکۃ “ نازل ہوئی تو ضمرہ بن جندب الجندعی (رح) نے فرمایا اے اللہ ! مجھے معذرت اور حجت کے بارے میں خبر پہنچی ہے جبکہ میرے لئے کوئی عذر ہے اور نہ کوئی حجت ہے پھر وہ نکل کھڑے ہوئے اس حال میں کہ وہ بوڑھے تھے راستہ میں ان کو موت آگئی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے فرمایا ہجرت (پوری ہونے) سے پہلے مرگئے ہم نہیں جانتے کہ وہ ولایت پر ہیں یا نہیں۔ (22) عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جو قریب کے مشرکین کے ساتھ بدر کے مقام پر قتل ہوگئے تھے یعنی ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ تو بنو لیث کے ایک آدمی نے سنا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے نازل فرمایا اور جو نبی ﷺ کے دین پر تھا اور مکہ میں مقیم تھا اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کا اللہ تعالیٰ نے عذر قبول فرمایا اور یہ انتہائی بوڑھا آدمی تھا تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا میں ایک رات بھی مکہ میں نہیں گزاروں گا وہ اسے لے کر نکل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے راستے تنعیم پر پہنچے تو ان کو موت نے آلیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا “ پوری آیت۔ (23) عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے روایت کیا کہ (یہ آیت) بنو لیث میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو نبو جندع میں سے ایک شاخ تھی۔ (24) ابن سعد وابن المنذر نے یزید بن عبد اللہ بن قسیط (رح) سے روایت کیا کہ جندع بن ضمرہ الجندعی مکہ میں تھے وہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا مجھے مکہ سے نکالو مجھے اس غم نے ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کس طرف لے چلیں ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا جو ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے گھر والے اسے لے کر نکل پڑے۔ جب وہ اضاۃ بن غفار کے مقام پر پہنچے تو موت آگئی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ “ (الآیہ) ۔ (25) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے ہجرت کی جو نبی ﷺ کا ارادہ رکھتے تھے وہ راستے میں مرگئے اس قوم نے اس سے مذاق کیا اور کہنے لگے نہ وہ اس جگہ پہنچے کہ جس کا اس نے ارادہ کیا اور وہ اپنے اہل و عیال میں مقیم رہے۔ جو اس کی خدمت کرتے اور اس کو دفن کرتے تو قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ “۔ (26) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اسلام لانے کے بعد مکہ سے نکلا وہ نبی ﷺ اور اس کے صحابہ کا ارادہ رکھتا تھا اس کو راستہ میں موت نے پالیا اور وہ مرگیا تو اس کی قوم کے لوگوں نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ (27) ابن ابی حاتم نے ہشام بن عروہ عن ابیہ کے طریق سے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ خالد بن حزام ؓ نے حبشہ کی زمین کی طرف ہجرت فرمائی تو ان کو راستہ میں سانپ نے ڈس لیا اور وہ مرگئے تو اس بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ وکان اللہ غفورا رحیما “ زبیر ؓ نے فرمایا کہ میں ان کے آنے کی توقع رکھتا تھا اور انتظار کر رہا تھا اور میں حبشہ میں تھا مجھے کسی چیز نے اتنا غمگین نہیں کیا جتنا میں اس کی وفات سے غمگین ہوا جب مجھے یہ خبر پہنچی کیونکہ قریش میں کم ہی ایسا ہوگا کہ اس نے ہجرت کی اور اس کے ساتھ اس کے گھر والوں میں سے یا ذی رحم رشتہ داروں میں سے نہ ہو اور میرے ساتھ بنو اسد بن عبد العزیز میں سے کوئی نہیں تھا اور میں اس کے علاوہ اور کسی کو ہجرت کرنے کی امید بھی نہ رکھتا تھا۔ (28) ابن سعد نے مغیرہ بن عبد الرحمن خزاعی (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خالد بن خزام حبشہ کی طرف دوسری مرتبہ ہجرت کے لئے نکلے راستہ میں ان کو سانپ نے ڈس لیا تو وہ مرگئے حبشہ کی زمین میں داخل ہونے سے پہلے تو ان کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ (29) ابن جریر نے لبیعہ کے طریق سے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا کہ اہل مدینہ کہا کرتے تھے جس نے جہاد میں جانے کے لئے کچھ فاصلہ بھی طے کیا تو اس کا مال غنیمت میں حصہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تاویل کرتے تھے یعنی ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “ یعنی جو شخص مرگیا ان لوگوں میں سے جو جنگ کی طرف نکلا اپنے گھر سے جدا ہونے کے بعد جہاد میں حصہ لینے سے پہلے تو اس کے لئے غنیمت میں حصہ ہوگا۔ (30) ابن سعد واحمد اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) عبد اللہ بن عتیک ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنے گھر سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لئے نکلا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کا کیا مقام ہے اور وہ اپنی سواری سے گر کر مرگیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے یا اس کو کسی جانور نے ڈس لیا اور وہ مرگیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو راستہ میں اپنی موت مرا اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ پر ہے اللہ کی قسم حتف انفہ ایسا کلمہ ہے جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے کسی عرب سے نہیں سنا اور جو شخص فوری طور پر مرگیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ (31) ابو یعلی والبیہقی نے الشعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو حج کرنے کے لئے نکلا اور وہ (راستہ میں) مرگیا تو اس کے لئے حاجی کا اجر لکھا جائے گا قیامت کے دن تک اور جو شخص عمرہ کرنے کے لئے نکلا اور وہ راستہ میں مرگیا تو اس کے لئے عمرہ کا اجر لکھا جائے گا قیامت کے دن تک اور جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے نکلا تو اس کے لئے قیامت کے دن تک غازی کا اجر لکھا جائے گا۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرلو اگر تم کو اس بات کا خوف ہے کہ کافر لوگ تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے، بیشک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں

(1) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید احمد ومسلم ابو داؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جار ودوابن خزیمہ والطحاوی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن حبان نے یعلی بن امیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ آیت میں یہ حکم ہے جبکہ لوگ تو امن میں رہیں لفظ آیت ” فلیس علیکم جناھ ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ تو عمر نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے تعجب کیا اس چیز سے جس سے تو نے تعجب کیا میں نے رسول صلی اللہ تم پر صدقہ فرمایا تو اس صدقہ کو قبول کرلو۔ شرعی مسافر پر نماز میں قصر واجب ہے (2) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابو حنظلہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا دو رکعت ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہے ؟ لفظ آیت ” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ اور ہم (اب) امن میں ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ (3) عبد بن حمید و نسائی وابن ماجہ وابن حبان والبیہقی نے اپنی سنن میں امید بن عبد اللہ بن خالد بن اسد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سوال کیا کہ آپ مجھے سفر میں نماز کی قصر کرنے کے بارے میں بتائیے میں اس کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتا ہوں ہم صرف خوف کی نماز کا ذکر پاتے ہیں ابن عمر ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے ہم اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا سفر میں نماز کی قصر کرنا سنت ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کا طریقہ مقرر فرمایا۔ (4) ابن ابی شیبہ واحمد بخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی نے حارثہ بن وھب خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ظہر اور عصر منیٰ میں پڑھی دو رکعت جبکہ لوگ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی امن میں تھے۔ (5) ابن ابی شیبہ و ترمذی (نے اس کو صحیح کہا) و نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے اور ہم امن میں تھے ہم کو کسی چیز کا خوف نہیں تھا دو رکعت نماز پڑھی۔ (6) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مکہ کی طرف سفر کیا میں دو رکعت پڑھتا تھا مجھے اس علاقہ کے رہنے والے قراء میں سے کچھ لوگ ملے انہوں نے کہا تو نے کس طرح نماز پڑھی میں نے کہا دو رکعت انہوں نے کہا یہ سنت (میں ہے) یا قرآن (میں سے) ہے میں نے کہا سنت اور قرآن دونوں سے ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت پڑھی انہوں نے کہا کہ وہ جنگ میں تھے میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” علیما (26) لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ امنین محلقین رء و سکم ومقصرین لا تخافون “ اور فرمایا ” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ “ یہ پڑھا اور یہاں تک پہنچے۔ ” واذا طمأنتم “۔ (7) ابن ابی شیبہ و ترمذی (اس نے اس کو صحیح کہا) و نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعت پڑھیں (جب) ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے اور ہم امن میں تھے ہم کو کسی چیز کا خوف نہیں تھا۔ (8) ابن جریر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ حرون میں سے ایک قوم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم زمین پر چلتے رہتے ہیں ہم کس طرح نماز پڑھیں تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ “ پھر وحی منقطع ہوگئی پھر جب دوسرا سال تھا تو نبی ﷺ نے جنگ کی اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھی مشرکین نے کہا محمد ﷺ اور ان کے اصحاب نے تم کو پشت کی جانب موقع دیا ہے کیا تم ان پر حد نہیں کرو گے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا ان کے لئے ان کے پیچھے اتنی مقدار اور بھی ہوتی ہے تو دو نمازوں کے درمیان پر حصہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ان الکفرین کانوا لکم عدوا مبینا (101) واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منہم معک “ سے لے کر ” ان الکفرین کافر لکم عدوا مبینا “ تک تو خوف کی نماز کا حکم نازل ہوا۔ (9) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میں ایک تاجر آدمی ہوں میں بار بار بحرین کی طرف جاتا ہوں تو آپ نے اس کو دو رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا۔ قصر کا حکم خوف کے ساتھ خاص نہیں ہے (1) ابن جریر وابن المنذر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فاقصرو من الصلاۃ ان تفتنکم الذین کفروا “ اور ” ان خفتم “ نہیں پڑھتے تھے اور یہ عثمان کے مصحف میں تھا ” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “۔ (11) ابن جریر نے عمر بن عبد اللہ بن محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر الصدیق ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سفر میں اپنی نماز کو پورا کرو لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جنگ میں تھے اور وہ دشمنوں سے ڈرتے تھے کیا تم (اب) ڈرتے ہو۔ (12) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطار سے پوچھا کون سے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سفر میں پوری نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ (پوری نماز پڑھتے تھے) ۔ (13) ابن جریر نے امیر بن عبد اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمر سے کہا کہ ہم اللہ کی کتاب میں خوف (کی حالت) میں نماز کی قصر پاتے ہیں اور ہم مسافر کی نماز کی قصر کو نہیں پاتے تو عبد اللہ نے فرمایا ہم نے نبی اکرم ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے اسی لئے ہم بھی اس طرح کرتے ہیں۔ (14) عبد الرزاق ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ “ اس دن نازل ہوئی جب نبی ﷺ عسفان میں تھے اور مشرک ضبحنان میں تھے صحابہ نے اکٹھے نماز پڑھی اور نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو ظہر کی نماز چار رکعت پڑھائی اور رکوع سجود اور قیام سب صحابہ اکٹھے کر رہے تھے مشرکوں نے ارادہ کیا کہ ان کے سامان اور ہتھیاروں کو لوٹ لیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” فلتقم طائفۃ منہم معک “ (النساء آیت 102) آپ نے عصر کی نماز پڑھی تو اپنے اصحاب کی دو صفیں بنا دیں پھر ان سب نے اکٹھے تکبیر کہی پھر پہلی جماعت نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری جماعت ٹھہری رہی انہوں نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ نبی ﷺ کھڑے ہوگئے پھر آپ نے تکبیر کہی اور سب نے رکوع کیا دوسری جماعت آگے ہوگئی اور پہلی جماعت پیچھے چلی گئی انہوں نے باری باری سجدہ کیا جیسے پہلی مرتبہ اور عصر کی نماز دو رکعتوں پر قصر کی گئی۔ (15) عبد الرزاق نے طاؤس (رح) سے لفظ آیت ” ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ کے بارے میں روایت کیا خوف اور جنگ کی وجہ سے نماز میں قصر سے کہ جس سمت منہ کرے سوار ہو یا پیدا پھر فرمایا نبی ﷺ کی نماز دو رکعت تھی سفر کی حالت میں لوگوں کا دو رکعت پڑھنا قصر نہیں ہے بلکہ یہ پوری رنیا ہے۔ (16) عبد الرزاق نے عمر وبن دینار (رح) سے لفظ آیت ” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نماز اس وقت تھی جب کافروں سے خوف ہو اور نبی ﷺ نے بعد میں دو رکعت ادا کرنے کی سنت قائم فرمائی وہ قصر نہیں ہے بلکہ وہ پوری نماز ہے۔ (17) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب سفر میں دو رکعت نماز پڑھتے تو یہ پوری نماز ہے اور قصر کرنا حلال نہیں ہے مگر جب کافروں سے خوف ہو کہ وہ تجھ کو فتنہ میں ڈالیں گے اور قصر نماز ایک رکعت ہے امام قیام کرے گا اور اس کے ساتھ دونوں جماعتیں کھڑی ہوں گی ایک جماعت اس کے پیچھے اور ایک جماعت دشمن کے سامنے ہوگی اب وہ جماعت جو آپ کے ساتھ ہے وہ ایک رکعت پڑھے گی پھر پچھلے پاؤں چلتے ہوئے اس جماعت تک پہنچ جائے گی جہاں دوسری جماعت کھڑی تھی یہ لوگ وہاں پر کھڑے ہوجائیں گے اور یہ چلنا الٹے پاؤں ہوگا۔ پھر دوسری جماعت آئے گی اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے گی پھر امام بیٹھ جائے گا اور سلام پھیر دے گا اب یہ لوگ کھڑے ہو کر ایک رکعت اپنی طرف سے پڑھیں گے پھر اپنی صف کی طرف لوٹ جائیں گے اور پھر دوسری جماعت کھڑی ہوجائے گی اپنی رکعت کے ساتھ دوسری رکعت ملائیں گے جو امام کی رکعت کے قائم مقام ہوجائے گی پس امام کے لئے دو رکعت ہوں گی جبکہ ان کی امام کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوگی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوۃ “ سے لے کر ” وخذوا حذرکم “ تک۔ (18) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان یفتنکم الذین کفروا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ھوانز کی لغت میں فتنہ کا معنی ہے عذاب اور جہالت ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ کل امری من عباد اللہ مضطھد ببطن مکۃ مقھوز ومفتون ترجمہ : ہر انسان اللہ کے بندوں میں سے مکہ کی وادی میں مجبور مظلوم اور فتنہ میں پڑا ہوا ہے۔ (19) عبد بن حمید وابن جریر نے سماک حنفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا دو رکعت پوری نماز ہے قصر نہیں بلاشبہ قصر صرف خوف کی نماز ہے۔ میں نے کہا خوف کی نماز کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائے پھر یہ جماعت اس جماعت کی جگہ پر چلی جائے اور وہ جماعت اس جماعت کی جگہ پر آجائے امام ان کو بھی ایک رکعت پڑھائے تو امام کے لئے دو رکعت ہوں گی اور ہر جماعت کے لئے ایک ایک رکعت ہوگی۔ (20) مالک وعبد بن حمید و بخاری ومسلم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض کی گئی پھر سفر کی نماز فرض کی گئی اسی حال میں ثابت رہی اور حضر کی نماز کو زیادہ کردیا گیا۔ (21) عبد الرزاق وعبد بن حمید نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ مکہ میں نبی ﷺ پر دو رکعت فرض کی گئی جب آپ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے گئے تو چار رکعت فرض کی گئی اور سفر کی نماز دو رکعت برقرار رکھی گئی۔ (22) احمد و بیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نماز دو رکعت فرض کی گئی سوائے مغرب کے جو تین رکعت فرض کی گئی اور رسول اللہ ﷺ جب سفر فرماتے تھے تو پہلی والی (یعنی دو رکعت) پڑھتے تھے اور جب ایک گھر پر قیام فرماتے تھے تو ہر دو رکعت کے ساتھ دو رکعت زیادہ کردیتے تھے سوائے مغرب کے کیونکہ وہ تین رکعت ہے اور صبح کی نماز دو رکعت ہی رہی کیونکہ اس میں لمبی قرات ہوتی ہے۔ (23) بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مکہ والے ! نماز کو قصر نہ کرو چار برد سے کم مسافت میں اور یہ مسافت مکہ سے عسفان تک ہے۔ (24) شافعی اور بیہقی نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر عبد اللہ بن عباس ؓ دونوں چار برد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے اور روزہ افطار کرتے یا اس سے زیادہ فاصلہ ہوتا تو پھر بھی یہی کرتے۔ (25) ابن ابی شیبہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ عرفہ کے سفر میں قصر کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن عسفان جدہ اور طائف تک سفر کروں تو قصر کرتا ہوں۔ (26) ابن ابی شیبہ وابن جریر والنحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر میں نماز کو چار رکعت فرض فرمایا اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت۔ (27) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا ضربتم فی الارض “ سے مراد ہے نماز کا قصر کرنا جب تو دشمن کا سامنا کرے جبکہ نماز کا وقت ہوچکا ہو تو تکبیر کہے اور اپنے سر کا جھکا لے اشارہ کرتے ہوئے (چاہے) تو سوار ہو یا پیدل ہو۔ (28) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے لفظ آیت ” فلیس علیکم جناھ ان تقصروا من الصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ نماز میں قصر جنگ کے وقت ہے کہ آدمی سوار ہو کر نماز پڑھے اور تکبیر کہے جس طرف بھی منہ ہو۔