عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ نبیذ جسے عمر بن خطاب (رض) پیا کرتے تھے، وہ سرکہ ہوتا تھا ١ ؎۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے۔
It was narrated that Utbah bin Farqad said: "The Nabidh that Umar bin Al-Khattab used to drink had turned to vinegar.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5707
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : پچھلی روایات میں عمر (رض) کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ آپ نے اس مشروب کے پینے پر منہ بنایا تھا، پھر پانی کے ذریعہ اس کے نشہ کو ختم کر کے پی گئے، کیونکہ آپ نے تو نشہ نہ آنے پر بھی اپنے بیٹے عبیداللہ پر شراب پینے کی حد لگائی تو خود کیسے نشہ آور مشروب کا نشہ پانی سے ختم کر کے اس کو پی لیا ؟
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) ان کی طرف نکلے اور بولے : مجھے فلاں سے کسی شراب کی بو آرہی ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کا شراب ہے اور میں پوچھ رہا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے۔ اگر وہ کوئی نشہ لانے والی چیز ہے تو اسے کوڑے لگاؤں گا، چناچہ عمر بن خطاب (رض) نے اسے پوری پوری حد لگائی ١ ؎۔
It was narrated from As-Saib that : Umar bin Al-Khattab went out to them and said: "I noticed the smell of drink on so-and-so, and he said that he had drunk At-Tila (thickened juice of grapes). I am asking about what he drank. If it was an intoxicant I will flog him." So Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, flogged him, carrying out the Hadd punishment in full.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5708
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر (رض) کا مقصد یہ تھا کہ اگرچہ عبیداللہ کو نشہ نہیں آیا ہے، لیکن اگر اس نے کوئی نشہ لانے والی چیز پی ہوگی تو میں اس پر بھی اس کو حد کے کوڑے لگواؤں گا، اس لیے طحاوی وغیرہ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ نشہ لانے والی مشروب کی وہ حد حرام ہے جو نشہ لائے۔
جابر (رض) سے روایت ہے کہ جیشان کا ایک شخص (جیشان یمن کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور رسول اللہ ﷺ سے مکئی کے بنے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے مزر کہتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : کیا وہ نشہ لاتا ہے ؟ وہ بولا : جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کردیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پیئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے طین ۃ الخبال پلائے گا ، لوگوں نے عرض کیا : یہ طین ۃ الخبال کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا : جہنمیوں کا مواد ۔
It was narrated from Jabir that: A man from (the tribe of) Jaishan, who are from Yemen, came and asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about a drink that they drank in his homeland that was made of corn and called Al-Mizr (beer). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Is it an intoxicant?" He said: "Yes." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Every intoxicant is unlawful. Allah, the Mighty and Sublime, has promised the one who drinks intoxicants that He will give him to drink from the mud of Khibal." They said: "O Messenger of Allah, what is the mud of Khibal?" He said: "The sweat of the people of Hell," or he said: "The juice of the people of Hell.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5709
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : حلال واضح ہے، اور حرام (بھی) واضح ہے، ان کے درمیان شبہ والی کچھ چیزیں ہیں ١ ؎، میں تم سے ایک مثال بیان کرتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ کی باڑھ لگائی ہے (اور اللہ کی چراگاہ محرمات ہیں) جو بھی اس باڑھ کے اردگرد چرائے گا، عین ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں بھی چرا ڈالے۔ (کبھی يوشك أن يخالط الحمى کے بجائے يوشك أن يرتع کہا) (معنی ایک ہے الفاظ کا فرق ہے) ، اسی طرح جو شبہ کا کام کرے گا ممکن ہے وہ آگے (حرام کام کرنے کی) جرات کر بیٹھے۔ ١ ؎: کبھی إن بين ذلك أمور مشتبهات کے بجائے یوں کہا : إن بين ذلك أمورا مشتبهة مفہوم ایک ہی ہے بس لفظ کے واحد و جمع ہونے کا فرق ہے، گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں : حلال، حرام اور مشتبہ، پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں، جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ، اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو، جیسے رسول اللہ ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوسکتا ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے۔ کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جسارت کرسکتا ہے۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, but between them there are matters which are doubtful." And sometimes he said: "But between them are matters that are not as clear. I will describe the likeness of that for you. Allah, the Mighty and Sublime, has a sanctuary and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress into the sanctuary. And whoever approaches a matter that is unclear, he will soon wind up in the sanctuary." And sometimes he said: "He will soon transgress, and indeed whoever mixes in doubt, he will soon cross into it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5710
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی (رض) سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کون سی بات یاد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے : جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو۔
It was narrated that Abu Al-Hawra As-Sadi said: "I said to Al-Hasan bin Ali (RA): What did you memorize from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? He said: I memorized from him: Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5711
مصعب بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ سعد کے انگور کے باغ تھے اور ان میں بہت انگور ہوتے تھے۔ اس (باغ) میں ان کی طرف سے ایک نگراں رہتا تھا، ایک مرتبہ باغ میں بکثرت انگور لگے، نگراں نے انہیں لکھا : مجھے انگوروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان کا رس نکال لوں ؟ ، تو سعد (رض) نے اسے لکھا : جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو تم میرے اس ذریعہ معاش (باغ) کو چھوڑ دو ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد تم پر کسی چیز کا اعتبار نہیں کروں گا، چناچہ انہوں نے اسے اپنے باغ سے ہٹا دیا ١ ؎۔
It was narrated that Musab bin Sad said: "Sad had many grapevines and he had someone looking after them for him. (The vines) bore many grapes, and that man wrote to him (saying): I am afraid that the grapes will be wasted; what do you think if I squeeze them to make juice? Sad wrote to him (saying): When this letter of mine reaches you, leave my land, for by Allah I cannot trust you with anything ever agin. So he made him leave his land.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5713
Notes · وضاحت
١ ؎: نگراں کا مقصد تھا کہ رس نکال کر بیچ دوں، تو شاید اس وقت زیادہ تر خریدنے والے اس رس سے شراب بناتے ہوں گے، اس لیے سعد (رض) نے جوس نکال کر بیچنے کو ناپسند کیا، ورنہ صرف رس میں نشہ نہ ہو تو پیا جاسکتا ہے، اور اس کو خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا : مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ١ ؎۔
It was narrated that Suwiad bin Ghafalah said: "Umar bin Al-Khattab wrote to some of his workers saying: Give to the Muslims thickened grape juice when two thirds of it have gone and one-third is left.
حسن صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5715
Notes · وضاحت
١ ؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔
عامر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری کے نام عمر بن خطاب (رض) کا خط پڑھا : امابعد، میرے پاس شام کا ایک قافلہ آیا، ان کے پاس ایک مشروب تھا جو گاڑھا اور کالا تھا جیسے اونٹ کا طلاء۔ میں نے ان سے پوچھا : وہ اسے کتنا پکاتے ہیں ؟ انہوں نے مجھے بتایا : وہ اسے دو تہائی پکاتے ہیں۔ اس کے دو خراب حصے جل کر ختم ہوجاتے ہیں، ایک تہائی تو شرارت (نشہ) والا اور دوسرا تہائی اس کی بدبو والا۔ لہٰذا تم اپنے ملک کے لوگوں کو اس کے پینے کی اجازت دو ١ ؎۔
It was narrated that Amir bin Abdullah said: "I saw the letter of Umar bin Al-Khattab to Abu Musa (in which he said): A caravan came to me from Ash-Sham carrying a thick black paint like the pitch that is daubed on camels. I asked them how long they cooked it, and they told me that they cooked it until it was reduced by two-third. So the bad two-third had gone, one-third to take away evil and one-third to take away the bad smell. So let those who are with you drink it.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5716
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ پکانے پر انگور کے رس کی تین حالتیں ہیں : پہلی حالت یہ ہے کہ وہ نشہ لانے والا اور تیز ہوتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ وہ بدبودار ہوتا ہے اور تیسری حالت یہ ہے کہ وہ عمدہ اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔
عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں لکھا : امابعد، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ١ ؎، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک۔
It was narrated that Abdullah bin Yazid Al-Khatmi said: "Umar bin Al-Khattab (RA) wrote to us (saying): Cook your drinks until the share of the Shaitan is gone, for he has two (shares) and you have one.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5717
Notes · وضاحت
١ ؎: شیطانی حصہ سے روایت نمبر ٥٧٢٩ میں مذکور واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
عامر شعبی کہتے ہیں کہ علی (رض) لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گرجائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے۔
It was narrated that Ash-Shabi said: "Ali (RA) used to give the people thickened grape juice into which flies would fall and not be able to get out again
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5718
داود کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے پوچھا : وہ کون سا مشروب ہے جسے عمر (رض) نے حلال قرار دیا ؟ وہ بولے : جو اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہوجائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Dawud said: "I asked Saeed: What is the drink that Umar bin Al-Khattab (RA) regarded as permissible? He said: That which has been cooked until two-third has gone and one-third is left.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5719
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو پکا کر آدھا رہ گیا ہو، انہوں نے کہا : نہیں، جب تک دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Yala bin Ata said: "I heard Saeed bin Al-Musayyab say, when a Bedouin asked him about a drink that had been cooked and reduced by half: No, not until two-third has gone and one-third is left.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5722
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جب طلاء جل کر ایک تہائی رہ جائے تو اسے پینے میں کوئی حرج نہیں۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "When At-Tila (thickened grape juice) has been cooked and reduced to one-third, then there is nothing wrong with it.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5723
بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے پوچھا : شیرہ (رس) کس قدر پکایا جائے۔ انہوں نے کہا : اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
It was narrated that Bushair bin Al-Muhajir said: "I asked Al-Hasan about juice that has been cooked. He said: That which has been cooked until two-third of it has gone and one-third is left.
حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5725
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے ہوئے سنا : نوح (علیہ السلام) سے شیطان نے انگور کے پودے کے بارے میں جھگڑا کیا، اس نے کہا : یہ میرا ہے، انہوں نے کہا : یہ میرا ہے، پھر دونوں میں صلح ہوئی اس پر کہ نوح (علیہ السلام) کا ایک تہائی ہے اور شیطان کا دو تہائی ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Sirin said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Shaitan disputed with Nuh علیہ السلام, concerning the grapevine. One said: "This is for me," and the other said: "This is for me." Then they agreed that Nuh علیہ السلام would have one-third and the Shaitan would have two-thirds.
حسن الإسناد موقوف وهو بالإسرائيليات أشبهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5726
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرف عمر (رض) کا اشارہ تھا۔ (دیکھئیے نمبر ٥٧٢٠ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٢٣٧) (حسن الإسناد) (یہ اثر اسرائیلیات سے قریب ہے )