Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 286 of 289

5690Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ.

ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے باذق (بادہ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چناچہ وہ بولے : محمد ﷺ باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے (یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ (جرمی) کہتے ہیں : میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔

It was narrated that Abu Al-Juwairiyah Al-Jarmi said: "I asked Ibn Abbas, when he was leaning back against the Kabah, about Badhaq (a drink made from the juice of grapes slightly boiled). He said: Muhammad came before Badhaq (i.e., it was not known during his time), but everything that intoxicates in unlawful." He said: "I was the first of the Arabs to ask him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5687
Notes · وضاحت
١ ؎: باذق: بادہ کا معرب ہے جو فارسی لفظ ہے، انگور کے شیرے کو تھوڑا سا جوش دے کر ایک خاص قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ مشروب محمد ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ہر نشہ لانے والے کے بارے میں آپ کا فرمان اس پر بھی صادق آتا ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے، تو کیسے یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کہ معروف شراب کے سوا دیگر مشروب کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ لائے ؟۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٦٠٩ (صحیح )
5691Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ إِنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : جسے بھلا معلوم ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام کہنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ نبیذ کو حرام کہے ١ ؎۔

Ibn Abbas said: "Whoever would like to regard as forbidden that which Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) regard as forbidden, let him regard Nabidh as forbidden.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5688
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد اس سے وہ نبیذ ہے، جس میں نشہ پیدا ہوچکا ہو خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٣٢٣) (صحیح الإسناد )
5692Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ، اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٍ، أَوْ غَيْرِهِ.

عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس (رض) سے کہا : میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی قسی میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید قسی میں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ (ابن عباس) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا : تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہوجائے اس سے بچو (خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے) ۔

It was narrated from Uyainah bin Abdur-Rahman that his father said: "A man said to Ibn Abbas: I am a man from Khurasan, and our land is a cold land. We have a drink that is made from raisins and grapes and other things, and I am confused about it. He mentioned different kinds of drinks to him and mentioned many, until I thought that he had not understood him. Ibn Abbas said to him: You have told me too many. Avoid whatever intoxicates, whether it is made of dates, raisins or anything else.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5689
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٨١٥) (صحیح الإسناد )
5693Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَبِيذُ الْبُسْرِ بَحْتٌ لَا يَحِلُّ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh made from Al-Busr is forbidden and is not permissible.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5690
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٤٤٢) (صحیح الإسناد )
5694Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَنَهَى عَنْهُ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي، قَالَ: لَا تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ.

ابوجمرہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) اور عربی سے ناواقف لوگوں کے درمیان ترجمہ کر رہا تھا، اتنے میں ان کے پاس ایک عورت لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھنے آئی تو انہوں نے اس سے منع کیا، میں نے عرض کیا : ابوعباس ! میں ایک سبز لاکھی میں میٹھی نبیذ تیار کرتا اور اسے پیتا ہوں، اس سے میرے پیٹ میں ریاح بنتی ہے، انہوں نے کہا : اسے مت پیو اگرچہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔

It was narrated that Abu Hamzah said: "I used to interpret between Ibn Abbas and the people. A woman came to him and asked him about Nabidh made in earthenware jars, and he forbade it. I said: O Abu Abbas, I make a sweet Nabidh in a green earthenware jar; when I drink it, my stomach makes noises. He said: Do not drink it even if it is sweeter than honey.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5691
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوعباس یعنی آپ کے سب سے بڑے لڑکے کا نام عباس تھا، انہی کے نام سے آپ کی کنیت ابوعباس تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٥٣٤) (صحیح الإسناد )
5695Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ، قَالَ: قُلْتُلِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا، إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ، فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا، وَلَا النَّادِمِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ، دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ.

ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہوجائے، وہ بولے : عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ (گھروں پر) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا : میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں : میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ وہ لوگ بولے : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں : کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے ۔

Abu Hamzah Nasr said: "I said to Ibn Abbas that my grandmother makes Nabidh in an earthenware jar and it is sweet. If I drink a lot of it and sit with people, I am worried that they will find out. He said: The delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Welcome to a delegation that is not disgraced or filled with regret. They said: O Messenger of Allah, the idolators are between us and you, and we can only reach you during the sacred months. Tell us of something which, if we do it, we will enter Paradise, and we can tell it to those whom we left behind. He said: I will enjoin three things upon you, and forbid four things to you. I order you to have faith in Allah, and do you know what faith in Allah is? They said: Allah and His Messenger know best. He said: (It means) testifying that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah and giving one-fifth (the Khums) of the spoils of war. And I forbid four things to you: That which is soaked in Ad-Dubba, An-Naqir, Al-Hantam, and Al-Muzaffat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5692
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٠٣٤ (صحیح )
5696Sunan An Nasaiضعیف

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْنانَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّ لِي جُرَيْرَةً أَنْتَبِذُ فِيهَا حَتَّى إِذَا غَلَى وَسَكَنَ شَرِبْتُهُ، قَالَ: مُذْ كَمْ هَذَا شَرَابُكَ ؟، قُلْتُ: مُذْ عِشْرُونَ سَنَةً، أَوْ قَالَ: مُذْ أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: طَالَمَا تَرَوَّتْ عُرُوقُكَ مِنَ الْخَبَثِ وَمِمَّا اعْتَلُّوا بِهِ. حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا : میرے پاس ایک گھڑا ہے، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں، انہوں نے کہا : تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو ؟ میں نے کہا : بیس سال سے، یا کہا : چالیس سال سے، بولے : عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں۔ ومما اعتلوا به حديث عبد الملک بن نافع عن عبداللہ بن عمر تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے۔

It was narrated that Qais bin Wahban said: "I asked Ibn Abbas: I have a small jar in which I make Nabidh and when it has bubbled and settled down again, I drink it. He said: For how long you have been drinking that? He said: For twenty years" - or he said: for forty years. He said: For a long time you have been quenching your thirst with something forbidden.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5693
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” قیس “ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا معنی صحیح احادیث سے ثابت ہے )
5697Sunan An Nasaiضعیف

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا، فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ، فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ.

عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے کہا : میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی۔ آپ رکن (حجر اسود) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے، آپ نے اسے لوٹا دیا، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : بلاؤ اس شخص کو ، اس کو بلایا گیا، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا۔ پھر فرمایا : جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہوجائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ ۔

Ibn Umar said: "While he was at the Rukn, I saw a man bring a cup to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in which there was Nabidh. He gave the cup to him and he raised it to his mouth, but he found it to be strong, so he gave it back to him and a man among the people said: O Messenger of Allah, is it unlawful? He said: Bring the man to me. So he was brought to him. He took the cup from him and called for water. He poured it into the cup, which he raised to his mouth and frowned. Then he called for more water and poured it into it. Then he said: When these vessels become strong in taste, pour water on them to weaken them.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5694
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٣٠٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں )
5698Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.

اس سند سے بھی ابن عمر (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر (رض) سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔

Narrated from Abdul-Malik bin Nafi from Ibn Umar: A similar report was narrated from Abdul-Malik bin Nafi from Ibn Umar, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد )
5699Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟، فَقَالَ: اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔

It was narrated from Ibn Umar that: A man asked about drinks and he said: "Avoid everything that intoxicates.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5696
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٧٤٢) (صحیح الإسناد )
5700Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟، فَقَالَ: اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ.

زید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔

It was narrated that Zaid bin Jubair said: "I asked Ibn Umar about drinks and he said: Avoid everything that intoxicates.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5697
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5701Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الْمُسْكِرُ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نشہ لانے والی چیز خواہ کم ہو (جو نشہ نہ لائے) یا زیادہ حرام ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Intoxicants are unlawful in small or large amounts.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5698
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٤٣٧) (صحیح الإسناد )
5702Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر (شراب) ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is unlawful.

صحيح الإسناد موقوف وصح عنه مرفوعاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5699
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٣٩٧) (صحیح الإسناد )
5703Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کی ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

It was narrated from Salim bin Abdullah, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah has forbidden Khamr, and every intoxicant is unlawful.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5700
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٠١٩) (صحیح )
5704Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْكَالِهِ جَمَاعَةٌ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ لوگ ثقہ اور عادل ہیں اور روایت کی صحت میں مشہور ہیں۔ اور عبدالملک ان میں سے کسی ایک کے بھی برابر نہیں، گرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے کچھ اور لوگ بھی کریں۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5701
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٥٩٠ (حسن صحیح )
5705Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ، فَكَانَيُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ، وَيُلْقَى عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ، وَيُجْعَلُ فِيهِ مَاءٌ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو.

رقیہ بنت عمرو بن سعید کہتی ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کی پرورش میں تھی، ان کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، پھر وہ اسے صبح کو پیتے تھے، پھر کشمش لی جاتی اور اس میں کچھ اور کشمش ڈال دی جاتی اور اس میں پانی ملا دیا جاتا، پھر وہ اسے دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن وہ اسے پھینک دیتے۔ واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو ان لوگوں نے ابومسعود عقبہ بن عمرو کی حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے۔

Ruqaiyah bint Amr bin Sad said: "I was under the care of Ibn Umar, and raisins would be soaked for him and he would drink them in the morning, then the raisins would be left to dry, and other raisins would be added to them, and water would be poured on top of them, and he would drink that in the morning. Then the day after he would throw them away.

ضعيف الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5702
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٠٢) (ضعیف الإسناد )
5706Sunan An Nasaiضعیف

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ، فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَفَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لَا. وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ، لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ.

ابومسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کعبے کے پاس پیاسے ہوگئے، تو آپ نے پانی طلب کیا۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا (ناپسندیدگی کا اظہار کیا) فرمایا : میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ ، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) یہ ضعیف ہے، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاسکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں۔

It was narrated that Abu Masud said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) became thirsty around the Kabah so he called for a drink. Some Nabidh was brought in a water skin and he smelled it and frowned. He said: Bring me a bucket of Zamzam (water). He poured it over it and drank some. A man said: Is it unlawful, O Messenger of Allah? He said: No.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5703
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٩٨٠) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کردی ہے )
5707Sunan An Nasaiصحیح

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَ يَصُومُهَا، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْمَسَاءُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَكَ بِهَذَا النَّبِيذِ، فَقَالَ: أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ. وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

خالد بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تو نبی میں نبیذ بنائی، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا : میرے قریب لاؤ ، چناچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ نے فرمایا : اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ۔ ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب (رض) کا عمل بھی ہے۔

Abu Hurairah said: "I knew that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was fasting on certain days, so I prepared some Nabidh for him to break his fast, and made it in a gourd. When evening came I brought it to him, and said: O Messenger of Allah, I knew that you were fasting today, so I prepared this Nabidh for you to break your fast. He said: Bring it to me, O Abu Hurairah. I brought it to him, and it turned out to be something bubbling. He said: Take this and throw it against the wall (throw it away), for this is the drink of one who does not believe in Allah or the Last Day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5704
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٦١٣ (صحیح )
5708Sunan An Nasaiضعیف

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ، فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ.

ابورافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : جب تمہیں نبیذ میں تیزی آجانے کا اندیشہ ہو، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو ، عبداللہ (راوی) کہتے ہیں : اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آجائے۔

It was narrated from Abu Rafi that : Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: "If you fear that Nabidh may be too strong, then weaken it with water." Abdullah (one of the narrators) said: "Before it gets strong.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5705
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابو حفص مجہول ہیں )
5709Sunan An Nasaiضعیف

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ، فَدَعَا بِهِ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ، فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ، فَقَالَ: هَكَذَا فَافْعَلُوا.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ثقیف کے لوگوں نے عمر (رض) کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔

It was narrated from Yahya bin Saeed who heard Saeed bin Al-Musayyab say: "Thaqif welcomed Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: Do like this.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5706
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٥٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سعید بن المسیب نے عمر رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے )