عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان (رض) عنہ کو کہتے ہوئے سنا : شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں : لہٰذا تم شراب سے بچو، اس لیے کہ اللہ کی قسم وہ (یعنی شراب نوشی) اور ایمان کبھی اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ١ ؎۔
Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith narrated that his father said: "I heard Uthman say: Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper and used to stay away from people." And he mentioned something similar. He said: "Avoid Khamr for, by Allah, it can never coexist with Faith, but soon one of them will expel the other.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5667
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر بغیر توبہ کے مرگیا، اور اگر توبہ کرلے گا تو ایمان شراب کے اثر کو نکال دے گا ان شاء اللہ۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ جس نے شراب پی اور اسے نشہ (گرچہ) نہیں ہوا، جب تک اس کا ایک قطرہ بھی اس کے پیٹ یا اس کی رگوں میں باقی رہے گا ١ ؎ اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ مرگیا تو کافر کی موت مرے گا ٢ ؎، اور اگر اسے نشہ ہوگیا تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو وہ کافر کی موت مرے گا۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Whoever drinks Khamr and does not get intoxicated, his Salah will not be accepted so long as any trace of it remains in his belly or his veins, and if he dies he will die a Kafir. If he becomes intoxicated his Salah will not be accepted for 40 nights, and if he dies during them, he will die a Kafir." (Sahih Mawquf)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5668
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شراب کا ایک قطرہ بھی (جو نشہ پیدا نہیں کرتا) حرام ہے، ارشاد نبوی ہے جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ پیدا کرے اس کا تھوڑا سا حصہ بھی حرام ہے۔ ٢ ؎: جیسے کفر کے ساتھ نماز مقبول نہیں اسی طرح شراب کے پیٹ میں موجود ہونے سے نماز قبول نہیں ہوگی، تو اس حالت میں موت کافر کی موت ہوئی کیونکہ بےنماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، جیسا کہ محققین علما کا فتوی ہے۔ خالفه يزيد بن أبي زياد سابقہ روایت میں يزيد بن أبي زياد نے فضیل سے اختلاف کیا
عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے شراب پی اور پیٹ میں اسے اتار لی، اللہ اس کی سات دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ اس دوران میں مرگیا، تو وہ کفر کی حالت میں مرے گا، اور اگر اس کی عقل چلی گئی اور کوئی فرض چھوٹ گیا (ابن آدم نے کہا : قرآن چھوٹ گیا) ، تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اس دوران میں مرگیا، تو کفر کی حالت میں مرے گا۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr and puts it in his belly, Allah will not accept his Salah for seven (days), if he dies during them" - Muhammad bin Adam (One of the narrators) said: "he will die a Kafir. If he was too intoxicated to offer any of the obligatory" - Ibn Adam said: "or recite Quran, his Salah will not be accepted for 40 days, and if he dies during them," And Ibn Adam said: "He will die a Kafir.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5669
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یزید بن زیاد کی روایت فضیل کی حدیث سے متن اور سند دونوں اعتبار سے مختلف ہے، چناچہ فضیل کی حدیث ابن عمر (رض) پر موقوف ہے جب کہ یزید کی عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی روایت سے مرفوع ہے، لیکن یزید ضعیف راوی ہیں اس لیے اس حدیث کا موقوف ہونا ہی صواب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٩٢١) (ضعیف) (اس کے راوی ” یزید “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن دیلمی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ طائف کے اپنے باغ میں تھے جسے لوگ وہط کہتے تھے۔ وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑے ٹہل رہے تھے، اس نوجوان پر شراب پینے کا شک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے ایک گھونٹ شراب پی، اس کی توبہ چالیس دن تک قبول نہ ہوگی۔ (اس کے بعد) پھر اگر اس نے توبہ کی تو اللہ اسے قبول کرلے گا، اور اگر اس نے پھر شراب پی تو پھر چالیس دن تک توبہ قبول نہ ہوگی۔ اس کے بعد اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اور اگر اس نے پھر پی تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے جہنمیوں کا مواد پلائے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Ad-Dailami said: "I entered upon Abdullah bin Amr bin Al-As when he was in a garden of his in At-Taif called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again (a fourth time), then it is a right upon Allah to make him drink from the mud of Khibal on the Day of Resurrection." This is the wording of Amr.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5670
Notes · وضاحت
١ ؎: بشرطیکہ توبہ کی توفیق اسے نہ ملی ہو اور اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں شراب پی پھر توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr in this world and does not repent from that, will be denied it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5671
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائے، کیونکہ اس نے جنت کا اپنا حق لینے میں دنیا میں عجلت سے کام لیا، یہ ایسے ہی جیسے ریشم کے بارے میں مسند طیالسی میں ایک حدیث ہے (نمبر ٢٢١٧ ) کہ جو دینا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا گرچہ اس میں داخل ہوجائے، دیگر اہل جنت تو پہنیں گے مگر وہ نہیں پہن سکے گا۔ (ابن حبان نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ٧ /٢٩٧) ۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : احسان جتانے والا، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا (عادی شرابی) : یہ سب جنت میں نہیں داخل ہوسکتے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No one who reminds others of his favors, no one who is disobedient to his parents and no drunkard, will enter Paradise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5672
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اور اس سے توبہ نہیں کی تو اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی ۔
It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, and not having repented, will not drink it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5673
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, will not drink it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5674
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شراب کی وجہ سے عمر (رض) نے ربیعہ بن امیہ کو خیبر کی طرف نکال دیا ١ ؎، پھر وہ ہرقل سے جا ملے اور عیسائی ہوگئے، تو عمر (رض) نے کہا : اس کے بعد میں کسی مسلمان کو شہر بدر نہیں کروں گا۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Umar (RA) banished Rabiah bin Umaiyah to Khaibar for drinking Khamr, and he went and joined Heraclius and became a Christian. Umar (RA) him, said: I will never expel any Muslim after this.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5676
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شہر بدری حد میں نہیں، بلکہ بطور تعزیر تھی، اسی طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر (رض) کا مذکورہ قول ہے، یہ اس شہر بدری کے خلاف ہے جو حد زنا کے وقت وجود میں آتی ہے، اس طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر (رض) مذکورہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ تو حد زنا میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٥٣) (ضعیف الإسناد) (” سعید بن المسیب “ کا سماع عمر رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن جب ابن المیسب کے مرفوع مراسیل مقبول ہیں تو عمر رضی الله عنہ کے واقعہ کے بارے میں کیوں مقبول نہیں ہوں گے ؟ )
ابوبردہ بن نیار (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر برتن میں پیو، لیکن اتنا نہیں کہ مست ہوجاؤ ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے، اس میں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے غلطی کی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سماک کے تلامذہ میں سے کسی نے بھی ان کی متابعت کی ہو، اور سماک خود بھی قوی نہیں وہ تلقین کو قبول کرتے تھے ٢ ؎۔ امام احمد بن حنبل نے کہا : ابوالاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے، شریک نے ابوالاحوص کی اسناد اور الفاظ میں مخالفت کی ہے ٣ ؎۔
It was narrated that Abu Burdah bin Niyar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Drink from vessels but do not become intoxicated.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5677
Notes · وضاحت
١ ؎: احتمال ہے اس بات کا کہ ولاتسکروا سے مراد ولا تشربوا المسکر ہو، یعنی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس تاویل سے اس روایت اور حرام بتانے والی دیگر روایات کے اندر تطبیق ہوجاتی ہے۔ ٢ ؎: تلقین کا معنی ہوتا ہے : کسی سے اعادہ کرانے کے لیے کوئی بات کہنا، بالمشافہ سمجھنا، باربار سمجھا کر، سنا کر ذہن میں بٹھانا اور ذہن نشین کرانا۔ ٣ ؎: ابوالا حوص بخاری و مسلم کے رواۃ میں سے ہیں، اور ان کی اس حدیث کے شواہد بھی موجود ہیں، جب کہ ان کے برخلاف شریک حافظہ کے ضعیف ہیں۔
بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba, Al-Hantam, An-Naqir, and Al-Muzaffat.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5678
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے، جو آگے کی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧) ، سنن الترمذی/الجنائز ٦٠ (١٠٥٤) ، الإضاحي ١٤ (١٥١٠) ، الأشربة ٦ (١٨٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٣٤٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٩٣٢) ، مسند احمد (٥/٣٥٦، ٣٥٩، ٣٦١) (صحیح) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور تھے، اس لیے غلطی کر جاتے تھے )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ شراب پیو، لیکن (اس حد تک کہ) مست نہ ہوجاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ بھی ثابت نہیں ہے اور قرصافہ یہ کون ہے ؟ ہمیں نہیں معلوم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول جو مشہور بات ہے وہ اس کے برعکس ہے جو قرصافہ نے ان سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Simak, from Qirsafah, one of their womenfolk, that: Aishah (RA) said: "Drink but do not become intoxicated.
جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا : ان سے کچھ لوگوں نے سوال کیا اور وہ سب ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ صبح کو کھجور بھگوتے اور شام کو پیتے ہیں اور شام کو بھگوتے ہیں تو صبح میں پیتے ہیں، تو وہ بولیں : میں کسی نشہ لانے والی چیز کو حلال قرار نہیں دیتی خواہ وہ روٹی ہو خواہ پانی، انہوں نے ایسا تین بار کہا۔
It was narrated from Qudamah Al-Amiri that Jasrah bint Dijajah Al-Amiriyyah told him: "I heard Aishah (RA) when some people asked her about Nabidh, saying we soak dates in the morning and drink it in the evening, or we soak them in the evening and drink them in the morning. She said: I do not permit any intoxicant even if it were bread or even if it were water. She said that three times.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5680
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٨٣١) (ضعیف الٕاسناد) (اس کے راوی ” قدامہ “ اور ” جسرہ “ دونوں لین الحدیث ہیں )
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : تم لوگوں کو کدو کی تو نبی سے منع کیا گیا ہے، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آجائے تو اسے نہ پیو۔
It was narrated that Ali bin Al-Mubarak said: "Karimah bint Hammam told me that she heard Aishah (RA), the Mother of the Believers, say: You have been forbidden Ad-Dubba (gourds), you have been forbidden Al-Hantam, you have been forbidden Al-Muzaffat. Then she turned to women and said: Beware of green earthenware jars, and if the water in your clay vessels intoxicates you, do not drink it.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5681
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتے تھے۔ واعتلوا بحديث عبداللہ بن شداد عن عبداللہ بن عباس لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی (آگے آنے والی) اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) was asked about drinks and she said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to forbid all intoxicants." And they use the narration of Abdullah bin Shaddad from Abdullah bin Abbas.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5682
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آجائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔
It was narrated from Ibn Shubrumah who mentioned it from Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, from Ibn Abbas, who said: "Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5683
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ شراب تو بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور دوسرے مشروبات (اس وقت حرام ہیں) جب نشہ آجائے۔ ابو عون محمد عبیداللہ ثقفی نے ابن شبرمہ کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in and of itself, in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5684
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت یہ ہے کہ ابو عون نے السکر (سین کے ضم اور کاف کے سکون کے ساتھ) کی بجائے المسکر (میم کے ضمہ، سین کے کسرہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ) (ما أسكر جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) روایت کی ہے، جو معنی میں بھی ابن شبرمہ کی روایت کے خلاف ہے، لفظ السکر سے کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر نشہ آجائے وہ حرام ہے اس سے پہلے نہیں، اور لفظ المسکر (یا اگلی روایت میں ما أسكر ) کا مطلب یہ ہے کہ جس مشروب سے بھی نشہ آتا ہو (خواہ اس کی کم مقدار پر نہ آئے) وہ حرام ہے، اور سنداً ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت زیادہ قریب صواب ہے، اس لیے امام طحاوی وغیرہ کا استدلال ابن شبرمہ کی روایت سے درست نہیں۔ (دیکھئیے : الحواشی الجدیدہ للفنجابی، نیز الفتح ١٠ /٦٥ )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ شراب بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، اور ہر مشروب جو نشہ لائے حرام ہے۔ (مقدار کم ہو یا زیادہ) ابن حکم نے قلیلھا و کثیر ھا (خواہ کم ہو یا زیادہ) کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in and of itself, in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5685
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے (کم ہو یا زیادہ) حرام ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ٢ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of drink that intoxicates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5686
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : اس حدیث کا بلفظ المسکر ہونا بمقابلہ السکر ہونے کا زیادہ صحیح ہے، (ابن شبرمہ کی روایت میں السکر ہے جب کہ ابو عون کی روایت میں المسکر ہے) امام نسائی کی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی لفظ المسکر ہی کو ترجیح دیا ہے (دیکھئیے فتح الباری ج ١٠ /ص ٤٣ ) ۔ ٢ ؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ ابن عباس (رض) سے ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت سنداً زیادہ قرین صواب اس لیے بھی ہے کہ ابو عون کی روایت ابن عباس سے روایت کرنے والے دیگر ثقہ رواۃ کی روایتوں کے مطابق ہے کہ ابن عباس نشہ لانے والے مشروب کی ہر مقدار کی حرمت کے قائل تھے خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔