جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے روغنی گھڑے، کدو کی تو نبی اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، اور جب نبی اکرم ﷺ کے پاس مشکیزہ نہ ہوتا جس میں آپ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ کے لیے پتھر کے برتن میں نبیذ بنائی جاتی۔
Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Muzaffat jars, Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, and if the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) could not find a water-skin in which to make Nabidh, it would be made for him in a small vessel of stone.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5647
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزہ میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، جب مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کے برتن میں تیار کی جاتی، اور آپ نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے روکا۔
It was narrated that Jabir said: "(Fruit) would be soaked for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in a water skin, and if he did not have a water skin, it would be made for him in a small vessel of stone. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, and Al-Muzaffat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5648
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم اسے رکھ چھوڑو اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے کرے، اس لیے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور پیو (ہر چیز) البتہ نشہ لانے والی چیز سے بچو۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid you (to store) the sacrificial meat, but now eat it and store it; and whosoever wants to visit graves (may do so), for they are a reminder of the Hereafter; and drink but avoid all intoxicants.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5651
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کرو، میں نے تین دن سے زیادہ تک قربانی کے گوشت (جمع کرنے) سے منع کیا تھا، لیکن اب جب تک تمہارا جی چاہے رکھ چھوڑو، میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ (برتنوں) کی نبیذ سے منع کیا تھا، لیکن اب تم تمام قسم کے برتنوں میں پیو البتہ نشہ لانے والی چیز مت پیو ۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid you to visit graves, but (now) visit them. And I forbade you (to keep) the sacrificial meat for three days, but now keep whatever you wish. And I forbade Nabidh to you, unless it was (made) in a water skin, but now drink from all kinds of vessels but do not drink any intoxicant.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5652
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت سے تو اب تم (قبروں کی زیارت) کرو، اس کی زیارت سے تمہاری بہتری ہوگی، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم جب تک چاہو اس میں سے کھاؤ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں کے مشروب سے روکا تھا، لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پیو اور کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو ۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid three things to you: Visiting graves, but now visit them, and may visiting them increase you in goodness; and I forbade you (to store) the sacrificial meat for more than three days, but now eat whatever you wish of it. And I forbade to you drinks in (certain kinds of ) vessels, but now drink from whatever vessel you wish, but do not drink any intoxicant.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5653
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں (مخصوص) برتنوں کے استعمال سے منع کیا تھا، لیکن اب تمہیں جو بہتر لگے اس میں نبیذ تیار کرو، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid certain kinds of vessels to you. Now soak (fruits) in whatever you wish, but beware of any intoxicant.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5654
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سفر میں جا رہے تھے، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی، فرمایا : یہ کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا : تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو ؟ وہ بولے : ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تو نبی میں تیار کرتے ہیں۔ ہمارے پاس (ان کے علاوہ) دوسرے برتن نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو ، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑگئے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں ، وہ بولے : اللہ کے نبی ! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر (تمام برتن) حرام کردیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو، آپ نے فرمایا : پیو (جیسے چاہو) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
Abdullah bin Buraidah (narrated) from his father that: While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was walking, he approached some people and heard a confused noise coming from them. He said: "What is this noise?" They said: "O Messenger of Allah, they have a drink that they drink." He sent for those people and said: "In what do you soak (fruit - to make that drink)?" They said: "We soak (fruits) in vessels carved from wood and gourds, and we have no water skins (that can be closed)." He said: "Do not drink except from a vessel that can be tied closed." Then as much time as Allah willed passed, then he went back to them and they had fallen sick and become pallid. He said: "Why do you look so ill?" They said: "O Messenger of Allah, our land is unhealthy and you forbade to us everything except that which was in a vessel that could be tied closed." He said: "Drink, but every intoxicant is unlawful.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5655
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چناچہ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا : تب تو نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that : When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade large water skins that are cut from the top and can no longer be closed, Ansar complained and said: "O Messenger of Allah, we do not have any vessels." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Then there is no harm.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5656
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پھر تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ اسراء (معراج) کی رات رسول اللہ ﷺ کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں دیکھا تو دودھ لے لیا، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری چیز کی ہدایت دی، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "On the night on which he was taken on the Night Journey (Al-Isra), two cups, of wine and milk, were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He looked at them and chose the milk. Jibrail علیہ السلام, said to him: Praise be to Allah Who has guided you to the Fitrah. If you have chosen the wine, your Ummah would have gone astray.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5657
ایک صحابی رسول (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے ۔
Ibn Muhairiz narrated from a man among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People among my Ummah will drink Khamr, calling it by another name.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5658
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، اور جب وہ کوئی ایسی چیز لوٹتا ہے، جس کی طرف لوگ نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوں تو وہ مومن باقی نہیں رہتا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and people are looking on.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5659
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، جب بھی توبہ کرتا ہے اس کا ایمان لوٹ آتا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ٤٨٧٤ اور اس کا حاشیہ) ۔
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا۔ اور جب کوئی قیمتی چیز چراتا ہے جس کی طرف مسلمان (حسرت سے) نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں، تو وہ مومن باقی نہیں رہتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and taking something valuable by force while the Muslims are looking at it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5660
عبداللہ بن عمر (رض) اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ، پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ پھر پیئے تو اسے قتل کر دو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar and a number of the Companions of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drinks Khamr, whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), kill him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5661
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی نشہ میں مست ہوجائے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر مست ہو تو کوڑے لگاؤ، اگر پھر بھی مست ہو تو پھر اسے کوڑے لگاؤ ، پھر چوتھی مرتبہ کے بارے میں فرمایا : اس کی گردن اڑا دو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him." Then he said concerning the fourth time, "Strike his neck (i.e., kill him).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5662
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔
It was narrated from Abu Burdah bin Abi Musa: That his father used to say: "I do not see any difference between drinking Khamr and worshipping this column instead of Allah the Mighty and Sublime.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5663
عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن دیلمی عبداللہ بن عمرو بن عاص کی تلاش میں سوار ہوئے، ابن دیلمی نے کہا : چناچہ میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے عرض کیا : عبداللہ بن عمرو ! آپ نے شراب کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : میری امت کا کوئی شخص شراب نہ پیئے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا ۔
Urwah bin Ruwaim narrated that : Ibn Ad-Dailami rode looking for Abdullah bin Amr bin Al-As. Ibn Ad-Dailami said: "I entered upon him and said: O Abdullah bin Amr, did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say anything concerning Khamr? He said: Yes, I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If a man among my Ummah drinks Khamr, Allah will not accept his Salah for forty days.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5664
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الٔهشربة ٤ (٣٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٤٣) ، مسند احمد (٢/١٧٦، ١٨٩) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٦٧٣) (صحیح )
مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ١ ؎ تو اس نے حرام کھایا، اور جب اس نے رشوت قبول کرلی تو وہ کفر تک پہنچ گیا، مسروق نے کہا : جس نے شراب پی، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز (قبول) نہیں ہوتی۔
It was narrated that Masruq said: "If a judge accepts a gift he has consumed something unlawful, and if he accepts a bribe, that takes him to the level of Kufr. Masruq said: "Whoever drinks Khamr, he has committed (an act of) Kufr, and his Kufr is that his Salah does not count.
عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان (رض) عنہ کو کہتے ہوئے سنا : شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پھانس لیا، اس نے اس کے پاس ایک لونڈی بھیجی اور اس سے کہلا بھیجا کہ ہم تمہیں گواہی دینے کے لیے بلا رہے ہیں، چناچہ وہ اس کی لونڈی کے ساتھ گیا، وہ جب ایک دروازے میں داخل ہوجاتا (لونڈی) اسے بند کرنا شروع کردیتی یہاں تک کہ وہ ایک حسین و جمیل عورت کے پاس پہنچا، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور شراب کا ایک برتن، وہ بولی : اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں گواہی کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم مجھ سے صحبت کرو، یا پھر ایک گلاس یہ شراب پیو، یا اس لڑکے کو قتل کر دو ، وہ بولا : مجھے ایک گلاس شراب پلا دو ، چناچہ اس نے ایک گلاس پلائی، وہ بولا : اور دو ، اور وہ وہاں سے نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس عورت سے صحبت کرلی اور اس بچے کا خون بھی کردیا، لہٰذا تم لوگ شراب سے بچو، اللہ کی قسم ! ایمان اور شراب کا ہمیشہ پینا، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا۔
It was narrated from Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith that his father said: "I heard Uthman, may Allah be pleased with him, say: Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper. An immoral woman fell in love with him. She sent her slave girl to him, saying: We are calling you to bear witness. So he set out with her slave girl, and every time he entered a door, she locked it behind him, until he reached a beautiful woman who has with her a boy and a vessel of wine. She said: By Allah, I did not call you to bear witness, rather I called you to have intercourse with me, or to drink a cup of this wine, or to kill this boy. He said: Pour me a cup of this wine. So she poured him a cup. He said: Give me more. And soon he had intercourse with her and killed the boy. So avoid Khamr, for by Allah faith and addiction to Khamr cannot coexist but, one of them will soon expel the other.
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5666