جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ، فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ.
ابورافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: جب تمہیں نبیذ میں تیزی آجانے کا اندیشہ ہو، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو، عبداللہ (راوی) کہتے ہیں: اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آجائے۔
It was narrated from Abu Rafi that : Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: "If you fear that Nabidh may be too strong, then weaken it with water." Abdullah (one of the narrators) said: "Before it gets strong.