جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ، فَدَعَا بِهِ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ، فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ، فَقَالَ: هَكَذَا فَافْعَلُوا.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ثقیف کے لوگوں نے عمر ؓ کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔
It was narrated from Yahya bin Saeed who heard Saeed bin Al-Musayyab say: "Thaqif welcomed Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: Do like this.