Sunan An Nasai 5709

کتاب الا شربة

5709Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ، فَدَعَا بِهِ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ، فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ، فَقَالَ: هَكَذَا فَافْعَلُوا.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ثقیف کے لوگوں نے عمر ؓ کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔

It was narrated from Yahya bin Saeed who heard Saeed bin Al-Musayyab say: "Thaqif welcomed Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: Do like this.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5706
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٤٥٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سعید بن المسیب نے عمر رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے )