جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ.
عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ نبیذ جسے عمر بن خطاب ؓ پیا کرتے تھے، وہ سرکہ ہوتا تھا ١ ؎۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے۔
It was narrated that Utbah bin Farqad said: "The Nabidh that Umar bin Al-Khattab used to drink had turned to vinegar.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5707
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: پچھلی روایات میں عمر ؓ کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ آپ نے اس مشروب کے پینے پر منہ بنایا تھا، پھر پانی کے ذریعہ اس کے نشہ کو ختم کر کے پی گئے، کیونکہ آپ نے تو نشہ نہ آنے پر بھی اپنے بیٹے عبیداللہ پر شراب پینے کی حد لگائی تو خود کیسے نشہ آور مشروب کا نشہ پانی سے ختم کر کے اس کو پی لیا؟
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٣) (صحیح الإسناد )